جنگل کے کنارے ایک ندی بہتی تھی۔ وہ نہایت خاموش مزاج تھی۔ نہ کسی سے الجھتی تھی، نہ اپنی تعریف کرتی تھی۔ پہاڑوں سے اترتی، میدانوں سے گزرتی اور اپنے راستے پر بہتی چلی جاتی۔ اسی ندی کے کنارے ایک بہت بڑی چٹان پڑی تھی۔ وہ اتنی بڑی اور مضبوط تھی کہ دور سے دیکھنے والے اسے پہاڑ کا ٹکڑا سمجھتے تھے۔ اسے اپنی طاقت پر بڑا غرور تھا۔جب بھی ندی اس کے قریب سے گزرتی، چٹان طنزیہ انداز میں کہتی: “مجھے دیکھو! صدیوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہوں۔ نہ کبھی جھکی، نہ کبھی اپنا راستہ بدلا۔ اور ایک تم ہو کہ ذرا سا پتھر سامنے آجائے تو راستہ بدل لیتی ہو۔ کبھی دائیں مڑ جاتی ہو، کبھی بائیں۔” ندی مسکرا کر خاموش رہتی اور بہتی رہتی۔ وقت گزرتا رہا۔ چٹان اپنی مضبوطی کے قصے خود ہی سناتی رہی اور ندی اپنی خاموش دھن میں سفر کرتی رہی۔پھر ایک…