Author Archives: NZ's Collection

Fue hace mucho tiempo. Un hombre pobre que vivía en una zona calurosa y arenosa solía oír historias sobre la generosidad de su rey. Un pensamiento cruzó por su mente: “Si también le llevo un regalo al rey, tal vez me lo agradezca”. Pero la pregunta era: ¿qué regalo debería llevar? El agua era muy valiosa en esa región. No había ríos ni pozos en muchos kilómetros a la redonda. El agua que se acumulaba en los estanques después de la lluvia era la única fuente de sustento para la gente. El hombre pobre pensó: “Le llevaré una jarra de agua al rey. ¿Qué regalo podría ser más valioso en mi tierra?”. Llenó una jarra con agua limpia y viajó durante varios días hasta llegar a la ciudad del rey. Al llegar, vio una escena extraña. El rey estaba de pie a la orilla del río y estaba a punto…

Read more

کرائے کے مکان میں رہتے ہیں تو اوپر کے پورشن میں ایک اور فیملی رہتی ہے۔۔ پتا چلا کہ وہ دوسری کالونی میں شفٹ ہو رہے ہیں اور یہ مکان چھوڑ دیں گے۔۔کافی اچھے اور معقول لوگ ہیں۔۔ لیکن کچھ دنوں سے میں دیکھ رہا تھا کہ بندے کا انداز کافی سیریس سیریس سا تھا۔۔ آج اتوار ہونے کی وجہ سے میں دن میں کپڑے دھو کر تار پر ڈال رہا تھا تو وہ بندہ اوپر سے سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔۔ میں نے سلام کیا تو وہ رک گیا اور روکھے سے انداز میں جواب دیا۔۔ میں نے مکان کی شفٹنگ کا پوچھا تو بولا۔۔ “ہاں جا رہے ہیں ایک آدھ دن میں”۔۔ میں نے اس کے خشک لہجے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کچھ ناراض ناراض سے لگتے ہیں، کوئی ایشو ہے کیا۔۔؟ کہنے لگا۔۔”ہاں جی ایشو ہے”۔۔ میں نے کہا۔۔ “آپ مجھے بتانا پسند کریں گے”..…

Read more

بشار بن برد کا ایک گدھا مر گیا تو اس نے کہا:’’میرا گدھا قاضیوں سے بھی زیادہ سمجھ دار تھا؛ نہ اس سے کبھی کوئی لغزش ہوئی اور نہ کوئی خطا۔ اچانک، جب کہ کسی کو اس کے بیمار ہونے کا گمان بھی نہ تھا، وہ بیمار پڑا اور مر گیا۔پھر میں نے اسے خواب میں دیکھا تو اس سے کہا: کیا میں تیرے لیے جو صاف نہ کیا کرتا تھا؟ اور تیرے لیے پانی ٹھنڈا نہیں کرتا تھا؟ پھر تیری موت کا سبب کیا ہوا؟ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب تم مجھے دوا فروش، یعنی عطار، کے پاس لے کر کھڑے ہوئے تھے؟میں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: اسی وقت ایک گدھی وہاں سے گزری، تو میں اس پر فریفتہ ہوگیا اور اس کی محبت میں مر گیا۔بشار نے کہا: میں نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس بارے میں کچھ شعر بھی کہے تھے؟اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جس کے پاس دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی نعمت تھی جو خریدی نہ جا سکتی ہو۔ محل سنگِ مرمر سے بنا تھا، فرشوں پر ریشم بچھا تھا، خواب گاہ میں نرم ترین بستر، خوشبودار عطر، قیمتی پردے اور ہر وہ آسائش موجود تھی جسے انسان سکون کا نام دے سکتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اسی محل میں ایک ایسی چیز نہیں تھی جس کے لیے بادشاہ ترس رہا تھا: نیند۔ رات آتی تو محل کی روشنیاں بجھ جاتیں، پہرے دار اپنی جگہ سنبھال لیتے، خادم خاموشی سے دروازے بند کر دیتے، مگر بادشاہ کی آنکھوں سے نیند کو جیسے کوئی پرانی دشمنی تھی۔ وہ کروٹ بدلتا، پھر دوسری کروٹ، کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی کھول دیتا۔ کبھی نرم تکیے پر سر رکھتا، کبھی بستر بدلوا دیتا۔ کبھی طبیب بلاتا، کبھی حکیم، کبھی دور دراز کے ملکوں سے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…

