Author Archives: NZ's Collection

Hubo un tiempo en que un rey muy justo gobernaba un vasto imperio. Sus súbditos lo amaban, pero ese año las cosechas se habían arruinado por la falta de lluvia. En muchas casas, las estufas se habían enfriado, el hambre se reflejaba en los ojos de los niños y la impotencia en los rostros de los ancianos. Cuando el rey abrió el tesoro, descubrió que, debido a la hambruna continua y a la ayuda anterior, no quedaba suficiente riqueza para repartir generosamente entre todos los que acudieran.Esto lo carcomía por dentro. Sabía que si anunciaba ayuda, junto con los verdaderamente necesitados, también acudirían aquellos que tenían la costumbre de recibir solo lo que se les ofrecía gratuitamente; y si no la anunciaba, los verdaderamente merecedores morirían de hambre. Inmediatamente convocó a la corte. El ministro, el consejero, el general, el erudito, el mercader, todos se reunieron. El rey preguntó:“¿Qué se…

Read more

Unos leones cazaban un burro en el bosque. El burro estaba gravemente herido, así que un viejo león dijo: «En lugar de matarlo o comérselo, es mejor que lo cuiden y lo críen».Obedeciendo al viejo león, los leones adoptaron al burro y lo cuidaron con esmero hasta que se convirtió en su fiel compañero.Un día, el mismo viejo león dijo: «Ahora es el momento de devolver a este burro a su comunidad».Los leones lo hicieron, se llevaron al burro y se lo entregaron a la comunidad de burros, diciendo: «Este burro es diferente a los demás porque es nuestro burro protegido».Los burros lo aceptaron inmediatamente como su líder ygracias al apoyo de los leones, obedecían todas sus órdenes. Y temían la desobediencia.Porque cualquier burro que desobedeciera las órdenes de este burro jefe, este lo capturaría y se lo entregaría a los leones, quienes lo despedazarían y se lo comerían. Así,…

Read more

Al pasar junto a un pozo abandonado, el conejo oyó la voz del viejo zorro: «¡Oye, sácame! ¡Que alguien me saque!». El pozo llevaba mucho tiempo abandonado. Quedaba poca agua. Estaba casi medio lleno de polvo y hojas secas acumuladas durante años.Un tronco de palmera había caído sobre el borde del pozo, en el que una cuerda estaba enrollada alrededor de una rueca. Un extremo de la cuerda estaba atado a otra cuerda. Del otro extremo, un cubo, que solía estar dentro del pozo, estaba atado. Tenía varios agujeros.Una voz volvió a salir del pozo:«Oye, ¿hay alguien que pueda sacar a este viejo de aquí?…»El conejo levantó la vista y preguntó: «¿Pero cómo llegaste aquí?…»El zorro dijo: «¡Oye, hijo! Pasaba por aquí de noche.A mi edad, ni la vista ni el intelecto funcionan. Resbalé y caí aquí. Conejo, querido, sácame». El pequeño y hermoso conejo era solo un conejo. Débil,…

Read more

ایک ویران کنویں کے نزدیک سے گزرتے وقت خرگوش نے بوڑھی لومڑی کی آوازیں سنیں:”ارے بچاؤ! کوئی مجھے باہر نکالو!“کنواں عرصے سے ویران پڑا تھا۔اس میں تھوڑا سا پانی باقی ر ہ گیا تھا۔برسوں کی دھول اور سوکھے پتوں سے کنواں تقریباً آدھا بھر گیا تھا۔کنویں کی منڈیرپر کھجور کاایک تنا گرا ہوا تھا جس پر ایک چرخی پر رسی لپٹی ہوئی تھی ۔ رسی کا ایک سراتنے سے بندھا رہتا تھا۔دوسرے سے بالٹی بندھی تھی جوعموماً کنویں کے اندر ہی پڑی رہتی تھی ۔اس میں کئی سوراخ تھے۔کنویں میں سے پھر آواز آئی:”ارے کوئی ہے جو اس بوڑھی دکھیا کو باہر نکالے․․․․․؟“خرگوش نے جھانک کر پوچھا”مگر تم یہاں آئے کیسے․․․․․؟“لومڑی بولی ”ارے بیٹا ! رات کے وقت ادھر سے گزررہی تھی ۔ اس عمر میں نہ تو بینائی کام کرتی ہے اور نہ عقل۔پیر پھسلا اور میں یہاں آپڑی ۔خرگوش میرے لال ،مجھے باہر نکالو۔“خوبصورت ننھا مناخرگوش محض خرگوش…

