Tag Archives: ،urdublogs

ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ایک جل پری سمندر کے کنارے ایک غار میں رہتی تھی۔شام کے وقت جب مچھیرے اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑنے آتے،تو جل پری کشتی کے ساتھ ساتھ تیرا کرتی اور اُن کی باتیں سنا کرتی تھی۔مچھیرے مزے مزے سے اپنے خوب صورت گاؤں ،ہرے بھرے کھیتوں اور رنگ برنگ کے پھولوں کا ذکر چھیڑتے اور یہ جل پڑی بڑے شوق سے ان کی باتیں سنتی اور حیران ہوتی۔ آخر اس کے دل میں یہ سب خوب صورت چیزیں دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک دن جل پری نے اپنے دل میں اس دریا میں تیرنے کا ارادہ کیا،جوان مچھیروں کے گاؤں کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا سمندر میں گرتا تھا۔ایک رات جب چاند نے سمندر کو اپنی کرنوں کانورانی لباس پہنا دیا،تو جل پری اُس دریا کی طرف چل کھڑی ہوئی۔دریا کا میٹھا پانی اسے بہت عجیب معلوم ہوا۔ مگر جل پری خوشی…

Read more

جو کوئی بھی کنویں سے پانی بھرنے جاتا،وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔پھر آہستہ آہستہ سب لوگوں نے کنویں سے پانی بھرنے جانا چھوڑ دیا اور بھی عجیب و غریب کئی باتیں کنویں سے متعلق مشہور ہیں سلمان اور عبداللہ شہر سے اپنے ماموں کے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔گاؤں کی صاف ستھری فضا انھیں بہت بھلی لگی۔دونوں کزن کے آنے سے حمزہ بہت خوش تھا۔وہ آپس میں بہت گہرے دوست بھی تھے۔صبح ناشتے کے دوران عبداللہ کو کچھ یاد آیا تو وہ بولا:”ماموں جان!اس گاؤں میں ایک بہت مشہور کنواں ہے۔اس کنویں کے بارے میں سب لوگ عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں۔ہمیں بھی وہ کنواں دیکھنا ہے۔“”ہاں بیٹا!وہ کنواں اپنی پُراسراریت کی وجہ سے بہت مشہور ہے،لیکن وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔“ماموں جان نے کہا۔آخر کافی منت سماجت کے بعد اُنھیں اجازت مل گئی۔وہ کنواں گاؤں سے تھوڑی دور ہے۔جہاں سے جنگل شروع ہو جاتا…

Read more

ایک غریب لکڑہارا جنگل کے قریب رہتا تھا۔وہ روز جنگل میں جاتا،لکڑیاں کاٹتا اور اسے شہر میں لے جا کر بیچ دیتا تھا۔وہ اس سوچ کے ساتھ زمین بھی کھودتا تھا کہ کبھی شاید اس میں سے اسے خزانہ مل جائے اور اس کی زندگی سنور جائے۔اسی امید کے ساتھ وہ روزانہ اپنے ساتھ جنگل میں بیلچہ اور کلہاڑی بھی لے کر بھی جاتا تھا۔ایک دن خزانے کی تلاش میں زمین کھودنے لگا۔اچانک اسے ایک بہت بڑی دیگ نظر آئی۔وہ اس دیگ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا،”لگتا ہے کہ اس دیگ کے اندر کوئی خزانہ چھپا ہوا ہے،جبھی تو اسے کسی نے جنگل میں درخت کے پاس زمین کھود کر دبایا ہوا ہے۔وہ خوشی خوشی دیگ کی طرف بڑھا تاکہ اس کے اندر ہاتھ ڈال کر خزانے کو دیکھ سکے۔ اس نے جب دیگ میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔اُن میں سے ایک مینڈک بہت بھدا اور بد صورت تھا۔اُس کے ساتھی اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔اُس وقت بھی سب اُس کا مذاق اُڑا رہے تھے تو اُسے بہت غصہ آیا۔”ہمیں دیکھ تو ایسے غصے سے رہے ہو جیسے ہمیں کھا جاؤ گے۔“ ایک مینڈک نے کہا تو باقی سب ہنسنے لگے۔ ”میں تم سب کو دیکھ لوں گا۔“ بد صورت مینڈک بولا۔تو سب اُس کا مذاق اُڑاتے ہوئے خوراک کی تلاش میں کنویں سے باہر چلے گئے۔اُن کے جانے کے بعد بھدا مینڈک سوچنے لگا کہ ان سے کیسے بدلہ لو۔پھر وہ بھی کنویں سے باہر آ گیا۔سامنے اُسے ایک سانپ نظر آیا تو مینڈک نے اُس سے کہا:”کیا تم میرے دوست بن سکتے ہو؟“”کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ سانپ مینڈک کو کھا جاتا ہے؟“ سانپ نے اُس سے پوچھا۔ ”مجھے معلوم ہے،لیکن اگر…

