مستعار تاج (ادھار لیا ہوا تاج)
ایک وسیع و عریض سلطنت میں، لوگ ہر چند سال بعد ایک قدیم درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے جسے “صداؤں کا درخت” کہا جاتا تھا۔ وہاں وہ اپنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تھے جو “قیادت کا تاج” پہنے۔ لیکن وہ تاج کوئی عام زیور نہ تھا—وہ لوگوں کی امیدوں، پسینے اور قربانیوں سے چمکتا تھا۔ ہر شخص ایک حقیقت جانتا تھا: یہ تاج کبھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتا، بلکہ صرف ادھار دیا جاتا ہے۔جب کسی رہنما کا انتخاب ہوتا، تو بزرگ کہتے: “اسے ہلکا محسوس کرتے ہوئے پہننا، کیونکہ یہ بہت سے لوگوں کی مرضی پر ٹکا ہوا ہے۔”شروع میں، ہر نیا حکمران عاجزی سے چلتا۔ وہ کسانوں، تاجروں، اساتذہ اور بچوں کی بات سنتے۔ وہ احتیاط سے حکومت کرتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ناکام ہوئے تو تاج واپس لیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت دلوں کو بدلنے کا ہنر جانتا تھا۔ایک حکمران،…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdupoetry urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔ ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔” اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔” اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔ حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ناقابلِ تسخیر گرہ: کیوں آپ کی منطق آپ کے راستے کی رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ایک قدیم شہر میں، ایک افسانوی گرہ نے ایک رتھ کو مندر کے ستون سے جکڑ رکھا تھا۔ یہ درخت کی چھال سے اس قدر الجھا کر بنائی گئی تھی کہ کوئی بھی—یہاں تک کہ بڑے بڑے ذہین دماغ بھی—اس کا سرا تلاش نہ کر سکے۔ مشہور روایت تھی: “جو اس گرہ کو کھولے گا، وہی پورے ایشیا پر راج کرے گا۔”صدیوں تک دنیا کے قابل ترین علماء اور ماہرینِ منطق نے اپنی قسمت آزمائی۔ وہ تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتے رہے، گرہ کے ہر پیچ و خم اور ہر پوشیدہ خلا کا تجزیہ کرتے رہے۔نتیجہ؟ مکمل ناکامی۔ وہ گرہ انسانی عقل کے لیے ایک چیلنج بنی رہی، اور ہر کوئی تھک ہار کر شکست تسلیم کر گیا۔ 🗡️پھر اپنی فوج کے ساتھ ایک نوجوان فاتح وہاں پہنچا۔ اس “ناقابلِ حل” پہیلی کا سامنا کرتے ہوئے،…
#bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge bloganuary dailyprompt urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
صحیح وقت سے پہلے بڑا بننے کی قیمتکچھ چیزیں اس لیے نہیں بکھرتیں کہ وہ کمزور ہوتی ہیں، بلکہ وہ اس لیے ٹوٹ جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنی برداشت سے زیادہ تیزی سے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ایک پرسکون دلدل میں، ایک چھوٹے سے مینڈک نے کنارے پر چرتی ہوئی ایک گائے کو دیکھا۔ گائے اتنی بڑی، مضبوط اور پر اثر نظر آ رہی تھی کہ مینڈک کے دل میں بھی اس جیسا بڑا بننے کی خواہش جاگ اٹھی۔چنانچہ مینڈک نے پانی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا، اپنا پیٹ پھلایا اور دوسرے مینڈکوں سے پوچھا:“کیا میں ابھی تک اس گائے جتنا بڑا ہوا ہوں؟”دوسروں نے دیکھا اور جواب دیا: “قریب قریب بھی نہیں!”لیکن مینڈک نے رکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے مزید پانی پیا، خود کو مزید کھینچا اور بار بار اپنے جسم کو پھلاتا گیا، کیونکہ وہ جلد از جلد بڑا بننے کی ٹھان چکا تھا۔ ہر بار…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary bloganuary dailyprompt urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک پرانے زمانے کی بات ہے۔ چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو اس کی ساری دولت تھی۔ وہ اس گھوڑے سے کھیت جوتتا، فصل اُگاتا، اور اپنی گزر بسر کرتا۔ ایک دن گھوڑا بھاگ گیا۔ پڑوسی دوڑے دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا گھوڑا چلا گیا۔ اب تم کھیت کیسے جوتو گے؟ تم کیا کھاؤ گے؟ یہ تو بہت برا ہوا۔” بوڑھے کسان نے کہا: “برا؟ اچھا؟ کون جانتا ہے؟” پڑوسی حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ کچھ دن بعد گھوڑا واپس آیا۔ اور وہ اکیلے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ پڑوسی پھر دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی خوش قسمتی ہے! تمہارا گھوڑا واپس آیا اور دو اور گھوڑے بھی ساتھ لایا۔ اب تم بہت امیر ہو گئے۔” بوڑھے کسان نے کہا: “اچھا؟ برا؟ کون جانتا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday dailyprompt urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
افریقہ کے گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ذہین تھا، کم از کم وہ خود کو ذہین سمجھتا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھنے میں ماہر تھا، پھل توڑنے میں ماہر تھا، شاخ سے شاخ چھلانگ لگانے میں ماہر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا حل اسے معلوم ہے۔ وہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ جب کوئی جانور کسی مشکل میں پھنستا، بندر فوراً دوڑ کر آتا اور اپنی رائے دیتا۔ کبھی وہ چیونٹی کو بتاتا کہ دانہ کیسے اٹھانا ہے، کبھی پرندے کو بتاتا کہ گھونسلا کیسے بنانا ہے۔ سب اس کی مدد کی تعریف کرتے تھے۔ ایک دن بندر دریا کے کنارے گیا۔ وہ ایک درخت پر بیٹھا پھل کھا رہا تھا کہ اس کی نظر دریا میں گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی پانی میں تیر رہی ہے۔ مچھلی خوش تھی، چھلانگیں لگا رہی تھی، پانی…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
Untitled۔۔۔🙂!