Read more

چوہدری فتح خان کا گاؤں میں اپنا ہی دبدبہ تھا۔ زمینوں کے مالک تھے، لیکن جدید ٹیکنالوجی سے اتنے ہی دور تھے جتنا ایک معصوم طالب علم ریاضی سے۔ ایک دن ان کے بیرونِ ملک مقیم بیٹے نے انہیں محبت میں آخری ماڈل کا چمکتا ہوا آئی فون تحفے میں بھیج دیا۔چوہدری صاحب نے گاؤں کے چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر فخریہ انداز میں فون میز پر رکھا اور اپنے سب سے وفادار ملازم “کرامتے” سے بولے:“کرامتے! اس فون کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ایک غائبانہ بی بی بیٹھتی ہے، جس کا نام ‘سیری’ (Siri) ہے۔ تم اس سے دنیا کا کوئی بھی سوال پوچھو، وہ فوراً بول کر جواب دیتی ہے!”کرامتے نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر فون کو دیکھا اور بولا:“چوہدری جی! یہ تو پھر بڑی کمال کی مخلوق ہوئی، لیکن کیا یہ ہمارے گاؤں کے مسئلوں کا علاج بھی بتا سکتی…

Read more

ایک دن مرزا صاحب نے بیگم کی روز روز کی ڈانٹ سے بچنے اور گھر میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بازار گئے اور ایک چمکتا ہوا سمارٹ روبوٹک ویکیم کلینر خرید لائے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ اب گھر میں صفائی کے لیے کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑیں گی، کیونکہ یہ ننھی سی گول مشین مصنوعی ذہانت سے لیس ہے!بیگم نے مشکوک نظروں سے اس کالے رنگ کے ڈش نما روبوٹ کو دیکھا اور بولیں:“مرزا! یہ جھاڑو ہے یا ہمارے گھر کے سکون کا صفایا کرنے والی کوئی نئی مصیبت؟”مرزا صاحب نے فخریہ گردن اکڑا کر کہا:“بیگم! یہ جدید سائنس کا شاہکار ہے۔ تم بس بٹن دبتے دیکھو، یہ روبوٹ اس گھر کا سب سے عقل مند رکن ثابت ہوگا!”مرزا صاحب نے بڑی شان سے موبائل ایپ کھولی اور سٹارٹ کا بٹن دبا دیا۔ روبوٹ نے ایک ہلکی سی…

Read more

شرفو بہت شریف،سیدھا سادہ،لیکن بے وقوف نوکر تھا۔ایک دن بیگم صاحبہ نے اس سے کہا:”شرفو!میں ذرا باہر جا رہی ہوں۔میری ایک سہیلی آنے والی ہے،تم اسے ڈرائنگ روم میں یا میرے کمرے میں بیٹھانا اور دیکھو وہ سیدھی سادھی سی خاتون ہیں تم انھیں پریشان مت کرنا۔کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے۔“”ٹھیک ہے بی بی جی!آپ فکر نہ کریں۔“بیگم صاحبہ کے جانے کے تھوڑی دیر بعد کال بیل بجی۔شرفو نے دروازہ کھولا تو سامنے اسے ایک سیدھی سادھی سی عورت دکھائی دی۔شرفو نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔”السلام علیکم!میں بیگم صاحبہ سے ملنے آئی ہوں۔دراصل وہ․․․․“عورت نے جیسی ہی کہنا شروع کیا،شرفو ایک دم سے بولا:”ارے رے رے،آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیگم صاحبہ نے آپ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ آپ اندر آئیے،تشریف لائیے،آرام سے بیٹھ جائیں۔شرفو خاتون کو اصرار کرکے اندر لے گیا۔دراصل میں ان سے یہ کہنے آئی تھی کہ․․․․“خاتون مزید…

Read more

جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے…بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھے سے خیال رکھا حتیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا…ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے…شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے…گدھوں نے فورا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اورشیروں کی حمایت حاصل ہونے وجہ سے اس…

