Author Archives: NZ's Collection

Había una zorra tan astuta como todas las demás, y como no tenía la fuerza para cazar como un león o un leopardo, siempre usaba su astucia y palabras persuasivas para atraer pájaros y pequeños animales a su trampa. Con dulces palabras se acercaba a ellos, y de repente los atrapaba y los devoraba. Un día, esta zorra atravesaba el desierto y pensaba: Hoy no he comido nada. Tengo hambre. Debo estar alerta y, si me encuentro con un conejo, una ardilla, un pájaro, una gallina o cualquier otra criatura, debo usar algún truco para que no huya despavorido. La zorra caminaba despacio, absorta en sus pensamientos. Pensaba que si atrapaba un animal digno de su comida, ¿qué plan debía usar y qué tipo de conversación debía emplear para que se acercara? De repente, vio algo extraño en el camino. Justo en medio del camino había un puñado de hierba…

Read more

Un río fluía por el bosque y, a su alrededor, había un nido de cuervo en un árbol de higuera sagrada y un nido de meena en otro árbol de neem. Ambos tenían una profunda amistad. El cuervo era muy astuto y taimado; siempre actuaba con astucia. Por el contrario, meena era un animal sencillo y bondadoso, siempre dispuesta a ayudar a los demás. El cuervo, en cambio, volaba por el bosque todo el día, robando cualquier comida que encontraba. Una noche, llegaron invitados a casa de meena. Meena, contenta, se puso a cocinar. Los hijos de los invitados se entretuvieron jugando con los hijos de meena. Casualmente, la sal del salero había desaparecido. Meena estaba muy preocupada. ¿De dónde habría sacado la sal esa noche? Pensé: «Voy a buscar sal en casa del cuervo». Meena rápidamente empezó a llamar a la puerta de la casa del cuervo. Estaba oscuro…

Read more

Hoy era día libre en la escuela. Shayan Haider jugaba en el patio de su casa. De repente, oyó un sonido: «Cuervos…». Shayan Haider levantó la vista. Era un cuervo. Estaba posado en el altar y aleteaba. Luego alzó el vuelo… Shayan señaló al cuervo. Al oír esto, Abu se rió. «¡Hijo! Aunque seas un niño pequeño, todavía intento explicártelo. Nuestro creador es Alá. Alá les ha dado capacidades según la estructura física de las criaturas. Una razón por la que los pájaros vuelan son sus alas. La segunda razón es que los huesos de los pájaros son huecos por dentro. Estos huesos huecos están llenos de aire, lo que los hace ligeros… Todos estos factores ayudan a los pájaros a volar». Shayan no entendió nada más, pero comprendió bien lo de los huesos huecos. Salió de la casa sin mirar atrás. Huesos huecos… Aire dentro de ellos… Estaba considerando…

Read more

آج اسکول سے چھٹی تھی۔ شایان حیدر اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا۔ ایسے میں اس نے ایک آواز سنی۔ ”کائیں․․․․․ کائیں․․․․․ ۔“ شایان حیدر نے سر اٹھا کردیکھا۔ وہ ایک کوا تھا۔ جو منڈیر پر بیٹھا پھدک رہا تھا۔ پھر اس نے پرواز بھری․․․․ اور یہ جا ․․․․وہ جا۔ شایان کھیلنا بھول گیا۔ ایک وہ کوے اور اس کی پرواز پر غور کررہا تھا۔شایان عمر کے اس دور میں تھا، جہاں نظر آنے والی چیزیں سمجھ میں نہیں آتی۔ کوا اڑ سکتا ہے، میں کیوں نہیں اڑ سکتا؟“ شایان نے سوچا پھر اس نے اپنے بازوؤں کی طرف دیکھا۔ کوے کے پاس پرتھے، اس کے پاس تو پھر بھی نہیں تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ اڑ نہیں سکتا۔ مگر اب وہ اڑنا چاہتا تھا۔ یہ ننھی سی خواہش اس کے دل میں مچلنے لگی۔ وہ فوراََ ابوجی کے پاس چلا آیا۔اس کی سوچ کے مطابق ابو…

