سایۂ دعا
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کھجور کا درخت تھا۔ اس کے نیچے روز ایک شخص آ کر بیٹھتا، قرآن کی تلاوت کرتا اور خاموشی سے لوگوں کے لیے دعا مانگتا۔ وہ کسی سے اپنی نیکیوں کا ذکر نہ کرتا، نہ کسی سے بدلے کی امید رکھتا۔ گاؤں کے کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ “صرف دعا سے کیا ہوتا ہے؟ اگر واقعی نیک ہو تو لوگوں کو دکھائی بھی دے۔” وہ صرف مسکرا دیتا۔ ایک سال شدید خشک سالی آ گئی۔ کھیت سوکھ گئے، کنویں خشک ہونے لگے اور لوگوں کے دلوں میں مایوسی اترنے لگی۔ ہر شخص اپنی فکر میں تھا۔ اسی دوران گاؤں کا ایک نوجوان، جو ہمیشہ اس بوڑھے پر ہنسا کرتا تھا، سخت بیمار پڑ گیا۔ اس کے والدین ہر ممکن علاج کروا چکے مگر سکون نہ ملا۔ آخرکار وہ اسی بوڑھے کے پاس آئے۔ بوڑھے نے ان کی بات خاموشی سے سنی، پھر ہاتھ…
لومڑی اور جگنو
گھنے جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ وہ خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ طاقت اور چالاکی ہی زندگی میں کامیابی دلاتی ہیں۔ وہ اکثر چھوٹے جانوروں کا مذاق اڑاتی اور کہتی، “تم میں سے کسی کی کیا حیثیت؟ جنگل صرف طاقتوروں کا ہوتا ہے۔” ایک رات جنگل پر ایسی گھپ اندھیری چھا گئی کہ چاند بھی بادلوں میں گم ہو گیا۔ راستے نظر آنا بند ہو گئے۔ بڑے بڑے جانور بھی اپنی پناہ گاہوں تک نہ پہنچ سکے۔ اسی وقت ایک ننھا سا جگنو اپنی معمولی سی روشنی کے ساتھ اڑتا ہوا آیا۔ لومڑی ہنس پڑی۔ “تمہاری اتنی سی روشنی سے کیا ہوگا؟” جگنو نے مسکرا کر کہا، “اندھیرے سے لڑنے کے لیے سورج بننا ضروری نہیں، بس اپنی روشنی بجھنے نہ دو۔” وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اس کے پیچھے ہرن، خرگوش، کچھوے، پرندے، یہاں تک کہ وہ مغرور لومڑی بھی…
بلاعنوان
ایک بہت دانا بزرگ گاؤں کی مسجد میں وعظ کرنے آئے۔ منبر پر چڑھے، مسکرائے اور سب سے پہلا سوال کیا: “بتاؤ! کیا تُم جانتے ھو کہ آج میں کس موضوع پر بیان کرنے والا ھوں؟” سب نے ایک آواز میں کہا: “نہیں… ھمیں نہیں معلوم!” بزرگ فوراً بولے: “جب تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کیا کہنے والا ھوں، تو تم میری بات کیا سمجھو گے؟” یہ کہہ کر منبر سے اترے…اور سیدھے گھر چلے گئے! اگلے جمعے بزرگ پھر آئے۔ اس بار گاؤں والوں نے پہلے ھی منصوبہ بنا لیا۔ “آج سب نے ‘ہاں’ کہنا ھے!” بزرگ نے پھر وھی سوال کیا: “کیا تم جانتے ھو کہ میں کیا بیان کروں گا؟” سب نے زور سے کہا: “جی ہاں! ھم جانتے ھیں!” بزرگ مسکرائے اور بولے: “ماشاءاللہ! جب سب جانتے ھی ھیں تو پھر میرے بیان کی ضرورت ھی کیا ھے؟” اور دوبارہ گھر روانہ ھو گئے۔…
غرور کا انجام
چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔ اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو یہ…
پلنگ کی قیمت
