Author Archives: NZ's Collection

Un rey de Irán apreciaba mucho la compañía de sabios y hombres sabios. En una ocasión, llamó a su corte a un famoso sabio de un país lejano y le ordenó que compilara un libro de medicina en el que se registraran los métodos para tratar todas las enfermedades en un lenguaje muy sencillo, para que la gente común, incluso los niños, pudieran leerlo y curarse a sí mismos. El sabio escribió un libro de gran calidad, cumpliendo con la orden del rey. El rey quedó muy impresionado con el libro y recompensó al sabio con millones de rupias. Tiempo después, el sabio murió y su hijo fue nombrado sabio real. Era tan inteligente y servicial como su padre, por lo que el rey estaba muy contento con él. Un día, el rey estaba leyendo el mismo libro cuando sus ojos se posaron en una frase: **”Si una persona consume…

Read more

Un hombre tacaño encontró una lámpara mágica. Al frotarla, apareció el genio. 😳 Genio: “Pide tres deseos, pero con la condición de que lo que pidas, tu vecino recibirá el doble”. El avaro pensó: “¡De acuerdo, vamos!”. Primer deseo: “¡Dame 10 millones!”. Genio: “¡Eso es!”. De repente, llegó la noticia de que el vecino había recibido 20 millones. 😳 Segundo deseo: “¡Dame un coche de lujo!”. Genio: “¡Toma esto!”. ¡Pero no uno, sino dos coches llegaron a casa del vecino! 🚗🚗 El avaro se puso rojo de rabia. 😡 Al pedir el tercer deseo, dijo: “¡Oh, genio! ¡Sácame un ojo!”. 👁️ El genio se sorprendió: “¿Estás loco?”. El avaro dijo: “Estoy de acuerdo… ¡dejemos ciego al vecino!” 😂🤣 > “Hay gente en nuestra sociedad que sacrificaría un ojo con tal de que su vecino pierda los dos.” 😂😆

ایک کنجوس آدمی کو ایک جادوئی چراغ ملا۔ رگڑتے ھی جن حاضر ھو گیا۔ 😳 جن: “تین خواہشیں مانگو، مگر شرط یہ ھے کہ تمہیں جو ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” کنجوس نے سوچا: “چلو ٹھیک ھے!” پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” اچانک خبر آئی کہ پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے۔ 😳 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” لیکن پڑوسی کے گھر ایک نہیں، دو گاڑیاں پہنچ گئیں! 🚗🚗 اب کنجوس غصے سے لال ھو گیا۔ 😡 تیسری خواہش پر بولا: “اے جن! میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن حیران ھو گیا: “تم پاگل ھو گئے ھو؟” کنجوس بولا: “مجھے منظور ھے… بس پڑوسی اندھا ھو جانا چاہیے!” 😂🤣 > “ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی ایک آنکھ قربان کر دیں گے، بس پڑوسی کی دونوں چلی جائیں!” 😂😆

ایران کے ایک بادشاہ کو حکیموں اور دانشمندوں کی صحبت کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک بار ایک دور دراز ملک کے مشہور حکیم کو اپنے دربار میں بلایا اور حکم دیا کہ وہ طب پر ایک ایسی کتاب مرتب کرے جس میں تمام بیماریوں کے علاج کے طریقے نہایت سادہ زبان میں درج ہوں، تاکہ عام آدمی، یہاں تک کہ بچے بھی اسے پڑھ کر اپنا علاج خود کر سکیں۔ حکیم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ایک نہایت اعلیٰ درجے کی کتاب لکھی۔ بادشاہ اس کتاب سے بے حد متاثر ہوا اور حکیم کو لاکھوں روپے انعام سے نوازا۔کچھ عرصے بعد حکیم کا انتقال ہو گیا تو اس کا بیٹا بادشاہی حکیم مقرر ہوا۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح ذہین اور خدمت گزار تھا، اس لیے بادشاہ اس سے بہت خوش رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ وہی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…

Read more

ایک گاوں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام میک تھا ۔ اس کا باپ کھیتی باڑئ کرتا تھا جو کہ بہت محنت اور مشقت کا کام تھا میک سکول پڑھنے جاتا ۔ اور سکول سے واپس أکر اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ پھرتا ۔ اور کھیل کود میں وقت گزارتا ۔ اس کے باپ  نے سوچا کہ سکول سے پڑھنے کے بعد میک کو کسی کام میں مصروف رکھا جاے ۔ اور کھیل کود کے ساتھ کچھ سیکھنے کو بھی مل جاے ۔ میک کے باپ میک کو مرغی خرید کر دئ ۔ اور اسے اس کی دیکھ بھال کرنے کو کہا  میک نے مرغی کے لیے ایک خوبصورت ڈربہ بنایا ۔ میک سکول سے گھر أنے کے بعد مرغی کو دانہ کھلاتا اور اسے پانی پلاتا۔ وقت گزرتا گیا ۔  میک کو جو پیسے ان میں کچھ خرچ کرتا اور باقی پیسوں سے مرغی کے لیے دانہ خریدتا…

