Author Archives: NZ's Collection

فریبستان کے ہوس والے علاقے میں تین قسموں کے آدم زاد رہتے تھے۔۱۔ ان میں سے ایک کی نظر اتنی تیز تھی کہ چونٹی کے پاؤں تک دیکھ لیتا تھا لیکن وہ دل کی آنکھوں سے اندھا تھا۔۲۔ دوسرا بہت تیز سننے والا تھا لیکن اس کے دل و دماغ کے کان بند تھے۔۳۔ تیسرا مادر زاد ننگا تھا لیکن اس کے کپڑوں کے دامن بڑے دراز تھے۔سمجھنے والے کو شاید “اس ویرانے سے کوئی خزانہ ہاتھ آجائے”ایک دن اندھے نے کہا “یارو” آدمیوں کا ایک گروہ چلا آرہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں نقصان پہنچائیں ہم یہاں سے بھاگ جائیں۔ بہرے نے کہا “ہاں ہاں” تُو ٹھیک کہتا ہے میں بھی ان آدمیوں کے قدموں کی آہٹ سُن رہا ہوں معلوم ہوتا ہے خاصی بڑی جماعت ہے۔ننگے نے گھبرا کر کہا “بھائیو” مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ کہیں میرے قیمتی کپڑے ہی نہ لے لیں۔ اندھے…

Read more

ایک بار ملا نصیر الدین کی ملاقات دوسرے شہر سے آئے ایک امیر آدمی سے ہوئی۔ امیر آدمی نے افسردگی سے کہا:“ملا صاحب! میرے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں، لیکن پھر بھی میں ہر وقت اداس رہتا ہوں۔ خوشی کی تلاش میں دور دور تک سفر کیا، مگر خوشی کہیں نہیں ملی۔” ملا نصیر الدین نے کچھ جواب نہ دیا۔ اچانک اس نے امیر آدمی کے ہاتھ سے پیسوں کا تھیلا چھینا اور دوڑ لگا دی! امیر آدمی بھی چیختا ہوا اس کے پیچھے بھاگا:“میرا تھیلا! پکڑو اسے!” کافی دور دوڑنے کے بعد ملا نصیر الدین ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا اور تھیلا راستے میں ایسی جگہ رکھ دیا جہاں وہ آسانی سے نظر آ سکے۔ کچھ دیر بعد امیر آدمی وہاں پہنچا۔ تھیلا دیکھتے ہی اس نے فوراً اسے اٹھایا، سینے سے لگایا اور خوشی سے اچھلنے لگا۔ ملا نصیر الدین درخت کے پیچھے سے مسکراتے ہوئے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔ یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک کشتی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے…

Read more

ایک دور دراز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا جو اپنی زمین کو سرسبز بنانے کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی مشکل پانی کی کمی تھی۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے پڑوسی کے پاس ایک گہرا اور پانی سے بھرا کنواں ہے۔ کسان نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور امید کے ساتھ پڑوسی کے پاس جا کر کنواں خرید لیا۔ شروع میں وہ بہت خوش تھا کہ اب اس کے کھیت ہرے بھرے ہو جائیں گے۔ مگر اس کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جب وہ پانی نکالنے کے لیے کنویں پر گیا تو پڑوسی نے اسے روک دیا اور سخت لہجے میں کہا،“میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر کا پانی نہیں!” یہ سن کر کسان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ پریشان اور دکھی ہو کر انصاف کی تلاش میں…

Read more

ایک شخص کو جنگل میں ایک جنگلی گھوڑا ملا۔ وہ اسے اپنے گھر لے آیا۔ پڑوسیوں نے جب گھوڑا دیکھا تو خوش ہو کر کہنے لگے: “واہ! تم تو بہت خوش قسمت ہو، تمہیں اتنا خوبصورت گھوڑا مل گیا!” وہ شخص مسکرایا اور بولا: “مجھے نہیں معلوم… یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی۔” چند دن بعد اس کا بیٹا گھوڑے پر سوار ہوا۔ گھوڑا اچانک بدک گیا اور لڑکا زمین پر جا گرا۔ اسے شدید چوٹ آئی اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ پڑوسی افسوس کرتے ہوئے بولے: “ہائے! یہ تو بہت بڑی بدقسمتی ہوگئی۔” اس شخص نے سکون سے جواب دیا: “مجھے نہیں معلوم… یہ اچھا ہوا یا برا۔” کچھ ہی عرصے بعد ملک میں جنگ چھڑ گئی۔ بادشاہ کے حکم پر گاؤں کے تمام صحت مند نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کر لیا گیا۔ پڑوسیوں کے بیٹے بھی جنگ پر چلے گئے۔ مگر اس شخص کا بیٹا…