ایک بڑھیا کا بیٹاجس کو شیخ چلی کے نام سے پکارا جاتا بڑا کام چور تھا۔ بڑھیا محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالتی۔ بڑھیا بیمار ہوئی تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ رات کو ماں بیٹا دونوں نے فاقہ کیا۔ اگلے دن ماں نے کہا ”اب تم کچھ کام کرو‘ جنگل سے لکڑیاں لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔ شیخ چلی نے جنگل کی راہ لی۔ جو درخت اس کے راستے میں آتا‘ اس سے پوچھتا ”میں تجھے کاٹ لوں ؟“ کسی درخت نے جواب نہ دیا۔ شیخ چلی گھر جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک اور درخت نظر آیا۔ اس نے اس نے پاس جا کر پوچھا ”میں تجھے کاٹ لوں؟“درخت بولا۔ ”ہاں کاٹ لے“ مگر ایک نصیحت کرتا ہوں۔ میری لکڑی سے پلنگ بنانا اور بادشاہ کے دربار میں لے جانابادشاہ کو کہنا پہلے ایک…
صرف تین حرف انگریزی 😄
شعیب اور روحان نے سوچا کہ شہر جا کر کچھ بڑا کام کریں گے۔وہاں انہوں نے ایک صاحب کو اپنے کتے سے انگریزی میں بات کرتے دیکھا: “Come here!”“Sit down!”“Go there!” شعیب حیران ھو کر بولا: “اوئے روحان! شہر کے کتے بھی انگریزی سمجھتے ھیں اور ھم ابھی تک ‘اوئے’ اور ‘ہٹ جا’ پر ھی چل رھے ھیں! آج سے ھم بھی انگریزی بولیں گے۔” دونوں نے ایک پرانی ڈکشنری خریدی…اور پوری ڈکشنری میں سے صرف تین لفظ یاد کیے: YesNo Very Good اگلے دن راستے میں دیکھا کہ ایک آدمی قتل ھو چکا تھا۔اتنے میں پولیس آ گئی۔انسپکٹر نے پوچھا:“تم دونوں نے قتل کیا ھے؟” شعیب نے انگریزی جھاڑنے کا موقع غنیمت جانا، سینہ چوڑا کیا اور بولا: “Yes!” 😏 انسپکٹر غصے میں آگیا:“کیوں مارا؟ دشمن تھا؟”روحان نے فوراً دوسرا لفظ استعمال کیا: “No!” 🙅♂️ انسپکٹر حیران رہ گیا۔بولا:“واہ! قتل بھی تم نے کیا اور دشمنی بھی نہیں تھی؟…
دنیا کا سب سے سست آدمی 😂
نصیر بھائی کی سستی کے قصے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ آم کے درخت کے نیچے لیٹے تھے کہ اچانک ایک پکا ہوا آم ٹوٹ کر سیدھا ان کے سینے پر آ گرا۔ انہوں نے آنکھ کھولی…آم کو دیکھا…پھر دوبارہ آنکھ بند کر لی۔ 😴 کیونکہ آم اٹھانے کے لیے ہاتھ ہلانا پڑتا تھا! 😂 کافی دیر بعد ان کا دوست بشیر وہاں سے گزرا۔ نصیر بھائی نے آہستہ سے آواز دی: “اوئے بشیر… ذرا ادھر آ… ایک بہت ضروری کام ھے۔” بشیر بھاگتا ھوا آیا: “خیر تو ھے؟” نصیر بھائی بولے: “یار…! یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دے، کافی دیر سے سینے پر بوجھ بنا ھوا ھے!” 🥭😂 بشیر نے ماتھا پکڑ لیا۔ بولا: “نصیر! تم اتنے سست ھو؟ سنا ھے تم نے ایک کتا بھی رکھا ھوا ھے، وہ کہاں ھے؟” نصیر بھائی نے ٹھنڈی سانس لی اور بولے: “یار… وہ تو…
دیگ کا انتقال” 😂