Read more

ایک انگریز کو بچپن سے ہی عجیب سا خوف تھا کہ جب بھی وہ سوتا ہے، اس کے بیڈ کے نیچے کوئی نہ کوئی ضرور چھپا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، وہ بڑا ہوگیا، مگر اس کا خوف ختم نہ ہوا۔ آخرکار تنگ آ کر وہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس پہنچا اور بولا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی علاج کریں، ورنہ میں اس خوف سے پاگل ہو جاؤں گا!” ماہرِ نفسیات نے کہا:“بالکل علاج ہو سکتا ہے۔ ہفتے میں تین دن میرے پاس آنا ہوگا، ایک سال میں آپ کا مسئلہ گارنٹی کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔” انگریز نے پوچھا:“فیس کتنی ہوگی؟” ڈاکٹر نے کہا:“200 ڈالر فی وزٹ۔” انگریز بولا:“ٹھیک ہے، میں سوچ کر بتاتا ہوں۔” تقریباً ایک سال بعد ایک تقریب میں دونوں کی ملاقات ہوگئی۔ ماہرِ نفسیات نے حیرت سے پوچھا:“ارے! تم میرے پاس علاج کے لیے آئے ہی نہیں؟” انگریز مسکرا کر بولا:“میرا مسئلہ تو میرے ایک…

Read more

ایک غریب آدمی کو کسی ضروری کام سے کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔ غریب نے ساہوکار پر بھروسہ کیا، اس لیے نہ کوئی رسید لی اور نہ کسی کو گواہ بنایا۔ چھ ماہ بعد جب وہ واپس آیا تو سیدھا ساہوکار کی دکان پر پہنچا۔ اس نے کہا:“سیٹھ جی! میری امانت واپس کر دیں۔” ساہوکار نے حیرت کا ڈرامہ کرتے ہوئے کہا:“کون سی امانت؟ میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!” غریب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ منت سماجت کرتا رہا:“سیٹھ جی! اللہ کے واسطے، میرے ایک ہزار روپے واپس کر دیں۔ میں نے آپ ہی کے پاس رکھوائے تھے۔” مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔ غریب کئی دن تک اس کی دکان کے چکر لگاتا رہا، مگر ہر بار…

Read more

ایک پہلوان ٹرین میں سوار ہوا، مگر بدقسمتی سے اسے بیٹھنے کے لیے کہیں جگہ نہ ملی۔ کافی دیر تلاش کرنے کے بعد اسے ایک سیٹ نظر آئی، جس پر ایک انگریز بڑھیا بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ اس کا کتا بھی سیٹ پر براجمان تھا۔ پہلوان نے مؤدبانہ انداز میں کہا: “محترمہ! اگر آپ اپنے کتے کو نیچے اتار دیں تو میں بھی بیٹھ جاؤں گا۔” بڑھیا غصے سے بولی: “میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!” پہلوان خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے پوری ٹرین کا ایک چکر لگایا، مگر کہیں بھی جگہ نہ ملی۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اسی سیٹ کے پاس آیا اور بولا: “محترمہ! براہِ کرم اپنے کتے کو نیچے اتار دیجیے، مجھے واقعی بیٹھنے کی جگہ چاہیے۔” بڑھیا پہلے سے زیادہ غصے میں بولی: “میں نے کہا نا، میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!” پہلوان نے کچھ نہیں کہا۔ وہ سکون سے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گرم اور ریتلے علاقے میں رہنے والا ایک غریب آدمی اپنے بادشاہ کی سخاوت کے قصے اکثر سنتا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا: “اگر میں بھی بادشاہ کے لیے کوئی تحفہ لے جاؤں تو شاید وہ میری قدر کرے۔” لیکن سوال یہ تھا کہ وہ تحفہ کیا لے جائے؟ اس علاقے میں پانی بہت قیمتی تھا۔ دور دور تک نہ دریا تھا، نہ کنواں۔ بارش کے بعد تالابوں میں جمع ہونے والا پانی ہی لوگوں کے لیے زندگی کا سہارا تھا۔ غریب آدمی نے سوچا، “میں بادشاہ کے لیے پانی کا ایک گھڑا لے جاؤں گا۔ میرے علاقے میں اس سے قیمتی تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؟” اس نے ایک گھڑا صاف پانی سے بھرا اور کئی دنوں کا طویل سفر طے کرکے بادشاہ کے شہر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ بادشاہ دریا کے…

