Tag Archives: ،urdublogs

بہت دور کہیں ایک باغ کے قریب تین دوست رہتے تھے۔وہ اکثر باغ کی باڑ پر بیٹھے نظر آتے۔باڑ کے ساتھ ہی ایک بڑا تالاب بھی تھی۔جب سورج کی شعاعیں درختوں کے پتوں اور پانی پر چمک رہی ہوتیں اور تیز ہوا سائیں سائیں کر رہی ہوتی تو کچھ دور ایک درخت پر رہنے والا اُلو اُڑ کر باڑ پر آجاتا اور زور سے آواز نکالتا۔اسی وقت تالاب کے پانی میں لہریں پیدا ہوتیں اور ایک بڑا سبز مینڈک اپنا سر نکال کر دیکھتا۔پھر وہ بھی تیرتا ہوا پانی سے باہر نکل آتا اور پھدکتا ہوا باڑ کے پاس آجاتا،اچانک کُٹ کُٹ․․․․کی آواز آتی اور ایک موٹی سی کالے پروں والی مرغی باغ کے کسی کونے سے نمودار ہوتی اور اس محفل میں شریک ہو جاتی۔تینوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اور اپنے اپنے دل کا حال سناتے۔ اُلو کو انسانوں سے شکایت تھی کہ وہ اسے پسند نہیں کرتے۔مینڈک…

Read more

کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا،اس کا نام اسلم تھا۔وہ رسیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ایک روز اس کی دکان پر ایک سوداگر آیا۔سوداگر کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا۔اسلم ان کو رسے دکھانے لگا۔سوداگر نے اپنے دوست سے کہا”میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دنیا میں ترقی اس لئے کر جاتے ہیں کہ ان پہ قسمت اچانک مہربان ہو جاتی ہے۔اب اس آدمی کو دیکھ لو اگر کہیں سے کوئی رقم اس کے پاس آ جائے تو اس کا کاروبار چل نکلے گا اور یہ خود رسے بنانے کے بجائے بیسیوں ملازم رکھ لے گا۔“”معاف کرنا جناب!“اسلم نے ان کی باتوں میں دخل دیتے ہوئے کہا”آپ درست فرما رہے ہیں،لیکن میرے پاس اتنی رقم آئے گی کہاں سے․․․؟“سوداگر بولا”دینے والی تو وہ پاک ذات ہے،اس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔جب میں کسی…

Read more

ندی کے کنارے لیموں کا پیڑ لگا تھا اس کے قریب ہی آم کا درخت تھا۔لیموں کے پیڑ پر کوے کا گھونسلا تھا جب کہ آم کے درخت پر کوئل نے گھونسلا بنا رکھا تھا۔لیموں کے پیڑ کی شاخ پر بیٹھ کر کوا ”کائیں کائیں“ کرتا جب کہ آم کی ڈال پر بیٹھ کر کوئل کو کو کرتے ہوئے گاتی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں پرندوں کا رنگ کالا تھا۔موسم بہار میں کوئل نے اپنے گھونسلے میں انڈا دیا،ادھر کوے کی مادہ نے بھی اپنے گھونسلے میں انڈے دیے۔کوا دن بھر باہر دانہ دنکے کی تلاش میں اِدھر اُدھر اُڑتا پھرتا جب کہ ”کوی“ گھونسلے میں بیٹھی انڈوں کی رکھوالی کرتی۔کوئل کو یہ آسانی میسر نہیں تھی،وہ اپنے آشیانے میں اکیلی رہتی تھی،اسے کھانے کی تلاش میں باہر بھی جانا پڑتا تھا،اس صورت میں وہ انڈے کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔ اسے ایک ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ اپنا…

