بلاعنوان
مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو بے دھیانی میں ایک گہرے گڑھے میں جا گرے۔باہر کھڑے مینڈکوں نے جب نیچے جھانک کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ گڑھا ان دونوں کی طاقت سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔انہوں نے اوپر سے آوازیں دینا شروع کر دیں:“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل سکو گے۔فضول کوشش مت کرو، ہار مان لو…یہیں اپنی موت کا انتظار کرو۔”ایک مینڈک نے یہ سب سنا تو اس کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔چند کمزور سی کوششوں کے بعد وہ دل شکستہ ہو کر وہیں دم توڑ گیا۔مگر دوسرا مینڈک مسلسل جدوجہد کرتا رہا۔وہ جگہ بدل بدل کر، بار بار چھلانگیں لگاتا رہا۔اوپر کھڑے مینڈک زور زور سے آوازیں کستے رہے، سیٹیاں بجاتے رہے،اور کہتے رہے:“مت ہلکان ہو!موت اب تیرا مقدر بن چکی ہے!”لیکن وہ مینڈک اور زیادہ طاقت سے کوشش کرتا رہا…اور آخرکار حیرت انگیز طور پر گڑھے سے…
بلاعنوان 😂
ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا . وہ شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے. پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے .پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا’’موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو…
*بادشاہ اور درویش*
ایک دفعہ کا ذکر ہے، خلیفہ ہارون رشید اپنے محل کے جھروکے میں بیٹھے تھے، جہاں سے دریا کا خوبصورت منظر نظر آ رہا تھا۔ دور افق پر جہاز چل رہے تھے اور ریاست کی خوشحالی کا منظر تھا۔ اسی دوران، ان کی نظر نیچے صحن میں کھڑے بہلول دانا پر پڑی، جو اپنی درویشانہ حالت میں موجود تھے۔ ہارون رشید، جو بہلول کی دانشمندی اور بے باکی کے قائل تھے، اکثر ان سے پیچیدہ مسائل پر رائے لیا کرتے تھے۔خلیفہ نے بہلول کو اوپر بلایا اور ان سے ایک سوال پوچھا۔ یہ سوال ظاہری طور پر سادہ تھا، لیکن اس کے اندر ریاست کے عدالتی نظام اور حکمران کی ذمہ داریوں کا گہرا امتحان چھپا ہوا تھا۔ہارون رشید نے پوچھا: “بہلول! چور کے بارے میں کیا حکم ہے؟”خلیفہ کا سوال اسلامی شریعت کی حد کی طرف اشارہ کر رہا تھا، جس میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ وہ…
وفادار کتا
کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔ ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے گیا۔ وہ زور زور سے بھونکنے لگا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔ بوڑھے نے اسے کئی بار وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن موتی بار بار اسی جگہ واپس آ جاتا اور زمین کریدنے لگتا۔ آخرکار بوڑھے نے سوچا کہ شاید اس جگہ کوئی خاص چیز موجود ہے۔ اس نے پھاوڑا اٹھایا اور زمین کھودنا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد پھاوڑا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ بوڑھے نے مٹی ہٹائی تو وہاں سے ایک پرانا گھڑا نکلا، جس میں…
جامن والا بابا اور تنہائی کا خاتمہ
