بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
(ایک افریقی لوک کہانی جو اس کہاوت سے ماخوذ ہے: “اکیلے چلنے والے سانپ کو ہی کلہاڑی سے مارا جاتا ہے”)بہت پہلے کی بات ہے، گھنے جنگل اور لمبی گھاس سے گھرے ایک گاؤں میں ادیوالے نامی ایک نوجوان شکاری رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور، تیز رفتار اور اپنی تیر اندازی کی مہارت پر فخر کرنے والا تھا۔ہر صبح، گاؤں کے شکاری جنگل میں داخل ہونے سے پہلے اکٹھے ہوتے تھے۔ وہ چھوٹے گروہوں میں مل کر چلتے، پانی اور کھانا بانٹتے اور ایک دوسرے کی حفاظت کرتے۔ بڑے بوڑھے ہمیشہ انہیں خبردار کرتے تھے:“جنگل میں کبھی اکیلے مت چلو۔ جھاڑیوں میں بہت سی چیزیں چھپی ہوتی ہیں۔”لیکن ادیوالے کا ماننا تھا کہ وہ دوسروں سے زیادہ بہادر اور طاقتور ہے۔ وہ اکثر فخر سے کہتا: “ایک شکاری پانچ سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ جب آپ اکیلے چلتے ہیں، تو تمام کامیابی کا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے۔”ایک…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ، تابعی عالم عثمان بن عطاء الخراسانی بیان کرتے ہیں:“میں اپنے والد کے ساتھ خلیفہ ہشام بن عبد الملک سے ملنے کے لیے جا رہا تھا۔ جب ہم دمشق کے قریب پہنچے تو ہم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو ایک سیاہ گدھے پر سوار تھا۔ اس کے جسم پر موٹا اور کھردرا قمیص تھا، ایک پرانی سی چادر تھی، سر پر سادہ سی ٹوپی چپکی ہوئی تھی اور رکابیں لکڑی کی تھیں۔میں اسے دیکھ کر ہنس پڑا اور اپنے والد سے پوچھا:‘یہ کون ہے؟’میرے والد نے فوراً مجھے خاموش کرایا اور کہا:‘چپ رہو! یہ حجاز کے سب سے بڑے فقیہ اور عالم عطاء بن ابی رباح ہیں۔’جب وہ ہمارے قریب آئے تو میرے والد اپنی خچر سے اتر گئے اور عطاء بن ابی رباح بھی اپنے گدھے سے اترے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، خیریت دریافت کی، پھر اپنی سواریوں پر سوار…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory
سومنات کا مندر
سومنات مندر کا مقام بھارتی ریاست گجرات میں واقع تھا۔ موجودہ دور کے انتظامی لحاظ سے یہ ویراول کے قریب پربھاس پٹن میں آتا ہے، جو گِر سومناتھ ضلع میں ہے ۔ یہ شہر سمندر کے کنارے واقع ہے ۔جبکہ سلطان محمود غزنوی کا دارالحکومت غزنی شہرتھا، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے ۔ غزنی سے سومنات کے مندر کا تقریبا 1100 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ دوری آج کے جدید نقشوں کے مطابق ہے، جبکہ اس وقت یہ سفر ہزاروں فوجیوں اور سامان کے ساتھ طے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ محمود غزنوی نے 18 اکتوبر 1025ء کو غزنی سے اس مہم کا آغاز کیا تھا ۔سومنات مندر کا عجوبہ وہاں نصب شیو لنگ تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ لنگ زمین سے فضا میں معلق تھا، یعنی اسے نیچے سے کوئی سہارا نہیں تھا اور نہ ہی اوپر سے لٹکایا گیا تھا ۔ جب محمود غزنوی نے مندر میں…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
باپ کی آخری وصیت
شہر کے امیر ترین تاجروں میں حاجی سلیم کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس بڑی بڑی دکانیں، کئی مکان اور وسیع زمینیں تھیں۔ مگر بڑھاپے میں وہ اکثر ایک ہی بات سوچ کر پریشان رہتا تھا کہ اس کی اتنی بڑی دولت کا صحیح وارث کون ہوگا۔ اس کے تین بیٹے تھے: بڑا بیٹا کامران، دوسرا بیٹا عمران اور سب سے چھوٹا بیٹا فہد۔ایک دن حاجی سلیم شدید بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ اب اس کی زندگی زیادہ دن کی مہمان نہیں۔ یہ خبر سن کر تینوں بیٹے اس کے بستر کے پاس جمع ہو گئے۔ حاجی سلیم نے کمزور آواز میں کہا:“بیٹو! میں نے ساری زندگی محنت کر کے یہ دولت کمائی ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میری جائیداد ایسے بیٹے کو ملے جو انسانوں کی قدر جانتا ہو۔”تینوں بیٹے حیران ہو کر باپ کی طرف دیکھنے لگے۔حاجی سلیم نے مزید کہا: “میری…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
اسود عنسی کذاب۔۔۔🙂!
اس کذاب کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ میں دعویٰ نبوت کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اسود عنسی شعبدہ بازی اور کہانت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا چونکہ اس زمانے میں یہ دو چیزیں کسی کے باکمال ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کی معتقد بن گئی۔ اسود عنسی کو ذوالحمار کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا، تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ اس کے پاس ایک سدھایا ہوا گدھا تھا یہ جب اس کو کہتا خدا کو سجدہ کرو تو وہ فوراً سربسجود ہوجاتا، اسی طرح جب بیٹھنے کو کہتا بیٹھ جاتا اور اور کھڑے ہونے کو کہتا کھڑا ہوجاتا، نجران کے لوگوں کوجب اس کے دعویٰ نبوت کا علم ہوا تو انہوں نے اسے امتحان کی غرض سے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس نے وہاں بھی اپنی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار ملا نصیر الدین اپنے ایک دوست کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے۔ راستے میں ایک کسان ملا جو بڑی بڑی پیازیں بیچ رہا تھا۔ ملا کو پیازیں پسند آئیں، اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے اور ایک کلو پیاز خرید لی۔ملا کا دوست جو ذرا مغرور تھا، ہنس کر بولا، “ملا جی! آپ اتنے بڑے عالم ہو کر بھی کسانوں کی طرح پیاز کے تھیلے اٹھا کر چل رہے ہو؟ کیا آپ کو اپنے وزن (وقار) کا خیال نہیں؟”ملا نصیر الدین مسکرائے اور بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:“بھائی! تم درست کہہ رہے ہو۔ انسان کو اپنا وزن برقرار رکھنا چاہیے۔ چلو، ذرا پاس ہی والے ترازو پر اپنا وزن کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ میرے وقار میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔”وہ دونوں ایک بڑی دکان کے پاس گئے جہاں ترازو رکھا تھا۔ ملا پہلے ترازو پر چڑھا، اس کا وزن کیا گیا۔ پھر اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
🐪 عقل — وہ رسی جو ہمیں سنبھالتی ہے
عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ جب ٹانگ اس طرح بندھتی تو وہ انگریزی حرف “V” کی شکل اختیار کر لیتی۔اونٹ اس حالت میں کھڑے ہوتے تو تین ٹانگیں زمین پر ہوتیں اور چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی۔ اس حالت میں وہ کھا پی سکتے، لیٹ سکتے، مگر بھاگ نہیں سکتے تھے۔ بدو اس رسی کو جس سے اونٹ کی ٹانگ باندھتے تھے، اپنی زبان میں “عقل” کہتے تھے۔ یعنی عقل دراصل ایک ایسی رسی تھی جو اونٹ کی بے قابو حرکت کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔یہی لفظ بعد میں انسانی رویے کے ایک اہم پہلو کی علامت بن گیا۔ جب ہم کسی سے کہتے ہیں “عقل کرو” تو اصل میں مطلب یہ ہوتا ہے: رک جاؤ، ٹھنڈا ہو جاؤ، جذبات پر قابو پاؤ، اپنی حالت کا جائزہ لو، اور حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
شیخ چلی اور “شیر کا شکار”
ایک بار شیخ چلی کو کسی نے کہہ دیا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک بہت بڑا شیر رہتا ہے جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔ شیخ نے سوچا، “اگر میں اس شیر کو پکڑ لوں، تو پورا شہر مجھے اپنا ہیرو مان لے گا، اور بادشاہ سلامت مجھے انعام میں ڈھیروں سونا دیں گے۔”شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک پرانا ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے اسے جیب میں ڈال لیا۔تھوڑی دور جا کر کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے سے شیر کے غرانے کی آواز آ رہی ہے۔ شیخ چلی کی تو سٹی گم ہو گئی۔ لیکن پھر اسے اپنی “بہادری” یاد آئی۔ اس نے ہمت کی، جیب سے وہ آئینہ نکالا اور اسے جھاڑی کی طرف کر کے خود ایک پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔شیر باہر نکلا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔…
urdupoetry urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔😄!
پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں ایک شیر بہت پریشان ہو گیا۔ کیونکہ اُسے روزانہ صرف ایک کلو گوشت دیا جاتا تھا اور مزید طلب کرنے پر اُسے کہہ دیا جاتا تھا کہ مہنگائی بہت ہے۔ اتنے سے ہی کام چلاؤ۔ جب پاکستان اور دبئی کے درمیان جانوروں کی منتقلی کا منصوبہ فائل ہو گیا تو اُس شیر کو دبئی ٹرانسفر کرنے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ وہ شیر سمجھا کہ میری دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔ اب صاف ستھرا چڑیا گھر، اے سی ، اور پیٹ بھر کر کھانا ملے گا۔ دبئی پہنچنے کے بعد پہلے دن اُسے ایک انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے سلا ہوا ایک تھیلا ملا۔ شیر بہت خوش ہوا اور جلدی سے اُسے کھولا تو اس میں چند کیلے تھے۔ شیر بہت حیران ہوا۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید غلطی سے یہ تھیلا میرے پاس آگیا ہو۔ اس نے کیلے کھائے ، پانی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
“ہر پیالے سے مت پئیں۔۔۔!
“ہر پیالے سے مت پئیں—دانشمندی سے انتخاب کریں۔ یہ جملہ ایک نصیحت یا استعارہ (Metaphor) کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے گہرے معانی ہیں:ہر پیالے سے مت پئیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں آپ کو ہر موقع، ہر پیشکش، یا ہر قسم کے تجربات کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کر لینا چاہیے۔ جس طرح تصویر میں سانپ کا زہر شامل کیا جا رہا ہے، اسی طرح کچھ چیزیں بظاہر پرکشش ہو سکتی ہیں لیکن وہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔دانشمندی سے انتخاب کریں: یہ انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے قریبی تعلقات، مواقع، یا فیصلوں کا انتخاب کرتے وقت ہوشیاری اور احتیاط سے کام لیں۔ ہر چیز جو سامنے پیش کی جائے، وہ آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔خلاصہ: یہ تصویر اور عبارت دراصل احتیاط اور بصیرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ اپنے لیے وہی چیز چنیں جو آپ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdustory urdu blog
پاسِ عہد۔۔۔🙂!
عرب کے مشہور شاعر اِمرُؤُ القیس دورِ جاہلیت کی نمایاں شخصیت تھا۔ روایت ہے کہ جب اسے قیصرِ روم کے دربار میں بلایا گیا تو روانگی سے پہلے اس نے اپنی زرہ، اسلحہ اور قیمتی سامان اپنے قابلِ اعتماد دوست سَمؤال کے پاس امانت رکھوا دیا۔ کچھ عرصے بعد امرؤ القیس اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسی دوران قبیلہ کندہ کا بادشاہ—جو اس کا سخت مخالف تھا—نے سَمؤال کو پیغام بھیجا کہ امانت میں رکھا ہوا سارا مال اس کے حوالے کر دیا جائے۔ سَمؤال نے دوٹوک جواب دیا:“یہ امانت میں صرف امرؤ القیس کی بیٹی یا اس کے جائز وارثوں کے سپرد کروں گا۔ بادشاہ اس کا حق دار نہیں، اس لیے میں اسے نہیں دے سکتا۔” بادشاہ نے دوبارہ دباؤ ڈالا، مگر سَمؤال اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا:“میں امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔” یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اور لشکر کے ساتھ سَمؤال…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdustory،urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
🦄** ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے*مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہآمدنی نہ تھا، گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا *اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا*اس جاگیردار نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کردیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتے ہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ھو،* مولوی صاحب نے اس زمین پر گندم کاشت کرلی۔ جب فصل ہری بھری ھوگئی تو مولوی بہت خوش ہوا* اسلیئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ھی بیٹھا رہتا اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا * لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے ان کو آن گھیرا گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا*مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیں…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
La demanda de sabiduría
Una tarde, tres cucarachas hambrientas se acercaron a un granjero bondadoso en busca de comida. Al ver su situación, el granjero les dio con cariño pan y queso, y también les dio algo de comida a sus familias. Al marcharse, el granjero les dijo: “¡Amigas! Andáis buscando comida todos los días, quiero darles un trabajo fijo y un futuro seguro”. Las cucarachas preguntaron: “¿Qué trabajo y cuánto me pagarán?”. El granjero les enumeró los trabajos y los salarios:Avisar a las gallinas cuándo comer: Salario de 3000 dólares al mes.Pelar y picar ajo: Salario de 5000 dólares al mes.Ahuyentar lagartijas de los cultivos: Salario de 4000 dólares al mes.Entretener a las cabras con canciones y bailes: Salario de 250 dólares al mes. La primera cucaracha dijo inmediatamente: “Elegiré el trabajo del ajo, porque es el que mejor paga”.El segundo dijo: “Ahuyentaré a los lagartos, es mejor que bailar delante de las…
Choosing wisely
One afternoon, three hungry cockroaches approached a kind-hearted farmer in search of food. Seeing their condition, the farmer lovingly fed them bread and cheese and also gave some food to their families.While leaving, the farmer said: “My friends! You wander around in search of food every day, I want to give you a permanent job and a secure future.”The cockroaches asked: “Which job and how much will you get paid?”The farmer listed the jobs and salaries:Telling chickens when to eat: Salary $3,000 per month.Peeling and chopping garlic: Salary $5,000 per month.Repelling lizards from crops: Salary $4,000 per month.Entertaining goats with songs and dances: Salary $250 per month.The first cockroach immediately said: “I will do the garlic job, because it pays the most.”The second one said: “I will chase away the lizards, it is better than dancing in front of the goats.”But the third red bag remained silent and thought: “I…
عقل مندی کا انتخاب