Read more

کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے قریب ایک بوڑھا چوکیدار رہتا تھا جو راتوں کو کان کے دروازے پر پہرہ دیتا۔ کہا جاتا کہ کان کی گہرائیوں میں ایک پراسرار مخلوق بستی ہے جو لالچی کان کنوں کو بھٹکا دیتی ہے۔ ایک نوجوان کان کن، جو زیادہ نمک نکال کر جلد امیر ہونا چاہتا تھا، رات کو چھپ کر بند کان میں گھس گیا۔ گہرائی میں جاتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور راستے آپس میں گڈمڈ ہونے لگے، جیسے کوئی جان بوجھ کر اسے بھٹکا رہا ہو۔نوجوان کا سانس پھولنے لگا اور خوف سے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ اسے اپنی نانی کی نصیحت یاد آئی کہ ایسی حالت میں سورۃ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھو۔ اس نے کانپتی آواز میں تلاوت شروع کی۔ آہستہ آہستہ اسے دور سے دروازے کی جانب سے ہلکی روشنی نظر آنے لگی، اور وہی راستہ جو کچھ دیر پہلے تک گم تھا، اب صاف…

Read more

پرانے بازار میں، ہر جمعرات کی شام، ایک عجیب سوداگر نمودار ہوتا جو نایاب اور خوبصورت اشیاء نہایت کم قیمت پر بیچتا۔ لوگ للچا کر اس سے سودا کرتے، مگر جو بھی اس سے کوئی چیز خریدتا، اگلے دن اس کے گھر میں کوئی نہ کوئی نقصان یا جھگڑا ضرور ہو جاتا۔ ایک بزرگ نے یہ بات محسوس کی اور غور کرنا شروع کیا۔ایک جمعرات، ایک بزرگ نے جان بوجھ کر اس سوداگر کے پاس گئے اور اس سے سودا کرنے سے پہلے بلند آواز سے “بسم اللہ” پڑھی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ کلمہ کہا، سوداگر کا چہرہ بگڑ گیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ بزرگ نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔ انہوں نے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوداگر اپنے اسٹال سمیت دھویں کی طرح غائب ہو گیا، اور اس کی جگہ صرف خالی زمین رہ…

Read more

Read more

ایک شیر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا۔اس نے کہا۔”فکر نہ کرو،میں اس کا بندوبست کر دوں گی۔یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لئے آنے والے جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹاتا رہتا۔ایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لئے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔اتفاقاً اس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا۔اس نے لومڑی سے کہا۔”باہر کیوں کھڑی ہو،اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔”لومڑی نے چالاکی سے جواب دیا۔”نہیں میں اندر نہیں آ سکتی۔میں یہاں…

Read more

ایک عقاب بادلوں کو چیرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا اور اس کا چکر لگا کر ایک صدیوں پرانے دیودار کے درخت پر جا بیٹھا۔وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا، اس کی خوبصورتی میں وہ محو ہو گیا۔اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک تصویر کی طرح سامنے کھلی رکھی ہے۔کہیں پر دریا میدانوں میں چکر لگاتے ہوئے بہہ رہے ہیں۔کہیں پرجھیلیں اور اُن کے آس پاس درختوں کے کنج پھولوں سے لدے ہوئے بہار کی پوشاک میں رونق افروز ہیں۔عقاب نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ”اے اللہ میں تیرا کہاں تک شکر ادا کروں۔تو نے مجھے اڑنے کی ایسی طاقت دی ہے کہ دنیا میں کوئی بلندی نہیں ہے، جہاں میں پہنچ نہ سکوں، میں فطرت کے منظروں کا لطف ایسی جگہ بیٹھ کر اٹھا سکتا ہوں جہاں کسی اور کی پہنچ نہیں۔“ایک مکڑی درخت کی ایک…