کسی محلے میں ایک بڑا سا مکان تھا۔ اتنا بڑا کہ اس میں کئی خاندان آرام سے رہ سکتے تھے۔ اس مکان میں بڑے میاں اکیلے رہتے تھے۔ بڑے میاں کا گھر بھائیوں بھائیوں کا کرتا تھا، کوئی نہیں تھا جس سے باتیں کرکے بڑے میاں اپنا دل بہلاتے۔ بڑے میاں کی بیوی اللہ میاں کو پیاری ہو چکی تھیں، کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ دو بھائی تھے، دونوں خوب تعلیم حاصل کرکے پرائے دیسوں میں بس گئے، وہیں شادیاں کر لیں اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔محلے میں بڑے میاں کے قرابت دار تھے مگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ بڑے میاں کے گھر آکر ان کی خیریت معلوم کرتے اور ان سے باتیں کرتے۔ نوجوان اپنے کام دھندوں میں مصروف رہتے اور بزرگ اپنے ناتی پوتے میں مگن رہتے۔ کبھی کبھار کوئی رشتہ دار گھڑی دو گھڑی کے لیے آ بھی جاتا تو…
نادانوں کو نصیحت
کچھ بندروں کی ایک ٹولی کسی پہاڑ پر رہتی تھی اور وہاں کے پھل پھول اور گھاس پھوس پر گزارا کرتی تھی۔ اچانک ایک اندھیری رات میں برف باری ہونے لگی اور سردی کی شدت سے انھیں اپنا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوا۔ وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر دوڑنے لگے اچانک انہوں نے راستے میں ایک جگنو پڑا ہوا پایا اور اس خیال سے کہ یہ چنگاری ہے اس کے ارد گرد لکڑیاں جمع کرنے لگے اور پھونک مارنے لگے۔ ان کے قریب ہی ایک درخت پر ایک پرندہ بیٹھا ہوا تھا اس نے آواز لگائی۔ یہ آگ نہیں ہے اس کی طرف راغب مت ہونا لیکن اس لاحاصل کام سے وہ باز نہ آئے ۔ اتفاقاً اس جگہ ایک دوسرا پرندہ آگیا اور پہلے پرندے سے کہنے لگا۔ غم مت کرو۔ تمہاری بات سن کر وہ باز نہ رہیں۔ بلکہ الٹا تمہیں ہی غم ہو گا۔ ایسے…
کتوں کا کھانا
سرکاری افسر کو تین چار ماتحتوں کے ساتھ اپنی دکان کی طرف آتا دیکھ کر دکاندار نے اپنی حالت ٹھیک کی اور جلدی سے گدی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ جوڑ کر انہیں سلام کیا اور بٹھانے کے لیے اپنی دھوتی کے پلو سے کرسیاں صاف کرنے لگا۔ وہ لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ان کے کھانے کے لیے خشک میوہ اور پینے کے لیے پھلوں کا رس آ گیا۔ افسر نے کھانے پینے کے بعد اپنی مونچھوں پر انگلیاں پھیریں اور دکاندار سے حساب کتاب کا رجسٹر لے کر جانچ پڑتال کرنے لگا۔ ایک صفحے پر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ وہ حیران بھی ہوا اور مسکرایا بھی۔ اس نے وہ صفحہ اپنے ماتحتوں کو دکھایا۔ وہ بھی پڑھ کر مسکرانے لگے۔ “کیسے لوگ ہیں…؟ انکم ٹیکس بچانے کے لیے کتے کو ڈالی گئی روٹی کے ٹکڑے کا خرچ بھی درج کر دیتے ہیں۔” کھلے ہوئے صفحے…
دوستی
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں بشیر اور نذیر نامی دو گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔ تھے تو وہ دوست، لیکن دونوں میں اتنی گہری دوستی تھی کہ کسی کو اندازہ ہی نہ ہو پاتا کہ دوست ہیں یا سگے بھائی۔ بلکہ کوئی اجنبی جب پہلی بار ان سے ملتا تو اسے یہی گماں ہوتا کہ دونوں بھائی ہیں اور ان کے درمیان بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ دونوں کی شادیاں بھی اکٹھی ہوئیں۔ گاؤں کی روایت کے مطابق دونوں نے اپنی بیویوں کے لیے سونے کا جو زیور بنوایا وہ بالکل ایک جیسا بنوایا۔ خیر وقت گذرتا رہا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد نذیر نے بشیر کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ طرح طرح کے لذیذ کھانے بنائے گئے۔ خوب محفل جمی اور برخواست ہوئی۔ دعوت کو ایک ہی روز گذرا تھا کہ نذیر کھیتوں سے کام کاج کر کے گھر لوٹا تو دیکھا صحن…
