Author Archives: NZ's Collection

ایک دن دو شکاریوں نے چیتے کو دیکھا۔وہ اس کا پیچھا کرنے لگے۔چیتا ان سے جان بچا کر بھاگ گیا، لیکن شکاری جوان اور طاقتور تھے۔وہ بہت تیز دوڑتے تھے۔چیتے نے سوچا:”شکاری مجھے پکڑ کر مار ڈالیں گے! میں کیا کر سکتا ہوں؟“ پھر بہت دور، اس نے کچھ موسیقی کی آواز سنی۔ایک کسان اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا اور یہ گیت گنگنا رہا تھا:”میں اپنے کھیت میں ہل چلاتا ہوں اور میں اپنا اناج بوتا ہوں اور میں بادلوں کو دیکھتا ہوں، جنھیں میں بارش لاتے دیکھتا ہوں۔“چیتا بھاگ کر کسان کے پاس پہنچا۔چیتے نے کہا:”براہِ کرم میری مدد کریں! شکاری میرا پیچھا کر رہے ہیں، وہ مجھے پکڑ کر مارنا چاہتے ہیں۔“کسان کو چیتے پر ترس آ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ میری اناج کی کوٹھری میں چھپ سکتے ہیں۔چنانچہ چیتا چھلانگ لگا کر کسان کے اناج کی کوٹھری میں گھس گیا۔وہ بہت خاموشی سے…

Read more

یہ ضرور کسی ڈائن کاکام ہے ۔ جنگل کے اوجھا نامی لکڑ بھگّے نے آنکھیں گول گول گھما کر کہا۔’’یہ جو آج کل ایک کے بعد ایک بچّے مرتے جارہے ہیں ، ضرور اس میں اُسی کا ہاتھ ہے وہ ڈائن ہے ۔ اب اُس کی نظر تیرے بچّے پر ہے۔‘‘’’ تو ہمارا کیا ہوگا؟ ‘‘براؤنی بھالو لگا رونے ۔’’ہمارے دو بچّے ہوئے ایک تو پہلے ہی خدا کو پیارا ہوگیا۔ خدا جانے اسے کون سی بیماری لگی ہے۔ ‘‘بنٹی لومڑی مانو سسکنے لگی :’’ بابا! کہیں یہ اُس سنہری ہرن کے کرتوت تو نہیں؟ اتنے بڑے کھیت اور کٹیا کی اکیلی مالکن بنی بیٹھی ہے۔‘‘سنہری ہرن تھی تو اکیلی اس کا کوئی بھی نہ تھا مگر کھیتوں پر راج تھا تو اسی کا ۔ جیسے ہی بنٹی لومڑی نے ہرن کی بات کی، تو مانو اوجھالکڑ بھگّا اسی موقع کی تلاش میں تھا ۔ اس نے کہا :’’ ارے…

Read more

ایک قصاب کی دکان پر بہت کوے آتے تھے۔اور اپنی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے جھپٹ کر گوشت کا ٹکڑا اُڑا لے جاتے۔قصاب کوؤں کی اس حرکت سے سخت اکتا گیا تھا۔اور اس کا حل یہ سوچا کہ ایک کوا مار کر لٹکا دیا جائے تاکہ باقی کوے اس کی موت سے عبرت لیں کہ یہاں خطرہ ہے۔اور یہاں نہ آئیں۔قصاب نے اس سوچ پر عمل کیا اور مرا کوا لٹکا کر اطمینان سے کام کرنے لگا۔تھوڑی دیر ہوئی کہ پوری فضا کوؤں کی کاں کاں سے گونجنے لگی۔اتنی تعداد میں کوے اور اس قدر شور کہ ہر شخص اس منظر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ایک کوا قصاب پر جھپٹے تو دوسرا گوشت پر، ایک مرے ہوئے کوے پر تو دوسرا پھر قصاب پر۔کوؤں کی تعداد اور شور مزید بڑھ گیا۔قصاب اس ساری صورتحال میں سخت مضطرب ہوا۔اور مرے ہوئے کوے کی رسی کھولی اور دور پھینک دیا۔کچھ کوے مرے…

