Author Archives: NZ's Collection

ایک مالی تھا جس نے اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کی تھی ۔ اس کا باغ جنت کے کسی باغ سے کم نہ تھا۔ وہاں طرح طرح کے پھل پھول موجود تھے۔ جن کی خوشبوؤں سے دماغ معطر رہتا تھا۔ بوڑھا مالی بڑے آرام سے اس باغ میں تنہا زندگی بسر کر رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ اپنی اس تنہائی سے گھبرا گیا اور بے حد اداس ہوا۔ گھبرا کر ایک جنگل کی طرف چل پڑا ۔ ایک مدت تک جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔ اچانک ایک بدصورت ، ڈراؤ نا  ریچھ جو اسی کی طرح تنہائی سے بے زرار ہو چکا تھا اور اکیلا رہتا تھا اس پہاڑ سے نیچے اترا۔ دونوں ایک دوسرے سے دو چار ہوئے اور چونکہ دونوں کی فطرت میں خباثت موجود تھی لہذا دونوں ایک دوسرے سے بہت جلد مانوس ہو گئے ۔ مالی ریچھ کو ساتھ لے کر اپنے باغ میں…

Read more

کسی زمانے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اقتدار کے نشے میں وہ اتنا سخت دل ہو چکا تھا کہ غریب اور کمزور لوگ اس کے نام سے بھی خوف کھاتے تھے۔ ایک درویش نے اس کے ظلم سے تنگ آ کر دعا کی: “اے اللہ! اسے اس کے اعمال کا انجام دکھا دے۔” کچھ عرصے بعد بادشاہ کے دل میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ اس نے رعایا کو جمع کیا اور کہا: “میں نے بہت ظلم کیا، مگر اب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ آج سے میں ظلم چھوڑ کر انصاف کروں گا۔” لوگوں کو اس کی بات پر یقین نہ آیا، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ بادشاہ واقعی بدل چکا تھا۔ اب کمزور کو حق ملتا اور ظالم کو سزا دی جاتی۔ سلطنت میں ایسا امن قائم ہوا کہ دشمن جانور بھی ایک ہی جگہ پانی پیتے دکھائی دیتے۔ ایک دن ایک قریبی…

Read more

ایک سیدھا سادا لڑکا نوکری کی تلاش میں فلوریڈا آیا اور ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں پہنچا، جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ہر قسم کا سامان ملتا تھا۔اسٹور کے مینجرنے اس سے پوچھا، “کیا تمہارے پاس سیلز کا کوئی تجربہ ہے؟”لڑکے نے مسکرا کر جواب دیا، “جی بالکل، میں اپنے علاقے میں ویکیوم کلینر بیچا کرتا تھا۔”اگرچہ مینجرکو پورا یقین تو نہیں تھا، لیکن اسے لڑکا شریف اور محنتی لگا، سو اس نے موقع دیتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، تم کل سے کام پر آ جاؤ۔ شام کو دکان بند ہونے کے بعد میں تمہاری کارکردگی دیکھنے نیچے آؤں گا۔”لڑکے کا پہلا دن کافی کٹھن گزرا، مگر وہ ڈٹا رہا۔ شام کو جب اسٹور بند ہوا تو مینجرسیلز فلور پر آیا اور سختی سے پوچھا، “ہاں بھائی، آج دن بھر میں تم سے کتنے گاہکوں نے سامان خریدا؟”لڑکے نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور آہستہ سے بولا،…

Read more

ایک عابد نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چالیس دن کا چلہ کیا۔ دن کو روزہ رکھتا، رات بھر عبادت میں مشغول رہتا۔ اعتکاف کی وجہ سے وہ دنیا کے لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ اس کا ہر لمحہ دعا، تلاوت اور گریہ و زاری میں گزرتا تھا۔ چھتیسویں رات اسے ایک غیبی آواز سنائی دی: “کل شام چھ بجے تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جانا، وہاں تمہیں اللہ کی رضا کا ایک عظیم راز معلوم ہوگا۔” اگلے دن وہ مقررہ وقت سے پہلے ہی بازار پہنچ گیا اور اس دکان کے قریب کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک بوڑھی عورت ہاتھ میں تانبے کی ایک پرانی دیگچی لیے ایک ایک دکان پر جا رہی تھی۔ ہر تانبہ ساز اسے تول کر کہتا: “چار ریال۔” بڑھیا جواب دیتی: “میں اسے چھ ریال سے کم میں…