Read more

ایک رات تین چوروں نے ایک امیر آدمی کے گھر میں نقب لگا کر بہت سا مال و دولت چرا لیا۔ وہ سارا مال ایک تھیلے میں ڈال کر قریبی جنگل کی طرف نکل گئے تاکہ وہاں چھپ کر آپس میں تقسیم کر لیں۔ جنگل میں پہنچ کر وہ بہت تھک چکے تھے اور انہیں سخت بھوک بھی لگ رہی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک چور قریبی گاؤں سے کھانا لے آئے، جبکہ باقی دو چور تھیلے کی حفاظت کریں۔ جو چور کھانا لینے گیا، اس کے دل میں لالچ اور بد نیتی پیدا ہو گئی۔ اس نے سوچا:“اگر میں ان دونوں کو ختم کر دوں تو سارا مال میرا ہو جائے گا۔” اس نے کھانا خریدا اور اس میں زہریلی چیز ملا دی تاکہ دونوں ساتھی کھا کر مر جائیں۔ دوسری طرف جنگل میں موجود دونوں چور بھی کم برے نہ تھے۔ انہوں نے بھی یہ منصوبہ…

Read more

ایک دن ایک بھیڑیا بھوک سے بے تاب ہو کر غذا کی تلاش میں جنگل میں مارا مارا پھر رہا تھا، وہیں ایک خرگوش جھاڑیوں میں گہری نیند سو رہا تھا۔ بھیڑیے کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اسے غنیمت جانا اور آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھنے لگا۔ خرگوش نے خطرے کی بو پا کر چھلانگ لگائی اور بھاگنے کی کوشش کی، مگر بھیڑیے نے اس کا راستہ روک کر کہا:“کہاں جاتا ہے؟”خرگوش پر خوف غالب آگیا اور اس نے خوشامد شروع کر دی، اپنا منہ زمین پر رگڑ کر کہنے لگا:“میں جانتا ہوں کہ بھوک کی آگ شعلہ فشاں ہے، جس کی وجہ سے جہاں پناہ بے قرار ہیں اور غذا کے طلب گار ہیں۔ مگر مجھ جیسا چھوٹا موٹا جانور آپ کے لیے کافی نہیں، یہ تو ایک نوالے سے زیادہ نہیں۔ البتہ یہاں قریب ہی ایک لومڑی رہتی ہے، جس کا موٹاپے کی وجہ…

Read more

ایک مچھر نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آ کر فریاد کی ”اے وہ ذاتِ گرامی جس کی سلطنت جن و انس اور ہوا پر ہے۔ تُو جن و انس کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہوا میں اڑنے والے پرندے اور دریا میں تیرنے والی مچھلیاں سب تیرے انصاف کی تعریف میں رطبُ اللسان ہیں۔ اب ہماری مشکل بھی آسان کر، ہم بہت تکلیف میں ہیں۔ صرف ہماری جنس ہی انصاف سے محروم چلی آرہی ہے۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مچھر کی یہ درد بھری فریاد سُن کر کہا: ”اے انصاف ڈھونڈنے والے تُو کس سے اپنا انصاف چاہتا ہے۔؟ وہ کون ظالم ہے؟ جس نے ازراہِ غرور تجھے ستایا۔“ مچھر نے عرض کیا: ”اے سلیمان علیہ السلام! ہم ہوا کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں ہیں۔ وہ دونوں ہاتھوں سے ہم پر ظلم کرنے والی ہے۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: ”اے مچھر مجھے خدا…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…

Read more

ایک چالاک کوا، ایک خطرناک بھیڑیا اور ایک مکار لومڑی ایک شیر کی خدمت میں تھے۔ ان کا جنگل شاہراہِ عام کے نزدیک تھا۔ ایک بار ایک سوداگر کا اونٹ اس جنگل کے آس پاس چرتے چرتے آیا اور شیر کے نزدیک پہنچ گیا۔ اونٹ شیر کو دیکھتے ہی گھبرا گیا، مگر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ عاجزی اور انکساری سے کام لے۔ لہٰذا، اس نے فوراً شیر کو سلام کیا۔ شیر نے بھی سلام کا جواب دیا اور اس کی خیریت پوچھی۔ اونٹ نے جواب دیا: “اگرچہ آپ سے پہلے اپنے کام میں مجھے اختیار تھا، لیکن جب سے آپ کو دیکھ لیا، عنانِ اختیار ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب آپ جو فرمائیں گے، وہی کروں گا۔”شیر نے کہا: “اگر پسند ہو تو میری امان میں رہو۔”اونٹ بہت خوش ہوا اور اسی جنگل میں رہنے لگا۔ ایک عرصہ اسی طرح گزر گیا اور…

