Author Archives: NZ's Collection

ایک زمانہ تھا جب ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک نہایت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اس سے محبت کرتی تھی، مگر اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ کئی گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ چکے تھے، بچوں کی آنکھوں سے بھوک جھانکتی تھی اور بوڑھوں کے چہروں پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔ بادشاہ نے خزانہ کھلوایا تو معلوم ہوا کہ مسلسل قحط اور سابقہ امداد کی وجہ سے خزانے میں اتنی دولت باقی نہیں کہ ہر آنے والے کو دل کھول کر دیا جا سکے۔یہی بات اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر امداد کا اعلان کر دیا تو واقعی ضرورت مندوں کے ساتھ وہ لوگ بھی آ جائیں گے جنہیں صرف مفت کا مال سمیٹنے کی عادت تھی، اور اگر اعلان نہ کیا تو اصل مستحق بھوک سے مر جائیں…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے شادی کی۔ 🥳🤗 شادی کے بعد حلوائی حساب لینے آیا تو پیر صاحب نے پوچھا: “پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی بولا:“حضور! آپ ھمارے خاندانی پیر ھیں، دعا ھی دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دی اور حلوائی خوشی خوشی چلا گیا۔ 😇😳 کچھ دیر بعد ایک میراثی آیا۔ 🤡 پیر صاحب نے اس سے بھی پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” 😊 میراثی بولا:“حضور! پچاس روپے بھی دے دیں اور پچاس کی دعا بھی کر دیں۔” پیر صاحب مُسکرائے اور دعا شروع کر دی 🤲 دُعا کرتے گئے…کرتے گئے…کرتے گئے… پورا ایک گھنٹہ گزر گیا! 😳 آخر دُعا ختم ھوئی تو پیر صاحب بولے: “بھائی! پتا ھی نہیں چلا دُعا اتنی لمبی ھو گئی کہ پانچ سو کی بن گئی۔ چلو اب 50 روپے تُم رکھو اور 450 مُجھے واپس کرو” 😁🤣🤣

ایک عورت کا چھوٹا بچہ گم ھو گیا۔ 😥🥀 پورا دن ڈھونڈتی رھی مگر کوئی پتہ نہ چلا۔ رات کے تقریباً ایک بجے اسے یاد آیا کہ محلے میں ایک بڑے عامل صاحب بھی رہتے ھیں۔ 😌 بس پھر کیا تھا… وہ سیدھی عامل صاحب کے گھر پہنچ گئی اور دروازہ دھڑا دھڑ بجانا شروع کر دیا۔ 🚪😳 عامل صاحب ابھی ابھی تھکے ہارے گھر لوٹے تھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے پریشان حال عورت کھڑی تھی۔ عورت روتے ھوئے بولی: “عامل صاحب! میرا بچہ صبح سے گم ھے، کوئی وظیفہ یا تعویذ دے دیں!” 😭😢 عامل صاحب نے جمائی لیتے ھوئے کہا: “بہن! رات کا ایک بج رہا ہے، صبح آ جانا…” 😴 عورت فوراً بولی: “میرا بچہ گم ھے اور آپ کو نیند کی پڑی ھے؟!” 😡 عامل صاحب نے دل میں کہا: “آج تو سونے نہیں دے گی!” 🤕 انہوں نے جلدی سے اخبار اٹھایا، ایک کونا پھاڑا،…