Read more

مولا بخش اور اس کی بیوی ایک گاؤں میں رہتے تھے۔وہ بچوں کے ساتھ صبر و شکر سے زندگی گزار رہے تھے۔گاؤں کے سبھی لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ایک دن مولا بخش سے اس کی بیوی نے کہا:”میرا خیال ہے ہمیں اپنی بیلوں کی جوڑی سے ایک بیل بیچ دینا چاہیے۔ہمارے کام کاج کے لئے ایک بیل ہی کافی ہے۔ویسے بھی ہم بوڑھے ہو رہے ہیں اور اب اپنا کام نہیں کر سکتے۔“مولا بخش نے جواب دیا:”ٹھیک ہے کل منڈی جا کر ایک بیل بیچ آتا ہوں۔“صبح سویرے مولا بخش بیل کو لے کر منڈی کی طرف روانہ ہو گیا۔راستے میں اسے ایک شخص ملا جو گھوڑے کے ساتھ جا رہا تھا۔گھوڑا بہت مضبوط اور چاق چوبند اور اچھی نسل سے لگ رہا تھا۔وہ شخص مولا بخش کو دیکھ کر رک گیا۔ اس نے پوچھا:”بھائی! اتنی صبح کدھر کی تیاری ہے؟“مولا بخش نے بتایا کہ وہ بیل بیچنے منڈی…

Read more

حق تعالیٰ نے عزرائیل سے پوچھا کہ اے ہماری سنائی پہنچانے والے! سب مرنے والوں میں تجھے کس پر رحم آیا؟ اور کس کی موت پر تیرا دل زیادہ درد مند ہوا؟عزرائیل نے عرض کی کہ ایک دن ایک کشتی کو جو تیز موج پر بہہ رہی تھی، میں نے تیرے حکم سے توڑدیا اور وہ ریزہ ریزہ ہوگئی اس کے بعد تونے حکم دیا کہ ان سب کی جان قبض کر اور صرف ایک عورت اور ایک بچے کو چھوڑ دے۔ چنانچہ وہ دونوں ایک تختے پر رہ گئے۔ موجیں اس تختے کو آگے بڑھاتی رہیں۔ جب ہوا نے اس تختے کو کنارے لگادیا تو ان دونوں کے بچ جانے سے میرا دل بہت خوش ہوا۔ پھر تونے فرمایا کہ ماں کی روح قبض کر اور بچّے کو تنہا چھوڑ دے جب میں نے اس بچے کو ماں سے جدا کیا ہے تو خود ہی جانتاہے کہ مجھے کس…

Read more

Read more

ایک چڑی مارنے بڑی ترکیب سے پھندے میں چڑیا پکڑی۔ چڑیا نے اس سے کہا اے بزرگ سردار! فرض کیجئے آپ مجھ جیسی چھوٹی سی چڑیا کو پکڑ کر کھا بھی جائیں گے تو کیا حاصل ہوگا۔ اب تک آپ کتنی گائیں اور دُنبے کھا چکے ہیں اور کتنے اونٹ قربانی کر چکے ہیں۔ جب کہ آپ اتنے بڑے بڑے جانوروں کو کھا کر سیر نہیں ہوئے تو میرے ذرا سے گوشت واستخواں سے آپ کیا سیر ہوں گے۔ بجائے اس کے اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو آپ کی جواں مردی اور بلند نظری سے بعید نہیں۔ دوسرے آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں ایسی تین مفید نصیحتیں کروں کہ آپ کے ہمیشہ کام آئیں ۔ ان میں سے پہلی نصیحت تو آپ کے ہاتھ پر بیٹھے بیٹھے ہی کردوں گی۔دوسری نصیحت دیوار پر بیٹھ کر دوں گی۔ وہ ایسی ہوگی کہ آپ مارے خوشی کےپھول جائیں گے اور…

