La desgracia del cuervo
En algún lugar, un cuervo había construido su pequeño nido. Allí pasaba la noche, preparaba su comida y bebida durante el día, recogía granos de distintos lugares, comía allí y se iba a dormir. Un día, para saciar su sed, el cuervo llegó a un lugar con abundante agua y algo de carne alrededor. El cuervo metió el pico en el agua para calmar su sed, pero un fuerte golpe le dio en la boca. El golpe provino de un águila que ya estaba en el agua, bebiendo. Tan pronto como el águila golpeó al cuervo, este comenzó a ver estrellas en pleno día, perdió el equilibrio y cayó al agua. El águila le hizo sufrir tanto al cuervo que lo recordaría por el resto de su vida. El cuervo le dijo al águila: «¡Oh, águila! Déjame en paz, no soy más fuerte que tú; eres más grande y más…
Intitulado 😂
El señor Sorpresa y el señor Nariz eran vecinos y a menudo vivían juntos. Su amistad era muy antigua. Los aldeanos solían contar ejemplos de su amistad, pero había algo muy malo en que ambos amigos solían hablar sin pensar y no se retractaban de lo que decían. Una vez, el señor Sorpresa dijo: «He visto vacas voladoras, que vuelan como pájaros». Al oír esto, el señor Nariz respondió: «Y yo he visto martillos y clavos creciendo en los campos». Al oír esta respuesta, el señor Sorpresa se quedó boquiabierto. Un día, el señor Sorpresa y el señor Nariz iban al bosque a buscar leña. El señor Nariz preguntó: «¡Amigo! ¿Tienes un hacha nueva?». «¡Sí! Nueva». El señor Sorpresa dijo: «Nunca has visto un hacha así. No solo corta madera, sino también piedras». «No lo creo». El señor Nariz dijo: «Aun así, mi hacha no es la solución. Puede que…
Castigo por la avaricia
En un bosque vivían dos gatos. Uno era negro y el otro naranja. Ambos vivían felices juntos y jugaban a cazar. Compartían la comida que encontraban. Cuando el gato negro cazaba, llamaba al gato naranja, y cuando este encontraba presa, no comía solo. Ambos eran felices y alegres. Un día, la gata negra fue al pueblo. Entró en una casa y encontró pan con mantequilla clarificada (ghee). Nunca antes había comido pan con ghee, así que le encantó su aroma. También había perros en el pueblo y les tenía mucho miedo, así que en lugar de sentarse a comer, cogió el pan y corrió hacia el bosque. Pensó que ese pan con ghee estaba delicioso, así que se lo comería sola. En cuanto la gata negra entró en el bosque, el gato naranja corrió hacia ella. A ella también le gustaba el aroma del ghee. El gato naranja preguntó: “¿De…
El efecto de la compañía
Hace siglos, un rey gobernaba en Yemen. Era muy justo, bondadoso y atento con sus súbditos. Su ministro era muy sabio e inteligente. Le daba buenos consejos que resultaban muy beneficiosos para su pueblo. El ministro, que había sido ministro del padre del rey, se encontraba muy débil. Un día, le dijo al rey: «Mi salud no me lo permite; debería nombrar a un ministro joven e inteligente». Pero el rey no estaba preparado para ello. El rey dijo: «Honorable ministro, en su presencia, no se puede pensar en ningún primer ministro. No encontrará un ministro tan sabio e inteligente como usted». «Majestad, quiero nombrar a un buen ministro inteligente. Anúncielo a los súbditos. Los pondré a prueba y nombraré al más apto como ministro». Así que el rey anunció que necesitaba un ministro joven e inteligente. Decenas de personas de todo el país llegaron a la corte. El ministro…
