مُحبت کا امتحان! 😂💁♂️
ایک میاں بیوی افریقہ کے جنگل میں سفاری کے لیے گئے۔ 🦁🌳 گھومتے گھومتے اچانک ان کے سامنے ایک بہت بڑا، بھوکا شیر 🦁 آ گیا۔ 😰 شیر 🦁 نے زور سے دھاڑ ماری اور ان کی طرف بڑھنے لگا۔ 😨 بیوی خوف سے کانپنے لگی، جبکہ شوہر نے فوراً اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے دوڑنے والے جوتے نکال کر پہننے لگا۔ 👟🤔 بیوی چیخ کر بولی: “آپ پاگل ھو گئے ھیں کیا؟!کیا آپ کو لگتا ھے کہ آپ شیر سے زیادہ تیز بھاگ سکتے ھیں؟” 🤕 شوہر نے سکون سے جوتوں کے تسمے باندھے، مُسکرایا اور بولا: “مجھے شیر سے زیادہ تیز نہیں بھاگنا…” 🙅♂️😁“مجھے تو بس تُم سے زیادہ تیز بھاگنا ھے!” 🏃♂️💨 🦁😳🏃♀️ کہتے ہیں بیوی آج تک سوچ رھی ھے کہ شیر زیادہ خطرناک تھا یا شوہر! 🤣🤣🤣
😂 انگریزی بہو 😂💁♂️
اسلم صاحب نے پورے گاؤں میں ڈھنڈورا پیٹ دیا تھا کہ اُن کا سپوت، شعیب میاں، سات سمندر پار سے گوری میم بیاہ کر لا رہا ھے۔ 😎😏 چک نمبر 42 میں ایسا جوش تھا جیسے ورلڈ کپ جیت لیا ھو 😂😅 ایئرپورٹ پر آدھا گاؤں استقبال کے لیے پہنچ گیا۔ ڈھول والے کو خاص ہدایت تھی: “اوئے شیدے! جیسے ھی شعیب کسی گوری کے ساتھ باہر آئے، ایسا دھمال ڈالنا کہ دیواریں ہل جائیں!” 🥁😄 فلائٹ لینڈ ھوئی۔ مسافر باہر آنے لگے۔ اچانک شعیب میاں نمودار ھوئے مگر اکیلے نہیں، ہاتھ میں ایک بڑا سا پنجرہ تھا جس پر مخملی کپڑا پڑا تھا۔ 😳🤔 اسلم صاحب گھبرا کر بولے: “اوئے شعیب! بہو کہاں ھے؟ کیا واش روم گئی ھے؟” شعیب نے شرماتے ھوئے پنجرے سے کپڑا ہٹایا۔ اندر ایک بڑا سا ہرا بھرا طوطا بیٹھا تھا، گلے میں ننھی سی ٹائی پہنے۔ 🦜👔 شعیب بولا:“ابا جی! یہ رھی آپ…
😂 مراثیات! 😆💁♂️
پھجا مراثی ایک دن بیمار ھو گیا۔ 🤒وہ علاج کروانے ڈاکٹر بشیر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے فیس بتائی تو پھجے کی آنکھیں کھل گئیں۔ 😳 پھجا بولا: “ڈاکٹر صاحب! تھوڑا رحم کریں، میں مریض ھوں، بینک نہیں!” 😭 مگر ڈاکٹر بشیر نہ مانا۔ آخر پھجے نے دِل پر پتھر رکھ کر فیس دی، علاج کروایا اور ٹھیک ھو گیا۔ لیکن، پھجا فیس بھولا نہیں! 😏اس نے بدلہ لینے کا ایسا طریقہ سوچا 🤔 اب جہاں چار بندے بیٹھے ہوتے، پھجا اپنا “خواب” سنانا شروع کر دیتا۔ کہتا: “رات میں خواب میں مر گیا…” 😳“فرشتے مجھے اوپر لے جا رھے تھے…” میں نے کہا: “بھائی سیدھا دوزخ لے چلو، میں نے کون سی نیکیاں کی ھیں!” 🤕 دوزخ کے دروازے پر پہنچا۔فرشتے نے لسٹ دیکھی… نام غائب! 😐 میں خوش ھو گیا: “چلو جنت چلتے ھیں!” 😇جنت کے دروازے پر گیا… وہاں بھی لسٹ دیکھی گئی… نام پھر غائب! 😳…
😂 “پچھلی بار بھی یہی ھوا تھا!” 😆💁♂️
دو سِکھ شکاری دوست شکار کے شوق میں ایک چھوٹا سا ھوائی جہاز کرائے پر لے کر جنگل پہنچ گئے۔ قسمت کی ایسی مہربان ھوئی کہ دونوں نے دو بڑے گینڈے شکار کر لیے۔ 🦏🦏 اب مسئلہ یہ تھا کہ گینڈوں کو واپس کیسے لے جایا جائے؟ 😕🤔 دونوں نے پوری طاقت لگا کر گینڈوں کو جہاز میں لادنا شروع کر دیا۔ پائلٹ نے گھبرا کر کہا: “جناب! یہ وزن بہت زیادہ ھے، جہاز شاید اڑ ھی نہ سکے!” 🤕🙄 دونوں سِکھ فوراً بول اُٹھے: “ارے بھائی! پچھلی بار والے پائلٹ نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا!” 😏 پائلٹ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی…مگر آخرکار ان کی ضد کے آگے ہار مان گیا۔ جہاز نے اڑان بھری… چند لمحے فضا میں رہا… پھر دھڑام! 💥 وزن زیادہ ھونے کی وجہ سے جہاز دوبارہ زمین پر آ گرا۔ 🚁⚓ کچھ دیر بعد ایک سِکھ کو ھوش آیا۔ 😵💫👀 اس…
