Author Archives: NZ's Collection

بہت ہی دور ایک جنگل میں ایک بہت بے وقوف اور سُستی کا مارا راجہ رہتا تھا۔دنیا میں شاید ہی کوئی جانتا تھا کہ اُس کی سلطنت کہاں واقع ہے۔وہ سارا دن اپنے تخت پر لیٹا رہتا اور اُس کے ملازم مور کے پروں سے بنے پنکھوں سے اُسے ہوا کرتے رہتے۔ایک دن اُس نے فیصلہ کیا کہ اُسے بھی شادی کر لینی چاہئے۔ اُس نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو دنیا کے ہر کونے میں بھیجا۔اُس کے وزیر اور مشیر بھی اُسی کی طرح کے عقل مند تھے۔اُس نے وزیروں کو کہہ کر بھیجا تھا کہ اُس کی بیوی ایسی ہو جو زمین پر بھی چل سکے اور ہوا میں بھی اُڑ سکے۔جس کی شکل انسانوں جیسی ہو لیکن وہ انسان نہ لگتی ہو۔اُس کے چار بازو اور چار ٹانگیں ہوں بے چارے وزیر اور مشیر سخت پریشانی کے عالم میں دنیا بھر میں مارے مارے پھر رہے تھے۔…

Read more

Érase una vez un jefe de aldea sumamente codicioso. La codicia había nublado su juicio y su carácter y moral se habían deteriorado enormemente. Si veía algo valioso en posesión de algún habitante de la aldea, lo arrebataba por cualquier medio. Los aldeanos estaban hartos de su comportamiento. Se quejaron repetidamente ante el juez de la aldea y el imán principal de la mezquita, a quienes el jefe escuchaba con gran atención, pero se negaba rotundamente a aceptar sus quejas y actuar en consecuencia. Si se enteraba de que alguien poseía una vaca, un búfalo, una cabra o incluso una gallina de buena raza, se sentía impotente y la perdía. Los aldeanos buscaban algún defecto incluso en los mejores animales y lo divulgaban por toda la aldea para protegerlos del codicioso Chaudhry. Pero a pesar de todo esto, los aldeanos, movidos por la envidia mutua, informaban al Chaudhry, quien, mediante…

Read more

La vida humana es un viaje hermoso y continuo, pero en cada recodo nos encontramos con diferentes actitudes. Algunas personas nos animan, mientras que otras intentan desviarnos del camino con su negatividad e incompetencia. Ante esta situación, surge la pregunta: ¿es necesario responder a cada desafío? Según la psicología, la ira y el ego suelen empujar a la persona a peleas inútiles. Las personas sabias y exitosas no son las que se lanzan a cualquier terreno, sino las que comprenden dónde está su lugar y dónde el silencio es la mejor arma.Para entender esto, la historia del rey de la selva, el león, y el jabalí es un ejemplo perfecto.Un día, un poderoso león caminaba tranquilamente cuando un jabalí, cubierto de barro de pies a cabeza, se interpuso en su camino. No solo le arrojó barro, del que él mismo estaba cubierto, sino que también lo desafió arrogantemente a una…

Read more

En el denso y frondoso bosque de Siberia, vivía un hermoso conejo con su familia. Vivían en una casa hecha de tierra blanda. Aunque el conejo era muy inteligente, también era un poco cobarde. Una tarde, el conejo y sus crías intentaban dormir después de comer pastel de zanahoria, pero las crías querían jugar entre ellas. De repente, se oyó una fuerte explosión que hizo que el conejo erizara las orejas. Sintió que la tierra temblaba, salió corriendo de la casa aterrorizado y echó a correr sin mirar a su alrededor. Mientras corría, se alejó mucho de su casa. En ese momento, se encontró con un ciervo. El ciervo le preguntó por qué corría. “Oí un fuerte estruendo, como si la tierra hubiera explotado”, dijo el conejo presa del pánico, y el ciervo también echó a correr. Ambos corrían aterrorizados cuando, en el camino, se encontraron con un mono, que…