Read more

ایک بھیڑیا شکار کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتے گھومتے ایک غار کے پاس پہنچا،جہاں سے تازہ گوشت کی مہک آ رہی تھی،بھوک اور اُوپر سے تازہ گوشت اس سے رہا نہ گیا اور وہ غار کے اندر چلا گیا۔جب وہ غار میں پہنچا تو اس نے اپنے دوست چیتے کو بکری کھاتے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے بولا”ارے تم!کہاں غائب تھے اتنے عرصے سے؟بڑے مزے آ رہے ہیں اکیلے ہی پوری بکری کھا رہے ہو۔“چیتا بولا،”ہاں بھائی!شکار کے لئے محنت کی اور اب اس محنت کا پھل کھا رہا ہوں،تم سناؤ خیریت تو ہے؟بڑے کمزور دکھائی دے رہے ہو،حالانکہ پہلے تو اچھے بھلے صحت مند تھے۔“بھیڑیے نے کہا،کیا بتاؤں!تم تو آسانی سے شکار کرکے کھا لیتے ہو،مگر مجھے کافی پریشانی ہوتی ہے،قریب کے گاؤں سے روزانہ جنگل میں بکریوں کا ایک ریوڑ گھاس چَرنے آتا تو ہے،مگر ریوڑ کے ساتھ بہت سے موٹے تازے کتے ہوتے ہیں اس لئے…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے،ایک ایسی سلطنت تھی جس کے پرچم نے کبھی شکست کا رنگ نہیں دیکھا تھا۔ اس سلطنت کا بادشاہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی حکمت، انصاف اور بے مثال قیادت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ لیکن اب وقت اس کے کندھوں پر اپنے نشان چھوڑ چکا تھا۔ اس کے بال چاندی میں بدل رہے تھے، ہاتھوں کی مضبوطی کم ہونے لگی تھی، اور سب سے بڑھ کر… اس کے بعد تخت سنبھالنے والا کوئی ایسا وارث موجود نہ تھا جس پر وہ آنکھ بند کرکے بھروسا کر سکے۔ اسی دوران ایک ایسی خبر آئی جس نے پوری سلطنت کی نیندیں چھین لیں۔مشرق کی سرحدوں پر ایک خونخوار سلطنت اپنی تاریخ کا سب سے بڑا لشکر جمع کر چکی تھی۔ جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اگر اس حملے کو نہ روکا گیا تو صرف ایک جنگ نہیں ہاریں گے… بلکہ…

Read more

“ایک زمانہ تھا کہ سرسبز اور لہلہاتی وادی میں ایلیان نامی ایک استاد بانسری نواز رہتا تھا۔ وہ کوئی عام موسیقار نہیں تھا۔ جب وہ بانسری پر طاہرانہ انداز میں نغمہ چھیڑتا، تو ہزاروں لوگ اس کا سحر انگیز موسیقی سننے کھنچے چلے آتے۔ اس کی دھنوں میں یوں لگتا جیسے کوئی زندہ روح سانس لے رہی ہو۔ جب وہ بجاتا تو پورا ماحول اتنا ساکت ہو جاتا کہ پتوں پر گرتی شبنم کی آواز بھی سنائی دینے لگتی۔لیکن اس عظیم فن کے باوجود، ایلیان کے دل میں ایک چھپا ہوا غم تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ اس کی بانسری—جو اس نے ایک پوشیدہ غار سے ملنے والی چمکدار نرکل سے تراشی تھی—ناقص ہے۔ اسے لگتا تھا کہ اس سے نکلنے والی آواز، اگرچہ دلکش ہے، مگر اس کے دل میں گونجنے والے اس پاکیزہ اور خالص نغمے کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی جو اس کے خیالوں میں…

Read more

ایک حسیں اور پراسرار جنگل کے درمیان، جہاں ہوا بھی سرگوشی کرتی تھی، ایک پرانا اور عظیم درخت کھڑا تھا جسے سب “خاموش مرشد” کہتے تھے۔ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس پر کوئی پھول یا پھل نہیں اگتا تھا، بلکہ اس کی جڑوں سے روشن نیلی کرسٹلز نکلتی تھیں جو پورے جنگل کی روح کو منور کرتی تھیں۔ اس جنگل میں مختلف قسم کے افسانوی کردار رہتے تھے—ایک پروں والا ہرن، ایک دانشمند الو، ایک ہوشیار لومڑی، اور ان سب کا محافظ ایک شریف مزاج ڈریگن، جس کا نام ‘اگنس’ تھا۔اگنس ڈریگن اپنے سنہرے اور لال سائز اور آگ اگلنے کی صلاحیت کے باوجود، اس درخت کا سچا محافظ تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس درخت کی روشنی اور امن کو عزیز رکھتے تھے، لیکن اگنس کو ہمیشہ ایک ڈر ستاتا رہتا تھا کہ کہیں کوئی اس روشنی کو چرا نہ لے۔ اسی خوف کے تحت، اگنس…