Read more

ایک زمانہ تھا جب ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک نہایت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اس سے محبت کرتی تھی، مگر اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ کئی گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ چکے تھے، بچوں کی آنکھوں سے بھوک جھانکتی تھی اور بوڑھوں کے چہروں پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔ بادشاہ نے خزانہ کھلوایا تو معلوم ہوا کہ مسلسل قحط اور سابقہ امداد کی وجہ سے خزانے میں اتنی دولت باقی نہیں کہ ہر آنے والے کو دل کھول کر دیا جا سکے۔یہی بات اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر امداد کا اعلان کر دیا تو واقعی ضرورت مندوں کے ساتھ وہ لوگ بھی آ جائیں گے جنہیں صرف مفت کا مال سمیٹنے کی عادت تھی، اور اگر اعلان نہ کیا تو اصل مستحق بھوک سے مر جائیں…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے شادی کی۔ 🥳🤗 شادی کے بعد حلوائی حساب لینے آیا تو پیر صاحب نے پوچھا: “پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی بولا:“حضور! آپ ھمارے خاندانی پیر ھیں، دعا ھی دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دی اور حلوائی خوشی خوشی چلا گیا۔ 😇😳 کچھ دیر بعد ایک میراثی آیا۔ 🤡 پیر صاحب نے اس سے بھی پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” 😊 میراثی بولا:“حضور! پچاس روپے بھی دے دیں اور پچاس کی دعا بھی کر دیں۔” پیر صاحب مُسکرائے اور دعا شروع کر دی 🤲 دُعا کرتے گئے…کرتے گئے…کرتے گئے… پورا ایک گھنٹہ گزر گیا! 😳 آخر دُعا ختم ھوئی تو پیر صاحب بولے: “بھائی! پتا ھی نہیں چلا دُعا اتنی لمبی ھو گئی کہ پانچ سو کی بن گئی۔ چلو اب 50 روپے تُم رکھو اور 450 مُجھے واپس کرو” 😁🤣🤣

ایک عورت کا چھوٹا بچہ گم ھو گیا۔ 😥🥀 پورا دن ڈھونڈتی رھی مگر کوئی پتہ نہ چلا۔ رات کے تقریباً ایک بجے اسے یاد آیا کہ محلے میں ایک بڑے عامل صاحب بھی رہتے ھیں۔ 😌 بس پھر کیا تھا… وہ سیدھی عامل صاحب کے گھر پہنچ گئی اور دروازہ دھڑا دھڑ بجانا شروع کر دیا۔ 🚪😳 عامل صاحب ابھی ابھی تھکے ہارے گھر لوٹے تھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے پریشان حال عورت کھڑی تھی۔ عورت روتے ھوئے بولی: “عامل صاحب! میرا بچہ صبح سے گم ھے، کوئی وظیفہ یا تعویذ دے دیں!” 😭😢 عامل صاحب نے جمائی لیتے ھوئے کہا: “بہن! رات کا ایک بج رہا ہے، صبح آ جانا…” 😴 عورت فوراً بولی: “میرا بچہ گم ھے اور آپ کو نیند کی پڑی ھے؟!” 😡 عامل صاحب نے دل میں کہا: “آج تو سونے نہیں دے گی!” 🤕 انہوں نے جلدی سے اخبار اٹھایا، ایک کونا پھاڑا،…

