Author Archives: NZ's Collection

ایک آدمی کی جرابوں سے سخت بدبو آتی تھی۔ وہ جہاں جوتا اتارتا لوگ دور دور بھاگ جاتے۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی کے رشتہ داروں میں شادی تھی۔ لہذا اس نے اپنے خاوند کو نئی جرابیں لا کر دیں اور کہا، “کم از کم وہاں تو نئی جرابیں پہن کر جاؤ۔۔۔!” شادی میں اچانک شور اُٹھا اور اس آدمی کے قریب بیٹھے لوگ بھاگنا شروع ہو گئے۔ اس کی بیوی دوڑی دوڑی اس کے پاس آئی اور جھگڑنے کے انداز میں بولی، “تم پھر پرانی جرابیں پہن کر آئے ہو۔۔۔؟” آدمی نے بڑے اطمینان سے بوٹ اتار کر دکھائے اور کہا، میں نے پہنی تو نئی جرابیں ہیں، لیکن مجھے پتا تھا تم یقین نہیں کرو گی اس لیے پرانی جرابیں جیب میں ڈال کر لایا ہوں۔۔۔😅😅😅 حاصل کلام: کچھ لوگوں کی فطرت بھی ایسے ہی گندی ہوتی ہے انسان لاکھ کوشش کر لے وہ کبھی نہیں بدلتی۔ منقول

ایک بند تھیلی، ایک کٹا ہوا قالین، اور سلطان کی خاموش تدبیر — تین دن میں سچ کیسے سامنے آ گیا؟جب امانت میں خیانت ہوئی… اور انصاف قائم کرنے کے لیے ایک بادشاہ نے قالین کاٹ کر سچ کو بے نقاب کر دیا! سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے سلسلے میں دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے قاضی سے اپنی امانت طلب کی۔ قاضی نے وہی بند تھیلی اسے واپس کر دی۔ تاجر مطمئن ہو کر تھیلی لے گیا، مگر جب گھر پہنچ کر اس نے تھیلی کھولی تو حیران رہ گیا۔ اس میں اشرفیوں کی جگہ تانبے کے سکے موجود تھے۔ وہ فوراً قاضی کے پاس پہنچا اور کہا:“اس تھیلی میں تو اشرفیاں تھیں، یہ تانبے کے…

Read more

بغداد کی ایک پُرسکون رات تھی۔ ایک گلی سے اللہ کے ایک نیک بندے اپنے چند عقیدت مندوں کے ساتھ گزر رہے تھے۔ ایک تنگ موڑ سے گزرتے ہوئے اُن کی نظر ایک شخص پر پڑی جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ وہ نشے میں تھا۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے میلے، آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور گہری بے بسی بھی۔ عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو ناگواری سے رخ پھیر لیا۔ اچانک اُس شخص نے سر اٹھایا اور اس کی نظر سیدھی اس نیک بندے پر جا ٹھہری۔ چہرہ دیکھتے ہی اونچی آواز میں پکارا: اے اللہ کے ولی 💚قادر اَم غیر قادر؟کیا میرا رب میری حالت بدلنے پر قادر ہے یا نہیں؟ نیک بندے کے قدم فوراً رک گئے۔ وہ اس کے قریب زمین پر بیٹھ گئے اور نرمی سے فرمایا: قادر… اور قدرت صرف اسی کی ہے۔ وہ شخص دوبارہ بولا:اے اللہ کے ولی 💚قادر اَم…