Read more

روسی سلطنت اور قفقاز کے پہاڑی قبائل کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں کے زمانے میں، ایک بہادر مگر نہایت سادہ مزاج روسی فوجی افسر ژلن اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ فوجی مہم سے واپس لوٹ رہا تھا۔ دونوں کو یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے محفوظ کیمپ تک پہنچ جائیں گے، مگر قسمت نے ان کے لیے ایک اور ہی امتحان لکھ رکھا تھا۔ راستے میں اچانک پہاڑوں کی اوٹ سے مسلح قبائلی جنگجو نمودار ہوئے۔ شدید مزاحمت کے باوجود دونوں گرفتار کر لیے گئے اور انہیں دور دراز پہاڑی گاؤں میں قید کر دیا گیا۔ قبائلی سردار نے اعلان کیا کہ دونوں کی رہائی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب ان کے اہلِ خانہ بھاری تاوان ادا کریں گے۔ ژلن جانتا تھا کہ اس کی بوڑھی ماں اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے اس نے جان بوجھ کر ایک غلط پتہ لکھوا…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب انسان بستیاں نہیں بسایا کرتے تھے۔ وہ قبیلوں کی صورت میں جنگلوں کے کناروں پر رہتے، اکٹھے شکار پر نکلتے اور ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے، کندھوں پر تیر و کمان، اور دلوں میں ایسا اتحاد کہ بڑے سے بڑا درندہ بھی ان کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر پاتا۔ادھر جنگل میں ہر روز کوئی نہ کوئی جانور شکار ہو جاتا۔ کبھی ہرن، کبھی نیل گائے، کبھی جنگلی بیل، کبھی خرگوش۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن ایسا آیا کہ جنگل کی خاموشی خود چیخنے لگی۔ جانوروں کی تعداد کم ہونے لگی تھی۔ بادشاہ شیر نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا۔تمام جانور جمع ہو گئے۔ہاتھی نے کہا، “ہمیں بھی انسانوں پر حملہ کر دینا چاہیے”ریچھ بولا، “نہیں، بہتر ہے جنگل چھوڑ دیں۔”بھیڑیا غصے سے بولا، “رات کے اندھیرے میں ان پر ٹوٹ پڑتے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ بُہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔ 😕😴 اس کے اسکول میں استاد اور استانی سب اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن بشیر کی ماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی کے بارے میں بات کرنا چاہیں۔ 😶🫣 استانی جی تو پہلے سے ھی بھری بیٹھی تھیں۔ بشیر کی بے وقوفی اور نا لائقی کی داستانیں بغیر کسی لگی لپٹی کے ماں کو سنا دیں اور کہا کہ یہ لڑکا اتنا نالائق ھے کہ اگر اس کا باپ زندہ ھوتا اور بینک کا مالک بھی ھوتا، تب بھی اسے نوکری پر نہیں رکھوا پاتا۔ 😡🙍 بیوہ ماں پر سکتہ طاری ھو گیا۔ وہ بغیر کچھ کہے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسکول سے چلی گئیں۔ نہ صرف اسکول بلکہ پورا…

Read more

انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ مگر حساس پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی کمزوریوں، عدمِ اعتماد یا اندرونی خوف پر قابو پانے کی بجائے کسی طاقتور، کامیاب یا بااثر شخصیت کے ساتھ وابستگی کو اپنی طاقت سمجھنے لگتا ہے. علمِ نفسیات میں اس رجحان کو Parasocial Attachment اور Basking in Reflected Glory (BIRG) کہا جاتا ہے، جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسروں کی کامیابی اور شہرت سے جڑ کر اس کی اپنی اہمیت بھی بڑھ جائے گی. یہ احساس وقتی طور پر اطمینان تو دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود اعتمادی اور ذاتی صلاحیتوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتا ہے. اسی حقیقت کو ایک تمثیلی کہانی کے ذریعے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے. ایک لومڑی کو ایک لمبی رسی ملی. اس نے رسی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھا اور دوسرا سرا خاموشی سے ایک سوئے ہوئے چیتے کی…

Read more

جنگل کی تاریخ میں اگر کسی ایک جانور کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا تھا تو وہ لومڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنی پوری سرکاری زندگی میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی۔ نہ عید آئی تو رخصت لی، نہ آندھی نے اسے روکا، نہ موسلا دھار بارش، نہ بیماری، نہ میلے، نہ تہوار، نہ کسی عزیز کی خوشی، نہ کسی اپنے کا غم۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ دربار میں موجود ہوتی اور رات گئے تک ریاست کے معاملات نمٹاتی رہتی۔ اس کی خدمت صرف ایک بادشاہ تک محدود نہ رہی۔ پہلے دادا شیر کے دور میں وہ وزیر رہی، پھر اس کے بیٹے کے ساتھ، اور اب پوتا بھی تخت پر بیٹھا تھا، مگر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر آج بھی وہی لومڑی بیٹھی تھی۔ جنگل کے کئی نوجوان پیدا ہوئے، جوان ہوئے، بوڑھے ہوئے، مگر دربار میں ایک چیز کبھی نہ بدلی…

