Author Archives: NZ's Collection

پرانے زمانے میں ایک پہلوان اپنے فن میں بہت ماہر تھا۔ جو پہلوان بھی اس کے مقابلے پر آتا تھا، وہ اسے مار گراتا تھا۔چنانچہ اس کی اس قابلیت اور مہارت کی وجہ سے بادشاہ اس کی بہت عزت کرتا تھا ۔ یہ نامی پہلوان بہت سے نوجوانوں کو کشتی لڑنے کا فن سکھا یا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان کو اس نے اپنا شاگرد خاص بنایا تھا اور اسے وہ سارے داؤپیچ سکھا دبے تھے جو اسے آتے تھے۔ احتیاط کے طور پر بس ایک داؤنہ سکھایا تھا۔ زمانہ اسی طرح گزرتا رہا۔ نامی گرامی پہلوان بوڑھا ہوگا اور اس کا چہیتا شاگرد اپنے وقت کا سب سے بڑا پہلوان بن گیا۔ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے استا د کایہ احسان مانتا کہ اس نے اسے اپنا ہنر سکھا کر ایسا قابل بنادیا لیکن وہ کچھ ایسا بد فطرت تھا کہ ایک دن…

Read more

Temprano por la mañana, un gran barco de madera zarpó para cruzar un ancho río. Transportaba comerciantes, campesinos, niños y ancianos, todos con la esperanza de que el viaje los llevara a una tierra próspera. Pero había un problema. En lugar de un capitán al timón, varios hombres se agolpaban alrededor del timón, cada uno con un magnífico sombrero de capitán. «¡Yo sé el camino!», gritó el primer capitán, girando bruscamente el timón hacia la izquierda. «¡Te equivocas!», replicó el segundo, girándolo hacia la derecha. Un tercer capitán agarró el timón e intentó enderezarlo. «¡No, no! ¡El río gira hacia aquí!». Pronto, se unieron más capitanes. Cada uno gritaba más fuerte que el anterior. Cada uno empujaba y tiraba del timón en su propia dirección. Nadie estaba dispuesto a escuchar a los demás. Bajo cubierta, los pasajeros comenzaron a sentir el caos. El barco se balanceaba violentamente. Los bidones de…

Read more

Early in the morning, a large wooden boat set out to cross a wide river. It was carrying merchants, farmers, children, and the elderly—all with the hope that the journey would take them across to a prosperous land.But there was a problem.Instead of a captain to steer the boat, several men stood around the steering wheel, each wearing a magnificent captain’s hat.“I know the way!” the first captain shouted, pulling the wheel sharply to the left.“You’re wrong!” the second argued, pulling it to the right.A third captain grabbed the wheel and tried to force it to straighten. “No, no! The river turns this way!”Soon, more captains joined in. Each was shouting louder than the other. Each was pushing and pulling the wheel in his own direction. No one was willing to listen to the others.Below deck, the passengers began to feel the chaos.The boat was rocking violently. Drums of cargo…

Read more

صبح سویرے، لکڑی کی ایک بڑی کشتی ایک چوڑی ندی کو پار کرنے کے لیے روانہ ہوئی۔ اس میں تاجر، کسان، بچے اور بزرگ سوار تھے—سب اس امید کے ساتھ کہ یہ سفر انہیں پار ایک خوشحال سرزمین تک لے جائے گا۔لیکن ایک مسئلہ تھا۔کشتی کا رخ متعین کرنے کے لیے ایک کپتان کے بجائے، کئی آدمی اسٹیئرنگ وہیل کے گرد کھڑے تھے، اور ہر ایک نے شان دار کپتان والی ٹوپی پہن رکھی تھی۔“مجھے راستہ معلوم ہے!” پہلے کپتان نے چلّاتے ہوئے وہیل کو تیزی سے بائیں طرف کھینچا۔“تم غلط کہہ رہے ہو!” دوسرے نے بحث کرتے ہوئے اسے دائیں طرف گھسیٹا۔ایک تیسرے کپتان نے وہیل کو پکڑا اور اسے زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ “نہیں، نہیں! ندی اس طرف مڑتی ہے!”جلد ہی، مزید کپتان بھی شامل ہو گئے۔ ہر ایک دوسرے سے اونچی آواز میں چلّا رہا تھا۔ ہر کوئی وہیل کو اپنی مرضی کی سمت میں…

Read more

بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟ کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔ بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔ شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔ بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔ جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال…

Read more

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔ “70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔ واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے…

Read more

اڈو نامی گاؤں کے لوگوں نے پہاڑی پر ایک بہت بڑا غلہ خانہ (گودام) بنایا۔ یہ ان کی محنت کی علامت تھا—ہر کسان نے اپنی فصل کا ایک حصہ اس میں شامل کیا تھا۔ وہاں باجرا، چاول اور مکئی ذخیرہ کی گئی تھی تاکہ طویل خشک سالی کے دوران کوئی بھی بھوکا نہ رہے۔دیہاتی جانتے تھے کہ یہ غلہ خانہ بہت قیمتی ہے، اس لیے انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے پہریدار مقرر کیے۔ ان آدمیوں نے چمکدار وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں لمبی لاٹھیاں تھیں۔ ہر شام دیہاتی انہیں فخر سے پہاڑی پر چڑھتے ہوئے دیکھتے، اور وہ سب سے وعدہ کرتے کہ وہ اس اناج کی حفاظت کریں گے جو سب کا مشترکہ مال ہے۔شروع میں پہریدار رات بھر اونچی آواز میں نعرے لگاتے۔وہ پکارتے، “ڈرو مت! کوئی چور اناج کے ایک دانے کو بھی ہاتھ نہیں لگائے گا!”دیہاتی سکون کی نیند سوتے…

Read more

ایک سرسبز جنگل میں چار عجیب مگر سچے دوست رہتے تھے: ایک کوا، ایک چوہا، ایک ہرن اور ایک کچھوا۔اگرچہ ان کی شکلیں اور عادتیں مختلف تھیں، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے محبت اور اعتماد سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اکثر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے جمع ہوتے، باتیں کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ ان کی دوستی پورے جنگل میں مثال بن چکی تھی۔ ایک دن صبح کے وقت ہرن گھاس کی تلاش میں جنگل کے ایک دوسرے حصے میں چلا گیا۔ بدقسمتی سے وہاں ایک شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔ ہرن تیزی سے دوڑتے ہوئے اس جال میں پھنس گیا۔ وہ جتنا زیادہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، جال اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوتا جاتا۔ آخرکار وہ تھک کر زمین پر گر گیا۔ ادھر درخت کے نیچے باقی تین دوست اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کوا کو…

Read more

ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اڑ جاتے ہیں یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ دیکھو ذرا اسکی دستار پہناوا شکل سے شرافت ٹپک رہی ھے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا……..چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہوگئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جائے کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔ _حکایت مولانا رومی

کسی گاوں میں تین بھائی رہتے تھے. ان کے گھر پر پھل کا ایک درخت تھا جسکا پھل بیچ کر یہ دو وقت کی روٹی حاصل کرتے تھے. ایک دن کوئی اللہ والا انکا مہمان بنا. اُس دن بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گیا اور دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہ ہوئے کہ ان کو بھوک نہیں. مہمان کا اکرام بھی ہو گیا اور کھانے کی کمی کا پردہ بھی رے گیا آدھی رات کو مہمان اٹھا جب تینوں بھائی سو رہے تھے ایک آری سے وہ درخت کاٹا اور اپنی اگلی منزل کی طرف نکل گیا. صبح اس گھر میں کہرام مچ گیا سارا اہل محلہ اس مہمان کو کوس رہا تھا جس نے اس گھر کی واحد آمدن کو کاٹ کر پھینک دیا تھا. چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاوں میں آیا تو دیکھا اس بوسیدہ گھر پر جہاں وہ مہمان…

Read more

یوسف بن تاشفین مغربِ اسلامی کے عظیم سپہ سالار اور مرابطین سلطنت کے مضبوط حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی سادگی، عدل اور جہاد کے ذریعے شمالی افریقہ اور اندلس کی تاریخ بدل دی۔انہوں نے اصلاحی و دینی تحریک عبداللہ بن یاسین کی قائم کردہ مرابطین تحریک میں شمولیت اختیار کی، جس کا آغاز تقریباً ۴۴۸ھ / ۱۰۵۶ء میں ہوا تھا اور جس کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو مضبوط کرنا تھا۔ یوسف بن تاشفین نے قیادت سنبھالنے کے بعد آپس میں لڑنے والے امازیغ قبائل کو متحد کیا اور انہیں ایک مضبوط اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں مرابطین سلطنت تیزی سے پھیلی اور موریتانیہ، مراکش، الجزائر کے کچھ علاقے اور سینیگال کے حصے ان کی حکومت میں شامل ہو گئے، بعد میں اندلس بھی ان کی سلطنت میں شامل ہو گیا۔انہوں نے ۴۵۴ھ / ۱۰۶۲ء میں شہر مراکش کی بنیاد رکھی اور اسے مرابطین سلطنت…

Read more

ایک امام صاحب روزگار کی غرض سے برطانیہ کے شہر لندن جا پہنچے۔ روزانہ گھر سے مسجد تک بس پر جانا اُن کا معمول بن گیا۔ چند ہفتوں میں ایک ہی روٹ اور ایک ہی ڈرائیور سے اکثر سامنا ہونے لگا۔ ایک دن وہ حسبِ معمول بس میں سوار ہوئے، کرایہ ادا کیا اور باقی رقم لے کر نشست پر بیٹھ گئے۔ جیب میں رکھنے سے پہلے نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ اترتے وقت واپس کر دوں گا، یہ میرا حق نہیں۔ مگر فوراً ایک اور وسوسہ سر اُٹھانے لگا: “اتنی معمولی رقم… کون سا کسی کو فرق پڑے گا؟ کمپنی تو لاکھوں کماتی ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر رکھ لو!” اسی کشمکش میں سفر کٹ گیا۔ جب اُن کا اسٹاپ آیا تو اترتے ہوئے ڈرائیور کے پاس جا کر بیس پنس واپس کرتے ہوئے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ اپنے محل سے نکل کر اکثر شہر اور دیہات کا دورہ کیا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی رعایا کے حالات کو خود دیکھے اور سمجھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں اور وزیر کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر دیہات کی طرف جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک کمہار اپنے گدھوں کو ایک لمبی قطار میں لے جا رہا تھا۔ سب گدھے نہایت ترتیب سے، سیدھی لائن میں چل رہے تھے۔ نہ کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور نہ ہی کوئی ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔بادشاہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے اپنے گھوڑے کو روکا اور کمہار کو آواز دی۔“اے کمہار! ذرا ٹھہرو۔”کمہار فوراً رک گیا اور ادب سے جھک کر سلام کیا۔بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا“مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان…

Read more

نامارا کی وادی میں ایک شاندار محل تھا، جو سفید پتھروں سے بنا تھا اور صبح کی روشنی کی طرح چمکتا تھا۔ اس کے عین بیچ میں بادشاہ کا فخر موجود تھا: سنہری شیروں اور چاندی کے پرندوں سے تراشا ہوا ایک بلند و بالا فوارہ۔ پانی دن رات اس کے دہانے سے اچھلتا اور وسیع سنگِ مرمر کے حوضوں میں گرتا رہتا۔محل کے پاس سے گزرنے والے مسافر رکتے اور دنگ رہ جاتے۔ وہ سرگوشیوں میں کہتے، “دیکھو، یہ سلطنت کتنی خوشحال ہوگی، جن کے فوارے تک کبھی نہیں سوکھتے۔”لیکن اگر وہی مسافر محل کی دیواروں سے ذرا آگے نکل جاتے، تو نامارا کی کہانی بدل جاتی۔گاؤں والے سورج نکلنے سے پہلے اٹھتے، مٹی کے ٹوٹے پھوٹے گھڑے اپنے کندھوں پر اٹھاتے۔ مائیں، کسان اور بچے قریبی ندی تک پہنچنے کے لیے دھول بھرا طویل راستہ طے کرتے۔ اکثر وہ خالی گھڑے یا بمشکل آدھے بھرے ہوئے واپس لوٹتے۔ایک…

Read more

ایک دن بادشاہ اکبر کا موڈ کچھ بدلنے والا تھا، انہوں نے بیربل سے کہا:“بیربل! مجھے لگتا ہے کہ اس سلطنت میں بے شمار بیوقوف لوگ بھرے پڑے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم مجھے دنیا کے چھ سب سے بڑے بیوقوف ڈھونڈ کر لاؤ۔”بیربل نے بادشاہ کو سلام کیا اور کہا: “جو حکم جہاں پناہ!”کچھ دن گزرے تو بیربل واپس آیا اور بادشاہ کو بتایا کہ اس نے چھ بیوقوف ڈھونڈ لیے ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا: “وہ کہاں ہیں؟”بیربل نے کہا: “حضور، پانچ تو باہر کھڑے ہیں، چھٹا یہ رہا!” اور اس نے اپنی طرف اشارہ کیا۔بادشاہ ہکا بکا رہ گیا اور بولا: “کیا مطلب؟ تم بیوقوف کیسے ہوئے؟”بیربل مسکرا کر بولا: “حضور! جو شخص اپنا ضروری کام چھوڑ کر دنیا میں بیوقوف ڈھونڈنے کا کام کرے، اس سے بڑا بیوقوف اور کون ہو سکتا ہے؟”بادشاہ اکبر لاجواب ہو گئے اور بیربل کی اس حاضر دماغی پر بہت ہنسے۔