The streets of Medina were still bathed in the first rays of dawn. The sun had not yet shown its full face when a man stood on the highway, loading his camel with goods. He had a simple cloak on his body, a turban on his head, and a simple whip in his hand. His face had the light that only the faces of true believers have. This was no ordinary traveler. This was the Commander of the Faithful, the second Caliph, Hazrat Umar Farooq (may Allah be pleased with him). He was going to Syria alone. Yes, the head of the entire state, without any bodyguard, without any royal convoy, riding only on a single camel. With him was only his servant Aslam. Aslam politely asked:“O Commander of the Faithful, you ride the camel, I will walk.” Hazrat Umar looked at him lovingly and said:“No, Aslam, you will also…
Intitulado۔۔۔🙂!
Las calles de Medina aún estaban bañadas por los primeros rayos del amanecer. El sol aún no había alcanzado su punto máximo cuando un hombre se detuvo en el camino, cargando su camello con mercancías. Llevaba una sencilla capa, un turbante y un látigo en la mano. Su rostro irradiaba la luz propia de los verdaderos creyentes. No era un viajero cualquiera. Era el Comandante de los Creyentes, el segundo califa, Hazrat Umar Farooq (que Alá esté complacido con él). Iba a Siria solo. Sí, el jefe de todo el estado, sin guardaespaldas, sin séquito real, montado únicamente en un camello. Solo lo acompañaba su sirviente Aslam. Aslam pidió cortésmente:“Oh, Comandante de los Creyentes, usted monte en el camello, yo caminaré”. Hazrat Umar lo miró con cariño y dijo:“No, Aslam, tú también te cansarás. Cabalgaremos por turnos. Ahora tú monta, yo caminaré”. Aslam se quedó perplejo. ¿Qué respondería? ¿Debía Amir…
Intitulado۔۔۔🙂!
No es seguro llevar todo lo que brilla.Érase una vez, dos mulas que viajaban por el mismo sendero estrecho.La primera mula llevaba pesados sacos de monedas de oro. Estaba muy orgullosa de su carga. Caminaba con la cabeza bien alta y golpeaba las monedas entre sí deliberadamente para que se oyeran. Cada paso que daba era como si dijera: «Mírenme, miren qué importante soy». La segunda mula llevaba sacos de grano. Caminaba silenciosamente detrás, tranquila y fuera de la vista. Sin ruido, sin ostentación, sin necesidad de impresionar a nadie. De repente, un grupo de ladrones salió de entre los arbustos. No les interesaba el grano. Sus ojos estaban fijos en la mula dormida. La rodearon, la golpearon sin piedad y abrieron los sacos para robarle el tesoro. La pobre mula cayó herida al borde del camino, temblando de dolor y con lágrimas corriendo por su rostro. Por otro lado,…
Untitled۔۔۔🙂!
It is not safe to carry everything that shinesOnce upon a time, two mules were traveling along the same narrow path.The first mule was carrying heavy bags of gold coins. He was very proud of his load. He walked with his head held high and deliberately knocked the coins together so that they could be heard. Every step he took was as if he were saying, “Look at me, look how important I am.”The second mule had ordinary bags of grain. He walked quietly behind, calm and out of sight. No noise, no show, no need to impress anyone.Suddenly a group of robbers emerged from the bushes.They were not interested in the grain. Their eyes were directly on the sleeping mule. They surrounded him, beat him mercilessly, and tore open the bags to rob him of the treasure. The poor mule fell wounded on the side of the road, shivering…
عدل کی انتہا۔۔۔🙂!
