Conocimiento de lo invisible
En el linde del bosque vivía la astuta rata Munu. De mente ágil, dulce en sus palabras y tan perezosa para el trabajo que, si alguna vez le llegaba una oferta, se asomaba por la ventana y corría la cortina. Llevaba meses buscando trabajo, pero allá donde iba, solo se hacía la misma pregunta: “¿Para qué?”. Munnu consideraba esta pregunta un insulto a sí mismo.Finalmente, un día, exhausto, se encontraba sentado en un sendero desierto del bosque, absorto en sus pensamientos, cuando de repente sus ojos se posaron en una escena extraña. Un viejo animal estaba sentado bajo un árbol, rodeado de otros animales. Algunos llevaban leche, otros miel, otros fruta y otros un sobre. El anciano a veces cerraba los ojos, a veces miraba al cielo y a veces respiraba tan profundamente que los animales sentados frente a él también contenían la respiración. Munnu observó este espectáculo durante un…
Malentendido… una historia interesante y humorística.
Era casi medianoche. Un hombre caminaba por una calle desierta. La calle estaba tan silenciosa que podía oír sus propios pasos con claridad. De repente, se oyó una voz fuerte desde el interior de una casa: **”¡No! ¡Primero córtale el brazo… luego la garganta!”** Los pasos del hombre se detuvieron en seco. Se le erizó el vello. Se dijo a sí mismo: “¡Dios mío! ¡Esto parece peligroso!” Al acercarse a la pared para escuchar mejor, otra voz provino del interior: **”¡Mantén la mano recta, o la cosa empeorará!”** Su duda se convirtió en certeza. Salió corriendo de allí a toda velocidad y llegó a la comisaría más cercana. Jadeando, les dijo a los policías: “Rápido, un hombre está apuñalando a otro en una casa. Primero hablaba de cortarle el brazo, ¡ahora habla de cortarle la garganta!” Los policías llegaron inmediatamente a la casa con él. Llamaron a la puerta y…
La bondad nunca se desperdicia… una lección que aprender
Era una historia de tiempos antiguos. Un mercader llamado Zahid era famoso por su honestidad y bondad. Un día, emprendió un largo viaje montado en su camello. En el camino, algo extraño llamó su atención. Un hermoso pájaro azul volaba constantemente sobre él. Zahid lo observó con atención varias veces, pero luego siguió su camino, pensando que tal vez era solo una coincidencia. Después de un tiempo, llegó a un desierto desolado y abrasador. El sol era abrasador y las partículas parecidas a arena le quemaban los pies. De repente, la última gota de agua de su odre también se agotó. Sintió una sed intensa, la oscuridad comenzó a nublar su vista y sus pasos se volvieron vacilantes. En ese instante, vio al mismo pájaro azul sobre él. El pájaro sobrevolaba un viejo pozo. Zahid vio un rayo de esperanza. Inmediatamente llegó al pozo, ató el cubo a una cuerda…
“El verdadero vestido y la presa más grande”… El instructivo consejo del rey
Un príncipe era muy aficionado a vestir ropas hermosas y costosas. Se hacía ropa nueva cada día, se ponía esas prendas caras y luego montaba a caballo, salía a pasear y a cazar. Un día, el rey lo llamó y le dijo: «¡Hijo! Eres un príncipe. Deberías vestir ropas que no cualquiera pueda permitirse. Esas ropas tan caras de las que estás tan orgulloso, cualquier persona rica del mundo puede mandarlas a hacer». El príncipe preguntó sorprendido: «Entonces, ¿cuál es la ropa que no cualquiera puede tener?». El rey sonrió y dijo: «Es la ropa de la bondad, la humildad y la piedad. Las ropas de oro y plata se desgastan en pocos días, pero la ropa de la bondad siempre permanece como nueva. No se rompe, no se ensucia y su brillo nunca se desvanece». Luego el rey añadió: «Y la caza que tanto anhelas —ciervos, hienas, leones y…
Intitulado
