رزق کا مالک کون؟”۔۔۔ایک سبق آموز کہانی
ایک شخص ایک مالدار آدمی کے ہاں ملازم تھا۔ وہ خاموش طبیعت اور محنتی انسان تھا، مگر ایک دن اچانک کام پر نہ آیا۔ مالک نے سوچا: “شاید اسے اجرت کم ملتی ہے، اسی لیے کام میں دل نہیں لگاتا۔ اگر اس کی تنخواہ بڑھا دوں تو شاید یہ خوش ہو جائے اور آئندہ چھٹی نہ کرے۔” اگلے دن مالک نے اس کی اجرت میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ملازم نے اضافی رقم دیکھی، مگر کچھ نہ پوچھا۔ بس خاموشی سے رقم لے لی۔ چند دن گزرے تو وہ ایک بار پھر کام پر نہ آیا۔ اس مرتبہ مالک کو غصہ آ گیا۔ اس نے سوچا: “میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی، پھر بھی یہ غیر حاضر ہو گیا!” چنانچہ مالک نے پچھلا اضافہ واپس لے لیا اور اسے دوبارہ وہی پرانی اجرت دینے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ملازم اس بار بھی خاموش رہا۔ آخرکار مالک سے…
بلاعنوان
جنگل کے ایک نسبتاً سنسان حصے میں ایک گدھا رہتا تھا۔ محنت مزدوری سے اسے کوئی خاص دشمنی نہیں تھی، البتہ محنت اسے کچھ زیادہ پسند بھی نہیں تھی۔ اس کا فلسفہ بڑا سادہ تھا: اگر قسمت میں گھاس لکھی ہے تو گھاس خود راستہ ڈھونڈ کر منہ تک آ جائے گی، اور اگر قسمت میں بادشاہی لکھی ہے تو آدمی کو لکڑیاں اٹھانے کی کیا ضرورت؟ بس اسی فلسفے کے ساتھ وہ دن بھر کبھی درخت کے سائے میں کھڑا رہتا، کبھی ندی کے کنارے بیٹھا رہتا اور کبھی اپنی زندگی کے سنہرے مستقبل کے بارے میں سوچتے سوچتے سو جاتا۔ ایک رات اسے ایک عجیب خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک لمبی، سنسان وادی میں اکیلا چل رہا ہے۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا تھا، آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور دور کہیں بجلی چمک رہی تھی۔ اچانک اس کے سامنے زمین پھٹنے لگی، درخت…
بلاعنوان
ایک پرسکون صبح، ایک کچھوے نے ایک چھوٹی سی چیونٹی کو دیکھا جو اپنے جسم سے کئی گنا بڑا کھانے کا ٹکڑا اٹھانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہی تھی۔چیونٹی پتھروں سے ٹکرائی، چھوٹے چھوٹے ڈھلوانوں پر چڑھی، دراڑوں میں پھسل گئی، اور ایک سے زیادہ بار گری۔لیکن جب بھی وہ گری، اس نے ٹکڑا اٹھایا، خود کو سنبھالا، اور آگے بڑھتی رہی۔کچھوا مسکرایا۔اس نے کہا، “تم کتنی چھوٹی ہو۔ اتنی بھاری چیز کیوں اٹھاتی ہو جبکہ تم اسے آسانی سے چھوڑ سکتی ہو؟”چیونٹی نے اوپر دیکھا اور جواب دیا،“کیونکہ طاقت کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ آپ کتنے بڑے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ آپ اپنی اٹھائی ہوئی چیز پر کتنا گہرا یقین رکھتے ہیں۔”کچھوا خاموش ہو گیا۔اس نے اپنے سست رفتار قدموں کو دیکھا۔اس نے اعتراف کیا، “میں نے اپنی پوری زندگی تیز دوڑنے کی آرزو میں گزار دی…
بلاعنوان