Read more

نعمان تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا جا رہا تھا۔اب وہ کیا کرے۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔مجرم اس کے تعاقب میں تھے۔وہ ہر صورت میں نعمان سے رقم چھین لینا چاہتے تھے۔اس کی جیب میں موجود رقم اس کی اپنی نہیں تھی۔نعمان کے دفتر کے ساتھی ریاض کی طبیعت خراب تھی۔یہ رقم اسے پہنچانے کو دفتر کے باس امتیاز صاحب نے دی تھی، تاکہ وہ اس رقم سے اپنا علاج کرا لے۔بس میں اس کی پینٹ کی پھولی جیب دیکھ کر دونوں مجرموں نے بھانپ لیا کہ اس کے پاس خاصی رقم ہے، اس لئے انھوں نے اس سے رقم حاصل کرنے کو بس سے اُتر کر رقم چھین لینے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔نعمان جیسے ہی بس سے اُترا، ڈکیت بھی تیر کی طرح اس کی جانب لپکے۔نعمان نے ان کی باتوں کا جواب دینے کی بجائے دوڑ لگا دی۔ وہ بھی اس کے تعاقب میں دوڑے۔نعمان…

Read more

جنگل میں آج ایک غیر معمولی اجلاس جاری تھا۔جنگل میں موجود دوشیروں کو جنگل بدر کرنے کی قرار داد پیش کی جارہی تھی۔راجا ہاتھی اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے حالات کا بغورجائزہ لے رہا تھا اور بڑے بڑے کانوں سے بہت توجہ سے سب کی بات سن رہا تھا ۔سب جانور اس بات پر متفق تھے کہ ان شیروں کو علاقے سے نکال دیا جائے ،جن کی وجہ سے جنگل کا سکون غارت ہوکررہ گیا تھا ۔ جانور ٹھیک سے کھاسکتے تھے ،نہ آرام سے پانی پینے پی سکتے تھے ۔پل بھر کے لیے غافل ہوئے اور شیران کی گردن دبوچنے کو آموجود ہوتے ہیں ۔اس تحریک نے تب زور پکڑا،جب شیروں کا تیسرا ساتھی بھینسوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا۔اسی وقت سے شیروں کے حوصلے بہت پست ہوگئے تھے ۔لنگڑ ابارہ سنگھار جو شیروں کے لیے ایک آسان شکار ثابت ہوسکتا تھا،اس نے یہ بھانپ لیا تھا۔…

Read more

روس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، برف سے ڈھکی ہوئی ایک سخت سرد دنیا کے بیچ، ایک نہایت غریب مگر محنتی جوتا ساز، سیمیون، اپنی بیوی مترونا اور ننھے بچوں کے ساتھ ایک بوسیدہ، تنگ و تاریک کرائے کے کمرے میں زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ مویشی، نہ کوئی جمع پونجی۔ اس کی کل دولت اس کے محنت کش ہاتھ، چند اوزار اور اپنے پیشے سے وابستہ عزت تھی۔ دن بھر جوتے سی کر جو چند سکے ملتے، انہی سے چولہا جلتا، اور کئی راتیں ایسی بھی آتیں جب بچوں کو آدھی روٹی پر ہی سونا پڑتا۔ سردیوں کی ایک بےحد یخ بستہ شام، جب برفانی ہوا ہڈیوں تک اتر رہی تھی، سیمیون کے پاس اتنی ہی رقم تھی کہ یا تو وہ اپنے پرانے، جگہ جگہ سے پھٹے کوٹ کے لیے نیا چمڑا خرید لیتا، یا پھر گھر کے لیے چند دن…

