Tag Archives: ،urdublogs

😄 عقل کی بات ایک آدمی بس میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ساتھ بیٹھے بچے نے پوچھا:“انکل! آپ روز اخبار پڑھتے ہیں؟” آدمی نے فخر سے کہا:“ہاں بیٹا، تاکہ دنیا بھر کی خبریں معلوم رہیں۔” بچہ معصومیت سے بولا:“پھر تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ میری امی نے کہا ہے، واپسی پر آدھا کلو چینی لیتے آئیے!” بس میں بیٹھے سب لوگ ہنس پڑے، اور وہ آدمی بھی اخبار بند کرکے مسکرا دیا۔ مسکراہٹ بانٹنے سے کبھی کم نہیں ہوتی۔ 😊 😂  خاموشی کی قیمت ایک شخص نے دکان پر جا کر پوچھا:“بھائی، سب سے سستی چیز کیا ہے؟” دکاندار نے مسکرا کر کہا:“مشورہ!” وہ بولا:“اور سب سے مہنگی؟” دکاندار نے جواب دیا:“اسی مشورے پر عمل کرنا!” — 😂 ۔ وقت کی پابندی ایک صاحب ہمیشہ دفتر دیر سے پہنچتے تھے۔ ایک دن افسر نے غصے سے پوچھا:“آخر روز دیر کیوں ہوتی ہے؟” وہ بولے:“سر! آپ ہی…

Read more

کافی پرانی بات ہے، میں بہت چھوٹی تھی، لیکن اتنا ہے کہ یادداشت میں چیز محفوظ ہے۔میرے دادا کی سب سے بڑی بہن جو تھیں، اُن کے گھر سے خبر آئی، مطلب اُن کے ایریا سے کسی نے کال کرکے میرے دادا کو بتایا کہ اُن کی بہن حمیدہ باجی کا نا انتقال ہوگیا ہے۔، پورے محلے میں خبر پھیل گئی۔ کیونکہ ایک ہی گھر، محلے کے اندر، تمام جتنے بھی میرے دادا کے بہن بھائی، سب اُسی ایریا میں رہتے تھے۔ مطلب ایسا لگتا تھا ہر گلی کے اندر چار چار گھر تو ہمارے اپنے ہیں۔ کیونکہ سب جو بچے بھی بڑے ہوگئے تھے، سب کے الگ الگ گھر تھے۔جب دادا کو خبر پتہ چلی، تو دادا اپنے بڑے بھائی کے گھر گئے، سب لوگ اکٹھے ہوئے، اور بس بک کرکے اُن کے گھر پہنچے۔جب وہاں پہنچے تو دیکھاجو ہمارے دادا کی بہن ہماری دادی پودوں کو پانی دے…

Read more

جنگل میں ایک لومڑی کئی مہینوں سے بے روزگار پھر رہی تھی۔ صبح نوکری کی تلاش میں نکلتی اور شام کو مایوسی کو کندھوں پر لادے واپس لوٹ آتی۔ آخر ایک دن اسے خبر ملی کہ جنگل کے امیر ترین میاں بیوی، ریچھ اور ریچھنی، کے گھر ایک ملازم کی جگہ خالی ہوئی ہے۔خبر سن کر لومڑی کی آنکھیں تو چمک اٹھیں، مگر اگلے ہی لمحے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔کیونکہ یہ وہی ریچھ میاں بیوی تھے جن کا نام سنتے ہی جنگل کے طاقتور بیل بھی راستہ بدل لیتے تھے۔ ان کے بارے میں پورے جنگل میں مشہور تھا:“جو جانور ایک بار ان کے ہاں ملازم بن گیا، وہ ایک سال بعد ملازم کم اور پرانا فرنیچر زیادہ لگتا تھا۔” وہ صبح ایک کام کہتے اور شام تک دس نئے کام اس کے ساتھ باندھ دیتے۔“پہلے پانی بھر دو، اچھا جاتے جاتے لکڑیاں بھی لے آنا، بچوں کو بھی…