Cincuenta Cincuenta
Chirag Din era un campesino. Era sencillo y trabajador. Trabajaba día y noche. Sembraba, regaba y cultivaba verduras. Las vendía para mantener a su familia. Llevaba una vida tranquila y apacible. Un día, Chirag Din estaba en su campo cuando un oso grande, gordo y aterrador lo amenazó. Al verlo, Chirag Din retrocedió y quiso huir, pero el oso lo atrapó y le dijo: «Nadie puede escapar de mí. No dejaré a nadie sin devorar». Indefenso, Chirag Din se asustó. La angustia lo abrumó, pero se controló. Recuperó la compostura y le dijo al oso con gran humildad: «¡Querido hermano! Tienes razón.Tú eres fuerte, yo soy débil. ¿Cómo puedo competir contigo? Haz lo que quieras, pero si me lo permites, ¿puedo decirte una cosa?».El oso miró fijamente a Chirag Din y luego dijo: «Dilo bien».Chiragh Din dijo: «Soy tu comida por un día, pero si me dejas, estoy dispuesto a…
چالاک لومڑی
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک شیر اور ایک لومڑی رہا کرتے تھے۔جنگل کے تمام جانور اُن سے بہت پریشان تھے۔کیونکہ وہ دونوں ہی چوریاں کیا کرتے تھے۔ایک دن دونوں نے ایک گھر میں چوری کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک بندر کا گھر تھا۔وہ دونوں سیدھے باورچی خانے میں پہنچے،وہاں انہوں نے لکڑیوں پہ رکھا ہوا ایک پتیلا دیکھا جس میں سوپ پکا رکھا تھا۔اُن دونوں نے سوچا کہ موقع اچھا ہے،گھر پر کوئی نہیں ہے،پہلے تو شیر نے اچھی طرح سے خوب سوپ پیا،جب سیر ہو گیا تو لومڑی بولی کہ میں اسے ختم کر دوں گی۔یہ کہتے ہوئے اُس نے جیسے ہی اپنا منہ پتیلے میں ڈالا اُس کا سر پتیلے میں پھنس گیا۔اُس نے شیر سے کہا میری مدد کرو،مجھے یہاں سے نکالو۔ اندھیرے میں شیر کو کچھ سمجھ نہ آیا اور وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ایسے میں اُسے محسوس…
فرض اور عادت
ایک بار ایک سادھو ندی میں نہارہے تھے۔ تب ہی اچانک انھیں ایک بچھوکک پانی میں بہتا ہوا دکھائی دیا۔ انھوں نے جھٹ سے اسے اپنی ہتھیلی پر اٹھایا اور کنارے پر رکھ دیا۔ لیکن جیسا کہ بچھووں کی عادت ہوتی ہے۔ اس بچھو نے سادھو کو ڈنک ماردیا۔ سادھو نے اس کی پروا نہیں کی۔ اور وہ پھر سے نہانے میں مصروف ہوگئے۔ دوبارہ بچھو کو پانی کی لہریں بہاکر ندی میں لے آئیں۔یہ دیکھ کر سادھو نے اسے ہتھیلی پر اٹھا کر ھر کنارے رکھ دیا۔ اس بار بھی بچھو نے اس کی جان بچانے والے سادھو کو ڈنک مار دیا۔ بار بار یہی ہوتا رہا۔ بچھو بار بار پانی کے ساتھ بہہ کر آتا اور سادھو بار بار اس کی حفاظت کرتے اور اس کی جان بچاتے۔ لیکن بچھو کے ڈنک مارنے پر انھیں افسوس ہوتا۔اسی ندی میں ایک نوجوان بھی نہا رہا تھا جو کہ یہ…
لالچ کبھی خوشی نہیں دیتا، جبکہ محنت، ایمانداری اور دوسروں کی مدد کرنے سے دل بھی خوش رہتا ہے