Read more

روسی سلطنت اور قفقاز کے پہاڑی قبائل کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں کے زمانے میں، ایک بہادر مگر نہایت سادہ مزاج روسی فوجی افسر ژلن اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ فوجی مہم سے واپس لوٹ رہا تھا۔ دونوں کو یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے محفوظ کیمپ تک پہنچ جائیں گے، مگر قسمت نے ان کے لیے ایک اور ہی امتحان لکھ رکھا تھا۔ راستے میں اچانک پہاڑوں کی اوٹ سے مسلح قبائلی جنگجو نمودار ہوئے۔ شدید مزاحمت کے باوجود دونوں گرفتار کر لیے گئے اور انہیں دور دراز پہاڑی گاؤں میں قید کر دیا گیا۔ قبائلی سردار نے اعلان کیا کہ دونوں کی رہائی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب ان کے اہلِ خانہ بھاری تاوان ادا کریں گے۔ ژلن جانتا تھا کہ اس کی بوڑھی ماں اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے اس نے جان بوجھ کر ایک غلط پتہ لکھوا…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب انسان بستیاں نہیں بسایا کرتے تھے۔ وہ قبیلوں کی صورت میں جنگلوں کے کناروں پر رہتے، اکٹھے شکار پر نکلتے اور ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے، کندھوں پر تیر و کمان، اور دلوں میں ایسا اتحاد کہ بڑے سے بڑا درندہ بھی ان کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر پاتا۔ادھر جنگل میں ہر روز کوئی نہ کوئی جانور شکار ہو جاتا۔ کبھی ہرن، کبھی نیل گائے، کبھی جنگلی بیل، کبھی خرگوش۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن ایسا آیا کہ جنگل کی خاموشی خود چیخنے لگی۔ جانوروں کی تعداد کم ہونے لگی تھی۔ بادشاہ شیر نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا۔تمام جانور جمع ہو گئے۔ہاتھی نے کہا، “ہمیں بھی انسانوں پر حملہ کر دینا چاہیے”ریچھ بولا، “نہیں، بہتر ہے جنگل چھوڑ دیں۔”بھیڑیا غصے سے بولا، “رات کے اندھیرے میں ان پر ٹوٹ پڑتے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ بُہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔ 😕😴 اس کے اسکول میں استاد اور استانی سب اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن بشیر کی ماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی کے بارے میں بات کرنا چاہیں۔ 😶🫣 استانی جی تو پہلے سے ھی بھری بیٹھی تھیں۔ بشیر کی بے وقوفی اور نا لائقی کی داستانیں بغیر کسی لگی لپٹی کے ماں کو سنا دیں اور کہا کہ یہ لڑکا اتنا نالائق ھے کہ اگر اس کا باپ زندہ ھوتا اور بینک کا مالک بھی ھوتا، تب بھی اسے نوکری پر نہیں رکھوا پاتا۔ 😡🙍 بیوہ ماں پر سکتہ طاری ھو گیا۔ وہ بغیر کچھ کہے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسکول سے چلی گئیں۔ نہ صرف اسکول بلکہ پورا…

Read more

انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ مگر حساس پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی کمزوریوں، عدمِ اعتماد یا اندرونی خوف پر قابو پانے کی بجائے کسی طاقتور، کامیاب یا بااثر شخصیت کے ساتھ وابستگی کو اپنی طاقت سمجھنے لگتا ہے. علمِ نفسیات میں اس رجحان کو Parasocial Attachment اور Basking in Reflected Glory (BIRG) کہا جاتا ہے، جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسروں کی کامیابی اور شہرت سے جڑ کر اس کی اپنی اہمیت بھی بڑھ جائے گی. یہ احساس وقتی طور پر اطمینان تو دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود اعتمادی اور ذاتی صلاحیتوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتا ہے. اسی حقیقت کو ایک تمثیلی کہانی کے ذریعے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے. ایک لومڑی کو ایک لمبی رسی ملی. اس نے رسی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھا اور دوسرا سرا خاموشی سے ایک سوئے ہوئے چیتے کی…

Read more

جنگل کی تاریخ میں اگر کسی ایک جانور کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا تھا تو وہ لومڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنی پوری سرکاری زندگی میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی۔ نہ عید آئی تو رخصت لی، نہ آندھی نے اسے روکا، نہ موسلا دھار بارش، نہ بیماری، نہ میلے، نہ تہوار، نہ کسی عزیز کی خوشی، نہ کسی اپنے کا غم۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ دربار میں موجود ہوتی اور رات گئے تک ریاست کے معاملات نمٹاتی رہتی۔ اس کی خدمت صرف ایک بادشاہ تک محدود نہ رہی۔ پہلے دادا شیر کے دور میں وہ وزیر رہی، پھر اس کے بیٹے کے ساتھ، اور اب پوتا بھی تخت پر بیٹھا تھا، مگر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر آج بھی وہی لومڑی بیٹھی تھی۔ جنگل کے کئی نوجوان پیدا ہوئے، جوان ہوئے، بوڑھے ہوئے، مگر دربار میں ایک چیز کبھی نہ بدلی…

