Author Archives: NZ's Collection

اشفاق احمد بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بانو قدسیہ یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔ میں روزانہ انہیں گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑنے جاتا۔ گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے اترتا، دوسری طرف جا کر دروازہ کھولتا، بانو قدسیہ اترتیں اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہو جاتیں۔ چھٹی کے وقت بھی میں انہیں لینے آتا، گاڑی سے اتر کر دروازہ کھولتا اور انہیں عزت سے گاڑی میں بٹھا کر گھر لے آتا۔ یہ منظر روزانہ دیکھ کر ان کی سہیلیاں کہتیں: “واہ! ان دونوں میں کتنی محبت ہے۔ اللہ ہمیں بھی ایسا شوہر دے!” وہ مجھے کسی شاہی نوکر کی طرح دروازہ کھولتے اور بانو قدسیہ کو شہزادی کی طرح گاڑی سے اترتے دیکھتیں۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ حقیقت کچھ اور ہے… ہماری گاڑی کا دروازہ اندر سے خراب تھا، اس لیے مجھے ہر بار باہر نکل کر دروازہ کھولنا پڑتا تھا! 🤣 کبھی کبھی لوگ…

Read more

عرب کے ایک مشہور شخص کو اپنی چچا زاد لڑکی پسند آ گئی۔ اس نے اس کے والد سے نکاح کا پیغام بھیجا اور مہر کے طور پر سو اونٹنیاں اور ان کا چرواہا دینے کی پیشکش کی۔ لڑکی کے والد نے کہا: “تم دوسروں سے زیادہ اس کے حقدار ہو، لیکن میں اس کا مہر صرف تمہارا گھوڑا چاہتا ہوں، وہی گھوڑا جس پر تم سواری کرتے ہو۔” گھوڑا اس شخص کو بے حد عزیز تھا، اس لیے وہ فوراً جواب نہ دے سکا۔ لڑکی نے اشارے سے اسے رضامند ہونے کا کہا، مگر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور سب کے سامنے یہ اشعار پڑھے: گھوڑے کے سر پر لگام کی جھنکار مجھے تم سے شادی کرنے سے زیادہ عزیز ہے۔ میرے گھوڑے کی لگام کی آواز تمہارے اشاروں سے زیادہ محبوب ہے۔ میرا گھوڑا اتنا معمولی نہیں کہ میں اسے آسانی سے دے دوں جبکہ نیزہ…

Read more

ایک بادشاہ تھا جسے اپنی سلطنت کی وسعت سے زیادہ اپنی یادگاروں پر ناز تھا۔ اس نے ایک دن اپنے دل میں خیال کیا کہ دنیا میں ایسے کتنے بادشاہ آئے اور چلے گئے، مگر ان کے نام کے ساتھ ایسا کیا رہ گیا جسے دیکھ کر آنے والی نسلیں کہیں کہ یہاں کبھی ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا؟ چنانچہ اس نے اپنی سلطنت کے ایک خوب صورت حصے میں ایک نیا شہر بسانے کا ارادہ کیا۔ دور دور تک زمین خریدی گئی، سنگ تراش بلائے گئے، معمار جمع کیے گئے اور خزانے کے دروازے کھول دیے گئے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا، “میں ایسا شہر چاہتا ہوں جس میں انسان کی ہر جائز خواہش کو جگہ مل جائے۔ تم سوچو، دنیا میں ایک خوش حال انسان کو کیا کیا چاہیے، اور جو چیز تمہیں اس شہر کے لائق لگے، اسے اس میں شامل کر دو۔” کسی…

