زلزلہ کس نے روکا –
بہت عرصہ پہلے بحیرہ عرب کے کنارے واقع ناریل کے درختوں کی جھنڈ میں ایک پیارا سا سفید خرگوش رہتا تھا،جو بہت وہمی تھا۔ایک دن اپنا کھانا بل میں رکھتے ہوئے اس نے سوچا کہ اگر زلزلہ آ جائے تو میرا کیا ہو گا؟پھر تو میں دراڑوں میں دب کر مر جاؤں گا۔یہ سوچ کر وہ بڑا فکرمند ہوا۔اتفاق سے اسی لمحے ایک پکا ہوا ناریل درخت سے ٹوٹ کر نیچے گرا۔ناریل کے گرنے کی آواز سن کر وہمی خرگوش نے ہوا میں چھلانگ لگا دی۔اسے یقین ہو گیا کہ زلزلہ آ گیا ہے اور زمین پھٹ رہی ہے۔اس لئے وہ پیچھے دیکھے بغیر بھاگتا چلا گیا۔راستے میں اسے ایک اور خرگوش ملا،جس نے اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی۔”بھئی!تم اتنی تیزی سے کہاں بھاگے جا رہے ہو؟خیر تو ہے؟“”مت پوچھو بس یوں سمجھو،غضب ہو گیا ہے۔ “اس نے بھاگتے ہوئے کہا۔”مگر ہوا کیا؟کچھ تو پتا چلے!“دوسرے خرگوش نے اس…
میاں کنجوس –
کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رُخ کرتا ہے،مگر جب میاں کنجوس کی شامت آئی تو ان کی بیوی نے ان سے آموں کی فرمائش کر دی۔میاں کنجوس کا اصل نام حامد خاں تھا،مگر محلے کا ہر چھوٹا بڑا کنجوسی کی وجہ سے ان کو ’میاں کنجوس‘ کہتا تھا۔خیر،میاں کنجوس نے فرمائش سن تو لی،پھر بہت ہمت کرکے اپنے صندوق میں سے کچھ پیسے نکالے اور بہت شان سے اپنی جیب میں رکھ کر بازار کا رُخ کیا۔ سب سے پہلے ایک آم والے کے پاس پہنچے اور دام معلوم کیا تو پتا چلا ڈیڑھ سو روپے کلو․․․․یہ سنتے ہی میاں کنجوس کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولے:”ارے بھئی،اتنے مہنگے!کچھ تو کم کرو۔“یہ سن کر آم والے نے جواب دیا:”اس سے سستے لینے ہیں تو آگے جاؤ۔ “میاں کنجوس فوراً آگے ہو لیے۔آگے چل کر دام دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آم ڈیڑھ…
بھالو اور لومڑی –
بھالو میاں اکثر بی لومڑی کی چالاکیوں کا شکار رہتے تھے۔آج بھی ایسا ہی ہوا بی لومڑی نے اطلاع دی کہ ادھر جھونپڑی میں نئے سیاح آئے ہیں ان کے پاس شہد کے جار ہیں تمہارے تو مزے ہو جائیں گے۔وہ بیچارہ لالچ میں اس طرف نکل گیا جس طرف کا لومڑی نے بتایا تھا لیکن کچھ دور جا کر اسے اندازہ ہوا وہ پھر اس کی چال میں آ گیا ہے کیونکہ دور دور تک کسی جھونپڑی کا نام و نشان تک نہ تھا اس کے پاؤں بھی زخمی ہوئے کیونکہ راستے میں کانٹے تھے۔آج اس کو لومڑی پر بہت غصہ آیا اور اس نے ارادہ کیا اب وہ اس سے ضرور بدلہ لے گا۔شام کو وہ اپنے دوست ہاتھی کے پاس گیا اور تمام ماجرا سنایا اس نے بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور مل کر لومڑی کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا۔ جنگل میں ہر روز…
شیخ چلی کے خیالی پلاؤ
کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی جس کا ایک ہی بیٹا تھا،جس کا نام چلی تھا۔وہ بہت کام چور،بے وقوف،سست اور کاہل تھا۔اسے بس ایک ہی کام آتا تھا،شیخی بگھارنے کا۔جہاں چند لوگوں کو اکٹھے بیٹھے دیکھتا،ان کے قریب جا کر خود بھی بیٹھ جاتا اور انہیں گفتگو کا موقع دیئے بغیر اپنے جھوٹے سچے کارنامے بیان کرنے لگتا۔گاؤں کے لوگ اس کی اس عادت سے بہت تنگ تھے اور اس کا نام ہی”شیخ چلی“ رکھ دیا تھا۔وہ اپنے نام کی طرح بڑے بڑے خیالی منصوبے بناتا لیکن کسی پر عمل نہیں کرتا۔ایک دن اس کے ”خیالی پلاؤ“ پکانے کی عادت سے چڑ کر ایک شخص نے اس سے کہا:”شیخ صاحب!آپ اتنے بڑے منصوبے کیوں بناتے ہیں؟آپ نے ایک ہفتے بعد اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے،اپنی موت کا خیال کریں“۔ یہ سننا تھا کہ بے وقوف شیخ چلی کو ایک ہفتے بعد اپنی موت کا یقین ہو…
مزاج بخیر
