Author Archives: NZ's Collection

پرانے زمانے میں گاؤں میں گھڑی ہونا بھی ایک سٹیٹس سمبل ہوا کرتا تھا۔ 😎⌚ چوہدری شیدا کے بھتیجے نے شہر سے آتے ھوئے انہیں ایک ولایتی جیبی گھڑی تحفے میں دی۔ بس پھر کیا تھا! چوہدری صاحب دن بھر چوپال میں بیٹھے رہتے، گھڑی کان سے لگا کر اس کی “ٹک ٹک” سنتے اور فخر سے کہتے: “دیکھو بھئی! میرے پاس ایسی مشین ھے جو خود سارا دن بولتی رہتی ھے!” 😂 گاؤں والے بھی حیرت سے گھڑی کو دیکھتے رہتے۔ چند ماہ بعد ایک صبح چوہدری صاحب نے گھڑی کان سے لگائی تو خاموش… نہ ٹک ٹک…نہ حرکت… بڑے پریشان ھوئے! گھڑی کھولی تو اندر سے ایک مری ھوئی چیونٹی نیچے گر گئی۔ 🐜 چوہدری صاحب نے چیونٹی کو غور سے دیکھا…👁️پھر گھڑی کو دیکھا…اور ایک لمبی آہ بھر کر بولے: “اوئے یارو…! مشین نے تو رکنا ھی تھا… 😢 بیچارا ڈرائیور ھی مر گیا ھے،اب گھڑی خاک…

Read more

نیلگوں پانیوں کی بے کراں دنیا میں ایک مچھلی رہتی تھی۔ وہ چست، طاقتور اور اپنے جھنڈ میں سب سے بڑی سمجھی جاتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، اور اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کا غرور بھی بڑھتا گیا۔ایک دن اس نے اپنے گرد پھیلے ہوئے سمندر کو دیکھا اور نخوت بھرے لہجے میں بولی:“میں اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ میں بڑی ہو گئی ہوں۔ مجھے زیادہ جگہ چاہیے۔”سمندر کی موجیں ہلکے سے مسکرائیں۔ اس کی گہرائیوں میں صدیوں کی خاموش حکمت موجزن تھی۔وہ بولا:“جگہ؟ اے مچھلی! تم جس وسعت کی طلبگار ہو، وہ پہلے ہی تمہارے گرد موجود ہے۔ تم میرے اندر ہو، اور میں تمہارے خیال سے بھی کہیں بڑا ہوں۔”مچھلی نے اس بات کو معمولی جانا۔ اس نے مزید بڑھنے کی ٹھان لی۔موسم بدلتے رہے، برس بیتتے گئے۔ مچھلی واقعی پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہو گئی۔ اس کی طاقت میں اضافہ ہوا، اس کی رفتار…

Read more

En la ciudad de Bagdad vivía un hombre llamado Abu Bakhil Tanburi, un avaro iracundo. Tenía un par de zapatos viejos que había usado sin cesar durante los últimos siete años. Cada vez que se rompían, los remendaba él mismo. Debido a las constantes reparaciones, los zapatos se habían vuelto tan pesados y feos que toda la ciudad empezó a criticarlos.Un día, mientras paseaba por el mercado de los vidrieros, un intermediario lo detuvo y le aconsejó que ganara dinero. Le dijo que un comerciante de Alepo tenía recipientes esmaltados que podía conseguir a buen precio. Abu Bakhil, ansioso por duplicar su ganancia, gastó sesenta dinares y compró todo ese valioso vidrio.Al cabo de un tiempo, otro intermediario le mostró la esencia de rosas barata que tenía un comerciante de Nasibin. Abu Bakhil gastó otros sesenta dinares, compró la esencia y la llenó en hermosas botellas de vidrio. Colocó todas…