Read more

دو چوہے تھے جو ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ایک چوہا شہر کی ایک حویلی میں بل بنا کر رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں میں رہتا تھا۔گاؤں اور شہر میں فاصلہ بہت تھا،اس لئے وہ کبھی کبھار ہی ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ایک دن جو ملاقات ہوئی تو گاؤں کے چوہے نے اپنے دوست شہری چوہے سے کہا،”بھائی!ہم دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔کسی دن میرے گھر تو آئیے اور ساتھ کھانا کھائیے۔“شہری چوہے نے اس کی دعوت قبول کرلی اور مقررہ دن وہاں پہنچ گیا۔گاؤں کا چوہا بہت عزت سے پیش آیا اور اپنے دوست کی خاطر مدارات میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔کھانے میں مٹر،گوشت کے ٹکڑے ،آٹا اور پنیر اور میٹھے میں پکے ہوئے سیب کے تازہ ٹکڑے اس کے سامنے لا کر رکھے۔ شہری چوہا کھاتا رہا اور وہ خود اس کے پاس بیٹھا میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہا۔ اس اندیشے…

Read more

اُٹھ نکمے!دن نکل آیا ہے اور تُو ابھی تک سو رہا ہے۔“بندریا نے اپنے بیٹے ٹنکو کو چپل مارتے ہوئے کہا۔”اماں!صبح ہی صبح کیوں مجھے چپل سے مار رہی ہو۔“ٹنکو بندر درد سے کلبلایا۔”تیری بڑی بہن کی شادی قریب ہے اور تجھے کوئی فکر ہی نہیں ہے۔تیرے ابا اور بڑا بھائی جنگل کام کے لئے گئے ہوئے ہیں۔تجھے بھی ان کی طرح محنتی بننا چاہیے۔“ٹنکو گھاس کے بستر پر کسمسانے لگا تو اماں نے کہا:”جلدی سے منہ دھو کر آ،میں ناشتہ لاتی ہوں۔“ٹنکو ناشتہ کرنے کے دوران پیسے جلدی اور زیادہ جمع کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔جلد ہی اس کے ذہن میں ایک منصوبہ آ گیا۔یہ بندروں کا ایک خاندان تھا اور یہ سب بندر جنگل میں رہتے تھے۔ ٹنکو،اس کے اماں ابا،بڑا بھائی منکو اور بڑی بہن چنکی۔ عزت سے زندگی گزارنے کے لئے وہ سب محنت کرتے تھے،سوائے ٹنکو کے۔چنکی کی شادی کی وجہ سے پیسے کمانے ابا…

Read more

دو چوہے تھے جو ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ایک چوہا شہر کی ایک حویلی میں بل بنا کر رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں میں رہتا تھا۔گاؤں اور شہر میں فاصلہ بہت تھا،اس لئے وہ کبھی کبھار ہی ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ایک دن جو ملاقات ہوئی تو گاؤں کے چوہے نے اپنے دوست شہری چوہے سے کہا،”بھائی!ہم دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔کسی دن میرے گھر تو آئیے اور ساتھ کھانا کھائیے۔“شہری چوہے نے اس کی دعوت قبول کرلی اور مقررہ دن وہاں پہنچ گیا۔گاؤں کا چوہا بہت عزت سے پیش آیا اور اپنے دوست کی خاطر مدارات میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔کھانے میں مٹر،گوشت کے ٹکڑے ،آٹا اور پنیر اور میٹھے میں پکے ہوئے سیب کے تازہ ٹکڑے اس کے سامنے لا کر رکھے۔شہری چوہا کھاتا رہا اور وہ خود اس کے پاس بیٹھا میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہا۔ اس اندیشے سے…

Read more

کہانی یہ ہے کہ ایک گرو اور اس کا چیلا ایک ایسے شہر سے گزررہے تھے،جہاں ہر چیز ٹکے سیر بکتی تھی،چاہے سبزی ہویا مٹھائی۔سستی سے سستی اور مہنگی سے مہنگی چیز کے دام ایک ہی تھے،یعنی ایک ٹکے کا ایک سیر۔اتنا سستا شہر دیکھ کر چیلے کاجی للچا گیا۔گروسے کہنے لگا،”یہیں رہ جاتے ہیں۔مزے مزے کی چیزیں خوب پیٹ بھر کر کھایا کریں گے۔“گرونے چیلے کو سمجھایا کہ ایسی جگہ رہنا ٹھیک نہیں ،جہاں اچھے اور بُرے میں کوئی فرق نہیں،لیکن چیلانہ مانا۔ گرو اسے وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ادھر چیلا مٹھائیاں اور روغنی کھانے کھاکھا کر خوب موٹا ہو گیا ۔ایک دن شہر میں ایک شخص کو کسی نے جان سے ماردیا۔سپاہیوں نے قاتل کو بہت تلاش کیا لیکن اسے نہ پکڑ سکے۔مرنے والے کے رشتے داروں نے راجا سے فریاد کی کہ ہمیں جان کا بدلہ جان سے دلایا جائے ۔راجا کو پتا چلا کہ قاتل…