Read more

ایک لڑکا ایک لڑکی سے بے حد مُحبت کرتا تھا لیکن سوچ رہا تھا کہ مُحبت کا اظہار کیسے کیا جائے تو اُس نے یہ طریقہ اپنایا 😄👇 لڑکا:لبنہ! میں چاہتا ھوں ہمارا بجلی کا بل ایک ھی ایڈریس پر آئے 😍🥀 لڑکی:اوہووو… تم میرا میٹر اپنے گھر لگانا چاہتے ھو؟ 🤔🙄 لڑکا:ارے نہیں یار! 😩 میں چاہتا ھوں میں تمہارے اردگرد بنیان پہن کر گھوما کروں 🤭😄 لڑکی:ہائے اللہ! بے حیائی پھیلاؤ گے؟ گندے 🤕🙅‍♀️ لڑکا:اووو ہوووو! 😑 میں چاہتا ھوں ھماری ہر چیز ایک ھو جائے 😌❤️ لڑکی:نہیں! تم زنانہ کپڑوں پہن کر بُہت پیرے لگو گو 🤧 لڑکا:یار! 😭میں کہنا چاہتا ھوں کہ میں تمہیں اپنا نام دوں 💍 لڑکی:اچھااا؟ پھر لوگ مجھے “مختار” کہیں گے؟ 😕 لڑکا:یا اللہ صبر 😵اچھا سنو… میں چاہتا ھوں میرا موبائل تمہارے فنگر پرنٹ سے کھلا کرے… 🥰📱 لڑکی چند سیکنڈ سوچنے کے بعد بولی: 👇 👇 👇 “کیوں… تو ٹونڈا…

Read more

ایک فقیر بادشاہ 👑 کے دربار میں حاضر ھوا اور بولا: “حضور! آپ کی سخاوت کے قصے دور دور تک مشہور ھیں۔” 😊👏 بادشاہ مُسکرایا: “بالکل درست سنا ھے، مانگو، کیا مانگتے ھو؟” فقیر نے اپنا کاسہ آگے بڑھایا اور کہا: “بس حضور! یہ کاسہ بھر دیجیے۔” بادشاہ نے گلے سے قیمتی ہار اتار کر کاسے میں ڈال دیا، مگر کاسہ خالی کا خالی! 😳 اس نے اشرفیوں کی بوریاں منگوا کر انڈیل دیں… مگر کاسہ پھر بھی نہ بھرا! 😲 بادشاہ نے پورا خزانہ کھول دیا… سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات… سب کچھ کاسے میں ڈال دیا… لیکن کاسہ پھر بھی خالی ہی نظر آیا! 😱 فقیر مُسکرا رہا تھا اور بادشاہ کا پسینہ نکل رہا تھا۔ 😅 آخرکار بادشاہ نے تاج اتار کر فقیر کے قدموں میں رکھ دیا اور بے بسی سے بولا: “اے درویش! خدا کے لیے بتاؤ یہ کیسا کاسہ ھے؟” فقیر زور سے ہنسا اور…

Read more

ایک جہاز بغیر اجازت اچانک ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ 😲💁‍♂️سکیورٹی والے 🧑‍✈️ دوڑتے ھوئے آئے 🏃 اور بولے: “او بھائی! آپ کون ھیں اور کہاں سے ٹپک پڑے؟” 🧐🤔 پائلٹ معصوم سا منہ بنا کر بولا: “حضور! میں پڑوسی ملک سے آیا ھوں، فیول ختم ھو گیا تھا، مجبوری میں ایمرجنسی لینڈنگ کی ھے۔” ✈️😅 حکام نے رات بھر پوچھ گچھ کی، چائے پلائی، سخت وارننگ دی کہ دوبارہ آئے تو سیدھا اندر کر دیں گے، پھر فیول بھروا کر رخصت کر دیا۔ سب نے سُکھ کا سانس لیا چلو قصہ ختم ھوا۔ 😌 لیکن اگلے دن ٹھیک اسی وقت وھی جہاز پھر آ دھمکا! 😕 اس بار جہاز خالی تھا، صرف ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ افسر دھاڑ کر بولا: “کل منع کیا تھا نا! پھر کیوں آئے ھو؟” 😡 پائلٹ ہاتھ جوڑ کر بولا: “سر جی، جو کرنا ھے بعد میں کر لیجئے گا پہلے اس خاتون کو…

