Tag Archives: ،urdublogs

صدیوں پرانی بات ہے ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ رحمدل اور انصاف پسند تھا۔اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات تھے وہ جنگ و جدل سے بھی پرہیز کرتا تھا۔بادشاہ کی طرح شہزادے بھی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دن ملکہ کا ہیرے جواہرات اور قیمتی موتیوں والا ہار گم ہو گیا محل کے داروغے نے بہت کوشش کی ہار مل جائے مگر ہار نہ ملا اس نے انعام کا اعلان بھی کیا مگر کسی نے بھی اتنا قیمتی ہار واپس نہ کیا آخرکار معاملہ بادشاہ تک پہنچا اس نے دربار میں اعلان کیا کہ ہمیں اپنے نوکروں،خدمتگاروں پر بھروسہ ہے مگر افسوس ان میں سے کسی نے نمک حرامی کی ہے اور ہار واپس کرنے پر تیار نہیں کوئی ایسا ذہین آدمی چاہئے جو ہمیں ہار ڈھونڈ کر دے ہم اسے مالا مال کر دیں گے بہت سے لوگ آئے…

Read more

جنوبی افریقہ کے ایڈو ہاتھی نیشنل پارک کے اندر گہرائی میں ایک شیرنی رہتی تھی جس کا نام جوزی تھا۔ اس نے اپنے خاندان کا شکار کرنے اور ان کی حفاظت کرنے میں کئی سال گزارے تھے۔ لیکن جیسے جیسے وہ بوڑھی ہوتی گئی، ایک دکھ بھری بات ہوئی۔ جوزی آہستہ آہستہ اپنی بینائی کھو بیٹھی۔ جنگل میں، ایک اندھی شیرنی عام طور پر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی کیونکہ شکار کرنا اور خطرات سے بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن جوزی اکیلی نہیں تھی۔ اس کی دو بیٹیاں، ڈان اور ڈفی، نے اسے پیچھے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اپنی ماں کو جدوجہد کرنے دینے کے بجائے، انہوں نے ہر روز اس کی دیکھ بھال کی۔ وہ خاندان کے لیے شکاری بن گئیں، زیبروں، کُڈو اور حتیٰ کہ طاقتور بھینسوں کا پیچھا کرتیں اور انہیں پکڑتیں۔ ہر کامیاب شکار کے بعد، وہ جوزی کو آواز دیتیں تاکہ…

Read more

آپ نے مُلا نصیر الدین کا نام یقینا سنا ہو گا اور اُن کے کارنامے بھی پڑھے ہوں گے ۔مُلا ایک ذہین وفطین اور مزاح والے تھے ۔وہ ایک بادشاہ کے دربار سے وابستہ تھے ۔بادشاہ نے اپنی سالگرہ پر اپنے وزرا،اُمراء اور درباریوں کو بہت سے انعامات سے نوازا اور عوام کو بھی کئی ٹیکس معاف کر دےئے ۔بہت سے قیدی رہا کر دےئے ۔ یہ انعام و اکرام پا کر مُلا قریبی ریاستوں کے سیاحتی دورے پر چلے گئے ۔ڈھائی تین ماہ بعد وہ واپس آئے تو دیکھا کہ بادشاہ کچھ پریشان ہے ۔پوچھا ؛”بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں “۔’جان کی امان دی ،پوچھو کیا پوچھتے ہو“؟بادشاہ نے کہا۔بادشاہ سلامت مجھے آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ۔آپ کچھ بتانا پسند کریں گے؟ہاں بھئی مُلا پریشانی تو ہے ۔ کچھ دن پہلے دربار لگا ہوا تھا وزراء ،امراء ،روساء بیٹھے ہوئے تھے ،ہمیں…