ایک دن ایک کامیاب کاروباری شخص ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں لکڑی کے تختوں سے بنے ہوئے ڈیک پر کھڑا تھا, جب اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی ایک چھوٹی سی سادی سی کشتی سے ایک بڑی ٹونا مچھلی کھینچ کر باہر نکال رہا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر، کاروباری شخص نے اسے مبارکباد دی اور پوچھا کہ اتنی بڑی مچھلی پکڑنے میں اسے کتنا وقت لگا۔ماہی گیر نے جواب دیا، “بس دو گھنٹے، یا شاید اس سے بھی کم۔”کاروباری شخص حیرت سے دیکھنے لگا۔ “تو پھر تم زیادہ دیر تک سمندر میں کیوں نہیں رہے اور چند اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑیں؟”ماہی گیر نے کندھے اچکائے۔ “ایک مچھلی میرے خاندان کا پیٹ بھرنے اور کل کے لیے ہماری ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔”کاروباری شخص نے پوچھا، “لیکن تم اپنے دن کا باقی حصہ کیا کرتے ہو؟”ماہی گیر مسکرایا۔ “میں صبح تھوڑا…
بادشاہ، وفادار غلام اور شیر کا راز……. ایک سبق آموز کہانی
ایک بادشاہ اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کہ اس کی نظر قریب کے ایک گھر کی چھت پر پڑی، جہاں ایک نہایت خوب صورت عورت کپڑے سکھا رہی تھی۔ بادشاہ نے اپنی ایک خادمہ سے پوچھا: “یہ عورت کون ہے؟” خادمہ نے جواب دیا: “حضور! یہ آپ کے وفادار غلام فیروز کی بیوی ہے۔” یہ سن کر بادشاہ کے دل میں اس عورت کو حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہو گئی۔ اس نے فوراً فیروز کو بلا بھیجا اور کہا: “فیروز! یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کے پاس لے جاؤ اور جواب لے کر واپس آؤ۔” فیروز نے حکم کی تعمیل کی، لیکن روانگی سے پہلے وہ خط تکیے کے نیچے رکھ کر سفر کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ صبح سویرے وہ روانہ ہو گیا، مگر اسے خبر نہ تھی کہ اس کے پیچھے کیا ہونے والا ہے۔ فیروز کے جاتے ہی بادشاہ اس کے…
۔۔ سوداگر کی عقلمندی
ایک سوداگر کچھ دنوں کے لیے ایک سفر پر جانے لگا تو اس نے سومن لوہا اپنے ایک دوست کے گھر امانت کے طور پر رکھوا دیا تاکہ ضرورت پڑے تو اسے بیچ کر روپیہ حاصل کر سکے۔ جب وہ سفر سے لوٹا تو اپنے دوست کے پاس آیا اور اس سے لوہا طلب کیا۔ دوست نے کہا۔ ’’تمہارا لوہا میں نے ایک کوٹھری میں بند کر کے رکھ دیا تھا مگر ایک دن کھول کے دیکھا تو چوہوں نے سب کھا لیا تھا۔‘‘ سوداگر نے کہا۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ دراصل چوہوں کو لوہا بہت پسند ہے۔ وہ اس کی لذت پر جان دیتے ہیں۔ ضرور کھا لیا ہوگا کیونکہ ان کے دانت اس قسم کی ملائم اور چکنی چیز پر خوب چلتے ہیں۔‘‘یہ بات سن کر اس کا دوست بہت خوش ہوا کہ چلو اتنا سارا لوہا بغیر کسی جھگڑے کے ہضم ہو گیا۔ اسے سوداگر کی بے…
کلہاڑے کی دھار