بلاعنوان
ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا، کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی ، تو وہ دیہاتی بڑے میاں محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے،…
کسی کو راز دار نہ بناؤ
ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں…
ڈاکوؤں کی توبہ
ایک شہر میں چند خطرناک ڈاکو آئے۔ وہ چوری اور لوٹ مار کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جب انہیں گرفتار ہونے کا خوف لاحق ہوا تو ان کے سردار نے ایک چال سوچی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم سب درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زاہدانہ لباس پہنیں گے، ہاتھوں میں تسبیح رکھیں گے اور ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ اس طرح کسی کو ہم پر شک نہیں ہوگا۔“ چنانچہ سب نے درویشوں کا لباس پہن لیا اور شہر کی ایک مہمان سرائے میں جا ٹھہرے۔ وہ دن رات تسبیح پڑھنے کا دکھاوا کرتے۔ کچھ ہی دنوں میں ان کی شہرت پھیل گئی کہ شہر میں چند نیک اور پرہیزگار درویش آئے ہیں۔ یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ بھی ان کی زیارت کے لیے آیا اور انہیں اپنے محل میں دعوت دی۔ بادشاہ کا اکلوتا بیٹا عرصے سے فالج کے مرض…
مرغے میاں کو اپنی آواز سے عشق تھا۔ صبح کی پہلی کرن ابھی افق پر نمودار بھی نہ ہوتی کہ وہ چھت پر چڑھ کر گردن اکڑاتا، سینہ پھلاتا، آنکھیں بند کرتا اور اپنی پوری قوت سے بانگ دینا شروع کر دیتا۔ اس کے نزدیک یہ محض اذان نہیں تھی، ایک فن تھا، ایک عبادت تھی، ایک ایسا اعلان تھا جسے وہ چاہتا تھا کہ دنیا کے آخری کنارے تک سنا جائے۔ مگر افسوس کہ اس کے فن کے سب سے بڑے ناقد اس کے اپنے گھر والے تھے۔ ابھی پہلی بانگ مکمل نہ ہوتی کہ کبھی مالک کی چپل فضا میں اڑتی، کبھی مالکن کی ڈانٹ آسمان سر پر اٹھا لیتی، اور کبھی مالک غصے میں باہر نکل کر اسے یوں بھگاتا جیسے اس نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو۔ مرغے میاں دل ہی دل میں کڑھتے، “آخر میری آواز میں خرابی کیا ہے؟ دنیا میں گلوکاروں…
محنت اور اخلاص
شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک شخص کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان بہت بڑی نہیں تھی، نہ اس پر کوئی شاندار بورڈ لگا تھا اور نہ ہی اندر کوئی غیر معمولی سجاوٹ۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صبح دکان کھلتے ہی گاہک آنا شروع ہوجاتے اور شام تک رش کم ہونے کا نام نہ لیتا۔ کوئی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز لینے آتا، کوئی پرانا گاہک کسی نئے شخص کو ساتھ لے آتا اور کوئی صرف اس لیے آتا کہ اسے معلوم تھا یہاں چیز اچھی ملے گی اور دکاندار سے بات کرتے ہوئے عزت بھی ملے گی۔ اس دکاندار نے یہ مقام ایک دن میں حاصل نہیں کیا تھا۔ برسوں سے وہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چیز کا معیار اچھا رکھتا، گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا، کسی کو دھوکا نہ دیتا، معمولی نفع پر بھی خوش ہوجاتا اور اگر کسی…
ولی کامل اور لالچی آدمی
