Author Archives: NZ's Collection

پشاور کے قریب ایک پرانا گاؤں تھا جہاں ایک ویران حویلی صدیوں سے خالی پڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس میں جنات کا بسیرا ہے اور جو بھی رات کو وہاں جاتا، صبح تک پاگل ہو جاتا یا کبھی واپس ہی نہ آتا۔ گاؤں کا ایک نوجوان، اکرم، جو ابھی نیا نیا نماز اور تلاوت کی طرف مائل ہوا تھا، ایک شرط کے تحت اس حویلی میں رات گزارنے پر راضی ہو گیا تاکہ گاؤں والوں کا خوف ختم کرے۔رات کے پہلے پہر، حویلی کا درجہ حرارت اچانک گر گیا اور کمرے میں عجیب سرسراہٹ گونجنے لگی۔ دیواروں پر پرچھائیاں حرکت کرنے لگیں اور ایک بھاری آواز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی: “نکل جا یہاں سے، ورنہ برا ہوگا!” اکرم کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے اپنی والدہ کی سکھائی ہوئی نصیحت یاد کی — خوف کے وقت سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور آیت الکرسی پڑھو۔…

Read more

ایک حاجی صاحب مالش کروا رھے تھے۔ 😌 اتنے میں ایک آدمی آیا اور بولا: “کیا حال ھے حاجی صاحب؟ آج کل نظر ھی نہیں آتے!” 😄 حاجی صاحب خاموش رھے… پھر وہ شخص بولا: “اچھا، میں آپ کی سائیکل لے جا رہا ھوں!” 🚲 اور سائیکل لے کر غائب! 😳 کچھ دیر بعد مالشی نے پوچھا: “حاجی صاحب! آپ کا دوست ابھی تک میری سائیکل واپس نہیں لایا؟” حاجی حیران ھو کر بولے: “کون دوست؟ میں تو اسے جانتا ھی نہیں!” 😐 مالشی سر پکڑ کر بیٹھ گیا: “حاجی صاحب! وہ تو میری سائیکل لے گیا!” 😭 حاجی صاحب بولے: “رو مت…! میں تمہیں نئی سائیکل لے دیتا ھوں۔” ❤️ دونوں دکان پر گئے… مالشی نے نئی سائیکل پسند کی، ایک چکر لگایا، پھر بولا: “حاجی صاحب! لگتا ھے سائیکل ذرا ٹیڑھی چل رھی ھے۔” 🤔 حاجی بولے: “لاؤ، میں چیک کرتا ھوں۔” حاجی سائیکل لے کر نکلے… اور…

Read more

عاصم ایک پریشان حال آدمی تھا۔اس کے چھ بچے تھے اور وہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔وہ کسی نہ کسی طرح کرائے کا مکان حاصل تو کر لیتا،مگر کچھ ہی عرصے میں مالک مکان بچوں کی تعداد سے تنگ آ جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے عاصم کو مکان خالی کرانے کا نوٹس دے دیتا۔اس طرح عاصم ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتا کہ کسی طرح مالک مکان کو راضی رکھے اور ساتھ ہی نیا مکان بھی ڈھونڈ رہا ہوتا۔ ان دنوں بھی وہ اسی پریشانی کا شکار تھا۔مالک مکان اس کی پریشانی کو نہ سمجھ رہا تھا اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعاون کرنے کو تیار تھا۔اس نے آخری مہلت دے رکھی تھی اور ہر دوسرے دن پوچھتا رہتا کہ کوئی مکان ملا؟عاصم اس سے تنگ آ چکا تھا۔وہ ایک پراپرٹی کمپنی کے کم پڑھے لکھے مالک کا ملازم تھا۔( مالک کو جو کہنا ہوتا،وہ…