Read more

ایک عرب شخص اپنی انتہائی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ بڑھاپے کی وجہ سے ماں کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی، اس لیے وہ اکثر خیمے سے باہر نکل جاتی۔ بیٹے کو یہ بات بوجھ لگنے لگی۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: “کل روانگی کے وقت میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس پانی اور کھانا رکھ دینا، شاید کوئی اسے سنبھال لے۔” بیوی نے شوہر کی بات مان لی، مگر ایک ایسا کام کیا جس نے اس کی زندگی بدل دی۔ وہ اپنی بوڑھی ساس کو وہیں چھوڑنے کے ساتھ اپنے اکلوتے بچے کو بھی اس کے پاس چھوڑ آئی۔ دوپہر کو شوہر نے بچے کو بلانے کے لیے کہا تو بیوی نے جواب دیا: “میں اسے آپ کی ماں کے پاس چھوڑ آئی ہوں۔” وہ حیران ہو کر بولا، “کیوں؟” بیوی…

Read more

ایک صاحب دفتر سے فارغ ہوئے تو اپنی سیکریٹری کو ساتھ لے کر ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے۔ کھانے کے بعد دونوں نے فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا، اور فلم ختم ہونے پر صاحب سیکریٹری کے گھر بھی چلے گئے۔رات کافی گزرنے کے بعد جب صاحب رخصت ہونے لگے تو انہوں نے سیکریٹری سے کہا:“ایک پینسل مل سکتی ہے؟”سیکریٹری نے پینسل دے دی، صاحب نے وہ پینسل کان پر پھنسائی اور گھر روانہ ہو گئے۔گھر پہنچے تو بیوی نے فوراً پوچھا:“آج اتنی دیر کہاں لگا دی؟”صاحب نے سارا ماجرا سچ سچ بتا دیا۔بیوی نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:“جھوٹ! بکواس! مجھے معلوم ہے تمہیں شو مارنے کی عادت ہے۔ تم تو یقیناً دفتر میں دیر تک کام کر کے آئے ہو!”صاحب خوش ہو کر بولے:“دیکھا! میں کہتا تھا نا، تم مجھے سمجھتی ہو۔”بیوی نے کہا:“ہاں، بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں… پینسل ابھی تک تمہارے کان پر لگی ہوئی ہے!”…

Read more

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…

Read more

ایک ولی کامل پہاڑوں میں نکل گیا۔ پیچھے دیکھا ایک آدمی آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا:کیا چاہیے؟؟ آدمی نے کہا: غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔ آپ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ آپ چل پڑے۔ دیکھا وہ آدمی پھر پیچھے آ رہا ہے۔ آپ نے پوچھا:اب کیا چاہیے؟ عرض کیا: تھوڑا ہے۔ آپ نے دوسرے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، وہ بھی سونے کا ہو گیا۔ اور اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی طرف انگلی اٹھائی۔ چاروں طرف کے پہاڑ سونے کے ہو گئے۔ آپ چل پڑے۔ پیچھے دیکھا وہ آدمی پھر آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا: اب کیا چاہیے؟ 😜☝️اُس آدمی نے عرض کیا ۔۔۔۔۔ “انگلی”

ایک روز ہارون الرشید عام لوگوں کا لباس پہن کر نکلے۔ ان کے ساتھ یحییٰ بن خالد، خالد کاتب، اسحاق موصلی اور ابو نواس بھی تھے۔ وہ عام لوگوں میں گھل مل جانے کی غرض سے ایک ملاح کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی میں ایک اور شخص بھی آ بیٹھا۔ وہ ہارون الرشید کو ناگوار گزرا، یہاں تک کہ آپ نے ارادہ کیا کہ اسے کشتی سے اتار دیں اور سزا بھی دیں۔ ابو نواس نے کہا: ’’اسے میرے ذمے چھوڑ دیجیے، میں اسے بغیر کسی اذیت یا بدسلوکی کے یہاں سے نکال دوں گا۔‘‘ پھر ابو نواس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’آج سے کل اسی وقت تک تم سب کے کھانے کا ذمہ میرے ذمے ہے۔‘‘ ہارون الرشید نے کہا: ’’اور تمہارے مشروبات میرے ذمے۔‘‘ یحییٰ بن خالد نے کہا: ’’اور خوشبوؤں کا انتظام میرے ذمے۔‘‘ خالد کاتب نے کہا: ’’اور سبزیوں کا انتظام میرے…