Read more

ایک گھنے افریقی جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔ شیر طاقتور اور خوفناک تھا اور جنگل کے تمام جانور اس کے سامنے لرزتے تھے۔ وہ ہر دن شکار کرتا اور جنگل کے سب جانوروں کو ڈراتا۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا مگر چالاک خرگوش بھی رہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیر کے سامنے جسمانی طاقت کے زور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہمیشہ عقل اور چالاکی سے کام لیتا۔ ایک دن شیر نے فیصلہ کیا کہ وہ سب جانوروں کو ڈرانے کے لیے ایک بڑا شکار کرے گا۔ وہ جنگل کے درمیان آیا اور زور سے دھاڑ کر سب جانوروں کو ڈرایا۔ جانور سب خوف کے مارے چھپ گئے، مگر خرگوش نے اپنے ذہن سے سوچا: “میں شیر کی طاقتور جسمانی قوت کے مقابلے میں نہیں جا سکتا۔ مگر اگر میں چالاکی سے کام لوں تو اپنی جان بچا سکتا ہوں۔” خرگوش نے شیر کے پاس…

Read more

وہ بڑا بہادر اور دریا دل آدمی تھا۔ سارے عرب میں اس کی سخاوت کے چرچے عام تھے۔ ایک مرتبہ عباسی خلیفہ Abu Ja’far al-Mansur اس سے سخت ناراض ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ Ma’n ibn Za’ida کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ جب معن بن زائدہ کو خلیفہ کے اس حکم کی خبر ملی تو وہ کسی جگہ چھپ گیا، لیکن ہر وقت اسے یہی خوف لگا رہتا تھا کہ خلیفہ کے آدمی کسی نہ کسی دن اسے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔ آخر ایک دن اس نے بھیس بدلا اور ایک اونٹ پر سوار ہو کر بغداد سے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک سیاہ فام آدمی ایک طرف سے نکلا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ کر اونٹ کو بٹھا دیا۔ پھر اس نے معن بن زائدہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:“میرے ساتھ چلو۔” معن…

Read more

“حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں۔”سعودی عرب کا ایک دور افتادہ گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مشتمل ہے۔ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کیلئے جنات کے کھودے ہوئے 300 کنوئیں بھی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اگرچہ ناکارہ ہو چکے ہیں، مگر 20 کنوﺅں سے اب بھی لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔ جنات نے یہ کنوئیں زمین کے بجائے سخت ترین چٹانوں کو توڑ کر بنائے تھے، جس پر اب بھی ماہرین حیران ہیں۔ ان عجائبات کو دیکھنے کیلئے دور دور سے سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا یہ تاریخی گاﺅں ”لینہ“ مملکت کے شمالی شہر رفحا سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قدیم علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کے ساتھ متعدد آثار قدیمہ کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں ایک قدیم قلعہ بھی ہے۔ پرانے…

Read more

شام کی زرد روشنی بوڑھے ہاشم کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جو مسجد کی کچی دیوار سے ٹیک لگائے تسبیح کے دانوں کو بے دردی سے گرا رہا تھا۔ اس کی نظریں سامنے سے گزرتے ہوئے نوجوان زاہد پر جمی تھیں، جس کے بال ذرا فیشن کے مطابق تھے اور جس کے ہاتھ میں گٹار کا کیس تھا۔ ہاشم نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنے پاس بیٹھے ہم جلیس، مرزا صاحب کے کان میں پھسپھسایا:“دیکھا مرزا؟ یہ آج کی نسل! نہ ماتھے پر سجدے کا نشان، نہ لہجے میں عاجزی۔ یہ لڑکا سیدھا جہنم کا ایندھن بنے گا، لکھ لو میری بات۔ میں نے تو سنا ہے اس کے گھر میں رات گئے تک موسیقی کا شور مچتا ہے۔ اللہ کی پناہ! ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے بستی پر عذاب آتے ہیں۔” مرزا صاحب نے تائیدی لہجے میں سر ہلایا۔ “بجا فرمایا ہاشم بھائی۔ لوگ خدا سے…