جھگڑالو میاں بیوی –
ایک گاؤں تھا۔اس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے مکان تھے۔ایک مکان میں میاں بیوی رہتے تھے۔یوں تو دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے ،لیکن ان میں جھگڑا بھی بہت ہوتا تھا۔میاں کہتا:”بڑی بی!ذرا دروازہ بند کردو۔“بیوی کہتی:”واہ ،میں کیوں بند کروں۔تم نے کھولا تھا،تم ہی بند کرو۔“میاں کہتا :”نہیں، تم نے کھولا تھا۔ بیوی کہتی :”تم نے ہی حکم دیا تھا تو میں نے کھولا،اب کم سے کم تم اسے بند تو کردو۔“میاں کہتا:”میں نے ساری عمر تمھارے لیے محنت کی۔اب تم میرے لیے ایک ذرا سادروازہ بھی بند نہیں کر سکتیں۔“بیوی کہتی:”کام بانٹ لو۔میں نے کھولا۔تم بند کرو۔“میاں کہتا:”دیکھا،تم مان گئیں کہ دروازہ تم نے کھولا تھا․․․․․․بس دونوں اسی طرح لڑتے رہتے ،لیکن جب لڑتے لڑتے تھک جاتے تو چین سے رہنے لگتے۔ ایک روز بیوی بولی:”سنو،ہم دونوں عمر بھر لڑتے رہے۔سارے گاؤں والے ہم پر ہنستے ہیں۔آؤ اب لڑائی جھگڑا ختم کریں اور ایک کام کریں۔اپنے شادی…
دوستی اور ایثار -۔
کسی بادشاہ کے دربار میں بہت سے خدمت گاروں میں دو گہرے دوست بھی تھے ۔ باقر دریا سے پانی بھر کر لاتا تھااور عاقل سوداسلف لانے اور کھانے پکانے پر مامور تھا۔ عاقل نہایت لاپروا اور فضول خرچ تھا ، مگر اس کے ساتھ نہایت ذہین بھی تھا۔ سلطنت کے بعض ایسے کام جن کو حل کرنے میں بادشاہ اور اس کے وزیر کو وقت پیش آتی ، اور وہ مسئلہ جب عاقل کے علم میں آتا تو وہ اسے نہایت آسانی سے حل کردیتا ۔اپنی اسی خوبی کی وجہ سے عاقل بادشاہ کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ بادشاہ اکثر اسے بہت سے انعامات سے نوازتا رہتا ۔باقر عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص ، مگر وہ کسی بھی قسم کی فضول خرچی واسراف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ عاقل باورچی کانے میں کام کے دوران کھانے پینے کا بہت سا سامان اپنی لاپروائی سے…
چھوٹی سزا –
مرغی فارم میں سفید مرغیاں دور سے دیکھنے میں بہت حسین منظر پیش کر رہی تھیں۔یہ چھ ہزار مرغیاں تھیں، جنہیں ایک ہفتے بعد فروخت کیا جانا تھا۔مرغی فارم کے مالک فیصل نے مرغیوں کی فیڈ کی چالیس بوریاں دو دن قبل ہی منگوائی تھیں۔وہ نہیں چاہتا تھا مرغیوں کی خوراک میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برتی جائے۔فیصل کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے مرغیوں میں کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں آئی تھی اور مقررہ وقت میں مرغیاں تیار ہو گئی تھیں۔مرغی فارم سے کچھ دور پہاڑی سلسلہ تھا۔فارم کی حفاظت کے لئے ہر طرح کا انتظام کیا گیا تھا، تاکہ بارش کا پانی مرغی فارم میں داخل نہ ہو سکے۔آج بھی فیصل مرغی فارم آیا ہوا تھا۔اس نے فارم کے چوکیدار کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا:”مرغی فارم میں سب خیریت ہے نا؟“”سر! مرغی فارم میں ہر طرح کا انتظام موجود ہے سب سے بڑی بات…
