Author Archives: NZ's Collection

کسی گاؤں میں ایک دھوبی رہتا تھا، جو شہر سے لوگوں کے کپڑے گدھے پر لاد کے گاؤں لاتا اور دھونے کے بعد اسی پر لاد کے واپس شہر پہنچاتا تھا۔دھوبی کی کمائی کا یہی ذریعہ تھا اور وہ اس قدر کما لیتا کہ باآسانی گزر بسر کر سکے۔اس کے باوجود وہ حد درجہ کنجوس واقع ہوا تھا۔شہر جا کر وہ خود تو مزے مزے کے پکوان اڑاتا لیکن دن بھر محنت کرنے والے گدھے کو بھوکا رکھتا۔اس کیلئے چارے پانی پر کوئی پیسہ خرچ نہ کرتا۔دن یونہی گزرتے جا رہے تھے اور گدھا بیچارہ بھوکا رہ رہ کر اب بیمار رہنے لگا تھا۔وہ اس قدر لاغر ہو چکا تھا کہ اُس کے جسم کی ہڈیا ں تک واضح نظر آنے لگی تھیں، لیکن ظالم دھوبی کو اس معصوم جانور پر ذرا ترس نہ آیا۔ایک دن دھوبی شہر والوں کے کپڑے گدھے پر لاد کے لے جا رہا تھا کہ…

Read more

🦅 خوف کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے😶 یہ کہانی پرانے زمانے کے ایک تجربہ کار شکاری کے منہ سے سنی ہوئی ہے، اور اس کے مطابق یہ ایک حقیقی واقعہ ہے😮 شکاری بتاتا ہے کہ جب چکور اپنے بچوں کے ساتھ خوراک کی تلاش میں کھیتوں کی طرف آئے ہوئے تھے، تو ایک باز آسمان میں چکر لگا رہا تھا😶 اچانک اس کی نظر نیچے موجود چکوروں پر پڑی۔ وہ شکار کی نیت سے پوری رفتار کے ساتھ نیچے جھپٹا، لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ راستے میں ایک درخت کی نوکیلی شاخ اس کے جسم میں پیوست ہوگئی، اور وہ وہیں ہلاک ہوگیا۔ شکاری کہتا ہے: “پتہ نہیں یہ منظر کتنے دن پرانا تھا، مگر جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ باز تو اسی نوکیلی شاخ پر مرا ہوا لٹکا ہوا تھا۔ لیکن نیچے موجود تمام چکور بھی مر چکے تھے۔” وجہ یہ تھی…

Read more

محلے میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام قاسم تھا۔ قاسم کو ایک عجیب بیماری تھی۔ اسے ہر کام میں شک ہوتا تھا۔ اگر گھر میں چائے کم میٹھی ہو تو کہتا: “ضرور کسی نے چینی چوری کی ہے!” اگر پنکھا آہستہ چلے تو کہتا: “اس میں بھی کوئی سازش ہے!” اور اگر بیوی خاموش بیٹھی ہو تو فوراً پوچھتا: “کیا ہوا؟ کس سے بات ہوئی؟ میرے خلاف کیا منصوبہ بن رہا ہے؟” ایک دن محلے میں خبر پھیلی کہ چودھری صاحب کے گھر سے قیمتی گھڑی غائب ہوگئی ہے۔ قاسم نے خبر سنی تو فوراً سینہ پھلا کر بولا: “یہ کیس میں حل کروں گا!” محلے والوں نے پوچھا: “تمہیں جاسوسی آتی ہے؟” قاسم نے فخر سے کہا: “نہیں، لیکن مجھے شک بہت اچھا کرنا آتا ہے!” سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ “چلو، یہی سہی!” 😂 قاسم نے سب سے پہلے چودھری صاحب سے پوچھا: “گھڑی…

Read more

کسی جنگل میں ایک بکری بہت بے فکری سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی۔اُسے دیکھ کر ایک کوے کو بہت حیرت ہوئی، اس نے بکری سے پوچھا، ”تم اتنی بے خوف ہو کر کیسے جنگل میں گھوم رہی ہو کیا تمہیں شیر کا خوف نہیں؟“بکری نے کہا، ”بھائی کوے، میری بے فکری کا سبب یہ ہے کہ کچھ عرصے پہلے ایک شیرنی اپنے دو بچے چھوڑ کر مر گئی تھی، میں نے ان پر ترس کھا کر دودھ پلا کر پروان چڑھایا اور اب وہ جوان ہیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ ہماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے اسی لئے اب کسی جانور میں ہمت نہیں کہ مجھے نقصان پہنچائے۔“کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی ایسا احترام حاصل ہو جائے۔ اب اس کے شب و روز ایسی…

