Tag Archives: ،urdublogs

کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت شیخ جنید بغدادیؒ بغداد سے باہر سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ ان کے مرید بھی ساتھ تھے۔ راستے میں شیخ نے پوچھا: “بہلول کہاں ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔” مریدوں نے عرض کیا:“حضرت! وہ تو ایک پاگل شخص ہے، آپ کو اس سے کیا کام؟” شیخ نے فرمایا:“مجھے اسی سے کام ہے، اسے تلاش کرکے لاؤ۔” لوگوں نے بہلولؒ کو تلاش کیا تو وہ ایک صحرا میں سر کے نیچے اینٹ رکھے، اللہ کی یاد میں گم بیٹھے تھے۔ شیخ جنیدؒ نے سلام کیا۔ بہلولؒ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: “تم کون ہو؟” انہوں نے فرمایا:“میں جنید بغدادی ہوں۔” بہلولؒ نے پوچھا:“کیا تم وہی شیخ جنید ہو جو لوگوں کو روحانی تعلیم دیتے ہو؟” شیخ نے جواب دیا:“جی ہاں۔” بہلولؒ نے اگلا سوال کیا:“کیا تم کھانا کھانے کا صحیح طریقہ جانتے ہو؟” شیخ جنیدؒ نے کھانے کے تمام ظاہری آداب بیان…

Read more

ایک ساحلی شہر میں، جہاں صبح کی پہلی کرن سمندر کی لہروں پر سنہری چادر بچھا دیتی تھی اور شام ڈھلے افق یوں سرخ ہو جاتا تھا جیسے کسی مصور نے آسمان پر سرخ رنگ بکھیر دیا ہو، وہیں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ مٹی کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ باغ، نہ مویشی، نہ سونا چاندی۔ اگر اس کے پاس کچھ تھا تو صرف ایک پرانی کشتی، برسوں پرانا جال اور دو مضبوط بازو، جن کے سہارے وہ ہر صبح رزق کی تلاش میں سمندر کا رخ کرتا۔رزق کا واحد ذریعہ دریا تھا۔ جو مچھلی ہاتھ آتی، وہی بیچ کر دونوں کا چولہا جلتا۔ایک صبح قسمت نے عجیب کروٹ لی۔جال پانی سے کھینچا تو اس میں ایک ایسی نایاب مچھلی تھی جس کا جسم چاندی کی طرح چمک رہا تھا، اس کے پر سنہری تھے اور اس…

Read more

ایک برفانی گاؤں میں ایک غریب بڑھئی نے ایک زخمی سارس کو شکاری کے جال سے آزاد کروایا۔ کچھ دن بعد ایک برفانی رات میں ایک پراسرار عورت اس کے دروازے پر پناہ مانگنے آئی۔ بڑھئی نے اسے اندر بلایا، رفتہ رفتہ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ عورت نے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک قیمتی کپڑا بُنے گی، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ بُنائی کے دوران کبھی کمرے میں نہ جھانکے۔ بڑھئی نے وعدہ کیا۔ عورت نے ایک نہایت خوبصورت، چاندی جیسا چمکتا کپڑا بُن کر دیا جسے بیچ کر ان کی غربت دور ہونے لگی۔یہ سلسلہ دو بار مزید چلا، مگر ہر بار عورت پہلے سے زیادہ کمزور ہوتی گئی۔ بڑھئی، لالچ اور تجسس میں گھر کر، تیسری بار خود کو روک نہ سکا اور دبے پاؤں کمرے میں جھانک لیا۔ اندر عورت نہیں بلکہ وہی سارس تھا، جو اپنے ہی جسم سے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک شیخ صاحب رہتے تھے۔ شکل سے بڑے معصوم مگر باتوں میں خاصے چالاک تھے۔ ایک دن انہوں نے ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا اور دل ہی دل میں پسند کر بیٹھے۔ اگلے ہی دن ہمت کرکے اس کے گھر جا پہنچے۔ شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” لڑکی نے حیران ہو کر پوچھا:“آخر تم میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں؟” شیخ صاحب نے بڑے فخر سے جواب دیا:“میرے ابا گاؤں کے سب سے بڑے آدمی ہیں!” یہ سن کر لڑکی سوچنے لگی کہ یقیناً اس کے والد کوئی بہت بڑے زمیندار یا بااثر شخص ہوں گے۔ متاثر ہو کر اس نے رشتے کے لیے ہامی بھر لی۔ چند دن بعد شادی دھوم دھام سے ہو گئی۔ جب لڑکی پہلی بار سسرال پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک نہایت بوڑھے بابا جی لاٹھی…