ایک گھنے جنگل میں ننھی گلہری “گُڑیا” رہتی تھی۔ اسے مزیدار اخروٹ بہت پسند تھے، لیکن اس میں ایک بری عادت تھی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کا کھانا بھی اپنے پاس جمع کر لیتی تھی۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹی سی چڑیا “چنو” رہتی تھی۔ وہ ہر روز محنت سے دانے جمع کرتی اور ضرورت مند پرندوں کے ساتھ بانٹ دیتی۔ ایک دن جنگل میں زور کی بارش ہوئی۔ گُڑیا نے بہت سارے اخروٹ تو جمع کر لیے تھے، مگر انہیں ایک کمزور درخت کے نیچے چھپا دیا تھا۔ بارش کے بعد پانی آیا اور اس کے سارے اخروٹ بہہ گئے۔ گُڑیا بہت اداس ہو کر رونے لگی۔ چنو نے اسے دیکھا تو اپنے جمع کیے ہوئے دانوں میں سے کچھ اسے دے دیے۔ گُڑیا نے حیران ہو کر پوچھا، “میں نے تو کبھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، پھر بھی تم نے میری مدد کیوں کی؟” چنو مسکرا کر…
چیتا، لومڑی اور کسان –
ایک دن دو شکاریوں نے چیتے کو دیکھا۔وہ اس کا پیچھا کرنے لگے۔چیتا ان سے جان بچا کر بھاگ گیا، لیکن شکاری جوان اور طاقتور تھے۔وہ بہت تیز دوڑتے تھے۔چیتے نے سوچا:”شکاری مجھے پکڑ کر مار ڈالیں گے! میں کیا کر سکتا ہوں؟“ پھر بہت دور، اس نے کچھ موسیقی کی آواز سنی۔ایک کسان اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا اور یہ گیت گنگنا رہا تھا:”میں اپنے کھیت میں ہل چلاتا ہوں اور میں اپنا اناج بوتا ہوں اور میں بادلوں کو دیکھتا ہوں، جنھیں میں بارش لاتے دیکھتا ہوں۔“چیتا بھاگ کر کسان کے پاس پہنچا۔چیتے نے کہا:”براہِ کرم میری مدد کریں! شکاری میرا پیچھا کر رہے ہیں، وہ مجھے پکڑ کر مارنا چاہتے ہیں۔“کسان کو چیتے پر ترس آ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ میری اناج کی کوٹھری میں چھپ سکتے ہیں۔چنانچہ چیتا چھلانگ لگا کر کسان کے اناج کی کوٹھری میں گھس گیا۔وہ بہت خاموشی سے…
جھوٹ کی سزا –
یہ ضرور کسی ڈائن کاکام ہے ۔ جنگل کے اوجھا نامی لکڑ بھگّے نے آنکھیں گول گول گھما کر کہا۔’’یہ جو آج کل ایک کے بعد ایک بچّے مرتے جارہے ہیں ، ضرور اس میں اُسی کا ہاتھ ہے وہ ڈائن ہے ۔ اب اُس کی نظر تیرے بچّے پر ہے۔‘‘’’ تو ہمارا کیا ہوگا؟ ‘‘براؤنی بھالو لگا رونے ۔’’ہمارے دو بچّے ہوئے ایک تو پہلے ہی خدا کو پیارا ہوگیا۔ خدا جانے اسے کون سی بیماری لگی ہے۔ ‘‘بنٹی لومڑی مانو سسکنے لگی :’’ بابا! کہیں یہ اُس سنہری ہرن کے کرتوت تو نہیں؟ اتنے بڑے کھیت اور کٹیا کی اکیلی مالکن بنی بیٹھی ہے۔‘‘سنہری ہرن تھی تو اکیلی اس کا کوئی بھی نہ تھا مگر کھیتوں پر راج تھا تو اسی کا ۔ جیسے ہی بنٹی لومڑی نے ہرن کی بات کی، تو مانو اوجھالکڑ بھگّا اسی موقع کی تلاش میں تھا ۔ اس نے کہا :’’ ارے…
کوؤں کا احتجاج –
ایک قصاب کی دکان پر بہت کوے آتے تھے۔اور اپنی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے جھپٹ کر گوشت کا ٹکڑا اُڑا لے جاتے۔قصاب کوؤں کی اس حرکت سے سخت اکتا گیا تھا۔اور اس کا حل یہ سوچا کہ ایک کوا مار کر لٹکا دیا جائے تاکہ باقی کوے اس کی موت سے عبرت لیں کہ یہاں خطرہ ہے۔اور یہاں نہ آئیں۔قصاب نے اس سوچ پر عمل کیا اور مرا کوا لٹکا کر اطمینان سے کام کرنے لگا۔تھوڑی دیر ہوئی کہ پوری فضا کوؤں کی کاں کاں سے گونجنے لگی۔اتنی تعداد میں کوے اور اس قدر شور کہ ہر شخص اس منظر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ایک کوا قصاب پر جھپٹے تو دوسرا گوشت پر، ایک مرے ہوئے کوے پر تو دوسرا پھر قصاب پر۔کوؤں کی تعداد اور شور مزید بڑھ گیا۔قصاب اس ساری صورتحال میں سخت مضطرب ہوا۔اور مرے ہوئے کوے کی رسی کھولی اور دور پھینک دیا۔کچھ کوے مرے…
خالی گھر –