مزاج بخیر سہیل بھائی جان کو بہت اچھی ملازمت مل گئی تھی، جس کی خوشی میں امی نے خاندان بھر میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ابو جی کے کہنے پر ہم شاہدہ خالہ کے ہاں بھی مٹھائی لے کر گئے۔ امی کے ساتھ چند دن پہلے ہی ان کی کسی بات پرنوک جھونک ہو گئی بلکہ بات بڑھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ دونوں ہی نے جینا مرناختم کرنے کی قسم کھا لی تھی۔ خاندان کے کچھ لوگ امی کی طرف داری میں اور کچھ شا ہد ہ خا لہ کی حمایت میں تھے۔جب ہم دونوں بھائی میٹھائی لے کر گئے تو نہ صرف انھوں نے مٹھائی لینے سے انکار کر دیا ، بلکہ غصے میں باتیں بھی سنائیں :” لے جاوٴ یہ مٹھائی۔ اس سے بہتر ہے کہ میں زہر کھالوں۔“ وہ غصے سے بولیں اور ہم سر جھکائے باہر نکل آئے۔ منے ! اگر یہ…
حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں
حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں“ مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص تھوڑا سا علم حاصل کر کے خود کو بہت قابل سمجھے اور جب اس علم پر عمل کرنے بیٹھے تو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھائے، مگر نقصان کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئے۔اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک صاحب زادے نے حساب کا علم سیکھنا شروع کیا۔ایک روز استاد نے اوسط کا قاعدہ بتایا۔انہوں نے اسے رٹ لیا۔شام کو گھر گئے تو گھر والے دریا پار جانے کو تیار بیٹھے تھے۔یہ بھی ساتھ ہو لیے۔جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ دریا کناروں سے دو دو فٹ گہرا ہے اور درمیان میں آٹھ فٹ تو فوراً دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو…
جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ۔۔
انسان کی زندگی ایک خوبصورت اور مسلسل سفر ہے، لیکن اس سفر میں ہر موڑ پر ہمارا سامنا مختلف رویوں سے ہوتا ہے۰ بعض لوگ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ بعض اپنی منفی سوچ اور کم ظرفی سے ہمیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۰ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے؟ نفسیات کے مطابق، انسان کا غصہ اور انا (ego) اکثر اسے ان لڑائیوں میں دھکیل دیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۰ عقلمند اور کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو ہر میدان میں کود پڑیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کون سی جگہ ان کےلیے بہتر ہےاور کہاں خاموشی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۰ اس بات کو سمجھنے کے لیے جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ ایک بہترین مثال ہے۰ ایک بار ایک طاقتور شیر نہایت سکون کے ساتھ…
خرگوش کی غلط فہمی –
سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…
بلاعنوان
ایک کسان نے ایک بوڑھے، بے بس اور بظاہر بیمار بھیڑیے کو بھیڑوں کے ریوڑ کے عین درمیان میں پھینک دیا، بھیڑیا اتنا کمزور تھا کہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۰ اس کے باوجود پورے ریوڑ میں ڈر کی وجہ سےشدید افرا تفری پھیل گئی۰ ریوڑ میں سب سے وزنی مینڈھا، جو ہمیشہ محفوظ رہنے کے لیے ریوڑ کے مرکز میں رہتا تھا، اچانک خود کو بھیڑیے کے بالکل سامنے کھڑا پاتا ہے۰ اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اس کے پیچھے موجود وہی بھیڑیں، جو روزانہ اس کے ساتھ چمٹ کر کھڑی ہوتی تھیں، اپنے لیے راستہ بنانے کی خاطر بھیڑیے کی طرف دھکیل دیتی ہیں۰ مینڈھے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، لیکن بھیڑیے کے کاٹنے سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے ساتھیوں کے سموں تلے کچلے جانے کی وجہ سے اور وہ ایک بوڑھے ییمار بھیڑیے کی آسان ترین خوراک بن جاتا ہے۰ یہ کہانی ایک…