Read more

Un granjero arrojó un lobo viejo, indefenso y aparentemente enfermo en medio de un rebaño de ovejas. El lobo estaba tan débil que ni siquiera podía mantenerse en pie. A pesar de esto, todo el rebaño entró en pánico por el miedo. El carnero más pesado del rebaño, que siempre permanecía en el centro para estar a salvo, se encontró de repente justo delante del lobo. Antes de que pudiera reaccionar, las mismas ovejas que estaban detrás de él, que solían estar cerca de él todos los días, lo empujaron para abrirse paso. La pata del carnero se rompió, pero no por la mordedura del lobo, sino al ser aplastado bajo las patas de sus propias compañeras, y se convirtió en la presa fácil para un lobo viejo y hambriento.Esta historia revela un hecho psicológico muy importante: cuando surge una crisis, los grupos y sociedades humanas comienzan a operar bajo…

Read more

ایک بار ایک دیہاتی شہر گیا وہ اس شہر کے بازار میں آیا اور زور زور سے پکارا”نوے اور پانچ سو“․․․․․نوے اور پنچ سو․․․․نوے اور پانچ سو․․․․․جو بھی دیہاتی کا یہ حساب سنتا وہ ہنس دیتا ایک شہری دیہاتی کے پاس آیا اور بولا”بھائی نوے اور پانچ سو نہیں ہوتے بلکہ نوے اور دس سو ہوتے ہیں مگر دیہاتی الٹا شہری کو غلط کہتے ہر بہ ضد تھا ادھر شہری کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا دونوں کی آپس میں نوے اور پانچ سو کی تکرار ہو رہی تھی۔ جب دونوں ہی اپنی اپنی ضد پر قائم رہے تو بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے کہ دیکھیں نوے اور پانچ سو والا کیا معاملہ ہے آخر وہ شہری ہار مانتے ہوئے بولا”اچھا پانچ تمہیں معاف کیے لاؤ پچانوے روپے ہی دے دو،دیہاتی یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا جس پر لوگ اسے طعنے دینے لگے…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کسی گاؤں کا چودھری بڑا لالچی تھا۔لالچ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا اور کردار و اخلاق انتہائی پست ہو گیا تھا۔وہ گاؤں کے کسی بھی شخص کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز دیکھتا تو اسے کسی بھی طریقے ہتھیا لیتا۔گاؤں والے اس کے رویے سے تنگ آ چکے تھے۔انھوں نے کئی بار گاؤں کے قاضی اور مسجد کے پیش امام سے بھی شکایتیں کیں جن کی باتیں چودھری بڑے غور سے سنتا تھا، لیکن ان کو ماننے اور عمل کرنے پر بالکل تیار نہ ہوتا تھا۔اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کسی کے پاس اچھی نسل کی گائیں، بھینس یا بکری، یہاں تک کہ مرغی ہی کیوں نہ ہو، وہ بے چارہ اس سے محروم ہو جاتا۔گاؤں والے اپنے اچھے سے اچھے جانور میں بھی کوئی نہ کوئی عیب نکالتے اور اسے سارے گاؤں میں مشہور کر دیتے تھے، تاکہ ان…

Read more

کسی گاؤں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز تھے۔ان کے گاؤں میں کوئی مہمان آجائے تو بہت آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کے گاؤں میں ایک مہمان آیا۔گاؤں والوں نے اس کے آگے طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر چُن دیے۔ساتھ ہی ایک بڑا سا ڈنڈا رکھ دیا۔مہمان کھانے دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔میزبانوں سے پوچھا:یہ ڈنڈا کیوں رکھا ہے؟“انھوں نے کہا:”یہ ہماری روایت ہے۔آپ ڈریں نہیں اور کھانا شروع کریں۔“مہمان اَڑ گیا کہ پہلے مجھے ڈنڈے کی حقیقت سے آگاہ کریں۔میزبان لاکھ قسمیں کھائیں کہ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا،لیکن مہمان نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔دل ہی دل میں وہ ڈر رہا تھا کہ کھانا کھلانے کے بعد یہ لوگ میری درگت بنائیں گے۔ مہمان کا کھانا کھانے سے انکار سن کر پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ایک بزرگ کو مہمان کے پاس لایا گیا کہ…