Read more

الہٰ دین کا چراغ نسل در نسل ہوتا ہوا جب الہٰ دین ہفتم کے ہاتھ آیا (جو ایک سیدھا سادہ انسان تھا) تو اس نے باپ کی وفات کے اگلے ہی روز چراغ زمین پر رگڑا، جس سے فضا میں دھواں پھیل گیا اور پھر اس دھویں میں سے ان کا خاندانی جن خوف ناک قہقہے لگاتا ہوا نمودار ہوا۔ اس کے بازو مشرق اور مغرب میں پھیلے ہوئے تھے اور قد آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ جب یہ دھواں چھٹا اور اس قوی ہیکل جن کی دہلا دینے والی آواز فضا میں گونجی : ” کیا حکم ہے میرے آقا؟“ تو الہٰ دین ہفتم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کہا : ” ذرا دوڑ کر نکر والی دکان سے میرے لیے ایک سانچی پان لاﺅ۔“ جن کو اپنے نئے آقا کے اس حکم کی تعمیل میں بڑی شرم محسوس ہوئی، مگر اس نے تعمیل کی اور…

Read more

نجو نائی کی حجامت کا دور دور تک چرچا تھا۔وہ اپنے کام میں اس قدر ماہر تھا کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کے بھی حجامت کرتا تو کوئی ذراسی خامی باقی نہ چھوڑتا۔اس اعلاکارکردگی کے باعث بڑے بڑے اُمر،وزرا،مشیر ،شہر کے عام امیر نیز دور دراز علاقوں کے لوگ اس کے پاس آکے حجامت بنوانے میں اپنی خوش بختی تصور کرتے۔ایک دن نجونائی اپنی دکان پر کام میں مصروف تھا کہ لکڑیوں فروخت کرنے والے کسی شخص کی آواز آئی:”لکڑی لے لو․․․․․سوکھی لکڑی۔نجو نائی نے باہر نکل کر دیکھا تو اسے وہ شخص گدھے پر لکڑیاں لے جاتا نظر آیا۔نجو نائی بولا:”دو آنے لو اور لکڑی دے دو بھائی!“”ایک من لکڑی کے صرف دو آنے․․․․توبہ توبہ․․․․“لکڑی فروش منھ بنا کے جانے لگا تو نجو نائی اسے دیکھ کر کچھ سوچنے لگا۔ ”اے! ناراض مت ہو ،چلو تم ہی بتاؤ،کتنے میں دو گے؟“نجو نائی چلا یا۔”چار آنے سے کم میں نہیں…

Read more

بہت دنوں کی بات ہے کہ جنگل میں ایک لکڑہاراور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ دونوں بہت بوڑھے اور غریب تھے۔ لکڑہار ادن بھرکلہاڑی سے لکڑیاں کاٹتا اور شام کو انہیں شہر میں بچ آتا تھا۔ لکڑہار کی بیوی گھر کا کام کاج کرتی تھی۔ایک دن لکڑہارے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہاتھا۔ کہ اسے بہت زور کی پیاس لگی۔ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ کہ کوئی کنواں یا تالاب نظرآئے تووہاں جا کر پانی پی لوں مگر جب کوئی کنواں یا تالاب نظر نہ آیا تو اس نے کلہاڑی ہاتھ سے رکھ دی۔ اور پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر پھرنے لگا۔تھوڑی دیر میں اُسے ایک تالاب مل گیا۔ جسے اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ تالاب صاف اور ٹھنڈے پانی سے بھرا ہواتھا۔ پانی کودیکھ کر بوڑھے لکڑہارے کی جان میں جان آئی۔ اس نے تالاب کے کنارے بیٹھ کر دو تین چلو پانی کے پئے۔خدا کی قدرت!…

Read more

ایک میراثی زندگی میں پہلی بار مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا۔ باتھ روم سے طہارت کر کے نکلا تو مولوی صاحب باہر کھڑے تھے۔ مولوی صاحب نے کہا او میراثی! نماز کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔پہلے طہارت ہوتی ہے اور اس کے بھی آداب ہوتے ہیں۔جب بندہ باتھ روم میں داخل ہونے لگتا ہے تو اسے کھانسنا چاہئے پھر الٹا پاؤں رکھنا چاہیے۔اس کے بعد کافی دیر طہارت کے لئے بیٹھنا چاہئے ایک تو ہے کہ گیا اور فوراًِ ہی باہر نکل آیا میراثی کو بہت برا لگا مگر بولا کہ مولوی صاحب غلطی ہو گئی،آئندہ خیال رکھوں گا۔ میراثی اگلے دن مسجد میں وقت سے پہلے پہنچ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کب مولوی ٹوائلٹ میں جائے جیسے ہی مولوی صاحب طہارت کے لئے جانے لگے تو میراثی بھی ساتھ والے ٹوائلٹ میں گھس گیا مولوی صاحب نے سوچا کہ ابھی کل ہی تو میں…