ایک لکڑہارا نہایت محنتی اور جفاکش تھا۔ ایک ٹھیکیدار نے اسے روزانہ اپنے لیے درخت کاٹنے کے کام پر رکھ لیا۔ پہلے دن اس نے خوب محنت کی اور 18 درخت کاٹنے میں کامیاب رہا۔ ٹھیکیدار نے اس کی کارکردگی کو سراہا اور اگلے دن مزید دل لگا کر کام کرنے کی ترغیب دی۔اگلے دن اس نے پہلے سے بھی زیادہ محنت کی، لیکن صرف 15 درخت ہی کاٹ سکا۔ اس سے اگلے دن تمام تر کوششوں کے باوجود وہ محض 12 درخت کاٹ پایا۔ٹھیکیدار نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: “تمہاری کارکردگی میں دن بہ دن کمی کیوں آ رہی ہے؟”لکڑہارے نے جواب دیا: “میں پورا وقت دے رہا ہوں اور میری محنت میں بھی کوئی کمی نہیں، لیکن اس کے باوجود کاٹے گئے درختوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔”ٹھیکیدار نے پوچھا: “تم نے آخری بار اپنے کلہاڑے کی دھار…
بادشاہ کا فیصلہ اور بوڑھی ماں کی جھونپڑی
بادشاہ سلیمان اپنی انصاف پسندی اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے دربار سے کبھی کسی مظلوم کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا تھا۔ ایک دن اس نے دریا کے کنارے ایک شاندار محل تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ محل تیار ہوا تو اس کی شان و شوکت دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ مگر محل کے مرکزی دروازے کے قریب ایک چھوٹی سی پرانی جھونپڑی کھڑی تھی۔ وزیر نے جھونپڑی دیکھتے ہی کہا: “یہ جھونپڑی یہاں سے ہٹاؤ! بادشاہ کے محل کے سامنے یہ جگہ اچھی نہیں لگتی۔” سپاہی نے بتایا: “حضور، اس میں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے۔” وزیر بوڑھی عورت کے پاس گیا اور بولا: “اماں! بادشاہ تمہیں اس جھونپڑی کے بدلے جتنا چاہو مال دینے کو تیار ہیں۔” بوڑھی عورت نے جھونپڑی کی دیوار پر ہاتھ پھیرا اور دھیمی آواز میں بولی: “بیٹا، یہ میرے لیے جھونپڑی نہیں… میری پوری زندگی ہے۔” وزیر حیران ہوا۔…
وہ رات جب کسان نے اپنے ہی محافظ مار دئے..
رات کے دو بجے تھے۔کھیت سو رہا تھا، مگر ایک پتے کے نیچے قتل ہو رہا تھا۔ ایک نرم جسم والا ننھا حشرہ پتے سے چمٹا رس چوس رہا تھا کہ اچانک اندھیرے سے دو جبڑے نمودار ہوئے۔ چند لمحوں کی تڑپ اور وہ غائب۔ قاتل وہیں نہیں رکا۔وہ اگلے شکار کی طرف بڑھ گیا۔کچھ فاصلے پر ایک اور عجیب واقعہ ہو رہا تھا۔ ایک انتہائی چھوٹی بھڑ خاموشی سے ایک حشرے کے قریب اتری، چند لمحوں کے لیے اس کے جسم پر رکی اور پھر اندھیرے میں غائب ہوگئی۔ شکار زندہ تھا، چل پھر رہا تھا، رس بھی چوس رہا تھا. اسے خبر تک نہ تھی کہ اس کے جسم کے اندر موت رکھ دی گئی ہے۔ اوپر ایک مکڑی کئی گھنٹوں سے بے حرکت بیٹھی تھی۔ زمین پر شکاری بھونرے گشت کر رہے تھے۔ پتوں کے درمیان ننھے شکاری ایک ایک کرکے فصل کے دشمنوں کو ختم کر…
“گڈریے کی کوٹھڑی کا راز — بادشاہ بھی حیران رہ گیا!”
پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…
جوتےکا مقدمہ۔
عصر کی نماز پڑھ کر گھر آیا تو صحن میں ایک مسکین سی عورت آنسو بہا رہی تھی۔ میں سمجھا، مریضہ ہیں۔ پوچھا، “کیا ہوا تمہیں؟” وہ بولیں، “میرے بیمار بھائی اور ابو کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔” میں نے کہا، “بہن، یہ پولیس کچہریوں کے چکر میں مت ڈالو۔ میرے پاس ان کاموں کے لیے وقت نہیں۔” اس کے بعد میں مرغی دانہ تیار کرنے سٹور میں چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ خاتون اٹھ کر چلی گئی ہوں گی، لیکن یہ میری بھول تھی۔ وہ اندر لاؤنج میں گئی تھیں اور بیگم صاحبہ کو بھڑکا رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں بیگم صاحبہ تشریف لائیں۔ ہاتھ میں چمٹا تھا اور پیچھے پیچھے ٹسوے بہاتی وہ عورت- اگرچہ فقیر کچن یوٹینسل سے نہیں ڈرتا مگر حالات دیکھنا پڑتے ہیں- بمشکل کمر پکڑ کر اٹھا اور اپنے تئیں اکڑ کر کہا ، ہم صرف علاج کرواتے ہیں،…
آپ کا جسم، کسی اور کی مرضی
رات گہری ہو چکی تھی۔باورچی خانے کی بتیاں بجھ چکی تھیں۔ فرش پر خاموشی تھی۔ سنک کے نیچے اندھیرے میں ایک کاکروچ خوراک کی تلاش میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک ہوا میں پروں کی ہلکی سی آواز گونجی۔وہ رک گیا۔سامنے ایک چھوٹی سی چمکدار بھڑ بیٹھی تھی۔کاکروچ نے خطرہ محسوس کیا اور پلٹ کر بھاگنا چاہا، مگر بھڑ پہلے ہی حملہ کر چکی تھی۔ پہلا ڈنک لگا۔چند لمحوں کے لیے اس کی اگلی ٹانگوں کا نظام گڑبڑا گیا۔مگر اصل حملہ ابھی باقی تھا۔ بھڑ دوبارہ آگے بڑھی۔ اس مرتبہ اس نے سر کے قریب ڈنک اتارا۔ اس کا باریک ڈنک اندر گیا اور اعصابی مراکز تک پہنچ کر اپنا زہر چھوڑ آیا۔ کاکروچ مرا نہیں۔وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔اس کی ٹانگیں بھی کام کر رہی تھیں۔ مگر اس کے اندر سے ایک چیز غائب ہو چکی تھی۔ بھاگنے کا ارادہ۔ بھڑ کچھ دیر انتظار کرتی رہی۔پھر…
بلاعنوان
جنگل کی ریاست پر برسوں سے بھیڑیوں کا اثر تھا، مگر جنگل کے قانون کے مطابق بادشاہ صرف شیر ہی بن سکتا تھا، اس لیے بھیڑیوں نے ایک لنگڑے شیر کو بادشاہ بنا دیا۔ شیر نام کا بادشاہ تھا، مگر حکومت کے فیصلے بھیڑیے کرتے تھے، خزانے کی چابیاں بھیڑیوں کے پاس تھیں، جنگل کے راستے بھیڑیوں کے قبضے میں تھے اور شکار کی تقسیم بھی انہی کی مرضی سے ہوتی تھی۔ شیر کی سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ ہر مہینے کی یکم تاریخ کو اسے جانوروں کے سامنے حکومتی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنا پڑتی تھی۔ اس دن کا خیال آتے ہی شیر کے چہرے کا رنگ بدل جاتا، رات بھر کروٹیں بدلتا اور کبھی کبھی اپنے لنگڑے پن کو کوسنے لگتا کہ کاش جنگل میں بادشاہ بننے کے لیے صرف شیر ہونا ضروری نہ ہوتا۔ کیونکہ یکم تاریخ کو بندر رپورٹر اپنی پوری تیاری کے ساتھ…
بلاعنوان