Read more

عربوں کے دلچسپ واقعات میں سے :   “عورتوں کا کہنا نہ مانو “ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کوئی جرم کیا تو قاضی نے اسے تین سزاؤں میں سے ایک چننے کو کہا:پہلی سزا: سو پیاز کھانادوسری سزا: سو کوڑے کھاناتیسری سزا: سو دینار ادا کرنا اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “پیاز کھا لو، یہ تو شہد کے برابر ہے۔”آدمی نے پیاز چن لیا، مگر پینسٹھویں پیاز کے بعد اس کی آنکھیں باہر آ گئیں اور اس نے اعلان کیا کہ وہ مزید نہیں کھا سکتا۔اس نے دوبارہ اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “اگر پیاز نہیں کھا سکتے تو ایک گھنٹے کا درد بہتر ہے روز روز کے درد سے۔”آدمی نے کوڑے چن لئے ۔جب کوڑے کی تعداد 72 تک پہنچی تو اس کے گھٹنے کانپنے لگے اور وہ چیخنے لگا: “بس کرو، میں مزید برداشت نہیں کر…

Read more

ایک ہتھنی اور ایک کتیا ایک ہی وقت میں حاملہ ہو گئیں۔تین مہینے بعد کتیا نے چھ بچے جنے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ چھ مہینے بعد، کتیا دوبارہ حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد اس نے درجنوں بچے جنے، لیکن ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور کتیا کے بارہ بچے ہو گئے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ اٹھارہ مہینے بعد، کتیا نے ہاتھنی کے قریب جا کر اس سے پوچھا،“کیا تمہیں یقین ہے کہ تم حاملہ ہو؟ ہم دونوں ایک ہی وقت میں حاملہ ہوئیں تھیں، میں تین بار دس دس بچے جن چکی ہوں اور وہ اب بڑے کتے بن گئے ہیں جبکہ تم ابھی تک حاملہ ہو، یہ کیا ماجرا ہے؟” ہتھنی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “ایک بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔جو کچھ میں اپنے اندر پال رہی ہوں وہ کوئی کتا نہیں بلکہ ہاتھی ہے۔…

Read more

کہتے ہیں ایک استاد کے پاس ایک شادی شدہ شاگرد پڑھتا تھا۔ 🙂💁‍♂️ استاد کی دو شادیاں تھیں، شاگرد کی ایک۔ استاد روز فخر سے کہتا:“ایک شادی میں کیا رکھا ھے؟ اصل مزہ تو دوسری شادی میں ھے!” 😏✌️ آخر شاگرد بھی استاد کی باتوں میں آ گیا اور دوسری شادی کر لی۔ 😄🙄 شادی کی پہلی رات دوستوں میں بیٹھا ذرا دیر سے گھر پہنچا۔ نئی دلہن نے دروازہ ھی نہ کھولا:“جاؤ! جہاں اتنی دیر بیٹھے تھے وھیں جاؤ!” 😒🙎 بیچارہ پہلی بیوی کے پاس گیا۔ وہاں سے جواب آیا:“جو نئی دلہن لائے ھو، اسی کے پاس جاؤ!” 😏😒 اب دونوں گھروں سے نکالا ھوا شاگرد سرد رات میں مسجد جا پہنچا۔ اندھیرے میں ایک صف پر کسی کے لیٹے ھونے کا احساس ھوا۔ 😳🤔 شاگرد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:“کون ھے؟” آواز آئی: “اوئے شیدیا… میں تیرا استاد آں!” 😄 شاگرد حیران:“استاد جی! تسی ایتھے؟” استاد نے لمبی آہ…

Read more

پرانے زمانے میں بخارا شہر میں ایک نہایت دانا اور انصاف پسند قاضی رہتے تھے، جنہیں لوگ محبت سے “قاضی فہیم” کہتے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شور، سختی یا ظلم کے بغیر صرف اپنی عقل و حکمت سے بڑے بڑے معاملات حل کر لیتے تھے۔ اسی لیے دور دراز سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اُن کے پاس آتے اور مطمئن ہو کر واپس جاتے۔اُسی زمانے میں بخارا کا بازار تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ دور دراز سے تاجر اپنی قیمتی اشیاء لے کر آتے، لیکن کچھ عرصے سے بازار میں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔کسی نہ کسی تاجر کی رقم، زیورات یا قیمتی سامان غائب ہو جاتا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔لوگ خوفزدہ تھے، ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا تھا، اور بازار کی رونق…

