بادشاہ کا آخری فیصلہ… اور ایک غریب کی حیران کن بات
ایک سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جو اپنے انصاف کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے: “اس بادشاہ کے دربار میں امیر اور غریب برابر ہیں۔” ایک دن محل کے دروازے پر ایک غریب بوڑھا شخص پہنچا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر پریشانی تھی اور ہاتھ میں ایک پرانی لکڑی کی چھڑی تھی۔ دربان نے اسے روک لیا۔ بوڑھے نے کہا: “مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔” دربان ہنس کر بولا: “بادشاہ تم جیسے فقیر سے ملنے کے لیے نہیں بیٹھا۔ واپس جاؤ!” بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “میں بھیک مانگنے نہیں آیا، انصاف مانگنے آیا ہوں۔” یہ الفاظ سن کر دربان خاموش ہو گیا اور اسے اندر جانے دیا۔ بوڑھا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور بولا: “بادشاہ سلامت! میرے گاؤں کے امیر ترین تاجر نے میری زمین چھین لی ہے۔ میرے پاس کاغذات نہیں، گواہ نہیں، مگر زمین میری ہے۔” بادشاہ نے تاجر…
پاکستانی کسان اور جن کی شراکت!
ایک جن نے ایک پاکستانی 🤠 سے سودا کیا۔ 😄🤝 بولا: “کھیت اور بیج میرے، محنت تُمہاری، فصل آدھی آدھی!” 😃💁 پاکستانی مان گیا۔ 😊🤝 جن نے شرط رکھی: “پہلی فصل میں اوپر والا حصہ میرا!” پاکستانی نے کہا: “جی، ضرور!” 😏💯 🌱 اس نے آلو لگا دیے۔ فصل آئی تو جن کو ملیں سُوکھی پتیاں اور ڈنڈیاں! 🍂 اور پاکستانی… بوریاں بھر بھر کر آلو گھر لے گیا۔ 🥔😂 — جن غصے میں بولا: “اگلی بار نیچے والا حصہ میرا ھو گا!” 😤🤟 پاکستانی مُسکرایا: “جیسا حکم!” 😊💯 اس بار اس نے گندم بو دی۔ 🌾😁 فصل تیار ھوئی 😋💁 جن کے حصے میں آئیں جڑیں! 😑🥀 اور پاکستانی گندم سمیٹ کر چل دیا۔ 😎✨ — اب جن کا پارہ ہائی ھو گیا۔ 😤😡 کہنے لگا: “اب اوپر بھی میرا، نیچے بھی میرا اور درمیان تمہارا!” پاکستانی نے کہا: “بُہت اچھا!” 😁🙄 اس بار اس نے مکئی لگا دی۔…
اونٹ کی کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک وسیع صحرا کے کنارے ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا پیشہ جنگل سے جانور پکڑنا تھا۔ وہ مختلف جانوروں کو جال میں پھنساتا، اپنے باڑے میں لا کر باندھ دیتا اور پھر انہیں دور دراز شہروں میں مہنگے داموں فروخت کر دیتا۔ اس کے باڑے میں ہرن تھے، جنگلی گھوڑے تھے، نیل گائے تھیں، لومڑیاں تھیں، جنگلی خرگوش تھے اور کئی نایاب پرندے بھی تھے۔ ہر جانور آزادی کی یاد میں تڑپتا رہتا تھا اور ہر رات اپنی قسمت پر آہیں بھرتا تھا۔ ایک دن شکاری جنگل سے ایک بوڑھا اونٹ پکڑ لایا۔اونٹ کا جسم کمزور تھا، گردن لمبی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ باقی جانوروں نے اسے دیکھا تو کچھ نے ہمدردی کی اور کچھ نے مذاق اڑایا۔ ایک ہرن بولا:“بیچارے! ابھی ابھی گرفتار ہوا ہے۔”جنگلی گھوڑا ہنسا:“اگر کبھی بھاگنے کا موقع ملا بھی تو یہ ہمیں کہاں پکڑ…
🔥😂 کنجوس اور جادوئی چراغ 😲🧞♂️