Read more

گاؤں میں ماسٹر اکبر علی کی سخت مزاجی مشہور تھی۔والدین ان کی سخت مزاجی کے باوجود اپنے بچوں کو ان ہی سے تعلیم دلانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔وہ ایک قابل اور فرض شناس استاد تھے۔اپنے کام میں کبھی غفلت نہیں برتتے تھے۔ان سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے اب بڑے اور اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔اپنے ان شاگردوں پر ماسٹر اکبر علی کو فخر بھی تھا۔ ماسٹر اکبر علی کے سر پر ہر وقت جناح کیپ ہوتی تھی۔جناح کیپ پہننے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے سر پر بال برائے نام تھے۔گنجے سر کو چھپانے کے لئے جناح کیپ کا استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ان کے رعب و دبدبے سے بچے خوف زدہ رہتے تھے۔مجال ہے کلاس میں کوئی شور کرے یا ان کے سامنے کسی کی آواز نکل جائے۔ جماعت میں اگر کسی کی آواز گونجتی تو وہ صرف ماسٹر اکبر علی کی ہوتی تھی۔…

Read more

یاسر، عادل، فہد اور عمر چار دوست تھے۔چاروں دوستوں کو مہم جوئی کا بہت شوق تھا۔ایک روز فہد نے خبر سنی کہ آبادی کے پیچھے بہت دور ایک پُراسرار وادی ہے۔کوئی وہاں جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔اس نے یہ خبر تمام دوستوں کو بتائی تو سب دوستوں نے ارادہ کیا کہ رات کو گھر والوں سے چھپ کر وہاں جائیں گے۔ رات کو چاروں دوست نقشہ ساتھ لے کر چپکے سے نکل پڑے۔وہ ایک نہایت پتھریلے علاقے سے گزرے۔جب وہ وہاں پہنچے تو رات بہت ہو رہی تھی اور انھیں بہت بھوک لگ رہی تھی۔ انھوں نے جھیل کے کنارے اپنا خیمہ لگایا اور کھانا پکانے کے لئے آگ جلانی شروع کر دی۔چاروں دوست خوش تھے کہ ایک کتا آیا اور فہد کو چاٹنے لگا۔سب حیران تھے کہ اتنے پتھریلے علاقے میں ایک کتا کہاں سے آیا۔ سب نے اس کتے کو پیار کیا، مگر اس کتے کی آنکھیں…

Read more

بھیڑیاجو ندی پہ پانی پینے آیا تھا۔وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک بھیڑیا بھی پانی پی رہا تھا۔ابھی اس بچے نے چند گھونٹ ہی پیے تھے کہ بھیڑیا اس کی طرف آیا اور بولا ”تم پانی گندا کیوں کر رہے ہو․․․․؟دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں۔“بھیڑ کے بچے نے جسے میمنا بھی کہتے ہیں نے ڈرتے ہوئے کہا”جناب پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آرہا ہے۔“بھیڑیا گرج کر بولا”تم نے پچھلے سال مجھے بُرا بھلا کیوں کہا تھا․․․؟“”جناب پچھلے سال تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔میری عمر تو ابھی صرف چھ مہینے ہے۔“”پھر وہ تمہارا بھائی یا باپ ہو گا۔“بھیڑیے نے کہا اور میمنے پر حملہ کرکے اسے کھا گیا۔لیکن بچو!یہ کہانی اُس میمنے کی نہیں اس کے چھوٹے بھائی کی ہے۔ وہ اکثر اپنی ماں سے اپنے بڑے بھائی کے بارے میں پوچھا کرتا تو اس کی ماں اسے یہ کہانی سناتی اور ساتھ ہی…