Read more

Read more

سائبیریا کے گھنے اور پُراسرار جنگل میں جہاں دن کے وقت بھی رات کا سماں رہتا تھا، وہاں ایک خوبصورت اور برا اُلو رہتا تھا، اس کا نام نور تھا۔نور کو سارا جنگل عقلمند اور دانا سمجھتا تھا۔جنگل کے تمام جانور مشکل وقت میں اس سے مشورہ کرنے آتے تھے، وہ ہمیشہ ایسا مشورہ دیتا جو سننے والے کی پریشانی دور کر دیتا تھا۔نور ایک پرانے صنوبر کے درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو نوجوان ہوتی نسل اس کا دبے لفظوں میں مذاق اُڑانے لگی تھی کہ یہ تو تنہائی پسند ہے اور ہر وقت خاموش رہتا ہے، اس کی عقلمندی کی صرف کہانیاں ہی مشہور ہیں کچھ نہیں کرتا۔نوجوان لومڑی زیادہ گستاخ تھی وہ اکثر کہتی تھی کہ نور چاچا اتنا ہی سمجھدار ہے تو ہمیں شکاریوں سے محفوظ رہنے کے طریقے بتائے جس سے ہم شکاریوں کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔…

Read more

Read more

پہاڑ کے دامن میں چشمے کے قریب ایک چوہے اور ایک چوہیا نے بِل بنایا ہوا تھا۔وہ ہر روز اپنے بِل سے باہر آتے،چشمے کے قریب ہی جھولا موجود تھا،جو اُلجھی ہوئی جھاڑیوں سے بن گیا تھا۔وہ کھیلتے،اُچھلتے کودتے اور اپنے بِل میں گھس جاتے تھے۔ایک دن دونوں بِل سے باہر آئے اور چشمے کے پاس بنے جھولے پر جھولا جھولنے لگے۔اسی وقت ایک بلی قریب سے گزری۔اس نے دونوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ان دو موٹے تازے چوہوں کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا،وہ ایک پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر کافی دیر تک دیکھتی رہی۔پھر سامنے آکر بولی:”کیا تم میرے ساتھ کھیلنا پسند کرو گے؟“بلی کی آواز سن کر دونوں اپنے بِل کی طرف بھاگے بلی نے کہا:”کہاں جا رہے ہو،تم مجھے اپنا دوست ہی سمجھو۔ “”بھلا آگ اور پانی کی کیا دوستی،تم ہماری دوست کبھی نہیں ہو سکتی۔“چوہے نے بِل میں گھستے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا اسے بہت بھوک اور پیاس لگی تھی۔اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔وہ بہت پریشان تھا اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔وہ بہت خوش ہوا۔اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا۔چلو کھانے کو کچھ ملا۔جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے۔مرغ نے اس کی بات سن کر اسے جواب دیا۔قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو۔اس شخص نے مرغ سے کہا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نا کھاؤں اور بھوکا رہوں۔مرغ نے اس شخص سے کہا! سوچ لو میں تمہارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں اگر تم مجھے نا کھاؤ اور تھوڑا صبر کر لو تو ہو سکتا ہے تمہاری…

Read more

حامد کے چلتے قدم رک گئے۔اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا ۔ یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا جلدی سے ماسٹر حنیف کے گھر کے سامنے پڑے ہوئے ہزار روپے کے نوٹ کواُٹھا کر اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ ایک لمحے کے لئے اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا:” بری بات ہے،یوں راستے میں پڑی ہوئی چیز کے مالک نہیں بن جاتے ، بلکہ مالک تک تو چیز پہنچا دیتے ہیں۔یقینا یہ ماسٹر حنیف کا نوٹ ہوگا۔ ان سے پوچھ لو اور ساتھ ہی آس پاس کے دو چار گھروں سے بھی معلوم کر لو جس کا ہو اس تک پہنچا دو ، بڑا ثواب ملے گا۔“گردن جھٹخ کر وہ اپنے آپ سے بولا:”واپس کیسے کردوں میں تو مزے اُڑاوٴں گا برگر، سموسے ، چاٹ، دہی بھلے اور بہت سی مزے مزے کی چیزیں کھاوں…

Read more

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ایک جل پری سمندر کے کنارے ایک غار میں رہتی تھی۔شام کے وقت جب مچھیرے اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑنے آتے،تو جل پری کشتی کے ساتھ ساتھ تیرا کرتی اور اُن کی باتیں سنا کرتی تھی۔مچھیرے مزے مزے سے اپنے خوب صورت گاؤں ،ہرے بھرے کھیتوں اور رنگ برنگ کے پھولوں کا ذکر چھیڑتے اور یہ جل پڑی بڑے شوق سے ان کی باتیں سنتی اور حیران ہوتی۔ آخر اس کے دل میں یہ سب خوب صورت چیزیں دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک دن جل پری نے اپنے دل میں اس دریا میں تیرنے کا ارادہ کیا،جوان مچھیروں کے گاؤں کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا سمندر میں گرتا تھا۔ایک رات جب چاند نے سمندر کو اپنی کرنوں کانورانی لباس پہنا دیا،تو جل پری اُس دریا کی طرف چل کھڑی ہوئی۔دریا کا میٹھا پانی اسے بہت عجیب معلوم ہوا۔ مگر جل پری خوشی…