Read more

جنگل میں ایک ندی بہتی تھی اور اس ندی کے اردگرد پیپل کے ایک درخت پر کوے کا گھونسلا تھا اور دوسرے نیم کے درخت پر مینا کا گھونسلا تھا۔دونوں میں گہری دوستی تھی۔کوا بڑا چالاک اور سیانا تھا،ہر وقت چالاکی سے کام لیا کرتا تھا۔اس کے برعکس مینا سیدھی اور رحمدل جانور تھی اور وہ ہر کسی کے کام آتی تھی۔اس کے برعکس کوا سارا دن جنگل میں اِدھر سے اُدھر اُڑتا پھرتا اور جو کھانے کی چیز نظر آتی جھپٹ کر لے اُڑتا۔ ایک رات مینا کے گھر مہمان آ گئے۔مینا خوشی خوشی کھانا پکانے لگی۔مہمانوں کے بچے مینا کے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گئے۔ اتفاق سے نمک دان میں نمک ختم تھا‘مینا بڑی فکر مند ہوئی۔اب رات گئے وہ نمک کہاں سے لاتی۔ سوچا چلو کوے کے گھر سے نمک لے آتی ہوں۔مینا جلدی سے کوے کے گھر کا دروازہ بجانے لگی۔کوے کے گھر…

Read more

ایک تھی لومڑی جو دوسری تمام لومڑیوں کی طرح چالاک اور عیار تھی اور چونکہ اتنی طاقت نہ رکھتی تھی کہ شیر اور چیتے کی طرح شکار کر سکے اس لئے ہمیشہ چکنی چپڑی باتوں اور مکر و فریب کے ساتھ پرندوں اور چھوٹے جانوروں کو اپنے جال میں پھنساتی،میٹھی میٹھی باتوں سے اُن کی قربت حاصل کرتی اور پھر اچانک انہیں دبوچ کر ہڑپ کر جاتی۔ایک روز یہ لومڑی صحرا کے وسط سے گزر رہی تھی اور اپنے دل میں سوچ رہی تھی۔آج میں نے کچھ نہیں کھایا۔کڑاکے کی بھوک لگی ہے مجھے چاہئے کہ اپنے ہوش و حواس قائم رکھوں اور اگر میرا سامنا کسی خرگوش،چکور،پرندے،مرغے یا کسی اور جاندار سے ہو جائے تو مجھے ایسا حیلہ کرنا چاہئے کہ وہ مجھ سے خوف کھا کر بھاگ نہ لے۔لومڑی یہ سوچتی ہوئی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ کسی جانور کو…

Read more

وہ ایک بہت شرارتی چوہا تھا، جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔اس گھر میں ایک بلی بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔بلی کسی کو کچھ نہ کہتی، لیکن جب کوئی اس کے بچوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا تو وہ برداشت نہ کرتی۔چوہے کے ماں باپ نے اسے سختی سے تاکید کی تھی کہ وہ بلی اور اس کے بچوں سے کوئی شرارت نہ کرے، لیکن اس نے یہ بات سنی اَن سنی کر دی، پھر اس کے ذہن میں ایک شرارت سوجھی۔بلی جب رات کو اپنے بچوں کے ساتھ سو رہی تھی تو وہ چپکے سے اُٹھ کر بلی کے پاس گیا اور اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے بلی کو زور سے کاٹ کر بھاگ گیا۔بلی کی یکدم آنکھ کھل گئی، لیکن چوہا یہ جا، وہ جا۔تب سے بلی کو تنگ کرنا چوہے کا روز کا معمول بن گیا۔بے چاری بلی اس کو پکڑنے کے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…

Read more

نصرالدین اور حیران انسپکٹر..ایک ایسا راز جو برسوں بعد کھلاایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟”  نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔”انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔”نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔”انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے…

Read more

ملا نصرالدین اور گدھے کی گواہی- ایک دلچسپ مزاحیہ کہانیایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟”ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔”پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا…