Read more

آج سے کئی سو سال پہلے چوہوں کا ایک خاندان چھوٹے سے بل میں رہائش پذیر تھا۔دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہیں نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کر سکتے تھے،سو سارا دن انہیں بھوکا رہنا پڑتا۔وجہ یہ تھی کہ بلی نہایت آسانی سے انہیں دیکھ لیتی اور شکار کر لیتی تھی،چوہے رات کو بھی نکلتے تو جب بھی چھپ چھپا کر نکلتے۔بلی کا خوف ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتا رہتا۔وہ کتنی بھی احتیاط کیوں نہ برتے،بلی ایسے دبے پاؤں آتی کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی اور ان کا ایک ساتھی بلی کے لنچ یا ڈنر کی نذر ہو جاتا۔ایک لمبے عرصے تک وہ خوف کے عالم میں جیتے رہے،ہر روز ان کے ساتھی بلی کی بھینٹ چڑھتے رہے۔آخر ایک رات بوڑھے چوہے نے اجلاس بلوایا،جس میں ہر چھوٹا بڑا چوہا شریک ہوا۔ بوڑھے چوہے نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے…

Read more

پیٹو میاں کا اصلی نام تو جنید تھا لیکن امی اُن کو پیار سے جوجی پکارتی تھیں، باقی گھر والے اسے پیٹو میاں کہتے تھے۔پیٹو بھی ایسے کہ کھانا کھا کر بھی شور مچاتے تھے۔”میں بھوکا ہوں۔“ امی اس کے آگے مختلف چیزیں رکھ دیتیں، مگر وہ ضد کر کے کہتے۔”میں تو چینی کا پراٹھا کھاوٴں گا۔“ کھا کھا کے پیٹو میاں تو پھول کر کپّا ہو چکے تھے۔اکثر ان کی جیب میں چوری کے بسکٹ ہوتے۔کبھی قُلفی کھوئے ملائی والی کھا رہے ہوتے۔قریب سے آم پاپڑ بیچنے والا گزر رہا ہوتا، تو اسے بھی آواز دے کر ٹھہرا لیتے اور پھر سب کچھ کھا پی کے بھی باورچی خانے میں جا کے کہتے ”امی، بڑی سخت بھوک لگ رہی ہے۔بس چینی کا ایک پراٹھا پکا دیجئے نا۔مزے کی بات تو یہ تھی کہ چینی کا پراٹھا بھی چینی کے ساتھ کھاتے۔پیٹو میاں کی عمر تیرہ سال تھی۔وہ آٹھویں جماعت…

Read more

کسی جگہ ایک کوے نے اپنا چھوٹا سا گھر بنا رکھا تھا۔جہاں پر وہ رات کو قیام کرتا اور دن کو اپنے کھانے پینے کا اہتمام کرتا تھا اور مختلف جگہوں سے دانہ دُنکا چن کر وہاں کھا کر سو جایا کرتا تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ کوا دن کے وقت اپنا پیٹ بھرنے کی خاطر ایک ایسی جگہ پر جا پہنچا جہاں بہت زیادہ پانی تھا اور پانی کے اردگرد تھوڑا سا گوشت موجود تھا۔کوے نے پہلے اپنی پیاس بجھانے کے لئے پانی میں چونچ ڈالی لیکن اس کے منہ پر ایک زور دار چانٹا پڑا۔یہ چانٹا ایک چیل نے اس کے منہ پر مارا تھا جو پہلے سے پانی کے حوض میں موجود تھی اور اپنی پیاس بجھا رہی تھی۔ جونہی چیل نے کوے کے منہ پر چانٹا مارا کوے کو دن میں تارے نظر آنے لگے اور وہ ہواس باختہ ہو کر پانی کے اندر گر گیا…