Read more

ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا!…

Read more

یہ برصغیر کے اُن دنوں کی بات ہے جب ریاستیں اپنے اپنے رنگ میں آباد تھیں، کہیں مندروں کی گھنٹیاں صبح کے سناٹے کو توڑتی تھیں، کہیں مسجدوں کی اذانیں فضا میں پھیلتی تھیں، کہیں دور تک پھیلے کھیت زمین کو سبز چادر اوڑھائے رکھتے تھے اور کہیں ایسے گھنے جنگل تھے کہ دن کے وقت بھی سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے کے لیے پتوں سے اجازت مانگتی محسوس ہوتی تھی۔ انہی دنوں مالوا کے ایک سرسبز علاقے، دھار کے قریب، ایک برہمن پنڈت رہتا تھا جس کا نام پنڈت دیو دت تھا۔ وہ صرف اپنے علاقے کا پنڈت نہیں تھا؛ دور دور کی ریاستوں میں لوگ اس سے مشورہ لینے آتے، راجے اس کے قدموں میں بیٹھتے، بڑے خاندان اس کی رائے کو اہمیت دیتے اور عام لوگ اسے علم و بصیرت کا آدمی سمجھتے تھے۔ مگر اس کی سب سے بڑی فکر اس کی شہرت یا دولت…

Read more

کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر صاحب!…

Read more

ستر برس کا بوڑھا مچھلی کا شکار کر رہا تھا کہ اسے آواز سنائی دی:“مجھے نکالو” آس پاس کوئی نہ تھا۔ بوڑھا سمجھا کہ اس کے کان بجے ہیں، مگر پھر “مجھے نکالو” کی آواز آئی تو اس نے دیکھا کہ پانی میں ایک مینڈک سر نکالے بول رہا تھا۔ اُس نے پوچھا: “کیا تم ہی انسانی آواز میں بولے ہو؟” مینڈک نے جواب دیا: “ہاں! مجھے نکالو، پھر مجھے بوسہ دو، میں دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاؤں گی۔ لوگ تم پر رشک کیا کریں گے کہ تمہاری بیگم کس قدر خوبصورت ہے۔” بوڑھے نے مینڈک کو پانی سے نکالا اور اسے جیب میں ڈال کے نگاہیں بنسی کی ڈوری پر لگا دیں۔ مینڈک نے کہا: “کیا تم نے سنا نہیں کہ مجھے بوسہ دو تو میں دنیا کی حسین ترین لڑکی بن کر تمہاری بیوی کہلاؤں گی؟” بوڑھے نے تاریخ ساز الفاظ کہے!! “”نہیں بیٹا! اس عمر…

Read more

ایک شہر میں ایک نہایت امیر اور سخی تاجر رہتا تھا۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا، مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی… سستی! وہ زیادہ تر وقت بستر پر گزارتا۔ نہ چلنا پسند کرتا، نہ جسمانی محنت۔ آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھتا گیا اور صحت اتنی خراب ہوگئی کہ ایک دن وہ اپنے بستر سے خود اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا۔ گھر والوں نے بہت علاج کروائے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایک دن انہیں ایک بزرگ کا پتا چلا جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے مشہور تھے۔ وہ تاجر کو لے کر بزرگ کے پاس پہنچے۔ بزرگ نے کہا: “میں اس کا علاج ضرور کروں گا، لیکن ایک شرط ہے… اسے خود چل کر میرے پاس آنا ہوگا۔” اگلے دن تاجر بڑی مشکل سے چلتا ہوا بزرگ کے گھر پہنچا، مگر بزرگ وہاں موجود نہ تھے۔ اگلے دن پھر سے…

Read more

مراد کے ابو تھانیدار تھے۔ ایک دفعہ ان کا تبادلہ شہر سے دور ایک پہاڑی گاؤں میں ہو گیا۔ مراد بھی اپنے امی ابو کے ساتھ اس گاؤں میں رہنے لگا۔ ان کا گھر گاؤں سے ہٹ کر تھا اور اس کے اطراف میں پہاڑیاں اور جنگل تھے جن میں ریچھ بہت زیادہ تھے۔ گاؤں والے ان سے بہت تنگ رہتے تھے، کیونکہ وہ ان کے کھیت اور باغ اجاڑ دیتے تھے۔ گاؤں میں اونچے اونچے درخت بھی تھے جن میں شہد کے بڑے بڑے چھتے لگے تھے۔ان چھتوں کو ریچھوں سے بچانے کے لیے گاؤں والوں نے درختوں کے ساتھ رسیاں باندھ رکھی تھیں جن میں موٹی موٹی لکڑیاں لٹک رہی تھیں۔ جب ہوا چلتی تو یہ لکڑیاں جھولنے لگتیں اور ان کی آواز اور حرکت سے ریچھ درختوں سے دور رہتے تھے۔ریچھ کا بچہ اور مرادایک رات ایک ریچھنی اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ گاؤں میں گھس…