ایک دن آدمی اپنے محلے کے مشہور کنجوس سیٹھ کے پاس گیا اور بولا: “سیٹھ جی! آج ھمارے گھر دعوت ھے، اپنی بڑی والی دیگ ذرا ادھار دے دیں۔” سیٹھ نے دل پر پتھر رکھ کر دیگ دے دی۔ 😄 اگلے دن آدمی دیگ واپس لایا مگر اس کے اندر ایک چھوٹی سی کٹوری بھی رکھی ھوئی تھی۔ سیٹھ نے حیران ھو کر پوچھا:“یہ کٹوری کس کی ھے؟” آدمی نے مسکراتے ھوئے بولا: “مبارک ھو سیٹھ جی! کل رات آپ کی دیگ نے اس ننھی سی کٹوری کو جنم دیا ھے۔ چونکہ دیگ آپ کی ھے، اس لیے بچہ بھی آپ ھی کا ھوا!” 😊 لالچ نے عقل پر پردہ ڈال دیا…سیٹھ نے خوشی خوشی دیگ بھی رکھ لی اور کٹوری بھی۔ 😁 چند دن بعد آدمی پھر آیا: “سیٹھ جی! آج پھر دعوت ھے، وھی دیگ چاہیے۔” سیٹھ نے دل ھی دل میں سوچا:“اس بار شاید پلیٹوں کا پورا…
🔥😂 پیر صاحب اور بکرا پارٹی 🐐🍲
ایک پیر صاحب اپنے مرید کے گھر دعوت پر گئے۔ مرید نے عزت و احترام میں اپنا سب سے موٹا بکرا ذبح کیا اور ایسی لذیذ کڑاہی بنائی کہ خوشبو پورے محلے میں پھیل گئی۔ 😋💁♂️ کھانا سامنے آیا تو پیر صاحب نے رعب جھاڑتے ھوئے فرمایا: “بیٹا! میں پہلے مراقبہ کروں گا۔ اگر بکرے کی روح نے اجازت دی تو کھاؤں گا، ورنہ سارا گوشت غریبوں میں بانٹ دینا۔” یہ کہہ کر آنکھیں بند کر کے “مراقبہ” شروع کر دیا۔ 😇 مرید مسکرایا، چپکے سے کچن گیا اور پانچ منٹ بعد واپس آیا تو سامنے صرف خالی تھالی تھی! 😄 کچھ دیر بعد پیر صاحب نے آنکھیں کھولیں اور بڑے اعتماد سے بولے: “ماشاءاللہ! ابھی بکرے کی روح خواب میں آئی تھی۔ کہنے لگی: ‘پیر صاحب! آپ جی بھر کر کھائیں، میری آخرت سنور جائے گی۔’” مرید نے فوراً جواب دیا: “حضور! وہ بکرا بڑا عجیب تھا…” پیر صاحب…
کسان اور قاضی
پرانے زمانے میں ترکی میں ایک کسان تھا جس کا نام عبدل تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی مگر اس زمین سے اس کا گزارہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بیوی نے دو بھینیسں رکھی ہوئی تھیں، وہ ان کا دوودھ نکالتی اور دودھ سے گھی، مکھن اور پنیر بناتی۔ کسان یہ دودھ اور پنیر شہر لے جاتا اور وہاں سے اس کے بدلے شہد خرید لاتا۔ گاؤں میں شہد کی بہت مانگ تھی، واپس آکر وہ شہد بیچ کر رقم حاصل کر لیتا تھا۔ کچھ عرصہ سے مسئلہ یہ ہورہا تھا کہ جب وہ اپنا سامان لے کر شہر کے دروازے پر پہنچتا تو وہاں کا دربان روک لیتا کہ قاضی کے اجازت نامے کے بغیر تم شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ایک مرتبہ عبدل مکھن اور پنیر کے برتن لے کر شہر پہنچا تو دربان نے اسے روک لیا کہ تم قاضی کی اجازت کے…
سچی دوستی