Read more

En el linde del bosque vivía la astuta rata Munu. De mente ágil, dulce en sus palabras y tan perezosa para el trabajo que, si alguna vez le llegaba una oferta, se asomaba por la ventana y corría la cortina. Llevaba meses buscando trabajo, pero allá donde iba, solo se hacía la misma pregunta: “¿Para qué?”. Munnu consideraba esta pregunta un insulto a sí mismo.Finalmente, un día, exhausto, se encontraba sentado en un sendero desierto del bosque, absorto en sus pensamientos, cuando de repente sus ojos se posaron en una escena extraña. Un viejo animal estaba sentado bajo un árbol, rodeado de otros animales. Algunos llevaban leche, otros miel, otros fruta y otros un sobre. El anciano a veces cerraba los ojos, a veces miraba al cielo y a veces respiraba tan profundamente que los animales sentados frente a él también contenían la respiración. Munnu observó este espectáculo durante un…

Read more

Era casi medianoche. Un hombre caminaba por una calle desierta. La calle estaba tan silenciosa que podía oír sus propios pasos con claridad. De repente, se oyó una voz fuerte desde el interior de una casa: **”¡No! ¡Primero córtale el brazo… luego la garganta!”** Los pasos del hombre se detuvieron en seco. Se le erizó el vello. Se dijo a sí mismo: “¡Dios mío! ¡Esto parece peligroso!” Al acercarse a la pared para escuchar mejor, otra voz provino del interior: **”¡Mantén la mano recta, o la cosa empeorará!”** Su duda se convirtió en certeza. Salió corriendo de allí a toda velocidad y llegó a la comisaría más cercana. Jadeando, les dijo a los policías: “Rápido, un hombre está apuñalando a otro en una casa. Primero hablaba de cortarle el brazo, ¡ahora habla de cortarle la garganta!” Los policías llegaron inmediatamente a la casa con él. Llamaron a la puerta y…

Read more

Era una historia de tiempos antiguos. Un mercader llamado Zahid era famoso por su honestidad y bondad. Un día, emprendió un largo viaje montado en su camello. En el camino, algo extraño llamó su atención. Un hermoso pájaro azul volaba constantemente sobre él. Zahid lo observó con atención varias veces, pero luego siguió su camino, pensando que tal vez era solo una coincidencia. Después de un tiempo, llegó a un desierto desolado y abrasador. El sol era abrasador y las partículas parecidas a arena le quemaban los pies. De repente, la última gota de agua de su odre también se agotó. Sintió una sed intensa, la oscuridad comenzó a nublar su vista y sus pasos se volvieron vacilantes. En ese instante, vio al mismo pájaro azul sobre él. El pájaro sobrevolaba un viejo pozo. Zahid vio un rayo de esperanza. Inmediatamente llegó al pozo, ató el cubo a una cuerda…

Read more

Un príncipe era muy aficionado a vestir ropas hermosas y costosas. Se hacía ropa nueva cada día, se ponía esas prendas caras y luego montaba a caballo, salía a pasear y a cazar. Un día, el rey lo llamó y le dijo: «¡Hijo! Eres un príncipe. Deberías vestir ropas que no cualquiera pueda permitirse. Esas ropas tan caras de las que estás tan orgulloso, cualquier persona rica del mundo puede mandarlas a hacer». El príncipe preguntó sorprendido: «Entonces, ¿cuál es la ropa que no cualquiera puede tener?». El rey sonrió y dijo: «Es la ropa de la bondad, la humildad y la piedad. Las ropas de oro y plata se desgastan en pocos días, pero la ropa de la bondad siempre permanece como nueva. No se rompe, no se ensucia y su brillo nunca se desvanece». Luego el rey añadió: «Y la caza que tanto anhelas —ciervos, hienas, leones y…