Read more

ﺍﯾﮏ دیہاتی ﮔﺎﺅﮞ ﺳﮯ ﺷﮩﺮ ﺟﺎ ﺑﺴﺎ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ  ﺍﯾﮏ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﺮﻏﯽ ﺭﻭﺯ ﺍﻧﮉﺍ ﺩﯾﺘﯽ تھی۔ ﻣﺮﻏﯽ نے ایک دن  ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯﺍﻧﮉﺍ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﮐﮯ گھر ﺟﺎ ﮐﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ دیہاتی ﮐﻮ ﺍﻧﮉﺍ ﻧﮧ ﻣﻼ تو اس نے ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻭﮐﯿﻞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ. ﻭﮐﯿﻞ ﻧﮯ کہا، ﺍﻧﮉﺍ تو ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ دے ﮔﺎ نہیں ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮉﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻠﮑﯿﺘﯽ ﺍﺭﺍﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻗﺎﻧﻮنا” ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ دیہاتی ﺑﻀﺪ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﮯ  ﺍﻧﮉﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ﺑﺎﺕ بڑھنے ﻟﮕﯽ تو  دیہاتی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻨﮉﻭ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﮑﺎ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ  ﻣﮑﮯ ﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺟﯿﺖ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻨﺎﺯﻋﮧ ﭼﯿﺰ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﻖ مان ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﮩﺮﯼ ﻭﮐﯿﻞ ﮨﭩﺎ ﮐﭩﺎ ﺗﮭﺎ، اس  ﻧﮯ دیہاتی…

Read more

کبھی کبھی زندگی میں ہونے والی سب سے بڑی تباہی کی شروعات کسی بہت چھوٹی سی غلطی سے ہوتی ہیں… کہا جاتا ہے کہ ایک قدیم سلطنت میں ایک بہت بڑا بازار لگا کرتا تھا۔ 🏘️ دور دراز علاقوں سے تاجر آتے، لوگ خریداری میں مصروف رہتے، بچے کھیلتے اور ہر طرف خوشحالی اور رونق کا سماں ہوتا۔ ایک دن ایک شہد فروش اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ رش کے دوران اس کے برتن سے شہد کی صرف ایک بوند زمین پر گر گئی۔ اس نے بے پروائی سے سوچا:“صرف ایک قطرہ ہی تو ہے، اس سے کیا فرق پڑے گا!”اور وہ اسے صاف کیے بغیر اپنے کام میں لگ گیا۔ چند ہی لمحوں بعد ایک مکھی اس شہد پر آ بیٹھی۔ 🐝 پھر دوسری، تیسری اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی مکھیاں وہاں جمع ہو گئیں۔ اسی دوران ایک مکڑی نے ایک مکھی کو پکڑنے کی کوشش کی۔ پھر ایک…

Read more

Read more

عدید جتنا عقل مند اور ذہین تھا اتنا ہی شریر اور من چلا بھی تھا وہ پن اور فن میں بہت ماہر تھا ۔بچے تو بچے بڑے بھی اس کے منہ لگنے سے گھبراتے تھے محلے والے اسے شیطان کا باپ کہا کرتے تھے بہت زیادہ بولتا تھا۔عدید جب بچوں اور بڑوں کو چھیڑتے چھیڑتے اکتا جاتا تو غلیل لے کر کسی باغ میں نکل جاتا اور ننھی منی چڑیوں کا شکار کھیل کر دل بہلاتا کہیں کسی بھی پرندے کا گھونسلہ نظر آجاتا تو جب تک اسے توڑ پھوڑ کر نیچے نہ پھینک دیتا تب تک اسے چین نہ آتا۔گھر میں چڑیاں یا کبوتر گھونسلہ بنا لیتے تو بیچاروں کی شامت آجاتی ۔اس کی والدہ اور دادا مجید اکثر اس کی چھترول کرتے لیکن وہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا سب محلے والے اس سے تنگ تھے اس کے دادا جی نے زمینوں پر مرغیاں رکھی…

