بلاعنوان
بیگم نے گھبرا کر شوہر کو فون کیا۔ بیگم: 😟 “سنیں! ونڈو کا لاک نہیں کھل رہا…” شوہر: 😌 “ارے! اتنی سی بات؟ تھوڑا سا تیل گرم کرو اور لاک پر ڈال دو… فوراً کھل جائے گا!” بیگم: 🤔 “پکا؟” شوہر: 😎 “سو فیصد… ایک بار ٹرائی تو کرو!” بیگم نے فوراً تیل گرم کیا… اور لاک پر انڈیل دیا۔ 😅 پندرہ منٹ بعد شوہر نے فون کیا۔ شوہر: 😄 “ہاں بھئی! لاک کھل گیا؟” بیگم: 😐 “نہیں… اب تو پورا لیپ ٹاپ ھی بند ہو گیا ھے!” شوہر حیران رہ گیا۔ “لیپ ٹاپ؟؟؟” 😨 “ارے! تم نے بتایا کیوں نہیں کہ ونڈوز کی بات کر رھی ھو؟” بیگم نے بڑے معصوم انداز میں جواب دیا: 😶 “بتایا تو تھا… ونڈو سیون ھے!” 😅 😁😆🤣🤣 اور اپنے اُس دوست کو ٹیگ کریں جو ہر مسئلے کا حل “یوٹیوب” یا “تیل” میں ڈھونڈتا ھے۔ 😂🙆♂️
بلاعنوان
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک قصائی کے پاس ایک گدھا تھا۔ صبح سے شام تک وہ گوشت، لکڑیاں اور سامان ڈھوتا رہتا۔ ایک دن قصائی اسے جنگل کے کنارے لکڑیاں لانے لے گیا۔ وہاں ایک نہایت مہذب اور خوش اخلاق جنگلی ریچھ سے اس کی ملاقات ہوئی۔پہلی ملاقات سلام دعا میں گزری، دوسری میں حال احوال پوچھا گیا، پھر آہستہ آہستہ ایسی دوستی ہو گئی کہ جب بھی گدھا جنگل آتا، ریچھ اسے بڑے اصرار سے کہتا، “دوست! کبھی ہمارے گھر بھی تشریف لائیے، ایک دن آپ کی دعوت ضرور کروں گا۔”گدھا ہر بار ہنس کر کہتا، “ضرور آؤں گا، ضرور آؤں گا۔” اندر ہی اندر وہ بہت خوش ہوتا۔ وہ سوچتا، “واہ! دنیا میں ایک شخص تو ایسا نکلا جو مجھے بھی عزت سے دعوت دیتا ہے، ورنہ یہاں تو ہر ایک کو مجھ سے صرف کام ہی ہوتا ہے۔”آخر ایک دن اس نے جانے کا ارادہ…
آخری چراغ
ایک قدیم شہر میں ایک عجیب روایت تھی۔ہر سال شہر کے چوک میں ہزاروں چراغ جلائے جاتے تھے۔ لوگ یقین رکھتے تھے کہ جس کا چراغ سب سے زیادہ دیر تک روشن رہے گا، وہی سب سے کامیاب انسان کہلائے گا۔ اس لیے ہر شخص اپنے چراغ کے گرد دیواریں بناتا، شیشے کے غلاف چڑھاتا، ہوا روکنے کے لیے نوکر کھڑے کرتا۔ ہر کوئی اپنے چراغ کو بچانے میں لگا رہتا۔ اسی شہر میں ایک گمنام بڑھئی رہتا تھا۔اس نے بھی ایک چراغ جلایا، مگر اسے چوک میں رکھنے کے بجائے شہر کی اس تنگ گلی میں رکھ دیا جہاں رات کے وقت مسافر ٹھوکریں کھاتے تھے۔ لوگ اس پر ہنسے۔ “تم مقابلے میں ہار جاؤ گے۔” وہ صرف مسکرا دیتا۔ رات گہری ہوئی۔ تیز آندھی چلی۔ چوک کے مضبوط چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگے، کیونکہ ہر شخص اپنے چراغ کو بچانے میں اتنا مصروف تھا کہ دوسروں…
بلاعنوان