Read more

امانت نے ڈگڈگی بجائی تو گلی کے بچے اپنے گھر سے باہر آ گئے۔امانت نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”آج لاڈلا اور بہادر آپ کے سامنے موجود ہیں،دونوں آپ کو سلام کرتے ہیں۔“یہ کہہ کر امانت نے دونوں کی رسی کھینچی تو دونوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بچوں کو سلام کیا۔”یہ بہادر ہے۔“امانت نے سبز رنگ کی عینک پہنے ایک بندر کی رسی کھینچی۔بہادر نے قلا بازی کھائی تو بچوں نے تالیاں بجائیں۔”اور یہ ہے لاڈلا،میرا لاڈلا۔“امانت نے سرخ رنگ کی عینک پہنے دوسرے بندر کی رسی کھینچی تو لاڈلا نے بھی قلا بازی لگا کر بچوں سے داد لی۔پھر امانت نے ڈگڈگی بجائی تو بہادر اور لاڈلا ناچنے لگے۔دونوں کبھی بابو بن جاتے اور کبھی لیٹ کر سائیکل چلانے لگتے۔ یہ تماشا ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ بچوں نے زمین پر پیسے پھینکے تو بندروں نے جھک جھک کر سلام کرتے ہوئے پیسے اُٹھائے۔امانت کی…

Read more

بہت عرصے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسکے سات بیٹھے تھے ایک دن اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے لیے بیویاں تلاش کرلیں۔ اس نے ان سے کہا کہ وہ اپنے تیر کمان ساتھ لیجائیں اور ہوا میں تیر چلائیں وہ تیر جہاں گریں انہیں ان جگہوں پر رہنے والی عورتوں سے شادی کرنی ہو گئی۔چھ شہزادوں کے تیر دوسری بادشاہتوں میں جا کر گرے اور انہوں نے شہزادیوں سے شادی کر لی۔سب سے چھوٹا شہزادہ اتنا خوش قسمت نہیں تھا ۔ اسکا تیر ایک جنگل میں ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کے سامنے گرا۔ اس جھونپڑی میں ایک بوڑھی رہتی تھی شہزادے نے بوڑھی عورت سے پوچھا کہ آپ کی کوئی بیٹی ہے ۔ اس نے کہا کہ اسکی کوئی بیٹی نہیں ہے اسنے کہا اس کے پاس ایک بندریا ہے جو اسکے ساتھ رہتی ہے۔شہزادے کو بڑی مایوسی ہوئی…

Read more

کسی جگہ شرارتی خرگوش رہتا تھا جس کی ذہانت سے لومڑ جیسا چالاک جانور بھی اکثر مات کھاتا تھا۔اسے خرگوش پر بہت غصہ آتا تھا،اسی لیے وہ اسے اور اس کے دوستوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ایک دفعہ لومڑ بڑا سا بیگ کندھے پر ڈالے تیزی سے چلا جا رہا تھا۔ بیگ سے کسی کے چیخنے چلانے کی آواز آرہی تھی جس سے خرگوش کو اندازہ ہوا کہ اس میں اس کا دوست کچھوا قید ہے۔اب اسے اپنے دوست کو بچانے کی فکر لاحق ہوئی۔خرگوش جنگل کے درمیان سے تیزی سے بھاگتا لومڑ سے پہلے اس کے گھر پہنچا اور اس کے باغ کے سارے پھول توڑ کر زمین پر پھینک دیے اور خود گھر کے دروازے کے قریب ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا۔جونہی لومڑ کندھے پر بیگ لیے گھر پہنچا تو خرگوش نے آواز بدل کر سرگوشی کی ”اے لومڑ تمہیں بیگ یہاں رکھ کر…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا۔وہ بہت ہی کنجوس تھا۔ایک بار وہ ایک جنگل سے گزررہا تھا تو اس نے کھجور کا ایک درخت دیکھا،جس میں بہت سارے میٹھے میٹھے کھجور لگے ہوئے تھے۔پھر کیا تھا؟۔۔۔کنجوس آدمی کو مفت میں کھجوریں مل گئی،اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔مال مفت دل بے رحم۔اس نے جلدی جلدی درخت پر چڑھنا شروع کر دیا۔وہ جب کافی اونچائی تک چڑھ گیا تو اچانک ایک شہد کی مکھی نے اسے ڈنک مار دیا۔اس نے دیکھا کہ درخت پر شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا سا چھٹا لگا ہوا ہے ،وہ گھبرا اُٹھا،اس نے نیچے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچا،۔۔۔لیکن یہ کیا؟نیچے ایک کنواں تھا۔وہ بہت زیادہ ڈر گیا اور وہ خدا سے دعا مانگنے لگا کہ:”اے خدا!مجھے بچالے میں سو فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا۔ “پھر اس نے دھیرے دھیرے نیچے اترنے کی کوشش کی،تھوڑا نیچے آنے…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کہ کسی ملک میں ایک شکاری رہتا تھا۔شکاری ایک نوجوان اور بہادر شخص تھا۔وہ شکار کی تلاش میں اکثر گھنے اور خطرناک جنگلوں میں جاتا رہتا تھا۔شکاری کے پاس ایک باز تھا جو اس کا بڑا وفادار تھا۔وہ جب بھی شکار پر جاتا تو باز کو بھی ساتھ لے جاتا۔باز بھی کئی قسم کے چھوٹے پرندے شکار کرتا تھا۔اسے باز سے بڑی محبت تھی،کیونکہ باز نے کئی مرتبہ اس کی جان بچائی تھی۔مثلاً ایک دن ایک سانپ اس پر حملہ آور ہونے لگا تو باز نے اس سانپ کو اپنے پنجوں سے ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ایک دن شکاری نے شکار پر جانے کا ارادہ کیا اور حسب معمول باز کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچ گیا جہاں جنگلی جانوروں کی کثرت تھی۔اسے شکار کرتے ہوئے دو دن گزر گئے۔ تیسرے دن اچانک وہ راستہ بھٹک کر ایک صحرا میں…

Read more

یہ ایک خوب صورت وادی کی کہانی ہے جو ایک پہاڑی کے دامن میں آباد تھی وہاں کے رنگین پھول بچوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ تمام بچے علم حاصل کرنے کے بہت شوقین تھے وہ آپ کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتے لیکن ان میں ایک نجمہ بڑی گندی تھی اسے کئی بار سمجھایا گیا لیکن اس نے کسی کی نصیحت پر بھی کان نہ دھرا۔ کبھی تم سے چلتی پھرتی اور باتیں کرتی ہوئی گندگی دیکھی ہے؟ ایک دن نجمہ کو چڑانے کے لیے جب اس کی سہیلیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا۔ تو ہو فورا غصہ میں آگئی اس نے اپنے میلے کچیلے بالوں کو اپنے گندے چہرے سے ہٹایا اور اپنی سہیلیوں کو کوسنا شروع کیا اس کی بہتی ناک اور پیلے رنگ کے بدنما دانت دیکھ کر اس کی ایک سہیلی کہنے لگی۔چلوبھاگو یہاں سے بو آرہی ہے سامنے یہ گندی لڑکی جو کھڑی ہے…

Read more

پرانے زمانے میں کچھ جانوروں نے ایک جلسہ کیا اور طے کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے الگ ہو کر اپنی سرکار بنائیں گے۔اس جلسے میں گدھا،شیر،ہاتھی اور خرگوش پیش پیش تھے۔انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی فوج بنا لی۔اس فوج کا کمانڈر ایک گدھے کو بنایا گیا۔وہ بہت عقل مند سمجھا جاتا تھا،اس لئے ہاتھی یا گینڈے کی بجائے اسے سرداری دی گئی۔اس گدھے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے سر پر کان سے اوپر نوکیلے سینگ لگے ہوئے تھے۔جنگل کے تمام جانور گدھے کے نوکیلے سینگوں سے ڈرتے تھے۔گدھا،شیر کے بہت سارے کام کرتا تھا ۔اس کے شکار کیے ہوئے جانوروں کا بھاری بوجھ اُٹھا کر اس کے گھر پہنچایا کرتا تھا۔شیر اس سے بہت خوش رہتا تھا جس کی وجہ سے سارے جانوروں پر اس کا رعب تھا۔لیکن ان جانوروں میں زرافہ ایسا تھا جو گدھے کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔اسے اپنی طویل…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا، وہ بہت مہربان تھا۔ ایک دن وہ اپنے کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا۔ کھیتوں کے راستے میں ایک کنواں پڑتا تھا، وہ بہت پرانا کنواں تھا۔ ایک دن اس نے کنویں سے کسی کی آواز سنی، کوئی مدد کے لئے پکار رہا تھا۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی یہ کنواں ایک جادوگر کے قبضے میں تھا۔ کسان نے سوچا کہ شاید جادوگر عورت کا روپ بدل کر مجھے پھنسانے کی کو شش کر رہا ہے ۔ جب یہ آواز مسلسل تین دن تک آتی رہی تو کسان نے ایک دن کنویں میں جھانک کر دیکھا تو یہ ایک خوبصورت پری تھی جو زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ اس پری نے کسان سے کہا کہ تم میری مدد کرو اور جب تک میں ان زنجیروں میں جکڑی رہوں گی تب تک میرا کوئی جادو نہیں…