Read more

ایک صاحب کا موبائل چوری ھو گیا۔ شام کو گھر پہنچے تو دیکھا، بیگم رو رھی ھیں، ساس پریشان ھیں اور سسر صاحب غصے میں بیٹھے ھیں۔ سسر صاحب بولے: “یہ کیا حرکت ھے؟ تم نے ھماری بیٹی کو تین طلاق کا میسج بھیجا ھے!” 😡 صاحب حیران: “لیکن میرا فون تو صبح چوری ھو گیا تھا!” 😕 فوراً اپنے نمبر پر کال کی۔ چور نے فون اٹھا لیا۔ صاحب غصے سے بولے: “اوئے لعنتی ! فون تو چوری کیا، لیکن میری بیوی کو طلاق کیوں بھیجی؟” 😡 چور نے لمبی سانس لیتے ھوئے کہا: “جناب! صبح سے آپ کی بیوی کے 36 میسج آ چکے ھیں!” “کہاں ھو؟ کب آؤ گے؟ یہ لیتے آنا، وہ ختم ھو گیا ھے، راستے میں دودھ بھی لیتے آنا…” پھر چور بولا: “فون میں نے چوری کیا تھا، سکون نہیں!” 😂 اور آخر میں آہ بھر کر کہا: “جناب! میں نے طلاق نہیں…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔کسی شہر میں ایک بہت دولت مند آدمی رہتا تھا۔اس کی حویلی بادشاہوں کے محلات کی طرح عظیم الشان تھی۔ہر وقت نوکر چاکر اس کی خدمت کے لئے حاضر رہتے تھے۔وہ بہت ظالم تھا اور ذرا سی غلطی پر نوکروں کو سخت سزا دیتا۔اس کا ایک غلام آقا کے مظالم سے تنگ آ گیا۔ایک دن موقع پا کر وہ بھاگ گیا اور جنگل میں جا چھپا۔کئی دن وہ جنگل میں چھپا رہا۔ایک روز درخت پر چھپا بیٹھا تھا کہ اسے ایک شیر نظر آیا، جو لنگڑا کر چل رہا تھا۔اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔شیر اس درخت کے پاس آ بیٹھا، جس پر غلام بیٹھا تھا۔غلام نے دیکھا کہ شیر کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا ہے۔غلام کو بہت ترس آیا۔ اس نے سوچا آج نہیں تو کل آقا کے ملازم اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور وہ موت کے گھاٹ…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ جنگل میں نہیں، بلکہ دور ایک انسانی بستی کے قریب مزدوری کرتا تھا۔ اور کئی کئی مہینوں تک گھر نہ آتا۔ ایک آدھ دن کے لیے اپنی بندریا اور ننھے سے بچے سے ملنے آتا اور دوبارہ روزی کی تلاش میں چلا جاتا۔ اس کا ننھا بچہ عجیب طبیعت کا مالک تھا۔ سوال پر سوال، اور ہر جواب کے بعد ایک نیا سوال۔بندریا کئی مرتبہ اس کے سوالوں سے گھبرا جاتی تھی۔ایک دن قسمت سے بندر کئی مہینوں بعد گھر آیا۔ رات بھر پورا خاندان خوشی سے جاگتا رہا۔مگر اگلی صبح آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ننھا بندر ٹہنی سے ٹہنی اچھلتا ہوا آیا، آسمان کی طرف دیکھا اور حیرت سے بولا، “امّی! آج سورج چاچا کہاں ہیں؟ کیا وہ سو رہے ہیں؟”بندریا جانتی تھی کہ اگر…

Read more

”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔ کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر جہاں بھی کہیں جاتا بس یہی صدا لگاتا۔”تین باتیں سن لو اور ہر بات کا معاوضہ سو روپے دے دو“ کوئی بھی اُس کی اس صدا پر کان نہ دھرتا تھا۔تنگ آکر فقیر دریا کی طرف نکل گیا۔وہ کنارے کنارے چلتا جاتا اور بڑبڑاتے ہوئے لوگوں کو کوستا جاتا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ وقت کا بادشاہ بھی سیر کیلئے وہاں آیا ہوا تھا۔اُس نے فقیر کو کوستے ہوئے سنا تو اُسے بلا کر وجہ پوچھی۔فقیر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا! ”میں تھکا ہارا (چندرا) بدنصیب ہوں۔“ جس نے قیمتی سودا سستے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے بھی میری نہ سنی۔بادشاہ بولا! ”فقیر!اب کہو میں تمہاری شرط منظور کرتا ہوں۔“ فقیر خوشی خوشی تیار ہو گیا۔ اس کے بعد فقیر نے تین باتیں سنائیں۔(1)”رات دا جگن بھلا“(یعنی رات کو جاگنا مفید ہے)پہلی بات بتا کر فقیر نے…

Read more

ایک دفعہ احمد کہیں جا رہا تھا۔اس نے راستے میں ایک بھکاری کو دیکھا، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور گرمی کی تیزی سے رنگت کچھ سیاہ ہو گئی تھی۔اس کے سامنے ایک برتن پڑا ہوا تھا، جس میں تھوڑے سے پیسے تھے۔احمد جب اس کے قریب سے گزرا تو بھکاری نے صدا لگائی:”اللہ کے نام پہ کچھ دے دو بیٹا!“احمد رُکا اور اس سے کہنے لگا:”آپ بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟ اسلام میں بھیک مانگنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔“بھکاری کہنے لگا:”بیٹا! تو پھر میں کیا کروں؟ آج کل مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بازار سے کچھ بھی نہیں خرید سکتا۔گھر میں بیوی بچے اکثر بھوکے سو جاتے ہیں۔“احمد نے کہا:”بابا! میں آپ کی مدد کروں گا۔آپ میرے ساتھ گھر چلیں۔ “احمد، بابا کو اپنے گھر لے آیا اور امی سے کہا:”امی جان! یہ ایک مجبور بھکاری ہے۔میں نے سوچا کہ اس کو بھیک والی لعنت…

