Author Archives: NZ's Collection

Un día, Sardarji se quemó gravemente las dos orejas. Llegó al hospital llorando. El doctor le preguntó: “¡Sardarji! ¿Qué pasó?” 😕🤔 Sardarji respondió: “¡Doctor! Estaba planchando cuando de repente sonó el teléfono. ¡En lugar del móvil, me quemé la oreja con la plancha caliente!” 😰🔥 El doctor, sorprendido, dijo: “Bueno, le quemé una oreja, ¿pero cómo se quemó la otra?” 😕🙄 Sardarji, enfadado, exclamó: “¡Ay, doctor! ¡El pobre hombre que llamó, volvió a llamar!” 😂🔥☎️

Era la casa más antigua del barrio. Paredes rotas, ladrillos agrietados aquí y allá, yeso desmoronándose, techos que se derrumbaban, como si estuvieran a punto de colapsar. Siempre estaba oscuro dentro. En esta casa antigua también había un pozo. Si entrabas por la puerta rota, veías un columpio colgando. Los niños del barrio corrían hacia allí, ansiosos por columpiarse. Si un niño se balanceaba con fuerza, el columpio llegaba al borde del pozo y el niño sentado en él salía corriendo asustado. Un día estaba sentado en el columpio cuando alguien lo empujó con fuerza por detrás. Grité. La cuerda del columpio se me escapó de las manos y desperté en el pozo, luchando por mantenerme a flote. En cuanto mis pies tocaron el fondo, vi una puerta. Alguien me jaló a través de esa puerta y entonces la puerta desapareció. Me encontré de pie en un mundo nuevo y…

Read more

وہ محلے کا سب سے پرانا مکان تھا۔ ٹوٹی پھوٹی دیواریں، جگہ جگہ سے چٹخی اینٹیں ، اُدھرتا پلستر، اکھڑتی چھتیں ، جیسے ابھی گرجائیں گی۔ اندر ہروقت اندھیر اچھایا رہتا۔ پرانے طرز کے اس مکان میں ایک کنواں بھی تھا۔ ٹوٹے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوں تو ایک جھولا لٹکا نظر آتا۔ محلے کے بچے جھولے کے لالچ میں وہاں پہنچ جاتے۔اگر کوئی بچہ جھولا زور سے جھلاتا توجھولا کنویں کے اوپر پہنچ جاتا اور جھولے پہ بیٹھ بچہ خوف سے چلانے لگتا۔میں ایک دن جھولے پر بیٹھا تھا کہ کسی نے پیچھے سے جھولے کو زور سے دھکادے دیا۔ میرے منھ سے چیخ نکلی ۔ جھولے کی رسی ہاتھوں سے چھوٹ گئی اور اس میں قلابازیاں کھاتا ہوا کنویں میں جاگرا۔ جیسے ہی میرے پاؤں کنویں کی تہ میں لگے، مجھے وہاں ایک دروازہ نظرآیا۔ کسی نے مجھے اس دروازے سے اندر کھینچ لیا اور پھر وہ…

Read more

ایک دن سردار جی کے دونوں کان بری طرح جل گئے۔ روتے ھوئے ہسپتال پہنچے۔ ڈاکٹر نے پوچھا: “سردار جی! یہ کیا ھوا؟” 😕🤔 سردار جی بولے: “ڈاکٹر صاحب! میں کپڑوں پر استری کر رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ جلدی میں موبائل کی جگہ گرم استری کان سے لگا لی!” 😰🔥 ڈاکٹر نے حیران ھو کر کہا: “اچھا، ایک کان تو سمجھ آیا مگر دوسرا کان کیسے جل گیا؟” 😕🙄 سردار جی غصے سے بولے: “اوئے ڈاکٹر! جس کمبخت نے فون کیا تھا، اُس نے دوبارہ فون کر دیا تھا!” 😂🔥☎️

