Author Archives: NZ's Collection

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب شخص کام کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا، مگر اسے کوئی بھی کام نہ مل سکا۔تھک ہار کر وہ چرچ میں چلا گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا:“خداوندا! تو مجھے کب تک غریب رکھے گا؟”پادری نے جب یہ الفاظ سنے تو اسے ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے۔وہ غریب شخص کہنے لگا: “ٹھیک ہے، پھر آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ دوبارہ نہ دہراؤں۔”پادری نے کہا: “ٹھیک ہے، مجھے اس چرچ کے لیے ایک کاتب کی ضرورت ہے، جو یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب رکھے۔ تم یہ کام سنبھال لو، ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میری ذمہ ہوگی۔”اس شخص نے فوراً حامی بھر لی۔ پادری نے اسے کھاتہ، رجسٹر اور قلم دے دیا، اور یوں وہ چرچ کا کاتب بن گیا۔وہ روزانہ پادری کو ہر…

Read more

ایک گاؤں میں نئی نئی بجلی لگی تو جیسے پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر گھر کے باہر بلب لگ گئے، بچوں نے تالیاں بجائیں، بوڑھوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور عورتوں نے سوچا اب رات کے کام آسان ہو جائیں گے۔ گاؤں کے لوگ سادہ دل تھے، مگر خوشی سے بھرپور۔مہینہ گزرا تو بجلی کا پہلا بل آیا۔ بجلی کمپنی کے دفتر میں جب پورے گاؤں کا ریکارڈ نکالا گیا تو سب حیران رہ گئے۔ پورے گاؤں میں ایک یونٹ بھی بجلی استعمال نہیں ہوئی تھی! افسران کو یقین نہ آیا، انہوں نے سمجھا شاید میٹر خراب ہیں یا کوئی تکنیکی خرابی ہے۔کمپنی نے فوراً ایک نمائندہ گاؤں بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے۔اگلے دن ایک پڑھا لکھا نوجوان نمائندہ گاؤں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ واقعی ہر گھر کے باہر بلب لگے ہوئے ہیں، تاریں کھینچی گئی ہیں اور…

Read more

ایک بھائی صاحب اپنے شہ زور ٹرک پر بیٹھ کر شہر کے چوک میں پہنچے اور لگے وہاں بیٹھے مزدوروں کو آوازیں دینے،“کون کون جانا چاہتا ہے میرے ساتھ مزدوری پر، دو دو سو روپے دیہاڑی دوں گا۔” پہلے پہل تو لوگ ان صاحب پر خوب ہنسے، پھر اسے سمجھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ جناب والا: آج کل مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے سے کم نہیں ہے۔ کیوں آپ ظلم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں، کوئی نہیں جائے گا آپ کے ساتھ۔ نہ بنوائیے اپنا مذاق۔ وہ صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور سُنی ان سُنی کر کے مزدوروں کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے رہتے ۔ شور کم ہوا اور بہت سارے مزدور تھک کر واپس جا بیٹھے تو تین ناتواں قسم کے بوڑھے مزدور، جن کے چہروں سے ہی تنگدستی اور مجبوری عیاں تھی۔ ان صاحب کی گاڑی میں ا کر بیٹھ گئے…

Read more

کسی زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اپنی محنتی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔عورت روزانہ دودھ سے مکھن بلوتی، پھر اسے خوبصورت گول پیڑوں کی شکل دیتی۔ ہر پیڑا پورا ایک کلوگرام بنا کر تیار کیا جاتا۔ کسان وہ مکھن شہر کے ایک دکاندار کو بیچ آتا اور بدلے میں گھر کا راشن لے لیتا۔ یوں سادہ سی زندگی چل رہی تھی۔ ایک دن دکاندار کے دل میں شک پیدا ہوا۔اس نے سوچا کیوں نہ آج خود مکھن تول کر دیکھوں۔ جب اُس نے پیڑے ترازو پر رکھے تو حیران رہ گیا — ہر “ایک کلو” کا پیڑا تقریباً نو سو گرام نکلا، یعنی وزن میں کمی تھی۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اگلے دن جب کسان حسبِ معمول مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا اور سخت لہجے میں بولا: آج کے بعد میں تم سے سودا نہیں…

Read more

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس خونخوار جنگلی کتے پال رکھے تھے۔ جب بھی کوئی وزیر یا مشیر کوئی غلطی کرتا، بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھینکوا دیتا۔ کتے اس شخص کو نوچ نوچ کر مار ڈالتے۔ ایک دن بادشاہ کے ایک خاص وزیر سے ایک مشورے میں چُوک ہو گئی، جو بادشاہ کو بالکل پسند نہ آئی۔ غصے میں آ کر بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اس وزیر کو بھی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے۔ وزیر نے عاجزی سے عرض کی:“بادشاہ سلامت! میں نے دس سال تک وفاداری سے آپ کی خدمت کی ہے۔ دن رات ایک کیا ہے۔ کیا میری اتنی طویل خدمت کے بدلے میں مجھے صرف ایک موقع نہیں دیا جا سکتا؟حکم تو آپ کا ہی چلے گا، مگر میری گزارش ہے کہ مجھے صرف دس دن کی مہلت دی جائے، اس کے بعد چاہے مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔”…