مدینہ کی گلیاں ابھی صبح کی پہلی کرنوں سے لپٹی ہوئی تھیں۔ سورج نے ابھی اپنا پورا چہرہ بھی نہیں دکھایا تھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ پر سامان لاد کر شاہراہ پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کے جسم پر ایک سادہ سی چادر تھی، سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک معمولی کوڑا۔ اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف سچے ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ یہ امیر المومنین، خلیفۂ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ تنہا شام جا رہے تھے۔ جی ہاں، پوری ریاست کا سربراہ بغیر کسی محافظ کے، بغیر کسی شاہی قافلے کے، صرف ایک اونٹ پر سوار۔ ان کے ساتھ صرف ان کا خادم اسلم تھا۔ اسلم نے ادب سے عرض کیا:“یا امیر المومنین، آپ اونٹ پر سوار ہوں، میں پیدل چل لوں گا۔” حضرت عمر نے محبت سے اس کی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdustory urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ہر چمکتی چیز اٹھانا محفوظ نہیں ہوتاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو خچر ایک ہی تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔پہلے خچر پر سونے کے سکوں کے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے اس بوجھ پر بڑا فخر تھا۔ وہ اپنا سر اونچا کر کے چل رہا تھا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار سنائی دے۔ اس کا ہر قدم گویا یہ کہہ رہا تھا، “مجھے دیکھو، دیکھو میں کتنا اہم ہوں۔”دوسرے خچر کے پاس اناج کے عام سے تھیلے تھے۔ وہ خاموشی سے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، پُرسکون اور ہر نظر سے اوجھل۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی دکھاوا، اور نہ ہی کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت۔اچانک جھاڑیوں سے ڈاکوؤں کا ایک گروہ نکل آیا۔انہیں اناج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی نظریں سیدھی سونے والے خچر پر گئیں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، اسے بے…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، “چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔”سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔😀!
کبوتروں کا ایک جوڑا فضا میں اڑ رہا تھا- نر نے اپنی مادہ سے کہا: “مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر میں چاہوں تو اپنے پروں کے ایک ہی وار سے سمنےکھڑی عمارت کو گرا دوں-“ عمارت کی چھت پر ایک آدمی کھڑا تھا- اس نے کبوتر کو پاس بلایا اور کہا: “کیوں میاں! یہ شیخی کیوں بگھار رہے ہو؟” کبوتر نے فوراً کہا: “معاف کیجئے گا جناب! میں تو صرف کبوتری پر رعب جما رہا تھا- ورنہ میں کیا اور میری طاقت کیا؟” آدمی نے کہا: “خبردار! ایسا رعب آئندہ نہ جمانا- یہ اچھی بات نہیں ہے-“ کبوتر واپس آیا تو کبوتری نے پوچھا: “وہ آدمی کیا کہہ رہا تھا؟” کبوتر: “وہ آدمی میری منتیں کر رہا تھا کہ خدا کے واسطے میری عمارت نہ گرانا-“کیا انسانوں میں ایسے لوگ آپ نے دیکھے ہیں؟منقول
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک رعب دار شیر سنہری دھوپ میں آرام کر رہا تھا۔ اس کی نظر قریب ہی ایک گوبرہیلے (گندگی کے کیڑے) پر پڑی جو مٹی کے ایک گولے پر محنت کر رہا تھا۔شیر نے حقارت سے منہ بنایا: “بھاگ جا یہاں سے، اے حقیر مخلوق! تمہاری ہمت کیسے ہوئی بادشاہ کے قریب ایسی بو لانے کی؟ تم میرے پنجوں کے نیچے ایک معمولی ذرے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو۔”کیڑا خاموش رہا۔ اس نے بس انتظار کیا۔ جب چاند نکلا اور شیر گہری نیند سو گیا، تو کیڑے کو موقع مل گیا۔ وہ خاموشی سے رینگتا ہوا شیر کے کان میں داخل ہو گیا اور اپنے پر پھڑپھڑانے لگا، اور اپنے تیز پیروں سے کان کی حساس اندرونی دیواروں کو چھیڑنے لگا۔جنگل کا بادشاہ گھبرا کر جاگ اٹھا! وہ تکلیف سے دھاڑا اور بے بسی میں اپنے ہی سر پر پنجے مارنے لگا، لیکن…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی کتاب تزک بابری میں لکھتے ہیں کہ دریائے سوات کے قریب ہم نے یوسفزئی اور محمد زئی قبائل پر حملہ کیا.اس جگہ تیس چالیس سال پہلے شہباز نامی ملحد نے یہاں کے بہت سے لوگوں کو الحاد کے دام میں پھنسا دیا تھا اس ملحد کی قبر اسی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھی.میں نے حکم دیا کہ اس ملحد کی قبر کو ڈھا دیا جائے یہاں سے دریائے سندھ کے قریب بھیرہ نامی جگہ پر حملہ کیا گیا.دریائے نیلاب کے دوسری طرف آباد لوگوں نے حاضری دی اور گھوڑے اور تین سو شاہ رخیاں نزر کیں. یہاں سے کچھ کوٹ نامی جگہ پہنچے دریائے کچھ کوٹ کو عبور کیا اور سنکدا پہنچ گئے.یہ راستہ بہت کٹھن تھا اور ہم کوہ جودا نامی پہاڑ پر پہنچے یہاں دو قومیں بستی ہیں جودہ اور جنجوعہ.جنجوعہ قوم یہاں کی حکمران ہے.یہاں کا ہر خاندان ہر…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory