گھوڑے کا سودا –
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔محلہ صوفی کے خواجہ سعد اللہ کے پاس یوں تو کافی گھوڑے اور گائے بھینسیں تھیں،جنھیں وہ بیچ چکے تھے۔اب صرف ایک گھوڑا رہ گیا تھا،جسے وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔اس کی فروخت کے لیے انھوں نے خاص خاص لوگوں سے کہہ رکھا تھا،تاکہ معزز افراد آکر سودے بازی کر سکیں۔مشہور مصنف اے ۔حمید کے والد چودھری صاحب کے پاس رئیسی ٹانگہ تھا۔ جس میں ان کے اہل خانہ سوار ہو کر سیر کرتے تھے ،لیکن گھوڑا نہیں تھا کہ جس پر وہ تن تنہا بیٹھ کر لوگوں پر رعب جماتے ۔چنانچہ انھوں نے سوچا خواجہ صاحب کا گھوڑا خریدلیتے ہیں۔ یہ بات انھیں اپنے ایک ملازم سے معلوم ہوئی تھی۔پہلے زمانے میں یہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ معزز افراد اپنی چیزیں فروخت کریں۔(جاری ہے) وہ ایک روز دو تین افراد کو لے کر خواجہ صاحب کی حویلی پر پہنچ گئے۔ ملازم اللہ…
کچھوے کا غصہ –
یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔ یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا…
قاضی کا انصاف –
ایک گاؤں میں ارمان نامی آدمی رہتا تھا اُس کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی۔ایک دن اُس نے سوچا کہ وہ نوکری ڈھونڈنے شہر جائے گا۔اُس کے پاس صرف تین اشرفیاں تھیں۔وہ اپنے سفر پر نکل گیا۔جب وہ شہر پہنچا تو اُسے وہاں بہت سے لوگ مختلف کام کرتے نظر آئے تو وہ خوش ہو گیا کہ اُسے یہاں نوکری ضرور مل جائے گی، مگر سب سے پہلے کہیں رہنے کی جگہ چاہیے۔اُس نے دیکھا کہ ایک گھر کے باہر لکھا ہے ”اوپر والا کمرہ خالی ہے۔“ اُس نے سوچا کہ وہ یہاں رہ سکتا ہے۔دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے غصے سے بھرا آدمی باہر آیا اور پوچھا کیا چاہیے۔ارمان نے کہا کہ مجھے رہنے کے لئے کمرہ چاہیے۔آدمی نے کہا کہ کرایہ تین اشرفیاں ہو گا۔(جاری ہے) ارمان گھبرا گیا کہ اُس کے پاس تو تین ہی اشرفیاں ہیں۔اس نے کہا کہ میرے پاس صرف تین اشرفیاں ہیں اور…
منحوس کون –
ایک بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ دربار میں موجود تھا کہ کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔لوگوں کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو سویرے اس کی شکل دیکھ لیتا ہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ،لہٰذا اسے ملک سے باہر نکال دیا جائے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں خود تجربہ کروں گا اور کل صبح سب سے پہلے اس کی صورت دیکھوں گا پھر کوئی دوسرا کام کروں گا۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کاد روازہ کھولا تو وہی ایک آنکھ والا آدمی کھڑاتھا بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پلٹ آیا اور دربار میں جانے کے لیے تیار ہونے لگا لباس تبدیل کرنے کے بعد جو نہی بادشاہ نے جوتے میں اپنا پاﺅں ڈالا اس میں موجود زہریلے بچھو نے…
بڑھیا اور لومڑی –
پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔ بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔(جاری ہے) اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔b اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو…
سبق آموز۔۔۔! بادشاہ اور نیل کنٹھ۔ instructive: A King and kingfisher
ایک بادشاہ کو شکار کرنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے مصاحبوں سمیت جنگل میں گیا،تاکہ پرندوں کا شکار کر سکے،لیکن وہاں انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔وہ جنگل چھوڑ کر آگے ویرانوں میں چراگاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔راستے میں کئی پہاڑیاں اور ندیاں بھی آئیں،جن کو انھوں نے عبور کیا،لیکن انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔ آخر دوپہر کے وقت وہ ایک بہت بڑی چراگاہ میں پہنچے۔یہ اتنا بڑا میدان تھا،جس کی حد نظر نہیں آ رہی تھی۔میدان کے عین درمیان میں ایک بڑا اور گھنا سایہ دار درخت کھڑا تھا۔بادشاہ اور اس کے مصاحب بے اختیار درخت کی طرف بڑھتے چلے گئے اور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سستانے لگے۔اگرچہ وہ بہت تھک چکے تھے،لیکن عادی شکاریوں کی طرح ان کی نگاہیں اب بھی درخت کی شاخوں میں بیٹھے کسی پرندے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اچانک بادشاہ کی نظر ایک کنٹھ پر پڑی جو…