Read more

جو کوئی بھی کنویں سے پانی بھرنے جاتا،وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔پھر آہستہ آہستہ سب لوگوں نے کنویں سے پانی بھرنے جانا چھوڑ دیا اور بھی عجیب و غریب کئی باتیں کنویں سے متعلق مشہور ہیں سلمان اور عبداللہ شہر سے اپنے ماموں کے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔گاؤں کی صاف ستھری فضا انھیں بہت بھلی لگی۔دونوں کزن کے آنے سے حمزہ بہت خوش تھا۔وہ آپس میں بہت گہرے دوست بھی تھے۔صبح ناشتے کے دوران عبداللہ کو کچھ یاد آیا تو وہ بولا:”ماموں جان!اس گاؤں میں ایک بہت مشہور کنواں ہے۔اس کنویں کے بارے میں سب لوگ عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں۔ہمیں بھی وہ کنواں دیکھنا ہے۔“”ہاں بیٹا!وہ کنواں اپنی پُراسراریت کی وجہ سے بہت مشہور ہے،لیکن وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔“ماموں جان نے کہا۔آخر کافی منت سماجت کے بعد اُنھیں اجازت مل گئی۔وہ کنواں گاؤں سے تھوڑی دور ہے۔جہاں سے جنگل شروع ہو جاتا…

Read more

ایک غریب لکڑہارا جنگل کے قریب رہتا تھا۔وہ روز جنگل میں جاتا،لکڑیاں کاٹتا اور اسے شہر میں لے جا کر بیچ دیتا تھا۔وہ اس سوچ کے ساتھ زمین بھی کھودتا تھا کہ کبھی شاید اس میں سے اسے خزانہ مل جائے اور اس کی زندگی سنور جائے۔اسی امید کے ساتھ وہ روزانہ اپنے ساتھ جنگل میں بیلچہ اور کلہاڑی بھی لے کر بھی جاتا تھا۔ایک دن خزانے کی تلاش میں زمین کھودنے لگا۔اچانک اسے ایک بہت بڑی دیگ نظر آئی۔وہ اس دیگ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا،”لگتا ہے کہ اس دیگ کے اندر کوئی خزانہ چھپا ہوا ہے،جبھی تو اسے کسی نے جنگل میں درخت کے پاس زمین کھود کر دبایا ہوا ہے۔وہ خوشی خوشی دیگ کی طرف بڑھا تاکہ اس کے اندر ہاتھ ڈال کر خزانے کو دیکھ سکے۔ اس نے جب دیگ میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔اُن میں سے ایک مینڈک بہت بھدا اور بد صورت تھا۔اُس کے ساتھی اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔اُس وقت بھی سب اُس کا مذاق اُڑا رہے تھے تو اُسے بہت غصہ آیا۔”ہمیں دیکھ تو ایسے غصے سے رہے ہو جیسے ہمیں کھا جاؤ گے۔“ ایک مینڈک نے کہا تو باقی سب ہنسنے لگے۔ ”میں تم سب کو دیکھ لوں گا۔“ بد صورت مینڈک بولا۔تو سب اُس کا مذاق اُڑاتے ہوئے خوراک کی تلاش میں کنویں سے باہر چلے گئے۔اُن کے جانے کے بعد بھدا مینڈک سوچنے لگا کہ ان سے کیسے بدلہ لو۔پھر وہ بھی کنویں سے باہر آ گیا۔سامنے اُسے ایک سانپ نظر آیا تو مینڈک نے اُس سے کہا:”کیا تم میرے دوست بن سکتے ہو؟“”کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ سانپ مینڈک کو کھا جاتا ہے؟“ سانپ نے اُس سے پوچھا۔ ”مجھے معلوم ہے،لیکن اگر…

