Author Archives: NZ's Collection

ایک غریب آدمی کو کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔ وہ ساہوکار پر بھروسہ کرتا تھا، اس لیے نہ رسید لی اور نہ کوئی گواہ بنایا۔ چھ ماہ بعد واپس آیا تو ساہوکار سے اپنی رقم مانگی۔ ساہوکار نے صاف انکار کر دیا:“میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!” غریب بہت منت سماجت کرتا رہا، مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔ آخرکار وہ بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور ساری داستان سنا دی۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا تمہارے پاس کوئی رسید یا گواہ ہے؟” غریب نے سر جھکا کر کہا:“نہیں، حضور۔” بادشاہ نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر بولا:“ثبوت تو نہیں، مگر ایک تدبیر ضرور ہے۔” اگلے دن بادشاہ نے اسے حکم دیا کہ ساہوکار کی دکان پر بیٹھا رہے۔ کچھ دیر بعد بادشاہ…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان کو آپ کے پورے گھر کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اسے صرف ایک کیل لگانے کی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔یہ کہانی توآپ نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ، ایک شخص کے پاس بہت خوبصورت مکان تھا۔ ایک خریدار اس کے پاس آیا اور گھر کی اچھی قیمت پیش کی، لیکن مالک نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ خریدار بار بار آتا رہا، رقم بڑھاتا رہا، مگر مالک ہر بار انکار کرتا رہا۔پھر ایک دن خریدار آیا، اس نے آدھی قیمت پیش کی اور کہا: “مجھے آپ کا پورا گھر نہیں چاہیے، مجھے صرف ایک دیوار چاہیے جس پر میں ایک کیل ٹھونک سکوں۔”مالک نے سوچا کہ صرف ایک کیل کی بدولت اسے گھر کی آدھی قیمت مل رہی ہے، سودا برا نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان معاہدہ ہو گیا۔ خریدار نے دیوار پر کیل ٹھونکی اور چلا گیا۔ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد…

Read more

ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے…

Read more

ایک بوڑھا آدمی تھا اور ایک اس کی بوڑھی بیوی تھی۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بوڑھا اور بڑھیا شہر سے دور سب سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ بوڑھا محنت مزدوری کے لیے صبح منہ اندھیرے گھر سے نکل جاتا اور شام پڑے واپس آتا۔ وہ بہت رحم دل تھا، مگر جانے کیا بات ہے کہ رحم دل اور نیک لوگ کم کم ہی ہوتے ہیں۔ اس شخص کا ہاتھ تو بہت ہی تنگ رہتا تھا، مگر رحم دلی اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ کسی کو مشکل میں دیکھتا تو اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کا ہاتھ بٹاتا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شام ہو گئی تھی اور وہ لپک جھپک گھر جا رہا تھا۔ آج اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ صبح چلتے وقت بیوی نے کہا تھا کہ رات کے لیے گھر میں کچھ نہیں ہے۔ پیسے لے کر آؤ گے تو روٹی پکے گی۔…

Read more

ایک سوداگر کچھ دنوں کے لیے ایک سفر پر جانے لگا تو اس نے سومن لوہا اپنے ایک دوست کے گھر امانت کے طور پر رکھوا دیا تاکہ ضرورت پڑے تو اسے بیچ کر روپیہ حاصل کر سکے۔ جب وہ سفر سے لوٹا تو اپنے دوست کے پاس آیا اور اس سے لوہا طلب کیا۔ دوست نے کہا۔ ’’تمہارا لوہا میں نے ایک کوٹھری میں بند کر کے رکھ دیا تھا مگر ایک دن کھول کے دیکھا تو چوہوں نے سب کھا لیا تھا۔‘‘ سوداگر نے کہا۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ دراصل چوہوں کو لوہا بہت پسند ہے۔ وہ اس کی لذت پر جان دیتے ہیں۔ ضرور کھا لیا ہوگا کیونکہ ان کے دانت اس قسم کی ملائم اور چکنی چیز پر خوب چلتے ہیں۔‘‘یہ بات سن کر اس کا دوست بہت خوش ہوا کہ چلو اتنا سارا لوہا بغیر کسی جھگڑے کے ہضم ہو گیا۔ اسے سوداگر کی بے…

