Tag Archives: ،urdublogs

بغداد کے ایک گاؤں میں ایک متقی اور پرہیزگار شخص رہتا تھا جو اپنا سارا وقت عبادت میں گزارتا تھا۔ اسے دنیا کی کوئی لالچ نہیں تھی اور وہ روکھا سوکھا کھا کر گزارا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک مرید نے خوش ہو کر اسے عقیدت اور محبت میں ایک موٹی تازی بھینس تحفے میں دی تاکہ وہ اس کے دودھ اور گھی سے اپنی گزر اوقات کر سکے۔ایک چور کی نظر اس بھینس پر پڑی اور اس کے دل میں لالچ آ گیا کہ اس بھینس کو چرا لیا جائے۔ چنانچہ وہ زاہد کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اسے ایک آدمی ملا جو کہ دراصل انسان کی شکل میں خود شیطان تھا۔جب چور نے پوچھا کہ “تو کون ہے اور کہاں جا رہا ہے؟” تو اس نے جواب دیا، “میں شیطان ہوں اور آدمی کی شکل میں ہوں تاکہ خانقاہ کے زاہد کو جاؤں،…

Read more

رات کے تین بج رہے تھے اور چاروں طرف گہرا سناٹا تھا۔ شیدا میاں نے اس رات کچھ ہاتھ پاؤں مارنے کے لیے محلے کی سب سے بڑی اور عالیشان کوٹھی کا انتخاب کیا۔ ارادہ بالکل واضح تھا کہ خاموشی سے دیوار پھلانگ کر اندر گھسیں گے، مال ومتاع پر ہاتھ صاف کریں گے اور رفو چکر ہو جائیں گے۔منصوبے کے مطابق شیدا میاں نے بلی کی سی پھرتی دکھائی، اونچی دیوار پر ہاتھ ڈالا اور ایک ہی جست میں اوپر جا پہنچے۔ تاریکی میں چاروں طرف جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اندر کی طرف ایک شاندار چھلانگ لگائی۔ لیکن قسمت کا پھیر تو دیکھیے! پیر زمین پر ٹکنے کے بجائے سیدھے ایک مہنگے چینی کے گملے پر پڑے، گملہ چکنا چور ہوا، محلے کا چوکیدار والا کتا بیدار ہو کر ڈوبارہ فرکانس پر آگیا، اور شیدا میاں دھڑم سے لان میں بچھاری ایک بڑی سی چارپائی پر جا…

Read more

ایک دور دراز گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام رحمت علی تھا اور وہ بہت محنتی تھارحمت علی کے پاس اپنی زمین کے سوا ایک گدھا تھا جو اس کا واحد سہارا اور کل سرمایہ تھااس گدھے کا نام رحمت علی نے کالا رکھا ہوا تھا لیکن کالا عام گدھوں جیسا بالکل نہیں تھاکالا بہت سمجھدار تھا اور انسانوں کی باتوں کو بہت جلدی سمجھ جاتا تھا اور اشاروں پر عمل کرتا تھارحمت علی روز صبح سویرے اٹھتا اور کالے کی پیٹھ پر تازہ سبزیاں لاد کر شہر کی منڈی میں بیچنے جاتاشہر کا راستہ ایک گھنے جنگل سے ہو کر گزرتا تھا جہاں ہر طرح کے جانور رہتے تھےاس جنگل میں ایک چالاک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت عرصے سے کسی آسان شکار کی تلاش میں تھیلومڑی نے کئی بار رحمت علی اور اس کے گدھے کو آتے جاتے دیکھا تھا اور اس کے…

Read more

ایک ملک میں ایک بہت ہی بے وقوف بادشاہ حکومت کرتا تھااس کا نام راجہ موٹو تھا اور وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے مشہور تھااس کا دربار بھی عجیب و غریب لوگوں سے بھرا ہوا تھابادشاہ کو لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے عقل مند بادشاہ ہےحالانکہ حقیقت میں وہ ہر بات الٹی سمجھتا تھاایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے چاند چاہیےوزیر نے کہا حضور چاند تو آسمان پر ہے اسے کیسے لایا جائےبادشاہ نے کہا تم سب بے وقوف ہو ایک بڑی سی سیڑھی لگاؤ اور چاند اتار لاؤپورے دربار میں سپاہی سیڑھیاں لے کر چاند کو اتارنے کی کوشش کرنے لگےلوگ یہ تماشا دیکھ کر ہنسنے لگے کہ کیسا بے وقوف بادشاہ ہےبادشاہ نے ایک دن کہا کہ ملک میں سب کو الٹا چلنا چاہیےاس نے حکم دیا کہ آج سے سب لوگ سیدھے کی بجائے الٹے چلیں گےاگلے دن…