Read more

ایک شخص جوانی میں جانور چراتا تھا، مگر آہستہ آہستہ غلط راستے پر چل پڑا۔ پہلے چوری کی، پھر ڈکیتیاں کرنے لگا اور آخرکار قتل جیسے سنگین جرائم میں بھی ملوث ہوگیا۔ کئی بار گرفتار ہوا، مگر کسی نہ کسی طرح سزا سے بچ نکلتا رہا۔ پھر ایک دن ایک قتل کے مقدمے میں اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ اپیلیں بھی ہوئیں، مگر فیصلہ نہ بدلا۔ پھانسی سے چند دن پہلے اس کی ماں آخری ملاقات کے لیے جیل پہنچی۔ بیٹے نے ماں کا ہاتھ تھاما اور کہا: “امّاں! اللہ جانتا ہے، جس قتل کی سزا مجھے ملی ہے، وہ قتل میں نے نہیں کیا۔” ماں پریشان ہو کر ایک بزرگ درویش کے پاس گئی اور ساری بات بتائی۔ درویش کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: “اپنے بیٹے سے کہنا… وہ بھینس شاید آج بھی اسے نہیں بھولی۔” ماں حیران رہ گئی۔ جیل واپس آ کر اس نے بیٹے…

Read more

گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں ایک غریب عورت اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ غربت اس گھر کی ایسی مہمان تھی جو چاہے جتنی بار نکالو، اگلے دن پھر دروازے پر کھڑی مل جاتی۔ گھر میں اناج ناپ کر استعمال ہوتا، آٹا گوندھتے وقت عورت کی نظریں پیالے میں موجود آٹے پر ہوتی، اور چولہے پر روٹی پکاتے ہوئے وہ پہلے بچوں کی روٹیاں گنتی، پھر اپنے لیے کوئی چھوٹا سا ٹکڑا بچا لیتی۔ ایک دن اسے کچھ گندم کے دانے نصیب ہوئے۔ اس نے انہیں صاف کیا اور گھر کے صحن میں ایک چٹائی پر پھیلا دیا تاکہ ہوا لگ جائے اور دانوں کی نمی نکل جائے۔ پھر وہ گھر کے دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ اگلی صبح جب وہ دانے سمیٹنے آئی تو اچانک اس کی نظر ایک لمبی قطار پر پڑی۔ چیونٹیاں ایک کے پیچھے ایک چلی آ رہی تھیں۔ کوئی ایک دانہ اٹھائے…

Read more

تُو نے وہ قصہ سُنا ہے کہ ہندوستان میں ایک عقلمند نے دوستوں کے ایک گروہ کو دیکھا، بھوکے، تھکے ہوئے، بے ساز و سامان اور ننگے، سفر سے دراز راستہ سے آ رہے تھے، اُس کی دانائی کی محبت جوش میں آئی اور اُن کو تپاک سے سلام کیا اور پھول کیطرح کِھل گیا۔ بولا، میں جانتا ہوں کہ بھوک سے پورا معدہ خالی ہونے سے تم پر میدانِ کربلا کی سی مصبتیں جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن خدا کے لئے اے دوستو! تم ہاتھی کے بچے کو ہر گز نہ کھانا۔ جس جانب تم اب جا رہے ہو، ہاتھی ہے، دل و جان سے میری نصیحت سُن لو، تمہارے راستے میں ہاتھی کے بچے ہیں جن کا شکار تمہیں بہت مرغوب ہے، نہایت عمدہ اور پاکیزہ اور موٹے ہیں، لیکن اُن کی ماں گھات میں رہتی ہے، اپنے بچے کی خاطر سینکڑوں میل کے راستہ سے وہ روتی…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں دو دوست رہتے تھے۔ دونوں نے تجارت کرنے کا ارادہ کیا اور ایک ساتھ سفر پر روانہ ہوئے۔ ان میں سے ایک نہایت عقل مند مگر حد سے زیادہ چالاک تھا۔ وہ اپنی چالاکیوں اور لوگوں کو دھوکا دینے کی عادت کی وجہ سے مکار چند کے نام سے مشہور تھا۔ دوسرا بہت سادہ لوح اور غافل تھا۔ وہ نفع اور نقصان میں بھی زیادہ فرق نہیں کر پاتا تھا، اس لیے لوگ اسے بھولا رام کہتے تھے۔ دونوں دوست کئی دن تک سفر کرتے رہے۔ راستے میں مختلف منزلیں طے کرتے ہوئے ایک دن انہیں اچانک ایک تھیلا نظر آیا۔ انہوں نے قریب جا کر دیکھا تو اس میں اشرفیوں کی بڑی مقدار موجود تھی۔ دونوں یہ خزانہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر سوچتے رہے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ مکار چند نے کہا: “بھائی! کبھی…

Read more

ایک  بادشاہ کا  ایسے علاقے  سے گزر ہوا جہاں کے لوگ نہر سے  پانی پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کیلئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز پہاڑی علاقے کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کوئی کھیتی باڑی کرتا، کوئی مویشی پالتا اور کوئی جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کے گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور دو چھوٹے بچے تھے۔ حامد دن بھر جنگل میں محنت کرتا اور شام کو لکڑیاں بیچ کر جو کچھ ملتا، اسی سے گھر کا چولہا جلتا۔ حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر کہتے: “حامد کے پاس دولت نہ ہو، لیکن اس کے دل میں خیانت نہیں۔” ایک دن صبح حامد حسبِ معمول اپنی کلہاڑی لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ اس روز موسم کچھ عجیب تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ حامد نے…