Read more

ایک لڑکا ایک لڑکی سے بے حد مُحبت کرتا تھا لیکن سوچ رہا تھا کہ مُحبت کا اظہار کیسے کیا جائے تو اُس نے یہ طریقہ اپنایا 😄👇 لڑکا:لبنہ! میں چاہتا ھوں ہمارا بجلی کا بل ایک ھی ایڈریس پر آئے 😍🥀 لڑکی:اوہووو… تم میرا میٹر اپنے گھر لگانا چاہتے ھو؟ 🤔🙄 لڑکا:ارے نہیں یار! 😩 میں چاہتا ھوں میں تمہارے اردگرد بنیان پہن کر گھوما کروں 🤭😄 لڑکی:ہائے اللہ! بے حیائی پھیلاؤ گے؟ گندے 🤕🙅‍♀️ لڑکا:اووو ہوووو! 😑 میں چاہتا ھوں ھماری ہر چیز ایک ھو جائے 😌❤️ لڑکی:نہیں! تم زنانہ کپڑوں پہن کر بُہت پیرے لگو گو 🤧 لڑکا:یار! 😭میں کہنا چاہتا ھوں کہ میں تمہیں اپنا نام دوں 💍 لڑکی:اچھااا؟ پھر لوگ مجھے “مختار” کہیں گے؟ 😕 لڑکا:یا اللہ صبر 😵اچھا سنو… میں چاہتا ھوں میرا موبائل تمہارے فنگر پرنٹ سے کھلا کرے… 🥰📱 لڑکی چند سیکنڈ سوچنے کے بعد بولی: 👇 👇 👇 “کیوں… تو ٹونڈا…

Read more

ایک فقیر بادشاہ 👑 کے دربار میں حاضر ھوا اور بولا: “حضور! آپ کی سخاوت کے قصے دور دور تک مشہور ھیں۔” 😊👏 بادشاہ مُسکرایا: “بالکل درست سنا ھے، مانگو، کیا مانگتے ھو؟” فقیر نے اپنا کاسہ آگے بڑھایا اور کہا: “بس حضور! یہ کاسہ بھر دیجیے۔” بادشاہ نے گلے سے قیمتی ہار اتار کر کاسے میں ڈال دیا، مگر کاسہ خالی کا خالی! 😳 اس نے اشرفیوں کی بوریاں منگوا کر انڈیل دیں… مگر کاسہ پھر بھی نہ بھرا! 😲 بادشاہ نے پورا خزانہ کھول دیا… سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات… سب کچھ کاسے میں ڈال دیا… لیکن کاسہ پھر بھی خالی ہی نظر آیا! 😱 فقیر مُسکرا رہا تھا اور بادشاہ کا پسینہ نکل رہا تھا۔ 😅 آخرکار بادشاہ نے تاج اتار کر فقیر کے قدموں میں رکھ دیا اور بے بسی سے بولا: “اے درویش! خدا کے لیے بتاؤ یہ کیسا کاسہ ھے؟” فقیر زور سے ہنسا اور…

Read more

ایک جہاز بغیر اجازت اچانک ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ 😲💁‍♂️سکیورٹی والے 🧑‍✈️ دوڑتے ھوئے آئے 🏃 اور بولے: “او بھائی! آپ کون ھیں اور کہاں سے ٹپک پڑے؟” 🧐🤔 پائلٹ معصوم سا منہ بنا کر بولا: “حضور! میں پڑوسی ملک سے آیا ھوں، فیول ختم ھو گیا تھا، مجبوری میں ایمرجنسی لینڈنگ کی ھے۔” ✈️😅 حکام نے رات بھر پوچھ گچھ کی، چائے پلائی، سخت وارننگ دی کہ دوبارہ آئے تو سیدھا اندر کر دیں گے، پھر فیول بھروا کر رخصت کر دیا۔ سب نے سُکھ کا سانس لیا چلو قصہ ختم ھوا۔ 😌 لیکن اگلے دن ٹھیک اسی وقت وھی جہاز پھر آ دھمکا! 😕 اس بار جہاز خالی تھا، صرف ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ افسر دھاڑ کر بولا: “کل منع کیا تھا نا! پھر کیوں آئے ھو؟” 😡 پائلٹ ہاتھ جوڑ کر بولا: “سر جی، جو کرنا ھے بعد میں کر لیجئے گا پہلے اس خاتون کو…

Read more

500/3963
NZ's Corner