Read more

ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت شہر کے سب سے بڑے بینک میں گئی۔ وہاں جا کر اس نے بینک مینیجر سے کہا:“میں اپنے اکاؤنٹ میں کچھ پیسے جمع کروانا چاہتی ہوں۔”مینیجر نے پوچھا:“کتنے پیسے ہیں؟”بوڑھی عورت نے جواب دیا:“تقریباً دس لاکھ روپے ہیں۔”مینیجر حیران ہو کر بولا:“واہ! تمہارے پاس تو بہت پیسے ہیں، تم کیا کام کرتی ہو؟”بوڑھی عورت نے کہا:“میں شرطیں لگاتی ہوں۔”مینیجر نے کہا:“واہ! شرطیں لگا لگا کر اتنے پیسے جمع کر لیے؟”بوڑھی عورت بولی:“جی ہاں۔ اگر یقین نہیں تو تم میرے ساتھ ایک لاکھ روپے کی شرط لگا لو۔ مجھے لگتا ہے تم نے وِگ (نقلی بال) لگائی ہوئی ہے۔”مینیجر فوراً بولا:“نہیں، یہ میرے اصلی بال ہیں، میں ابھی جوان ہوں!”بوڑھی عورت نے کہا:“چلو پھر ایک لاکھ کی شرط لگا لو۔”مینیجر نے دل میں سوچا کہ بوڑھی عورت پاگل ہو گئی ہے، ویسے ہی ایک لاکھ روپے ہار جائے گی۔ اس نے کہا:“ٹھیک ہے، میں شرط مان…

Read more

ایک عقل مند آدمی کسی جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں اس نے دو آدمیوں کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر کچھ تلاش کر رہے تھے۔ اس آدمی نے ان کے قریب جا کر پوچھا، ”کیا آپ لوگوں کا اونٹ گم ہو گیا ہے؟“ایک آدمی نے فوراً جواب دیا، ”ہاں بھائی! ہمارا اونٹ گم ہو گیا ہے۔ ہم کافی دیر سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں مگر نہ جانے وہ کہاں چلا گیا ہے۔ کیا تم نے اسے کہیں دیکھا ہے؟“عقل مند آدمی نے ان سے پوچھا، ”کیا تمہارا اونٹ ایک آنکھ سے کانا (اندھا) تھا؟“دونوں آدمی یک زبان ہو کر بولے، ”ہاں، ہاں! بالکل۔“اس نے پھر پوچھا، ”کیا وہ بائیں پاؤں سے لنگڑاتا تھا؟“انہوں نے تصدیق کی، ”ہاں، وہ لنگڑا بھی ہے۔“آدمی نے ایک اور سوال کیا، ”کیا اس کا کوئی آگے کا دانت ٹوٹا ہوا تھا؟“اونٹ والوں نے حیرت سے کہا، ”ہاں… اس کا ایک…

Read more

یہ سچا واقعہ پڑھیے اور دیکھیے آج بھی کیسے کیسے المیے لکھے جا رہے ہیں اور ہمارا قانون نہ تو انھیں روک سکا ہے نہ ظالموں کا کچھ بگاڑ سکا ہے۔۔۔۔۔ مرنے والوں کا کہاں خبر ہوتی ہے کہ ان کی نسلوں کا کیا حشر ہو گا۔ ایسا ہی ایک باپ اپنے بچوں کے لیے ہزاروں کنال زمین چھوڑ کر مرا تھا۔ اس کا ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی، جب وہ مرا تو اس کے بچوں کے لیے اتنی دولت موجود تھی کہ وہ ساری عمر مالی مسائل کا شکار نہ ہوتے لیکن وہ کروڑوں کی جائیداد کے مالک بچے بھوک سے تڑپتے رہے ،کھانے کو ترستے رہے۔ باپ امیر تھا ، کروڑوں کا مالک ، ہزاروں کنال زمین کا مالک لیکن موت نے آ لیا، ماں پہلے ہی خدا کو پیاری ہو چکی تھی ۔ جب باپ بھی گیا تو ان دونوں بہن بھائی کے ماموں زاد نے…