Read more

ایک کالا کّوا،ایک فریبی بھیڑیا ،ایک مکار گیدڑتینوں ایک جنگل کے باسی تھی۔اس جنگل کا راجا ایک شیر تھا۔وہ اس کی خدمت میں رہتے تھے ۔اتفاق کی بات کہ ادھر سے ایک قافلہ گزرا۔قافلے کا ایک اونٹ یہاں آکر بیمار پڑگیا۔قافلے والوں نے بیمار اونٹ کو وہیں چھوڑ دیا اور آگے چلے گئے۔اونٹ لوٹ پیٹ کر اچھا ہو گیا،بلکہ ہری ہری گھاس کھا کر خوب موٹا تازہ ہو گیا۔ایک دن جنگل کے راجا کی سواری اس طرف سے گزری۔اونٹ بہت گھبرایا۔اس نے خیر اسی میں دیکھی کہ شیر کے سامنے جا کر سرجھکا دیا۔شیرنے گرج کر کہا:”تمھاری یہ ہمت کیسے ہوئی کہ اونٹ کی طرح منھ اُٹھائے میرے ملک میں آگئے۔“اونٹ نے اپنی کہانی سنائی اور سرجھکا کر کہا:”حضور !میں آپ کے رحم وکرم پر ہوں۔چاہوتو ماروچاہو جلاؤ۔ شیر نے اونٹ کو تا بعداری پر آمادہ دیکھا تو اسے معاف کر دیا۔پھر اسے اپنے خدمت گاروں میں شامل کرلیا۔کوے،بھیڑے اور…

Read more

آغا صاحب کرایہ لینے آئے تو ان کا کرائے دار موجود نہیں تھا،بلکہ ایک خطرناک شکل والا انسان باہر آیا اور اس نے آغا صاحب کو بتایا کہ وہ اس مکان کا نیا مالک ہے۔آغا صاحب یہ سن کر چکرا گئے۔انھیں لگا کہ شاید یہ جھوٹ ہے،مگر اس شخص نے جس طرح ان کے منہ پر دروازہ بند کیا،وہ سمجھ گئے کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ان کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی گئی۔انھوں نے ہر ممکن کوشش کر لی،ہر دروازہ کھٹ کھٹایا،مگر کچھ نہ بن سکا۔پولیس کے پاس رپورٹ درج کرائی تو بھی کچھ نہ ہوا۔قبضہ کرنے والے شخص کے پاس پکے کاغذات تھے۔پھر یہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا،جہاں ایک تکلیف دہ اور صبر آزما عمل کا آغاز ہوا۔دن،ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے۔ اس طرح کئی سال گزر گئے۔ آغا صاحب کے پاس جو کچھ تھا،انھوں نے مقدمے پر…

Read more

جنگل میں ایک نہایت غریب مگر خوددار چوہا رہتا تھا۔ کئی دن سے رزق کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ آخر ایک صبح اس نے فیصلہ کیا کہ قسمت آزمانے کے لیے سیدھا جنگل کے بادشاہ، شیر، کے دربار میں حاضر ہوا جائے۔ وہ کانپتے قدموں سے محل میں داخل ہوا، ادب سے سر جھکایا اور بولا، “بادشاہ سلامت! میں چوری نہیں کرنا چاہتا، محنت کی روٹی کھانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی چھوٹا سا کام مل جائے تو زندگی بھر وفاداری سے انجام دوں گا۔” شیر نے اس کی بات غور سے سنی۔ چوہے کی آنکھوں میں خودداری تھی، زبان میں عاجزی اور لہجے میں سچائی۔ شیر نے مسکراتے ہوئے کہا، “محل کے شاہی گودام میں روزانہ اناج کی بوریاں، شہد کے مٹکے اور خشک میوہ آتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو روز ان سب کی گنتی کرے، رجسٹر میں اندراج کرے اور شام…

Read more

شیر اور زرافے کی دوستی سے جنگل کے تمام جانور حیران تھے کیونکہ شیر جانوروں کا شکار کرتا تھا۔زرافے کے دوست ہرن اور زیبرا اکثر زرافے کو کہتے کہ شیر پر اعتبار نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ کسی دن شیر کو شکار نہ ملے اور وہ تمہیں شکار بنا لے۔لیکن زرافہ ہرن اور زیبرے کی بات کو ہنسی میں ٹال دیتا۔زرافہ اکثر شیر کو کہتا کہ اگر میں شکار نہ کروں تو کھاؤں گا کیا؟میں تمہاری طرح گھاس نہیں کھا سکتا جس طرح تم میری طرح گوشت نہیں کھا سکتے۔زرافہ شیر کی بات سن کر چپ ہو جاتا۔ایک دن جنگل میں شکاری آگئے۔زرافہ اپنی لمبی گردن سے درختوں کے پتے کھانے میں مصروف تھا اس کی نظر ان شکاریوں پر پڑی تو وہ فوراً شیر کے پاس گیا اور شیر کو ساری صورتحال بتائی کہ جنگل میں شکاری آگئے ہیں اور وہ ایک بڑے درخت پر مچان بنا رہے ہیں۔…