Read more

پرانے زمانے کے لوگ واقعی بڑے سادہ ھوتے تھے۔ نہ موبائل، نہ کیلنڈر، نہ گوگل! 😄🥀 ھمارے گاؤں کے میاں جی تاریخ معلوم کرنے کا بڑا انوکھا طریقہ رکھتے تھے۔ ہر رات چاند دیکھتے اور اپنے حجرے میں رکھے ایک لوٹے میں بکری کی ایک مینگنی ڈال دیتے۔ 🐐 جب کوئی تاریخ پوچھنے آتا تو میاں جی لوٹا الٹتے، مینگنیاں گنتے اور پورے اعتماد سے تاریخ بتا دیتے۔ 😎 ایک رات میاں جی کی بکری نہ جانے کیسے حجرے میں گھس گئی اور لوٹے کے اوپر ھی “خدمت” انجام دے گئی۔ 😂 اگلے دن ایک آدمی تاریخ پوچھنے آ گیا۔ میاں جی حجرے میں گئے، لوٹا الٹا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! 😳 لوٹا تو اوپر تک بھرا ھوا تھا! اب کیا کرتے؟بیٹھ گئے مینگنیاں گننے… 😅 آدھا گھنٹہ گزر گیا…پھر ایک گھنٹہ…😕 آخرکار پسینے میں شرابور باہر نکلے۔ 😓 آدمی نے بے صبری سے پوچھا: “میاں جی!…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کھیتوں میں کام کررہا تھا اسے پاس سے ایک نیولے کا بچہ ملا جو بالکل چھوٹا سا تھا۔اس کی ماں مردہ حالت میں اس کے پاس ہی پڑی تھی ۔کسان کو نیولے کے بچے پر بہت ترس آیا اور وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا، اپنی بیوی کو بلایا اور سارا قصہ سنایا۔کسان کی بیوی کہنے لگی ہم اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ہماراایک بچہ ہے جو بہت چھوٹا ہے اوریہ جنگلی جانور ہے کل کو یہ بڑا ہو گا اور ہمارے بچے کو نقصان پہنچائے گا کسان نے کہا ابھی یہ چھوٹا سا بچہ ہے جیسے جیسے یہ بڑا ہو گا اسے ہماری اور ہمارے بچے کی پہچان ہو جائے گی اور وہ اسے اپنا بھائی سمجھے گا اور اپنے بھائی کا کوئی نقصان نہیں کرتا تم اسے اپنے بچے کی طرح پالنا یہ ہمیں کوئی نقصان نہیں دے گا…

Read more

El carácter severo del Maestro Akbar Ali era famoso en el pueblo. A pesar de ello, los padres estaban contentos de que sus hijos estudiaran con él. Era un maestro capaz y responsable. Nunca descuidaba su trabajo. Los niños que estudiaron con él ahora ocupan puestos importantes y de alto nivel. El Maestro Akbar Ali también estaba orgulloso de sus alumnos. El Maestro Akbar Ali siempre llevaba una gorra Jinnah. La razón era que tenía poco pelo en la cabeza. Se veía obligado a usarla para ocultar su calvicie. Los niños le temían por su audacia. Existía la posibilidad de que alguien hiciera ruido en clase o que alguien hablara delante de ellos. Si se oía alguna voz en clase, era solo la del Maestro Akbar Ali. Hoy, el Maestro Akbar Ali había ido a la escuela sin desayunar. Su esposa le había enviado el desayuno a algún niño. Siempre…

