رازان
ریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور میں، نواب پنجم عباسی کے زمانے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام رازان تھا۔ رازان ایک عجیب طبیعت کا آدمی تھا خواب بڑے دیکھتا تھا، مگر قسمت اس کا ساتھ نہیں دیتی تھی۔ رازان نے کئی کام آزمائے:کبھی وہ کپڑوں کا چھوٹا کاروبار کرتا، مگر دکان میں نقصان ہو جاتا۔کبھی وہ مٹی کے برتن بنانے لگتا، مگر وہ بھی نہ چل پاتا۔ کبھی وہ اونٹوں کی خرید و فروخت کرتا، مگر دھوکہ کھا جاتا۔کبھی وہ کھانے پینے کی دکان کھولتا، مگر لوگوں کو پسند نہ آیا۔اور کبھی وہ شاہی کپڑوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتا، مگر ڈیزائن اور نفاست میں ناکام رہتا۔ ہر ناکامی کے بعد لوگ اس کا مذاق اڑاتے:“رازان، تم سے کچھ نہیں ہو سکتا!”“ہر کام ادھورا چھوڑ دیتے ہو!” یہ جملے اس کے دل میں تیر کی طرح لگتے تھے۔ ان سب ناکامیوں کے بعد رازان مکمل طور پر…
دادی اماں
برصغیر کے قدیم زمانے میں، راجستھان کی ایک خشک مگر باوقار بستی میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔ لوگ اسے “دادی اماں” کہتے تھے۔ اس کی کمر جھک چکی تھی، ہاتھوں پر جھریاں تھیں، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، ایسا سکون جو صرف اس دل میں ہوتا ہے جس نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہو اور پھر بھی شکوہ نہ کیا ہو۔ وہ نہ عالمہ تھی، نہ کسی مدرسے میں پڑھی تھی،مگر اس کا یقین ایسا تھا کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اس کے سامنے خاموش ہو جاتے تھے۔ اس کی سب سے خاص بات یہی تھی کہ اس کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین غیر معمولی تھا۔ جب گاؤں میں قحط پڑتا،اور لوگ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے،تو اماں جی اپنے گھر کے باہر ایک مٹکا رکھ دیتی اور کہتی: “جو پیاسا ہو، پانی لے جائے” لوگ ہنستے: “یہ…
گدھا کون تھا؟ 😄…. ایک دلچسپ کہانی
ایک شخص ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جا رہا تھا۔ جماعت چھوٹ جانے کے خوف سے وہ تیزی سے چل رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کھجور کے درخت پر پڑی، جہاں ایک مزدور پوری توجہ سے کھجوریں توڑنے میں مصروف تھا۔ اس شخص نے دل ہی دل میں سوچا: “یہ کیسا آدمی ہے جسے نماز کی فکر ہی نہیں؟” غصے میں اس نے بلند آواز سے کہا: “نماز کے لیے نیچے اتر آؤ!” مزدور نے سکون سے جواب دیا: “اچھا، ابھی اترتا ہوں۔” لیکن وہ شخص مزید برہم ہو گیا اور بولا: “جلدی کرو، اے گدھے! نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” یہ سن کر مزدور غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے فوراً کھجور کی ایک ٹہنی توڑی اور بولا: “میں گدھا ہوں؟ ذرا نیچے تو آؤں بتاتا ہوں تمہیں!” یہ دیکھ کر وہ شخص گھبرا گیا، اپنا چہرہ چھپایا اور…
یاجوج ماجوج
ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج: لوہے اور پگھلے تانبے کا وہ ملٹری پراجیکٹ جسے آج کی ٹیکنالوجی بھی نہ بنا سکی! – بلال شوکت آزاد کیا آپ جدید تاریخ کے کسی ایسے ملٹری انجینئرنگ پراجیکٹ کا تصور کر سکتے ہیں جسے آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی، لیزر کٹنگ اور ہیوی مشینری بھی نہ بنا سکے؟ ایک ایسی دیوہیکل دیوار جو سیمنٹ یا اینٹوں سے نہیں، بلکہ خالص لوہے کے بلاکس اور پگھلتے ہوئے تانبے سے بنائی گئی ہو! اور جس کا مقصد کسی عام دشمن کو نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے وحشی، جنگجو اور خونخوار آرمی کو قیامت تک کے لیے قید کرنا ہو۔ ذرا ہالی ووڈ کی خیالی دیواروں کے طلسم سے باہر نکلیں اور کائنات کے اس حقیقی اور لرزہ خیز ملٹری آپریشن میں قدم رکھیں! تاریخ کے اس سب سے بڑے عالمی فاتح اور عادل حکمران کو قرآنِ مجید ‘ذوالقرنین’ کے نام سے پکارتا ہے۔ اللہ…
پنورگ کی بھیڑ<<فرانسیسی ادب سے انتخاب>>
پنورگ نامی ایک شخص بحری جہاز کے سفر پر روانہ تھا۔ اسی جہاز پر بھیڑوں کا ایک تاجر دیندونو بھی سوار تھا. یہ اپنے ساتھ بھیڑوں کا ایک ریوڑ فروخت کرنے کے لیے لے جا رہا تھا۔ چنانچہ دوران سفر پنورگ اور تاجر دیندونو کے درمیان جہاز کے عرشے پر جھگڑا ہو گیا۔ لالچی سوداگر سے بدلہ لینے کے لیے پنورگ غصے سے لال نیلا ہورہا تھا، پنورگ نے اس کو سبق سکھانے کے لئے اس کی سب سے بڑی بھیڑ کو بھاری قیمت پر خریدنے کا فیصلہ کیا، اس منافع بخش سودے پر لالچی سوداگر دیندونو کو بہت خوشی ہوئی۔ پنورگ نے یکایک ایک عجیب حرکت کی، اس نے بھیڑوں کی لیڈر کو اس کے سینگوں سے پکڑا اور اسے زبردستی گھسیٹ کر جہاز کے آخری کنارے پر لے گیا، پھر اسے زور کے ساتھ دھکا دے کر سمندر میں پھینک دیا۔ پیچھے تمام بھیڑیں یہ منظر دیکھ رہی…
نادان کی دوستی
محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ندی کے کنارے چوہے اور مینڈک کی ملاقات ہوگئی، ایک دوسرے کے تعارف کے بعد ندی کے قریب خوشگوار ماحول میں کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ چند دنوں کے بعد یہ دوستی کی گرہ “محبت میں تبدیل ہوگئی”۔ “یہ محبت “عشق و آشنائی تک جا پہنچی، پھر یہ چاہت اور بے تابی اس حد تک بڑھ گئی کہ دونوں وقتِ معین پر ہر صبح کو ملاقات کے پابند ہوگئے اور دیر تک دونوں تبادلہٴ خیالات کرتے رہتے، کچھ جگ بیتی اور کچھ آپ بیتی کے متعلق آپس میں باتیں کر کے ایک دوسرے کا دل خوش کرتے، آپس میں راز گو تھے، بے زبان بھی تھے اور بازبان بھی۔ جوشِ نطق از دل نشانِ دوستی استبستگی نطق از بے الفتی است گویائی اور گفتگو کا جوش دل سے اٹھنا علامتِ محبت ہے اور گویائی…
گدھا کون تھا؟ 😄…
ایک شخص ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جا رہا تھا۔ جماعت چھوٹ جانے کے خوف سے وہ تیزی سے چل رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کھجور کے درخت پر پڑی، جہاں ایک مزدور پوری توجہ سے کھجوریں توڑنے میں مصروف تھا۔ اس شخص نے دل ہی دل میں سوچا: “یہ کیسا آدمی ہے جسے نماز کی فکر ہی نہیں؟” غصے میں اس نے بلند آواز سے کہا: “نماز کے لیے نیچے اتر آؤ!” مزدور نے سکون سے جواب دیا: “اچھا، ابھی اترتا ہوں۔” لیکن وہ شخص مزید برہم ہو گیا اور بولا: “جلدی کرو، اے گدھے! نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” یہ سن کر مزدور غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے فوراً کھجور کی ایک ٹہنی توڑی اور بولا: “میں گدھا ہوں؟ ذرا نیچے تو آؤں بتاتا ہوں تمہیں!” یہ دیکھ کر وہ شخص گھبرا گیا، اپنا چہرہ چھپایا اور…