Read more

کہتے ہیں کہ عرب کے کسی علاقے میں چوروں کے ایک گروہ نے کسی پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا ۔اُن چوروں سے اُس پہاڑی کا قبضہ چھڑانے کیلئے اُس وقت کے بادشاہ کا لشکر عاجز رہا ۔وہ چور ایک محفوظ ترین غار میں پناہ گزین تھے ،بادشاہ کو اُس کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ اگر ان لوگوں کے شرپر قابو نہ پایا گیا تو اُن کا شراسی طرح بڑھتا جائے گا جو درخت ابھی جڑ پکڑ رہا ہے ،اُسے اُکھیڑ نا زیادہ آسنا ہے ،بہ نسبت اس کے کہ وہ جڑ پکڑ جائے ۔ وہ مکمل درخت بن گیا تو پھر جڑ سے اُکھیڑنا مشکل ہو گا چنانچہ بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ ان ڈاکوؤں کی جاسوسی کروائی جائے ۔جس وقت وہ ڈاکو لوٹ مار کرنے کیلئے چلے تو اُن کی قیام گاہ خالی ہو گئی۔بادشاہ نے تجربہ کار اور لڑائی کے ماہر سپاہیوں کو اُس غار…

Read more

عمر اور ہادی کو سیر کرنے کا بہت شوق تھا۔اتوار کی چھٹی تھی۔دونوں نے جنگل جا کر گھومنے کا منصوبہ بنایا۔اس سے پہلے وہ کبھی جنگل میں نہیں گئے تھے۔جنگل کی پُرسکون خاموشی میں درختوں کے درمیان چلتے چلتے ان کی نظر ایک ننھے سے خرگوش پر پڑی جو ان کی طرف معصومانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔عمر نے اپنے بیگ سے بسکٹ نکال کر خرگوش کو دیا، جسے وہ منہ میں دبا کر ایک طرف بھاگ گیا۔ دونوں نے جنگل میں خوب مزے کیے، تتلیوں کے پیچھے بھاگے۔گھاس میں لوٹ پوٹ ہوئے، درختوں پر چڑھے اور اُترے۔کھانا کھا کر دونوں نے واپس گھر جانے کا ارادہ کیا، مگر یہ کیا؟ وہ دونوں چاروں طرف سے گھنے درختوں میں گھرے ہوئے تھے اور فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ واپسی کے لئے کس طرف جائیں! عمر کا خیال تھا کہ دائیں طرف سے واپسی کا سفر شروع کرنا چاہیے،…

Read more

پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔ اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو بُرا کیا ہے؟…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ رحمدل اور انصاف پسند تھا۔اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات تھے وہ جنگ و جدل سے بھی پرہیز کرتا تھا۔بادشاہ کی طرح شہزادے بھی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دن ملکہ کا ہیرے جواہرات اور قیمتی موتیوں والا ہار گم ہو گیا محل کے داروغے نے بہت کوشش کی ہار مل جائے مگر ہار نہ ملا اس نے انعام کا اعلان بھی کیا مگر کسی نے بھی اتنا قیمتی ہار واپس نہ کیا آخرکار معاملہ بادشاہ تک پہنچا اس نے دربار میں اعلان کیا کہ ہمیں اپنے نوکروں،خدمتگاروں پر بھروسہ ہے مگر افسوس ان میں سے کسی نے نمک حرامی کی ہے اور ہار واپس کرنے پر تیار نہیں کوئی ایسا ذہین آدمی چاہئے جو ہمیں ہار ڈھونڈ کر دے ہم اسے مالا مال کر دیں گے بہت سے لوگ آئے…

Read more

ایک قصبے میں ایک شخص نے اپنا پرانا کنواں اپنے پڑوسی کو فروخت کر دیا۔  سودا طے ہو گیا، رقم بھی ادا کر دی گئی اور نیا مالک خوشی خوشی کنویں سے پانی نکالنے آیا۔ مگر اچانک پرانا مالک وہاں پہنچا اور بولا: “میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر موجود پانی نہیں۔ اگر پانی استعمال کرنا ہے تو الگ قیمت ادا کرو!” یہ سن کر آس پاس کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔ نیا مالک خاموش رہا، مگر اسے یقین تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ 🤲 وہ سیدھا علاقے کے قاضی کے پاس گیا اور پورا واقعہ سنا دیا۔ قاضی نے دونوں فریقوں کو عدالت میں طلب کر لیا تاکہ انصاف کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ قاضی نے پہلے پرانے مالک سے پوچھا: “کیا واقعی تم نے کنواں بیچا ہے؟” اس نے فخر سے جواب دیا: “جی ہاں، کنواں بیچا ہے،…