Read more

Yasir, Adil, Fahad y Omar eran cuatro amigos. Les encantaba la aventura. Un día, Fahad oyó que había un valle misterioso muy lejos del pueblo. Quien fuera allí, jamás regresaría. Les contó la noticia a sus amigos, así que decidieron ir allí de noche, a escondidas de sus familias. Por la noche, los cuatro amigos tomaron un mapa y partieron en secreto. Atravesaron una zona muy rocosa. Cuando llegaron, ya era tarde y tenían mucha hambre. Montaron su tienda a la orilla del lago y encendieron una fogata para cocinar. Los cuatro amigos se alegraron cuando un perro se acercó y empezó a lamer a Fahad. Todos se sorprendieron de que un perro hubiera salido de una zona tan rocosa. Todos adoraban al perro, pero de repente sus ojos se volvieron rojos y creció muchísimo. Se transformó en un monstruo negro y gritó: “¡Fuera de aquí!”. Los amigos estaban muy…

Read more

El lobo que vino a beber agua del río. Otro lobo también bebía agua a cierta distancia. El niño apenas había dado unos sorbos cuando el lobo se acercó y le dijo: “¿Por qué ensucias el agua? ¿Acaso no ves que estoy bebiendo?”. El cordero, también llamado cordero, dijo asustado: “Señor, el agua viene hacia mí desde usted”. El lobo rugió y dijo: “¿Por qué me llamaste malo el año pasado? El año pasado, señor, ni siquiera había nacido. Solo tengo seis meses”. “Entonces él será tu hermano o tu padre”, dijo el lobo, y atacó al cordero y se lo comió. ¡Pero niños! Esta historia no trata sobre ese cordero, sino sobre su hermano menor. A menudo le preguntaba a su madre por su hermano mayor, y su madre le contaba esta historia, recalcándole al mismo tiempo que no debía ir al río a beber agua. “Entonces, ¿dónde voy…

Read more

Hace varios siglos, una familia de ratones vivía en una pequeña madriguera. Los ratones no podían salir de ella durante el día ni buscar comida, así que pasaban hambre todo el día. La razón era que el gato podía verlos y cazarlos fácilmente. Incluso cuando salían de noche, siempre lo hacían a escondidas. El miedo al gato pendía sobre sus cabezas como una espada. Por mucho cuidado que tuvieran, el gato se acercaba sigilosamente sin que se dieran cuenta, y uno de sus compañeros se convertía en su almuerzo o cena. Durante mucho tiempo vivieron con miedo; cada día, sus compañeros eran presa del gato. Finalmente, una noche, el viejo ratón convocó una reunión a la que asistieron todos los ratones, grandes y pequeños. El viejo ratón dijo con lágrimas en los ojos: “¡Amigos míos! ¿Vale la pena vivir con miedo? ¿Qué clase de vida es esta, en la que…

Read more

El verdadero nombre de Peto Mian era Junaid, pero su madre lo llamaba cariñosamente Joji, y el resto de la familia lo llamaba Peto Mian. Peto también hacía ruido incluso después de comer. “Tengo hambre”. Mamá le ponía diferentes cosas delante, pero él decía obstinadamente: “Comeré paratha de azúcar”. Después de comer, Petu Mian se sentía hinchado y lleno. A menudo llevaba galletas robadas en el bolsillo. A veces comía kulfi y malai wali. Si pasaba un vendedor de papad de mango, lo llamaba y luego, después de comer todo, iba a la cocina y decía: “Mamá, tengo mucha hambre. Solo haz un paratha de azúcar, ¿vale?”. Lo gracioso era que también comía paratha de azúcar con azúcar. Petu Mian tenía trece años. Estaba en octavo grado. Solía ir a la escuela desde casa y en lugar de ir a la escuela dos veces por semana, se levantaba en el…

Read more

En algún lugar, un cuervo había construido su pequeño nido. Allí pasaba la noche, preparaba su comida y bebida durante el día, recogía granos de distintos lugares, comía allí y se iba a dormir. Un día, para saciar su sed, el cuervo llegó a un lugar con abundante agua y algo de carne alrededor. El cuervo metió el pico en el agua para calmar su sed, pero un fuerte golpe le dio en la boca. El golpe provino de un águila que ya estaba en el agua, bebiendo. Tan pronto como el águila golpeó al cuervo, este comenzó a ver estrellas en pleno día, perdió el equilibrio y cayó al agua. El águila le hizo sufrir tanto al cuervo que lo recordaría por el resto de su vida. El cuervo le dijo al águila: «¡Oh, águila! Déjame en paz, no soy más fuerte que tú; eres más grande y más…

Read more

440/3961
NZ's Corner