Read more

حضرت عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ پہلے یہودی تھے، لیکن ایک واقعہ نے ان کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوگئے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ سے ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ اس قافلے کے پاس ایک اونٹ بھی تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ اونٹوں کی تجارت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو وہ اونٹ پسند آگیا، تو آپ ﷺ نے قافلے والوں سے اس کا سودا کر لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کے پاس قیمت موجود نہ تھی، چنانچہ آپ ﷺ اونٹ لے کر چل دیئے اور فرمایا کہ “میں تھوڑی دیر میں اس کی قیمت بھجوا دیتا ہوں۔” قافلے والوں نے نہ آپ ﷺ کا نام پوچھا اور نہ کوئی پتہ لیا۔ جب آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوگئے تو قافلے میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ لوگ کہنے لگے:“ہم نے اونٹ دے دیا مگر اس شخص کا نام تک معلوم…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ شہرِ نُوران کے تخت پر ایک عظیم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ عقل و تدبر میں بے مثال اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کی سلطنت میں خوشحالی کا راج تھا، مگر اس کی خوشیوں کا اصل مرکز اس کی معصوم اور خوبصورت بیٹی شہزادی گلنار تھی۔ شہزادی کی پیدائش کے بعد، ماں کی ممتا کی چھاؤں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ملکہ کی اچانک وفات نے بادشاہ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا، مگر وہ بیٹی کی پرورش میں کوئی کمی نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔ چند برس بعد، اس نے دوسری شادی کرلی۔ نئی ملکہ بظاہر خوش اخلاق اور شائستہ تھی، مگر درحقیقت وہ ایک چالاک اور سنگدل عورت تھی، جو جادوگری میں مہارت رکھتی تھی۔ یہ ملکہ ایک طلسمی آئینہ رکھتی تھی، جو نہ صرف ہر سوال کا سچ بتاتا بلکہ اس کے حسن کی برتری کی تصدیق بھی…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، قازقستان کے لامتناہی میدانوں (سٹیپ) کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہاں ایک بوڑھا شکاری رہتا تھا جس کا نام ‘برکت’ تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن اس کا دل صاف تھا اور وہ اپنی چھوٹی سی جھونپڑی اور معمولی روزی پر خوش رہتا تھا۔ایک دن، برکت سٹیپ میں شکار کر رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک بہت ہی نایاب، سنہری پرندہ ایک شکاری جال میں پھنسا ہوا ہے۔ پرندہ خوبصورت تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بے بسی سے تڑپ رہا تھا۔برکت کو پرندے پر رحم آ گیا۔ اس نے اپنی چھری نکالی اور آہستہ سے جال کاٹ کر پرندے کو آزاد کر دیا۔پرندے کی جادوئی پیشکشجیسے ہی پرندہ آزاد ہوا، وہ ایک خوبصورت عورت کی شکل اختیار کر گیا – وہ ایک ‘پیر’ (قازق لوک کہانیوں میں ایک نیک جادوئی مخلوق) تھی۔اس نے کہا، “برکت!…

Read more

یاجوج و ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے گزر چکے ہیں جو اپنے اِرد گرد رہنے والوں پر بہت ظلم اور زیادتیاں کرتے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے۔ قرآن مجید کی آیات، توریت کے مطالب اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجہ میں ایشیا کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔ بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو اور توبل سیک کے آس پاس بتلایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج و ماجوج کے شہر تبت اور چین سے بحرمنجمد شمالی تک اور مغرب میں ترکستان تک پھیلے ہوئے تھے۔ حضرت ذوالقرنین کے زمانے میں یاجوج و ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے، ان…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ –ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ , ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ – ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ،ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﯾﺎ،ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭ ﮎ ﮨﻮ۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ —ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ…