Read more

                   بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر…

Read more

کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…

Read more

ایک دن ایک مشہور فلسفی اپنے علم اور عقل پر بڑا ناز کرتا ہوا ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچا۔ گاؤں والوں نے مشورہ دیا کہ اگر واقعی عقل مند ہو تو پہلے ملا صاحب سے ملاقات ضرور کرنا! فلسفی ملا کے پاس پہنچا۔ کافی دیر علمی گفتگو ہوتی رہی، پھر دونوں کھانا کھانے ایک ہوٹل چلے گئے۔ ویٹر نے آ کر بتایا:”جناب! آج تازہ مچھلی دستیاب ہے۔“ فلسفی نے فوراً دو مچھلیاں منگوا لیں۔ تھوڑی دیر بعد کھانا آیا تو ایک مچھلی بڑی اور دوسری چھوٹی تھی۔ ملا نصرالدین نے بغیر دیر کیے بڑی مچھلی اٹھائی اور اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ 😂🐟 یہ دیکھ کر فلسفی کا پارہ چڑھ گیا۔ کہنے لگا:”ملا صاحب! یہ کون سا اخلاق ہے؟ ایک مہذب انسان کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ تہذیب، شرافت اور انسانی اقدار کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ بڑی مچھلی اپنے مہمان کو دیتے!“ ملا صاحب خاموشی سے…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت تھی جس کا نام نورآباد تھا۔ اس سلطنت پر سلطان زین العابدین حکومت کرتا تھا۔ سلطان نہایت انصاف پسند اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کے محل کے دروازے ہر وقت ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ سلطان کے تین بیٹے تھے: شہزادہ کامران، شہزادہ سلیم اور شہزادہ فہیم۔ تینوں شہزادے ذہین اور بہادر تھے، مگر ان کی طبیعتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ کامران کو اپنی دولت اور طاقت پر ناز تھا۔ سلیم اپنی خوب صورتی اور علم پر فخر کرتا تھا، جبکہ فہیم خاموش طبیعت، نرم دل اور سادہ مزاج تھا۔ سلطان اکثر سوچتا کہ اس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری کس بیٹے کو سونپی جائے۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے صرف بہادری یا علم کافی نہیں، بلکہ انسان میں انصاف، صبر، رحم اور سچائی بھی ہونی چاہیے۔ ایک دن سلطان نے…

Read more

          تین آدمی ایک ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے۔ ان تینوں میں جو سب سے بڑا تھا اُس نے اپنے دونوں ساتھیوں سے پوچھا، “تم نے اپنا شہر کیوں چھوڑا اور سفر کی یہ مصیبت کیوں قبول کی ہے؟”اُس نے جواب دیا، “میں جس گاؤں میں رہتا تھا، وہاں ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے تھے جنہیں میں برداشت نہیں کر پاتا تھا اور حد سے جل اٹھتا تھا اور مسلسل جلتا رہتا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ دو تین روز کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ دوں، شاید اس طرح ان واقعات کو دیکھنے سے محفوظ رہوں جو مجھ سے نہیں دیکھے جاتے۔”دوسرے نے کہا— “مجھے بھی یہی دکھ ستاتا تھا اور اسی لیے میں نے بھی اپنا وطن چھوڑ دیا۔”تیسرے نے کہا— “تم دونوں میری ہی طرح ایک سا دکھ رکھتے ہو۔ میں بھی اسی جلن میں جنگل کی طرف نکلا تھا۔”جب اُنہیں یہ معلوم ہوا کہ وہ…

Read more

ایمرجنسی کے زمانے میں، میں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ‘سرکار چور ہے’۔دوسرے دن پولیس اسٹیشن سے بلاوا آ گیا۔افسر نے مجھ سے پوچھا: ‘آپ نے کل رات کہا کہ سرکار چور ہے؟’میں نے کہا: ‘جی ہاں، بالکل کہا ہے۔’افسر نے کہا: ‘تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟’میں نے بڑی معصومیت سے جواب دیا: ‘جناب، میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہندوستان کی سرکار چور ہے… کہ پاکستان کی سرکار چور ہے، امریکہ کی سرکار چور ہے یا برطانیہ کی سرکار چور ہے!’افسر مسکرایا، میری طرف دیکھا اور بولا: ‘اچھا! تم ہمیں بیوقوف سمجھتے ہو؟ ہمیں معلوم نہیں ہے کیا کہ سرکار کہاں کی چور ہے!’”- راحت اندوری.

پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی۔ بستی کے اردگرد گھنے جنگلات تھے، جہاں صبح کے وقت پرندوں کی آوازیں گونجتیں اور شام ہوتے ہی دھند پہاڑوں کو اپنی سفید چادر میں چھپا لیتی۔ اسی بستی میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا گھر تھا، جس کی چھت جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ حامد روزانہ صبح سویرے کلہاڑی کندھے پر رکھتا اور جنگل کی طرف نکل جاتا۔ دن بھر لکڑیاں کاٹتا، شام کو انہیں بازار میں فروخت کرتا اور جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، ان سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا۔ حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا: > “رزق کم ہو تو کوئی بات نہیں، مگر حرام کا ایک سکہ بھی گھر میں نہیں آنا چاہیے۔” ایک دن سردیوں کی صبح حامد معمول کے مطابق جنگل میں گیا۔ اس…

Read more

ایک رات ایک بادشاہ نے نہایت عجیب اور خوفناک خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ سایہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور خاموشی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ بادشاہ خوف کے مارے کانپنے لگا۔ سائے نے دھیمی آواز میں کہا: ”گھبراؤ مت! میں تمہیں خوف زدہ کرنے نہیں، بلکہ ایک خبر دینے آیا ہوں۔“ بادشاہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا: ”تم کون ہو؟“ سایہ مسکرایا اور بولا: ”میں تمہاری موت ہوں۔ کل سورج غروب ہوتے ہی تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آؤں گا۔“ یہ سنتے ہی بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا پورا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ ایک خواب تھا، لیکن اس خواب نے اس کے دل میں ایسا خوف بٹھا دیا کہ وہ دوبارہ سکون سے سو نہ سکا۔ 🌅 صبح ہوتے ہی بادشاہ نے اپنی…

Read more

شدید بارش کے سبب چنانچہ  ایک ٹیکسی کو اشارہ کیا۔۔۔!“ماڈل کالونی چلو گے۔۔۔؟”ٹیکسی والا: “جی بالکل حضور۔۔۔!”“کتنے پیسے لو گے۔۔۔؟”ٹیکسی والا: “جو دل کرے دے دینا سرجی۔۔۔۔!”“پھر بھی۔۔۔؟”ٹیکسی والا: “سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں۔ پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے، وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے، توکل اسی کا نام ہے۔۔۔!”اس ٹیکسی والے کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں۔خیر میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا، ابھی ہم تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ مسجد دکھائی دی۔ٹیکسی والا: “سر جی! نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں، کیا خیال ہے۔۔۔؟” اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی۔ٹیکسی والا: “آپ نماز ادا کریں گے۔۔۔؟”“کس مسلک کی مسجد ہے یہ۔۔۔؟”میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا، “باؤ جی!…

Read more

ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر…

Read more

سمندر کے نیلگوں پانیوں کے کنارے ایک بلند و بالا پہاڑی تھی، جس کی چوٹی پر چیونٹیوں کی ایک خوش حال سلطنت آباد تھی۔ پہاڑی کی ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے گھر ایسے ترتیب سے بنے تھے جیسے کسی ماہر معمار نے اپنی انگلیوں سے پتھر پر نقش و نگار تراش دیے ہوں۔ کہیں پھولوں کی خوشبو بکھری رہتی، کہیں سبزہ لہراتا اور کہیں پہاڑی کے دامن میں ٹکراتی سمندری لہریں ایسا نغمہ سناتیں کہ سننے والا دنیا کے تمام غم بھول جاتا۔ صبح سورج کی پہلی کرن جب سمندر کی سطح پر پڑتی تو پانی سونے کی چادر اوڑھ لیتا، اور شام کو ڈوبتا سورج آسمان پر سرخی بکھیرتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے قدرت نے اپنے ہاتھوں سے افق پر کوئی شاہکار بنا دیا ہو۔ اسی پہاڑی کی بلند ترین جگہ پر چیونٹیوں کے بادشاہ کا محل تھا، جس کے گرد اس کی رعایا کے گھر آباد تھے۔ بادشاہ…