Read more

ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔اس جنگل کا بادشاہ شیر کافی بوڑھا اور عقل مند تھا جس کی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ان سب کی آپس میں اچھی دوستی تھی۔وہ فارغ وقت میں خوب گپ شپ کرتے تھے۔لومڑی اور بھیڑیا بچپن کے دوست تھے۔وہ دونوں جب بھی ملتے تو خوب گھل مل کر باتیں کرتے۔ ایک دن دونوں کی راہ چلتے ملاقات ہوئی تو بھیڑیے نے کہا ”بی لومڑی!اب جنگل میں شکار کم ہوتا جا رہا ہے۔انسان نے اس جنگل کے جانوروں کا شکار کرکے ہم جانوروں پر بڑا ظلم کیا ہے۔اب تو جنگل کے اردگرد بھی بھیڑیں بہت کم ہو گئی ہیں۔میں تو کھانے کو ترس گیا ہوں،کہیں بھی شکار نہیں ملتا۔“”اگر عقل ہو تو اس جنگل میں شکار بہت ہے“ بی لومڑی نے مکاری سے کہا ”بی لومڑی!اب تو جانور بھی بہت ہوشیار ہو گئے ہیں۔انسان کو دیکھ کر چھپ…

Read more

کسی گاؤں میں ایک غریب چرواہارہتا تھا وہ روزانہ چندبکریوں کو لے کر قریب پہاڑی پر چلا جاتا جہاں بکریاں چرتی رہتی تھیں۔ چرواہا بہرا تھا مگر اس سے اس کے کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی بیوی اسے کھانادینا بھول گئی اور پھر بچے کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا ہے۔ چرواہے نے سوچا میں گھر جا کر کھانا لے آؤں دن بھر بھوکے رہنا میرے لیے دشوار ہوگا۔اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک گھسیارا ( گھاس کاٹنے والا) پہاڑ کے کنارے گھاس کاٹ رہا ہے۔ چرواہا اس کے پاس گیا اور کہا بھائی تم ذرا میری بکریوں کا خیال رکھنا میں گاؤں جاکر کھانا لے آؤں۔ میری بیوی آج کھانا دینا بھول گئی ہے اتفاق سے گھسیارا ببی بہراتھاو ہ ایک لفظ بھی نہ سن سکا بلکہ اور الٹا غلط سمجھا۔ وہ بولا میں تم کو اپنی گھاس کیوں دوں…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاید تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاید نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاید کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاید خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے…

Read more

😄 عقل کی بات ایک آدمی بس میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ساتھ بیٹھے بچے نے پوچھا:“انکل! آپ روز اخبار پڑھتے ہیں؟” آدمی نے فخر سے کہا:“ہاں بیٹا، تاکہ دنیا بھر کی خبریں معلوم رہیں۔” بچہ معصومیت سے بولا:“پھر تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ میری امی نے کہا ہے، واپسی پر آدھا کلو چینی لیتے آئیے!” بس میں بیٹھے سب لوگ ہنس پڑے، اور وہ آدمی بھی اخبار بند کرکے مسکرا دیا۔ مسکراہٹ بانٹنے سے کبھی کم نہیں ہوتی۔ 😊 😂  خاموشی کی قیمت ایک شخص نے دکان پر جا کر پوچھا:“بھائی، سب سے سستی چیز کیا ہے؟” دکاندار نے مسکرا کر کہا:“مشورہ!” وہ بولا:“اور سب سے مہنگی؟” دکاندار نے جواب دیا:“اسی مشورے پر عمل کرنا!” — 😂 ۔ وقت کی پابندی ایک صاحب ہمیشہ دفتر دیر سے پہنچتے تھے۔ ایک دن افسر نے غصے سے پوچھا:“آخر روز دیر کیوں ہوتی ہے؟” وہ بولے:“سر! آپ ہی…