Read more

کعب بن اشرف یہودیوں میں یہ وہ شخص تھا جسے اسلام اور اہل اسلام سے نہایت سخت عداوت اور جلن تھی۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی کھلم کھلا دعوت دیتا پھرتا تھا۔اس کا تعلق قبیلہ کی شاخ بنو نبھان سے تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنی نضیر سے تھی یہ بڑا مالدار اور سرمایہ دار تھا عرب میں اس کے حسن و جمال کا شہرہ تھا اور یہ ایک معروف شاعر بھی تھا اس کا قلعہ مدینے کے جنوب میں بنونضیر کی آبادی کے پیچے واقع تھا۔اسے جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل کی پہلی خبر ملی تو بے ساختہ بول اٹھا: “کیا واقعتہ”ایسا ہوا ہے؟ یہ عرب کے اشراف اور لوگوں کے بادشاہ تھے اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مار لیا ہے تو زمین…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، تاجکستان کے خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس صرف ایک چھوٹا سا باغ تھا جس میں وہ اخروٹ کے درخت اگاتا تھا۔ کسان بہت صابر اور شکر گزار انسان تھا۔ایک سال فصل بہت اچھی ہوئی، تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ اخروٹ شہر جا کر فروخت کرے اور اس سے ملنے والے پیسوں سے اپنی بیمار بیوی کا علاج کروائے۔سفر اور ملاقاتراستے میں اسے ایک امیر تاجر ملا جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ کسان کی پوٹلی دیکھ کر تاجر سمجھ گیا کہ اس میں قیمتی اخروٹ ہیں۔ اس نے کسان سے پوچھا:“اے بوڑھے میاں! تمہاری اس پوٹلی میں کیا ہے؟”کسان نے سادگی سے جواب دیا: “بیٹے! اس میں میرے سال بھر کی محنت کا پھل ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس بار اخروٹ بہت میٹھے اور وزنی ہیں۔”لالچ کا انجامتاجر کے دل میں…

Read more

ایک کسان کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا۔ کسان نے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جو اس قدر وفادار تھا کہ کسان جب بھی کھیتوں میں کام کرنے جاتا، تو اپنے معصوم بچے کو اسی کی نگرانی میں چھوڑ جاتا۔ایک دن ایک نہایت المناک واقعہ پیش آیا۔ حسبِ معمول کسان اپنے بچے کو اس وفادار کتے کے پاس چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا۔جب وہ واپس لوٹا تو اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ بچہ اپنے پالنے میں موجود نہیں تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور پورے کمرے میں ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ خوف اور صدمے کے مارے کسان نے بدحواسی میں اپنے بچے کو ادھر ادھر تلاش کرنا شروع کر دیا۔اچانک اس کی نظر چارپائی کے نیچے سے نکلتے ہوئے اپنے کتے پر پڑی، جو خون میں لت پت تھا اور…

Read more

کسی ایسے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش چھوڑ دیں جو آپ کے لیے بنا ہی نہیںایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا مور کے چمکدار رنگوں سے بہت حسد کرتا تھا۔ اپنی کالی رنگت سے بیزار ہو کر، اس نے مور کو منا لیا کہ وہ اسے اپنے وہ بھاری اور چمکدار پر “پہننے” دے تاکہ وہ بھی اعلیٰ نسل کا نظر آ سکے۔تبدیلی فوری تھی۔ کوا پورے صحن میں اکڑ کر چلنے لگا اور دوسرے جانوروں کی حیران کن نظروں کا لطف اٹھانے لگا۔ اسے شہزادوں جیسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے آخر کار اسے اپنی “عام سی” زندگی سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ لیکن اس “چمک دمک” کی ایک چھپی ہوئی قیمت تھی۔اچانک، اندھیرے سے ایک تیز نظر رکھنے والی بلی نے حملہ کر دیا۔ دوسرے کوے فطری طور پر اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے پلک جھپکتے ہی آسمان میں غائب ہو گئے۔ “مور نما کوے” نے بھی…

Read more

سن 1913 کی بات ہے۔ میں پیدل سفر پر نکلا ہوا تھا، فرانس کے خوبصورت علاقے پرووانس سے گزرتا ہوا الپس کے پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہاں قدرت اپنی پوری شان و شوکت میں موجود ہوگی، لیکن جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا، منظر بدلتا گیا۔ یہ وادی بالکل بنجر تھی۔ چاردیسے تک صرف پتھر اور سوکھی جھاڑیاں تھیں۔ درخت نام کو نہیں تھے۔ ہوا چلتی تو گرد و غبار اٹھتا، آنکھوں میں پڑتا۔ کبھی کبھار کھنڈرات نظر آتے—پرانا، ویران گھر جن میں کبھی لوگ رہتے تھے۔ اب وہاں صرف خالی دیواریں تھیں اور ہوا کا سناٹا۔ دوپہر ہوتے ہوتے میری مشک خالی ہو گئی۔ مجھے پانی نہیں مل رہا تھا۔ میں نے پرانے کنوئیں دیکھے، سب سوکھے پڑے تھے۔ پیاس نے بے حال کر دیا۔ اتنے میں مجھے دور سے گھنٹیوں کی آواز آئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک چرواہا بھیڑوں کا…