Read more

شیر جنگل میں آرام کر رہا تھا کہ اس نے بلی کو دیکھا تو اسے آواز دے کر بلایا۔شیر نے بلی سے پوچھا ”تم دیکھنے میں تو مجھ جیسی ہو لیکن تمہارا قد اتنا چھوٹا کیوں ہے؟“بلی نے اداسی سے کہا، ”ظالم انسان نے میرا قد چھوٹا کر دیا ہے، ویسے میں رشتے میں تمہاری خالہ ہوں“۔ شیر نے یہ سنا تو غصے سے کہا، ”کس کی مجال کہ میری خالہ پر ظلم کرے میں اسے سخت سزا دوں گا“۔بلی نے کہا، ”بھانجے ایسی غلطی مت کرنا تم انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتے وہ بہت چالاک ہے“۔شیر نے گرج کر کہا، ”میں جنگل کا بادشاہ ہوں، میرا سامنا کون کر سکتا ہے؟ تم مجھے انسان کے پاس لے چلو پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں“۔”ٹھیک ہے میں تمہیں لے جاتی ہوں لیکن اس کے قریب نہیں جاؤں گی“۔ بلی نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔”تم دور رہ کر اس کی…

Read more

نظیر بھائی کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا، جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ 😬💁‍♂️ صبح اٹھتے ھی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو نظیر بھائی نے پینترا بدلا۔ 🤮🙅‍♂️ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ھونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔ 🤓🤔 اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم نظیر احمد آج صبح اس دنیا سے رخصت ھو گیا ھے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ پرنسپل کے آفس بھجوا دیا اور خود سکون…

Read more

فیس بک نے کچھ خواتین کو ایسا شاعر بنا دیا ھے کہ غالب اور میر بھی قبر میں کروٹیں بدلنے لگیں۔ 😅😆 ایک مُحترمہ نے شعر پوسٹ کیا: “کاش میں آسمان بن جاؤں…اور تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ھوئے فوراً چلے آؤ…” نیچے کمنٹس میں واہ واہ کا سیلاب آ گیا۔ 🌊 ایک عاشق مزاج فین نے لکھا: “بانو قدسیہ کے بعد اگر کسی نے دل کو چھوا ھے تو وہ آپ ھیں!” 😍🙅‍♀️ دوسرے نے حد ھی کر دی: “سویٹ آپی! آپ کے اشعار میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ھے…” 🤭❤️ آپی جذباتی ھو گئیں اور اعلان کر دیا: “اب ہر ہفتے ایک نئی غزل پیش کیا کروں گی!” 🥰✍️ چند دن بعد آپی نے سوال کیا: “شاعری کی کتاب چھپوانے کے لیے کون سا پبلشر بہتر رھے گا؟” 🙂📚 ڈیڑھ سو لوگوں نے فوراً مشورے دینا شروع کر دیے۔ لیکن اصل دھماکا…

Read more

Un aldeano se mudó a la ciudad y se llevó consigo una gallina del pueblo. La gallina ponía huevos todos los días. Un día, la gallina, por error, dejó un huevo en casa de un vecino. Al no recibirlo, el aldeano consultó con el abogado del vecino. El abogado le dijo que el huevo era suyo, pero que no se lo entregaría porque había sido dejado en su propiedad, por lo que la ley le otorgaba el derecho. El aldeano insistió en que la gallina era suya y que debía entregarle el huevo. Cuando la situación empezó a complicarse, el aldeano dijo: “Somos un matrimonio. Estas cosas se resuelven a golpes, con un puñetazo se soluciona rápidamente”. Ganó y se reconoció su derecho sobre lo disputado. El abogado de la ciudad, atónito, miró al aldeano y aceptó el reto. Como el aldeano reclamaba la propiedad del huevo, debía golpear primero.…

