پریشان چڑیا –
کسی جنگل میں ایک چڑیا رہتی تھی۔اس نے اپنا گھونسلا ایک درخت کی گھنی شاخوں کے درمیان بنا یا تھا۔اس کے ساتھ اس کے دو بچے اور ایک بوڑھی ماں بھی رہا کرتی تھی ۔اس نے رات دن ایک کرکے اپنے بچوں کی پرورش کی تھی۔ننھی چڑیا دور دور سے اپنے بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں لایا کرتی تھی۔چڑیا کو اپنے بچوں سے بہت ہی محبت تھی۔وہ دن کے وقت اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتی تھی اور رات کو اپنے پروں میں چھپا کر سویاکرتی تھی۔ اب بچے بھی کچھ بڑے ہو گئے اور اپنی زبان سے ”چوں ،چوں ،چیں چیں“کرنے لگے ۔جب چڑیا کھانے کی تلاش میں گھر سے باہر جاتی تھی تو بچوں کے لیے بہت فکر مند رہتی تھی۔چڑیا کا یہ معمول تھا کہ صبح سویرے حمد وثناء کرتی ۔پھر دانے دُنکے کی تلاش میں نکل جاتی اور جو کچھ مل جاتا…
بادشاہ کا ہمشکل –
شکار کے دوران ایک بادشاہ اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گیا۔البتہ سپہ سالار ان کے ساتھ تھا۔وہ جنگل میں بھٹک کر واپسی کا راستہ بھول گئے۔ پریشانی ان کے چہروں پر نظر آنے لگی۔ابھی تھوڑی سی دیر گزری تھی کہ اچانک سپہ سالار چیخا:”بادشاہ سلامت!وہ دیکھیں ایک جھونپڑی نظر آرہی ہے،وہاں چلتے ہیں۔یقینا وہاں سے ہمیں مدد ضرور ملے گی۔“وہ جھونپڑی کے قریب گئے تو سپہ سالار نے آواز لگائی:”کوئی ہے؟“تھوڑی دیر میں ایک شخص باہر آیا۔بادشاہ اور سپہ سالار نے جیسے ہی اس شخص کو دیکھا حیرت کے مارے دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔وہ شخص ہُو بہ ہُو بادشاہ کا ہم شکل تھا۔دونوں حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔پھر سپہ سالار نے اس سے کہا:”دیکھیں!ہم شکار کرتے کرتے راستہ بھٹک گئے ہیں۔ یہاں سے نکلنے میں ہماری رہنمائی کریں۔“وہ شخص بولا:”کیوں نہیں،مگر آپ لوگ کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔کچھ دیر میرے غریب خانے میں آرام کیجیے۔“”ٹھیک…
لومڑ کا ایثار –
دو دن سے جنگل میں شدید بارش ہو رہی تھی۔سب جانور اپنے اپنے گھروں میں دُبکے بیٹھے تھے۔بارش کی وجہ سے سردی میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ریچھ بارش کی وجہ سے دو دن سے شکار پر نہ جا سکا تھا۔اس کی بیوی بھی پریشان بیٹھی تھی۔ان کے بچے بھی بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔لگ رہا تھا کہ بارش کا یہ سلسلہ کئی دن جاری رہے گا۔بھوک سے بچے بلک رہے تھے اور چھوٹے کو تو بخار ہو گیا تھا۔ماں سے یہ دیکھا نہ جا رہا تھا۔ریچھ دروازے کی سیڑھیوں پر سر جھکائے پریشان بیٹھا تھا۔”تم شکار پر کیوں نہیں جاتے؟“بیوی نے ریچھ سے کہا تو اس نے غصے سے بیوی کو دیکھا:”اتنے زوروں کی بارش ہو رہی ہے،میں خوراک کا بندوبست کیسے کروں؟“یہ سن کر تھوڑی دیر وہ خاموش رہی۔ پھر کچھ سوچ کر نرمی سے کہنے لگی:”کوئی گلہری،کوئی پھل،کوئی مُردار جانور،کوئی پرندہ کچھ نہ کچھ تو خوراک کے…
مغرور طوطا –
یہ گرمیوں کا ایک خوشگوار دن تھا۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔ایک کوا تالاب کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے لگا۔تالاب میں موجود راج ہنس نے کوے کو دیکھا تو کوے کے پاس آ گیا۔اس نے سلام دعا کے بعد پوچھا کہ تم آج کھوئے کھوئے سے لگ رہے ہو۔کوے نے اُداسی سے کہا کہ میرا رنگ اتنا کالا ہے اور میری آواز بھی بہت بُری ہے۔ہر کوئی مجھ سے نفرت کرتا ہے۔راج ہنس نے کوے کو سمجھایا کہ سیرت،صورت سے زیادہ اہم ہے۔راج ہنس نے کوے کو آسان طریقے سے سمجھانے کا فیصلہ کیا۔اس نے کوے کو کہانی سنانا شروع کی۔ایک جنگل میں کہیں سے طوطا آ گیا۔جنگل کے پرندوں نے اس سے پہلے کوئی طوطا نہیں دیکھا تھا۔ طوطا نہایت خوبصورت تھا اور اس کی آواز بھی بہت اچھی تھی۔تمام پرندے طوطے کے ساتھ…