Read more

ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نے کہا:“ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے، اسے کٹوا دو۔ میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ جب میں غسل کروں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔” وہ شخص بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور فوراً درخت کٹوا دیا۔ وقت گزرتا رہا… ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی کسی اجنبی مرد کے ساتھ مشغول ہے۔یہ منظر دیکھ کر وہ ٹوٹ گیا۔ دل برداشتہ ہو کر اس نے گھر بار چھوڑ دیا اور بغداد چلا گیا، جہاں اس نے نیا کاروبار شروع کیا۔ اللہ نے اس کے کاروبار میں خوب برکت دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بغداد کے معزز اور سرکردہ لوگوں میں شمار ہونے لگا، یہاں تک کہ شہر کے کوتوال تک اس کی رسائی ہوگئی۔ ایک دن کوتوال کے گھر چوری ہوگئی۔بہت کوشش کے باوجود چور…

Read more

جون کی تپتی ہوئی رات تھی، حبس اتنا کہ پنکھا بھی گرم ہوا کے تھپڑے مار رہا تھا۔ اچانک ٹھاہ کی آواز آئی اور پورے محلے کی بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے امتحان کے بعد طالب علم کے دماغ سے کتابی باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔گھروں کے اندر دم گھٹنے لگا تو باری باری پورا محلہ اپنی اپنی چھتوں پر منتقل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چھتیں آباد ہو گئیں اور اندھیرے میں صرف سگریٹ کی روشنیاں اور موبائلوں کی ٹارچیں نظر آنے لگیں۔سب سے پہلے آواز چوہدری صاحب کی چھت سے آئی: اوئے شیدے! تیرے گھر کی بھی گئی ہے کیا؟دوسری طرف سے آواز آئی: نہیں چوہدری صاحب! میں نے تو گھر میں سورج پال رکھا ہے، بس ویسے ہی اندھیرے میں تارے گن رہا ہوں!محلے کے لڑکوں نے موقع غنیمت جانا اور چھتوں پر ہی کرکٹ شروع کر دی۔ تایا جی جو نیچے گرمی سے بے حال…

Read more

ہندوستان کا عیاش، شرابی اور زانی بادشاہ محمد شاہ رنگیلا!یہ وہ مغل بادشاہ تھا جس کی رنگینیوں اور بداعمالیوں نے نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ پوری سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ بادشاہ، جو شاہ جہاں ثانی کے بیٹے اور روشن اختر ناصر الدین شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1719 سے 1748 تک تقریباً 29 سال حکومت کرتا رہا۔ مگر اس کی حکمرانی نظم و ضبط، انصاف اور سنجیدگی کے بجائے عیش و عشرت، شراب نوشی اور بے حیائی سے بھرپور تھی۔ محمد شاہ رنگیلا مغلوں کے ان 19 بادشاہوں میں سے ایک تھا جس کی بری عادات اور کمزور حکمرانی نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کی رنگینیوں، ناچ گانے، عریانیت اور شراب نوشی نے ریاستی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوئے اور سلطنت زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی۔…

Read more

Érase una vez una serpiente que perseguía a una luciérnaga que volaba bajo sobre la hierba.Al cabo de un rato, la cansada luciérnaga se detuvo y le dijo a la serpiente:“¿Puedo hacerte tres preguntas?” La serpiente respondió: “Sí, puedes”. La luciérnaga hizo la primera pregunta:“¿Formo parte de tu dieta (es decir, me comes)?” La serpiente respondió: “No”. La luciérnaga hizo la segunda pregunta:“¿Te he hecho daño alguna vez?” La serpiente respondió: “No”. La luciérnaga hizo la tercera pregunta:“Entonces, ¿por qué quieres comerme?” La serpiente respondió sin dudarlo:“Porque no soporto tu luz”. La moraleja de la historia:A veces, tu luz —tu felicidad, tu paz, tu éxito o tu belleza natural— puede irritar a los demás. No porque hayas hecho algo malo, sino simplemente porque brillas. Y esa luz puede provocar reacciones tóxicas en ciertas personas.Hay quienes no soportan la felicidad ajena. Algunos desearían tener lo que tú tienes. Otros, en cambio,…

Read more

Once upon a time, a snake started chasing a firefly that was flying low over the grass.After a while, the tired firefly stopped and said to the snake:“Can I ask you three questions?”The snake replied: “Yes, you can.”The firefly asked the first question:“Am I part of your diet (i.e. do you eat me for your food)?”The snake replied: “No.”The firefly asked the second question:“Have I ever harmed you?”The snake replied: “No.”The firefly asked the third question:“Then why do you want to eat me?”The snake replied without hesitation:“Because I can’t stand your light.”The moral of the story:Sometimes your light—your happiness, your peace, your success, or your natural beauty—can be a source of irritation to others. Not because you’ve done anything wrong, but simply because you’re shining. And that light can create toxic reactions in certain people.Some people can’t stand the happiness of others. Some people wish they had what you have.…

Read more

260/2198
NZ's Corner