Estúpido burro
Se cuenta que un hombre tenía un perro precioso. Lo quería muchísimo. Lo sentaba a su lado y le daba de comer. El perro siempre lo seguía, moviendo la cola, y adondequiera que iba, lo acompañaba. El hombre también tenía un burro que cargaba todo el día y dormía solo por la noche. Un día, el burro metió la boca por la ventana y miró dentro de la habitación del dueño. Se sorprendió al ver que el perro comía felizmente y que el dueño estaba sentado a su lado, acariciándolo. El burro estaba enojado y pensó: “¿Por qué mi dueño quiere tanto a este perro? Trabajo duro todo el día y el perro solo mueve la cola y salta de un lado a otro”. Pensó: “Si yo también empiezo a saltar y a mover la cola como un perro, ¿mi dueño me querrá igual?”. Pensando esto, el burro resopló y…
Robo de ratas
Mirza Anwar era un alto funcionario del gobierno, pero su especialidad era su disposición a participar en buenas obras y su generosidad. Un día, asistía a una boda con su familia. En el salón de bodas, su esposa recordó, con prisas, que había olvidado su collar de oro en el tocador. Inmediatamente se lo comentó a Mirza Sahib, quien respondió con despreocupación: He cerrado todas las habitaciones con llave y hay un vigilante en la puerta principal. No se preocupe, su collar estará en el tocador. No se moverá de ahí. Al llegar a casa después de la boda, el collar no estaba en el tocador. Al verlo, ambos se preocuparon y registraron toda la habitación, pero no lo encontraron. Le preguntaron al vigilante si alguien había entrado después de ellos. El vigilante respondió: “¡Nadie ha entrado, señor!”.Anwar Sahib confiaba plenamente en el vigilante, pues era su antiguo empleado.Tras pensarlo…
Josie
En lo profundo del Parque Nacional Addo Elephant de Sudáfrica, vivía una leona llamada Jozi. Pasó muchos años cazando y protegiendo a su familia. Pero al envejecer, algo triste sucedió: Jozi fue perdiendo la vista gradualmente. En la naturaleza, una leona ciega no suele sobrevivir mucho tiempo, ya que le resulta casi imposible cazar y escapar de los peligros. Pero Jozi no estaba sola. Sus dos hijas, Dawn y Duffy, se negaron a abandonarla. En lugar de dejar que su madre sufriera, la cuidaron a diario. Se convirtieron en las cazadoras de la familia, persiguiendo y capturando cebras, kudúes e incluso imponentes búfalos. Tras cada cacería exitosa, llamaban a Jozi para que las encontrara y compartiera la comida. Las hermanas permanecieron cerca de su madre, dondequiera que fuera. La guiaban mientras caminaba por las praderas y la protegían de otros leones y depredadores. Su amor y lealtad permitieron que Jozi…
Agua mágica –