Read more

ایک جنگل کے کنارے ایک خوبصورت لڑکی رہتی تھی۔وہ جتنی خوبصورت تھی ،اتنے ہی خوبصورت اس کے بال تھے۔اس کے سنہری بالوں کے لچھے دیکھ کر سب ہی اس کو ”گولڈی لوکس“کہتے تھے۔ہر صبح جب اس کی ماں گولڈی لوکس کے بالوں میں کنگھی کرتی تو کہتی ”میری پیاری گولڈی لوکس کے بال کتنے پیارے چمکیلے اور خوبصورت ہیں جیسے سونے کے لچھے ہوں۔“ایک دن گولڈی لوکس صبح کی سیر کو نکلی تو چلتے چلتے جنگل کی طرف نکل گئی۔جنگل میں پرندے چہچہارہے تھے اور پھول کھلے ہوئے تھے۔درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے اسے بہت اچھے لگے اور وہ جنگل کے اندر گھستی چلی گئی۔چلتے چلتے اس کو احساس ہوا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے۔اس کو اندازہ بھی نہیں ہورہا تھا کہ وہ کس طرح جنگل سے نکل کر اپنے گھر جائے۔وہ اِدھر اُدھر نظریں دوڑا رہی تھی کہ اس نے درختوں کی طرف دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا۔وہ بھاگ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بطخ دریا کے کنارے رہتی تھی کیونکہ اُسکا نرمرچکا تھا، وہ بیچاری ہمیشہ بیمار رہتی تھی۔ ایک دن اسکی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے اُسے بتایا کہ تمہاری بیماری ایسی کہ تم جلد مرجاوٴ گی۔ اُسے یہ سن کر صدمہ ہو ا کیونکہ اُسکے پاس ایک انڈا تھا۔ اُسے ڈرلگا کہ اگر وہ مر گئی تو اس انڈے کا کیا ہو گا جس میں سے جلد ہی بچہ نکلنے والا تھا اور پھر اس بچے کو کون سنبھالے گا۔ لہٰذا وہ جنگل میں رہنے والے اپنے سب دوستوں کے پا س گئی اور اُنہیں اپنی ساری کہائی سنائی لیکن ہرکسی نے ہی اُس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ بیچاری بطخ نے اُن کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے تم لوگ مرنے کے بعد میرے بچے کو اپنا سایہ دینا لیکن کسی…

Read more

کہتے ہیں ایک بادشاہ شدید بیمار ہو گیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے اپنی رعایا میں ایک عجیب اعلان کروا دیا۔ جو شخص میری وفات کے بعد ایک رات میری قبر میں گزارنے کے لیے تیار ہو جائے، میری پوری سلطنت، خزانے اور بادشاہت اسی کے نام کر دی جائے۔اعلان سنتے ہی پورا ملک خوف میں مبتلا ہو گیا۔ بادشاہت سب کو پسند تھی، لیکن قبر کی ایک رات… اس کا تصور ہی لوگوں کے جسم میں کپکپی پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ کسی نے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی۔ اسی دوران ایک غریب کمہار سامنے آیا۔وہ ساری زندگی غربت میں جیا تھا۔ نہ اس کے پاس زمین تھی، نہ محل، نہ خزانے، نہ نوکر چاکر۔ اس کی کل کائنات صرف ایک گدھا تھا، جس پر سامان لاد کر وہ اپنی روزی کماتا تھا۔ اس نے سوچا:آخر مجھے…

Read more

ایک دن بادشاہ شکار کے ارادے سے نکلا 🏹 حسبِ عادت اُس نے نئے وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔ 🌦️ وزیر نے پورے اعتماد سے سینہ تان کر 😤 عرض کیا: “حضور! آج موسم نہایت خُوش گوار ھے، بارش کا کوئی خدشہ نہیں۔” ☀️😊 بادشاہ مطمئن ھو کر لشکر سمیت روانہ ھو گیا۔ راستے میں ایک کمہار ملا۔ اُس نے ادب سے جھک کر کہا: “جہاں پناہ! میرا خیال ھے کچھ ھی دیر میں بارش شروع ھو جائے گی، بہتر ھے آج شکار ملتوی کر دیں۔” 🌧️😕 بادشاہ نے اسے معمولی آدمی سمجھ کر ڈانٹا۔ غصے میں آ کر دو جوتے بھی رسید کر دیے اور بولا، “ھمیں اپنے وزیر پر زیادہ بھروسہ ھے!” 😠👞 مگر ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آسمان پر گھنے بادل چھا گئے۔ دیکھتے ھی دیکھتے موسلا دھار بارش شروع ھو گئی۔ جنگل کی زمین کیچڑ میں بدل گئی، سپاھی پھسلنے لگے اور…

