سبق آموز۔۔۔! نسل کی پہچان۔۔۔! Instructive: Recognition of the breed
عربوں کی ایک عادت رہی ہے۔ جب ان کے گھوڑے زیادہ ہوجاتے اور ان کی نسلوں کی پہچان ممکن نہ رہ پاتی تو سبھی گھوڑوں کو کسی ایک مقام پر جمع کر لیتے۔ پھر کھانا پینا بند کر دیتے اور شدید قسم کی مارپیٹ کرتے۔ مار پیٹ کے بعد پھر گھوڑوں کے لئے کھانا پینا لاتے، تب گھوڑے دو مجموعوں میں بٹ جاتے تھے۔ کچھ گھوڑے تو فورا دوڑتے کھانے کی طرف، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا تھا کہ کھلا پلا کون رہا ہے مارا کس نے ۔۔ اور دوسرے تھے نسلی گھوڑے، جو ان ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انکار کر دیتے تھے جن ہاتھوں نے مار پیٹ کر کے ان کی توہین کی تھی۔ ان کی عزت نفس کو پامال کیا ۔۔۔۔ انسانی معاشروں کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے بدنسلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے Arabs have had a habit. When their…
میسیج آف دی ڈے۔۔۔! Message of the day
انسانیت کا فخر ہیں وہ لوگ جن کے پاس نصیحت کے لیے الفاظ نہیں اعمال ہوتے ہیں۔ السلام وعلیکم صبح بخیر The pride of humanity is those who don’t have words for advice but actions. Good morning. Have a good day