Read more

بغداد شہر میں ابو بخیل طنبوری نامی ایک شخص رہتا تھا،وہ غضب کا کنجوس تھا۔ اس کے پاس جوتوں کا ایک پرانا جوڑا تھا۔ وہ ان جوتوں کو گزشتہ سات برس سے مسلسل پہن رہا تھا۔جب وہ کہیں سے ٹوٹ جاتے تو خود ہی ان میں پیوند لگا لیتا تھا۔ بار بار مرمت کرنے سے وہ جوتے اس قدر بھاری اور بدنما ہو گئے تھے کہ پورے شہر میں ابوبخیل کے جوتوں کی مثال دی جانے لگی۔ایک روز وہ شیشہ گروں کے بازار سے گزر رہا تھا ۔ ایک بروکر نے اسے روک کر مال بنانے کا مشورہ دیا۔ اس نے بتایا کہ حلب سے آئے تاجر کے پاس میناکاری کے برتن ہیں، جو سستے داموں مل سکتے ہیں۔ ابوبخیل نے دگنے منافع کے لالچ میں ساٹھ دینار خرچ کر کے وہ تمام قیمتی شیشہ خرید لیا۔کچھ دیر بعد ایک اور دلال نے اسے نصیبین سے آئے تاجر کے پاس…

Read more

کہتے ہیں ایک گاؤں تھا جہاں لوگ بہت سیدھے تھے۔ وہ محنت کرتے تھے، اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے اور امید رکھتے تھے کہ جو لوگ اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، وہ ان کی حفاظت کریں گے۔ وقت گزرا… گاؤں میں کچھ لوگ طاقتور بن گئے۔ انہوں نے خود کو محافظ کہنا شروع کر دیا۔ لوگ خوش تھے۔ انہیں لگا کہ اب ان کے مسائل حل ہوں گے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ جب کسی غریب کے ساتھ ظلم ہوتا، تو محافظوں کی آنکھیں بند ہو جاتیں۔ جب کسی کمزور کی آواز اٹھتی، تو محافظوں کے کان بہرے ہو جاتے۔ اور جب کسی طاقتور کا مفاد خطرے میں پڑتا، تو یہی محافظ شیر بن جاتے۔ گاؤں کے لوگ یہ سب دیکھتے رہے۔ شروع میں انہیں حیرت ہوئی۔ پھر عادت ہو گئی۔ اور آخر میں خاموشی۔ ایک دن گاؤں کے ایک بوڑھے شخص نے کہا: “مجھے ظالموں سے اتنا…

Read more

گاؤں میں ایک غریب بڑھئی رہتا تھا۔ اس کا نام کریم تھا۔ ایک دن اسے جنگل کے راستے میں ایک پرانا لکڑی کا صندوق ملا۔ جب اس نے کھولا تو اندر سونے کے سکے اور زیورات تھے۔ کریم کی حالت بہت خراب تھی۔ گھر میں کھانے کے لیے بھی مشکل سے کچھ ہوتا تھا۔ وہ صندوق گھر لے آیا، مگر ساری رات سو نہ سکا۔ صبح ہوتے ہی اس نے گاؤں میں اعلان کروا دیا: “جس کا صندوق گم ہوا ہے، وہ میرے پاس آ جائے۔” دو دن بعد ایک بوڑھا تاجر آیا۔ اس نے صندوق دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا۔ “بیٹا! یہ میری زندگی بھر کی کمائی ہے۔” کریم نے فوراً صندوق اس کے حوالے کر دیا۔ تاجر حیران رہ گیا۔ “تم چاہتے تو سب کچھ اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔” کریم مسکرایا: “جو میرا نہیں، وہ میرا کیسے ہو سکتا ہے؟” تاجر خاموشی سے چلا گیا۔ چند…