Read more

ایک دن ایک سوداگر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دو نہایت خوبصورت موتی پیش کیے۔ دونوں موتی سائز، رنگت اور چمک میں اس قدر یکساں تھے کہ انہیں دیکھ کر فرق کرنا ناممکن لگتا تھا۔ سوداگر نے کہا: “عالی جاہ! ان دو موتیوں میں سے ایک اصلی ہے اور دوسرا نہایت مہارت سے بنایا گیا نقلی موتی۔ اگر آپ کے درباری اصل اور نقل کی پہچان کر لیں تو یہ دونوں موتی میں بطور تحفہ پیش کر دوں گا، لیکن اگر کوئی پہچان نہ سکا تو آپ کو ان کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔” بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں، دانشوروں اور درباریوں کو بلایا۔ سب نے موتیوں کو غور سے دیکھا، الٹ پلٹ کر جانچا، مگر کوئی بھی یقین سے نہ بتا سکا کہ اصل کون سا ہے اور نقلی کون سا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ پریشان تھا کہ اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو…

Read more

ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔ بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔ پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی…

Read more

ایک غریب عورت ایک نیک عالمِ دین کے پاس آئی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “حضرت! میرا بچہ ہر رات بھوک سے روتا ہے۔ میرے لیے دعا کر دیں، اب یہ منظر مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔” عالمِ دین نے خاموشی سے ایک کاغذ پر چند الفاظ لکھے، اسے تہہ کیا اور عورت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: “اسے سنبھال کر رکھنا، اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا۔” اگلی صبح جب دروازہ کھلا تو وہاں روپوں سے بھرا ایک تھیلا پڑا تھا۔ آج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون رکھ گیا تھا۔ عورت اور اس کے شوہر نے اس رقم کو امانت سمجھ کر ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر لی۔ وہ دن رات محنت کرتے، ایمانداری سے کاروبار کرتے اور ہر قدم پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ کاروبار بڑھنے لگا۔ ایک دکان دو بنی، دو سے چار، اور دیکھتے…

Read more

ایک قصبے میں ہر سال لکڑیاں کاٹنے کا مقابلہ ہوتا تھا۔ مقابلے کا سادہ سا اصول یہ تھا کہ جو دن کے آخر میں سب سے زیادہ لکڑیاں کاٹے گا وہی فاتح ہوگا۔ اس سال فائنل میں صرف دو لوگ پہنچے ۔ ایک بوڑھا اور تجربہ کار لکڑہارا ،اور دوسرا ایک مضبوط نوجوان۔ نوجوان بڑا پُر جوش تھا ۔ مقابلہ شروع ہوتے ہی وہ جنگل میں چلا گیا اور فوراً لکڑیاں کاٹنے لگا۔ بوڑھا لکڑہارا جنگل کی دوسری سمت میں گیا اور سکون سے اپنا کام شروع کر دیا۔ مقابلے کے دوران نوجوان لکڑہارے کو محسوس ہوا کہ جنگل کے دوسری طرف وقفے وقفے سے بوڑھے آدمی کے لکڑیاں کاٹنے کی آوازیں بند ہو جاتی ہیں۔ نوجوان نے اندازہ لگایا کہ بوڑھا لکڑہارا اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آرام کر رہا تھا۔ نوجوان نے اس موقع کو غنیمت جانا اور زیادہ تیزی سے لکڑیاں…