فضل اور ہارون دو گہرے دوست نہر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ایک طرف پکی سڑک بنی ہوئی تھی۔ہارون کا گھر فضل کے گھر سے کچھ دور شہر کے قریب تھا۔نہر کی طرف پکی سڑک کے کنارے ایک بہت پرانا ڈاک خانہ تھا۔یہ سڑک بہت خوف ناک کہلاتی تھی۔یہاں لوگوں کو اکثر بھوت نظر آتے تھے۔رات کے دس بجے کے بعد یہاں سے کوئی نہیں گزرتا تھا۔ایک دن ہارون،فضل کے گھر تھا تو باتوں باتوں میں دیر ہو گئی۔اس کا گزر اسی سڑک سے ہونا تھا۔ہارون اپنے آپ کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔اس لئے اکیلا ہی چل دیا۔سردیوں کی رات تھی۔اس نے سوچا یہ بہت پرانی باتیں ہیں۔یہاں کوئی بھوت وغیرہ نہیں ہو سکتا۔لوگ یونہی ڈراتے رہتے ہیں۔ایسا کچھ نہیں وہ سر کو جھٹک کر آگے بڑھا۔ہارون سنسان سڑک پر جا رہا تھا۔ آج تو رات کے گیارہ بج گئے۔اس کو بہت سردی محسوس ہوئی۔ سڑک بہت…
عجیب درخت
درخت جو سایہ نہیں دیتا تھا جنگل کے کنارے ایک عجیب درخت کھڑا تھا۔ وہ سب سے اونچا تھا، سب سے گھنا بھی، مگر اس کے نیچے کبھی کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ پرندے اس پر گھونسلہ نہیں بناتے تھے۔ مسافر اس کے سائے سے گزر کر آگے چلے جاتے تھے۔ باقی درخت اس کا مذاق اڑاتے۔ “اتنا بڑا ہو کر بھی کسی کے کام نہیں آتا!” وہ خاموش رہتا۔ ایک رات طوفان آیا۔ ایسا طوفان جس نے برسوں پرانے درخت جڑوں سمیت اکھاڑ دیے۔ صبح سورج نکلا تو جنگل کی شکل بدل چکی تھی۔ مگر وہ درخت اب بھی اپنی جگہ کھڑا تھا۔ لوگ حیران تھے۔ ایک بوڑھے لکڑہارے نے اس کے تنے پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا، “میں جانتا ہوں لوگ تیرے نیچے کیوں نہیں بیٹھتے…” سب نے پوچھا، “کیوں؟” اس نے جواب دیا، “کیونکہ یہ درخت باہر سے نہیں، اندر سے زخمی ہے۔ اس کا تنا…
خاموش مسافر
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ لوگ اسے اکثر تنہا پہاڑی راستوں پر چلتے دیکھتے، مگر کسی نے اسے کبھی کسی سے اپنی نیکیوں کا ذکر کرتے نہ سنا۔ ایک دن گاؤں میں ایک امیر تاجر آیا۔ اس نے اعلان کیا کہ جو شخص سب سے زیادہ نیک ہو گا، اسے وہ سونے کی ایک تھیلی انعام میں دے گا۔ اگلے ہی دن مسجد، بازار اور گلیوں میں لوگوں نے اپنی نیکیوں کے قصے سنانے شروع کر دیے۔ کوئی کہتا، “میں نے سو غریبوں کو کھانا کھلایا۔” کوئی فخر سے بولتا، “میں نے مسجد تعمیر کرائی۔” مگر وہ درویش خاموش رہا۔ تاجر نے حیران ہو کر پوچھا، “بابا! آپ نے اپنی کوئی نیکی کیوں نہیں بتائی؟” درویش نے مسکرا کر کہا،“جو نیکی زبان پر آ جائے، وہ دل سے اترنے لگتی ہے۔ اور جس نیکی کا گواہ صرف اللہ ہو، اس کا اجر انسان نہیں دے سکتا۔” چند…
سایۂ دعا
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کھجور کا درخت تھا۔ اس کے نیچے روز ایک شخص آ کر بیٹھتا، قرآن کی تلاوت کرتا اور خاموشی سے لوگوں کے لیے دعا مانگتا۔ وہ کسی سے اپنی نیکیوں کا ذکر نہ کرتا، نہ کسی سے بدلے کی امید رکھتا۔ گاؤں کے کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ “صرف دعا سے کیا ہوتا ہے؟ اگر واقعی نیک ہو تو لوگوں کو دکھائی بھی دے۔” وہ صرف مسکرا دیتا۔ ایک سال شدید خشک سالی آ گئی۔ کھیت سوکھ گئے، کنویں خشک ہونے لگے اور لوگوں کے دلوں میں مایوسی اترنے لگی۔ ہر شخص اپنی فکر میں تھا۔ اسی دوران گاؤں کا ایک نوجوان، جو ہمیشہ اس بوڑھے پر ہنسا کرتا تھا، سخت بیمار پڑ گیا۔ اس کے والدین ہر ممکن علاج کروا چکے مگر سکون نہ ملا۔ آخرکار وہ اسی بوڑھے کے پاس آئے۔ بوڑھے نے ان کی بات خاموشی سے سنی، پھر ہاتھ…