Read more

‏ایک عرب شیخ دبئی کے ایک پرتعیش ریستوراں میں بیٹھا دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک خستہ حال بے گھر آدمی اندر داخل ہوا اور اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے کہا، “میرے پاس ایک سنہری لائٹر ہے۔ تم اسے خریدنا چاہو گے، لیکن میں تمہیں پہلے ہی خبردار کر دوں کہ اس کی قیمت دس لاکھ ڈالر ہے۔”عرب ہنسا اور بولا، “بوڑھے آدمی، کیا تمہارا دماغ چل گیا ہے؟ دس لاکھ ڈالر؟ یہ لائٹر تو ایک ڈالر کے لائق بھی نہیں ہے!”وہ بے گھر شخص خاموشی سے سنہری لائٹر جلاتا ہے۔ اچانک، ایک جن باہر نکلتا ہے اور کہتا ہے، “جناب، آپ کی کیا خواہش ہے؟”پورا ریستوراں خاموش ہو جاتا ہے جب وہ آدمی جن سے کہتا ہے، “میرے لیے چینی والی چائے کا ایک کپ لاؤ۔” جن تالی بجاتا ہے اور—پھک!—آگ کے ایک شعلے کے ساتھ، ٹرے میں رکھی چائے کا گلاس، چینی…

Read more

کہتے ہیں کہ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ علیہ سے سارا زمانہ پیار کرتا تھا۔ بغداد کا ہر شخص ان کی عزت کرتا تھا۔ ایک شخص نے کہا: “بابا! تمہارا  بابا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بابا نہ صرف فرض مسجد میں پڑھتے تھے  باقی نماز  مسجد میں  نہیں پڑھتے تھے۔ ۔اایک دن جمعہ کی نماز کے بعد میں نے سوچا کہ آج ان کا پیچھا کروں اور دیکھوں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ اسلام میں سنتوں کی بہت تاکید ہے۔ میں فرض پڑھ کر نکل گیا، پیچھے رہ گیا۔ میں نے کہا آج سنت اور نفل چھوڑ دوں، دیکھوں کیا ہوتا ہے۔حضرت بشر حافی جلدی مسجد سے نکلے، کباب کی دکان پر گئے، کباب خریدا۔ میں نے سوچا اس عمر میں بھی کباب کھائے گا؟ اوہ مولوی کو روٹی نے ستایا ہے، اس لیے سنت اور نفل چھوڑ دیا۔آگے بڑھے تو نان بائی کی دکان سے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت امیر زمیندار رہتا تھا۔ گاؤں کی زیادہ تر زرخیز زمینیں اسی کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے کنارے ایک ٹکڑا ایسا بھی تھا جو بالکل بنجر تھا—نہ وہاں کچھ اگتا تھا اور نہ کسی کام کا تھا۔ زمیندار نے سوچا: “کیوں نہ یہ زمین کسی غریب کسان کو دے دوں؟ اگر اس کی محنت سے زمین آباد ہو گئی تو واپس لے لوں گا، ورنہ ویسے بھی بیکار ہے۔” اس نے اپنے ملازم کسانوں میں سے ایک سادہ اور شریف آدمی کو بلایا اور کہا:“ٹیلے کے پاس والی زمین اب تمہاری۔ میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں۔ جو اگاؤ گے، وہ تمہارا ہوگا۔” کسان نے شکر ادا کیا اور اگلے دن سے محنت شروع کر دی۔ کنکر، پتھر اور جھاڑ جھنکار صاف کیے، ہل چلایا۔ مگر اچانک ایک جگہ ہل کسی سخت چیز سے ٹکرا گیا۔ جب اس نے کھودا تو نیچے سے لوہے کا…