Read more

ایک قدیم سلطنت میں ایک بہت بڑا بازار لگتا تھا۔  دور دور سے تاجر اپنا سامان بیچنے آتے، ہر طرف رونق ہوتی، بچے کھیلتے، لوگ خریداری کرتے اور بازار زندگی سے بھرپور دکھائی دیتا تھا۔ ایک دن ایک شہد فروش اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ گاہکوں کی بھیڑ میں اس کے برتن سے شہد کی صرف ایک بوند زمین پر گر گئی۔ اس نے سوچا: “صرف ایک قطرہ ہی تو ہے، کون اس کی پروا کرے گا!” اور وہ اسے صاف کیے بغیر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ چند ہی لمحوں بعد ایک مکھی آ کر اس شہد پر بیٹھ گئی۔  پھر دوسری، تیسری اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی مکھیاں وہاں جمع ہو گئیں۔ قریب ہی ایک مکڑی نے موقع دیکھ کر ایک مکھی پر حملہ کر دیا۔ چند لمحوں بعد ایک چھپکلی آئی اور مکڑی کو پکڑنے لگی۔ لوگ یہ منظر دلچسپی سے دیکھنے لگے، مگر کسی نے…

Read more

ایک بکری پیاس سے بے حال پانی کی تلاش میں نکلی۔ دور اسے چمکتا ہوا پانی دکھائی دیا۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے ادھر چھلانگ لگا دی، مگر وہ پانی نہیں، دلدل تھی۔ چند ہی لمحوں میں وہ اس میں بری طرح دھنس گئی۔ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی مزید دھنس جاتی۔ خواہش جب عقل پر غالب آ جائے تو انسان سراب اور حقیقت میں فرق کرنا بھول جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد ایک بھیڑیا بھی وہاں آ پہنچا۔ وہ بھی شکار اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔ دور سے بکری کو دیکھا تو لالچ میں آ کر فوراً چھلانگ لگا دی۔ مگر وہ بھی اسی دلدل کا شکار ہو گیا۔ لالچ اکثر وہ جال ہوتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ بکری نے بھیڑئیے کو تڑپتے دیکھا تو مسکرا دی۔ بھیڑئیے نے حیرت سے پوچھا:“تم خود بھی مصیبت میں ہو، پھر ہنس کیوں رہی…

Read more

ایک دن ملا نصیرالدین نہ جانے کیا سوچ کر اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے۔ جب واپس نیچے اتارنے لگے تو گدھے نے ضد پکڑ لی۔ وہ ایک قدم بھی نیچے اترنے کو تیار نہ تھا۔ ملا نے کبھی اسے پیار سے سمجھایا، کبھی ڈانٹا، کبھی کھینچا، کبھی دھکا دیا، مگر گدھا اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخرکار ملا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور سوچا کہ شاید کچھ دیر بعد گدھا خود ہی نیچے اتر آئے۔ کچھ وقت گزرا تو ملا نے اوپر دیکھا۔ گدھا آرام سے کھڑا نہیں تھا، بلکہ پوری طاقت سے چھت پر لاتیں مار رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ملا گھبرا گئے۔ وہ جانتے تھے کہ چھت زیادہ مضبوط نہیں، اگر گدھا یونہی لاتیں مارتا رہا تو پوری چھت گر سکتی ہے۔ ملا فوراً دوبارہ چھت پر پہنچے اور ہر ممکن کوشش کی کہ…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کوے کو جنگل کی سیر کا شوق پیدا ہوا تو وہ کوا اُڑتا اُڑتا ایک جنگل میں چلا گیا۔جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے مور جمع تھے اور سب پروں کو پھیلا کر اپنے خوبصورت پَر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔کوا بھی ان موروں کا تماشا دیکھنے لگا۔ان کے نیلے ہرے اور سنہرے پَر اسے بہت اچھے لگے۔کوے نے دل میں سوچا کہ ان کے پَر کتنے خوبصورت ہیں،یہ دُم پھیلا کر ناچتے ہیں تو اتنے بھلے لگتے ہیں۔میں اگر ان موروں کے پَر جو اِدھر اُدھر گر جاتے ہیں جمع کرکے اپنے پروں پر لگا لوں تو میں بھی مور بن جاؤں گا۔کوے نے یہ سوچ کر اِدھر اُدھر سے مور کے پَر جمع کئے،پروں میں لگائے اور پھر موروں میں جا کر انہی کی طرح رقص کرنے کی…