Read more

مسٹر حیرت اور مسٹر ناک دونوں پڑوسی تھے اور اکثر ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ان کی دوستی بہت پرانی تھی۔گاؤں والے ان کی دوستی کی مثال دیتے تھے،لیکن ایک بات بہت بُری تھی کہ دونوں دوست اکثر بے پرکی اُڑایا کرتے تھے اور جس بات پر اَڑ جاتے تھے۔اس سے پیچھے نہ ہٹتے۔ایک دفعہ مسٹر حیرت کہنے لگے:”میں نے اُڑتی ہوئی گائیں دیکھی ہیں،جو پرندوں کی طرح اُڑتی ہیں۔ “یہ سن کر مسٹر ناک نے جواب دیا:”اور میں نے ہتھوڑے اور کیلیں کھیتوں میں اُگتے دیکھی ہیں۔“یہ جواب سن کر مسٹر حیرت کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلارہ گیا۔ایک دن مسٹر حیرت اور مسٹر ناک لکڑیاں لینے جنگل میں جارہے تھے۔مسٹر ناک نے پوچھا:”میرے دوست!کیا تمھارے پاس نیا کلہاڑاہے؟“”ہاں !نیا ہے۔ “مسٹر حیرت نے کہا:”اور ایسا کلہاڑا تم نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو گا۔ یہ صرف لکڑیاں ہی نہیں کاٹتا،بلکہ پتھروں کو بھی کاٹ دیتاہے۔“مجھے یقین نہیں آرہا۔“مسٹر ناک…

Read more

کسی جنگل میں دو بلیاں رہتی تھیں۔ایک بلی کالی اور دوسری اورنج تھی۔دونوں آپس میں اتفاق سے رہتی تھیں اور مل جل کر شکار کھیلتیں۔کھانے کو جو کچھ مل جاتا مل بانٹ کر کھا لیتیں۔کالی بلی کوئی شکار کرتی تو وہ اورنج بلی کو بلا لیتی اور اورنج بلی کو کوئی شکار ملتا تو وہ بھی اکیلے نہ کھاتی۔دونوں ہنسی خوشی رہتی تھیں۔ ایک دن کالی بلی گاؤں میں چلی گئی۔وہ ایک گھر میں داخل ہوئی اور وہاں سے اسے گھی کی روٹی مل گئی۔اس نے پہلے کبھی گھی والی روٹی نہیں کھائی تھی، اس لئے گھی کی خوشبو اسے بے حد پسند آئی۔گاؤں میں کتے بھی تھے اور وہ کتوں سے بہت ڈرتی تھی، اس لئے وہیں بیٹھ کر کھانے کی بجائے روٹی اٹھا کر جنگل کی طرف بھاگی۔اس نے سوچا کہ یہ گھی کی روٹی تو بڑی مزیدار ہے، اس لئے یہ میں اکیلے ہی کھاؤں گی۔ کالی…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے کہ ملک یمن میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت انصاف پسند، نیک اور رعایا کا خیال رکھنے والا تھا۔ بادشاہ کا وزیر بہت دانا، عقل مند تھا۔ وہ بادشاہ کو اچھے اچھے مشورے دیتا جو رعایا کے لئے بہت فائدہ مند ہوتے ۔وزیر بہت ضعیف ہو چکا تھا وہ بادشاہ کے والد کا بھی وزیر رہا تھا ۔اس نے ایک دن بادشاہ سلامت سے کہا کہ اب میری صحت اجازت نہیں دیتی آپ کوئی نوجوان ،ذہین وزیر رکھ لیں ۔مگر بادشاہ اس کے لئے تیار نہ تھا ۔بادشاہ نے کہا”وزیر محترم آپ کی موجودگی میں کسی وزیر اعظم کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ آپ جیسا عقل مند اور ذہین وزیر نہیں ملے گا۔”بادشاہ سلامت میں اپنی زندگی میں ایک اچھا، ذہین وزیر دیکر جانا چاہتا ہوں ۔ آپ رعایا میں اعلان کر دیں ۔میں ان کا امتحان لونگا اور کامیاب ہونے والے کو…

Read more

چراغ دین ایک کسان تھا۔سیدھا سادہ اور محنتی۔دن رات کام کرتا۔کھیتوں میں بیج بوتا، پانی دیتا، سبزیاں اُگاتا۔ان کو بیچ کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا۔آرام اور سکون سے زندگی گزر رہی تھی۔ایک دن چراغ دین اپنے کھیت پر تھا کہ ایک ہٹا کٹا، موٹا تازہ اور خوف ناک ریچھ آ دھمکا۔اس کو دیکھ کر چراغ دین پیچھے ہٹا اور بھاگنا چاہتا تھا کہ ریچھ نے اس کو پکڑ لیا اور کہا کہ مجھ سے کوئی بچ کر نہیں جا سکتا۔میں جس پر حملہ کرتا ہوں، اس کو کھائے بغیر نہیں چھوڑتا۔بے چارہ چراغ دین سہم گیا۔پریشانی کی وجہ سے اس کی عقل جواب دینے لگی، لیکن پھر اس نے اپنے آپ پر قابو پایا۔ہوش حواس درست کیے اور ریچھ سے بڑی لجاجت سے کہا:”بھالو بھائی! آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ آپ طاقتور ہیں، میں کمزور۔آپ کا کیا مقابلہ کروں گا۔آپ کا جو دل چاہے کیجیے، لیکن اگر…