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے۔ بی بی، جلدی بتائیں کیا لینا ہے— کینڈی یا روٹی؟” کیشئر نے عجلت میں پوچھا۔بوڑھی خاتون سہم گئیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس قدر تکلیف دہ صورتحال میں پھنس جائیں گی… وہ بھی عین کاؤنٹر پر، جہاں لائن میں کھڑے سب لوگ انہیں ہی گھور رہے تھے۔ان کے بائیں ہاتھ میں روٹی کا ایک تازہ پیکٹ تھا اور دائیں ہاتھ میں رنگ برنگی گمی کینڈیز (ٹافیوں) کا ایک چھوٹا سا تھیلا۔ان کا چھ سالہ پوتا برابر میں کھڑا کبھی روٹی کو دیکھتا اور کبھی ٹافیوں کو… لیکن وہ خاموش رہا، کچھ کہنے سے ڈر رہا تھا۔“دادی اماں… اگر آپ کا دل نہیں ہے تو ہمیں کینڈی لینے کی ضرورت نہیں،” ننھے بچے نے سرگوشی کی، وہ خود کو بڑا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔بوڑھی عورت کا دل ٹوٹ گیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ…

Read more

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ زندگی میں چار واقعات ایسے ملے جنہوں نے مجھے بہت حیران کیا۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کون سے واقعات ہیں؟ فرمانے لگے: ایک مرتبہ ایک نوجوان کے ہاتھ میں چراغ تھا۔میں نے اس نوجوان سے سوال کیا: بتاؤ یہ روشنی کہاں سے آئی؟ جیسے ہی میں نے یہ پوچھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی، اس نے فوراً چراغ پر پھونک ماری اور چراغ بجھا دیا اور کہنے لگا:حضرت! جہاں چلی گئی، وہیں سے آئی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں اس نوجوان کی حاضر دماغی پر آج تک حیران ہوں۔ ایک مرتبہ دس بارہ سال کی ایک بچی آ رہی تھی۔ اس کی بات نے بھی مجھے حیران کر دیا۔ بارش ہوئی تھی۔ میں مسجد جا رہا تھا اور وہ بازار سے کوئی چیز لے کر آ رہی تھی۔ جب وہ میرے قریب آئی تو میں نے کہا:بچی! ذرا…

Read more

تاریخ میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو صرف جنگی کامیابیاں نہیں بلکہ انسانی ذہانت، عزم اور غیر معمولی قیادت کی مثال بن جاتے ہیں۔ 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کی دیواریں ایک نوجوان سلطان کی غیر معمولی سوچ کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ قسطنطنیہ، جو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا، جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی مضبوط شہر تھا۔ اس کے ایک طرف بحیرہ مرمرہ، دوسری طرف باسفورس کی آبنائے اور تیسری جانب گولڈن ہورن کی قدرتی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے گرد مضبوط فصیلیں تھیں جو کئی صدیوں تک دشمنوں کے حملوں کو ناکام بناتی رہی تھیں۔ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو بازنطینیوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک خاص انتظام کیا۔ انہوں نے گولڈن ہورن کے داخلی راستے پر ایک بہت…

Read more

In the 5th century AD, when Europe was divided into various kingdoms and tribes, a name emerged that became a symbol of fear and terror across the continent. This name was Attila the Hun. He was often called the “punishment of God” because stories of destruction and fear were born wherever his armies arrived. Attila was born around 406 AD. He belonged to a nomadic warrior nation called the Huns, who were moving from the steppes of Central Asia to Europe. The Huns were unparalleled experts in horsemanship and archery. They would attack on fast horses and never give the enemy a chance to recover. Attila’s uncle Rugila was the ruler of the Hun tribes. After his death in 434 AD, Attila and his brother Bleda became joint rulers. Initially, the two brothers consolidated the empire together and began to increase pressure on the Eastern Roman Empire (Byzantine Empire). Attila…

Read more

En el siglo V d. C., cuando Europa estaba dividida en diversos reinos y tribus, surgió un nombre que se convirtió en símbolo de miedo y terror en todo el continente: Atila el Huno. A menudo se le llamaba el “castigo de Dios”, pues allí donde llegaban sus ejércitos sembraban la destrucción y el terror. Atila nació alrededor del año 406 d. C. Pertenecía a una nación nómada de guerreros llamada los hunos, que se desplazaban desde las estepas de Asia Central hacia Europa. Los hunos eran expertos sin igual en equitación y arquería. Atacaban a lomos de veloces caballos y no daban al enemigo oportunidad de recuperarse. El tío de Atila, Rugila, era el gobernante de las tribus hunas. Tras su muerte en el año 434 d. C., Atila y su hermano Bleda se convirtieron en gobernantes conjuntos. Inicialmente, los dos hermanos consolidaron el imperio juntos y comenzaron a…

Read more

320/2198
NZ's Corner