بہت دنوں کی بات ہے کہ جنگل میں ایک لکڑہاراور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ دونوں بہت بوڑھے اور غریب تھے۔ لکڑہار ادن بھرکلہاڑی سے لکڑیاں کاٹتا اور شام کو انہیں شہر میں بچ آتا تھا۔ لکڑہار کی بیوی گھر کا کام کاج کرتی تھی۔ایک دن لکڑہارے جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہاتھا۔ کہ اسے بہت زور کی پیاس لگی۔ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ کہ کوئی کنواں یا تالاب نظرآئے تووہاں جا کر پانی پی لوں مگر جب کوئی کنواں یا تالاب نظر نہ آیا تو اس نے کلہاڑی ہاتھ سے رکھ دی۔ اور پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر پھرنے لگا۔تھوڑی دیر میں اُسے ایک تالاب مل گیا۔ جسے اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ تالاب صاف اور ٹھنڈے پانی سے بھرا ہواتھا۔ پانی کودیکھ کر بوڑھے لکڑہارے کی جان میں جان آئی۔اس نے تالاب کے کنارے بیٹھ کر دو تین چلو پانی کے پئے۔خدا کی قدرت! پانی…
Chica dorada y oso –
Había una hermosa niña que vivía al borde de un bosque. Era tan hermosa como su cabello. Todos la llamaban “Ricitos de Oro” por sus mechones dorados. Cada mañana, cuando su madre le peinaba el cabello, decía: “Mi querida Ricitos de Oro es tan hermosa, brillante y preciosa, como mechones de oro”. Un día, Ricitos de Oro salió a dar un paseo matutino y se dirigió al bosque. Los pájaros cantaban y las flores florecían. Le gustaban mucho los pájaros posados en los árboles y se adentró más en el bosque. Mientras caminaba, se dio cuenta de que se había perdido. No tenía ni idea de cómo salir del bosque y volver a casa.Miró a su alrededor cuando vio humo que salía de los árboles. Corrió hacia allí y vio una casita pequeña y bonita entre los árboles. Puso la mano en la puerta y esta se abrió. Al entrar,…
بلاعنوان 😂
ایک صاحب بیگم کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو دو تین نوالے کھانے کے بعد بولے: “یہ آج کیا پکا دیا ھے؟ نہ گوشت گلا ھے، نہ سبزی! مجھ سے تو یہ کھانا کھایا ھی نہیں جا رہا!” 🤔😒 بیگم فوراً بولیں: “غلطی اپنی اور غصہ مُجھ پر؟ یہ کھانا تو میرے گلے سے بھی نہیں اتر رہا!” 😕😡 شوہر حیران ھو کر بولا: “میری غلطی؟ کیا کھانا میں نے پکایا ھے؟” بیگم نے جواب دیا: “کھانا پکانے کی کتاب آپ ھی تو لائے تھے! میں نے اسی میں لکھی ترکیب سے یہ ڈش بنائی ھے۔” پھر فخر سے بولیں: “ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، لیکن ھم دو تھے، اس لیے میں نے ہر چیز آدھی کر دی…” شوہر نے کہا: “اچھا، پھر؟” بیگم بولیں: “میں نے احتیاط کی انتہا کر دی، مصالحے آدھے، تیل آدھا، پانی آدھا…” تھوڑی دیر رک کر فاتحانہ انداز میں بولیں: “اور پکانے کا…
Intitulado
Érase una vez una pata que vivía junto al río. Como tenía un caparazón blando, siempre estaba enferma. Un día, su salud empeoró y fue al médico. El médico le dijo que su enfermedad era grave y que pronto moriría. Se quedó horrorizada al oír esto, pues tenía un huevo. Temía qué pasaría con el huevo del que pronto nacería el polluelo si moría, y quién cuidaría de él. Así que fue a ver a todos sus amigos que vivían en el bosque y les contó todo lo que tenía que decir, pero nadie quiso ayudarla. La pobre pata les rogó que, por favor, le dieran su sombra a su polluelo después de su muerte, pero nadie la escuchó. ¿Qué podía hacer la pobre pata? Pensó: “¿Por qué no ir con mi hermano, el gallo? Seguro que él me ayudará”. Así que fue con el gallo y le contó toda…
Todo el reino a cambio de una noche.