لومڑی اور جگنو
گھنے جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ وہ خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ طاقت اور چالاکی ہی زندگی میں کامیابی دلاتی ہیں۔ وہ اکثر چھوٹے جانوروں کا مذاق اڑاتی اور کہتی، “تم میں سے کسی کی کیا حیثیت؟ جنگل صرف طاقتوروں کا ہوتا ہے۔” ایک رات جنگل پر ایسی گھپ اندھیری چھا گئی کہ چاند بھی بادلوں میں گم ہو گیا۔ راستے نظر آنا بند ہو گئے۔ بڑے بڑے جانور بھی اپنی پناہ گاہوں تک نہ پہنچ سکے۔ اسی وقت ایک ننھا سا جگنو اپنی معمولی سی روشنی کے ساتھ اڑتا ہوا آیا۔ لومڑی ہنس پڑی۔ “تمہاری اتنی سی روشنی سے کیا ہوگا؟” جگنو نے مسکرا کر کہا، “اندھیرے سے لڑنے کے لیے سورج بننا ضروری نہیں، بس اپنی روشنی بجھنے نہ دو۔” وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اس کے پیچھے ہرن، خرگوش، کچھوے، پرندے، یہاں تک کہ وہ مغرور لومڑی بھی…
بلاعنوان
ایک بہت دانا بزرگ گاؤں کی مسجد میں وعظ کرنے آئے۔ منبر پر چڑھے، مسکرائے اور سب سے پہلا سوال کیا: “بتاؤ! کیا تُم جانتے ھو کہ آج میں کس موضوع پر بیان کرنے والا ھوں؟” سب نے ایک آواز میں کہا: “نہیں… ھمیں نہیں معلوم!” بزرگ فوراً بولے: “جب تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کیا کہنے والا ھوں، تو تم میری بات کیا سمجھو گے؟” یہ کہہ کر منبر سے اترے…اور سیدھے گھر چلے گئے! اگلے جمعے بزرگ پھر آئے۔ اس بار گاؤں والوں نے پہلے ھی منصوبہ بنا لیا۔ “آج سب نے ‘ہاں’ کہنا ھے!” بزرگ نے پھر وھی سوال کیا: “کیا تم جانتے ھو کہ میں کیا بیان کروں گا؟” سب نے زور سے کہا: “جی ہاں! ھم جانتے ھیں!” بزرگ مسکرائے اور بولے: “ماشاءاللہ! جب سب جانتے ھی ھیں تو پھر میرے بیان کی ضرورت ھی کیا ھے؟” اور دوبارہ گھر روانہ ھو گئے۔…
غرور کا انجام
چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔ اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو یہ…
پلنگ کی قیمت
ایک بڑھیا کا بیٹاجس کو شیخ چلی کے نام سے پکارا جاتا بڑا کام چور تھا۔ بڑھیا محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پالتی۔ بڑھیا بیمار ہوئی تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ رات کو ماں بیٹا دونوں نے فاقہ کیا۔ اگلے دن ماں نے کہا ”اب تم کچھ کام کرو‘ جنگل سے لکڑیاں لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔ شیخ چلی نے جنگل کی راہ لی۔ جو درخت اس کے راستے میں آتا‘ اس سے پوچھتا ”میں تجھے کاٹ لوں ؟“ کسی درخت نے جواب نہ دیا۔ شیخ چلی گھر جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک اور درخت نظر آیا۔ اس نے اس نے پاس جا کر پوچھا ”میں تجھے کاٹ لوں؟“درخت بولا۔ ”ہاں کاٹ لے“ مگر ایک نصیحت کرتا ہوں۔ میری لکڑی سے پلنگ بنانا اور بادشاہ کے دربار میں لے جانابادشاہ کو کہنا پہلے ایک…
صرف تین حرف انگریزی 😄
شعیب اور روحان نے سوچا کہ شہر جا کر کچھ بڑا کام کریں گے۔وہاں انہوں نے ایک صاحب کو اپنے کتے سے انگریزی میں بات کرتے دیکھا: “Come here!”“Sit down!”“Go there!” شعیب حیران ھو کر بولا: “اوئے روحان! شہر کے کتے بھی انگریزی سمجھتے ھیں اور ھم ابھی تک ‘اوئے’ اور ‘ہٹ جا’ پر ھی چل رھے ھیں! آج سے ھم بھی انگریزی بولیں گے۔” دونوں نے ایک پرانی ڈکشنری خریدی…اور پوری ڈکشنری میں سے صرف تین لفظ یاد کیے: YesNo Very Good اگلے دن راستے میں دیکھا کہ ایک آدمی قتل ھو چکا تھا۔اتنے میں پولیس آ گئی۔انسپکٹر نے پوچھا:“تم دونوں نے قتل کیا ھے؟” شعیب نے انگریزی جھاڑنے کا موقع غنیمت جانا، سینہ چوڑا کیا اور بولا: “Yes!” 😏 انسپکٹر غصے میں آگیا:“کیوں مارا؟ دشمن تھا؟”روحان نے فوراً دوسرا لفظ استعمال کیا: “No!” 🙅♂️ انسپکٹر حیران رہ گیا۔بولا:“واہ! قتل بھی تم نے کیا اور دشمنی بھی نہیں تھی؟…
دنیا کا سب سے سست آدمی 😂
نصیر بھائی کی سستی کے قصے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ آم کے درخت کے نیچے لیٹے تھے کہ اچانک ایک پکا ہوا آم ٹوٹ کر سیدھا ان کے سینے پر آ گرا۔ انہوں نے آنکھ کھولی…آم کو دیکھا…پھر دوبارہ آنکھ بند کر لی۔ 😴 کیونکہ آم اٹھانے کے لیے ہاتھ ہلانا پڑتا تھا! 😂 کافی دیر بعد ان کا دوست بشیر وہاں سے گزرا۔ نصیر بھائی نے آہستہ سے آواز دی: “اوئے بشیر… ذرا ادھر آ… ایک بہت ضروری کام ھے۔” بشیر بھاگتا ھوا آیا: “خیر تو ھے؟” نصیر بھائی بولے: “یار…! یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دے، کافی دیر سے سینے پر بوجھ بنا ھوا ھے!” 🥭😂 بشیر نے ماتھا پکڑ لیا۔ بولا: “نصیر! تم اتنے سست ھو؟ سنا ھے تم نے ایک کتا بھی رکھا ھوا ھے، وہ کہاں ھے؟” نصیر بھائی نے ٹھنڈی سانس لی اور بولے: “یار… وہ تو…
دیگ کا انتقال” 😂
ایک دن آدمی اپنے محلے کے مشہور کنجوس سیٹھ کے پاس گیا اور بولا: “سیٹھ جی! آج ھمارے گھر دعوت ھے، اپنی بڑی والی دیگ ذرا ادھار دے دیں۔” سیٹھ نے دل پر پتھر رکھ کر دیگ دے دی۔ 😄 اگلے دن آدمی دیگ واپس لایا مگر اس کے اندر ایک چھوٹی سی کٹوری بھی رکھی ھوئی تھی۔ سیٹھ نے حیران ھو کر پوچھا:“یہ کٹوری کس کی ھے؟” آدمی نے مسکراتے ھوئے بولا: “مبارک ھو سیٹھ جی! کل رات آپ کی دیگ نے اس ننھی سی کٹوری کو جنم دیا ھے۔ چونکہ دیگ آپ کی ھے، اس لیے بچہ بھی آپ ھی کا ھوا!” 😊 لالچ نے عقل پر پردہ ڈال دیا…سیٹھ نے خوشی خوشی دیگ بھی رکھ لی اور کٹوری بھی۔ 😁 چند دن بعد آدمی پھر آیا: “سیٹھ جی! آج پھر دعوت ھے، وھی دیگ چاہیے۔” سیٹھ نے دل ھی دل میں سوچا:“اس بار شاید پلیٹوں کا پورا…