افریقہ کے وسیع و عریض صحرائے کالاہاری میں، جہاں سنہری ریت دن کے وقت سورج کی تپش سے دہکتی اور رات کو ٹھنڈی ہواؤں کی آغوش میں سکون کا سانس لیتی تھی، ایک ننھی صحرائی چھپکلی اور ایک بچھو رہتے تھے۔دونوں کی دوستی دیکھ کر جنگل کے جانور حیران ہوتے، کیونکہ ایک نہایت چست اور دوسرا اپنی زہریلی دم کے باعث مشہور تھا۔ایک شام جب آسمان سرخ شام کی چادر اوڑھے ہوئے تھا، چھپکلی نے مسکراتے ہوئے پوچھا:“دوست! تم تو ذرا سی آہٹ پر دوسروں کو ڈنگ مار دیتے ہو، مگر مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچاتے۔ آخر کیوں؟”بچھو نے خاموشی سے ریت پر نظر جمائے رکھی، پھر دھیمے لہجے میں بولا:“اس لیے کہ تم میری دوست ہو۔ صحرا کی اس بےآب و گیا دنیا میں میرا کوئی اپنا نہیں۔ اگر میں اپنے واحد ساتھی ہی کو نقصان پہنچاؤں، تو آخر میرے پاس بچے گا ہی کون؟”چھپکلی کے چہرے پر مسکراہٹ…
عقاب اور چمگادڑ
ایک سرسبز اور پُراسرار جنگلات میں، جہاں قدیم درخت اپنی شاخوں سے آسمان کو چھوتے تھے، رنگ برنگے پرندے صبح کی ہوا میں نغمے بکھیرتے تھے، اور شام ڈھلے ہر سمت خاموشی کا جادو اتر آتا تھا، وہیں ایک ننھا سا چمگادڑ اور ایک عظیم الشان عقاب آباد تھے۔دونوں آسمان کے مسافر تھے، مگر ان کی دنیائیں الگ الگ تھیں۔عقاب طلوعِ آفتاب کے ساتھ اپنے طاقتور پروں کو پھیلاتا، بادلوں سے بلند پرواز کرتا اور روشن دن کا بے تاج بادشاہ دکھائی دیتا۔ اس کی نگاہ میلوں دور تک ہر جنبش کو دیکھ لیتی۔دوسری طرف، چمگادڑ سورج کے غروب ہوتے ہی اپنی آرام گاہ سے نکلتا۔ رات کی خاموش فضاؤں میں وہ نہایت مہارت سے اڑتا، تاریکی اس کی ساتھی تھی اور چاندنی اس کی راہنما۔ایک دن اتفاق سے صبح اور شام کے سنگم پر دونوں کی ملاقات ہو گئی۔عقاب نے اپنے رعب دار لہجے میں پوچھا:“اے ننھے چمگادڑ! تم…
بہلول دانا
بہلول نامی ایک بزرگ غزنی کے رہنے والے تھے۔ یہ اکثر ایسی حرکتیں اور ایسی باتیں کر دیا کرتے تھے جو بظاہر سمجھ میں نہ آتی تھیں۔بھوک لگتی تو بھری مجلس میں کچھ لے کر کھانا شروع کر دیتے۔ نیند آتی تو چاہے کوئی امیر یا غریب پاس بیٹھا ہو یہ پاؤں پھیلا کر لیٹ جاتے۔ ان باتوں سے بعض لوگ انہیں بہلول دیوانہ کہتے تھے اور بعض بہلول دانا۔ ایک دفعہ کسی نے ہنسی سے کہا۔ ’’بہلول! آپ کو بادشاہ نے گدھوں کا حاکم مقرر کر دیا ہے۔‘‘فرمایا۔ ’’پھر یہیں بندھے رہو۔یعنی تم بھی گدھے ہو۔‘‘ایک مرتبہ کسی نے کہا۔ بہلول! بادشاہ نے تمہیں پاگلوں کی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ فرمایا۔ ’’اس کے لیے تو ایک دفتر درکار ہوگا۔ ہاں دانا گننے کا حکم ہو تو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔‘‘ ایک دن آپ بادشاہ کے پاس گئے۔ جو اس وقت کچھ سوچ رہا تھا۔ آپ…
ظلم کا انجام — ایک سبق آموز حکایت
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جو اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے دور دور تک بدنام تھا۔ اس کی رعایا اس سے شدید خوفزدہ رہتی تھی۔ مظلوم لوگ دن رات اس کی موت کی دعائیں مانگتے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو کرتے تھے۔ ظلم کی داستانیں ہر زبان پر تھیں، مگر بادشاہ اپنی سرکشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی پرانی روش ترک کر رہا ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ آج کے بعد نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ کسی کا حق مارا جائے گا۔ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ ابتدا میں کسی نے یقین نہ کیا۔ لوگوں نے اسے محض ایک دکھاوا سمجھا، مگر وقت گزرتا گیا اور بادشاہ واقعی اپنے وعدے پر قائم رہا۔…