Read more

ایک میاں بیوی افریقہ کے جنگل میں سفاری کے لیے گئے۔ 🦁🌳 گھومتے گھومتے اچانک ان کے سامنے ایک بہت بڑا، بھوکا شیر 🦁 آ گیا۔ 😰 شیر 🦁 نے زور سے دھاڑ ماری اور ان کی طرف بڑھنے لگا۔ 😨 بیوی خوف سے کانپنے لگی، جبکہ شوہر نے فوراً اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے دوڑنے والے جوتے نکال کر پہننے لگا۔ 👟🤔 بیوی چیخ کر بولی: “آپ پاگل ھو گئے ھیں کیا؟!کیا آپ کو لگتا ھے کہ آپ شیر سے زیادہ تیز بھاگ سکتے ھیں؟” 🤕 شوہر نے سکون سے جوتوں کے تسمے باندھے، مُسکرایا اور بولا: “مجھے شیر سے زیادہ تیز نہیں بھاگنا…” 🙅‍♂️😁“مجھے تو بس تُم سے زیادہ تیز بھاگنا ھے!” 🏃‍♂️💨 🦁😳🏃‍♀️ کہتے ہیں بیوی آج تک سوچ رھی ھے کہ شیر زیادہ خطرناک تھا یا شوہر! 🤣🤣🤣

اسلم صاحب نے پورے گاؤں میں ڈھنڈورا پیٹ دیا تھا کہ اُن کا سپوت، شعیب میاں، سات سمندر پار سے گوری میم بیاہ کر لا رہا ھے۔ 😎😏 چک نمبر 42 میں ایسا جوش تھا جیسے ورلڈ کپ جیت لیا ھو 😂😅 ایئرپورٹ پر آدھا گاؤں استقبال کے لیے پہنچ گیا۔ ڈھول والے کو خاص ہدایت تھی: “اوئے شیدے! جیسے ھی شعیب کسی گوری کے ساتھ باہر آئے، ایسا دھمال ڈالنا کہ دیواریں ہل جائیں!” 🥁😄 فلائٹ لینڈ ھوئی۔ مسافر باہر آنے لگے۔ اچانک شعیب میاں نمودار ھوئے مگر اکیلے نہیں، ہاتھ میں ایک بڑا سا پنجرہ تھا جس پر مخملی کپڑا پڑا تھا۔ 😳🤔 اسلم صاحب گھبرا کر بولے: “اوئے شعیب! بہو کہاں ھے؟ کیا واش روم گئی ھے؟” شعیب نے شرماتے ھوئے پنجرے سے کپڑا ہٹایا۔ اندر ایک بڑا سا ہرا بھرا طوطا بیٹھا تھا، گلے میں ننھی سی ٹائی پہنے۔ 🦜👔 شعیب بولا:“ابا جی! یہ رھی آپ…

Read more

پھجا مراثی ایک دن بیمار ھو گیا۔ 🤒وہ علاج کروانے ڈاکٹر بشیر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے فیس بتائی تو پھجے کی آنکھیں کھل گئیں۔ 😳 پھجا بولا: “ڈاکٹر صاحب! تھوڑا رحم کریں، میں مریض ھوں، بینک نہیں!” 😭 مگر ڈاکٹر بشیر نہ مانا۔ آخر پھجے نے دِل پر پتھر رکھ کر فیس دی، علاج کروایا اور ٹھیک ھو گیا۔ لیکن، پھجا فیس بھولا نہیں! 😏اس نے بدلہ لینے کا ایسا طریقہ سوچا 🤔 اب جہاں چار بندے بیٹھے ہوتے، پھجا اپنا “خواب” سنانا شروع کر دیتا۔ کہتا: “رات میں خواب میں مر گیا…” 😳“فرشتے مجھے اوپر لے جا رھے تھے…” میں نے کہا: “بھائی سیدھا دوزخ لے چلو، میں نے کون سی نیکیاں کی ھیں!” 🤕 دوزخ کے دروازے پر پہنچا۔فرشتے نے لسٹ دیکھی… نام غائب! 😐 میں خوش ھو گیا: “چلو جنت چلتے ھیں!” 😇جنت کے دروازے پر گیا… وہاں بھی لسٹ دیکھی گئی… نام پھر غائب! 😳…