ایک دوپہر، تین بھوکے لال بیگ کھانے کی تلاش میں ایک رحم دل کسان کے پاس پہنچے۔ ان کی حالت دیکھ کر کسان نے انہیں پیار سے روٹی اور پنیر کھلایا اور کچھ کھانا ان کے گھر والوں کے لیے بھی دے دیا۔جاتے ہوئے کسان نے کہا: “میرے دوستو! تم روزانہ خوراک کی تلاش میں بھٹکتے ہو، میں تمہیں ایک مستقل کام اور محفوظ مستقبل دینا چاہتا ہوں۔”لال بیگوں نے پوچھا: “کون سا کام اور کتنی تنخواہ ملے گی؟”کسان نے کام اور تنخواہ کی فہرست بتائی:مرغیوں کو دانے کا وقت بتانا: تنخواہ 3,000 ڈالر ماہانہ۔لہسن چھیلنا اور کاٹنا: تنخواہ 5,000 ڈالر ماہانہ۔فصلوں سے چھپکلیوں کو بھگانا: تنخواہ 4,000 ڈالر ماہانہ۔بکریوں کو گانے اور رقص سے بہلانا: تنخواہ 250 ڈالر ماہانہ۔پہلے لال بیگ نے فوراً کہا: “میں لہسن والا کام کروں گا، کیونکہ اس میں سب سے زیادہ پیسے ہیں۔”دوسرے نے کہا: “میں چھپکلیوں کو بھگاؤں گا، یہ بکریوں کے سامنے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
میں شہر کے مصروف بازار میں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ صبح سے رات تک لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ مزدور، دکاندار، مسافر اور طالب علم سب میرے ہوٹل پر کھانا کھانے آتے تھے۔ کاروبار اچھا چل رہا تھا، مگر اس مصروفیت کے بیچ ایک چہرہ ایسا تھا جو روز میری نظروں کے سامنے آتا اور دل میں عجیب سی کسک چھوڑ جاتا۔وہ ایک کم عمر لڑکی تھی۔ شاید بارہ یا تیرہ سال کی۔ میلے کپڑے، بکھرے ہوئے بال اور آنکھوں میں عجیب سی تھکن۔ وہ روز شام کے وقت میرے ہوٹل کے باہر آ کر خاموشی سے بیٹھ جاتی۔ جب گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے تو ویٹر بچا ہوا کھانا ایک پلیٹ میں جمع کر کے اسے دے دیتا۔ وہ چپ چاپ کھانا لے لیتی اور تھوڑی دور جا کر بیٹھ کر کھانے لگتی۔شروع میں میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ بازار میں…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
تین روٹیاں۔۔۔🙂!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے تو شاگرد سے پوچھا:“کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟” شاگرد نے کہا: “میرے پاس دو درہم ہیں۔” حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا:“اب یہ تین درہم ہوگئے ہیں، قریب ایک بستی ہے وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔” شاگرد بستی گیا اور تین درہم کی روٹیاں خرید لایا، لیکن راستے میں اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر تین روٹیاں ہیں تو آدھی حضرت عیسیٰؑ کو ملیں گی اور آدھی مجھے۔ اس نے لالچ میں آ کر ایک روٹی وہیں کھا لی اور دو روٹیاں لے کر واپس آیا۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایک روٹی کھائی اور شاگرد سے پوچھا:“تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟” شاگرد نے جواب دیا:“دو روٹیاں۔ ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے۔” پھر دونوں آگے روانہ ہوئے۔…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection urdu blog urdupoetry urdu blog urdustory
Intitulado۔۔۔🙂!
In ancient times, a wrestler was very skilled in his art. He would defeat any wrestler who came to compete with him. Therefore, the king respected him very much because of his ability and skill. This famous wrestler taught or used to teach the art of wrestling to many young people. He made one of these young people his special disciple and taught him all the tricks that he knew. As a precaution, he taught him only one trick. Time passed like this. The famous wrestler must have been old and his favorite disciple became the greatest wrestler of his time. The requirement of nobility was that he would acknowledge the favor of his teacher that he had taught him his skill and made him so capable, but he was so bad-natured that one day he boasted in the king’s court that indeed my teacher is greater than me in…
English blog English stories urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
Intitulado ۔۔۔🙂!
En la antigüedad, un luchador era muy hábil en su arte. Derrotaba a cualquier luchador que se atreviera a competir con él. Por lo tanto, el rey lo respetaba mucho debido a su habilidad y destreza. Este famoso luchador enseñó, o solía enseñar, el arte de la lucha libre a muchos jóvenes. Tomó a uno de ellos como su discípulo predilecto y le enseñó todos los trucos que conocía. Como precaución, le enseñó solo uno. Así transcurrió el tiempo. El famoso luchador debía de ser anciano y su discípulo predilecto se convirtió en el mejor luchador de su época. La nobleza exigía que reconociera el favor de su maestro por haberle enseñado su habilidad y haberlo hecho tan capaz, pero era tan malhumorado que un día se jactó en la corte del rey: «Si bien mi maestro es mayor que yo en edad, en fuerza y en el arte de…