Se cuenta que un rey enfermó gravemente. Convencido de que no había vuelta atrás, hizo un extraño anuncio entre sus súbditos: Quien esté dispuesto a pasar una noche en mi tumba después de mi muerte, recibirá todo mi reino, mis tesoros y mi reino. En cuanto se hizo el anuncio, todo el país se llenó de miedo. Todos amaban el reino, pero una noche en la tumba… la sola idea bastaba para hacer temblar a la gente. Nadie se atrevía a dar un paso al frente. En ese momento, un pobre alfarero se ofreció. Había vivido en la pobreza toda su vida. No tenía tierras, ni palacio, ni tesoros, ni sirvientes. Su único universo era un burro, con el que se ganaba la vida cargando mercancías. Pensó:¿De qué tengo miedo? No tengo nada. Tengo un burro, y eso es todo. Todo el reino a cambio de una noche… ¿qué mejor…
اتفاق کی بات –
شیدا ایک بھولا بھالا سا انسان تھا۔آج وہ اپنی بیوی کو لینے اس کے گاؤں جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے دیکھا۔خیر وہ اپنے سسرال پہنچا۔بیوی کے بھائی نے اسے بیٹھک میں بیٹھا دیا۔اتنے میں ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ بھائی! میرے گدھے گم ہو گئے ہیں۔اگر آپ نے دیکھے ہوں تو بتائیے۔ شیدے نے فوراً کہا کہ ہاں میں نے فلاں جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے ہوئے دیکھا ہے۔وہ آدمی دوڑتا ہوا چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ آدمی دوبارہ آیا اور کہا کہ آپ تو عظیم آدمی ہیں۔آپ نے جس جگہ بتایا تھا، ٹھیک اسی جگہ گدھے موجود ہیں، پھر وہ چلا گیا۔اب روٹیاں پکنی شروع ہوئیں۔چونکہ وہ باورچی خانے کے قریب ہی کمرے میں بیٹھا تھا، اس لئے اسے روٹیوں کے تھپ تھپ کی آواز سنائی دی۔ اس آواز سے وہ روٹیاں گننے لگا۔جب اسے کھانا پیش کیا…
چوہے کی چوری –
مرزا انور بڑے سرکاری افسر تھے،لیکن نیکی کے کاموں میں حصہ لینا اور سخاوت ان کی خصوصیت تھی۔ایک دن وہ گھر والوں کے ساتھ شادی کی تقریب میں شریک تھے۔شادی ہال میں ان کی بیوی کو یاد آیا کہ وہ تو جلدی جلدی میں سونے کا ہار سنگھار میز پر ہی بھول آئی ہیں۔انھوں نے فوراً مرزا صاحب سے کہا تو انھوں نے بے فکری کے انداز میں جواب دیا۔سارے کمروں کو اپنے ہاتھ سے بند کرکے آیا ہوں اور بڑے گیٹ پر چوکیدار موجود ہے۔بے فکر ہو جاؤ،تمہارا ہار میز پر ہی ہو گا۔وہاں سے کہیں نہیں جائے گا۔شادی کی تقریب کے بعد جب گھر پہنچے تو سنگھار میز پر ہار موجود نہیں تھا۔یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئے اور سارا کمرہ چھان مارا،لیکن ہار نہیں ملا۔ چوکیدار سے معلوم کیا کہ ہمارے بعد کوئی آیا تو نہیں تھا۔ چوکیدار نے جواب دیا:”کوئی نہیں آیا تھا صاحب․․․!“انور صاحب…
بیوقوف گد ھا
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا اُس کتے سے بہت پیار کرتا تھا وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلاتا کتا بھی ہر وقت اسکے پیچھے پیچھے دم ہلاتا پھرتا اور جہاں وہ جاتا ساتھ ہو لیتا آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا جو دن بھر بوجھ اُٹھاتا اور رات کو اکیلا جگہ پر پڑارہتا ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر مالک کے کمرے میں جھانکا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کتا مزے سے کھاناکھارہا تھا اور مالک پاس بیٹھا اسے چمکا رہا تھا گدھا اسے دیکھ کر جل گیا اور دل میں کہنے لگا آخر میرا مالک اس کتے کو اتنا پیار کیوں کرتا ہے میں دن بھر سخت محنت کرتا ہوں اور کتاصرف دم ہلاتا ادھر اُدھر اُچھلتا کودتا ہے اس نے سوچا کہ اگر میں بھی کتے کی طرح اُچھلنے کودنے اور…