ایک مرتبہ ایک بزرگ پہاڑوں کی طرف سفر کر رہے تھے۔کچھ دور جانے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ایک آدمی مسلسل ان کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ بزرگ نے رک کر پوچھا: “بھائی! میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو؟ تمہیں کیا چاہیے؟” آدمی نے بڑی عاجزی سے کہا: “حضور! بہت غریب ہوں، اگر کچھ عنایت ہو جائے تو زندگی سنور جائے۔” بزرگ نے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا… ☝️اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پہاڑ سونے کا پہاڑ بن گیا! 😮 بزرگ آگے چل پڑے۔ کچھ دیر بعد مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی پھر پیچھے موجود تھا۔ پوچھا: “اب کیا چاہیے؟” وہ بولا: “حضور! یہ تو بہت تھوڑا ہے…” 😐 بزرگ نے دوسری طرف موجود پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی۔ ☝️وہ پہاڑ بھی سونے میں تبدیل ہو گیا۔ پھر تیسرا پہاڑ…پھر چوتھا پہاڑ… دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف سونے کے پہاڑ کھڑے تھے۔ ✨ بزرگ نے سوچا…
بارہ شہزادیوں کا پراسرار راز
ایک تھا بادشاہ، جس کی بارہ لڑکیاں تھیں، اور سب کی سب بے حد خوبصورت تھیں۔ سب ایک ہی ساتھ رہتیں اور ایک ہی کمرے میں سوتیں، جہاں ان کی چارپائیاں برابر برابر لگی ہوئی تھیں۔ جب لڑکیاں سو جاتیں تو بادشاہ خود آ کر باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیتا۔ بادشاہ کو ڈر رہتا تھا کہ کہیں لڑکیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لیے وہ ہر رات دروازہ بند کر دیتا اور صبح سویرے ہی کھولتا تھا۔ایک دن صبح جب بادشاہ دروازہ کھولنے آیا، تو یہ دیکھ کر اسے بڑا تعجب ہوا کہ بارہوں لڑکیوں کے جوتے ایک قطار میں رکھے ہوئے ہیں، ہر جوتے کی ایڑی گھسی ہوئی ہے اور جوتے گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ لڑکیاں ضرور رات کو کہیں گئی تھیں، مگر وہ باہر کیسے گئیں، یہ اس کی سمجھ میں نہ آیا۔ اس نے لڑکیوں سے پوچھنا…
باپ کا آخری سبق…..
ایک صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا: “بیٹا! جب میرا انتقال ہو جائے تو میری ایک آخری خواہش ضرور پوری کرنا۔ مجھے میرے پرانے موزے پہنا کر دفن کرنا۔” بیٹے نے حیرت سے پوچھا:“ابا جان! آپ یہ کیسی خواہش کر رہے ہیں؟” والد نے صرف اتنا کہا:“وقت آنے پر تم خود سمجھ جاؤ گے۔” کچھ عرصے بعد وہ صاحب انتقال کر گئے۔ بیٹے نے غسل اور کفن کا انتظام شروع کیا تو اسے اپنے والد کی آخری خواہش یاد آئی۔ اس نے عالمِ دین سے کہا: “حضرت! میرے والد کی خواہش تھی کہ انہیں ان کے پرانے موزے پہنا کر دفن کیا جائے۔” عالمِ دین نے نرمی سے جواب دیا: “بیٹا! میت کو شریعت کے مطابق کفن دیا جاتا ہے، اس لیے موزے پہنانے کی اجازت نہیں۔” بیٹے نے بہت اصرار کیا، مگر عالمِ دین اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ بیٹا…
عقل مند کسان اور چالاک نائی
پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے سرسبز قصبے میں “رحیم بخش” نامی ایک غریب لیکن بہت سمجھدار کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس زمین کا ایک چھوٹਾ سا ٹکڑا تھا جس پر وہ دن رات محنت کرتا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا تھا۔ قصبے کے لوگ اس کی دیانت داری اور حاضر دماغی کی وجہ سے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔اسی قصبے میں ایک نائی رہتا تھا جس کا نام “فتح علی” تھا۔ فتح علی کو اپنی چالاکی اور زبان درازی پر بڑا ناز تھا۔ وہ سارا دن دکان پر بیٹھ کر لوگوں کے بال کاٹنے کے بہانے قصبے کی جھوٹی سچی خبریں اکٹھی کرتا اور لوگوں کو باتوں میں الجھا کر ان کی جیبیں ہلکی کرنے کے نت نئے طریقے سوچتا رہتا تھا۔ ایک دن فتح علی نے سوچا کہ کیوں نہ اس عقل مند کسان رحیم بخش کو کسی طرح بیوقوف بنایا…