Read more

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی شہر میں امانت نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ  غلہ فروشی کا کام کرتا تھا اور شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے بازار میں  اس  کی غلّے کی  دکان تھی۔ اس  دکان میں  گندم، چاول،  گڑ، شکر، مکئی   اور دالیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی ایمانداری،  خوش اخلاقی اور غلے کے  مناسب داموں  کی وجہ سے لوگ دور دور سے اس سے سودا لینے آتے تھے۔ اس کی دکان میں  دو نو عمر  لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ ایک کا نام احسان تھا اور دوسرے کا مقصود۔ دونوں تقریباً ہم عمر ہی  تھے اور کوئی بارہ سال کے ہونگے۔ ان لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور دونوں کے باپ اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ امانت کے محلے میں ہی رہتے تھے۔ اسے ان کے گھر کے حالات کا علم تھا اس لیے اس نے انہیں اپنی دکان میں کام کرنے…

Read more

16 سالہ لڑکی کا ناجائزحمل گرانے والی دائی رحمتے نے کہا کہ“جب  گناہ حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو بارش نہیں ہوتی۔” صبح تڑکے رشوت خور دروغہ نے ڈھیر پہ پڑا مُردہ بچہ دیکھا تو اس نے بھی یہی بات دہرائی۔ یہی الفاظ حاجی صاحب سے فارغ ہو کر بَرا میں پیسے اُڑستی وَیشیا نے کہے اور بالکل یہی کچھ ایک فتویٰ فروش نے بھی فرمایا جس کے نزدیک حَلالہ کرنا، قِسطوں پہ مال بیچنا،  سرکاری اداروں میں رشوت دینا اور نوکری کے دوران بینوولنٹ فنڈ بالکل جائز تھا۔ دودھ میں پانی ملاتا گوالہ، خَشخاش میں ریت اور مِرچوں میں برادہ ملاتا تاجر، زکوٰۃ و صدقات ادا نہ کرنے والا صاحب حیثیت، سرکاری راستوں کو کاٹ کر زمین میں شامل کرنے والا عام زمیندار اور عُشر ادا نہ کرنے والا ہر چھوٹا بڑا کسان ہی اپنے اپنے گناہ یاد کرکے احساس ندامت سے مرا جا رہا تھا۔ “اس دنیا میں…

Read more

ایک خوبصورت سفید بکری کے سات بچے تھے۔بکری اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔اس کو ہر وقت ڈرلگا رہتا تھا کہ کسی دن بھیڑیا آکر اس کے بچوں کو نہ کھا جائے۔ ایک خوبصورت سفید بکری کے سات بچے تھے۔بکری اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔اس کو ہر وقت ڈرلگا رہتا تھا کہ کسی دن بھیڑیا آکر اس کے بچوں کو نہ کھا جائے۔ایک دن وہ جنگل میں کھانے کی چیزیں تلاش کرنے جانے لگی،تو اس نے اپنے ساتوں بچوں کو اپنے پاس بلایا۔بکری نے کہا”پیارے بچو!جب تک میں باہر رہوں۔اس بات کا خیال رکھنا کہ بھیڑیا تمہارے قریب نہ آنے پائے۔دروازے بند کرکے رکھنا اگر بھیڑیا اندر آگیا ،تو وہ تم سب کو کھاجائے گا،وہ تمہیں بھیس بدل کر دھوکا دے سکتاہے۔مگر تم اس کی کھردری آواز اور کالے پیروں سے پہچان لینا۔“بچوں نے جواب دیا”پیاری ماں!!فکر نہ کریں،ہم اپنی بہت اچھی طرح حفاظت کریں گے۔“بکری اپنے…

