اندھے فقیر کا خالی پیالہ
. ایک دلچسپ اور دل کو چھو لینے والی کہانی ایک شہر میں ایک نوجوان دفتر سے واپس گھر جا رہا تھا۔ سڑک پر ٹریفک اور لوگوں کا شور تھا، ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن تھا۔ اسی دوران اس کی نظر ایک بوڑھے نابینا بھکاری پر پڑی جو فٹ پاتھ کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک خالی پیالہ اور ایک گتے کا بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا: “میں اندھا ہوں، براہِ مہربانی مدد کریں۔” لوگ آتے جاتے تھے، کچھ جلدی میں تھے، کچھ بے پرواہ… لیکن پیالہ تقریباً خالی ہی رہا۔ نوجوان کچھ دیر کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا۔ اسے احساس ہوا کہ الفاظ شاید لوگوں کے دلوں کو نہیں چھو رہے۔ وہ آگے بڑھا، خاموشی سے گتے کا بورڈ اٹھایا، اپنی جیب سے مارکر نکالا اور کچھ لکھنے لگا۔ پھر بورڈ واپس رکھ کر چلا گیا۔ بوڑھے نے کچھ محسوس کیا مگر کچھ پوچھا…
ایک خوبصورت کہانی
نرس جلدی سے ایک نوجوان میرین کو ایک بوڑھے مریض کے کمرے میں لے گئی اور کہا،“یہ تمہارا بیٹا آ گیا ہے۔” بوڑھے کو ادویات دی گئی تھیں، اس لیے وہ نیم بے ہوشی میں تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے مشکل سے آنکھیں کھولیں۔ اس کی نظر سامنے کھڑے نوجوان پر پڑی۔ اس نے کانپتے ہاتھ سے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ نوجوان خاموشی سے آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے نرمی سے وہ کمزور ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور تسلی دینے لگا۔ نرس ایک کرسی لے آئی۔ نوجوان ساری رات بوڑھے کے پاس بیٹھا رہا، اس کا ہاتھ تھامے رہا اور خاموشی سے اسے سہارا دیتا رہا۔ کئی بار نرس نے کہا کہ وہ آرام کر لے، مگر اس نے انکار کر دیا۔ رات کے آخری پہر میں نرس نے دیکھا کہ نوجوان بوڑھے سے دھیرے دھیرے کچھ کہہ رہا ہے،…
دانش مند بوڑھا اور نادان بادشاہ….
ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک نوجوان بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگ بےکار ہیں اور ملک پر بوجھ ہیں، کیونکہ وہ نہ زیادہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی پیداوار میں حصہ لیتے ہیں۔ بادشاہ کے درباری بھی نوجوان تھے، اس لیے وہ سب اس بات سے متفق ہو گئے۔ آخرکار ایک دن بادشاہ نے حکم جاری کر دیا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو ملک سے ختم کر دیا جائے۔ پورے ملک میں خوف پھیل گیا۔ بوڑھے لوگوں کو الگ کر دیا گیا، اور معاشرہ خاموش ہو گیا… مگر ایک خاموشی جو اندر ہی اندر خالی پن سے بھر رہی تھی۔ اسی ملک میں ایک نوجوان رہتا تھا جو اپنے بوڑھے باپ سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس ظلم کو برداشت نہ کر سکا۔ سپاہیوں کے آنے سے پہلے…
ایک دانا کی حکمت
ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سفر کر رہا تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا اور نہ کبھی کشتی میں بیٹھا تھا۔ خوف کے مارے وہ کانپنے لگا اور رونے لگا۔ بادشاہ پریشان ہو گیا، مگر اسے خاموش کرانے کی کوئی تدبیر سمجھ نہ آئی۔ کشتی میں موجود ایک دانا شخص نے کہا: “اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔” بادشاہ نے اجازت دے دی۔ دانا کے اشارے پر غلام کو دریا میں پھینک دیا گیا۔ چند لمحے پانی میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد اسے نکال کر دوبارہ کشتی میں بٹھا دیا گیا۔ اب وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور ذرا بھی شکایت نہ کی۔ بادشاہ نے حیران ہو کر دانا سے پوچھا: “یہ کیا حکمت تھی؟” دانا بولا: “جس نے ڈوبنے کا خوف محسوس نہ کیا ہو، وہ کشتی کے سکون کی قدر نہیں جان سکتا۔” انسان اکثر…