عقلمند کسان –
ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتا تھا۔کھیتوں کی مکمل پہرے داری کرتا تھا،مگر جب فصل پک کر تیار ہو جاتی تو گاؤں کا سردار اس کی ساری فصل زبردستی لے لیتا اور اسے تھوڑا سا حصہ دے دیتا۔کسان اور اس کی بیوی کی بڑی مشکل سے گزر اوقات ہوتی تھی۔ایک دن کسان کھیت میں کھدائی کر رہا تھا۔بے خیالی میں وہ زیادہ زمین کھود گیا۔اچانک ہی اسے محسوس ہوا کہ زمین کے اندر کچھ ہے۔اس نے بڑی مشکل سے وہاں سے ایک صندوق نکالا۔وہ بڑا حیران ہوا۔اس نے صندوق کھولا۔اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔صندوق ہیرے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا۔اس نے سوچا کہ اس بات کا علم گاؤں کے سردار کو نہ ہونا چاہیے ورنہ وہ اس کو زبردستی چھین لے گا۔ وہ خزانے کو چھپتے چھپا کر گھر لے آگیا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا،”اس…
کالا گورا
”بیٹا!آپ اس سکول میں کب آئے ہو؟“ چھوٹے کوے کو کلاس میں کھڑا کرکے سر اُلو نے پوچھا۔”سر جی!میں آج پہلے دن ہی سکول آیا ہوں“ چھوٹے کوے نے کائیں کائیں کرکے کہا۔”اوئے بے سُرے!یہ کائیں کائیں کلاس روم میں نہیں چلے گی۔“ بی فاختہ جو ہر طرف امن دیکھنا چاہتی تھی،کلاس روم میں بھی امن دیکھنے کی خواہاں تھی۔ ”فاختہ بہن!میری فطرت ہے،کائیں کائیں کرنا!“ چھوٹا کوا نرمی سے بولا۔”سر!یہ کالا کلوٹا تو کلاس روم کا ماحول خراب کر رہا ہے،یہ تو ایک کالا دھبہ ہے“ گورا چٹا کبوتر اپنی گوری رنگت پر غرور کرتے ہوئے بولا۔”اسے یہ کائیں کائیں اور کالی رنگت خدا نے دی ہے۔“ سر اُلو نے اُن کو سمجھاتے ہوئے کہا ”کسی کے نیک اعمال کو پرکھنا چاہئے،دیکھئے ذرا!یہ چھوٹا کوا دوسرے کوؤں کی نسبت کتنا اچھا ہے،اس میں ذرا بھی چڑچڑا پن نہیں ہے۔ “ سب پرندے سر اُلو کی باتوں سے اُکتاہٹ محسوس…
پہنچا ہوا بابا –
مسجد کے سامنے ایک کونے پر کوئی بھکاری بابا بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا۔بابا اندھا تھا،اس لئے لوگ اس پر ترس کھا کر کچھ نہ کچھ بھیک دیتے جا رہے تھے۔بابا کے کشکول میں کچھ پیسے جمع ہو گئے تھے۔اتنے میں وہاں کچھ نوجوان امیر زادے آئے اور بابا کو حقارت سے دیکھنے لگے۔”بابا!کیوں اندھے ہونے کا ناٹک کر رہے ہو؟یہ لو پانچ روپے کا سکہ۔“ بے ادب حارث نے سکہ اُچھالتے ہوئے کہا۔بابا کو لڑکے کی بات ناگوار گزری اور اس نے کہا:”میں ناٹک نہیں کرتا۔میں تو صرف بھیک مانگ رہا ہوں۔بوڑھا ہوں اندھا بھی ہوں۔دنیا میں میرا کوئی نہیں ہے۔پر تُو ناٹک کرتا ہے،اپنے مہذب ہونے کا۔تیرے ابا تیرے پیار میں جھوٹی تعریف کرتا ہے۔تیرا باپ ایک کاروباری آدمی ہے۔ تم لوگوں کا کپڑے کا کاروبار ہے اور تم چار بہن بھائی ہو۔ “بابا کی باتیں سن کر لڑکے کو پہلے تو غصہ آیا،مگر نہ جانے بابا…
لالچ کی سزا