Read more

پچھلی یعنی بیسویں صدی عیسوی میں حکیم محمد عبد اللہ بہت بڑے طبیب گزرے ہیں۔ وہ پنجاب کے ایک قصبے جہانیاں میں رہتے تھے جہاں وہ پاکستان بننے کے بعد روڑی ضلع حصار سے ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی اور مدتوں کے بیمار لوگ ان کے علاج سے تندرست ہو جاتے تھے۔ حکیم صاحب ایک سچے مسلمان اور اللہ سے ڈرنے والے بزرگ تھے۔ ان کے پاس جو بہت غریب اور بے سہارا مریض آتے ان سے دوا کی قیمت نہیں لیتے تھے اور ان کا علاج مفت کرتے تھے۔ دوسرے لوگوں سے دوا کی لاگت انتہائی کم منافع کے ساتھ لیتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ ملتان کے قریب سے ایک بڑا زمیندار اپنی کسی بیماری کا علاج کرانے حکیم صاحب کے پاس آیا۔ انھوں نے مرض کی تشخیص کی اور دوا لکھ دی…

Read more

ایک دور کی بات ہے، شیخ چلی ایک دن گاؤں کے باہر سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک بہت پرانا کنواں دکھائی دیا۔ کنویں کے اردگرد بڑے بڑے درخت تھے، بیلیں لٹک رہی تھیں اور ماحول اتنا پراسرار تھا کہ لوگ اس کے قریب آنے سے بھی گھبراتے تھے۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک جادوئی کنواں ہے، جو ہر خواہش پوری کرتا ہے، لیکن صرف اسی شخص کی جس کا دل صاف ہو۔ یہ سنتے ہی شیخ چلی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انہوں نے سوچا، “بس! آج تو میری قسمت بدلنے والی ہے۔” وہ فوراً کنویں کے کنارے پہنچے، دونوں ہاتھ جوڑ کر آنکھیں بند کیں اور بولے، “اے جادوئی کنویں! مجھے سونے کے ہزار صندوق، ایک شاندار محل، سو گھوڑے اور پچاس نوکر دے دے!” اتنے میں کنویں کے اندر سے ایک زور دار آواز آئی، “پہلے ایک پتھر نیچے پھینکو، پھر اپنی خواہش…

Read more

اکبر کا نیا وزیر اپنی غلطی کو سمجھ گیا اور بیربل کو اُس کی جگہ پر واپس مقرر کرنے کے لئے استعفیٰ دے دیا اکبر کے دور میں بیربل کی حکمت و دانائی سے سب واقف تھے۔دربار میں بہت سے وزیر بیربل سے حسد کرتے تھے، حتیٰ کہ اکبر کا ایک سالا بھی ان میں شامل تھا۔اس نے اکبر سے درخواست کی کہ بیربل کو اس کی وزارت سے ہٹا کر اس کی جگہ پر مقرر کیا جائے۔بیربل کو کسی طرح اس بات کی خبر ہو گئی۔اس سے پہلے کہ اکبر کوئی فیصلہ کرتا، بیربل نے خود ہی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔اکبر نے اپنے نئے وزیر کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ اس نے اسے بلایا اور اسے تین سو سِکّے دے کر کہا کہ ان سِکّوں کو اس طرح خرچ کرو کہ سو سِکّے مجھے اِسی زندگی میں مل جائیں، سو سِکّے دوسرے جہان میں ملیں، اور…