Read more

مصر کے ایک شاہی قلعے میں اٹھارہ سالہ نوجوان قید تھا۔ اگلی صبح اُسے پھانسی دی جانی تھی، مگر اُس کے چہرے پر خوف کے بجائے عجیب سا سکون تھا۔ سلطان نے آخری خواہش پوچھی تو نوجوان نے دھیمی آواز میں کہا: ”حضور! میں مرنے سے پہلے نکاح کرنا چاہتا ہوں، تاکہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کوئی میرے لیے دعا کرنے والا ہو۔“ یہ سن کر پورا دربار حیران رہ گیا۔ سلطان نے اعلان کیا کہ جو شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کرے گا، اُسے انعام دیا جائے گا۔ مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔ آخر ایک بوڑھا شخص اپنی بیٹی کے ساتھ سامنے آیا۔ اُس نے نوجوان کی بے بسی دیکھ کر نکاح کی رضامندی دے دی۔ یوں اسی رات سادگی سے نکاح ہوگیا۔ نوجوان نے اپنی دلہن سے صرف اتنا کہا: ”میرے لیے دعا کرنا، شاید اللہ میری مشکل آسان فرما دے۔“ رات عبادت…

Read more

ایک نیک دل بادشاہ کو ایک غریب اور یتیم لڑکے پر رحم آیا، تو اُس نے اُسے اپنے محل میں جگہ دے دی۔ وقت گزرتا گیا، مگر لڑکے کے دل میں بادشاہ کے لیے عزت اور شکرگزاری ہمیشہ قائم رہی۔ بادشاہ کی عادت تھی کہ جب بھی کوئی لذیذ کھانا یا قیمتی پھل آتا، وہ سب سے پہلے اُس لڑکے کو پیش کرتا۔ ایک دن بادشاہ نے اُسے ایک خوبصورت پھل دیا۔ لڑکا خاموشی سے اُسے کھا گیا اور مسکرا کر بولا: ”حضور! بہت مزیدار ہے۔“ جب بادشاہ نے خود وہ پھل چکھا تو فوراً بول اٹھا: ”ارے! یہ تو بے حد کڑوا ہے! تم نے اسے بغیر شکایت کیے کیسے کھا لیا؟“ لڑکے نے ادب سے سر جھکایا اور کہا: ”حضور! جس ہاتھ سے ہمیشہ محبت، عزت اور مٹھاس ملی ہو، اگر اُسی ہاتھ سے ایک دن کڑوا پھل بھی مل جائے، تو شکایت کیسی؟“ یہ سن کر بادشاہ…

Read more

مراد شاہ پور کا سب سے طاقتور پہلوان تھا، جس کے لوہے جیسے ڈولے اور گرز کی دھاک دور دور تک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا کا ہر مسئلہ صرف اور صرف طاقت سے حل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے اختلاف کرتا، تو وہ محض اپنے مسلز دکھا کر بات ختم کر دیتا۔اسی گاؤں کے ایک کونے میں بوڑھا استاد دین محمد رہتا تھا، جس کی کمر تو جھک چکی تھی مگر اس کی آنکھوں میں تجربے کی شمعیں جلتی تھیں۔ وہ اکثر کہا کرتا: “مراد! جھکنے والی شاخ ہمیشہ طوفان سے بچ جاتی ہے، اور تنی ہوئی لکڑی ٹوٹ جاتی ہے۔” مگر مراد اس کی بات ہنس کر ٹال دیتا۔ایک دن گاؤں کے سب سے بڑے نہری بند میں اچانک شگاف پڑ گیا۔ پانی کا تیز بہاؤ فصلوں کی طرف بڑھنے لگا۔ گاؤں میں افراتفری مچ گئی۔ مراد پہلوان اپنے طاقتور ساتھیوں کے…

Read more

           ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چاندنی رات میں ایک دبلے پتلے، سوکھے مارے بھوکے بھیڑیے کی ملاقات ایک خوب کھائے پیئے، موٹے تازے کتے سے  ہوئی ۔ دعا سلام کے بعد بھیڑیے نے اس سے پوچھا، “اے دوست! تو تو خوب تر و تازہ دکھائی دیتا ہے۔ سچ کہتا ہوں کہ میں نے تجھ سے زیادہ موٹا تازہ جانور آج تک نہیں دیکھا۔ بھائی! یہ تو بتا کہ اس کا کیا راز ہے ؟ میں تجھ سے دس گنا زیادہ محنت کرتا ہوں اور اس کے باوجود ” بھوکا مرتا ہوں ۔ “ کتا یہ سن کر خوش ہوا اور اس نے بے نیازی سے جواب دیا، “اے دوست! اگر تو بھی میری طرح کرے تو مجھے یقین ہے کہ تو بھی میری طرح خوش رہے گا۔” بھیڑیے نے پوچھا، “بھائی! جلدی بتا، وہ بات کیا ہے؟” کتے نے جواب دیا، تو بھی میری طرح رات کو گھر…

Read more

100/838
NZ's Corner