بلاعنوان
ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…
رزق کی فکر
ایک جنگلی گائے صبح سویرے صاف ستھرا سبز گھاس کھانے کے لئے نکل جاتی۔ سرسبز و شاداب جزیرے میں دن بھر مزے مزے سے چرتی رہتی۔ جب خوب پیٹ بھر جاتا اور اس کا جسم توانا ہو جاتا تو پھر اپنے ٹھکانے پر واپس آ جاتی۔ رات کو وہ اس فکر میں مبتلا ہو جاتی کہ آج تو میں سر سبز اور خوبصورت گھاس کھا آئی ہوں “کل کیا کروں گی ساری رات وہ اس غم میں ہی گھلتی رہتی خدا معلوم اگلے روز گھاس کھانے کو ملے یا نہ ملے، اگلے دن کی خوراک کی فکر جب اس کو دامن گیر ہو جاتی تو اس غم میں صبح تک پھر سوکھ کر کمزور ہو جاتی……دوسرے دن صبح سویرے جب پھر وہ جزیرے میں مریضۂ ہوس پہنچی تو بڑی حرص کے ساتھ چارہ کھانے لگی سارا دن وہ سرسبز و شاداب گھاس کھاتی رہی۔ جب واپس پہنچی تو رات کو…
دو عقاب
ایک بادشاہ کو تحفے میں دو بہترین اور خوبصورت عقاب ملے بادشاہ نے انہیں تربیت دینے کے لیے ایک تجربے کار اور ماہر شاہیں پرور کے حوالے کر دیا تاکہ انہیں اونچی پرواز کی تربیت دی جا سکے۔ کچھ دنوں بعد شاہین پرور نے بادشاہ کو خبر دی کہ ایک عقاب تو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور بہترین پرواز کر رہا ہے لیکن دوسرا عقاب درخت کی شاخ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔ وہ سارا دن اسی شاخ پر بیٹھا رہتا ہے، کھاتا پیتا ہے مگر اڑنے کی کوشش بالکل نہیں کرتا۔ بادشاہ نے ریاست کے بڑے بڑے حکیموں اور ماہرین کو بلایا تاکہ اس عقاب کو اڑنا سکھایا جا سکے، لیکن کوئی بھی اسے شاخ سے نہ اڑا سکا۔ آخر کار بادشاہ نے پورے شہر میں اعلان کروایا کہ جو اس عقاب کو اڑائے گا اسے بڑا انعام دیا جائے گا۔ اگلی صبح بادشاہ نے محل…
بلاعنوان
جنگل میں ایک سور رہتا تھا۔ اس کی ایک عجیب عادت تھی: جہاں سے وہ گزرتا، باقی جانور راستہ بدل لیتے۔ وجہ اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کے جسم سے اٹھنے والی ایسی شدید بدبو تھی کہ قریب کھڑا رہنا بھی مشکل ہو جاتا۔ حتیٰ کہ جنگل کا بادشاہ شیر بھی اسے دیکھ کر دور سے راستہ بدل لیتا۔ ایک دن اتفاق سے کنویں کے قریب شیر اور سور کا آمنا سامنا ہوگیا۔ سور حسبِ معمول کیچڑ میں لت پت تھا۔ شیر نے جونہی اسے قریب آتے دیکھا، پہلے ایک قدم پیچھے ہٹا، پھر دوسرا، مگر سور کی بدبو کا ایک تیز جھونکا ایسا آیا کہ شیر کا دماغ چکرا گیا اور وہ وہاں سے پلٹ گیا ۔ سور چند لمحے شیر کو جاتے دیکھتا رہا، پھر اس کی آنکھوں میں عجیب چمک آگئی۔ “اوہو!” اس نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا، “تو یہ بات ہے! شیر بھی مجھے دیکھ…
دنیا پرست