Read more

ایک چالاک کوا، ایک خطرناک بھیڑیا اور ایک مکار لومڑی ایک شیر کی خدمت میں تھے۔ ان کا جنگل شاہراہِ عام کے نزدیک تھا۔ ایک بار ایک سوداگر کا اونٹ اس جنگل کے آس پاس چرتے چرتے آیا اور شیر کے نزدیک پہنچ گیا۔ اونٹ شیر کو دیکھتے ہی گھبرا گیا، مگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ لہٰذا، اس نے فوراً شیر کو سلام کیا۔ شیر نے بھی سلام کا جواب دیا اور اس کی خیریت پوچھی۔ اونٹ نے جواب دیا: “اگرچہ آپ سے پہلے اپنے کام میں مجھے اختیار تھا، لیکن جب سے آپ کو دیکھ لیا، عنانِ اختیار ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب آپ جو فرمائیں گے، وہی کروں گا۔”شیر نے کہا: “اگر پسند ہو تو میری امان میں رہو۔”اونٹ بہت خوش ہوا اور اسی جنگل میں رہنے لگا۔ ایک عرصہ اسی طرح گزر گیا اور…

Read more

کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔ ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے گیا۔ وہ زور زور سے بھونکنے لگا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔ بوڑھے نے اسے کئی بار وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن موتی بار بار اسی جگہ واپس آ جاتا اور زمین کریدنے لگتا۔ آخرکار بوڑھے نے سوچا کہ شاید اس جگہ کوئی خاص چیز موجود ہے۔ اس نے پھاوڑا اٹھایا اور زمین کھودنا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد پھاوڑا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ بوڑھے نے مٹی ہٹائی تو وہاں سے ایک پرانا گھڑا نکلا، جس میں…

Read more

باباجی نے اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے ایک خوبصورت اور جوانعمر مریدنی لا کر سوکن ڈال رکھی تھی۔ معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نا رہا کہایک کو طلاق دے دیں۔ کس کو دیں، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا۔ایک طرف عمر بھر کا ساتھ تھا تو دوسری طرف ثقافت اور حُسن کیمعراج۔ تاکہ کسی پر ظلم نا ہو، باباجی نے امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ باباجی نے اپنی دونوں بیویوں کو دس دس ہزار روپے دیئے اور دوہفتوں کیلئے کہیں چلے گئے۔ واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ انکی پہلی بیوی نے دو ہفتوں میں اپناگزارہ کر کے بھی پینتیس سو بچا رکھے تھے جبکہ جوان و حسین بیوینے نا صرف دس ہزار خرچ کر دیئے تھے بلکہ ادھر اُدھر سے لیکرخرچ کرنے کیلئے پانچ ہزار کا قرضہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ باباجی نے فیصلہ کیا کہ ان کی پہلی بیوی انتہائی کفایت…

Read more

دوپہر کی تیز دھوپ میں ایک بوڑھا باپ اور اس کا جوان بیٹا اینٹوں کے بھٹے پر کام کر رہے تھے۔ باپ بار بار کہتا:“بیٹا، کچھ دیر سائے میں بیٹھ جاؤ۔ یہ سخت دھوپ تمہیں بیمار کر دے گی۔ کام کل بھی ہو جائے گا۔” مگر بیٹا مسکرا کر کہتا:“ابا جان، فکر نہ کریں، مجھے کچھ نہیں ہوگا۔” باپ خاموش ہو جاتا، مگر اپنے بیٹے کو تپتی دھوپ میں دیکھ کر اندر ہی اندر پریشان ہوتا رہتا۔ کچھ دیر بعد وہ گھر گیا، اپنے دو سالہ پوتے کو گود میں اٹھایا اور اسے ساتھ لے کر بھٹے پر واپس آ گیا۔ اس نے بچے کو چند لمحوں کے لیے دھوپ میں کھڑا کیا۔ گرمی محسوس ہوتے ہی بچہ رونے لگا۔ بیٹا فوراً دوڑا، بچے کو گود میں اٹھایا اور سایے میں لے گیا۔ پھر غصے اور پریشانی سے بولا:“ابا جان! آپ نے بچے کو دھوپ میں کیوں کھڑا کیا؟ اسے…

Read more

ریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور میں، نواب پنجم عباسی کے زمانے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام رازان تھا۔ رازان ایک عجیب طبیعت کا آدمی تھا خواب بڑے دیکھتا تھا، مگر قسمت اس کا ساتھ نہیں دیتی تھی۔ رازان نے کئی کام آزمائے:کبھی وہ کپڑوں کا چھوٹا کاروبار کرتا، مگر دکان میں نقصان ہو جاتا۔کبھی وہ مٹی کے برتن بنانے لگتا، مگر وہ بھی نہ چل پاتا۔ کبھی وہ اونٹوں کی خرید و فروخت کرتا، مگر دھوکہ کھا جاتا۔کبھی وہ کھانے پینے کی دکان کھولتا، مگر لوگوں کو پسند نہ آیا۔اور کبھی وہ شاہی کپڑوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتا، مگر ڈیزائن اور نفاست میں ناکام رہتا۔ ہر ناکامی کے بعد لوگ اس کا مذاق اڑاتے:“رازان، تم سے کچھ نہیں ہو سکتا!”“ہر کام ادھورا چھوڑ دیتے ہو!” یہ جملے اس کے دل میں تیر کی طرح لگتے تھے۔ ان سب ناکامیوں کے بعد رازان مکمل طور پر…

Read more

برصغیر کے قدیم زمانے میں، راجستھان کی ایک خشک مگر باوقار بستی میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔ لوگ اسے “دادی اماں” کہتے تھے۔ اس کی کمر جھک چکی تھی، ہاتھوں پر جھریاں تھیں، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، ایسا سکون جو صرف اس دل میں ہوتا ہے جس نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہو اور پھر بھی شکوہ نہ کیا ہو۔ وہ نہ عالمہ تھی، نہ کسی مدرسے میں پڑھی تھی،مگر اس کا یقین ایسا تھا کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اس کے سامنے خاموش ہو جاتے تھے۔ اس کی سب سے خاص بات یہی تھی کہ اس کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین غیر معمولی تھا۔ جب گاؤں میں قحط پڑتا،اور لوگ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے،تو اماں جی اپنے گھر کے باہر ایک مٹکا رکھ دیتی اور کہتی: “جو پیاسا ہو، پانی لے جائے” لوگ ہنستے: “یہ…

Read more

ایک شخص ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جا رہا تھا۔ جماعت چھوٹ جانے کے خوف سے وہ تیزی سے چل رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کھجور کے درخت پر پڑی، جہاں ایک مزدور پوری توجہ سے کھجوریں توڑنے میں مصروف تھا۔ اس شخص نے دل ہی دل میں سوچا: “یہ کیسا آدمی ہے جسے نماز کی فکر ہی نہیں؟” غصے میں اس نے بلند آواز سے کہا: “نماز کے لیے نیچے اتر آؤ!” مزدور نے سکون سے جواب دیا: “اچھا، ابھی اترتا ہوں۔” لیکن وہ شخص مزید برہم ہو گیا اور بولا: “جلدی کرو، اے گدھے! نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” یہ سن کر مزدور غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے فوراً کھجور کی ایک ٹہنی توڑی اور بولا: “میں گدھا ہوں؟ ذرا نیچے تو آؤں بتاتا ہوں تمہیں!” یہ دیکھ کر وہ شخص گھبرا گیا، اپنا چہرہ چھپایا اور…

Read more

ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج: لوہے اور پگھلے تانبے کا وہ ملٹری پراجیکٹ جسے آج کی ٹیکنالوجی بھی نہ بنا سکی! – بلال شوکت آزاد کیا آپ جدید تاریخ کے کسی ایسے ملٹری انجینئرنگ پراجیکٹ کا تصور کر سکتے ہیں جسے آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی، لیزر کٹنگ اور ہیوی مشینری بھی نہ بنا سکے؟ ایک ایسی دیوہیکل دیوار جو سیمنٹ یا اینٹوں سے نہیں، بلکہ خالص لوہے کے بلاکس اور پگھلتے ہوئے تانبے سے بنائی گئی ہو! اور جس کا مقصد کسی عام دشمن کو نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے وحشی، جنگجو اور خونخوار آرمی کو قیامت تک کے لیے قید کرنا ہو۔ ذرا ہالی ووڈ کی خیالی دیواروں کے طلسم سے باہر نکلیں اور کائنات کے اس حقیقی اور لرزہ خیز ملٹری آپریشن میں قدم رکھیں! تاریخ کے اس سب سے بڑے عالمی فاتح اور عادل حکمران کو قرآنِ مجید ‘ذوالقرنین’ کے نام سے پکارتا ہے۔ اللہ…

Read more

پنورگ نامی ایک شخص بحری جہاز کے سفر پر روانہ تھا۔ اسی جہاز پر بھیڑوں کا ایک تاجر دیندونو بھی سوار تھا. یہ اپنے ساتھ بھیڑوں کا ایک ریوڑ فروخت کرنے کے لیے لے جا رہا تھا۔ چنانچہ دوران سفر پنورگ اور تاجر دیندونو کے درمیان جہاز کے عرشے پر جھگڑا ہو گیا۔ لالچی سوداگر سے بدلہ لینے کے لیے پنورگ غصے سے لال نیلا ہورہا تھا، پنورگ نے اس کو سبق سکھانے کے لئے اس کی سب سے بڑی بھیڑ کو بھاری قیمت پر خریدنے کا فیصلہ کیا، اس منافع بخش سودے پر لالچی سوداگر دیندونو کو بہت خوشی ہوئی۔ پنورگ نے یکایک ایک عجیب حرکت کی، اس نے بھیڑوں کی لیڈر کو اس کے  سینگوں سے پکڑا اور اسے زبردستی گھسیٹ کر جہاز کے آخری کنارے پر لے گیا، پھر اسے زور کے ساتھ  دھکا دے کر سمندر میں پھینک دیا۔ پیچھے تمام بھیڑیں یہ منظر دیکھ رہی…

Read more

محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ندی کے کنارے چوہے اور مینڈک کی ملاقات ہوگئی، ایک دوسرے کے تعارف کے بعد ندی کے قریب خوشگوار ماحول میں کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ چند دنوں کے بعد یہ دوستی کی گرہ “محبت میں تبدیل ہوگئی”۔ “یہ محبت “عشق و آشنائی تک جا پہنچی، پھر یہ چاہت اور بے تابی اس حد تک بڑھ گئی کہ دونوں وقتِ معین پر ہر صبح کو ملاقات کے پابند ہوگئے اور دیر تک دونوں تبادلہٴ خیالات کرتے رہتے، کچھ جگ بیتی اور کچھ آپ بیتی کے متعلق آپس میں باتیں کر کے ایک دوسرے کا دل خوش کرتے، آپس میں راز گو تھے، بے زبان بھی تھے اور بازبان بھی۔  جوشِ نطق از دل نشانِ دوستی استبستگی نطق از بے الفتی است  گویائی اور گفتگو کا جوش دل سے اٹھنا علامتِ محبت ہے اور گویائی…

Read more

ایک شخص ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جا رہا تھا۔ جماعت چھوٹ جانے کے خوف سے وہ تیزی سے چل رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کھجور کے درخت پر پڑی، جہاں ایک مزدور پوری توجہ سے کھجوریں توڑنے میں مصروف تھا۔ اس شخص نے دل ہی دل میں سوچا: “یہ کیسا آدمی ہے جسے نماز کی فکر ہی نہیں؟” غصے میں اس نے بلند آواز سے کہا: “نماز کے لیے نیچے اتر آؤ!” مزدور نے سکون سے جواب دیا: “اچھا، ابھی اترتا ہوں۔” لیکن وہ شخص مزید برہم ہو گیا اور بولا: “جلدی کرو، اے گدھے! نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” یہ سن کر مزدور غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے فوراً کھجور کی ایک ٹہنی توڑی اور بولا: “میں گدھا ہوں؟ ذرا نیچے تو آؤں بتاتا ہوں تمہیں!” یہ دیکھ کر وہ شخص گھبرا گیا، اپنا چہرہ چھپایا اور…