ایک کنجوس آدمی کو جادوئی چراغ ملا۔ رگڑا تو جن حاضر! ✨🧞♂️ جن بولا: “تین خواہشیں مانگو مگر جو تمہیں ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” 😄💁 کنجوس نے دانت پیسے 😅”منظور ھے!” 💰 پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” ✨👏 اچانک خبر آئی…! پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے! 😳 🚗 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” ⚡🚗 لیکن سامنے، پڑوسی کے گھر دو نئی گاڑیاں آ کھڑی ھوئیں! 🚗🚗 اب کنجوس کا خون کھولنے لگا! 🤬 😈 تیسری اور آخری خواہش پر بولا: “میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن چونک گیا: “ارے! تمہارا دماغ تو ٹھیک ھے؟” 😳😕 کنجوس مُسکرا کر بولا: 😂 “میری ایک آنکھ جائے گی مگر پڑوسی دونوں آنکھوں سے اندھا ھو جائے گا!” 🤣🤣 جن ماتھا پکڑ کر غائب ھوتے ھوئے بولا: “یہ انسان اپنی خوشی سے زیادہ، دوسروں کا نقصان دیکھ…
“صرف 100 روپے میں جنت کی ٹکٹ!”
ایک بہروپیا ایک مزار کے باہر لمبی سفید داڑھی، سبز عمامہ اور کندھے پر تولیہ ڈالے بزرگ بنا بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک تختی رکھی تھی: “صرف 100 روپے میں جنت کی ٹکٹ!” لوگ اس کی شکل و صورت اور بناوٹی بزرگی سے اتنے متاثر تھے کہ جوق در جوق ٹکٹیں خرید رہے تھے۔ اتنے میں بہروپیے نے دور سے ایک پولیس والے کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ فوراً بلند آواز میں بولا: “بس بھائیو! آج کا وقت ختم ہوا۔ جو خوش نصیب تھے، وہ اپنی ٹکٹ لے گئے۔ فقیر کے پاس جو کچھ تھا، فقیر سب لٹا چکا!” یہ کہہ کر اس نے جلدی سے اپنا تھیلا سمیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچ کر دروازہ بند کیا، تھیلا کھولا اور نوٹ نکال کر خوشی خوشی گننے لگا۔ اچانک کھڑکی سے ایک مسلح ڈاکو اندر کود آیا۔ اس نے پستول سیدھی بہروپیے کی طرف تان…
تحفہ
مالک کو اتنے ماہر کارگر کو کھونا بہت برا لگ رہا تھا، اس لیے بڑھئی کے ریٹائر ہونے سے پہلے اس نے اس سے ایک آخری احسان مانگا: ایک آخری گھر بنا دو۔بڑھئی راضی تو ہو گیا، مگر اب اس کا دل کام میں نہیں تھا۔ وہ پہلے ہی اپنی زندگی کے اگلے باب کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس نے جلدی جلدی کام نمٹایا، کام میں کوتاہی کی (شارٹ کٹس لیے)، اور معیار پر پورا اترنے والے اچھے مواد کی بجائے وہی چیزیں استعمال کیں جو آسانی سے مل سکیں۔بالآخر، گھر تیار ہو گیا۔جب مالک اس کا معائنہ کرنے آیا، تو اس نے کاریگری پر کوئی تنقید کی اور نہ ہی کسی کمی یا کوتاہی کی نشاندہی کی۔ اس کے بجائے، وہ بڑھئی کے پاس آیا اور اسے سامنے والے دروازے کی چابیاں تھما دیں۔اس نے کہا، “یہ گھر تمہارا ہے،” “میرے ساتھ اتنے سال کام کرنے کی…
تحفہ 🎁
جاپان کے دارالحکومت کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دانا اور بوڑھا سمورائی رہتا تھا۔ ایک دوپہر، جب وہ اپنے شاگردوں کو پڑھا رہا تھا، تو ایک نوجوان اور بدنام زمانہ مغرور فائٹر وہاں آ گیا۔ وہ شخص انتہائی سنگدل اور ظالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کا خاص طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے حریفوں کو ذہنی طور پر بہت زیادہ تنگ کرتا اور برا بھلا کہتا تھا، یہاں تک کہ وہ غصے سے آپے سے باہر ہو جاتے۔ غصے میں اندھے ہو کر وہ اس کا چیلنج قبول کر لیتے، بڑی غلطیاں کرتے اور ناگزیر طور پر لڑائی ہار جاتے۔وہ نوجوان فائٹر فوراً بوڑھے شخص پر چڑھ دوڑا۔ اس نے اس پر پتھر پھینکے، اس کی سمت تھوکا، اور غصے میں پاگل ہو کر ہر طرح کی گندی گالیاں دینے لگا۔ لیکن بوڑھے سمورائی نے ذرا سا بھی دھیان نہ دیا۔ وہ بالکل پرسکون،…