🔥😂 پیر صاحب اور بکرا پارٹی 🐐🍲
ایک پیر صاحب اپنے مرید کے گھر دعوت پر گئے۔ مرید نے عزت و احترام میں اپنا سب سے موٹا بکرا ذبح کیا اور ایسی لذیذ کڑاہی بنائی کہ خوشبو پورے محلے میں پھیل گئی۔ 😋💁♂️ کھانا سامنے آیا تو پیر صاحب نے رعب جھاڑتے ھوئے فرمایا: “بیٹا! میں پہلے مراقبہ کروں گا۔ اگر بکرے کی روح نے اجازت دی تو کھاؤں گا، ورنہ سارا گوشت غریبوں میں بانٹ دینا۔” یہ کہہ کر آنکھیں بند کر کے “مراقبہ” شروع کر دیا۔ 😇 مرید مسکرایا، چپکے سے کچن گیا اور پانچ منٹ بعد واپس آیا تو سامنے صرف خالی تھالی تھی! 😄 کچھ دیر بعد پیر صاحب نے آنکھیں کھولیں اور بڑے اعتماد سے بولے: “ماشاءاللہ! ابھی بکرے کی روح خواب میں آئی تھی۔ کہنے لگی: ‘پیر صاحب! آپ جی بھر کر کھائیں، میری آخرت سنور جائے گی۔’” مرید نے فوراً جواب دیا: “حضور! وہ بکرا بڑا عجیب تھا…” پیر صاحب…
کسان اور قاضی
پرانے زمانے میں ترکی میں ایک کسان تھا جس کا نام عبدل تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی مگر اس زمین سے اس کا گزارہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بیوی نے دو بھینیسں رکھی ہوئی تھیں، وہ ان کا دوودھ نکالتی اور دودھ سے گھی، مکھن اور پنیر بناتی۔ کسان یہ دودھ اور پنیر شہر لے جاتا اور وہاں سے اس کے بدلے شہد خرید لاتا۔ گاؤں میں شہد کی بہت مانگ تھی، واپس آکر وہ شہد بیچ کر رقم حاصل کر لیتا تھا۔ کچھ عرصہ سے مسئلہ یہ ہورہا تھا کہ جب وہ اپنا سامان لے کر شہر کے دروازے پر پہنچتا تو وہاں کا دربان روک لیتا کہ قاضی کے اجازت نامے کے بغیر تم شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ایک مرتبہ عبدل مکھن اور پنیر کے برتن لے کر شہر پہنچا تو دربان نے اسے روک لیا کہ تم قاضی کی اجازت کے…
سچی دوستی
افریقہ کے وسیع و عریض صحرائے کالاہاری میں، جہاں سنہری ریت دن کے وقت سورج کی تپش سے دہکتی اور رات کو ٹھنڈی ہواؤں کی آغوش میں سکون کا سانس لیتی تھی، ایک ننھی صحرائی چھپکلی اور ایک بچھو رہتے تھے۔دونوں کی دوستی دیکھ کر جنگل کے جانور حیران ہوتے، کیونکہ ایک نہایت چست اور دوسرا اپنی زہریلی دم کے باعث مشہور تھا۔ایک شام جب آسمان سرخ شام کی چادر اوڑھے ہوئے تھا، چھپکلی نے مسکراتے ہوئے پوچھا:“دوست! تم تو ذرا سی آہٹ پر دوسروں کو ڈنگ مار دیتے ہو، مگر مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچاتے۔ آخر کیوں؟”بچھو نے خاموشی سے ریت پر نظر جمائے رکھی، پھر دھیمے لہجے میں بولا:“اس لیے کہ تم میری دوست ہو۔ صحرا کی اس بےآب و گیا دنیا میں میرا کوئی اپنا نہیں۔ اگر میں اپنے واحد ساتھی ہی کو نقصان پہنچاؤں، تو آخر میرے پاس بچے گا ہی کون؟”چھپکلی کے چہرے پر مسکراہٹ…