حقیقت بتانے والا کنواں
اس شہر میں ایک کنواں تھا… مگر لوگ کہتے تھے، اس میں پانی سے زیادہ سچ دفن ہے۔”شہر کے بوڑھے اکثر بچوں کو اس کنویں سے دور رکھتے تھے۔جب بھی کوئی پوچھتا…“آخر اس میں ایسا کیا ہے؟”وہ صرف ایک جملہ کہتے۔“یہ کنواں پیاس نہیں بجھاتا… انسان کو اس کی حقیقت دکھاتا ہے۔”سال گزر گئے۔ایک نوجوان، جو ہر بات پر سوال کرتا تھا، ایک صبح اکیلا اس کنویں تک پہنچ گیا۔وہ جھکا…پانی بالکل صاف تھا۔اس نے اپنا چہرہ دیکھا…مگر چند لمحوں بعد پانی میں اس کا عکس بدلنے لگا۔اسے ایک ایسا انسان نظر آیا…جو ہر موقع پر سچ کی بات کرتا تھا…مگر جب سچ اس کے اپنے خلاف جاتا…تو خاموش ہو جاتا تھا۔وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔اسی وقت ایک بوڑھا شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا۔نوجوان نے بےچینی سے پوچھا:“یہ کنواں جادو کرتا ہے؟”بوڑھا مسکرایا۔“نہیں…”“یہ صرف وہی دکھاتا ہے جسے تم ساری زندگی دوسروں سے چھپاتے رہے ہو۔”نوجوان نے پھر پانی…
بادشاہ کی آخری تین خواہشیں…….. ایک سبق آموز کہانی
بہت سی سلطنتیں فتح کرنے کے بعد، جب سکندر وطن واپس لوٹ رہا تھا تو راستے میں وہ بیمار پڑ گیا اور اس کی بیماری اسے موت کے بستر تک لے آئی۔ بسترِ مرگ پر اس کی خواہش تھی کہ مرنے سے پہلے وہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کی بیماری اسے اپنے دور دراز وطن تک پہنچنے کا وقت نہیں دے گی۔ اسی لمحے سکندر کو ایک بات کا احساس ہوا۔ چنانچہ موت کا بے بسی سے انتظار کرتے ہوئے اس نے اپنے جرنیلوں کو بلایا۔ جب جرنیل اس کے پاس آئے تو اس نے کہا، “میری تین خواہشات ہیں۔ میرے مرنے کے بعد انہیں ضرور پورا کرنا۔” سکندر نے کہا، “میری پہلی خواہش یہ ہے کہ… میرا تابوت صرف میرے طبیب ہی اٹھائیں۔” “دوسری یہ کہ، قبرستان تک جانے والا راستہ ان تمام ہیروں اور قیمتی پتھروں سے بھر دیا جائے جو…
تیسرا شو کیوں نہ کیا؟ 😄😆😂
ایک نوجوان ایک ہوٹل میں داخل ہوا اور ویٹر سے بولا “چھ پلیٹ مرغی، چار پلیٹ دال، آٹھ پلیٹ سبزی، پانچ پلیٹ قورمہ، ایک بڑی ڈش پلاؤ اور پچاس روٹیاں لے آؤ!” ویٹر نے حیرت سے اسے دیکھا، مگر آرڈر کچن میں پہنچا دیا۔ تھوڑی دیر بعد کھانوں کا ڈھیر اس کے سامنے لگا دیا گیا۔ نوجوان نے آستینیں چڑھائیں اور ایسے ٹوٹ پڑا جیسے کئی دنوں سے بھوکا ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری دیگیں اور روٹیاں صاف ہوگئیں۔ اتفاق سے ایک سرکس کا مالک بھی وہاں بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ فوراً نوجوان کے پاس آیا اور بولا: “بھائی، سرکس میں کام کرو گے؟” نوجوان نے پوچھا: “کام کیا کرنا ہوگا؟” مالک مسکرایا: “بس وہی جو تم ابھی کر رہے تھے!” نوجوان نے فوراً ہامی بھر لی۔ چند دن بعد سرکس میں اس کا پہلا شو ہوا۔ نوجوان کے سامنے…