نعمان تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا جا رہا تھا۔اب وہ کیا کرے۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔مجرم اس کے تعاقب میں تھے۔وہ ہر صورت میں نعمان سے رقم چھین لینا چاہتے تھے۔اس کی جیب میں موجود رقم اس کی اپنی نہیں تھی۔نعمان کے دفتر کے ساتھی ریاض کی طبیعت خراب تھی۔یہ رقم اسے پہنچانے کو دفتر کے باس امتیاز صاحب نے دی تھی، تاکہ وہ اس رقم سے اپنا علاج کرا لے۔بس میں اس کی پینٹ کی پھولی جیب دیکھ کر دونوں مجرموں نے بھانپ لیا کہ اس کے پاس خاصی رقم ہے، اس لئے انھوں نے اس سے رقم حاصل کرنے کو بس سے اُتر کر رقم چھین لینے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔نعمان جیسے ہی بس سے اُترا، ڈکیت بھی تیر کی طرح اس کی جانب لپکے۔نعمان نے ان کی باتوں کا جواب دینے کی بجائے دوڑ لگا دی۔ وہ بھی اس کے تعاقب میں دوڑے۔نعمان…
قدرت کا نظام –
جنگل میں آج ایک غیر معمولی اجلاس جاری تھا۔جنگل میں موجود دوشیروں کو جنگل بدر کرنے کی قرار داد پیش کی جارہی تھی۔راجا ہاتھی اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے حالات کا بغورجائزہ لے رہا تھا اور بڑے بڑے کانوں سے بہت توجہ سے سب کی بات سن رہا تھا ۔سب جانور اس بات پر متفق تھے کہ ان شیروں کو علاقے سے نکال دیا جائے ،جن کی وجہ سے جنگل کا سکون غارت ہوکررہ گیا تھا ۔ جانور ٹھیک سے کھاسکتے تھے ،نہ آرام سے پانی پینے پی سکتے تھے ۔پل بھر کے لیے غافل ہوئے اور شیران کی گردن دبوچنے کو آموجود ہوتے ہیں ۔اس تحریک نے تب زور پکڑا،جب شیروں کا تیسرا ساتھی بھینسوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا۔اسی وقت سے شیروں کے حوصلے بہت پست ہوگئے تھے ۔لنگڑ ابارہ سنگھار جو شیروں کے لیے ایک آسان شکار ثابت ہوسکتا تھا،اس نے یہ بھانپ لیا تھا۔…
فرشتہ
روس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، برف سے ڈھکی ہوئی ایک سخت سرد دنیا کے بیچ، ایک نہایت غریب مگر محنتی جوتا ساز، سیمیون، اپنی بیوی مترونا اور ننھے بچوں کے ساتھ ایک بوسیدہ، تنگ و تاریک کرائے کے کمرے میں زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ مویشی، نہ کوئی جمع پونجی۔ اس کی کل دولت اس کے محنت کش ہاتھ، چند اوزار اور اپنے پیشے سے وابستہ عزت تھی۔ دن بھر جوتے سی کر جو چند سکے ملتے، انہی سے چولہا جلتا، اور کئی راتیں ایسی بھی آتیں جب بچوں کو آدھی روٹی پر ہی سونا پڑتا۔ سردیوں کی ایک بےحد یخ بستہ شام، جب برفانی ہوا ہڈیوں تک اتر رہی تھی، سیمیون کے پاس اتنی ہی رقم تھی کہ یا تو وہ اپنے پرانے، جگہ جگہ سے پھٹے کوٹ کے لیے نیا چمڑا خرید لیتا، یا پھر گھر کے لیے چند دن…
گڈ لک –
ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔اس جنگل کا بادشاہ شیر کافی بوڑھا اور عقل مند تھا جس کی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ان سب کی آپس میں اچھی دوستی تھی۔وہ فارغ وقت میں خوب گپ شپ کرتے تھے۔لومڑی اور بھیڑیا بچپن کے دوست تھے۔وہ دونوں جب بھی ملتے تو خوب گھل مل کر باتیں کرتے۔ ایک دن دونوں کی راہ چلتے ملاقات ہوئی تو بھیڑیے نے کہا ”بی لومڑی!اب جنگل میں شکار کم ہوتا جا رہا ہے۔انسان نے اس جنگل کے جانوروں کا شکار کرکے ہم جانوروں پر بڑا ظلم کیا ہے۔اب تو جنگل کے اردگرد بھی بھیڑیں بہت کم ہو گئی ہیں۔میں تو کھانے کو ترس گیا ہوں،کہیں بھی شکار نہیں ملتا۔“”اگر عقل ہو تو اس جنگل میں شکار بہت ہے“ بی لومڑی نے مکاری سے کہا ”بی لومڑی!اب تو جانور بھی بہت ہوشیار ہو گئے ہیں۔انسان کو دیکھ کر چھپ…
تین بہرے اور ایک گونگا –