Read more

ایک مرتبہ ایک فقیر کسی میدان سے گزر رہا تھا۔اسے دو سوداگر نظر آئے۔اس نے سوداگروں سے پوچھا:”بھائیو!کیا تمہارا اونٹ کھو گیا ہے؟“سوداگر خوش ہوئے اور بولے،”تم نے دیکھا ہے کیا؟“فقیر نے کہا،”کانا تو نہیں تھا اور دائیں پیر سے لنگڑا تو نہیں تھا؟“ان سوداگروں کو یقین ہو گیا کہ اس نے اونٹ دیکھا ہے،لہٰذا اسی سے معلوم کیا جائے۔وہ کہنے لگے،”بھائی یہ حقیقت ہے کہ وہ کانا اور لنگڑا تھا،مگر وہ گیا کہاں؟“فقیر نے اسی لہجے میں کہا،”آگے والا دانت ٹوٹا ہوا تو نہیں تھا؟“سوداگر جلدی سے بولے،”یہی جناب یہی،اللہ کے واسطے پتا بتا دو۔کہاں دیکھا تھا؟“فقیر نے ایک مرتبہ پھر اسی انداز میں کہا،”ایک طرف شہد کے ڈبے اور دوسری طرف گندم کی بوری لدی ہوئی تھی۔“اب دونوں کو پکا یقین ہو گیا۔کہنے لگے،”فقیر بابا!اب جلدی سے ہمیں چل کر بتائیے کہ اونٹ کہاں ہے“؟“فقیر نے کہا،بھائی!اگر سچ پوچھو تو نہ میں نے تمہارے اونٹ کو دیکھا ہے…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے ہندوستان پر اس وقت کے راجہ مہاراجے حکومت کیا کرتے تھے ۔ ایک ہندو راجے نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا، وہ ایک ظالم بادشاہ تھا،بات بات پر وزیروں کو قتل کروادیا کرتا تھا۔ اُس کا ایک وزیر ایک عقلمند اور رحمدل شخص تھا ، وہ رعایا سے نیک سکول کرتا تھا اور اُن کی مدد بھی کرتا تھا۔وہ ایک مرتبہ دریا کی دوسری طرف جانے کیلئے دریا پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کے ایک ملاح نئی کشتی لئے اُس کے استقبال کیلئے موجود ہے۔ جب وہ دوسری طرف پہنچا تو وزیر نے دیکھا کہ بادشاہ کے ہر کارے کشتی پر قبضہ کرنے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ وزیر نے ملاح کی کشتی ان سے بچا لی تو وہ وزیر کا شکریہ کرتے ہوئے واپس لوٹ گیا۔کچھ عرصے بعد کسی نے اس مسئلہ پر وزیر کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے۔…

Read more

 عرب میں اسلام سے پہلے جہاں ہر طرف برائیاں ہی برائیاں تھیں وہاں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔جن میں سے ایک حاتم بھی تھا۔حاتم کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے اگر مبالغہ نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ حاتم کی سخاوت ضرب المثل ہے۔اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت مثالی ہے،اُن کے بارے میں بے شمار واقعات مشہور ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت عثمان غنی کے مال وزر اور عطیات وسخاوت کی وجہ سے اسلام کے پھیلاؤ میں بڑی سہولت پیدا ہوئی۔حاتم کا تعلق”طے“نامی ایک قبیلے سے تھا۔اِسی کی نسبت سے اُسے حاتم طائی کہا جاتا ہے۔وہ یمن کا حکمران تھا۔یمن کا علاقہ عرب سے جڑا ہوا تھا۔عرب پر اُن دنوں نوفل نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ وہ حاتم کی سخاوت اور علاقے میں مقبولیت سے بہت پریشان تھا۔ اُس کی سخاوت سے محض یمن کے…

Read more

کسی باغ کے ایک گھنے درخت پر ایک فاختہ نے اپنا گھونسلہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی اور اُن کو دانہ دنکا بھی چگاتی تھی ۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اب اُن بچوں کے بال وپر بھی نکلنے لگے تھے۔ ایک روز فاختہ کو اُسکے بچوں نے بڑی پریشانی کے عالم میں یہ بتایا؛ ” ماں ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارا گھونسلہ برباد ہونے والا ہے ، آج اس باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آیا تھا او ر اُس سے کہہ رہا تھا کہ اب پھل توڑنے کا زمانہ آگیا ہے ، کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور اُن کی مدد سے اِس درخت کے پھل توڑوں گا۔میرے بازو میں تکلیف ہے اسلئے یہ کام تنہا نہیں کرسکتا، مجھے اپنے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہوگی“ یہ سُن کو فاختہ نے بچوں کو…

Read more

Read more

ایک دن گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوچا: > “آج شہر جا کے بڑے لوگوں والا کھانا کھایا جائے!” 😎سو سیدھے ایک مہنگے سے فائیو اسٹار ہوٹل جا پہنچے۔ 🏨 ویٹر نے مینیو کارڈ سامنے رکھا۔چوہدری صاحب نے مینیو کھولا۔ پہلا صفحہ انگریزی میں…دوسرا صفحہ انگریزی میں…تیسرا بھی انگریزی میں! 😵 اب چوہدری صاحب اپنی کم علمی ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے رعب سے انگلی ایک جگہ رکھی اور بولے:> “اوئے پُتر! بس ایہہ لے آؤ!” 😏 چند منٹ بعد ویٹر ایک پیالہ لے آیا، جس میں گرم پانی اور ایک لیموں کا ٹکڑا تیر رہا تھا۔ 🍋 چوہدری صاحب نے دل میں سوچا:> “واہ بھئی واہ! شہر والوں کے سوپ بھی کتنے نفیس ہوتے ھیں!” 😂 انہوں نے لیموں نچوڑا…چمچ اٹھایا…اور پورا “سوپ” مزے لے لے کر پی گئے۔ 😋 ویٹر کچھ دیر بعد آیا اور ادب سے پوچھا:> “سر! کیسا لگا؟” چوہدری صاحب نے مونچھوں…