بیوی کو قابو میں کیسے رکھیں؟ 😂
کل اخبار میں ایک آرٹیکل آیا: “بیوی کو قابو میں کیسے رکھیں؟” عنوان پڑھتے ہی ایسی خوشی ہوئی کہ دھڑکن تیز ہوگئی۔ میں نے پورا آرٹیکل ایک ہی سانس میں پڑھ ڈالا۔ لکھا تھا: صبح ٹہلنے جائیں،زیادہ ہری سبزیاں کھائیں،غصہ نہ کریں،کھانے پینے کا خیال رکھیں،باقاعدگی سے چیک اَپ کروائیں،وغیرہ وغیرہ… میں نے سوچا، واہ! آخرکار بیوی کو قابو میں رکھنے کا راز مل ہی گیا! پھر اچانک دوبارہ عنوان پڑھا تو دماغ ہی گھوم گیا! عنوان تھا: “بی پی (B.P) کو قابو میں کیسے رکھیں؟” 😭😂 اب کل بی پی نہیں…آنکھیں چیک کروانے جاؤں گا! 🤣
حرص و لالچ کی داستان
بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک تاجر تجارت کی غرض سے ایک دور دراز سلطنت میں گیا۔ وہ اپنے شہر سے بہت دور تھا، مگر تجارت کا شوق اسے ایسے علاقوں تک لے گیا تھا جہاں نہ اسے زبان پوری طرح آتی تھی اور نہ لوگوں کے مزاج کا اندازہ تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس سفر میں اسے کاروبار سے زیادہ اپنے نفس کی تجارت کا سبق ملنے والا ہے۔ وہ ابھی پہلے صوبے میں ہی تھا کہ ایک سنسان راستے پر ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا۔ اس کا مال، سامان، نقدی، حتیٰ کہ سفر کے لیے بچا کر رکھے ہوئے پیسے تک سب کچھ چھین لیا۔ تاجر لٹ پٹ کر صوبے کے گورنر کے دربار میں پہنچا اور فریاد کی۔ گورنر رحم دل آدمی تھا۔ اس نے تاجر کی پوری بات سنی، افسوس کیا اور کہا، “جو ہو گیا، اسے واپس تو نہیں لایا جا سکتا،…
بلاعنوان
شیر نے چیْتے کو دس بھیڑیوں کا نگران مقرر کیا۔ہر دن، شیر ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا۔ چیْتا خوراک کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرتا: اس نے ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھا اور باقی دس، جو سائز میں برابر تھے، بھیڑیوں کو دے دیے—ہر ایک کے لیے ایک ٹکڑا۔کچھ دن گزرے، تو بھیڑیوں کے درمیان بے چینی سے سرگوشیاں ہونے لگیں۔ایک نے کہا، “چیْتا کو ہمارے جتنا حصہ کیوں ملتا ہے؟”دوسرے نے اتفاق کیا، “وہ کچھ خاص نہیں کرتا۔ وہ بس کھانا تقسیم کرتا ہے۔”“ہم دَس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے بھاگنے پر مجبور کر دیں، تو ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس کو کتنا ملنا چاہیے۔”چیْتے نے ان کی سرگوشیاں سن لیں، لیکن اس نے اپنے اصول نہیں بدلے۔ اس کا ماننا تھا کہ جب تک وہ سب کے ساتھ انصاف کر رہا ہے، بغवत کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔لیکن ایک دن،…
صرف ایک دانہ