Read more

ایک ویران کنویں کے نزدیک سے گزرتے وقت خرگوش نے بوڑھی لومڑی کی آوازیں سنیں:”ارے بچاؤ! کوئی مجھے باہر نکالو!“کنواں عرصے سے ویران پڑا تھا۔اس میں تھوڑا سا پانی باقی ر ہ گیا تھا۔برسوں کی دھول اور سوکھے پتوں سے کنواں تقریباً آدھا بھر گیا تھا۔کنویں کی منڈیرپر کھجور کاایک تنا گرا ہوا تھا جس پر ایک چرخی پر رسی لپٹی ہوئی تھی ۔ رسی کا ایک سراتنے سے بندھا رہتا تھا۔دوسرے سے بالٹی بندھی تھی جوعموماً کنویں کے اندر ہی پڑی رہتی تھی ۔اس میں کئی سوراخ تھے۔کنویں میں سے پھر آواز آئی:”ارے کوئی ہے جو اس بوڑھی دکھیا کو باہر نکالے․․․․․؟“خرگوش نے جھانک کر پوچھا”مگر تم یہاں آئے کیسے․․․․․؟“لومڑی بولی ”ارے بیٹا ! رات کے وقت ادھر سے گزررہی تھی ۔ اس عمر میں نہ تو بینائی کام کرتی ہے اور نہ عقل۔پیر پھسلا اور میں یہاں آپڑی ۔خرگوش میرے لال ،مجھے باہر نکالو۔“خوبصورت ننھا مناخرگوش محض خرگوش…

Read more

چوہدری فتح خان کا گاؤں میں اپنا ہی دبدبہ تھا۔ زمینوں کے مالک تھے، لیکن جدید ٹیکنالوجی سے اتنے ہی دور تھے جتنا ایک معصوم طالب علم ریاضی سے۔ ایک دن ان کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے نے انہیں محبت میں آخری ماڈل کا چمکتا ہوا آئی فون تحفے میں بھیج دیا۔چوہدری صاحب نے گاؤں کے چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر فخریہ انداز میں فون میز پر رکھا اور اپنے سب سے وفادار ملازم “کرامتے” سے بولے:“کرامتے! اس فون کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ایک غائبانہ بی بی بیٹھتی ہے، جس کا نام ‘سیری’ (Siri) ہے۔ تم اس سے دنیا کا کوئی بھی سوال پوچھو، وہ فوراً بول کر جواب دیتی ہے!”کرامتے نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر فون کو دیکھا اور بولا:“چوہدری جی! یہ تو پھر بڑی کمال کی مخلوق ہوئی، لیکن کیا یہ ہمارے گاؤں کے مسئلوں کا علاج بھی بتا سکتی…

Read more

ایک دن مرزا صاحب نے بیگم کی روز روز کی ڈانٹ سے بچنے اور گھر میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بازار گئے اور ایک چمکتا ہوا سمارٹ روبوٹک ویکیم کلینر خرید لائے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ اب گھر میں صفائی کے لیے کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑیں گی، کیونکہ یہ ننھی سی گول مشین مصنوعی ذہانت سے لیس ہے!بیگم نے مشکوک نظروں سے اس کالے رنگ کے ڈش نما روبوٹ کو دیکھا اور بولیں:“مرزا! یہ جھاڑو ہے یا ہمارے گھر کے سکون کا صفایا کرنے والی کوئی نئی مصیبت؟”مرزا صاحب نے فخریہ گردن اکڑا کر کہا:“بیگم! یہ جدید سائنس کا شاہکار ہے۔ تم بس بٹن دبتے دیکھو، یہ روبوٹ اس گھر کا سب سے عقل مند رکن ثابت ہوگا!”مرزا صاحب نے بڑی شان سے موبائل ایپ کھولی اور سٹارٹ کا بٹن دبا دیا۔ روبوٹ نے ایک ہلکی سی…

Read more

100/573
NZ's Corner