Read more

برف پوش چوٹیوں کے دامن سے ایک ننھی سی دھار پھوٹی۔ ابتدا میں وہ اتنی کمزور دکھائی دیتی تھی کہ جیسے ہوا کا ایک جھونکا بھی اسے روک دے گا۔ مگر اس کے اندر سمندر تک پہنچنے کی خاموش لگن موجزن تھی۔وہ پہاڑوں کے سینے چیرتی، وادیوں سے گزرتی اور چٹانوں سے ٹکراتی آگے بڑھتی رہی۔راستے میں ایک عظیم الجثہ پتھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی سختی پر ناز کرتے ہوئے کہا:“یہیں رک جاؤ! میری دیوار سے آگے کوئی نہیں جا سکتا۔”پانی نے مسکرا کر جواب دیا:“میرا کام رکنا نہیں، بہنا ہے۔”پتھر ہنسا۔ اسے اپنی مضبوطی پر کامل یقین تھا۔دن گزرے، موسم بدلے، برسوں نے کروٹ لی۔ پانی ہر روز اسی خاموشی سے آتا، پتھر سے ٹکراتا اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا۔ نہ اس نے شور مچایا، نہ جنگ کا اعلان کیا؛ بس اپنے مزاج کے مطابق بہتا رہا۔آخر ایک دن وہی پتھر، جو خود…

Read more

ہسپانیہ کے ایک قدیم گاؤں میں، جہاں پتھروں سے بنی گلیاں دوپہر کی دھوپ میں چمکتی تھیں اور سرخ چھتوں پر کبوتر منڈلاتے رہتے تھے، ایک پرانا اناج گھر تھا۔ اس اناج گھر میں ایک نہایت چالاک چوہا رہتا تھا، جو بلیوں کے لیے کسی معمہ سے کم نہ تھا۔ایک دن وہ چوہا حسبِ معمول دانے چراتا ہوا نکلا ہی تھا کہ دو بلیوں کی نگاہ اس پر پڑ گئی۔ایک بلی جوان، پھرتیلی اور کچھ حد تک جلدباز تھی۔دوسری عمر میں ذرا بڑی، سنجیدہ اور تجربہ کار تھی۔چوہے نے دونوں کو اپنی طرف لپکتے دیکھا تو بجلی کی سی تیزی سے دوڑا اور ایک تنگ سے بل میں گھس گیا۔دونوں بلیاں بل کے دہانے پر آ کر رک گئیں۔پہلی بلی نے اپنی مونچھیں ہلاتے ہوئے کہا:“فکر کی کوئی بات نہیں! میں ابھی اندر جا کر اسے پکڑ لیتی ہوں۔”دوسری بلی نے بل کا جائزہ لیا اور آہستہ سے بولی:“یہ بل…

Read more

چنگیز خان نے اپنی وفات (1227ء) سے قبل اپنی وسیع و عریض سلطنت اپنے چار بیٹوں میں تقسیم کی: جوجی خان، اوگتائی خان، جغتائی خان اور تولوی خان۔ یہ تقسیم دراصل منگول سلطنت کے مستقبل کی سیاسی ساخت کی بنیاد بنی۔جوجی خان، جو چنگیز خان کا سب سے بڑابیٹا تھا، کو بحیرۂ قزوین کے شمالی علاقے، دشتِ قبچاق، بلغار اور قفقاز کے خطے دیے گئے۔ تاہم جوجی خان اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا گیا، جس کے بعد ان کے بیٹے باتو خان نے اس خطے کی قیادت سنبھالی۔ باتو خان نے 1236ء تا 1242ء یورپ پر عظیم حملے کیے اور مشرقی یورپ کے بڑے حصے کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں “سنہری اردُو” (Golden Horde) ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھری۔دوسری جانب تولوی خان کو منگولیا کا قلبی علاقہ ملا، اور اس کے بیٹے ہلاکو خان نے بعد میں مغربی ایشیاء کی طرف اپنی فتوحات…