بولا اور مارا گیا –
ایک تھا بادشاہ اس کاایک لڑکا تھا جسے تمام رعایا شہزادہ دلیر کے نام سے پکارتی تھی کیوں کہ اس نے بچپن میں بہت سے بہادری کے کام کئے تھے۔ جب وہ دس سال کا ہوا تو بادشاہ نے اس کے پڑھانے کے لیے ایک استاد نوکر رکھا۔ اس شہزادے کے بے ضرورت اور بہت بولنے کی عادت تھی کسی وقت چپ نہ رہ سکتا تھا اس کے اُستاد نے اسے کہا چپ رہا کرو خاموشی میں بہت سے فائدے ہیں۔ اب شہزادہ ہر وقت چپ رہا کرتا صرف اپنے اُستاد سے بولتا چالتا یا کبھی سخت ضرورت کے وقت معمولی بات چیت کرتا۔جب وہ اچھی طرح علم حاصل کر چکا تو اپنے محل کو واپس آگیا لیکن ہر وقت چپ چاپ بیٹھا رہتا بادشاہ ، ملکہ، امیر وزیر اور درباری سب حیران تھے کہ شہزادے کو اس کے استاد نے کیا تعلیم دی ہے۔کہ ہر وقت بت بنا بیٹھا…
خاکی لفافہ –
امتیاز کچھ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔وہ کمپیوٹر کے سامنے تو بیٹھا تھا،مگر کی بورڈ پر اس کی اُنگلیاں حرکت نہیں کر رہی تھیں۔وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا۔نعمان کو معلوم ہو گیا تھا کہ امتیاز کسی وجہ سے پریشان ہے۔دونوں ایک دفتر میں برسوں سے اکٹھے کام کر رہے تھے۔نعمان اپنی کرسی سے اُٹھا۔امتیاز نے نعمان پر نگاہ ڈالی،لیکن زبان سے کچھ کہا نہیں۔ ”امتیاز بھائی!کیا پریشانی ہے؟“نعمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”پریشانی صرف میرے لئے نہیں،ہم سب کے لئے ہے،توصیف صاحب کا تبادلہ ہمارے دفتر میں کیا جا رہا ہے۔“امتیاز کی بات سن کر نعمان نے دہرایا:”توصیف صاحب!․․․․․لو بھئی سب گئے کام سے۔“امتیاز نے کہا:”اب صرف اور صرف تنخواہ میں گزر بسر کرنی پڑے گی۔توصیف صاحب ابھی جہاں کام کر رہے ہیں،وہاں کے نائب قاصد سے لے کر اوپر تک سبھی ناخوش اور پریشان ہیں۔توصیف صاحب نہ خود رشوت لیتے ہیں اور نہ کسی دوسرے…
مکڑا اور مکھی –
کسی باغیچے میں ایک صحت مند مکھی رہتی تھی۔قریب ہی ایک مکڑا بھی رہتا تھا۔وہ اس مکڑے کے جال والے گھر کے پاس سے روز گزرتی،لیکن کبھی جال میں نہ پھنستی۔مکڑا بہت دنوں سے اس مکھی پر نظریں لگائے بیٹھا تھا۔وہ نئے نئے انداز سے جال لگاتا،لیکن مکھی جال کے قریب بھی نہ آتی۔ایک دن مکھی مکڑے کے پاس سے گزری تو مکڑا بولا:”بی مکھی!تمہارا اس راستے سے روز گزر ہوتا ہے،لیکن کبھی تم بھول کر بھی میرے گھر نہیں آئیں۔آخر میں تمہارا پڑوسی ہوں کوئی غیر تو نہیں ہوں۔کسی دن میرے اس غریب خانے کو بھی عزت بخشو۔“مکڑے کی بات سن کر مکھی بولی:”جناب!کسی اور کو بے وقوف بنائیے۔میں تو آپ کے جال میں آنے والی نہیں ہوں،جو بھی آپ کی سیڑھی پر چڑھا،پھر کبھی نہیں اُترا۔ “”واہ!بی مکھی!میں تو آپ کی خاطر داری کرنا چاہتا تھا،ورنہ میرا اس میں کیا فائدہ۔ اگر تھوڑی دیر میرے گھر میں ٹھہر…
فرشتہ صفت انسان –