Read more

ابو نصر العیاد نامی ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ غربت وافلاس کی زندگی بسر کررہا تھا۔ایک دن وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین سے ہوا جس کا نام احمد بن مسکین تھا۔عالم دین کو دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا کہ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوا غموں سے تھک گیا ہوں۔عالم دین نے کہا کہ میرے پیچھے چل آؤ ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔ سمندر پر پہنچ کر عالم دین نے اسے دورکعت نفل پڑھنے کو کہا نماز پڑھ چکا تو اس نے ایک جال دیتے ہوئے کہا کہ اسے بسم اللہ کرکے سمندر میں پھینک دو ۔پھینکے گئے جال میں پہلی بار ایک بڑی مچھلی پھنس گئی جال کو باہر نکالا گیا عالم دین نے…

Read more

جب شہزادہ البرٹ نے تحفہ دیکھا تو وہ حیرت اور خوشی سے اچھل پڑا یہ ایک بہت ہی پیارا اورخوبصورت سفید رنگ کا گھوڑا تھا جس کے کندھوں پر بھی بہت ہی خوبصورت سفید چمک دار پَر تھے۔شہزادہ البرٹ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک یونان میں ایک خوبصورت اور باوقار شہزادہ البرٹ رہتا تھا۔اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے بادشاہ اس پر بہت مہربان تھا۔شہزادہ البرٹ کی سوتیلی ماں کو بادشاہ کا شہزادے کی طرف جھکاؤ ایک آنکھ بھی نہ بھاتا تھا۔اس نے شہزادہ البرٹ کی الٹی سیدھی شکایتیں لگا کر بادشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ شہزادہ البرٹ کو قتل کردے۔بادشاہ شہزادے کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا،چنانچہ بادشاہ نے شہزادہ البرٹ کو ایک خط دے کر اس کو اپنے دوست بادشاہ کے پاس روانہ کیا۔جو شہزادہ البرٹ کے والد کے دوست تھے اور قریب کے ملک ہی…

Read more

ایک سرسبز و شاداب وادی میں وسیع و عریض باغ واقع تھا۔باغ کے وسط میں ایک بہت پرانا کنواں بھی موجود تھا۔یہ باغ کسی وقت میں بہت سے درختوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔چنار، شہتوت، املی اور جامن جیسے درخت یہاں کی زینت تھے۔یہ درخت سایہ فراہم کرتے تھے۔ان پر بسنے والے رنگ برنگے پرندے اس باغ کو گلستاں بنا دیتے تھے۔ایسی ہی شاخوں پر خوش رنگ تتلیاں منڈلاتیں، جگنو راتوں کو چراغاں کرتے۔یہیں پر قدیم شہتوت کے درخت پر چمن نامی چڑیا کا گھونسلہ تھا۔اس کے قریب بڑے سے چنار پر کالو نامی کوا رہتا تھا۔دونوں میں دیرینہ دوستی تھی مگر یہ دوستی یک طرفہ تھی۔چمن ہر خوشی کا موقع اپنے دوست کے ساتھ بانٹتی۔وہ میٹھے میٹھے پھل، بیج یا دانے لے کر چنار کی شاخوں پر آتی اور کالو خوشی سے آ کر لے جاتا لیکن شکر تو دور کبھی حال چال بھی نہ پوچھتا۔چمن بہت معصوم تھی،…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ملک میں امن وامان تھا ، رعایا پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں تھا، ہر طرف خوشحالی تھی ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر بادشاہ کو الٹی سیدھی باتیں بتاتے رہتے تھے ، ان سب کا ٹارگٹ اکثر وزیر ہوتا، اس طرح کئی وزیر سوا ہوئے اور کئی ایک کوبادشاہ نے مروادیا ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے ۔ ایک دن بادشاہ نے ایک نیاوزیر مقرر کیا ، اس وزیر کو چند دنوں میں پتہ چل گیا کہ دربار میں حاسدی ٹولہ بہت خطرناک ہے وزیر ان کی طرف سے محتاط ہو گیا، وہ انہیں اہمیت نہ دیتا جس کی وجہ سے وہ اس کے خلاف ہوگئے ۔ ایک دن ایک درباری نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہابادشاہ نے ایک بکری منگوائی اور وزیر…