Read more

Un pastor de Cholistán estaba cuidando sus cabras cuando, de repente, sus ojos se posaron en una muchacha que estaba de pie junto a un árbol, mirándolo fijamente desde una distancia de aproximadamente un acre. Al verla, el corazón del pastor comenzó a latir con fuerza, como si hubiera escuchado el pronóstico de lluvia en Cholistán. El pastor aprovechó la oportunidad y comenzó a hacerle señas amorosas. A veces, enroscaba la cuerda de las cabras, a veces dibujaba un corazón en la arena y a veces se arreglaba el cabello. Pero la muchacha permanecía en silencio, observándolo sin pestañear, sin moverse. El pastor sintió entonces que aquello era amor verdadero. Solo le quedaba superar la primera prueba y unirse a la lista de enamorados.Al cabo de un rato, el sol se ocultó tras la lanza, pero nuestra amada se mantuvo firme en el campo del amor. Pensé para mis adentros:…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…

Read more

ایک شہزادے کو خوبصورت اور قیمتی لباس پہننے کا بہت شوق تھا۔ وہ روز نئے نئے کپڑے بنواتا، قیمتی پوشاک پہنتا اور پھر گھوڑے پر سوار ہو کر سیر و شکار کے لیے نکل جاتا۔ ایک دن بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا: “بیٹا! تم شہزادے ہو۔ تمہیں ایسا لباس پہننا چاہیے جو ہر کسی کے نصیب میں نہ ہو۔ یہ قیمتی کپڑے جن پر تم اتنا فخر کرتے ہو، دنیا کا کوئی بھی امیر شخص بنوا سکتا ہے۔” شہزادے نے حیرت سے پوچھا: “پھر وہ کون سا لباس ہے جو ہر کسی کو نہیں مل سکتا؟” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وہ نیکی، عاجزی اور پرہیزگاری کا لباس ہے۔ سونے اور زری کے کپڑے چند دن بعد پرانے ہو جاتے ہیں، مگر نیکی کا لباس ہمیشہ نیا رہتا ہے۔ نہ یہ پھٹتا ہے، نہ میلا ہوتا ہے اور نہ کبھی اس کی چمک ختم ہوتی ہے۔” پھر بادشاہ…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…

Read more

رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے۔ ایک آدمی ایک سنسان گلی سے گزر رہا تھا۔ گلی میں ایسی خاموشی تھی کہ اسے اپنے قدموں کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ اچانک ایک مکان کے اندر سے کسی کی بلند آواز سنائی دی: **”نہیں! پہلے بازو کاٹو… گلا بعد میں کاٹ لینا!”** آدمی کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: “یا اللہ! یہ تو کوئی خطرناک معاملہ لگتا ہے!” وہ مزید کچھ سننے کے لیے دیوار کے قریب ہوا تو اندر سے پھر آواز آئی: **”ذرا سیدھا پکڑو، ورنہ خراب ہو جائے گا!”** اب تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔ وہ پوری طاقت سے وہاں سے بھاگا اور سیدھا قریبی پولیس چوکی پہنچ گیا۔ ہانپتے ہوئے پولیس والوں سے بولا: “جلدی چلیں! ایک گھر میں کوئی آدمی دوسرے کو کاٹ رہا ہے۔ پہلے بازو کاٹنے کا…

Read more

جنگل کے ایک کنارے پر مکار چوہا “مُنو” رہتا تھا۔ عقل میں تیز، زبان میں میٹھا اور کام کے معاملے میں ایسا سست کہ اگر کبھی محنت اس کے دروازے پر آ جاتی تو وہ کھڑکی سے جھانک کر دیکھتا اور پردہ گرا دیتا۔ کئی مہینوں سے روزگار کی تلاش میں تھا، مگر جہاں بھی جاتا، اس سے ایک ہی سوال ہوتا: “کیا کام آتا ہے؟” منو اس سوال کو اپنی توہین سمجھتا تھا۔ آخر ایک دن وہ تھک ہار کر جنگل کی ایک ویران پگڈنڈی پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک بوڑھا جانور درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس کے گرد جانوروں کا ہجوم تھا۔ کوئی دودھ لیے کھڑا تھا، کوئی شہد، کوئی پھل اور کوئی لفافہ۔ بوڑھا کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا اور کبھی اتنی گہری سانس لیتا کہ سامنے بیٹھا جانور بھی…

Read more

400/3961
NZ's Corner