Read more

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…

Read more

ایک جنگلی گائے صبح سویرے صاف ستھرا سبز گھاس کھانے کے لئے نکل جاتی۔ سرسبز و شاداب جزیرے میں دن بھر مزے مزے سے چرتی رہتی۔ جب خوب پیٹ بھر جاتا اور اس کا جسم توانا ہو جاتا تو پھر اپنے ٹھکانے پر واپس آ جاتی۔ رات کو وہ اس فکر میں مبتلا ہو جاتی کہ آج تو میں سر سبز اور خوبصورت گھاس کھا آئی ہوں “کل کیا کروں گی ساری رات وہ اس غم میں ہی گھلتی رہتی خدا معلوم اگلے روز گھاس کھانے کو ملے یا نہ ملے، اگلے دن کی خوراک کی فکر جب اس کو دامن گیر ہو جاتی تو اس غم میں صبح تک پھر سوکھ کر کمزور ہو جاتی……دوسرے دن صبح سویرے جب پھر وہ جزیرے میں مریضۂ ہوس پہنچی تو بڑی حرص کے ساتھ چارہ کھانے لگی سارا دن وہ سرسبز و شاداب گھاس کھاتی رہی۔ جب واپس پہنچی تو رات کو…

Read more

ایک بادشاہ کو تحفے میں دو بہترین اور خوبصورت عقاب ملے بادشاہ نے انہیں تربیت دینے کے لیے ایک تجربے کار اور ماہر شاہیں پرور کے حوالے کر دیا تاکہ انہیں اونچی پرواز کی تربیت دی جا سکے۔ کچھ دنوں بعد شاہین پرور نے بادشاہ کو خبر دی کہ ایک عقاب تو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور بہترین پرواز کر رہا ہے لیکن دوسرا عقاب درخت کی شاخ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔ وہ سارا دن اسی شاخ پر بیٹھا رہتا ہے، کھاتا پیتا ہے مگر اڑنے کی کوشش بالکل نہیں کرتا۔ بادشاہ نے ریاست کے بڑے بڑے حکیموں اور ماہرین کو بلایا تاکہ اس عقاب کو اڑنا سکھایا جا سکے، لیکن کوئی بھی اسے شاخ سے نہ اڑا سکا۔ آخر کار بادشاہ نے پورے شہر میں اعلان کروایا کہ جو اس عقاب کو اڑائے گا اسے بڑا انعام دیا جائے گا۔ اگلی صبح بادشاہ نے محل…

Read more

جنگل میں ایک سور رہتا تھا۔ اس کی ایک عجیب عادت تھی: جہاں سے وہ گزرتا، باقی جانور راستہ بدل لیتے۔ وجہ اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کے جسم سے اٹھنے والی ایسی شدید بدبو تھی کہ قریب کھڑا رہنا بھی مشکل ہو جاتا۔ حتیٰ کہ جنگل کا بادشاہ شیر بھی اسے دیکھ کر دور سے راستہ بدل لیتا۔ ایک دن اتفاق سے کنویں کے قریب شیر اور سور کا آمنا سامنا ہوگیا۔ سور حسبِ معمول کیچڑ میں لت پت تھا۔ شیر نے جونہی اسے قریب آتے دیکھا، پہلے ایک قدم پیچھے ہٹا، پھر دوسرا، مگر سور کی بدبو کا ایک تیز جھونکا ایسا آیا کہ شیر کا دماغ چکرا گیا اور وہ وہاں سے پلٹ گیا ۔ سور چند لمحے شیر کو جاتے دیکھتا رہا، پھر اس کی آنکھوں میں عجیب چمک آگئی۔ “اوہو!” اس نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا، “تو یہ بات ہے! شیر بھی مجھے دیکھ…

Read more

260/3958
NZ's Corner