فریبستان کے ہوس والے علاقے میں تین قسموں کے آدم زاد رہتے تھے۔۱۔ ان میں سے ایک کی نظر اتنی تیز تھی کہ چونٹی کے پاؤں تک دیکھ لیتا تھا لیکن وہ دل کی آنکھوں سے اندھا تھا۔۲۔ دوسرا بہت تیز سننے والا تھا لیکن اس کے دل و دماغ کے کان بند تھے۔۳۔ تیسرا مادر زاد ننگا تھا لیکن اس کے کپڑوں کے دامن بڑے دراز تھے۔سمجھنے والے کو شاید “اس ویرانے سے کوئی خزانہ ہاتھ آجائے”ایک دن اندھے نے کہا “یارو” آدمیوں کا ایک گروہ چلا آرہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچائیں ہم یہاں سے بھاگ جائیں۔ بہرے نے کہا “ہاں ہاں” تُو ٹھیک کہتا ہے میں بھی ان آدمیوں کے قدموں کی آہٹ سُن رہا ہوں معلوم ہوتا ہے خاصی بڑی جماعت ہے۔ننگے نے گھبرا کر کہا “بھائیو” مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ کہیں میرے قیمتی کپڑے ہی نہ لے لیں۔ اندھے…
ملا نصیر الدین کی عجیب شرارت
ایک بار ملا نصیر الدین کی ملاقات دوسرے شہر سے آئے ایک امیر آدمی سے ہوئی۔ امیر آدمی نے افسردگی سے کہا:“ملا صاحب! میرے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں، لیکن پھر بھی میں ہر وقت اداس رہتا ہوں۔ خوشی کی تلاش میں دور دور تک سفر کیا، مگر خوشی کہیں نہیں ملی۔” ملا نصیر الدین نے کچھ جواب نہ دیا۔ اچانک اس نے امیر آدمی کے ہاتھ سے پیسوں کا تھیلا چھینا اور دوڑ لگا دی! امیر آدمی بھی چیختا ہوا اس کے پیچھے بھاگا:“میرا تھیلا! پکڑو اسے!” کافی دور دوڑنے کے بعد ملا نصیر الدین ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا اور تھیلا راستے میں ایسی جگہ رکھ دیا جہاں وہ آسانی سے نظر آ سکے۔ کچھ دیر بعد امیر آدمی وہاں پہنچا۔ تھیلا دیکھتے ہی اس نے فوراً اسے اٹھایا، سینے سے لگایا اور خوشی سے اچھلنے لگا۔ ملا نصیر الدین درخت کے پیچھے سے مسکراتے ہوئے…
بلاعنوان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔ یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک کشتی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے…
کسان کا حق اور وزیر کی دانائی
ایک دور دراز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا جو اپنی زمین کو سرسبز بنانے کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی مشکل پانی کی کمی تھی۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے پڑوسی کے پاس ایک گہرا اور پانی سے بھرا کنواں ہے۔ کسان نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور امید کے ساتھ پڑوسی کے پاس جا کر کنواں خرید لیا۔ شروع میں وہ بہت خوش تھا کہ اب اس کے کھیت ہرے بھرے ہو جائیں گے۔ مگر اس کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جب وہ پانی نکالنے کے لیے کنویں پر گیا تو پڑوسی نے اسے روک دیا اور سخت لہجے میں کہا،“میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر کا پانی نہیں!” یہ سن کر کسان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ پریشان اور دکھی ہو کر انصاف کی تلاش میں…
بدقسمتی یا خوش قسمتی؟
ایک شخص کو جنگل میں ایک جنگلی گھوڑا ملا۔ وہ اسے اپنے گھر لے آیا۔ پڑوسیوں نے جب گھوڑا دیکھا تو خوش ہو کر کہنے لگے: “واہ! تم تو بہت خوش قسمت ہو، تمہیں اتنا خوبصورت گھوڑا مل گیا!” وہ شخص مسکرایا اور بولا: “مجھے نہیں معلوم… یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی۔” چند دن بعد اس کا بیٹا گھوڑے پر سوار ہوا۔ گھوڑا اچانک بدک گیا اور لڑکا زمین پر جا گرا۔ اسے شدید چوٹ آئی اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ پڑوسی افسوس کرتے ہوئے بولے: “ہائے! یہ تو بہت بڑی بدقسمتی ہوگئی۔” اس شخص نے سکون سے جواب دیا: “مجھے نہیں معلوم… یہ اچھا ہوا یا برا۔” کچھ ہی عرصے بعد ملک میں جنگ چھڑ گئی۔ بادشاہ کے حکم پر گاؤں کے تمام صحت مند نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔ پڑوسیوں کے بیٹے بھی جنگ پر چلے گئے۔ مگر اس شخص کا بیٹا…