Read more

شہر کے پرانے بازار کے بیچوں بیچ ایک قدیم مسجد تھی۔ اس مسجد کے دروازے کے باہر ایک بھکاری تقریباً بیس سال تک بیٹھا رہا۔ لوگ اسے “بابا سلیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کا اصل نام کیا تھا، وہ کہاں سے آیا تھا، اس کا کوئی رشتہ دار تھا یا نہیں — کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔بابا سلیم کے پاس بس ایک پرانی سی چٹائی تھی جس پر وہ بیٹھتا تھا۔ اس کے سامنے ایک ٹوٹی ہوئی پیالی رکھی ہوتی جس میں لوگ نماز کے بعد چند سکے ڈال دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ خاموش رہتا تھا۔ نہ زیادہ مانگتا تھا، نہ کسی سے بحث کرتا تھا۔ہر روز فجر سے پہلے وہ آ کر اپنی چٹائی بچھا لیتا۔ جب لوگ مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو وہ دروازے کے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھا ہوتا۔ نمازی آتے جاتے اسے کچھ نہ کچھ دے دیتے۔کچھ لوگ اسے دیکھ…

Read more

دوستو! آج آپ کے لیے ایک سبق آموز واقعہ پیش ہے جو ہمیں ایمان، قربانی اور صبر کا عملی درس دیتا ہے۔ عسفان اور مکہ کے درمیان ایک مقام ہے جسے ’’رجیع‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں کی زمین سات مقدس صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے خون سے رنگین ہوئی، اسی لیے یہ واقعہ تاریخ میں ’’سریۂ رجیع‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دردناک سانحہ ہجری چہارم میں پیش آیا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ قبیلہ عضل و قارہ کے کچھ لوگ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان کے قبیلے کے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم ان کی قوم کو اسلام کے عقائد و اعمال سکھائیں۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دس صحابہ رضی اﷲ عنہم کو حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں اس مشن پر بھیجا۔ جب…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک کسان اپنی اونٹنی کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ راستے میں شام ہوگئی تو اس نے ایک گاؤں میں رات گزارنے کی اجازت مانگی۔ گاؤں والوں نے اسے مہمان بنا لیا۔ کسان نے جاتے وقت کہا کہ اونٹنی حاملہ ہے، اس کا خیال رکھنا۔ رات کو اونٹنی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ صبح جب کسان روانہ ہونے لگا تو وہ بچہ بھی ساتھ لے جانے لگا۔ گھر والوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے:“یہ اونٹ کا بچہ نہیں، ہماری بکری کا بچہ ہے!” بات بڑھ گئی اور گاؤں والے جمع ہوگئے۔ آخرکار سب معاملہ گاؤں کے نمبردار کے پاس لے گئے۔ نمبردار نے کچھ دیر سوچا اور فیصلہ سنایا: “میرے پردادا کہا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب بکریاں اونٹ کے بچے جَنیں گی۔ لہٰذا یہ بچہ بکری ہی کا ہے۔” کسان حیران رہ گیا اور خاموشی سے چلا گیا۔…

Read more

ایک شہری بابو اپنی شادی کے بعد پہلی بار گاؤں اپنی سسرال گیا۔ سسر جی نے داماد صاحب کی بہت خاطر تواضع کی اور شام کو اسے اپنا ڈیرہ دکھانے لے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑی اور تگڑی بھینس بندھی ہوئی تھی۔ سسر جی بڑے فخر سے بولے: “داماد جی! یہ ہماری سب سے مہنگی بھینس ہے، بڑا خالص دودھ دیتی ہے۔” داماد صاحب، جو اپنی “شہری عقل” جھاڑنا چاہتے تھے، بھینس کو غور سے دیکھنے لگے۔ اچانک ان کے دماغ میں ایک “سائنس” آئی اور وہ بولے:“ابو جی! آپ کی یہ بھینس بہت خطرناک ہے، اس کا ایک بہت بڑا ‘ڈیفیکٹ’ (نقص) میں نے پکڑ لیا ہے۔” سسر جی پریشان ہو گئے: “خیر تو ہے داماد جی؟ کیا ہوا؟” داماد صاحب بڑے رعب سے بولے: “ابو جی! دیکھیں، اس بھینس کے ‘سینگ’ (Horns) نہیں ہیں۔ یہ تو کسی بھی وقت آپ کو دھوکہ دے سکتی ہے یا اسے کوئی…