آخری انتظار
اصغر صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساری زندگی انہوں نے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزار دی تھی۔ اب پنشن معمولی تھی، مگر دل مطمئن تھا۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ سب کی شادیاں ہو چکی تھیں اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ اصغر صاحب اکثر اپنے بڑے بیٹے افضل کو فون کرتے۔ “بیٹا، فرصت ملے تو گھر آ جایا کرو… تمہیں دیکھے بہت دن ہو گئے ہیں۔” افضل ہر بار یہی کہتا: “ابا، ضرور آؤں گا… بس کام ذرا کم ہو جائے۔” اصغر مسکرا کر کہتے: “کام تو چلتا ہی رہتا ہے بیٹا۔” پھر خاموش ہو جاتے۔ ایک جمعرات کو اصغر نے دوبارہ افضل کو فون کیا۔ “بیٹا، اس اتوار آ سکو تو ضرور آنا۔ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” افضل نے پوچھا: “ابا، خیریت تو ہے؟” اصغر ہنسے: “ہاں بیٹا، بالکل خیریت ہے۔ یہ بات فون پر نہیں بتاؤں گا……
چار دوست
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے۔ ان کے نام فہد، دانش، اسلم اور شجاع تھے۔ وہ چاروں اکیلے تھے، اس دنیا میں ان کا کوئی اپنا باقی نہ رہا تھا، لہذا انہوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا اور آپس میں تہیہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں گے اور کبھی ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیں گے۔ان چاروں میں سے شجاع بہت خوب صورت تھا، صورت کے ساتھ ساتھ اس کی سیرت بھی بہت اچھی تھی۔ وہ نیک سوچ رکھنے والا لڑکا تھا جبکہ باقی تینوں شر کی طرف مائل تھے۔ وہ اکثر الٹے سیدھے کام کرتے رہتے۔ ایک دن ان تینوں نے سوچا کہ انہیں ایک گروہ بنا کر ڈاکہ زنی شروع کرنی چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد مال دار بن جائیں، مگر شجاع نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی اور کہا:“دوستو، کیا تم یہ…
ماں کے زخمی پاؤں , بیٹے کے آنسو اور رب کی رحمت
شہر کے ایک بازار میں زاہد نام کا ایک غریب لڑکا کپڑے بیچ کر اپنی بوڑھی اور نابینا ماں کا سہارا بنا ہوا تھا۔ ایک دن ماں نے کہا: “بیٹا! میری چپل ٹوٹ گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے پاؤں میں کنکریاں چبھتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میرے لیے ایک نئی چپل لے آنا۔” زاہد نے فوراً وعدہ کر لیا، مگر اگلے تین دن بازار میں اتنا مندا رہا کہ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، وہ صرف گھر کے کھانے کے لیے کافی ہوتے۔ ہر شام زاہد شرمندگی سے خالی ہاتھ گھر لوٹتا۔ ایک رات اس نے اندھیرے میں ماں کے پاؤں دیکھے تو اس کے دل کو دھچکا لگا۔ پاؤں پر کنکریوں کے چھوٹے چھوٹے زخم تھے۔ زاہد نے ماں کے پاؤں اپنے ہاتھوں میں لیے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اللہ سے فریاد کرنے لگا: “یا اللہ! میں کتنا مجبور ہوں کہ اپنی ماں…