Read more

برطانوی راج میں گاؤں سے پکڑ کر نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کیا جاتا تھا۔ اسی چکر میں ایک مراثی کا بیٹا بھی پکڑ کر انہوں نے زبردستی فوج میں بھرتی کرنے کیلئے پکڑا تو اسے لیجاتے ہوئے مراثی کی ماں وہاں پہنچ گئی اور آفیسر سے بولی“پتر۔۔۔! اے مراثیاں دا بال کدھر لے چلیا اے۔۔۔؟”تو آفیسر گھوڑے پر بیٹھے بولا “ماں جی۔۔۔! ملکہ برطانیہ نوں تہاڈے منڈے دی جنگ وچ لوڑ پے گئے اے۔۔۔!”تو ماں بولی “پتر۔۔۔! ملکہ نوں آکھیں کہ جے گل مراثیاں تے آگئی اے تے فیر صلح ای کر لو”برطانوی راج میں گاؤں سے پکڑ کر نوجوانوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کیا جاتا تھا۔ اسی چکر میں ایک مراثی کا بیٹا بھی پکڑ کر انہوں نے زبردستی فوج میں بھرتی کرنے کیلئے پکڑا تو اسے لیجاتے ہوئے مراثی کی ماں وہاں پہنچ گئی اور آفیسر سے بولی“پتر۔۔۔! اے مراثیاں دا بال کدھر لے چلیا…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں ایک نہایت دانا، رحم دل اور انصاف پسند قاضی ہوا کرتے تھے۔ ان کے فیصلوں کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ قاضی صاحب مجرم کو صرف سزا نہیں دیتے تھے، بلکہ ایسی تدبیر کرتے کہ مجرم خود اپنے جرم کا راز کھول دیتا۔ ایک دن شہر کا ایک مالدار تاجر گھبرایا ہوا عدالت میں پہنچا۔ اس نے پریشانی سے کہا: “قاضی صاحب! میری دکان سے ہیروں کی ایک قیمتی پوٹلی غائب ہوگئی ہے۔ مجھے شک ہے کہ میرے چار ملازموں میں سے ہی کسی نے یہ چوری کی ہے، کیونکہ دکان کی چابی انہی چاروں کے پاس ہوتی ہے۔” قاضی صاحب نے غور سے اس کی بات سنی اور اطمینان سے بولے: “فکر نہ کرو، کل تک چور خود سامنے آ جائے گا۔” انہوں نے فوراً چاروں ملازموں کو عدالت میں طلب کیا۔ ہر ایک…

Read more

ایک بادشاہ نے ایک بے گناہ قیدی کے قتل کا حکم دے دیا۔ قیدی مایوسی کے عالم میں بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ بادشاہ نے اسے بڑبڑاتے دیکھا تو وزیر سے پوچھا: “یہ کیا کہہ رہا ہے؟” وزیر نے جواب دیا: “حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ معاف کرنے والوں کو اللہ پاک پسند فرماتا ہے۔” وزیر کی بات سن کر بادشاہ کا دل نرم پڑ گیا اور اس نے فوراً قیدی کی رہائی کا حکم دے دیا۔ ایک مصاحب نے فوراً کہا: “حضور! یہ آپ کو گالیاں دے رہا تھا، وزیر جھوٹ بول رہا ہے!” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وزیر کا وہ جھوٹ جو کسی کی جان بچا دے اور نیکی کی طرف لے جائے، تیرے اُس سچ سے بہتر ہے جو دلوں میں نفرت اور فساد پیدا کرے۔” سبق:ہر سچ بولنا ضروری نہیں، خاص طور پر وہ سچ جو کسی کی بھلائی کے بجائے فساد پیدا کرے۔…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز پہاڑی علاقے کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کوئی کھیتی باڑی کرتا، کوئی مویشی پالتا اور کوئی جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ اسی گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کے گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور دو چھوٹے بچے تھے۔ حامد دن بھر جنگل میں محنت کرتا اور شام کو لکڑیاں بیچ کر جو کچھ ملتا، اسی سے گھر کا چولہا جلتا۔ حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر کہتے: “حامد کے پاس دولت نہ ہو، لیکن اس کے دل میں خیانت نہیں۔” ایک دن صبح حامد حسبِ معمول اپنی کلہاڑی لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ اس روز موسم کچھ عجیب تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل میں غیر معمولی خاموشی تھی۔ حامد نے…

Read more

ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا!…

Read more

220/3958
NZ's Corner