ایک امیر آدمی کی ایک غریب بہن تھی جو دیہات میں رہتی تھی۔ وہ تازہ دودھ، انڈے اور اپنے باغ کی سبزیاں بیچ کر معمولی سی کمائی کرتی تھی۔ گرمیوں میں، وہ سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی دکان لگاتی جہاں وہ بیر، مشروم اور زمین سے ملنے والی دوسری چیزیں فروخت کرتی تھی۔ سردیوں کے دوران، وہ اس رقم سے احتیاط سے گزارا کرتی جو اس نے گرمیوں کے مہینوں میں بچائی تھی۔اس کا بھائی اس کی سادہ زندگی کی وجہ سے شرمندہ ہوتا تھا۔ اس نے اسے کبھی شہر میں اپنے پاس آنے کی دعوت نہیں دی، اور وہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس کے بڑے، شاندار گھر میں آئے جہاں اس کے کامیاب دوست اس سے مل سکیں۔ تاہم، اس کی بہن نے کبھی اس کا برا نہیں مانا۔ جب بھی اسے موقع ملتا، وہ اسے اور اس کے خاندان کو اپنے ہاتھ کی بنی…
مارٹن اور سنہری تتلیاں
ایک چھوٹے سے قصبے میں مارٹن نام کا ایک موچی رہتا تھا۔ وہ اپنے کام میں بہت ماہر تھا، لیکن اس کا بٹوہ ہمیشہ خالی ہی رہتا تھا۔ ہر شام وہ اپنی کمائی کے چند سکے گنتا اور چپ چاپ آسمان کو کوستا کہ اس نے اسے اتنا کم کیوں دیا۔ایک برسات کی شام، جب کھڑکیوں پر بارش کاپانی طبلہ بجا رہا تھا، اس کی خستہ حال چھوٹی سی دکان کا دروازہ اچانک کھل گیا۔ دہلیز پر ایک اجنبی کھڑا تھا جس کا مہنگا کوٹ طوفان کی وجہ سے پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ لیکن اس میں کچھ انوکھی بات تھی—ایک پُرسکون سی گرمجوشی اس کے ساتھ اندر آئی تھی۔ مسافر نے پوچھا، “کیا تم مجھے تھوڑی دیر کے لیے آگ تاپنے (یا گرم ہونے) دو گے؟ بدلے میں، میں تمہیں ایک مشورہ دوں گا۔”مارٹن نے اپنے دل میں بڑبڑایا لیکن ایک اسٹول کھینچ کر رکھ دیا۔ مسافر بیٹھ گیا،…
بلاعنوان
ایک شیر پیٹ بھر کر کھانے کے بعد ایک بڑے درخت کے سائے میں آرام کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک گیڈر وہاں آیا اور بولا، “شیر! آؤ ہم لڑائی کرتے ہیں۔ ابھی، یہیں اور اسی وقت۔ تم اور میں۔”شیر نے اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔گیڈر کو غصہ آ گیا اور اس نے دوبارہ کوشش کی، “تم بزدل ہو، مجھ سے لڑو! اگر تم نے انکار کیا، تو میں جا کر صحرا کے سب لوگوں کو بتا دوں گا کہ طاقتور شیر مجھ سے مقابلہ کرنے سے ڈر گیا تھا۔”شیر نے جمائی لی، سستی سے اپنا جسم کھینچا اور آخر کار جواب دیا، “اگر وہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں ڈر گیا تھا، تو کہتے رہیں۔ میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ چند جانور مجھے بزدل سمجھیں، بجائے اس کے کہ وہ مجھے صرف کچھ ثابت کرنے کے لیے ایک گیڈر کے ساتھ لڑائی…
بلاعنوان
ایک تتلی ایک بچھو کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔وہ اس سے ڈر نہیں رہی تھی، بلکہ اسے اس پر تجسس تھا۔بچھو حیران ہوا، کیونکہ وہ کبھی کسی ایسے شخص سے نہیں ملا تھا جو اتنا نرم دل اور پرخلوص ہو۔“تم مجھے نہیں ڈراتیں،” تتلی نے کہا۔اس سے پہلے کسی نے اس سے کبھی ایسا نہیں کہا تھا۔ ہر کوئی اس سے ڈرتا تھا، اور اسے ہمیشہ اس بات پر فخر رہتا تھا۔چنانچہ جب تتلی نے اسے بتایا کہ وہ اس سے نہیں ڈرتی—بلکہ اس کے برعکس، وہ اس کی دوست بننا چاہتی ہے—تو وہ آہستہ اور احتیاط سے اس کے پیچھے ہولیا اور اپنا ڈنک پیچھ چھپا لیا۔وہ اپنے دن ایک ساتھ گزارنے لگے۔تتلی نے اسے پھول، دھوپ، پیاری خوشبو اور شفقت دکھائی—ایسی چیزیں جن کے وجود کا اسے کبھی وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ایک شام، تتلی نے کہا:“کاش تم میرے ساتھ اڑ سکتے۔”بچھو نے اپنے بھاری جسم…