کسی گاؤں میں ایک غریب چرواہارہتا تھا وہ روزانہ چندبکریوں کو لے کر قریب پہاڑی پر چلا جاتا جہاں بکریاں چرتی رہتی تھیں۔ چرواہا بہرا تھا مگر اس سے اس کے کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی بیوی اسے کھانادینا بھول گئی اور پھر بچے کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا ہے۔ چرواہے نے سوچا میں گھر جا کر کھانا لے آؤں دن بھر بھوکے رہنا میرے لیے دشوار ہوگا۔اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک گھسیارا ( گھاس کاٹنے والا) پہاڑ کے کنارے گھاس کاٹ رہا ہے۔ چرواہا اس کے پاس گیا اور کہا بھائی تم ذرا میری بکریوں کا خیال رکھنا میں گاؤں جاکر کھانا لے آؤں۔ میری بیوی آج کھانا دینا بھول گئی ہے اتفاق سے گھسیارا ببی بہراتھاو ہ ایک لفظ بھی نہ سن سکا بلکہ اور الٹا غلط سمجھا۔ وہ بولا میں تم کو اپنی گھاس کیوں دوں…
نیکی کا صلہ
پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاید تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاید نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاید کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاید خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے…
بلاعنوان
😄 عقل کی بات ایک آدمی بس میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ساتھ بیٹھے بچے نے پوچھا:“انکل! آپ روز اخبار پڑھتے ہیں؟” آدمی نے فخر سے کہا:“ہاں بیٹا، تاکہ دنیا بھر کی خبریں معلوم رہیں۔” بچہ معصومیت سے بولا:“پھر تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ میری امی نے کہا ہے، واپسی پر آدھا کلو چینی لیتے آئیے!” بس میں بیٹھے سب لوگ ہنس پڑے، اور وہ آدمی بھی اخبار بند کرکے مسکرا دیا۔ مسکراہٹ بانٹنے سے کبھی کم نہیں ہوتی۔ 😊 😂 خاموشی کی قیمت ایک شخص نے دکان پر جا کر پوچھا:“بھائی، سب سے سستی چیز کیا ہے؟” دکاندار نے مسکرا کر کہا:“مشورہ!” وہ بولا:“اور سب سے مہنگی؟” دکاندار نے جواب دیا:“اسی مشورے پر عمل کرنا!” — 😂 ۔ وقت کی پابندی ایک صاحب ہمیشہ دفتر دیر سے پہنچتے تھے۔ ایک دن افسر نے غصے سے پوچھا:“آخر روز دیر کیوں ہوتی ہے؟” وہ بولے:“سر! آپ ہی…
بلاعنوان
کافی پرانی بات ہے، میں بہت چھوٹی تھی، لیکن اتنا ہے کہ یادداشت میں چیز محفوظ ہے۔میرے دادا کی سب سے بڑی بہن جو تھیں، اُن کے گھر سے خبر آئی، مطلب اُن کے ایریا سے کسی نے کال کرکے میرے دادا کو بتایا کہ اُن کی بہن حمیدہ باجی کا نا انتقال ہوگیا ہے۔، پورے محلے میں خبر پھیل گئی۔ کیونکہ ایک ہی گھر، محلے کے اندر، تمام جتنے بھی میرے دادا کے بہن بھائی، سب اُسی ایریا میں رہتے تھے۔ مطلب ایسا لگتا تھا ہر گلی کے اندر چار چار گھر تو ہمارے اپنے ہیں۔ کیونکہ سب جو بچے بھی بڑے ہوگئے تھے، سب کے الگ الگ گھر تھے۔جب دادا کو خبر پتہ چلی، تو دادا اپنے بڑے بھائی کے گھر گئے، سب لوگ اکٹھے ہوئے، اور بس بک کرکے اُن کے گھر پہنچے۔جب وہاں پہنچے تو دیکھاجو ہمارے دادا کی بہن ہماری دادی پودوں کو پانی دے…
بلاعنوان
جنگل میں ایک لومڑی کئی مہینوں سے بے روزگار پھر رہی تھی۔ صبح نوکری کی تلاش میں نکلتی اور شام کو مایوسی کو کندھوں پر لادے واپس لوٹ آتی۔ آخر ایک دن اسے خبر ملی کہ جنگل کے امیر ترین میاں بیوی، ریچھ اور ریچھنی، کے گھر ایک ملازم کی جگہ خالی ہوئی ہے۔خبر سن کر لومڑی کی آنکھیں تو چمک اٹھیں، مگر اگلے ہی لمحے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔کیونکہ یہ وہی ریچھ میاں بیوی تھے جن کا نام سنتے ہی جنگل کے طاقتور بیل بھی راستہ بدل لیتے تھے۔ ان کے بارے میں پورے جنگل میں مشہور تھا:“جو جانور ایک بار ان کے ہاں ملازم بن گیا، وہ ایک سال بعد ملازم کم اور پرانا فرنیچر زیادہ لگتا تھا۔” وہ صبح ایک کام کہتے اور شام تک دس نئے کام اس کے ساتھ باندھ دیتے۔“پہلے پانی بھر دو، اچھا جاتے جاتے لکڑیاں بھی لے آنا، بچوں کو بھی…