Read more

ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے…

Read more

ایک بوڑھا آدمی، پرانے اور بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس، عدالت میں داخل ہوا اور خاموشی سے انتظار کرتا رہا جب تک کہ پہریدار نے اسے قاضی کے سامنے پیش ہونے کی اجازت نہیں دی۔بوڑھے نے قاضی کو سلام کیا اور بولا: “اے معزز قاضی، میں ایک غریب آدمی ہوں، میرے سات بچے ہیں اور ان کی ماں جن کا میں واحد کفیل ہوں۔ میرے پاس دنیا میں صرف ایک اصیل گھوڑا ہے، جو میری کل دولت اور عزت ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس دو چھوٹی الماریاں اور روشنی کے لیے ایک چراغ ہے۔ میں ایک چھوٹے سے کھیت میں رہتا ہوں جس کے اردگرد سایہ دار درخت ہیں۔” قاضی نے بوڑھے کی بات سن کر مختصر کرنے کے لیے کہا: “میں سمجھ گیا ہوں، اے محترم بزرگ، کہ تمہارے لیے تمہارا گھوڑا بہت قیمتی ہے اور تمہیں اس کے بغیر مشکلات کا سامنا ہو گا۔ مگر براہ کرم اپنی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر صاحب!…

Read more

شیر نے چیْتے کو دس بھیڑیوں کا نگران مقرر کیا۔ہر دن، شیر ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا۔ چیْتا خوراک کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرتا: اس نے ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھا اور باقی دس، جو سائز میں برابر تھے، بھیڑیوں کو دے دیے—ہر ایک کے لیے ایک ٹکڑا۔کچھ دن گزرے، تو بھیڑیوں کے درمیان بے چینی سے سرگوشیاں ہونے لگیں۔ایک نے کہا، “چیْتا کو ہمارے جتنا حصہ کیوں ملتا ہے؟”دوسرے نے اتفاق کیا، “وہ کچھ خاص نہیں کرتا۔ وہ بس کھانا تقسیم کرتا ہے۔”“ہم دَس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے بھاگنے پر مجبور کر دیں، تو ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس کو کتنا ملنا چاہیے۔”چیْتے نے ان کی سرگوشیاں سن لیں، لیکن اس نے اپنے اصول نہیں بدلے۔ اس کا ماننا تھا کہ جب تک وہ سب کے ساتھ انصاف کر رہا ہے، بغवत کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔لیکن ایک دن،…

Read more

تُو نے وہ قصہ سُنا ہے کہ ہندوستان میں ایک عقلمند نے دوستوں کے ایک گروہ کو دیکھا، بھوکے، تھکے ہوئے، بے ساز و سامان اور ننگے، سفر سے دراز راستہ سے آ رہے تھے، اُس کی دانائی کی محبت جوش میں آئی اور اُن کو تپاک سے سلام کیا اور پھول کیطرح کِھل گیا۔ بولا، میں جانتا ہوں کہ بھوک سے پورا معدہ خالی ہونے سے تم پر میدانِ کربلا کی سی مصبتیں جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن خدا کے لئے اے دوستو! تم ہاتھی کے بچے کو ہر گز نہ کھانا۔ جس جانب تم اب جا رہے ہو، ہاتھی ہے، دل و جان سے میری نصیحت سُن لو، تمہارے راستے میں ہاتھی کے بچے ہیں جن کا شکار تمہیں بہت مرغوب ہے، نہایت عمدہ اور پاکیزہ اور موٹے ہیں، لیکن اُن کی ماں گھات میں رہتی ہے، اپنے بچے کی خاطر سینکڑوں میل کے راستہ سے وہ روتی…