Read more

نتھوایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے ماں باپ دوسرے خانہ بدوش قبیلے سے اس کی دلہن بیاہ کرلائے تھے۔ ان کادستور تھاکہ وہ دلہن کے بدلے جتنا پیسہ اس کے ماں باپ کواداکرتے دلہن کواتنا پیسہ کماکر سسرال والوں کوواپس کرتا ہوتا۔ نتھوکی دلہن کامنی کوسسرال آئے دس بارہ دن ہوگئے توساس نے اس سے کہا بس ری چھوری بہت ہوچکا دلہناپا،آج سے میرے ساتھ دھندے پرچلاکر۔ حکم کی دیرتھی کہ دلہن تیارہوگئی اور چھماچھم کرتی ساس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ان لوگوں کاپیشہ تھا کہ گلی محلوں میں ناچ گانا کرکے بھیک مانگتے تھے۔یہ دونوں جب قریب کی آبادی کے ایک محلے میں پہنچیں توساس نے دفلی کی تھاپ پرزور سے ہانک لگائی۔دف پرگھنگھروں کی آواز سن کربچے جمع ہوگئے۔ عورتیں دروازوں پر آکر جھانکنے لگیں۔نئی نویلی دلہن کولال رنگ کے گھاگرے اور چولی پرشیشوں کی کڑھائی والا چم چم کرتا دوپٹہ اوڑھے دیکھ کرایک گھر…

Read more

ایک مرتبہ ایک امیر شخص کسی مقدمے میں پھنس گیا۔اس کا مقدمہ ایک رشوت خور قاضی کی عدالت میں تھا۔وہ سوچنے لگا کہ قاضی کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے پر کیسے مجبور کروں؟ سوچتے سوچتے اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ترکی کی مٹھائی بہت منفرد انداز کی ہوتی ہے۔اس مٹھائی کے رنگ برنگے ٹکڑے دیکھنے والوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ان کا ذائقہ بھی پاکستانی مٹھائی سے بہت مختلف ہوتا ہے۔اس امیر آدمی نے چاندی کے ایک تھال میں بڑی خوبصورتی سے اس رنگ برنگی مٹھائی کے چالیس ٹکڑے سجائے اور ہر ٹکڑے کے نیچے سونے کی ایک اشرفی رکھ دی اور تھال قاضی کی خدمت میں بھیج دیا۔امیر آدمی کا ملازم جب یہ تھال لے کر قاضی کے دفتر پہنچا تو قاضی کے منشی نے وہ تھال وصول کیا۔ تھال میں رکھی مٹھائی دیکھ کر منشی کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے…

Read more

یہ گئے وقتوں کی بات ہے کسی شہر کا قاضی مرغی لینے بازار گیا دکان دار دکان بند کرچکا تھا وہ ایک گاہک کے لیے مرغی ذبح کرکے اس کا انتظار کررہا تھا قاضی صاحب نے کہا یہی مرغی دے دو۔“دکان دار نے کہا ،میں مرغی کے مالک کو کیا جواب دوں گا؟ قاضی صاحب نے کہا گاہک سے کہہ دینا مرغی اُڑ گئی بات بڑھے گی تو معاملہ میرے پاس ہی آئے گا،دکان دار نے مرغی قاضی کو دے دی کچھ ہی دیر میں وہ گاہک آن پہنچا جس کی مرغی تھی مرغی طلب کرنے پر دکان دار نے بتایا کہ مرغی اُرگئی ہے وہ نہ مانا اور دکان دار کو پکڑ کر قاضی کے پاس چل دیا راستے میں دو افراد جھگڑرہے تھے دکان دار بیچ بچاﺅ کرانے لگا تو اس کی انگلی لڑنے والوں میں سے ایک شخص کی آنکھ میں لگ گئی جس سے اس کی…

Read more

سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…

Read more

میاں کرم دین بزرگ آدمی تھے اور طویل عرصے سے چودھری نواز کے اصطبل میں ملازم تھے،جہاں جانوروں کی رکھوالی،ان کے کھانے پینے اور صفائی ستھرائی کا بے حد خیال رکھتے تھے۔چودھری صاحب بہت رحم دل انسان تھے۔گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے جانوروں سے بھی بہت محبت کرتے تھے اور ان کو کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔جانور بھی ان کی بات سمجھتے تھے۔ایک دن کرم دین نے آ کر چودھری صاحب کو بتایا کہ ان کی پسندیدہ گائے بھوری چارا نہیں کھا رہی ہے۔چودھری صاحب تڑپ کر اُٹھے اور حکم دیا کہ جا کر حکیم صاحب کو لے آئے۔وہ خود بڑی دیر تک بھوری کو پچکارتے رہے،مگر اس نے چارے کی طرف دیکھا تک نہیں۔اس دوران حکیم صاحب بھی پہنچ گئے۔ انھوں نے بھوری کا مکمل معائنہ کیا اور بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے،نہ جانے کیا وجہ ہے۔ حکیم صاحب نے کرم دین سے…

Read more

360/3775
NZ's Corner