Read more

ایک بادشاہ کسی جنگل میں اکیلا جا رہا تھا کہ اچانک اسے شیر نے آ لیا۔اتفاق سے ایک کسان بھی ادھر آ نکلا۔جس کے ایک ہاتھ میں ٹیڑھی ترچھی لکڑی اور دوسرے میں درانتی تھی۔شیر بادشاہ پر حملہ کرنے ہی والا تھا کہ کسان نے پھرتی سے ٹیڑھی لکڑی اس کے گلے میں دے کر درانتی سے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔جس سے بادشاہ کی جان بچ گئی۔ بادشاہ نے کسان کو اس مدد کے صلے میں گاؤں کی نمبرداری کے ساتھ بہت سی زمین بھی دے دیں اور کہا کہ ”ہر تہوار کے موقع پر ہمارے یہاں دوستوں،رشتہ داروں کی جو خاص دعوت ہوتی ہے اس میں تم بھی آیا کرو کیونکہ تم بھی اب میرے سچے دوست ہو“۔تھوڑے دنوں میں بادشاہ کے یہاں دعوت ہوئی تو کسان بھی آیا۔اول تو اس کے کپڑے اتنے اعلیٰ نہیں تھے۔ دوسرے بادشاہ کے پاس بیٹھنے کا ادب و سلیقہ بھی…

Read more

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا…ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر اسٹیشن پر اترتا، اگلے اسٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔ساتھ بیٹھے مسافر نے حیران ہو کر پوچھا: “بھائی! جہاں جانا ہے، وہاں تک کی ایک ہی ٹکٹ کیوں نہیں لے لیتے؟”اس نے جواب دیا: “ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے، اس لیے تھوڑا تھوڑا سفر کرتا ہوں!” لگتا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی نسخہ اپنایا گیا ہے۔پہلے ایک ساتھ بڑا اضافہ ہوتا تھا تو لوگ شور مچاتے تھے، اب شاید سوچا گیا ہے کہ ایک ساتھ بڑا جھٹکا دینے کے بجائے، روز تھوڑا تھوڑا اضافہ کر دیا جائے۔سفر بھی وہی… خرچ بھی وہی… بس جھٹکے چھوٹے چھوٹے!😀

فاختہ،بھولُو بھیا!مجھے ناریل کےکچھ چھلکے دیجئے گا۔”بھولُو دُنبے“کی ناریل شاپ جنگل میں بہت مشہور تھی سب ہی جانور اور پرندے گرمیوں میں یہیں آ کر ناریل کے ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔اس وقت بھی کافی جانور بھولُو کی شاپ پر اسٹرا (Straw) لگائے ناریل پانی پینے میں مصروف تھے۔فاختہ کی آواز پر شرارتی طوطے نے مُڑ کے اس کی طرف دیکھا اور طنز کرتے ہوئے کہا،”کیا آج کھانے کو کچھ نہیں ملا جو ناریل کے چھلکے مانگنے آ گئیں؟“فاختہ نے بُرا منائے بغیر جواب دیا،”ارے نہیں طوطے بھائی!کھانا تو کھا چکی ہوں،ان چھلکوں سے آہستہ آہستہ بال نکالوں گی،تاکہ اپنے لئے ایک اچھا سا گھر بنا سکوں“۔طوطے نے حیرانی سے پوچھا،خیریت؟تمہیں بڑی فکر ہو رہی ہے نیا گھر بنانے کیفاختہ نے شرارتی طوطے کو سمجھاتے ہوئے کہا،”ہاں بھائی!تمہیں تو پتا ہے اگلا موسم بارشوں کا ہے اور اوپر سے موسمیات والوں نے تیز بارشوں کی بھی پیشین گوئی…