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب لکڑہارے کو جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے درختوں کے جھنڈ میں کوئی چیز نظر آئی۔اُسکے قریب جا کر دیکھا تو وہ پتھر کا ایک بت تھا۔لکڑہارے نے اُس پتھر کو ہٹایا تو وہاں ایک چھوٹا ساسوراخ نظر آیا۔لکڑہارے نے سوراخ کے ارد گرد سے مٹی ہٹائی تو اُسے ایک بہت بڑا خزانہ نظر آیا۔لکڑہارا اتنے بڑے خزانے کو تنہا نہیں اٹھا سکتا تھا،چنانچہ اُس کو ڈھانپ کر واپس اپنے گھر کی طرف چل دیا۔راستے میں اُسکی ملاقات ایک سوداگر سے ہوئی جو کہیں سے اپنا مال فروخت کرکے آرہا تھا اُسکے ہمراہ چھ اونٹ تھے۔لکڑہارے نے سوداگر سے کہا: مجھے جنگل میں بہت بڑا خزانہ ملا ہے اور میں تمہیں صرف ایک شرط پر اُس جگہ لے جاؤں گا۔سوداگر نے بڑی بے صبری سے کہا:”جلدی بتاؤ،میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں“۔ لکڑہارے نے کہا؛ جتنے اونٹ اُس خزانے میں سے…
بیوقوف بکری
ایک ہرئ بھری اور خوبصورت چراگاہ میں بہت سے جانور رہتے تھے وہ سب آپس میں مل جل کر رہتے ۔ ایک دن سب جانور اکھٹے ہوے اور وہ اپنے چراگاہ کے لیے بہت فکر مند تھے کیونکہ گرمی اور بہار کے موسم میں ہر طرف خوب ہری بھری گھاس ہوتی لیکن سردی اور بارش کے موسم میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو جاتا جس کی وجہ جانوروں کھانے کے لیے کچھ بھی نا ملتا ۔ وہ بہت پریشان رہتے ۔ خرگوش ہمیشہ اپنے لیے ہر قسم کی سبزیاں اگاتا اور اپنے گھر میں جمع کر لیتا تاکہ بارش کے موسم میں وہ آرام سے وقت گزار سکے ۔ خرگوش نے سب جانوروں سے کہا کہ ہمیں اپنے لیے مظبوط گھر بنانے تا کہ ہم سردی کے موسم میں اپنے گھروں میں محفوظ رہ سکیں ۔ سب جانوروں نے خرگوش کی بات مان لی اور بکری نے ہنس کر…
بلاعنوان
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں عربوں کی شادیوں میں مہمانوں کو روٹی میں گوشت لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا۔اگر کبھی گوشت کم پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو میزبان اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف روٹی دے دیتا، تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں تک گوشت والی روٹی پہنچ سکے اور کسی کو کمی کا احساس نہ ہو۔ایک بار ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے روٹی کھولی تو اس میں گوشت نہیں تھا۔ اس نے فوراً بلند آواز میں کہا:“ارے فلاں! میری روٹی میں تو گوشت ہی نہیں ہے!”میزبان نے مسکرا کر جواب دیا:“بھائی، معاف کرنا… میں نے غلطی سے تمہیں اپنا سمجھ لیا تھا۔” زندگی میں ہر وہ شخص جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے راز، کمزوریاں یا عزتِ نفس کی حفاظت بھی کرے۔کچھ لوگ ہماری پردہ پوشی کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ موقع ملتے ہی ہماری کمزوری دوسروں کے سامنے…
ہر چیز کو دوبارہ درست نہیں کیا جا سکتا
ایک دفعہ ایک چھوٹے لڑکے کی سب سے پسندیدہ سائیکل دیوار سے ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ گئی۔ اس کا فریم ٹیڑھا ہو گیا، پہیہ مڑ گیا اور زنجیر بھی اتر گئی۔ لڑکا بہت دکھی ہوا اور اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکل اٹھا کر ایک بوڑھے مکینک کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے پریشانی سے پوچھا:“کیا آپ اسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ اور اس پر کتنا خرچ آئے گا؟ یہ پہلے بھی تین بار خراب ہو چکی ہے، مگر میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔” مکینک نے غور سے سائیکل دیکھی اور کہا: “یہ کافی خراب ہو چکی ہے۔ اسے ٹھیک کرنے پر 20 سکے لگیں گے، جبکہ 30 سکوں میں تم ایک نئی سائیکل خرید سکتے ہو۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ تم اسے چھوڑ کر آگے بڑھو۔” لڑکے نے فوراً جواب دیا: “نہیں! مجھے یہ سائیکل بہت عزیز ہے۔ براہِ کرم اسے ٹھیک کر دیں، میں 20 سکے…
ماں کی محبت…!