Read more

ایک دانا شخص بیان کرتا ہے کہ ہندوستان میں ایک ایسا درخت ہے جس کا پھل کھانے والا نہ کبھی بوڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی اسے موت آتی ہے۔ ایک بادشاہ نے یہ روایت سنی تو اسے سچ سمجھ بیٹھا اور اس نایاب درخت کو حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں جاگ اٹھی۔ اس نے اپنے ایک نہایت عقل مند وزیر کو حکم دیا کہ ہندوستان جا کر اس درخت کو تلاش کرے۔ وزیر نے برسوں تک شہر شہر، جنگل جنگل، پہاڑوں اور جزیروں کی خاک چھانی۔ وہ جس شخص سے اس درخت کا پتا پوچھتا، لوگ مسکرا دیتے یا اسے ناممکن بات قرار دیتے۔ مگر وہ ہمت نہ ہارتا اور اپنی تلاش جاری رکھتا رہا۔ بادشاہ بھی مسلسل اس کے سفر کے اخراجات بھیجتا رہا۔ کئی برس گزر گئے، لیکن نہ درخت ملا اور نہ اس کا کوئی نشان۔ آخرکار مسلسل ناکامی اور مشقت سے تھک…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں احمد اور محمد کے ساتھ رہتا تھا۔احمد بہت چالاک تھا جب کہ محمد معصوم اور کم عقل تھا۔کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک کمبل تھا۔بوڑھے کسان کے انتقال کے بعد بڑے بھائی احمد نے محمد سے کہا:”ہم یہ سب کچھ آدھا آدھا بانٹ لیتے ہیں۔دیکھو، اس گائے کا پچھلا حصہ میں لے لیتا ہوں اور اس کا اگلا حصہ تم لے لو۔محمد بے وقوف تھا، مان گیا۔پھر وہ چلے درخت کی طرف۔احمد نے چالاکی دکھاتے ہوئے محمد سے کہا:”ایسا کرتے ہیں کہ درخت کا نچلا حصہ تم لے لو اور اوپر والا حصہ میں لے لیتا ہوں۔“ محمد ہر بات پر راضی تھا مان گیا۔اب احمد نے کہا:”چلو! کمبل کو ہم آدھا تو کر نہیں سکتے تو ایسا کرتے ہیں کہ صبح کے وقت کمبل کو تم استعمال کرنا اور رات کے وقت میں لے لوں گا۔محمد…

Read more

Read more

او کام والی!آج کیاریوں کی صفائی کر دینا اچھے طریقے سے۔بیگم صاحبہ ثائمہ کو حکم دے کر کمرے میں چلی گئیں۔ثائمہ لفظ کام والی سن کر تڑپ کر رہ گئی تھی۔جانے کیوں اسے اس لفظ سے چڑ سی ہو گئی تھی۔یہ تم نے کیسی صفائی کی ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ صفائی کی ہی نہیں۔تنخواہ لینے کا پتہ ہے بس کام کرتی نہیں ڈھنگ سے۔بیگم شازیہ ادریس احمد ملازمہ پر برس رہی تھیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ان کی یہ روز کی عادت تھی۔جتنی دیر ملازمہ کام کرتی وہ اس کو مسلسل کچھ نہ کچھ کہتی رہتی۔ کبھی انہیں کسی ملازمہ کی صفائی پسند نہیں آئی تھی۔وہ ایک انتہائی دولت مند خاتون تھیں اور وہ غریبوں کو نیچ اور ذلیل خیال کرتی تھیں۔ارے یہ تو نے کیا کیا؟چارپائی ناپاک کر دی میری اُٹھا اپنے بچے کو۔ثائمہ ایک دم لرز کر رہ گئی۔اس کی آنکھوں میں اپنی کم مائیگی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیونٹی جو کے دانے جمع کرنے کے لئے ایک رستے سے گذر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر شہد کے ایک چھتے پر پڑی۔شہد کی خوشبو سے اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔چھتا ایک پتھر کے اوپر لگا تھا۔چیونٹی نے ہر چند کوشش کی کہ وہ پتھر کی دیوار سے اوپر چڑھ کر چھتے تک رسائی حاصل کرے مگر ناکام رہی کیونکہ اس کے پاؤں پھسل جاتے تھے اور وہ گر پڑتی تھی۔شہد کے لالچ نے اسے آواز لگانے پر مجبور کر دیا اور وہ فریاد کرنے لگی:”اے لوگو، مجھے شہد کی طلب ہے۔اگر کوئی جواں مرد مجھے شہد کے چھتے تک پہنچا دے تو میں اسے معاوضے کے طور پر ایک جو پیش کروں گی۔“ایک پردار چیونٹی ہوا میں اُڑ رہی تھی۔اس نے چیونٹی کی آواز سنی اور اسے تنبیہ کرنے لگی:”دیکھو، ایسا نہ ہو کہ چھتے کی طرف چل دو۔…