ایک بادشاہ تھا، جس کے دربار میں ایک دن چند ایسے لوگ حاضر ہوئے جنہوں نے برسوں تک ریاست کے لیے محنت کی تھی۔ بادشاہ ان کی خدمات سے خوش ہوا تو مسکرا کر بولا، “آج جو مانگنا ہے مانگو، تمہاری خواہش پوری کی جائے گی۔” کسی نے زمین مانگی، کسی نے باغ، کسی نے عہدہ، کسی نے وزارت اور کسی نے اپنے خاندان کے لیے جاگیر۔ ہر شخص نے اپنی نظر آج کی آسائش پر رکھی ہوئی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک کسان کا بیٹا بھی کھڑا تھا۔ اس کی باری آئی تو اس نے نہ زمین مانگی، نہ سونا، نہ منصب۔ اس نے نہایت سادگی سے عرض کیا، “حضور! مجھے صرف ایک دانۂ گندم چاہیے۔” دربار میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر ہر طرف ہنسی پھیل گئی۔ بادشاہ بھی مسکرا دیا۔ کسی نے کہا، “اتنے بڑے بادشاہ کے سامنے اتنی بڑی خواہش!” کسان کے بیٹے نے…
جوکر
ایک شخص ماہرِ نفسیات کے پاس گیا اور بولا: “میں مسلسل اداسی اور افسردگی کا شکار رہتا ہوں۔ زندگی کی ہر خوشی جیسے مجھ سے روٹھ گئی ہے۔ براہِ کرم، میری مدد کیجیے۔” ڈاکٹر نے اسے دوائیں دیں، مگر ایک ہفتے بعد وہ شخص دوبارہ لوٹ آیا۔ اس نے کہا: “جناب! ان دواؤں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ میرے دل کا بوجھ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔” ڈاکٹر نے مزید دوائیں تجویز کیں، لیکن دو ہفتے بعد بھی حالات نہ بدلے۔ اب ڈاکٹر خود پریشان ہو گیا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ مسکرایا اور بولا: “شہر میں ایک بہت مشہور جوکر کا روزانہ شو ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہر غم زدہ انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔ آپ آج ہی اس کا شو دیکھیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے سارے غم دور ہو جائیں گے۔” یہ سن کر اس شخص کی…
بیل اور ایک محنتی گدھا۔
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر کے پاس دو جانور تھے: ایک مضبوط بیل اور ایک محنتی گدھا۔ بیل دن بھر کھیت میں ہل چلاتا، جبکہ گدھا صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان اٹھا کر لے جاتا۔ دونوں کی زندگی مسلسل محنت میں گزرتی تھی۔ صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلنے کے بعد کہیں جا کر انہیں آرام نصیب ہوتا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کی زندگی کو اپنے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان سمجھتے تھے۔ جب بیل ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل میں سوچتا: “یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہے۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہوتا ہے۔” اور جب گدھا بھاری بوجھ اٹھا کر پسینے میں شرابور ہوتا تو سوچتا: “بیل تو کھلے کھیتوں میں آرام سے گھومتا ہوگا۔ اصل مشکل تو میری زندگی میں ہے۔”…
آدھی سلطنت یا موت؟
“وزیر کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا امتحان ایک بادشاہ کا مزاج اس روز بہت خوشگوار تھا۔ اس نے اپنے نوجوان وزیر کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا: “تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟” وزیر کچھ جھجکا، نظریں جھکا لیں.اور عاجزی سے عرض کیا “حضور! آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں۔ جب میں اس سلطنت کو دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر اس کا صرف دسواں حصہ بھی میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہوتا۔” بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور پوچھا: “اگر میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟” وزیر حیرت سے بادشاہ کو دیکھنے لگا اور بولا: “بادشاہ سلامت! یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں؟” بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور دو فرمان لکھنے کا حکم دیا۔ پہلے فرمان میں اپنی آدھی سلطنت وزیر…
ایک ننھا بچہ، خلیفہ اور سو دینا
ایک مرتبہ خلیفہ مامون الرشید اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گئے۔ سفر کے دوران ایک قبیلے کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ ایک کم سن لڑکا مشکیزہ بھر رہا ہے اور اپنے والد کو آواز دے رہا ہے: “ابا جان! جلدی آئیے، مشکیزے کا منہ بند کر دیجیے، مجھ سے بند نہیں ہو رہا!” مامون الرشید اس بچے کی فصاحت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا: “بیٹے! تم کون ہو؟” لڑکے نے اپنا نام بتایا اور فوراً پوچھ لیا: “اور آپ کون ہیں؟” مامون نے جواب دیا: “اولادِ آدم میں سے ہوں۔” لڑکا بولا: “یہ تو سب ہیں، مگر اولادِ آدم میں آپ کا تعلق کس قوم سے ہے؟” انہوں نے کہا: “سب سے بہتر قوم سے۔” لڑکا بولا: “تو عرب سے ہیں۔ عرب کے کس قبیلے سے؟” مامون نے کہا: “سب سے بہتر قبیلے سے۔” لڑکے نے کہا: “پھر تو قبیلہ مضر سے ہوں گے۔ مگر اس کی…
ظاہری تکلیف باطنی راحت کا سبب بن سکتی ہے
ایک عقل مند گھڑ سوار کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک شخص درخت کے نیچے سو رہا ہے اور ایک زہریلا سانپ اس کے کھلے منہ میں گھسنے والا ہے۔گھڑ سوار نے بھانپ لیا کہ اگر یہ سانپ اندر چلا گیا تو اس شخص کی جان چلی جائے گی۔ اس کے پاس اس وقت تلوار یا کوئی اور ہتھیار نہیں تھا جس سے وہ سانپ کو مار سکتا۔ لہٰذا، اس نے حکمت عملی کے تحت سوئے ہوئے شخص کو کوڑے مارنا شروع کر دیے۔وہ شخص درد سے اٹھ بیٹھا۔ گھڑ سوار نے اسے مارتے ہوئے ایک سیب کے باغ کی طرف بھگایا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسے زبردستی بہت سارے سیب کھلائے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر گیا اور سیب منہ کے راستے باہر آنے لگے۔ وہ شخص ڈر اور تکلیف کی وجہ سے چیختا رہا اور سمجھتا رہا کہ گھڑ سوار…
اندھی تقلید
“دتے” کے گھر کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ چپ چاپ پنڈ سے غائب ہو گیا۔ پنڈ سے نکل کر وہ ایک مدرسے جا پہنچا۔ مدرسے کے مولوی صاحب سے اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہے۔ انگوٹھا چھاپ دتے نے مولوی صاحب کی کچھ اس طرح منت سماجت کی کہ مولوی صاحب کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے دتے کو قرآن پاک حفظ کروانا شروع کر دیا۔ دن رات محنت کر کے دتے نے ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد دتہ اسی طرح خاموشی سے پنڈ واپس آ گیا۔ پنڈ کے لوگوں نے نہ اس کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تھا اور نہ ہی واپس آنے کا، میرے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی ہیں۔ دتہ سارا دن خاموشی سے پنڈ میں مٹر گشت کرتا…