Read more

یہ ایک بہت خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے۔ ایک زوردار طوفان کے دوران، ایک کوا آسمان سے ٹوٹ کر گرا۔ وہ زمین پر اتنی زور سے گرا کہ وہیں بے بس ہو کر رہ گیا۔ اس نے خود کو گھسیٹنے کی کوشش کی، لیکن درد ناقابلِ برداشت تھا۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اس نے دبی آواز میں التجا کی:“مدد… میں اڑ نہیں سکتا… براہِ کرم میری مدد کرو…”قریب ہی ایک شاخ پر بیٹھے ایک نیل کنٹھ (Blue Jay) نے اسے دیکھا اور تمسخر اڑاتے ہوئے بولا:“تمہارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا! تم ہمیشہ ہم سب سے اونچا اڑتے تھے، جیسے پورا آسمان تمہاری ملکیت ہو۔ اب اپنی حالت دیکھو—کتنے بے بس ہو!”دیگر پرندے بھی اوپر منڈلاتے رہے، لیکن سب بے حس اور لاپرواہ تھے۔ کوے نے اپنا سر جھکا لیا۔ وہ بھوکا، زخمی اور بالکل اکیلا تھا۔ اس کی…

Read more

کہتے ہیں سقراط بچپن میں صبح جلدی اٹھنے کے عادی نہیں تھے۔ان کی والدہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا انسان بنے۔ایک دن وہ سقراط کو اپنے استاد کے پاس لے گئیں اور کہا:“استاد جی! اسے سمجھائیں کہ صبح جلدی اٹھنا کتنا ضروری ہے۔”استاد مسکرائے اور سقراط سے بولے:“بیٹا سقراط! میں تمہیں ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں، پھر بتانا کہ اس سے تم نے کیا سیکھا۔”سقراط نے سر ہلا کر کہا:“جی استاد جی، سنائیے۔”استاد نے کہا:“دو پرندے تھے۔ایک پرندہ صبح سویرے جاگ جاتا تھا، کیڑے پکڑتا تھا اور اپنے بچوں کو کھلاتا تھا۔دوسرا پرندہ دیر سے اٹھتا تھا، اس لیے اسے کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔”پھر استاد نے پوچھا:“بتاؤ سقراط! اس کہانی سے کیا سبق ملا؟”سقراط نے فوراً مسکرا کر جواب دیا:“استاد جی! سبق تو یہ ملا کہ جو کیڑے جلدی جاگتے ہیں، وہ پرندوں…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نیک آدمی رہتا تھا، جو اللہ تعالی کی بہت عبادت کرتا اور کفر و شرک کو ناپسند کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں ایک درخت تھا جس کی پوجا کچھ لوگ کرتے تھے۔ جب یہ آدمی اس بات سے آگاہ ہوا تو وہ بہت غصے میں آیا اور درخت کو کاٹنے نکل پڑا۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک انسان کی شکل میں شیطان سے ہوئی۔ شیطان نے کہا:“ارے میاں! کہاں جا رہے ہو؟” آدمی نے بتایا کہ وہ درخت کاٹنے جا رہا ہے کیونکہ لوگ اس کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان نے اسے بہکانے کی کوشش کی:“بھائی! تم تو اس کی پوجا نہیں کرتے، تمہارا کیا نقصان؟ اسے مت کاٹو۔” لیکن آدمی نے کہا:“میں ضرور کاٹوں گا!” لڑائی کے دوران آدمی نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا۔ شیطان بولا:“تم مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔” شیطان نے کہا کہ درخت کاٹنے…

Read more

360/2198
NZ's Corner