Read more

ایک آدمی نے شادی کے بیس سال گزرنے کے باوجود کبھی اپنی بیوی کے ہاتھ کے کھانے یا اس کی کسی بات کی تعریف نہیں کی۔ایک جمعہ وہ مسجد گیا۔ خطبے میں مولوی صاحب نے نصیحت کی:“بھائیو! اپنی بیوی کی اچھائیوں اور اس کے کھانے کی تعریف بھی کیا کریں۔ اس سے محبت بڑھتی ہے اور یہ بھی نیکی کا کام ہے۔”وہ شخص گھر آیا تو حسبِ معمول بیوی نے کھانا سامنے رکھ دیا۔ آج اس نے پہلا لقمہ لیا تو بے اختیار بولا:“👍سبحان اللہ! کیا ذائقہ ہے! واہ، آج تو مزہ ہی آ گیا!”پھر ہر دوسرے لقمے کے ساتھ تعریفوں کے پل باندھنے لگا۔بیوی چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ پھر اچانک باورچی خانے سے بیلنا اٹھایا اور دھڑام سے اس کے سر پر 😂😂😂😂دے مارا۔شوہر سر پکڑ کر بولا:“ارے بیگم! یہ کیا کر رہی ہو؟”بیوی غصے سے بولی:“بیس سال میں میرے ہاتھ کے کھانے کی کبھی تعریف…

Read more

بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے…

Read more

ایک نان بائی تھا وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا لوگ دور دور سے اس کے نان کلچے خریدنے آتے تھے کچھ لوگ اسے کھوٹے سکے دے کر چلے جاتے تھے جیسا کہ ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے وہ نان بائی ان سکوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اپنی پیسوں والی صندوقچی میں رکھ دیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا نہ آواز دے کر کہتا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے یا بےایمانی کی ہےبلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔ جب اس نان بائی کا        وقت قریب آیا تو اس نے اللّٰہ کو پکار کر کہااے اللّٰہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں گرم گرم اور صحت مند خوشبودار نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت کے کر آیا ہوں وہ اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک سرسبز جنگل میں ہرن رہتا تھا۔ وہ نہ سب سے طاقتور تھا، نہ سب سے تیز، مگر اس کی ایک خوبی ایسی تھی جس کی وجہ سے پورا جنگل اس کی عزت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی کسی کمزور یا بے بس جانور کو مصیبت میں دیکھتا، اس کی مدد کیے بغیر آگے نہ بڑھتا۔ ایک دن وہ جنگل کے ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک شور سنائی دیا۔ قریب جا کر دیکھا تو چند شرارتی بندروں نے ایک ننھے خرگوش کو پکڑا ہوا تھا۔ کوئی اس کے کان کھینچ رہا تھا، کوئی دم، اور کوئی اسے درخت سے درخت کی طرف اچھال کر ہنس رہا تھا۔ بیچارہ خرگوش خوف سے کانپ رہا تھا اور رہائی کے لیے تڑپ رہا تھا۔ ہرن سے یہ منظر دیکھا نہ گیا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور سخت آواز میں بولا، “شرم کرو! جس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر کے مصروف بازار میں ایک شخص کا گزر ہوا۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کی نظر ایک بہت بڑے ہجوم پر پڑی۔ لوگ دائرہ بنا کر کھڑے تھے، تالیاں بجا رہے تھے اور خوشی سے قہقہے لگا رہے تھے۔ تجسس میں وہ بھی آگے بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بندر نہایت خوبصورتی سے ناچ رہا ہے۔ کبھی قلابازی لگاتا، کبھی لوگوں کو سلام کرتا، کبھی ڈھول کی تھاپ پر ایسا رقص کرتا کہ حاضرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ لوگ خوش ہو کر مٹھی بھر بھر کر سکے اور نوٹ اس کے مالک کی چادر میں ڈال رہے تھے۔ وہ شخص کافی دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ اس کی نظریں بندر پر کم اور پیسوں پر زیادہ تھیں۔ واپسی پر اس کے دل میں ایک ہی خیال گردش کرتا رہا۔ “اگر ایک بندر ناچ…

Read more

320/470
NZ's Corner