Read more

Una elefanta y una perra quedaron preñadas al mismo tiempo.Tres meses después, la perra dio a luz a seis cachorros mientras la elefanta seguía preñada. Seis meses más tarde, la perra volvió a quedar preñada, y nueve meses después, dio a luz a decenas de cachorros, pero la elefanta seguía preñada.Así continuó el ciclo, y la perra tuvo doce cachorros mientras la elefanta seguía preñada.Dieciocho meses después, la perra se acercó a la elefanta y le preguntó:“¿Estás segura de que estás preñada? Ambas quedamos preñadas al mismo tiempo. Yo he dado a luz a diez cachorros tres veces, y ahora son perros grandes mientras tú sigues preñada. ¿Qué es esto?”.El elefante respondió con una sonrisa: «Hay algo que quiero explicarte.Lo que llevo dentro no es un perro, sino un elefante. Dentro de dos años, seré un elefante en el paraíso. Cuando mi hijo ponga un pie en la tierra, la…

Read more

En una aldea vivía un pescador. Tenía tres hijos, una esposa y dos ancianos padres. El pescador era muy pobre. Salía a pescar al mar todo el día. A veces pescaba, a veces no. Cuando pescaba, todos daban gracias a Dios Todopoderoso, y cuando no pescaba, tenían paciencia y se iban a dormir.Todos en la familia eran pacientes y agradecidos. Dios Todopoderoso se complacía en esto. Un día, el pescador fue al mar a pescar como de costumbre, cuando de repente se desató una tormenta. El pescador se asustó al verla. Cuando la tormenta amainó, de repente apareció una sirena. El pescador se asustó al verla. La sirena dijo: «¡No temas! Dios Todopoderoso me ha enviado para ayudarte. Dios Todopoderoso ha apreciado tu paciencia y gratitud, y la de tu familia, por eso he venido a ayudarte».Era un ángel que se había transformado en sirena. El ángel le dijo al…

Read more

En una aldea vivía un pobre burro. Cargaba con su peso desde la mañana hasta la noche, lo regañaban, a veces le daban hierba seca, a veces ni siquiera eso. Un día tomó una decisión. «¡Basta! ¡Ahora no! El bosque es mejor que esta vida». En la oscuridad de la noche, rompió la cuerda y huyó. Tras caminar muchos kilómetros, llegó a un gran bosque.Tenía mucha hambre. Mientras caminaba, vio una hermosa tienda en el bosque. Un mono estaba sentado en la tienda. El burro se acercó asustado. El mono preguntó sin levantar la cabeza: «¿Qué quieres?». El burro llevaba varios días con hambre. Empezó a decir, uno por uno: «Dame zanahorias, un poco de hierba, unas manzanas, esos rábanos de delante y, si es posible, pon también esa caña de azúcar». El mono, el tendero, metió todo en la bolsa en silencio.Cuando la bolsa estuvo llena, preguntó como siempre:“Majestad,…

Read more

Lejos, en un bosque, vivía un rey muy necio y perezoso. Casi nadie en el mundo sabía dónde se encontraba su reino. Se pasaba el día tumbado en su trono, mientras sus sirvientes lo abanicaban con plumas de pavo real. Un día decidió que él también debía casarse. Envió a sus ministros y consejeros a todos los rincones del mundo. Sus ministros y consejeros eran tan sabios como él. Les había dicho que su esposa debía ser alguien que pudiera caminar por la tierra y volar por el aire. Alguien con apariencia humana, pero que no lo fuera. Tenía cuatro brazos y cuatro piernas. Los ministros y consejeros, desamparados, vagaban por el mundo con gran angustia. Entonces, en el camino, se encontraron con un anciano muy sabio al que le contaron su problema. Él rió y dijo: «Es muy fácil. Atrapen un mono de aquí y llévenselo a su rey».…

Read more

320/3775
NZ's Corner