Read more

آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور…

Read more

En un pueblo vivía un humilde carpintero. Trabajaba duro todo el día, pero sus ingresos eran muy bajos. Un día, encontró una cartera llena de dinero en el camino. Había suficiente dinero para cubrir sus preocupaciones durante meses. Reflexionó un momento, tomó la cartera y comenzó a buscar al dueño por todo el pueblo. Al anochecer, encontró a un anciano que lloraba y buscaba su cartera. El carpintero se la devolvió de inmediato. El anciano, feliz, le dijo: «Quédese con este dinero, lo necesita más que yo». El carpintero sonrió y respondió: «Necesito dinero, pero no quiero perder mi honestidad». El anciano quedó muy impresionado. Unos días después, le dio trabajo en su negocio. Pasó el tiempo y aquel humilde carpintero se convirtió en un hombre exitoso. Lección:La honestidad es la riqueza que nunca se desperdicia. A veces, una buena decisión cambia una vida. ❤️La honestidad no da beneficios temporales,…

Read more

ایک گاؤں میں ایک غریب بڑھئی رہتا تھا۔ وہ دن بھر محنت کرتا مگر اس کی آمدنی بہت کم تھی۔ ایک دن اسے راستے میں پیسوں سے بھرا ہوا ایک بٹوہ ملا۔بٹوے میں اتنے پیسے تھے کہ اس کی کئی مہینوں کی پریشانیاں ختم ہو سکتی تھیں۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بٹوہ لے کر گاؤں میں مالک کو تلاش کرنے لگا۔شام تک اسے ایک بوڑھا آدمی ملا جو روتے ہوئے اپنا بٹوہ ڈھونڈ رہا تھا۔ بڑھئی نے فوراً بٹوہ واپس کر دیا۔بوڑھے آدمی نے خوش ہو کر کہا: “تم یہ پیسے رکھ لو، تمہیں ان کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہے۔”بڑھئی مسکرایا اور بولا: “مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، لیکن اپنی ایمانداری کھونے کی نہیں۔”یہ بات سن کر بوڑھا آدمی بہت متاثر ہوا۔ چند دن بعد اس نے بڑھئی کو اپنے کاروبار میں کام دے دیا۔ وقت گزرا اور وہی غریب بڑھئی کامیاب انسان بن گیا۔سبق:ایمانداری وہ دولت…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جنگل پر شیر کی حکومت تھی۔ ایک دن اس کا دور کا رشتہ دار بندر دربار میں حاضر ہوا اور بولا، “حضور! آخر رشتہ داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ساری حکومت میں سب کو کوئی نہ کوئی عہدہ ملا ہوا ہے، صرف میں ہی خالی ہاتھ ہوں۔” پہلے تو شیر نے بات ٹال دی، مگر بندر روز آ جاتا۔ کبھی سفارش کرواتا، کبھی رشتہ داری یاد دلاتا، یہاں تک کہ شیر واقعی پریشان ہو گیا۔آخر اس نے اپنی وزیرِ اعظم لومڑی کو بلایا۔ لومڑی نے مسکراتے ہوئے کہا، “حضور! اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ ایک نیا عہدہ بنا دیجیے۔ ایسا عہدہ جس کا نام بڑا ہو، مگر کام کچھ بھی نہ ہو۔” شیر کو بات پسند آ گئی۔اسی وقت اعلان ہوا کہ بندر کو “سپریم چیف انسپکٹر برائے شاہی سلامیاں” مقرر کیا جاتا ہے۔ پورا جنگل حیران تھا۔ کسی نے آج…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک غریب چوہا روزگار کی تلاش میں اپنا جنگل چھوڑ کر شہر چلا گیا۔ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ایک بڑے تاجر نے اسے ملازم رکھ لیا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ اونٹوں، بھینسوں اور گھوڑوں کو چارہ ڈالے، انہیں باندھے، کھولے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔چند ماہ بعد جب بھی وہ اپنے جنگل واپس آتا تو اپنے رشتہ داروں کے درمیان سینہ پھلا کر بیٹھ جاتا۔“تم لوگوں نے کبھی اونٹ دیکھا ہے؟ میں تو روز اس کی رسی پکڑ کر چلتا ہوں۔ بھینسیں بھی میرے ایک اشارے پر رک جاتی ہیں”۔ننھے ننھے چوہے حیرت سے منہ کھول لیتے اور بوڑھے چوہے بھی دل ہی دل میں سوچتے کہ واقعی شہر نے اسے بڑا بہادر بنا دیا ہے۔ ایک دن اچانک جنگل میں ہلچل مچ گئی۔ایک دیوہیکل جنگلی گینڈا بھٹکتا ہوا چوہوں کی بستی کی طرف آ نکلا۔ سب جانور…