Read more

موتی بندر اپنی ٹولی کے ساتھ آم کے ایک درخت پر رہتا تھا۔موتی بہادر اور سمجھ دار مگر تھوڑا بھولا بھی تھا۔تمام بندر اس کی عزت کرتے تھے اور اس کا ہر کہا مانتے ،لیکن ادھر کچھ دنوں سے سب بندر پریشان تھے ۔بات یہ تھی کہ آم کا پیڑ سوکھ رہا تھا۔ اس پر پھل نہیں لگتے تھے ۔پتے بھی جھڑنے لگے تھے چنانچہ اس پیڑ پر رہنا بندروں کے لئے مشکل ہو گیا تھا ۔جنگل میں کئی ہرے بھرے پیڑ تھے ۔بندر کسی بھی پیڑ پر رہ سکتے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے کئی بار موتی سے بات کی مگر موتی کہیں اورجانے کو تیار ہی نہ تھا ۔موتی کو آم کے اس پیڑ سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کے بابا نے بتایا تھا کہ اُن کی ٹولی دادا پر دادا کے زمانے سے ہی اس پیڑ پر رہتی آئی ہے ۔اس پیڑ کے آم…

Read more

کسی دور دراز ملک میں ایک ننھی منی لڑکی اپنی امی کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ان کا گھر جنگل کے قریب ہی ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھا۔اس لڑکی کا نام شمائلہ تھا لیکن گاؤں کے تمام لوگ اس کو شمائلہ لال ٹوپی والی کہا کرتے تھے کیونکہ وہ ہر وقت لال رنگ کی ٹوپی پہنے رہتی تھی۔ایک روز شمائلہ صبح سو کر اُٹھی تو اس کی امی نے کہا”بیٹی!تمہاری نانی اماں کچھ بیمار ہیں میں ایک ضروری کام کی وجہ سے آج انہیں ملنے نہیں جا سکتی۔ایسا کرو تم جا کر اپنی نانی اماں کی خیریت دریافت کر آؤ اور اس ٹوکری میں میں نے ان کے لئے کچھ پھل رکھ دیئے ہیں یہ ان کو دے آؤ۔“شمائلہ جب پھلوں کی ٹوکری لے کر جانے لگی تو اس کی امی نے آواز دے کر کہا”دیکھو بیٹی راستے میں کسی اجنبی سے کوئی بات نہ کرنا اور سیدھی نانی اماں…

Read more

ایک دن ایک بوڑھی عورت اپنے کھیت میں سے بند گوبھی توڑنے جا رہی تھی۔راستے میں ایک غار پڑتا تھا جس میں بارہ آدمی رہتے تھے۔انہوں نے بڑھیا کو بلا کر کہا ”بی اماں،یہ بتاؤ سب سے اچھا کون سا مہینہ ہے؟“ ”سب ہی اچھے مہینے ہیں بیٹا۔“ بڑھیا نے کہا۔دیکھو تو جنوری میں سفید سفید برف گرتی ہے۔فروری میں بارش ہوتی ہے اور مارچ میں ہر طرف پھول ہی پھول کھل اُٹھتے ہیں۔باقی سارے مہینے بھی بہت اچھے ہیں۔”بی اماں،تم نے ہم سب کی تعریف کی۔اس لئے ہم تمہیں انعام دینا چاہتے ہیں۔تم جانتی ہو،ہم ہی بارہ مہینے ہیں۔“انہوں نے ٹوکری میں بہت سا سونا بھر کر بڑھیا کو دے دیا۔بڑھیا نے ان کا شکریہ ادا کیا اور گھر چلی گئی۔گھر آ کر اس نے اپنے بچوں کو سونا دکھایا اور ان سے کہا ”اب ہم بہت امیر ہو جائیں گے۔ دیکھو تو میں کتنا سونا لائی ہوں“۔اسی وقت…