ایک نئی آباد ہونے والی بستی میں مکان نمبر 15 عمر دین کا تھا،جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس مکان میں جن بھوت رہتے ہیں۔اس محلے میں تیس مکانات تھے۔عمر دین نے مکان پر رنگ روغن کروا لیا تھا۔اتوار کے دن ایک ٹرک میں سامان آیا۔نئے آنے والے کرائے دار کا نام ملک ہدایت اللہ تھا۔ملک صاحب نے دوسرے دن ایک گائے ذبح کرکے تمام گوشت پورے محلے میں تقسیم کر دیا۔ملک صاحب بہت سخی انسان تھے۔غریبوں کو کھانا کھلانا،مصیبت میں ہر ایک کی مدد کرنا،ہر نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ملک صاحب کی خوبی تھی۔ملک صاحب دولت مند آدمی تھے۔وہ اس غریب محلے میں صرف اس لئے کرائے پر آئے تھے کہ وہ غریبوں کے کام آسکیں۔چاہتے تو کسی اچھے علاقے میں بہترین مکان بھی خرید سکتے تھے۔ ایک ماہ بعد رات کے پچھلے پہر ملک صاحب کے مکان کی چھت پر عورتوں کے رونے…
سونے کا ہاتھی –
صدیوں پرانی بات ہے کہ ملک یمن میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔وہ بہت انصاف پسند اور رحمدل تھا۔ملک میں ہر طرف امن و امان تھا۔ایک دن اسے بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ رعایا کی خبر لینی چاہئے۔پس اس نے اعلان کروایا کہ بادشاہ کو کوئی ایسی کہانی سنائے جو اس نے کبھی نہ سنی ہو۔جو ایسی کہانی سنائے گا اسے ”سونے کا ہاتھی“ ا نعام میں دیا جائے گا۔ ملک میں اعلان ہوتے ہی لوگ جوق در جوق بادشاہ کو کہانی سنانے کی غرض سے آنے لگے۔وہ بڑی مزے مزے کی کہانیاں سناتے۔بادشاہ سلامت کہتے۔”میں نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے“۔لوگ تھک ہار کر لوٹ جاتے۔کہانی سنانے والوں نے چڑیا سے باز مروایا۔کبھی کچھوے کو خرگوش سے ہروایا کبھی درخت پر ہاتھی چڑھا دیا،کبھی مچھلی کو صحرا میں زندہ کروایا،دن کو الو اور چمگاڈر کی کہانیاں سنائیں۔ لیکن بادشاہ سلامت ہر ایک کو کہتے،”میں نے یہ کہانی سنی…
گلہری اور درخت
”بڑی خوش نظر آرہی ہو اور پھد کتی پھر رہی ہو۔“درخت نے گلہری کو روک کر پوچھا۔ایسا کیا ہو گیا ہے؟“”ارے میاں درخت!مجھ سے پنگانہ لینا ۔ابھی ابھی پہاڑ کو آرام کرواکرآرہی ہوں ۔وہ بھی بہت بول رہا تھا،اُسے میں نے بتادیا ہے کہ میں چیز بہت کام کی ہوں ۔اب تم کیا چاہتے ہو ؟تمہارے سامنے بھی تقریرکروں ؟گلہری نے درخت پر چڑھتے چڑھتے ہی درخت کو جواب دیا۔“ہلکا بھو را درخت کچھ اور گہرے رنگ والا ہو گیا۔اُسے شاید غصہ آگیا تھا۔”ارے بی بی گلہری !غرور کا ہے کو کررہی ہو؟میں نے تو تم سے یونہی خوشی کا سبب پوچھ لیا اور تم تو سر پر ہی چڑھی جارہی ہو۔اگر تم کوئی کام کی شے ہوتو میں بھی کسی سے کم نہیں۔“میاں درخت کو شاخیں لہراتے جھومتے دیکھ کر بی گلہری غصے میں آگئی۔ ”ہاں ہاں!تم کام کے ہو ۔ کام کے ہو گے لیکن ہل تو نہیں…
ٹھنڈی میٹھی آئس کریم –