حکایت😅😅😅
ماں اور بیٹے کے بیچ تکرار چل رہی تھی- ماں بیٹے کو بازار سے نئے موسمی آلو لانے کا کہ رہی تھی اور بیٹا سستی سے کبھی ایک کمرے میں جا چھپتا کبھی دوسرے میں جا پڑتا- باپ رضائی میں لیٹا یہ تکرار سن رہا تھا- اسے اچھّا نہ لگا کہ اس کا جوان بیٹا اپنی ماں کی نافرمانی کرے-اس نے رضائی پھینکی اور جا کر بیٹے سے کہا،“میرے پچاس سالہ تجربات کا نچوڑ ہے کہ ماں کا نافرمان بیٹا دنیا میں بھی رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے ہی” اس پر ماں نے بیٹے کو چھوڑا اور باپ پہ حملہ آور ہو گئی،” دوزخ میں جائیں تیرے پچاس سالہ تجربات… کیا قصور ہے میرے بیٹے کا؟ کیوں جائے دوزخ میں…؟ تم کیوں نہیں چلے جاتے… آلو لینے؟” باپ کان لپیٹ کر آلو کی تلاش میں نکل گیا اور اس کے پچاس سالہ تجربات…
لالچ بری بلا ہے
نیچے دی گئی کہانی کا اخلاقی سبق بتائیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے ایک غریب لکڑہارے کو درختوں کے جھنڈ میں کوئی چیز نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ پتھر کا ایک بت تھا۔ لکڑہارے نے بت ہٹایا تو وہاں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ سوراخ کے اردگرد سے مٹی ہٹانے پر اسے ایک بہت بڑا خزانہ ملا۔ لکڑہارا اکیلا اتنا بڑا خزانہ نہیں اٹھا سکتا تھا، چنانچہ اسے ڈھانپ کر گھر کی طرف چل دیا۔راستے میں اس کی ملاقات چھ اونٹوں والے ایک سوداگر سے ہوئی جو اپنا مال فروخت کر کے آ رہا تھا۔ لکڑہارے نے سوداگر سے کہا: “مجھے جنگل میں بہت بڑا خزانہ ملا ہے، میں تمہیں صرف ایک شرط پر وہاں لے جاؤں گا۔”سوداگر نے بے صبری سے کہا: “جلدی بتاؤ، میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔”لکڑہارے نے کہا: “جتنے اونٹ خزانے سے بھرو گے، ان…
بلاعنوان
ہیوی:- دیکھو نہ، ھمارے پڑوسی نے 50 انچ کا LCD ٹی وی خریدا ھے آپ بھی خرید لائے نہ۔۔؟؟شوہر:- ارے ڈارلنگ ۔۔ جس کے پاس تمہاری جیسی خوبصورت بیوی ھو۔۔ وہ کیوں کر فالتو کا وقت 📺 TV دیکھنے میں برباد کرے گا۔۔؟؟بیوی:- اوہ آپ بھی نہ۔۔ ابھی آپ کے لئے پکوڑے بنا کر لاتی ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی:- آپ میری سالگرہ کا دن کیسے بھول گئے۔۔؟؟ شوہر:- بھلا تمہاری سالگرہ کا دن کوئی کیسے یاد رکھے۔۔ تمھیں دیکھ کر ذرا بھی نہیں لگتا کہ تمہاری عمر بڑھ رہی ھے۔۔!!! بیوی:- ( آنسو پونچھتے ھوئی) سچی۔۔ آپ کے لئے کھیر لا کر آتی ھوں۔ (شوھر-بیوی میں جھگڑا ھو رھا تھا)بیوی:- میں پورا گھر سنبھالتی ھوں۔۔!!!کچن کو سنبھالتی ھوں۔۔!!!بچوں کو سنبھالتی ھوں۔۔!!!تم کیا کرتے ھو۔۔؟؟؟؟؟شوھر:- میں خود کو سنبھالتا ھوں۔۔ تمہاری نشیلی آنکھیں دیکھ کر۔۔!!!!بیوی:- آپ بھی نہ۔۔۔چلو بتاؤ آج کیا بناؤں آپ کے پسند کا۔۔؟
انوکھا حساب۔
ملا نصیرالدین کا انوکھا حساب🤣….. ایک مزاحیہ کہانی ایک دن ملا نصیرالدین حمام گئے۔ ان کے کپڑے اتنے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے کہ دیکھنے والا فوراً یہی سمجھے کہ یہ کوئی غریب آدمی ہیں۔ حمام کے خادم نے بھی یہی سوچا۔ اس نے نہ خاص توجہ دی، نہ اچھی خدمت کی۔ تولیہ بھی ایسے لا کر دیا جیسے کوئی احسان کر رہا ہو۔ مگر جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو انہوں نے خادم کو اچھی خاصی بخشش دے دی۔ خادم حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر معمولی خدمت پر اتنی بخشش ملی ہے تو اگلی بار خوب خدمت کروں گا!” ایک ہفتے بعد ملا نصیرالدین دوبارہ حمام پہنچے۔ اس بار خادم دوڑتا ہوا آیا۔ بڑے ادب سے استقبال کیا، بہترین تولیہ دیا، گرم پانی کا انتظام کیا اور ہر طرح کی خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ وہ دل ہی دل میں بڑی بخشش کا انتظار کر رہا…