سعودی عرب کے علاقے قصیم کی شرعی عدالت میں ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا جس نے نہ صرف عدالت میں موجود لوگوں کو اشکبار کر دیا بلکہ پورے ملک میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ ہم اکثر عدالتوں میں جائیداد، دولت، دشمنی اور خاندانی جھگڑوں کے مقدمات سنتے ہیں، مگر یہ مقدمہ مختلف تھا… یہ مقدمہ ماں کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تھا۔ اس شخص کا نام حیزان الفہیدی الحربی تھا، جو قصیم کے قریب ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی بوڑھی اور کمزور ماں کا بڑا بیٹا تھا۔ والدہ کی خدمت ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن چکی تھی۔ ان کی مالی حیثیت بھی معمولی تھی، مگر حیزان کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی دولت اس کی ماں تھی۔ ایک دن اس کا چھوٹا بھائی دوسرے شہر سے آیا اور کہنے لگا: “میں چاہتا ہوں کہ امی میرے ساتھ…
Siete chicas y un mago
Un mendigo y su esposa vivían en un pueblo. Tenían siete hijas. Debido a la pobreza, esta pareja solía mendigar para su sustento y el de sus hijas. Un día, el mendigo le dijo a su esposa: “Tengo antojo de kheer”. Al oír esto, su esposa suspiró y dijo: “¿Dónde hay kheer para nosotros, los pobres?”. El mendigo respondió: “Mendigaremos leche, arroz y azúcar, y luego tú me harás kheer y me lo darás de comer”. La esposa dijo: “¡Mian! No podremos conseguir todo esto mendigando para que nuestras siete hijas puedan comerlo”. El mendigo pareció pensar: “¿Por qué se preocupa? Solo haremos kheer cuando todas las niñas estén dormidas”. Así, ni se enterarán y comeremos kheer hasta saciarnos. La madre sentía un profundo dolor por sus hijas, pero obedeció a su esposo con resignación. El mendigo dijo: «Vayan a dormir ahora, mañana tendremos que levantarnos temprano para pedir los…
La astucia de los murciélagos –
En el bosque, un león estaba a punto de comer un trozo de carne que había cazado fuera de su cueva cuando, de repente, un halcón se abalanzó sobre él, lo agarró con sus garras y se fue volando. El león se enfureció por la acción del halcón. Juró comerse a todas las aves del bosque. Un día, el león llamó a los animales y les dijo: “¡Escuchen! Les ordeno que cacen a todas las aves de este bosque. No quiero ver ni una sola ave viva aquí. Yo mismo cazaré y ustedes también irán a esta expedición”. Los compañeros del león ya estaban preocupados por estas aves porque solían volar con sus presas. Ahora se las comerían por la noche, cuando las aves estuvieran durmiendo en sus nidos. El búho es un ave que no duerme por la noche. Cuando vio que los animales del bosque mataban a los…
La venganza de la bondad
Es una historia de tiempos antiguos. En una ciudad vivía un hombre muy rico. Su mansión era tan grandiosa como los palacios de los reyes. Siempre tenía sirvientes a su servicio. Era muy cruel y castigaba severamente a los sirvientes por el más mínimo error. Uno de sus esclavos se cansó de la crueldad de su amo. Un día, tuvo la oportunidad de huir y se escondió en el bosque. Estuvo escondido en el bosque durante muchos días. Un día, mientras estaba escondido en un árbol, vio un león que cojeaba. Sufría mucho. El león se acercó al árbol donde estaba sentado el esclavo. El esclavo vio que el león tenía una espina clavada en la pata. El esclavo sintió mucha pena. Pensó que, si no era hoy, mañana los sirvientes del amo lo encontrarían y lo matarían. Entonces, ¿por qué no hacer algo bueno antes de morir? Claro que…
Intitulado 😄😆😅
Le robaron el móvil a un hombre. Al llegar a casa por la noche, vio a su esposa llorando, a su suegra preocupada y a su suegro furioso. El suegro exclamó: “¿Qué pasa? ¡Le has enviado un mensaje de divorcio a nuestra hija!” 😡 El hombre, sorprendido, respondió: “¡Pero si me robaron el móvil esta mañana!” 😕 Llamó inmediatamente a su número. El ladrón contestó. El hombre, enfadado, exclamó: “¡Maldita sea! ¡Me robaste el móvil! ¿Pero por qué le enviaste un mensaje de divorcio a mi mujer?” 😡 El ladrón respiró hondo y dijo: “¡Señor! ¡He recibido 36 mensajes de su mujer desde esta mañana!” ¿Dónde estás? ¿Cuándo vendrás? Ven a buscar esto, se acabó, ven a comprar leche de camino… Entonces el ladrón dijo: ¡Robé el teléfono, no hay paz! 😂 Y finalmente suspiró y dijo: ¡Señor! ¡No me divorcié de usted, solo estaba salvando mi vida! 🤣🤣