Read more

ایک آدمی کے گھر کے باہر کھڑی گاڑی چوری ہوگئی۔ شام کو وہی گاڑی صاف ستھری، مکمل پالش کے ساتھ واپس اسی جگہ کھڑی تھی۔ اندر ایک خط بھی تھا: “میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ میری بیوی کی ڈیلیوری کے باعث حالت تشویشناک تھی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا اور یہ قدم اٹھانا پڑا۔ مجھے امید ہے آپ معاف کر دیں گے۔ میری طرف سے آپ اور آپ کی فیملی کے لیے آج رات کے شو کی ٹکٹیں اور کھانے کا سامان بطور تحفہ قبول کریں۔ آپ کی گاڑی نے مشکل وقت میں میری بہت مدد کی۔” آدمی یہ پڑھ کر بہت خوش ہوا۔رات کو پوری فیملی فلم دیکھنے گئی اور خوب انجوائے کیا۔ جب واپس گھر پہنچے تو…پورا گھر خالی تھا! 😱 اندر ایک خط پڑا تھا: “امید ہے… فلم پسند آئی ہوگی! 😂😂”

جنگل میں کئی دنوں سے ایک عجیب خوف پھیلا ہوا تھا۔ ہر صبح کوئی نہ کوئی خبر لاتا کہ پہاڑ کے اُس پار واقع دوسرا جنگل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ وہاں کے درختوں کے درمیان دن رات فوجی مشقیں ہو رہی تھیں، ہتھیار جمع کیے جا رہے تھے، سپاہیوں کی تعداد بڑھائی جا رہی تھی اور یہ بات بھی جنگل کے کانوں تک پہنچ چکی تھی کہ دشمن کا ارادہ صرف فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ اس پورے جنگل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا ہے۔ جنگل کے جانوروں نے اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روک دیا تھا۔ بازار سنسان ہونے لگے تھے۔ پرندے بھی درختوں پر بیٹھ کر خوش گپیوں کے بجائے آنے والی تباہی کی خبریں سناتے تھے۔ شیر بادشاہ کے لیے یہ خوف کچھ اور بھی بڑا تھا۔ اس کے باپ، دادا اور پردادا اسی جنگل پر حکومت کرتے آئے تھے اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تاجر دور دراز شہروں میں قیمتی ریشم، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سامان لادے ایک گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کافی تیز تھی اور سفر کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔راستے میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی نظر آئی۔تاجر نے سوچا کہ کیوں نہ چند لمحے آرام کر لیا جائے۔اس نے اپنا سامان ایک درخت کے نیچے رکھا اور پانی پینے کے لیے ندی کی طرف بڑھ گیا۔چند منٹ بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔اس کے قیمتی تھیلے، ریشم کی گٹھڑیاں اور مصالحوں کے ڈبے سب غائب تھے۔صرف ایک چھوٹا سا تھیلا زمین پر پڑا تھا۔تاجر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔اسی دوران اسے اوپر سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو درختوں پر بندروں…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت تھی جس کا نام نورآباد تھا۔ اس سلطنت پر سلطان زین العابدین حکومت کرتا تھا۔ سلطان نہایت انصاف پسند اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کے محل کے دروازے ہر وقت ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ سلطان کے تین بیٹے تھے: شہزادہ کامران، شہزادہ سلیم اور شہزادہ فہیم۔ تینوں شہزادے ذہین اور بہادر تھے، مگر ان کی طبیعتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ کامران کو اپنی دولت اور طاقت پر ناز تھا۔ سلیم اپنی خوب صورتی اور علم پر فخر کرتا تھا، جبکہ فہیم خاموش طبیعت، نرم دل اور سادہ مزاج تھا۔ سلطان اکثر سوچتا کہ اس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری کس بیٹے کو سونپی جائے۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے صرف بہادری یا علم کافی نہیں، بلکہ انسان میں انصاف، صبر، رحم اور سچائی بھی ہونی چاہیے۔ ایک دن سلطان نے…

Read more

کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…

Read more

240/3958
NZ's Corner