Read more

کافی پرانی بات ہے، میں بہت چھوٹی تھی، لیکن اتنا ہے کہ یادداشت میں چیز محفوظ ہے۔میرے دادا کی سب سے بڑی بہن جو تھیں، اُن کے گھر سے خبر آئی، مطلب اُن کے ایریا سے کسی نے کال کرکے میرے دادا کو بتایا کہ اُن کی بہن حمیدہ باجی کا نا انتقال ہوگیا ہے۔، پورے محلے میں خبر پھیل گئی۔ کیونکہ ایک ہی گھر، محلے کے اندر، تمام جتنے بھی میرے دادا کے بہن بھائی، سب اُسی ایریا میں رہتے تھے۔ مطلب ایسا لگتا تھا ہر گلی کے اندر چار چار گھر تو ہمارے اپنے ہیں۔ کیونکہ سب جو بچے بھی بڑے ہوگئے تھے، سب کے الگ الگ گھر تھے۔جب دادا کو خبر پتہ چلی، تو دادا اپنے بڑے بھائی کے گھر گئے، سب لوگ اکٹھے ہوئے، اور بس بک کرکے اُن کے گھر پہنچے۔جب وہاں پہنچے تو دیکھاجو ہمارے دادا کی بہن ہماری دادی پودوں کو پانی دے…

Read more

جنگل میں ایک لومڑی کئی مہینوں سے بے روزگار پھر رہی تھی۔ صبح نوکری کی تلاش میں نکلتی اور شام کو مایوسی کو کندھوں پر لادے واپس لوٹ آتی۔ آخر ایک دن اسے خبر ملی کہ جنگل کے امیر ترین میاں بیوی، ریچھ اور ریچھنی، کے گھر ایک ملازم کی جگہ خالی ہوئی ہے۔خبر سن کر لومڑی کی آنکھیں تو چمک اٹھیں، مگر اگلے ہی لمحے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔کیونکہ یہ وہی ریچھ میاں بیوی تھے جن کا نام سنتے ہی جنگل کے طاقتور بیل بھی راستہ بدل لیتے تھے۔ ان کے بارے میں پورے جنگل میں مشہور تھا:“جو جانور ایک بار ان کے ہاں ملازم بن گیا، وہ ایک سال بعد ملازم کم اور پرانا فرنیچر زیادہ لگتا تھا۔” وہ صبح ایک کام کہتے اور شام تک دس نئے کام اس کے ساتھ باندھ دیتے۔“پہلے پانی بھر دو، اچھا جاتے جاتے لکڑیاں بھی لے آنا، بچوں کو بھی…

Read more

دو چوہے تھے جو ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ایک چوہا شہر کی ایک حویلی میں بل بنا کر رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں میں رہتا تھا۔گاؤں اور شہر میں فاصلہ بہت تھا،اس لئے وہ کبھی کبھار ہی ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ایک دن جو ملاقات ہوئی تو گاؤں کے چوہے نے اپنے دوست شہری چوہے سے کہا،”بھائی!ہم دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔کسی دن میرے گھر تو آئیے اور ساتھ کھانا کھائیے۔“شہری چوہے نے اس کی دعوت قبول کرلی اور مقررہ دن وہاں پہنچ گیا۔گاؤں کا چوہا بہت عزت سے پیش آیا اور اپنے دوست کی خاطر مدارات میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔کھانے میں مٹر،گوشت کے ٹکڑے ،آٹا اور پنیر اور میٹھے میں پکے ہوئے سیب کے تازہ ٹکڑے اس کے سامنے لا کر رکھے۔ شہری چوہا کھاتا رہا اور وہ خود اس کے پاس بیٹھا میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہا۔ اس اندیشے…

Read more

اُٹھ نکمے!دن نکل آیا ہے اور تُو ابھی تک سو رہا ہے۔“بندریا نے اپنے بیٹے ٹنکو کو چپل مارتے ہوئے کہا۔”اماں!صبح ہی صبح کیوں مجھے چپل سے مار رہی ہو۔“ٹنکو بندر درد سے کلبلایا۔”تیری بڑی بہن کی شادی قریب ہے اور تجھے کوئی فکر ہی نہیں ہے۔تیرے ابا اور بڑا بھائی جنگل کام کے لئے گئے ہوئے ہیں۔تجھے بھی ان کی طرح محنتی بننا چاہیے۔“ٹنکو گھاس کے بستر پر کسمسانے لگا تو اماں نے کہا:”جلدی سے منہ دھو کر آ،میں ناشتہ لاتی ہوں۔“ٹنکو ناشتہ کرنے کے دوران پیسے جلدی اور زیادہ جمع کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔جلد ہی اس کے ذہن میں ایک منصوبہ آ گیا۔یہ بندروں کا ایک خاندان تھا اور یہ سب بندر جنگل میں رہتے تھے۔ ٹنکو،اس کے اماں ابا،بڑا بھائی منکو اور بڑی بہن چنکی۔ عزت سے زندگی گزارنے کے لئے وہ سب محنت کرتے تھے،سوائے ٹنکو کے۔چنکی کی شادی کی وجہ سے پیسے کمانے ابا…