Read more

کہتے ہیں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے:“تم نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی؟” اعرابی نے کہا: “وہ ابھی عدت میں ہے، ابھی تک میری بیوی ہے۔ مجھے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اگر میں اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کر دوں تو کل اس سے رجوع کیسے کروں گا؟” لوگ خاموش ہو گئے۔ عدت گزر گئی، مگر اعرابی نے رجوع نہ کیا۔ لوگ دوبارہ آئے اور پوچھا:“اب تو طلاق کی وجہ بتا دو!” اعرابی نے جواب دیا: “اب وہ میری بیوی نہیں رہی۔ اگر میں اس کے عیب بیان کروں گا تو اس کی شخصیت خراب ہوگی، اور شاید کوئی اس سے شادی نہ کرے۔” کچھ عرصے بعد اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہو گئی۔ لوگ پھر اعرابی کے پاس پہنچے:“اب تو وہ کسی اور کی بیوی ہے، اب تو بتا دو کہ طلاق کیوں…

Read more

اصلاحِ نفس کے لیے ایک آدمی اللہ والے کی خدمت میں حاضر ہوا اور شیخ کے تجویز کردہ اوراد و وظائف کو پابندی کے ساتھ پڑھنے لگا۔ شیخ کے گھر سے ایک خادمہ اس کے لیے کھانا لایا کرتی تھی۔ چند دنوں کے بعد وہ اصلاحِ نفس کرنے والا آدمی نفس کے جال میں پھنسنا شروع ہو گیا۔وہ آہستہ آہستہ خادمہ کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ جب خادمہ کھانا لے کر آتی…… وہ اسے دیکھتا رہتا۔ خادمہ اللہ والوں کی نوکر تھی۔ اس نے صاف صاف شیخ صاحب کو بتلا دیا کہ حضور! آپ کا فلاں مرید میرے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اب اس کو اوراد و وظائف سے کیا نفع ہوگا پہلے اس کا یہ مسئلہ حل کریں۔ شیخ صاحب یہ سن کر خاموش ہو گئے اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کرنے لگے کہ الٰہی مجھے اس مسئلے کا حل عطا فرما۔ چند دنوں…

Read more

ہرات کا نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام الناس، مسافر، تاجر، الغرض تمام لوگ خوش تھے، اور یہ بادشاہِ وقت کا وفادار ساتھی تھا۔ بادشاہ اس پر مکمل اعتماد کرتا تھا۔ اس نواب کے کافی تعداد میں غلام تھے جن کو وہ بیٹوں کی طرح آرام اور زیب و زینت سے رکھتا تھا۔ اطلس اور کمخواب کی قبائیں اور ان پر گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان دو بالا کئے دیتی تھیں۔ ان شاندار زیب و زینت سے آراستہ غلاموں کی ٹولیاں بازار میں گشت کر رہی تھیں۔ایک غریب مفلس قلاش شخص جو بھوکا اور ننگا تھا۔ ان کو دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا یہ رئیس زادے کون ہیں؟ جواب دینے والے نے کہا: “یہ ہمارے اس علاقے کے نواب کے نوکر چکر ہیں۔” وہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے…

Read more

ایک دن ملا نصیرالدین حمام گئے۔ ان کے کپڑے اتنے پرانے اور پھٹے ہوئے تھے کہ دیکھنے والا فوراً یہی سمجھے کہ یہ کوئی غریب آدمی ہیں۔ حمام کے خادم نے بھی یہی سوچا۔ اس نے نہ خاص توجہ دی، نہ اچھی خدمت کی۔ تولیہ بھی ایسے لا کر دیا جیسے کوئی احسان کر رہا ہو۔ مگر جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو انہوں نے خادم کو اچھی خاصی بخشش دے دی۔ خادم حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر معمولی خدمت پر اتنی بخشش ملی ہے تو اگلی بار خوب خدمت کروں گا!” ایک ہفتے بعد ملا نصیرالدین دوبارہ حمام پہنچے۔ اس بار خادم دوڑتا ہوا آیا۔ بڑے ادب سے استقبال کیا، بہترین تولیہ دیا، گرم پانی کا انتظام کیا اور ہر طرح کی خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ وہ دل ہی دل میں بڑی بخشش کا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن جب ملا نصیرالدین جانے لگے تو…

Read more

پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا جو بڑا ہی ظالم، خونخوار اور جفا پیشہ تھا ہمیشہ غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتا تھا۔ ایک فقیر نے اس کے لیے بد دعا کی اور اس پر لعنت ملامت بھیجی۔ ایک دن وہ بادشاہ شکار سے لوٹا تو منادی کرا دی کہ ” میں نے ایک عمر تک غریبوں اور کمزوروں پر ظلم و ستم کیا۔ انھیں طرح طرح کی ایذائیں دیں ۔ لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ اب میں سچے دل سے توبہ کروں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آج سے کبھی اپنی رعایا کو آزار نہ پہنچاؤں گا اور کسی ستم گر کے قدم اپنی سلطنت کے کسی گلی کوچے میں پڑنے نہ دوں گا۔ اس خوشخبری سے رعایا کی جان میں جان آئی اور کچھ ہی دنوں میں اس کا عدل انصاف یہاں تک پہنچا کہ اس کا لقب ” بادشاہ دادگر مشہور ہو گیا۔ اس کے دور…