Read more

کسی گائوں میں ایک فقیر اور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ ان کی سات بیٹیاں تھیں۔ غربت کے مارے یہ میاں بیوی اپنا اور بچیوں کا گزر بسر بھیک مانگ کر کیا کرتے تھے۔ ایک دن فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا کھیر کھانے کا دل چاہ رہا ہے، یہ بات سن کر اسکی بیوی نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ کھیر ہم غریبوں کے نصیب میں کہاں ہے۔فقیر اسکا جواب دیتے ہوئے بولا کہ ہم دودھ ،چاول اور چینی بھیک میں مانگ لیں گے پھر تم مجھے کھیر بنا کر کھلانا ،بیوی بولی کہ میاں! بھیک میں تو یہ سب اتنا نہیں مل سکے گا کہ ہماری سات بیٹیاں بھی کھاسکیں۔ فقیر گویا ہوا کہ اری پریشان کیوں ہوتی ہے؟ ہم کھیر تب بنائیں گے جب ساری لڑکیاں سو جائیں گی۔ اس طرح انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور ہم جی بھر کر…

Read more

جنگل میں ایک شیر اپنے غار کے باہر شکار کئے ہوئے گوشت کا ایک ٹکڑا لئے کھانے ہی والا تھا کہ اچانک ایک باز نے جھپٹا مارا اور گوشت پنجوں میں دبا کر اُڑ گیا۔باز کی اس حرکت پر شیر آگ بگولا ہو گیا۔اس نے عہد کر لیا کہ وہ جنگل کے سارے پرندوں کو کھا جائے گا۔ایک دن شیر نے جانوروں کو بلا کر کہا ”سنو! مَیں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ اِس جنگل کے تمام پرندوں کا شکار کر لو، مَیں اس جنگل میں ایک بھی پرندہ زندہ دیکھنا نہیں چاہتا، مَیں خود شکار کروں گا اور تم بھی اس مہم پر نکل جاوٴ۔“ شیر کے ساتھی تو پہلے ہی ان پرندوں سے پریشان تھے کیونکہ وہ عموماً ان کا مارا ہوا شکار لے اُڑتے تھے، اب وہ رات کو جب پرندے اپنے گھونسلوں میں سو رہے ہوتے تو ان کو کھا جاتے۔ اُلّو ایسا پرندہ ہے جو…

Read more

Un gorrión fue criado en la casa de un granjero. Conocía el idioma de los humanos y podía describir todo lo que veía. El granjero lo quería mucho y el gorrión también era muy feliz en su casa. Un día, un amigo del granjero, Allah Bakhsh, llegó de otra aldea. En realidad, Allah Bakhsh se refugió en la casa del granjero porque temía a sus enemigos. El granjero le explicó al gorrión: «Aunque alguien te pregunte si ha llegado un invitado a tu casa, no lo admitas». Los enemigos de Allah Bakhsh sabían dónde podía esconderse, así que llegaron a la casa del granjero y el gorrión les dijo: «Allah Bakhsh ha venido a nuestra casa». ¿Qué sucedió entonces? Los enemigos entraron en la casa y se llevaron a Allah Bakhsh. El granjero se enfureció con el gorrión. Lo mató y lo echó de la casa. El gorrión vagaba sin…

Read more

La temporada de lluvias había terminado, dejando tras de sí su belleza y sus deliciosos frutos. Las hojas de los árboles caían rápidamente y el invierno se acercaba. Un pajarito había construido un nido en un guayabo. El pájaro se llamaba Hebel, y sus crías vivían en ese nido. Pero cuando crecieron, un día volaron sin avisarle a Hebel y nunca regresaron. El pequeño Hebel ya estaba triste por ellas. Luego, cuando llegó el invierno, los demás pájaros también se escondieron en sus nidos. Ahora los guayabos casi habían desaparecido; solo quedaba la mitad de una guayaba. Había algunas hormigas grandes viviendo en el tronco de la guayaba. Hebel se sentaba en la rama todo el día a observar a estas hormigas.Cuando las hormigas se quedaban sin comida en invierno, venían a pedirle guayabas a Hebel.Abel cortaba trozos de guayaba y los tiraba al suelo para que no tuvieran que…

Read more

300/3474
NZ's Corner