Read more

دو چوہے تھے جو ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔ایک چوہا شہر کی ایک حویلی میں بل بنا کر رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں کے درمیان ایک گاؤں میں رہتا تھا۔گاؤں اور شہر میں فاصلہ بہت تھا،اس لئے وہ کبھی کبھار ہی ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ایک دن جو ملاقات ہوئی تو گاؤں کے چوہے نے اپنے دوست شہری چوہے سے کہا،”بھائی!ہم دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست ہیں۔کسی دن میرے گھر تو آئیے اور ساتھ کھانا کھائیے۔“شہری چوہے نے اس کی دعوت قبول کرلی اور مقررہ دن وہاں پہنچ گیا۔گاؤں کا چوہا بہت عزت سے پیش آیا اور اپنے دوست کی خاطر مدارات میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔کھانے میں مٹر،گوشت کے ٹکڑے ،آٹا اور پنیر اور میٹھے میں پکے ہوئے سیب کے تازہ ٹکڑے اس کے سامنے لا کر رکھے۔شہری چوہا کھاتا رہا اور وہ خود اس کے پاس بیٹھا میٹھی میٹھی باتیں کرتا رہا۔ اس اندیشے سے…

Read more

کہانی یہ ہے کہ ایک گرو اور اس کا چیلا ایک ایسے شہر سے گزررہے تھے،جہاں ہر چیز ٹکے سیر بکتی تھی،چاہے سبزی ہویا مٹھائی۔سستی سے سستی اور مہنگی سے مہنگی چیز کے دام ایک ہی تھے،یعنی ایک ٹکے کا ایک سیر۔اتنا سستا شہر دیکھ کر چیلے کاجی للچا گیا۔گروسے کہنے لگا،”یہیں رہ جاتے ہیں۔مزے مزے کی چیزیں خوب پیٹ بھر کر کھایا کریں گے۔“گرونے چیلے کو سمجھایا کہ ایسی جگہ رہنا ٹھیک نہیں ،جہاں اچھے اور بُرے میں کوئی فرق نہیں،لیکن چیلانہ مانا۔ گرو اسے وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ادھر چیلا مٹھائیاں اور روغنی کھانے کھاکھا کر خوب موٹا ہو گیا ۔ایک دن شہر میں ایک شخص کو کسی نے جان سے ماردیا۔سپاہیوں نے قاتل کو بہت تلاش کیا لیکن اسے نہ پکڑ سکے۔مرنے والے کے رشتے داروں نے راجا سے فریاد کی کہ ہمیں جان کا بدلہ جان سے دلایا جائے ۔راجا کو پتا چلا کہ قاتل…

Read more

گاؤں میں ماسٹر اکبر علی کی سخت مزاجی مشہور تھی۔والدین ان کی سخت مزاجی کے باوجود اپنے بچوں کو ان ہی سے تعلیم دلانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔وہ ایک قابل اور فرض شناس استاد تھے۔اپنے کام میں کبھی غفلت نہیں برتتے تھے۔ان سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے اب بڑے اور اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔اپنے ان شاگردوں پر ماسٹر اکبر علی کو فخر بھی تھا۔ ماسٹر اکبر علی کے سر پر ہر وقت جناح کیپ ہوتی تھی۔جناح کیپ پہننے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے سر پر بال برائے نام تھے۔گنجے سر کو چھپانے کے لئے جناح کیپ کا استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ان کے رعب و دبدبے سے بچے خوف زدہ رہتے تھے۔مجال ہے کلاس میں کوئی شور کرے یا ان کے سامنے کسی کی آواز نکل جائے۔ جماعت میں اگر کسی کی آواز گونجتی تو وہ صرف ماسٹر اکبر علی کی ہوتی تھی۔…