جائیداد کی تقسیم
ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں، قاسم اور ایان، کے ساتھ رہتا تھا۔ قاسم بہت چالاک تھا، جبکہ ایان سادہ دل اور بھولا بھالا تھا۔ کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک گرم کمبل تھا۔ کچھ عرصے بعد کسان کا انتقال ہوگیا۔ جائیداد تقسیم کرنے کا وقت آیا تو قاسم نے فوراً اپنی چالاکی دکھائی۔ وہ بولا:“بھائی! ہم سب کچھ برابر بانٹ لیتے ہیں۔ گائے کا اگلا حصہ تمہارا، پچھلا حصہ میرا۔” ایان نے سادگی سے کہا:“ٹھیک ہے بھائی۔” قاسم نے فوراً دودھ کا فائدہ سوچ لیا تھا۔ پھر درخت کی باری آئی۔ قاسم بولا:“درخت کا نچلا حصہ تم رکھ لو اور اوپر والا حصہ میرا۔” ایان نے پھر کوئی اعتراض نہ کیا۔ آخر میں کمبل آیا تو قاسم نے کہا:“کمبل کو کاٹنا مناسب نہیں، اس لیے دن میں تم استعمال کر لینا اور رات کو میں اوڑھ لیا کروں گا۔” ایان نے یہ…
بلاعنوان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ آم کا ایک بہت بڑا اور گھنا درخت تھا۔ ایک چھوٹا بچہ روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے آیا کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ بچہ بڑا ہو گیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس نے درخت کے پاس آنا چھوڑ دیا۔کافی عرصے بعد، جب وہ ایک بار پھر اس درخت کے پاس آیا، تو اس نے درخت کو بہت اداس پایا۔ درخت نے اسے دیکھ کر خوشی سے پوچھا، “کیا تم میرے ساتھ کھیلو گے؟”لڑکے نے جواب دیا، “اب میں بچہ نہیں رہا۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، کھیل کی نہیں۔”درخت نے محبت سے کہا، “میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں، لیکن تم میرے سارے آم توڑ کر لے جاؤ اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو۔”لڑکے نے تمام آم توڑے اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد درخت ایک بار پھر اداس اور تنہا رہ…
انسان، دنیا، سے، اپنی، حقیقت، چھپا، سکتا، ہے، مگر، اپنے، ضمیر، سے، نہیں۔
ڈورین، گرے، اپنی، غیر، معمولی، خوبصورتی، پر، نازاں، ایک، نوجوان، تھا۔ اسے، سب، سے، زیادہ، خوف، اپنی، جوانی، کے، ختم، ہونے، کا، تھا۔ ایک، دن، ایک، مصور، نے، اس، کی، ایسی، خوبصورت، تصویر، بنائی، کہ، ڈورین، خود، بھی، اسے، دیکھ، کر، حیران، رہ، گیا۔ وہ، تصویر، کو، دیر، تک، دیکھتا، رہا، پھر، اچانک، اس، کے، دل، میں، ایک، خوفناک، خواہش، پیدا، ہوئی: “اگر، میری، جوانی، ہمیشہ، قائم، رہے، اور، یہ، تصویر، میری، جگہ، بوڑھی، ہوتی، جائے، تو؟” کسی، نے، سوچا، بھی، نہ، تھا، کہ، یہ، خواہش، حقیقت، بن، جائے، گی۔ دن، گزرتے، گئے۔ ڈورین، کی، خوبصورتی، پہلے، سے، بھی، زیادہ، نکھرتی، گئی، مگر، تصویر، میں، ایک، عجیب، تبدیلی، شروع، ہو، گئی۔ اس، کی، آنکھوں، میں، تکبر، نمودار، ہوا، پھر، چہرے، پر، ظلم، کی، سختی، نظر، آنے، لگی۔ ہر، غلط، فیصلہ، تصویر، کو، مزید، بدصورت، کرتا، گیا۔ ڈورین، نے، تصویر، کو، ایک، خفیہ، کمرے، میں، بند، کر، دیا۔ دنیا، اسے، آج،…