ندی کنارے ایک ننھا سا گھر تھا۔اس گھر میں ایک بطخ اور ایک بطخا رہتے تھے۔بطخ بہت اچھی تھی صبح سویرے اٹھتی نہاتی دھوتی اور کام کاج میں لگ جاتی۔بطخا بہت خراب تھا کام چور نکٹھو۔نہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔دن بھر پڑا اینڈتا رہتا۔بطخ بطخے کو بہتیرا سمجھاتی،پروہ نہ سمجھتا۔ ایک کان سے سنتا دوسرے سے اڑا دیتا۔ ایک دن بطخ بولی”کچھ خبر بھی ہے؟سارا اناج ختم ہو گیا اب کھائیں گے کیا؟“بطخے نے کہا”گھبراتی کیوں ہو خدا دے گا۔“بطخ بولی”خدا انہی کو دیتا ہے جو محنت کرتے ہیں۔کام چوروں کو خدا نہیں دیتا۔“بطخے نے کہا”تو میں کیا کروں؟نوکری تو ملتی نہیں۔“بطخ بولی”نوکری نہیں ملتی،نہ سہی مزدوری کرو۔ “بطخے نے کہا ”خدا کو مان!میں اور مزدوری کروں؟توبہ !توبہ!ارے!میرا باپ تحصیل دار تھا۔ اُس کے دروازے پر ہاتھی جھومتے تھے۔صبح شام لنگر بٹتا تھا۔سینکڑوں بھوکے پیٹ بھرتے تھے۔“بطخ بولی”باپ کو چھوڑ اپنے آپ کو دیکھ موا نکٹھو،کاہل،ٹٹو“یہ…
کاہل شیر
کسی جنگل میں ایک شیرنی رہتی تھی جس کے دو بچے تھے۔وہ اپنے دونوں بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔جب تک بچے چھوٹے تھے تب تک شیرنی روزانہ انہیں دوسرے جانوروں کا شکار کرکے لاتی اور خوب پیٹ بھر کر انہیں کھلاتی۔پر جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو اس نے انہیں بھی شکار پر لے جانا چاہا تاکہ انہیں بھی شکار کرنا آئے۔بڑا بچہ فوراً تیار ہو گیا لیکن چھوٹا کہنے لگا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے کچھ دنوں بعد چلوں گا۔آج نہیں کل وغیرہ جیسے بہانے بنانے لگا۔بڑا بچہ ماں کے ساتھ شکار پر جانے لگا۔کچھ دن اور بیت گئے پر چھوٹا بچہ اب بھی شکار پر جانے کے لئے راضی نہ ہوا۔دراصل وہ بہت کاہل تھا۔وہ سوچتا تھا کہ جب بیٹھے بیٹھائے کھانے کو مل جاتا ہے تو میں محنت کیوں کروں۔ شیرنی اس کو بہت سمجھاتی کہ وہ شیر کا بچہ ہے اسے اپنی خوراک حاصل کرنے…
چین کا انصاف پسند بادشاہ۔۔۔
پرانے وقتوں میں چین میں **کنگی** نام کا ایک ایسا انصاف پسند بادشاہ گزرا ہے جو اپنی رعیت کو اولاد کی طرح عزیز رکھتا تھا۔ اس کی عادلانہ حکومت اور رعیت پروری کے قصے آج بھی چین کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے ہیں۔ وہ اپنے افسروں پر کڑی نظر رکھتا تھا اور ذرا سی سختی یا ظلم پر انہیں سخت ترین سزا دیتا تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں کسی کو بھی کسی بے گناہ پر ظلم کرنے کی جرات نہ تھی۔ایک روز جوانی کے دنوں میں، بادشاہ شاہی لباس کے بجائے شکاری بھیس بدل کر شکار کے لیے نکلا۔ اتفاق سے اس کا گھوڑا دوڑتا ہوا بہت دور نکل گیا اور اس کے تمام راہی و ساتھی پیچھے ہی رہ گئے۔راستے میں بادشاہ نے ایک بوڑھے شخص کو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا، محبت کے ساتھ بوڑھے کے پاس گیا اور…
موت کی یاد دہانی ہی انسان کو انصاف اور نرمی کی طرف لوٹا سکتی ہے۔
ایک ظالم بادشاہ اپنی سلطنت میں اس قدر سختی سے حکومت کرتا کہ عوام خوف کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کے دربار میں آئی اور بولی: “بادشاہ سلامت، مجھے آپ سے صرف اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کب مریں گے؟” بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے۔ کچھ دن بعد اسے دوبارہ دربار میں پیش کیا گیا اور وجہ پوچھی گئی کہ اس نے ایسی گستاخانہ بات کیوں کی۔بوڑھی عورت نے کہا: “بادشاہ سلامت، میں یہ اس لیے پوچھ رہی تھی کیونکہ جب آپ مریں گے، تو شاید کوئی نرم دل حکمران آئے، اور میری زندگی کے باقی دن سکون سے گزریں۔ مگر جب سے میں نے یہ سوال پوچھا، آپ نے میری فکر کرتے ہوئے، اپنے رویے پر غور کرنا شروع کر دیا، اور مجھے پتا چلا کہ آپ کے دربار میں پہلے سے کچھ…