Read more

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے رہ لیں گے۔ اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ رحیمو کا کا کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فورا ہی بول پڑا وہ بڑی لجاجت سے کہہ رہا تھا :” بھائی ! مجھے آخری بار دھار دے دو؟“رحیمو کا کانے دوٹوک انداز میں جواب دیا: “تمھارا تین مہینے کا حساب باقی ہے۔ جب تک وہ ادا نہیں ہوتا، میں تمہیں مزیدا دھار نہیں دے سکتا۔وہ تقریبا رو دینے کے قریب تھا۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا : آج کے بعدتم کبھی مجھے ادھار مانگتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ بس آخری بار۔ رحیمو کاکا نے ہاتھ اٹھایا اور بولا:” بس ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا “اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے…

Read more

خوبرو جوان بائیک پر جا رہا تھا کہ ایک انکل اور آنٹی پر نظر پڑی جو کافی پریشانی کے عالم میں آتے جاتے لوگوں کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔نوجوان نے رُک کر پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے:“کار لاک ہے اور چابی اندر ہی رہ گئی ہے”اُن کی بات سُن کر نوجوان کے اندر کا ہیرو جوش میں آیا اور کافی دیر سوچنے کے بعد حل نکالا۔کار کے دروازے کے شیشے کے اوپر سے ربڑ ہٹایا اور ایک دھاگے کو ڈھیلی گرہ ڈال کے وہاں سے اندر ڈالا اور کافی تگ و دو کے بعد دھاگے کی گرہ کھڑکی کے لاک میں پھنس گئی اس کے بعد جھٹکے سے دھاگہ کھینچا تو لاک کھل گیا۔ نوجوان نے انکل کی طرف شکریہ طلب نظروں سے دیکھا تو انہوں نے بھی شکریہ ادا کیا۔نوجوان اپنے آپ کو ایک کامیاب ہیرو تصور کرتے ہوئے جانے کے لیے آگے…

Read more

Fue hace mucho tiempo. Khwaja Saadullah de Mohalla Sufi tenía bastantes caballos, vacas y búfalos, que había vendido. Ahora solo le quedaba un caballo, que quería vender. Había pedido a personas especiales que lo vendieran, para que gente respetable pudiera venir a negociar. El padre del famoso escritor A. Hameed, Chaudhry Sahib, tenía un carruaje real. En el que su familia solía viajar, pero no tenía un caballo en el que pudiera sentarse solo e intimidar a la gente. Así que pensó en comprar el caballo de Khwaja Sahib. Se enteró de esto por uno de sus sirvientes. En el pasado, no se consideraba bien visto que la gente respetable vendiera sus cosas. Un día, llegó a la mansión de Khwaja Sahib con dos o tres personas. El sirviente, Allah Rakha, lo conocía. Mantuvo a cinco o seis hombres a la sombra de los árboles de la despensa en la…

Read more

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔محلہ صوفی کے خواجہ سعد اللہ کے پاس یوں تو کافی گھوڑے اور گائے بھینسیں تھیں،جنھیں وہ بیچ چکے تھے۔اب صرف ایک گھوڑا رہ گیا تھا،جسے وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔اس کی فروخت کے لیے انھوں نے خاص خاص لوگوں سے کہہ رکھا تھا،تاکہ معزز افراد آکر سودے بازی کر سکیں۔مشہور مصنف اے ۔حمید کے والد چودھری صاحب کے پاس رئیسی ٹانگہ تھا۔ جس میں ان کے اہل خانہ سوار ہو کر سیر کرتے تھے ،لیکن گھوڑا نہیں تھا کہ جس پر وہ تن تنہا بیٹھ کر لوگوں پر رعب جماتے ۔چنانچہ انھوں نے سوچا خواجہ صاحب کا گھوڑا خریدلیتے ہیں۔ یہ بات انھیں اپنے ایک ملازم سے معلوم ہوئی تھی۔پہلے زمانے میں یہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ معزز افراد اپنی چیزیں فروخت کریں۔(جاری ہے) وہ ایک روز دو تین افراد کو لے کر خواجہ صاحب کی حویلی پر پہنچ گئے۔ ملازم اللہ…