Read more

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی شہر میں امانت نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ  غلہ فروشی کا کام کرتا تھا اور شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے بازار میں  اس  کی غلّے کی  دکان تھی۔ اس  دکان میں  گندم، چاول،  گڑ، شکر، مکئی   اور دالیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی ایمانداری،  خوش اخلاقی اور غلے کے  مناسب داموں  کی وجہ سے لوگ دور دور سے اس سے سودا لینے آتے تھے۔ اس کی دکان میں  دو نو عمر  لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ ایک کا نام احسان تھا اور دوسرے کا مقصود۔ دونوں تقریباً ہم عمر ہی  تھے اور کوئی بارہ سال کے ہونگے۔ ان لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور دونوں کے باپ اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ امانت کے محلے میں ہی رہتے تھے۔ اسے ان کے گھر کے حالات کا علم تھا اس لیے اس نے انہیں اپنی دکان میں کام کرنے…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اور عوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ اور ایک آنکھ سے محروم تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم ۔ اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی معزور تھا۔ لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک نہایت ہی ہوشیار مصور نے کہا:بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔ وہ کیسے؟؟تصویر میں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی…

Read more

En el denso y misterioso bosque de Siberia, donde la noche reinaba incluso durante el día, vivía un búho hermoso y malvado llamado Noor. Todo el bosque lo consideraba sabio y sabio. Todos los animales acudían a él en momentos difíciles; siempre les daba consejos que aliviaban sus preocupaciones. Noor vivía en la guarida de un viejo pino. Pero al envejecer, los más jóvenes comenzaron a burlarse de él en voz baja, diciendo que le gustaba la soledad y que siempre estaba callado; solo se hablaba de su sabiduría y que no hacía nada. La zorrita joven era aún más insolente; a menudo decía: «El tío Noor es tan sabio, que nos diga cómo protegernos de los depredadores para que no nos ataquen». El tío Noor escuchaba todo lo que decían, pero no decía nada, pues sabía que algunas verdades solo se comprenden con el tiempo.La voluntad de Dios era…

Read more

Érase una vez un rey y su hijo Salomón. Salomón podía entender la conversación entre los animales. Entendía la conversación entre peces, ovejas e insectos. El rey viajaba por todo el mundo y llevaba a su hijo Salomón consigo porque quería que aprendiera sabiduría de ellos. La gente acudía al rey constantemente con sus problemas. Si tenían algún problema, acudían al rey. Y el rey siempre escuchaba con mucha atención. Y Salomón también. Un día, cuando Salomón tenía once años, llegaron unos hombres con un problema. Un pastor, un granjero y un rebaño de ovejas. Salomón amaba mucho a las ovejas. Tenían hermosos pelajes de lana. Las ovejas balaban y él las entendía. El primer hombre estaba enojado. La ira se reflejaba en su rostro, y gritó con voz muy fuerte: «¡Ese hombre! Sus animales entraron en mi huerto. ¡Se comieron toda mi fruta… todas mis plantas! Zanahorias… cilantro…». El…

Read more

Un día, la esposa de un hombre fue pateada tan fuerte por su burro que falleció. 🫏 Unos meses después, se casó por segunda vez. La recién casada apenas tenía unos días cuando el burro también la convirtió en blanco de su “amoroso” dominio. 😳 Ahora el pobre hombre recibía de nuevo el pésame. La gente venía, recitaba oraciones y hacía preguntas. Un hombre observó: – Cuando las mujeres preguntan algo, él asiente con la cabeza y dice “sí”. 😊 – Y cuando los hombres preguntan algo, responde inmediatamente “no”. 😐 Finalmente, le preguntaron: “¡Hermano! ¿Cuál es este secreto?” Él respondió: “Las mujeres preguntan: ‘¿Te vas a casar de nuevo ahora?’ Entonces yo digo: ‘¡Sí!’ 😌 Y los hombres preguntan: ‘¡Oye! ¿Venderás el burro?’ Así que lo digo claramente: “¡No, hermano! ¡El burro no se venderá!” 🤣🤣

380/3476
NZ's Corner