بالٹو
برفانی طوفان میں جب پورا شہر موت کے سائے میں تھا… تب ایک کتے نے وہ کر دکھایا جس پر آج بھی دنیا حیران ہے! رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔ برفانی طوفان اس قدر شدید تھا کہ چند قدم دور کھڑا انسان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہوا کی رفتار اتنی تیز تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑ رہے تھے، اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے جا چکا تھا۔ ایک چھوٹا سا امریکی شہر خاموش تھا… لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسا خطرہ چھپا تھا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ شہر کے سینکڑوں بچے ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ قیمتی تھا، کیونکہ اگر دوا وقت پر نہ پہنچی تو نہ جانے کتنی معصوم جانیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ برفانی طوفان نے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ٹرینیں…
بی لومڑی سدھر گئیں –
بندر میاں تو مشہور ہی اپنی نقالی اور شرارتوں کی وجہ سے تھے جس سے جنگل کے تمام جانور لطف اُٹھاتے لیکن بی لومڑی کو اُن کی یہ حرکت سخت ناگوار گزرتی تھی،کیونکہ اکثر و بیشتر وہ بندر میاں کی شرارت کا نشانہ بنتی تھیں۔بات محض شرارت تک ہوتی تو کوئی بات نہ تھی،بندر میاں مذاق ہی مذاق میں بی لومڑی کی بے عزتی کر دیا کرتے تھے اور اپنی عزت تو سبھی کو پیاری ہوتی ہے۔بی لومڑی نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ بندر میاں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ ضرور لیں گی اور جلد ہی بی لومڑی کو موقع بھی مل گیا۔ہوا یوں کہ بی لومڑی کو سخت بھوک لگ رہی تھی۔انھوں نے چٹپٹی چاٹ بنائی جسے ندیدوں کی طرح جلدی جلدی کھا رہی تھیں،اپنی اُنگلیاں چاٹ چکیں تو پیالہ زبان سے چاٹنے لگیں۔ بندر میاں جو اتفاقاً وہاں آ نکلے تھے،بڑے اشتیاق سے بی لومڑی…
نعم“
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ جنگل کی سیر کو گیا ۔اُسکو ایک بوڑھا دکھائی دیاجو باغ میں کھجوروں کی گھٹلیاں بورہا تھا۔بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اِس سے پوچھو کہ یہ کیا بو رہا ہے ؟وزیر نے اُس سے پوچھا تو جواب ملا ؛“کھجور کی گھٹلیاں بورہا ہوں“۔بادشاہ نے پوچھا؛“یہ کتنے عرصے میں پھل لے آئیں گی؟“بوڑھے نے جواب دیا؛“پچیس برس بعد “۔ بادشاہ ہنسنے لگا کہ بوڑھے کے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں اور پچیس سال بعد کا سامان کررہا ہے ۔وزیر نے یہ بات بوڑھے سے کہی تو وہ بولا اگر سب باغ لگانے والے یہی سوچا کرتے جوتم سوچتے ہوتو آج ہمیں ایک بھی کھجور نصیب نہ ہوتی ۔بادشاہ سلامت ! دنیا میں کام یو نہی چلتا رہتا ہے کہ کوئی لگاتا ہے تو کوئی کھاتا ہے ۔ آج ہم بھی اپنے باپ دادا کے لگائے ہوئے درختوں…