Read more

El juicio se estaba celebrando en el juzgado. 🙂📢La mujer más anciana del pueblo, Mai Bashiran, fue llamada a declarar. 👵El fiscal se adelantó con gran seguridad y preguntó: “¡Mai! ¿Me conoces?” 😏Mai se ajustó las gafas, miró con atención y dijo: “¡Quddus! Te conozco desde que caminabas descalzo por las calles.” “¡Y a decir verdad, me has decepcionado toda tu vida!” “Mientes… usas pelucas… le mientes a tu esposa… haces el mal a los demás… ¡y te crees muy sabio, aunque tu inteligencia es menor que un grano de gramo!” 🤣Toda la sala quedó en silencio. El abogado palideció. 😶Para evitar la vergüenza, señaló inmediatamente al otro abogado. “¡Bien, Mai! ¿Lo conoces?” Mai se rió. “¿Abdul Ghafoor? ¡Quién no lo conoce!” 😂Ha sido un adicto al trabajo desde la infancia…” “Mentiroso, inútil, vago, envidioso del éxito ajeno…” “Un abogado que nunca ha ganado un solo caso como este…” “Y…

Read more

Cuando el príncipe Alberto vio el regalo, saltó de sorpresa y alegría. Era un precioso caballo blanco, con hermosas plumas blancas y brillantes en los hombros. El príncipe Alberto saltó y montó el caballo. Se cuenta que en la antigüedad, en Grecia, vivía un príncipe Alberto, bello y digno. Gracias a sus buenas costumbres, el rey era muy amable con él. A la madrastra del príncipe Alberto no le gustaba la actitud del rey hacia él. Presentó quejas en su nombre y presionó al rey para que lo matara. El rey no quería matar al príncipe, así que le entregó una carta y se la envió a su amigo, el rey de un país vecino, amigo del padre del príncipe Alberto. En la carta, el rey escribía que “el príncipe debía ser condenado a muerte”. El príncipe Alberto pensó que, al leerla, el rey extranjero lo trataría con benevolencia. No…

Read more

Érase una vez, el jeque Chili paseaba un día a las afueras del pueblo cuando vio un pozo muy antiguo. Había grandes árboles alrededor del pozo, enredaderas colgando y una atmósfera tan misteriosa que la gente temía incluso acercarse. Los aldeanos decían que era un pozo mágico que concedía todos los deseos, pero solo a quienes tenían un corazón puro. Al oír esto, los ojos del jeque Chili se iluminaron y pensó: “¡Eso es! Hoy mi suerte va a cambiar”. Inmediatamente llegó al borde del pozo, juntó las manos, cerró los ojos y dijo: “¡Oh, pozo mágico! ¡Dame mil cofres de oro, un palacio magnífico, cien caballos y cincuenta sirvientes!”. En ese instante, una voz fuerte provino del interior del pozo: “¡Primero tira una piedra, luego pide tu deseo!”. El jeque Chili recogió una gran piedra y la arrojó al pozo con todas sus fuerzas. Unos instantes después, se oyó…

Read more

El nuevo ministro de Akbar se dio cuenta de su error y renunció para restituir a Birbal. Durante el reinado de Akbar, la sabiduría y el conocimiento de Birbal eran bien conocidos. Muchos ministros de la corte sentían celos de Birbal, incluso el hermano mayor de Akbar. Le pidió a Akbar que destituyera a Birbal de su ministerio y lo nombrara en su lugar. Birbal se enteró de esto. Antes de que Akbar pudiera tomar una decisión, Birbal renunció a su ministerio. Akbar decidió poner a prueba a su nuevo ministro. Lo llamó, le dio trescientas monedas y le dijo que las gastara de tal manera que él obtuviera cien monedas en esta vida, cien en la otra y cien que no perdiera ni en esta vida ni en la otra. El nuevo ministro estaba muy preocupado tras escuchar las preguntas de Akbar. No pudo encontrar una solución. Pasó la…

Read more

En un valle exuberante se extendía un vasto jardín. En medio, había un pozo muy antiguo. Este jardín había sido cuna de muchos árboles. Árboles como el plátano, la morera, el tamarindo y el jamun lo adornaban. Estos árboles proporcionaban sombra. Los coloridos pájaros que habitaban en ellos convertían el jardín en un jardín de flores. Mariposas de colores revoloteaban en las ramas, y las luciérnagas iluminaban las noches. Allí, en una antigua morera, había un nido de un pájaro llamado Chaman. Cerca de él, en un gran plátano, vivía un cuervo llamado Kalu. Ambos mantenían una larga amistad, pero unilateral. Chaman compartía cada ocasión feliz con su amigo. Le llevaba frutas dulces, semillas o granos a las ramas del plátano, y Kalu los tomaba con gusto, pero Shakra jamás se interesaba por su bienestar. Chaman era muy inocente y lo hacía todo con sinceridad. Un día, el clima en…