Un pastor de Cholistán estaba cuidando sus cabras cuando, de repente, sus ojos se posaron en una muchacha que estaba de pie junto a un árbol, mirándolo fijamente desde una distancia de aproximadamente un acre. Al verla, el corazón del pastor comenzó a latir con fuerza, como si hubiera escuchado el pronóstico de lluvia en Cholistán. El pastor aprovechó la oportunidad y comenzó a hacerle señas amorosas. A veces, enroscaba la cuerda de las cabras, a veces dibujaba un corazón en la arena y a veces se arreglaba el cabello. Pero la muchacha permanecía en silencio, observándolo sin pestañear, sin moverse. El pastor sintió entonces que aquello era amor verdadero. Solo le quedaba superar la primera prueba y unirse a la lista de enamorados.Al cabo de un rato, el sol se ocultó tras la lanza, pero nuestra amada se mantuvo firme en el campo del amor. Pensé para mis adentros:…
خط
نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی…… ایک سبق آموز کہانی
پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…
“اصل لباس اور سب سے بڑا شکار”۔۔.. بادشاہ کی سبق آموز نصیحت
ایک شہزادے کو خوبصورت اور قیمتی لباس پہننے کا بہت شوق تھا۔ وہ روز نئے نئے کپڑے بنواتا، قیمتی پوشاک پہنتا اور پھر گھوڑے پر سوار ہو کر سیر و شکار کے لیے نکل جاتا۔ ایک دن بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا: “بیٹا! تم شہزادے ہو۔ تمہیں ایسا لباس پہننا چاہیے جو ہر کسی کے نصیب میں نہ ہو۔ یہ قیمتی کپڑے جن پر تم اتنا فخر کرتے ہو، دنیا کا کوئی بھی امیر شخص بنوا سکتا ہے۔” شہزادے نے حیرت سے پوچھا: “پھر وہ کون سا لباس ہے جو ہر کسی کو نہیں مل سکتا؟” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وہ نیکی، عاجزی اور پرہیزگاری کا لباس ہے۔ سونے اور زری کے کپڑے چند دن بعد پرانے ہو جاتے ہیں، مگر نیکی کا لباس ہمیشہ نیا رہتا ہے۔ نہ یہ پھٹتا ہے، نہ میلا ہوتا ہے اور نہ کبھی اس کی چمک ختم ہوتی ہے۔” پھر بادشاہ…
گڈریے کی بانسری اور بادشاہ کا راز.. ایک دلچسپ کہانی
پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…
غلط فہمی.. ایک دلچسپ مزاحیہ کہانی
رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے۔ ایک آدمی ایک سنسان گلی سے گزر رہا تھا۔ گلی میں ایسی خاموشی تھی کہ اسے اپنے قدموں کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ اچانک ایک مکان کے اندر سے کسی کی بلند آواز سنائی دی: **”نہیں! پہلے بازو کاٹو… گلا بعد میں کاٹ لینا!”** آدمی کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: “یا اللہ! یہ تو کوئی خطرناک معاملہ لگتا ہے!” وہ مزید کچھ سننے کے لیے دیوار کے قریب ہوا تو اندر سے پھر آواز آئی: **”ذرا سیدھا پکڑو، ورنہ خراب ہو جائے گا!”** اب تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔ وہ پوری طاقت سے وہاں سے بھاگا اور سیدھا قریبی پولیس چوکی پہنچ گیا۔ ہانپتے ہوئے پولیس والوں سے بولا: “جلدی چلیں! ایک گھر میں کوئی آدمی دوسرے کو کاٹ رہا ہے۔ پہلے بازو کاٹنے کا…
غیب کا علم
جنگل کے ایک کنارے پر مکار چوہا “مُنو” رہتا تھا۔ عقل میں تیز، زبان میں میٹھا اور کام کے معاملے میں ایسا سست کہ اگر کبھی محنت اس کے دروازے پر آ جاتی تو وہ کھڑکی سے جھانک کر دیکھتا اور پردہ گرا دیتا۔ کئی مہینوں سے روزگار کی تلاش میں تھا، مگر جہاں بھی جاتا، اس سے ایک ہی سوال ہوتا: “کیا کام آتا ہے؟” منو اس سوال کو اپنی توہین سمجھتا تھا۔ آخر ایک دن وہ تھک ہار کر جنگل کی ایک ویران پگڈنڈی پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک بوڑھا جانور درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس کے گرد جانوروں کا ہجوم تھا۔ کوئی دودھ لیے کھڑا تھا، کوئی شہد، کوئی پھل اور کوئی لفافہ۔ بوڑھا کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا اور کبھی اتنی گہری سانس لیتا کہ سامنے بیٹھا جانور بھی…
پیر صاحب
کئی برس پہلے کی بات ہے، جام صاحب کے پیر صاحب اوچ شریف کے میلے میں شرکت کے لیے سندھ سے آئے ہوئے تھے۔ میلہ ختم ہوا تو جام صاحب نے عرض کیا، “حضور! اتنی دور سے آئے ہیں، ہمارے غریب خانے کو بھی شرفِ میزبانی بخش دیجیے۔”پیر صاحب نے شفقت فرمائی اور جام صاحب کے گھر تشریف لے گئے ایک دو پہر کیلئے۔لیکن جام صاحب کے جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو پیر صاحب کی نظریں چاروں اطراف گھومنے لگیں۔ کبھی صحن کو دیکھتے، کبھی کمروں کو، کبھی سامان کو۔ پھر حیرت سے بولے، “جام صاحب! ماشاءاللہ! یہ اتنا بڑا گھر؟” جام صاحب نے فوراً ہاتھ باندھ لیے، “حضور! یہ سب آپ ہی کی کرم نوازی ہے۔ آپ کی دعاؤں کا صدقہ ہے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں، جو کچھ ہے آپ کی برکت ہے۔”پیر صاحب کا ارادہ تو چند لمحوں کا تھا مگر یہ سب کچھ دیکھ…
صحرا کا مجنوں