Read more

دو سِکھ شکاری دوست شکار کے شوق میں ایک چھوٹا سا ھوائی جہاز کرائے پر لے کر جنگل پہنچ گئے۔ قسمت کی ایسی مہربان ھوئی کہ دونوں نے دو بڑے گینڈے شکار کر لیے۔ 🦏🦏 اب مسئلہ یہ تھا کہ گینڈوں کو واپس کیسے لے جایا جائے؟ 😕🤔 دونوں نے پوری طاقت لگا کر گینڈوں کو جہاز میں لادنا شروع کر دیا۔ پائلٹ نے گھبرا کر کہا: “جناب! یہ وزن بہت زیادہ ھے، جہاز شاید اڑ ھی نہ سکے!” 🤕🙄 دونوں سِکھ فوراً بول اُٹھے: “ارے بھائی! پچھلی بار والے پائلٹ نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا!” 😏 پائلٹ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی…مگر آخرکار ان کی ضد کے آگے ہار مان گیا۔ جہاز نے اڑان بھری… چند لمحے فضا میں رہا… پھر دھڑام! 💥 وزن زیادہ ھونے کی وجہ سے جہاز دوبارہ زمین پر آ گرا۔ 🚁⚓ کچھ دیر بعد ایک سِکھ کو ھوش آیا۔ 😵‍💫👀 اس…

Read more

ایک گاؤں تھا۔اس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے مکان تھے۔ایک مکان میں میاں بیوی رہتے تھے۔یوں تو دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے ،لیکن ان میں جھگڑا بھی بہت ہوتا تھا۔میاں کہتا:”بڑی بی!ذرا دروازہ بند کردو۔“بیوی کہتی:”واہ ،میں کیوں بند کروں۔تم نے کھولا تھا،تم ہی بند کرو۔“میاں کہتا :”نہیں، تم نے کھولا تھا۔ بیوی کہتی :”تم نے ہی حکم دیا تھا تو میں نے کھولا،اب کم سے کم تم اسے بند تو کردو۔“میاں کہتا:”میں نے ساری عمر تمھارے لیے محنت کی۔اب تم میرے لیے ایک ذرا سادروازہ بھی بند نہیں کر سکتیں۔“بیوی کہتی:”کام بانٹ لو۔میں نے کھولا۔تم بند کرو۔“میاں کہتا:”دیکھا،تم مان گئیں کہ دروازہ تم نے کھولا تھا․․․․․․بس دونوں اسی طرح لڑتے رہتے ،لیکن جب لڑتے لڑتے تھک جاتے تو چین سے رہنے لگتے۔ ایک روز بیوی بولی:”سنو،ہم دونوں عمر بھر لڑتے رہے۔سارے گاؤں والے ہم پر ہنستے ہیں۔آؤ اب لڑائی جھگڑا ختم کریں اور ایک کام کریں۔اپنے شادی…

Read more

کسی بادشاہ کے دربار میں بہت سے خدمت گاروں میں دو گہرے دوست بھی تھے ۔ باقر دریا سے پانی بھر کر لاتا تھااور عاقل سوداسلف لانے اور کھانے پکانے پر مامور تھا۔ عاقل نہایت لاپروا اور فضول خرچ تھا ، مگر اس کے ساتھ نہایت ذہین بھی تھا۔ سلطنت کے بعض ایسے کام جن کو حل کرنے میں بادشاہ اور اس کے وزیر کو وقت پیش آتی ، اور وہ مسئلہ جب عاقل کے علم میں آتا تو وہ اسے نہایت آسانی سے حل کردیتا ۔اپنی اسی خوبی کی وجہ سے عاقل بادشاہ کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ بادشاہ اکثر اسے بہت سے انعامات سے نوازتا رہتا ۔باقر عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص ، مگر وہ کسی بھی قسم کی فضول خرچی واسراف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ عاقل باورچی کانے میں کام کے دوران کھانے پینے کا بہت سا سامان اپنی لاپروائی سے…