😂 منحوسوں کی جوڑی۔
ایک آدمی کے بارے میں پورے گاؤں میں مشہور تھا کہ وہ انتہائی منحوس ہے۔ اس کی پہلی شادی ہوئی تو اگلے ہی دن بیوی مر گئی۔لوگوں نے افسوس بھی کیا اور سرگوشیاں بھی شروع کر دیں۔ کچھ عرصے بعد دوسری شادی ہوئی…لیکن اگلے دن دوسری بیوی بھی مر گئی! لوگوں نے اسے اتفاق سمجھا، مگر تیسری شادی کے بعد جب تیسری بیوی بھی اگلے ہی دن چل بسی تو پورے گاؤں کو یقین ہوگیا: “یہ بندہ منحوس نہیں، منحوسوں کا بادشاہ ہے!” اب چوتھی شادی کے لیے کوئی لڑکی دینے کو تیار نہ تھا۔ بڑی مشکل سے ایک بیوہ خاتون سے رشتہ طے ہوا۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس عورت کی بھی تین شادیاں ہو چکی تھیں اور تینوں شوہر اگلے ہی دن مر گئے تھے۔ اب گاؤں والوں کا تجسس آسمان پر تھا۔ شادی ہوئی تو پورا گاؤں رات بھر جاگتا رہا: “صبح دیکھیں گے کون زندہ رہتا…
جس کا کام اسکو ساجھے
ایک سرسبز و شاداب گاؤں میں ایک کسان اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ کسان دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا، صبح سویرے گھر سے نکلتا اور شام ڈھلے تھکا ہارا واپس آتا۔ وہ واقعی محنتی تھا، مگر اس کے دل میں ایک غلط فہمی گھر کر چکی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اس سے زیادہ محنت دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔ ایک دن شام کو وہ گھر واپس آیا تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے کاموں میں مصروف دیکھا۔ نہ جانے کیوں اس دن اس کے دل میں اپنی بیوی کی محنت کو کمتر سمجھنے کا خیال آیا۔ وہ بولا: “میں صبح سے شام تک دھوپ میں کھیتوں میں کام کرتا ہوں۔ مٹی میں پسینہ بہاتا ہوں، فصلیں اگاتا ہوں اور گھر کا خرچ چلاتا ہوں۔ تم تو سارا دن گھر میں رہتی ہو۔ آخر تم ایسا کون سا مشکل کام کرتی ہو؟” بیوی کے ہاتھ ایک…
جھوٹے کی کہانی
ایک رئیس یا شاید کوئی نواب جو کسی دور و دراز ملک سے واپس آیا تھا، دیہات میں اپنے دوست کے ساتھ سیر کر رہا تھا اور جھوٹے سچے قصے سنا رہا تھا کہ میں نے فلاں چیز دیکھی اور فلاں جگہ گیا۔ کہنے لگا:“نہیں بھائی، اب ایسے عجائبات کہاں دیکھنے کو ملیں گے! یہ تمہارا ملک بھلا کوئی رہنے کی جگہ ہے؟ کبھی تو اتنی سردی، کبھی اتنی گرمی کہ خدا کی پناہ! کبھی سورج ہے کہ مہینوں بادلوں میں منہ چھپائے بیٹھا رہتا ہے، اور کبھی ایسا تیز چمکتا ہے کہ آنکھیں چکاچوند ہو جاتی ہیں۔ وہاں دیکھو تو بس جنت کا مزہ ہے! اسے یاد کرنے سے بھی دل کو فرحت ہوتی ہے۔ نہ لحاف کی ضرورت، نہ لالٹین کی، نہ کبھی رات کا اندھیرا؛ پورا سال بہار کا دن معلوم ہوتا ہے۔وہاں نہ کوئی ہل چلاتاتا ہے نہ محنت کرتا ہے، اور اس پر دیکھو کیا…