بدی کا انجام بدی ہے — سبق آموز کہانی
ایک رات تین چوروں نے ایک امیر آدمی کے گھر میں نقب لگا کر بہت سا مال و دولت چرا لیا۔ وہ سارا مال ایک تھیلے میں ڈال کر قریبی جنگل کی طرف نکل گئے تاکہ وہاں چھپ کر آپس میں تقسیم کر لیں۔ جنگل میں پہنچ کر وہ بہت تھک چکے تھے اور انہیں سخت بھوک بھی لگ رہی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک چور قریبی گاؤں سے کھانا لے آئے، جبکہ باقی دو چور تھیلے کی حفاظت کریں۔ جو چور کھانا لینے گیا، اس کے دل میں لالچ اور بد نیتی پیدا ہو گئی۔ اس نے سوچا:“اگر میں ان دونوں کو ختم کر دوں تو سارا مال میرا ہو جائے گا۔” اس نے کھانا خریدا اور اس میں زہریلی چیز ملا دی تاکہ دونوں ساتھی کھا کر مر جائیں۔ دوسری طرف جنگل میں موجود دونوں چور بھی کم برے نہ تھے۔ انہوں نے بھی یہ منصوبہ…
چالاک لومڑی
ایک دن ایک بھیڑیا بھوک سے بے تاب ہو کر غذا کی تلاش میں جنگل میں مارا مارا پھر رہا تھا، وہیں ایک خرگوش جھاڑیوں میں گہری نیند سو رہا تھا۔ بھیڑیے کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اسے غنیمت جانا اور آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھنے لگا۔ خرگوش نے خطرے کی بو پا کر چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی، مگر بھیڑیے نے اس کا راستہ روک کر کہا:“کہاں جاتا ہے؟”خرگوش پر خوف غالب آگیا اور اس نے خوشامد شروع کر دی، اپنا منہ زمین پر رگڑ کر کہنے لگا:“میں جانتا ہوں کہ بھوک کی آگ شعلہ فشاں ہے، جس کی وجہ سے جہاں پناہ بے قرار ہیں اور غذا کے طلب گار ہیں۔ مگر مجھ جیسا چھوٹا موٹا جانور آپ کے لیے کافی نہیں، یہ تو ایک نوالے سے زیادہ نہیں۔ البتہ یہاں قریب ہی ایک لومڑی رہتی ہے، جس کا موٹاپے کی وجہ…
مچھر کا مقدمہ
ایک مچھر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آ کر فریاد کی ”اے وہ ذاتِ گرامی جس کی سلطنت جن و انس اور ہوا پر ہے۔ تُو جن و انس کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہوا میں اڑنے والے پرندے اور دریا میں تیرنے والی مچھلیاں سب تیرے انصاف کی تعریف میں رطبُ اللسان ہیں۔ اب ہماری مشکل بھی آسان کر، ہم بہت تکلیف میں ہیں۔ صرف ہماری جنس ہی انصاف سے محروم چلی آرہی ہے۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مچھر کی یہ درد بھری فریاد سُن کر کہا: ”اے انصاف ڈھونڈنے والے تُو کس سے اپنا انصاف چاہتا ہے۔؟ وہ کون ظالم ہے؟ جس نے ازراہِ غرور تجھے ستایا۔“ مچھر نے عرض کیا: ”اے سلیمان علیہ السلام! ہم ہوا کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں ہیں۔ وہ دونوں ہاتھوں سے ہم پر ظلم کرنے والی ہے۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: ”اے مچھر مجھے خدا…
بادشاہ اور حجام
ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…

