Read more

😂💁‍♂️ آج کل کے کچھ نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ کچھ یوں ھوتی ھے! 😂🔥 🚨 بریکنگ نیوز!فیصل آباد کے نواحی علاقے میں ایک مرغی نے انڈا دے دیا! 😳🥚 جی ناظرین! اب سے چند لمحے پہلے ایک مرغی نے انڈا دیا ھے! ایک بار پھر بتاتے چلیں…📢 مرغی نے انڈا دے دیا ھے! چلتے ھیں اپنے نمائندے عارف کے پاس… 🎤 عارف! کیا صورتحال ھے؟ 😎 جی سمیہ! میں اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہوں، اور تصدیق ہو چکی ہے کہ انڈا واقعی مرغی نے ھی دیا ھے! 🎤 عارف! کیا انڈے سے بات ھوئی؟ 😆 جی بالکل! انڈے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ھے کہ اسے مرغی نے ھی دیا ھے! 🎤 کیا مرغی سے رابطہ ھوا؟ 😂 کوشش جاری ھے، مگر مرغی فی الحال میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رھی ھے! 🎤 مرغی کے اہلِ خانہ کیا کہتے ھیں؟ 🤣 مرغی…

Read more

روس کے ایک گھنے اور سرد جنگل میں، جہاں دیودار کے درخت آسمان سے باتیں کرتے تھے اور ہوا پتے ہلا ہلا کر پراسرار کہانیاں سناتی تھی، دو کسان روزی کی تلاش میں لکڑیاں کاٹنے آئے۔دونوں برسوں کے دوست تھے، مگر مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ایک محتاط اور سنجیدہ تھا، جبکہ دوسرا ذرا شوخ، چالاک اور دوسروں کو حیران کرنے کا شوقین۔لکڑیاں کاٹتے کاٹتے باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔پہلے کسان نے کلہاڑی زمین پر رکھتے ہوئے پوچھا:“اگر اچانک کوئی بھالو آ گیا تو تم کیا کرو گے؟”دوسرا ہنسا اور بولا:“میں؟ میں بھالو کو ہی ڈرا دوں گا!”پہلا کسان مسکرایا۔“اور وہ کیسے؟”دوسرے نے فخر سے اپنے تھیلے کی طرف اشارہ کیا۔“میں ایک بھالو کی کھال ساتھ لایا ہوں۔ اسے پہن کر ایسا دھاڑوں گا کہ اصلی بھالو بھی اپنی ماں کو یاد کرے گا!”پہلا کسان سر ہلا کر ہنس دیا۔“بھائی، کھیل کھیل میں کبھی خود نہ کھیل بن جانا۔”دوسرے…

Read more

ہسپانیہ کے ایک قدیم قصبے کی پتھریلی گلیوں میں ایک عجیب منظر اکثر لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیا کرتا تھا۔ہر شام، جب سورج سرخ سنہری چادر اوڑھ کر پہاڑوں کے پیچھے اترنے لگتا اور فضا میں زیتون کے باغات کی مہک گھل جاتی، ایک درویش مزاج موسیقار اپنے گدھے پر سوار بازار سے گزرتا۔اس کے ہاتھ میں ایک پرانا گٹار ہوتا، جس کے تاروں میں وقت کی دھول بھی بسی تھی اور خوابوں کی خوشبو بھی۔وہ چلتے چلتے گٹار چھیڑتا، اور مدھم دھنیں گلیوں میں تیرنے لگتیں۔اس روز بھی وہ حسبِ معمول گدھے پر بیٹھا گٹار بجا رہا تھا کہ چند راہگیر رک گئے۔ایک نے حیرت سے کہا:“دیکھو! گدھا گٹار بجا رہا ہے!”لوگوں میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔موسیقار نے بجانا بند کیا، مسکرایا اور بولا:“گدھا نہیں، میں گٹار بجا رہا ہوں۔”ایک نوجوان نے چٹکی لی:“اچھا! تو پھر گدھا کیا کر رہا ہے؟”موسیقار نے محبت سے اپنے گدھے…