Read more

مرغی فارم میں سفید مرغیاں دور سے دیکھنے میں بہت حسین منظر پیش کر رہی تھیں۔یہ چھ ہزار مرغیاں تھیں، جنہیں ایک ہفتے بعد فروخت کیا جانا تھا۔مرغی فارم کے مالک فیصل نے مرغیوں کی فیڈ کی چالیس بوریاں دو دن قبل ہی منگوائی تھیں۔وہ نہیں چاہتا تھا مرغیوں کی خوراک میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برتی جائے۔فیصل کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے مرغیوں میں کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں آئی تھی اور مقررہ وقت میں مرغیاں تیار ہو گئی تھیں۔مرغی فارم سے کچھ دور پہاڑی سلسلہ تھا۔فارم کی حفاظت کے لئے ہر طرح کا انتظام کیا گیا تھا، تاکہ بارش کا پانی مرغی فارم میں داخل نہ ہو سکے۔آج بھی فیصل مرغی فارم آیا ہوا تھا۔اس نے فارم کے چوکیدار کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا:”مرغی فارم میں سب خیریت ہے نا؟“”سر! مرغی فارم میں ہر طرح کا انتظام موجود ہے سب سے بڑی بات…

Read more

ایک تھا بادشاہ اس کاایک لڑکا تھا جسے تمام رعایا شہزادہ دلیر کے نام سے پکارتی تھی کیوں کہ اس نے بچپن میں بہت سے بہادری کے کام کئے تھے۔ جب وہ دس سال کا ہوا تو بادشاہ نے اس کے پڑھانے کے لیے ایک استاد نوکر رکھا۔ اس شہزادے کے بے ضرورت اور بہت بولنے کی عادت تھی کسی وقت چپ نہ رہ سکتا تھا اس کے اُستاد نے اسے کہا چپ رہا کرو خاموشی میں بہت سے فائدے ہیں۔ اب شہزادہ ہر وقت چپ رہا کرتا صرف اپنے اُستاد سے بولتا چالتا یا کبھی سخت ضرورت کے وقت معمولی بات چیت کرتا۔جب وہ اچھی طرح علم حاصل کر چکا تو اپنے محل کو واپس آگیا لیکن ہر وقت چپ چاپ بیٹھا رہتا بادشاہ ، ملکہ، امیر وزیر اور درباری سب حیران تھے کہ شہزادے کو اس کے استاد نے کیا تعلیم دی ہے۔کہ ہر وقت بت بنا بیٹھا…

Read more

امتیاز کچھ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔وہ کمپیوٹر کے سامنے تو بیٹھا تھا،مگر کی بورڈ پر اس کی اُنگلیاں حرکت نہیں کر رہی تھیں۔وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا۔نعمان کو معلوم ہو گیا تھا کہ امتیاز کسی وجہ سے پریشان ہے۔دونوں ایک دفتر میں برسوں سے اکٹھے کام کر رہے تھے۔نعمان اپنی کرسی سے اُٹھا۔امتیاز نے نعمان پر نگاہ ڈالی،لیکن زبان سے کچھ کہا نہیں۔ ”امتیاز بھائی!کیا پریشانی ہے؟“نعمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”پریشانی صرف میرے لئے نہیں،ہم سب کے لئے ہے،توصیف صاحب کا تبادلہ ہمارے دفتر میں کیا جا رہا ہے۔“امتیاز کی بات سن کر نعمان نے دہرایا:”توصیف صاحب!․․․․․لو بھئی سب گئے کام سے۔“امتیاز نے کہا:”اب صرف اور صرف تنخواہ میں گزر بسر کرنی پڑے گی۔توصیف صاحب ابھی جہاں کام کر رہے ہیں،وہاں کے نائب قاصد سے لے کر اوپر تک سبھی ناخوش اور پریشان ہیں۔توصیف صاحب نہ خود رشوت لیتے ہیں اور نہ کسی دوسرے…

Read more

460/841
NZ's Corner