El testimonio de un burro
El testimonio del mulá Nasreddin y el burro: una historia interesante y divertidaUn día, el vecino del mulá Nasreddin tuvo que ir a otro pueblo por negocios. Llegó a casa del mulá y le dijo: «¡Mulá! Tengo que ir a otro pueblo a buscar a mi esposa. ¿Me presta su burro por un día?». El mulá Nasreddin quería mucho a su burro y no quería dárselo a nadie. Inmediatamente inventó una excusa y mintió: «¡Hermano! Te habría dado un burro, pero el mío no está aquí. Mi hijo se lo llevó al bosque a buscar leña esta mañana». El vecino estaba a punto de irse desesperado cuando, de repente, oyó el rebuzno de un burro (dhencho dhencho) proveniente del establo detrás de la casa. El vecino se detuvo, miró al mulá con enojo y le dijo: «¡Mulá! ¿Me estabas mintiendo? Tu burro está en casa. ¡Escucha lo que hace!».A Mulla…
burros
Un secreto revelado años despuésUna vez, Nasreddin llevaba un burro con un fardo de leña atado a su lomo. Estaba cruzando la frontera cuando el inspector lo detuvo para registrarlo. El inspector preguntó: “¿Qué hace usted aquí?”. Nasreddin respondió: “Soy un contrabandista honrado”. El inspector se sorprendió por su respuesta y dijo: “¿Y bien? De acuerdo, entonces déjeme registrarlo todo, y si encuentro algo, tendrá que pagar el impuesto fronterizo”. Nasreddin dijo: “Claro. Como desee. Pero le aseguro que no encontrará nada”. El inspector registró todo con mucho cuidado, abrió todo, pero aun así no encontró nada. Finalmente, dejó que Nasreddin cruzara la frontera y dijo: “Parece que hoy se me ha escapado”. La semana siguiente, Nasreddin volvió. Esta vez, el burro llevaba un fardo de paja. Cuando el inspector lo vio, lo reconoció de inmediato y pensó: “Esta vez seguro que lo atrapo”. El inspector registró minuciosamente el fardo…
Intitulado
Fue hace mucho tiempo. Había un vasto bosque donde antaño se contaban historias de prosperidad, pero ahora reinaba la inquietud por doquier. Los manantiales se secaban, los senderos estaban rotos, los animales débiles llegaban a la corte cada día con alguna queja, pero al anochecer todos regresaban más decepcionados que antes. El león era el rey del bosque, pero ahora él mismo estaba harto de su propio reinado. Desde la mañana hasta la noche solo escuchaba quejas, celebraba reuniones para tratar cada problema, y tras cada reunión surgía uno nuevo. Una noche, se sentó en silencio con la cabeza gacha. “¿Qué debo hacer?” En ese momento, un viejo cuervo negro dijo: “¡Majestad! A veces, cambiar de rey no resuelve los problemas, pero sin duda da esperanza al pueblo”. El león lo miró sorprendido. El cuervo preguntó: “¿Cuál es el animal más trabajador a ojos del pueblo?” Todos respondieron a la…
Castigo por desobediencia –
Era un ratón muy travieso que vivía con sus padres. En esa casa también vivía una gata con sus crías. La gata no le decía nada a nadie, pero si alguien intentaba molestar a sus crías, no lo toleraba. Los padres del ratón le habían advertido severamente que no hiciera travesuras a la gata ni a sus crías, pero él hizo caso omiso, y entonces se le ocurrió una travesura. Cuando la gata dormía con sus crías por la noche, se levantó sigilosamente, se acercó a ella, la mordió con fuerza con sus afilados dientes y salió corriendo. Los ojos de la gata se abrieron de repente, pero el ratón siguió corriendo. A partir de entonces, molestar a la gata se convirtió en la rutina diaria del ratón. La gata, indefensa, corría para atraparlo, pero el ratón siempre escapaba por algún rincón o agujero de la casa.Cuando el ratón vio…