چولستان کا ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی، جو درخت کے ساتھ کھڑی کوئی ایک ایکڑ کی دوری پر اسے تکے جا رہی تھی، یہ دیکھ کر چرواہے کا دل ایسے دھڑکنے لگا جیسے چولستان میں بارش کی پیش گوئی سن لی ہو۔چرواہے نے بھی موقع غنیمت جانا اور عاشقانہ سگنل دینے شروع کر دیے۔ کبھی بکری کی رسی گھما کر اسٹائل مارتا، کبھی ریت پر دل بناتا، اور کبھی بالوں کو سنوارتا۔ لیکن دوسری طرف محترمہ ساکت کھڑی مسلسل اُسے دیکھے جا رہی تھیں، بغیر پلک جھپکائے، بغیر کوئی حرکت کیے۔ اب بندے کو لگا کہ یہ سچا عشق ہے۔ بس اب عشق کا پہلا امتحان دے کر عاشقوں کی فہرست میں شامل ہو جانا ہے۔ کچھ وقت کے بعد سورج سوا نیزے پر تھا، لیکن ہمارا عاشق محبت کے میدان میں ڈٹا رہا۔ دل میں سوچ رہا تھا، سنا…
Preocuparse por el futuro –
Había un saltamontes en un bosque. Solía vagar todo el día comiendo hojas verdes. Un día, mientras comía hojas y tarareaba, vio una fruta que se acercaba. Se acercó. Muchas hormigas la llevaban juntas. El saltamontes dijo: “¿Adónde llevan todas estas hormigas?”. Señaló una raíz y dijo: “Se acerca el otoño, así que estamos recolectando granos y comida para poder vivir cómodamente durante el invierno”. El saltamontes vio que había un agujero en la raíz del árbol y que las hormigas llevaban granos y otras cosas dentro. Al ver esto, dijo: “¡Oh, hormigas tontas! ¿Por qué se preocupan por el futuro ahora? Disfruten del presente, el futuro ya se verá después, como yo”. Las hormigas dijeron: “¡Oh, saltamontes! Tú también recoge granos, o te arrepentirás después”. Él dijo: “Disfrutaré del clima por ahora. El futuro ya se verá después”. Y comenzó a comer hojas verdes despreocupadamente. Un día se oyó…
Intitulado
Maulana Rumi escribió la historia de un loro que un comerciante tenía un loro parlante en una jaula dorada. Cuando el comerciante empezó a viajar, le preguntó a su loro: “¿Tienes algún deseo? ¿Qué debo traerte?”. El loro dijo: “Si ves una bandada de loros, envíame un mensaje para que los que vives en el aire libre sean saludados”. Ven a ver a este prisionero alguna vez. El comerciante se fue de viaje y en un lugar vio loros en los árboles, así que dio ese mensaje por voz. Al oír esto, un viejo loro se cayó y murió. Después de eso, otros loros también cayeron del árbol y murieron en el suelo. El comerciante quedó muy sorprendido y a su regreso vino y le narró todo el incidente a su loro, luego su loro mascota también se cayó y murió allí. El comerciante lo arrojó fuera de la jaula…
El viejo halcón y el zorro
En un valle vivía un viejo halcón, cuyos ojos fueron antaño tan afilados como los de un águila y cuyo vuelo era tal que rozaba el cielo. Pero con la edad, sus alas se volvieron pesadas, sus garras se debilitaron y le costaba cazar. Ahora solía sentarse en una roca alta y recordar los días de su antigua gloria. Un astuto zorro vivía al pie de la misma montaña. Al ver al viejo halcón débil e indefenso, la codicia se apoderó de él. Pensó: ¿por qué no engañar al viejo halcón con palabras, acabar con él y conseguir fácilmente un bocado? El zorro se acercó a la roca sonriendo y dijo:«¡Oh, rey de los halcones! Fuiste el rey de los cielos, pero ¿por qué estás sentado en esta roca tan aislado y solo hoy? Ahora ni siquiera tienes fuerzas para cazar un pájaro por ti mismo. Si me lo pides,…
Lo más dulce y lo más amargo
Un rey le preguntó una vez a su ministro más sabio:“Dime, ¿qué es lo más dulce del mundo y qué es lo más amargo?” El ministro sonrió y respondió: “¡Oh, mundo! La respuesta a ambas preguntas es la misma: la lengua humana”. El rey, sorprendido, exclamó: “¿Cómo puede ser dulce y amargo a la vez?” El ministro explicó:* Cuando las palabras dulces brotan de la lengua, dichas con gentileza y respeto, sanan incluso las heridas más profundas del mundo y hacen que hasta los extraños se sientan como en casa. * Pero cuando esa misma lengua pronuncia palabras amargas, expresando ira y odio, rompe los lazos y causa una herida en el corazón que jamás cicatriza. Lección:Nuestras palabras definen nuestra personalidad. La flecha del arco y la palabra de la lengua nunca regresan, por lo que siempre debemos hablar con reflexión.