نیم حکیم
ایک پہلوان کی ایک ٹانگ اچانک نیلی ہو گئی۔ وہ فوراً حکیم کے پاس گیا۔ حکیم: “زہر پھیل چکا ہے، ٹانگ کاٹنی پڑے گی!” مجبوراً ٹانگ کاٹ دی گئی۔ تین دن بعد دوسری ٹانگ بھی نیلی ہو گئی۔ حکیم: “افسوس! زہر مزید پھیل گیا ہے، یہ ٹانگ بھی کاٹنی پڑے گی!” سو وہ بھی کاٹ دی گئی، اور پہلوان کو لکڑی کی ٹانگیں لگوا دی گئیں۔ آٹھ دن بعد حیرت انگیز طور پر لکڑی کی ٹانگیں بھی نیلی ہو گئیں! حکیم نے غور سے دیکھا، سر کھجایا اور بولا: “اوہ! اب سمجھ آیا… زہر نہیں پھیلا تھا، تمہاری دھوتی کا رنگ اترتا ہے!” “پریشانی کی کوئی بات نہیں!” 😂
چکور کی گواہی
نقل ہے کہ ایک ڈاکو آدمی ایک امیر کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا، اس دسترخوان پر بھنے ہوئے دو چکور رکھے تھے۔ ڈاکو نے ایک چکور اٹھا کر ہنسا۔ امیر نے اس سے ہنسنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:“میں نے ایک مرتبہ ایک تاجر پر ڈاکہ ڈالا، جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے مجھ سے گریہ و زاری کی لیکن میں نے اسے قبول نہ کیا۔ جب اس نے مجھ سے پختگی اور ہٹ دھرمی دیکھی تو دوسری طرف متوجہ ہوا اور ایک پہاڑ پر دو چکور دیکھے، اب اس نے ان دونوں سے کہا کہ تم دونوں میرے گواہ رہو کہ یہ مجھے ظلم سے قتل کرتا ہے۔ پھر میں نے اسے مار ڈالا۔ اس وقت میں نے ان دونوں چکوروں کو دیکھا تو اس تاجر کی وہ حماقت مجھے یاد آئی جو اس نے ان دونوں پرندوں کو مجھ پر گواہ بنایا…
اصل کی پہچان
قدیم مصر کی سرزمین پر دو ہرمس کھڑے تھے۔ ایک زمانے کی گرد میں بھی اپنی اصل شان برقرار رکھے ہوئے تھا، اور دوسرا اسی کی نقالی میں تراشا گیا ایک فریب تھا۔ دونوں کی صورت ایسی ملتی تھی کہ دیکھنے والوں کی نگاہ دھوکا کھا جاتی، اور عقل فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی۔ایک روز فرعون نے دربار سجایا اور دونوں ہرمسوں کو اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ دربار خاموش تھا، سانسیں تھمی ہوئی تھیں۔فرعون نے پُر جلال لہجے میں پوچھا:“تم دونوں میں سے اصل کون ہے؟”پہلا ہرمس فوراً بولا:“میں ہی اصلی ہوں، دوسرا محض ایک جعل سازی ہے۔”دوسرا بھی سکون سے گویا ہوا:“اصل میں ہوں، اور جعلی وہ ہے۔”فرعون چند لمحے سوچتا رہا۔ دونوں کے دعوے ایک جیسے تھے، دونوں کے چہرے خاموش مگر پُراسرار۔“جب دونوں ایک ہی بات کہتے ہو،” فرعون نے کہا، “تو میں حق اور باطل میں فرق کیسے کروں؟”پہلا ہرمس سینہ تان کر بولا:“میں ابھی…