Read more

یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔ یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا…

Read more

ایک گاؤں میں ارمان نامی آدمی رہتا تھا اُس کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی۔ایک دن اُس نے سوچا کہ وہ نوکری ڈھونڈنے شہر جائے گا۔اُس کے پاس صرف تین اشرفیاں تھیں۔وہ اپنے سفر پر نکل گیا۔جب وہ شہر پہنچا تو اُسے وہاں بہت سے لوگ مختلف کام کرتے نظر آئے تو وہ خوش ہو گیا کہ اُسے یہاں نوکری ضرور مل جائے گی، مگر سب سے پہلے کہیں رہنے کی جگہ چاہیے۔اُس نے دیکھا کہ ایک گھر کے باہر لکھا ہے ”اوپر والا کمرہ خالی ہے۔“ اُس نے سوچا کہ وہ یہاں رہ سکتا ہے۔دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے غصے سے بھرا آدمی باہر آیا اور پوچھا کیا چاہیے۔ارمان نے کہا کہ مجھے رہنے کے لئے کمرہ چاہیے۔آدمی نے کہا کہ کرایہ تین اشرفیاں ہو گا۔(جاری ہے) ارمان گھبرا گیا کہ اُس کے پاس تو تین ہی اشرفیاں ہیں۔اس نے کہا کہ میرے پاس صرف تین اشرفیاں ہیں اور…

Read more

ایک بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ دربار میں موجود تھا کہ کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔لوگوں کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو سویرے اس کی شکل دیکھ لیتا ہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ،لہٰذا اسے ملک سے باہر نکال دیا جائے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں خود تجربہ کروں گا اور کل صبح سب سے پہلے اس کی صورت دیکھوں گا پھر کوئی دوسرا کام کروں گا۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کاد روازہ کھولا تو  وہی ایک آنکھ والا آدمی کھڑاتھا بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پلٹ آیا اور دربار میں جانے کے لیے تیار ہونے لگا لباس تبدیل کرنے کے بعد جو نہی بادشاہ نے جوتے میں اپنا پاﺅں ڈالا اس میں موجود زہریلے بچھو نے…

Read more

پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔ بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔(جاری ہے) اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔b اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو…

Read more

ایک بادشاہ کو شکار کرنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے مصاحبوں سمیت جنگل میں گیا،تاکہ پرندوں کا شکار کر سکے،لیکن وہاں انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔وہ جنگل چھوڑ کر آگے ویرانوں میں چراگاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔راستے میں کئی پہاڑیاں اور ندیاں بھی آئیں،جن کو انھوں نے عبور کیا،لیکن انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔ آخر دوپہر کے وقت وہ ایک بہت بڑی چراگاہ میں پہنچے۔یہ اتنا بڑا میدان تھا،جس کی حد نظر نہیں آ رہی تھی۔میدان کے عین درمیان میں ایک بڑا اور گھنا سایہ دار درخت کھڑا تھا۔بادشاہ اور اس کے مصاحب بے اختیار درخت کی طرف بڑھتے چلے گئے اور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سستانے لگے۔اگرچہ وہ بہت تھک چکے تھے،لیکن عادی شکاریوں کی طرح ان کی نگاہیں اب بھی درخت کی شاخوں میں بیٹھے کسی پرندے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اچانک بادشاہ کی نظر ایک کنٹھ پر پڑی جو…

Read more

640/838
NZ's Corner