Read more

ایک دن رمضو نے سب گھروالوں کو ناشتا دے دیا تھا ،لیکن سیٹھ صاحب ابھی تیار نہیں تھے۔ رمضو نے ان کے لیے ناشتے کی تیاری شروع کی۔اس نے انڈا توڑا تو خراب نکلا۔”اوہ!یہ کیا ہوا۔“رمضو کے منہ سے بے اختیار نکلا،کیوں کہ انڈوں کی ٹوکری خالی ہو گئی تھی ۔وہ پورے کچن میں انڈا تلاش کرنے لگا،مگر انڈا نہ ملا۔گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔اتنا وقت نہیں کہ بازار جا کر انڈے لائے جاسکیں ۔اس نے اپنی لمبی ٹوپی اُتاری اور اس مسئلے کا حل سوچنے لگا۔ پھر وہ کھڑ کی میں آیا اور باہر جھانکا۔وہ بنگلے کا پچھلا حصہ تھا۔وہاں ایک بڑا تالاب تھا،جس کے گرد درخت اور جھاڑیوں اُگی تھیں۔اسے تالاب میں بطخیں تیرتی نظر آئیں ،اچانک اس کے دماغ میں ایک انوکھا خیال آیا۔اس نے خود ہی اپنی پیٹھ ٹھوکنے کی کوشش کی اور بڑ بڑایا:”واہ رمضو! تم نے کیا دماغ پایا ہے۔بس اب…

Read more

کسی جنگل میں ایک گھوڑا اور ہرن دو دوست رہتے تھے۔ایک دفعہ کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ہرن کافی پھُرتیلا تھا،لڑائی مار پیٹ تک پہنچ گئی۔گھوڑے کو زیادہ چوٹیں آئی تھیں۔دونوں ایک دوسرے سے دور بیگانوں کی طرح رہنے لگے۔ایک دن گھوڑے نے جنگل میں ایک شکاری کو دیکھا تو اس نے سوچا کہ ہرن سے انتقام لیا جائے۔وہ شکاری کے پاس گیا اور پوچھا:”کیا تم کسی ہرن کو شکار کرنے آئے ہو؟“شکاری:”ہاں!“گھوڑے نے کہا:”میں تمہیں ایک ہرن کا ٹھکانہ بتا سکتا ہوں۔“شکاری دل ہی دل میں خوش ہوا،یعنی ایک تیر سے دو شکار۔اس نے گھوڑے سے کہا:”اگر تم میری مدد کرو تو کیا ہی بات ہے!کیا میں تمہاری پیٹھ پر بیٹھ جاؤں؟“گھوڑا فوراً راضی ہو گیا۔ شکاری نے پھر کہا:”اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میں تمہارے منہ میں لگام ڈال دوں؟“گھوڑے نے پوچھا:”اس سے کیا ہو گا؟“شکاری نے کہا:”جیسے ہی مجھے ہرن نظر آئے گا میں…

Read more

ایک زمانہ گزرا کسی شہر میں ایک قاضی تھا جو بے حد انصاف پسند تھا-ایک دفعہ ایک آدمی روتا پیٹتا اس کے پاس آیا اور بولا-“قاضی صاحب! میرے پڑوس میں ایک انعام نامی نوجوان رہتا ہے- دو ماہ گزرے اس نے مجھ سے پانچ سو روپے ادھار لیے تھے- مگر اب وہ انہیں واپس کرنے کا نام ہی نہیں لیتا- میں غریب آدمی ہوں- میں نے پائی پائی جوڑ کر وہ روپے جمع کیے تھے- خدا کے لیے میرے ساتھ انصاف کیجیے”-قاضی نے اسے تسلی دی اور اس کے پڑوسی انعام کو عدالت میں بلوایا اور کہا-“نوجوان تم نے اس شخص سے جو پانچ سو روپے ادھار لیے تھے- تم اسے واپس کیوں نہیں دیتے؟”-انعام کے چہرے پر حیرت کے آثار پیدا ہوگئے- اس نے کہا-“جناب! وہ پانچ سو روپے تو میں نے ہی اسے ادھار دیے تھے- فرید نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ یہ روپے اپنے کاروبار…

Read more

240/3474
NZ's Corner