Read more

گاؤں میں ایک دھوبی تھا،جس نے ایک گدھا،ایک کتا اور ایک مرغا پال رکھا تھا۔دھوبی کے ساتھ جب گدھا گھاٹ پر جاتا تو کتا بھی اس کے ساتھ جاتا تھا۔گھاٹ پر پہنچ کر دھوبی گدھے کو ایک لمبی رسی سے باندھ دیتا۔کتا گدھے کے قریب گھاس پر سو جاتا تھا۔ایک دن مرغے نے کتے سے کہا:”تم دونوں آپس میں دوست ہو،مگر مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے۔ کتے نے جواب دیا:”تم بھی ہمارے دوست ہو ہم ایک ہی مکان میں رہتے ہیں اور ہمارا مالک بھی ایک ہے۔“مرغے نے کہا:”تم گدھے کے ساتھ باہر جاتے ہو۔میں تمام دن گھر کے چھوٹے سے صحن میں گھومتا رہتا ہوں۔میرا دل بھی چاہتا ہے کہ تم دونوں کی طرح باہر جا کر سیر کروں اور دنیا کی رونق دیکھوں۔ “کتے نے مرغے کو سمجھایا:”ہر جانور اور ہر انسان کا کام مختلف ہوتا ہے۔ گدھا بوجھ اُٹھاتا ہے۔میں تمام رات جاگ کر گھر کی رکھوالی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے پنڈ میں دیسا سنگھ نامی ایک نہایت غریب اور محنتی کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس کاشتکاری کے لیے اپنی زمین نہیں تھی، اس لیے اس نے پنڈ کے ایک دوسرے کسان، کرم سنگھ سے ایک چھوٹا سا کھیت پیسوں پر خریدا۔ دیسا سنگھ نے جب اپنے نئے کھیت میں ہل چلانا شروع کیا، تو اچانک اس کا ہل زمین کے نیچے کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔اس نے مٹی کھودی تو وہاں سے مٹی کا ایک پرانا گھڑا نکلا، جو سونے کے قیمتی سکھوں سے لبالب بھرا ہوا تھا! کوئی عام انسان ہوتا تو وہ سونا چھپا لیتا، لیکن دیسا سنگھ کا ایمان پکا تھا۔ وہ گھڑا اٹھا کر سیدھا کرم سنگھ کے گھر گیا اور بولا: “کرم سنگھ جی! یہ گھڑا مجھے کھیت سے ملا ہے، کیونکہ یہ زمین پہلے آپ کی تھی، اس لیے اس سونے پر…

Read more

یہ قصہ ہے سینکڑوں ہزاروں سال پہلے کا۔ ایک زمیندار تھا، زمین جائیداد کا مالک، عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کے دو حسین و جمیل انگور کے باغ تھے جن کے چاروں طرف کھجور کے درختوں کی خوبصورت قطاریں تھیں۔ بیچ بیچ میں لہلہاتے کھیت تھے۔ دونوں باغوں کے درمیان میں ایک نہر بہہ رہی تھی جس نے باغات کے حسن کو دوبالا کر دیا تھا۔ زمیندار کو اپنے مال و دولت پر ناز تھا، وہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ میں نے اپنے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ وہ باغ کی سیر کو آتا تو پھولا نہ سماتا۔ اس کا ایک دوست تھا جو متوسط زندگی گزار رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ اپنے دوست کو لے کر اس خوبصورت باغ میں داخل ہوا اور اسے دیکھ کر کہنے لگا: “میرا تمہارا کیا جوڑ؟ میری دولت کی تہ نہیں، خدم و حشم ہاتھ…

Read more

بشیر صاحب کے بیٹے نظیر بھائی کی شادی تھی۔ سب کچھ طے تھا، بس ایک چھوٹی سی غلطی ھو گئی۔ 😬👇 گاؤں کا نام تھا چک نمبر 42، لیکن ڈرائیور صاحب، جو کہ راستے میں دو تین بار ٹھنڈی بوتل پی کر اونگھ رھے تھے، بارات کو لے کر چک نمبر 420 پہنچ گئے۔ 🚐😅 اتفاق سے اس گاؤں میں بھی ایک شادی ھو رھی تھی۔ جیسے ھی نظیر بھائی کی بارات پہنچی، وہاں کے لوگوں نے ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ پپو میاں، جو سہرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، سمجھے کہ سسرالی بڑے جوشیلے ہیں۔ 🥁😄 نظیر بھائی کے ابا بشیر صاحب نے لڑکی والوں کے ابا کو گلے لگایا، جو اصل میں کسی اور لڑکی کے ابا تھے۔ 😆😂 دونوں نے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کی، مگر شور اتنا تھا کہ کسی کو سمجھ ھی نہیں آئی کہ یہ اجنبی کون ھے۔ پپو میاں کو…

Read more

120/470
NZ's Corner