Read more

ایک دن، ایک آدمی اپنے ایک دانا اور بزرگ دوست سے ملنے گیا۔ جیسے ہی وہ بیٹھا، اس نے شکوہ کرنا شروع کر دیا۔اس نے کہا، “میری زندگی میں ہر چیز غلط ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ میں حسد کرنے والے اور مشکل مزاج لوگوں سے گھرا ہوا ہوں۔ کوئی نہ کوئی ہمیشہ مجھ پر تنقید کرتا رہتا ہے، مجھے مایوس کرتا ہے، یا میرا مزاج خراب کرتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے آس پاس صرف منفی پن ہے۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟”بزرگ نے بغیر روکے اس کی بات سنی۔ پھر اس نے کمرے کے گرد نظر ڈالی اور کہا، “اس کمرے کو اچھی طرح دیکھو اور اس میں موجود ہر اس چیز کو یاد رکھنے کی کوشش کرو جو بھورے (brown) رنگ کی ہے۔”آدمی کو یہ ایک عجیب سی بات لگی، لیکن اس نے حکم کے مطابق کیا۔ اس نے لکڑی کی میز، کتابوں کی الماری، چمڑے کی…

Read more

ایک بادشاہ انصاف پسند اور عوام کے دکھ سکھ کو سمجھنے والا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ سے لنگڑا اور ایک آنکھ سے کانا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے کانا اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سے بھی لنگڑا تھا۔ لیکن ان مصوروں میں سے ایک مصور نے کہا: بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر ۔ چنانچہ اس کو تمام سامان مہیا کر دیا گیا اوروہ دل و جان سے تصویر بنانے میں لگ گیا۔جب تصویر تیار ہوئی تو وہ اپنی خوبصورتی میں ایک بہترین…

Read more

بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔ مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔ وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی…

Read more

ایک روز ایک نوجوان اُستاد کے پاس آیا اور بولا: “میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کیونکہ میں خود کو بہت بے کار اور حقیر سمجھتا ہوں، مجھے جینے کی خواہش نہیں رہی۔ میرے اردگرد سب لوگ کہتے ہیں کہ میں ایک ناکام اور بدکردار انسان ہوں۔ اُستاد جی، میں آپ سے التجا کرتا ہوں — میری مدد کریں!” اُستاد نے نوجوان پر ایک سرسری نظر ڈالی اور جلدی سے بولے: “معاف کرنا، میں ابھی بہت مصروف ہوں اور تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔ مجھے ایک نہایت ضروری کام نمٹانا ہے۔” پھر ایک لمحہ سوچ کر بولے: “لیکن اگر تم میرے کام میں ہاتھ بٹاؤ، تو میں خوشی سے تمہاری مشکل بھی حل کروں گا۔” “جی… جی ضرور، اُستاد جی،” نوجوان نے ہکلاتے ہوئے کہا، دل میں یہ کڑواہٹ لیے کہ ایک بار پھر اسے نظرانداز کر دیا گیا۔ “بہت اچھا،” اُستاد نے کہا اور اپنی بائیں ہاتھ…

Read more

جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک دن اعلان کیا کہ شاہی دربار میں ایک اہم عہدہ خالی ہے اور اس کے لیے پورے جنگل سے امیدوار درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ عہدہ بھی معمولی نہیں تھا؛ اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کیا جانا تھا، یعنی بادشاہ کے قریب رہنا، دربار کے معاملات دیکھنا، مختلف جانوروں کے درمیان رابطہ رکھنا اور اہم مواقع پر بادشاہ کی نمائندگی کرنا۔ اعلان ہوتے ہی جنگل میں جیسے روزگار کی بہار آ گئی۔ ہاتھی نے درخواست دی کہ اس سے زیادہ مضبوط اور ذمہ دار کون ہو سکتا ہے، ریچھ نے کہا کہ طاقت اور تجربے میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں، ہرن نے اپنی پھرتی اور خوب صورتی کو قابلیت سمجھا، بھیڑیے نے اپنی بہادری گنوائی، اونٹ نے اپنی برداشت کا حوالہ دیا، بندر نے اپنی حاضر جوابی کو اپنی سب سے بڑی خوبی قرار دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے…

Read more

280/3958
NZ's Corner