Read more

ایک گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا۔ سالوں پہلے پورا گاؤں اسی کنویں سے پانی لیتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ نلکے لگ گئے اور لوگ کنویں کو بھول گئے۔ کنواں ویران پڑا رہتا۔ صرف ایک بوڑھا آدمی، بابا رحمت، ہر ہفتے وہاں آتا۔ کنویں کی صفائی کرتا۔ اس کے اردگرد جھاڑیاں کاٹتا۔ اور پانی نکال کر دیکھتا کہ سب ٹھیک ہے یا نہیں۔ لوگ اسے دیکھ کر ہنستے۔ “بابا جی! اب اس کنویں کا زمانہ گیا۔” “فضول محنت کیوں کرتے ہیں؟” بابا رحمت مسکرا کر کہتے: “بیٹا، ضرورت کبھی بتا کر نہیں آتی۔” کسی کو ان کی بات سمجھ نہ آتی۔ وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک سال شدید گرمی پڑی۔ بارشیں نہ ہوئیں۔ نلکوں کا پانی کم ہونے لگا۔ چند ہفتوں میں پورے گاؤں میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا۔ لوگ پریشان ہو گئے۔ جانور پیاسے رہنے لگے۔ بچے پانی کے لیے ترسنے لگے۔ تب کسی کو…

Read more

🌿 گاؤں میں خدا بخش نامی ایک کسان رہتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا مگر خوبصورت گھر تھا اور ساتھ ہی ایک باغ بھی تھا۔ باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کنواں تھا، جہاں سے وہ بڑی مشقت سے پانی نکال کر اپنے پودوں کو سیراب کرتا تھا۔ ایک سال شدید قحط پڑ گیا۔ بارش بالکل نہ ہوئی، سورج آگ برسا رہا تھا اور زمین خشک ہو چکی تھی۔ خدا بخش نے اپنے مرجھاتے ہوئے پودوں کو دیکھا اور افسردہ ہو کر بولا: “اگر پانی نہ ملا تو میرے سارے پودے مر جائیں گے… مگر پانی اب بہت نیچے جا چکا ہے۔ میں بوڑھا بھی ہوں اور کمزور بھی۔ آخر کیا کروں؟” یہ سوچتے ہوئے وہ باغ کی دیوار کے قریب ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔ اچانک اسے کھسر پھسر کی آواز سنائی دی۔ کوئی اس کا نام لے رہا تھا۔ اس نے خاموشی سے کان…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک خوبصورت اور پرسکون گاؤں میں شیخ چلی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ شیخ چلی اپنی سادگی، معصومیت اور سب سے بڑھ کر اپنے خیالی پلاؤ پکانے کی عادت کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ وہ اکثر دن کے اجالے میں ایسے خواب دیکھتا جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ کبھی وہ خود کو کسی سلطنت کا بادشاہ تصور کرتا تو کبھی دنیا کا سب سے بڑا تاجر۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کے پاس پہننے کو ایک پھٹا ہوا کُرتا، سر پر ایک پرانی پگڑی اور ایک وفادار گدھا تھا، جسے وہ پیار سے “مفتوں” کہتا تھا۔مفتوں کوئی عام گدھا نہیں تھا۔ وہ شیخ چلی کی ہر بات نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ اکثر اس کی حماقتوں پر اپنی لمبی لمبی زبان ہلا کر یا زور سے ہینگ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواتا…

Read more

320/3043
NZ's Corner