Read more

یاسر، عادل، فہد اور عمر چار دوست تھے۔چاروں دوستوں کو مہم جوئی کا بہت شوق تھا۔ایک روز فہد نے خبر سنی کہ آبادی کے پیچھے بہت دور ایک پُراسرار وادی ہے۔کوئی وہاں جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔اس نے یہ خبر تمام دوستوں کو بتائی تو سب دوستوں نے ارادہ کیا کہ رات کو گھر والوں سے چھپ کر وہاں جائیں گے۔ رات کو چاروں دوست نقشہ ساتھ لے کر چپکے سے نکل پڑے۔وہ ایک نہایت پتھریلے علاقے سے گزرے۔جب وہ وہاں پہنچے تو رات بہت ہو رہی تھی اور انھیں بہت بھوک لگ رہی تھی۔ انھوں نے جھیل کے کنارے اپنا خیمہ لگایا اور کھانا پکانے کے لئے آگ جلانی شروع کر دی۔چاروں دوست خوش تھے کہ ایک کتا آیا اور فہد کو چاٹنے لگا۔سب حیران تھے کہ اتنے پتھریلے علاقے میں ایک کتا کہاں سے آیا۔ سب نے اس کتے کو پیار کیا، مگر اس کتے کی آنکھیں…

Read more

بھیڑیاجو ندی پہ پانی پینے آیا تھا۔وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک بھیڑیا بھی پانی پی رہا تھا۔ابھی اس بچے نے چند گھونٹ ہی پیے تھے کہ بھیڑیا اس کی طرف آیا اور بولا ”تم پانی گندا کیوں کر رہے ہو․․․․؟دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں۔“بھیڑ کے بچے نے جسے میمنا بھی کہتے ہیں نے ڈرتے ہوئے کہا”جناب پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آرہا ہے۔“بھیڑیا گرج کر بولا”تم نے پچھلے سال مجھے بُرا بھلا کیوں کہا تھا․․․؟“”جناب پچھلے سال تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔میری عمر تو ابھی صرف چھ مہینے ہے۔“”پھر وہ تمہارا بھائی یا باپ ہو گا۔“بھیڑیے نے کہا اور میمنے پر حملہ کرکے اسے کھا گیا۔لیکن بچو!یہ کہانی اُس میمنے کی نہیں اس کے چھوٹے بھائی کی ہے۔ وہ اکثر اپنی ماں سے اپنے بڑے بھائی کے بارے میں پوچھا کرتا تو اس کی ماں اسے یہ کہانی سناتی اور ساتھ ہی…

Read more

آج سے کئی سو سال پہلے چوہوں کا ایک خاندان چھوٹے سے بل میں رہائش پذیر تھا۔دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہیں نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کر سکتے تھے،سو سارا دن انہیں بھوکا رہنا پڑتا۔وجہ یہ تھی کہ بلی نہایت آسانی سے انہیں دیکھ لیتی اور شکار کر لیتی تھی،چوہے رات کو بھی نکلتے تو جب بھی چھپ چھپا کر نکلتے۔بلی کا خوف ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتا رہتا۔وہ کتنی بھی احتیاط کیوں نہ برتے،بلی ایسے دبے پاؤں آتی کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی اور ان کا ایک ساتھی بلی کے لنچ یا ڈنر کی نذر ہو جاتا۔ایک لمبے عرصے تک وہ خوف کے عالم میں جیتے رہے،ہر روز ان کے ساتھی بلی کی بھینٹ چڑھتے رہے۔آخر ایک رات بوڑھے چوہے نے اجلاس بلوایا،جس میں ہر چھوٹا بڑا چوہا شریک ہوا۔ بوڑھے چوہے نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے…

Read more

280/3774
NZ's Corner