بلاعنوان
مولانا رومی نے ایک طوطے کی حکایت لکھی کہ ایک سوداگر نے سونے کے پنجرے میں بولنے والا طوطا رکھا ہوا تھا۔ سوداگر سفر پر جانے لگا تو اپنے طوطے سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش ہے تیرے لئے کیا لاؤں؟ طوطے نے کہا بس اگر کوئی طوطوں کا جھنڈ دیکھو تو میری طرف سے اتنا پیغام دینا کہ آزاد فضاؤں میں رہنے والو تمہیں سلام۔ کبھی اس قیدی کو بھی دیکھنے آجاؤ۔ سوداگر سفر پر نکلا اور ایک جگہ اسے درختوں پر طوطے نظر آئے تو اس نے باآواز وہ پیغام دیدیا۔ سن کر ایک بوڑھا طوطا نیچے گرا اور مرگیا۔ اسکے بعد دوسرے طوطے بھی درخت سے گر کر زمین پر مرگئے۔ سوداگر بے حد حیران ہوا اور واپسی پر اس نے اپنے طوطے کو آکر یہ سارا ماجرا سنایا تو اسکا پالتو طوطا بھی وہیں گرکر مرگیا۔ سوداگر نے اسے پنجرے سے نکال کر باہر پھینک دیا…
La verdadera felicidad proviene de experimentar la alegría y la belleza de nuestro propio ser, en lugar de compararnos con los demás y lamentar lo impermanente.
En un hermoso valle vivía una pequeña mariposa cuyas alas estaban cubiertas con todos los bellos colores del mundo. Bebía el néctar de las flores todo el día y danzaba con ellas al viento. Pero tenía una extraña costumbre: siempre se entristecía al caer la noche, pues la oscuridad la envolvía y nadie podía contemplar su hermosa forma. Una tarde, mientras el sol se ponía tras las montañas, la mariposa estaba posada sobre un gran pétalo de rosa roja, llorando. Cerca de allí, una vieja luciérnaga, que encendía su lámpara para la noche, se acercó y le dijo:«¡Querida mariposa! ¿Cómo puedes tener lágrimas en los ojos en una noche tan delicada?» La mariposa suspiró con frialdad y dijo:«¡Mira, luciérnaga! Durante el día, todos admiran mis colores, pero en cuanto llega la noche, toda mi belleza se pierde en la oscuridad. ¡Ojalá pudiera brillar siempre como el sol!»Jagnu sonrió y dijo:“¡Hermana…
No todos los que te admiran están necesariamente convencidos de tu grandeza.
Érase una vez, un búfalo que vivía en el bosque. Su cuerpo era tan pesado que, al caminar, el suelo parecía moverse como si lo hubiera pensado; sus cuernos eran tales que incluso una persona que lo mirara desde lejos desviaría su camino; y su ego era tal que estaba seguro de que probablemente nunca había nacido en el bosque un animal más digno, influyente y grandioso. Creía que los demás animales consideraban una fortuna caminar con él, un honor hablarle, y si alguna vez asentía con la cabeza a alguien, ese animal pasaría todo el día considerándolo un honor para sí mismo. En resumen, el búfalo estaba tan seguro de su grandeza que si un día todos los animales del bosque lo ignoraban, probablemente concluiría: «Hoy todo el bosque está en silencio, asombrado por mi grandeza». La verdad era que la mayoría de los animales del bosque eran conscientes…