Read more

Hace siglos, un rey gobernaba Yemen. Reinaba la paz y la seguridad en el país; los súbditos no pagaban impuestos y reinaba la prosperidad. Por ello, los cortesanos y consejeros le contaban constantemente al rey lo contrario de la verdad. El blanco de sus ataques solía ser el ministro, y muchos ministros fueron destituidos y otros asesinados por el rey, lo que hizo que los cortesanos y consejeros se creyeran poderosos. Un día, el rey nombró a un nuevo ministro. Este descubrió en pocos días que el grupo jasídico de la corte era muy peligroso. El ministro se mostró cauteloso con ellos y no les dio importancia, lo que provocó que se volvieran contra él. Un día, un cortesano le susurró algo al oído al rey. El rey mandó traer una cabra y le dijo al ministro: «Toma esta cabra; dentro de un mes debería pesar esto, le daremos de…

Read more

Las lágrimas comenzaron a brotar de sus ojos. Dijo: ¡Buen hermano! Como desees. Hoy también pasaremos hambre por tercer día consecutivo. Había tanto dolor en su tono que algo le pasó al corazón de Rahimo Kaka. Habló de inmediato. Dijo con gran humildad: “¡Hermano! ¿Me das una última oportunidad?” Rahimo Kaka respondió sin rodeos: “Te quedan tres meses para pagar. Hasta que no pagues, no puedo darte más”. Estaba a punto de llorar. Dijo con voz ahogada: Después de hoy, nunca me verás pidiendo un préstamo. Solo por última vez. Rahimo Kaka levantó la mano y dijo: “Solo dilo una vez, y lo dirás”. Las lágrimas comenzaron a brotar de sus ojos. Dijo: ¡Buen hermano! Como desees. Hoy también pasaremos hambre por tercer día consecutivo. Había tanto dolor en su tono que algo le pasó al corazón de Rahimo Kaka. Inmediatamente dijo: “Está bien. Haré algo, pero esta será la…

Read more

Un apuesto joven iba en bicicleta cuando vio a un tío y una tía que, visiblemente angustiados, observaban a la gente pasar, pidiendo ayuda. El joven se detuvo y les preguntó el motivo del problema. Les dijo:“El coche está cerrado y la llave se quedó dentro”.Al oír esto, el joven, con espíritu aventurero, se emocionó y, tras pensarlo un buen rato, se le ocurrió una solución.Quitó la goma de la parte superior del cristal de la puerta del coche, ató un hilo con un nudo flojo y lo introdujo por dentro. Con mucho esfuerzo, el nudo se atascó en la cerradura. Tras tirar del hilo con fuerza, la cerradura se abrió. El joven miró a su tío con gratitud y le dio las gracias. El joven se disponía a marcharse, sintiéndose un héroe, pero justo en ese momento, la voz amortiguada de la tía llegó a sus oídos: ¡le susurraba…

Read more

Un hombre llamado Abu Nasr Al-Iyad vivía en la pobreza extrema junto a su esposa e hijos. Un día, dejando a su esposa y a sus dos hijos solos en casa, hambrientos y llorando, se dirigió a algún lugar a causa de su tristeza. En el camino, se encontró con un erudito religioso llamado Ahmad bin Miskin. Al verlo, Abu Nasr le dijo: «¡Oh, Sheikh, estoy cansado de tanto sufrimiento y tristeza!». El erudito le respondió: «Sígueme, caminaremos juntos sobre el mar». Al llegar a la orilla, el erudito le pidió que rezara dos rak’ahs de oración voluntaria (Nafl). Tras rezar, le dio una red y le dijo: «Recita Bismillah y lánzala al mar». Por primera vez, un pez grande quedó atrapado en la red. La red fue recogida. El erudito le dijo: «Ve y vende este pez en el mercado, compra comida y bebida para tu familia con el…

Read more

940/3972
NZ's Corner