عقاب اور چمگادڑ
ایک سرسبز اور پُراسرار جنگلات میں، جہاں قدیم درخت اپنی شاخوں سے آسمان کو چھوتے تھے، رنگ برنگے پرندے صبح کی ہوا میں نغمے بکھیرتے تھے، اور شام ڈھلے ہر سمت خاموشی کا جادو اتر آتا تھا، وہیں ایک ننھا سا چمگادڑ اور ایک عظیم الشان عقاب آباد تھے۔دونوں آسمان کے مسافر تھے، مگر ان کی دنیائیں الگ الگ تھیں۔عقاب طلوعِ آفتاب کے ساتھ اپنے طاقتور پروں کو پھیلاتا، بادلوں سے بلند پرواز کرتا اور روشن دن کا بے تاج بادشاہ دکھائی دیتا۔ اس کی نگاہ میلوں دور تک ہر جنبش کو دیکھ لیتی۔دوسری طرف، چمگادڑ سورج کے غروب ہوتے ہی اپنی آرام گاہ سے نکلتا۔ رات کی خاموش فضاؤں میں وہ نہایت مہارت سے اڑتا، تاریکی اس کی ساتھی تھی اور چاندنی اس کی راہنما۔ایک دن اتفاق سے صبح اور شام کے سنگم پر دونوں کی ملاقات ہو گئی۔عقاب نے اپنے رعب دار لہجے میں پوچھا:“اے ننھے چمگادڑ! تم…
بہلول دانا
بہلول نامی ایک بزرگ غزنی کے رہنے والے تھے۔ یہ اکثر ایسی حرکتیں اور ایسی باتیں کر دیا کرتے تھے جو بظاہر سمجھ میں نہ آتی تھیں۔بھوک لگتی تو بھری مجلس میں کچھ لے کر کھانا شروع کر دیتے۔ نیند آتی تو چاہے کوئی امیر یا غریب پاس بیٹھا ہو یہ پاؤں پھیلا کر لیٹ جاتے۔ ان باتوں سے بعض لوگ انہیں بہلول دیوانہ کہتے تھے اور بعض بہلول دانا۔ ایک دفعہ کسی نے ہنسی سے کہا۔ ’’بہلول! آپ کو بادشاہ نے گدھوں کا حاکم مقرر کر دیا ہے۔‘‘فرمایا۔ ’’پھر یہیں بندھے رہو۔یعنی تم بھی گدھے ہو۔‘‘ایک مرتبہ کسی نے کہا۔ بہلول! بادشاہ نے تمہیں پاگلوں کی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ فرمایا۔ ’’اس کے لیے تو ایک دفتر درکار ہوگا۔ ہاں دانا گننے کا حکم ہو تو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔‘‘ ایک دن آپ بادشاہ کے پاس گئے۔ جو اس وقت کچھ سوچ رہا تھا۔ آپ…
ظلم کا انجام — ایک سبق آموز حکایت
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جو اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے دور دور تک بدنام تھا۔ اس کی رعایا اس سے شدید خوفزدہ رہتی تھی۔ مظلوم لوگ دن رات اس کی موت کی دعائیں مانگتے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو کرتے تھے۔ ظلم کی داستانیں ہر زبان پر تھیں، مگر بادشاہ اپنی سرکشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی پرانی روش ترک کر رہا ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ آج کے بعد نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ کسی کا حق مارا جائے گا۔ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ ابتدا میں کسی نے یقین نہ کیا۔ لوگوں نے اسے محض ایک دکھاوا سمجھا، مگر وقت گزرتا گیا اور بادشاہ واقعی اپنے وعدے پر قائم رہا۔…