سبق آموز۔۔۔! گوہ اور چیل۔۔۔! Instructive: Monitor lizard and kite
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیل اور گوہ کی دوستی ہوگئی ۔ایک دن چیل نے گوہ سے کہا۔کیوں نہ ہم پاس رہیں۔پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی“۔ گوہ نے چیل کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کر کے رہائش کے لئے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔اس میں شگاف تھا۔دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔گوہ اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد گوہ کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی۔اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گوہ کا ایک…
😂🔥 مائی بشیراں 😂💁♂️
عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ 🙂📢 گواہ کے طور پر قصبے کی سب سے بزرگ خاتون، مائی بشیراں کو بلایا گیا۔ 👵 سرکاری وکیل بڑے اعتماد سے آگے بڑھا اور پوچھا: “مائی! کیا آپ مجھے جانتی ھیں؟” 😏 مائی نے چشمہ سیدھا کیا، غور سے دیکھا اور بولیں: “قدوس! میں تمہیں اُس وقت سے جانتی ھوں جب تم ننگے پاؤں گلیوں میں پھرتے تھے۔” “اور سچ پوچھو تو تم نے ساری زندگی مجھے مایوس ھی کیا ھے!” “جھوٹ بولتے ھو… وگوں کو استعمال کرتے ھو… بیوی سے جھوٹ بولتے ھو… دوسروں کی برائیاں کرتے ھو… اور خود کو بڑا عقلمند سمجھتے ھو، حالانکہ تمہاری عقل تو چنے کے دانے سے بھی چھوٹی ھے!” 🤣 پورا کمرہ خاموش ھو گیا۔ وکیل کا رنگ اُڑ گیا گیا۔ 😶 شرمندگی سے بچنے کے لیے اس نے فوراً دوسرے وکیل کی طرف اشارہ کیا۔ “اچھا مائی! کیا آپ اِسے جانتی ھیں؟” مائی…
سبق آموز۔۔۔! بیل اور گدھا۔ Instructive: Ox and Donkey
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم…
سبق آموز۔۔۔! اپنا راز کسی کو مت دو۔ Instructive: Never share your secret with anyone
برسوں پہلے کی بات ہے کہ جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔اس کے بل کے قریب ہی اخروٹ کا ایک بڑا درخت تھا۔جب اخروٹ پکتے تو چوہا بہت خوش ہوتا،کیونکہ ہوا سے پکے ہوئے اخروٹ چوہے کے بل کے بالکل آس پاس آ گرتے تھے اور وہ مزے لے لے کر اخروٹ کترتا اور گری نکال کر کھا جاتا۔ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ اگر میں اخروٹوں کو محفوظ کر لوں تو سال بھر ان کے مزے لے سکتا ہوں۔وہ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرنے لگا۔اس کے بل میں بہت جگہ تھی،مگر جب بارشیں زیادہ ہوتیں تو پانی اس کے بل میں بھر جاتا تھا۔وہ ایک سوکھے ہوئے درخت کے پاس پہنچا۔درخت کے تنے میں اسے سوراخ نظر آیا۔اس نے اندر جھانکا تو خوشی سے وہ اچھل پڑا۔وہ درخت اندر سے کھوکھلا تھا۔ چوہے نے سوچا کہ اخروٹ ذخیرہ کرنے کی اس سے محفوظ جگہ اور…
**”بادشاہ کا انصاف”**
ایک زمانے میں ایک چھوٹی سی بادشاہت تھی۔ اس ملک کا بادشاہ رخصت ہوا تو عوام کو بڑی امیدیں تھیں کہ نیا حکمران ان کے دن بدل دے گا۔ نئے بادشاہ نے آتے ہی محل کی رونقیں بڑھانا شروع کیں، درباریوں کو نوازا، اور ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی — یہ کہہ کر کہ “خزانہ خالی ہے، سب کو قربانی دینی ہوگی۔” مگر ایک عجیب بات ہوئی۔ جو تاجر پہلے سے امیر تھے، انہوں نے اپنے مال کی قیمتیں بڑھا دیں اور نیا ٹیکس بھی عوام کی جیب سے نکلوا لیا۔ ان کے گودام بھرتے گئے، ان کی حویلیاں سجتی گئیں۔ مگر جو کسان اپنے کھیت میں دن رات محنت کرتا تھا، اس کی گندم کی قیمت وہی رہی جو پہلے تھی، جبکہ بیج، کھاد اور اوزار مہنگے ہو گئے۔ جو مزدور صبح سے شام تک پتھر توڑتا تھا، اس کی مزدوری میں ایک پیسہ اضافہ نہ ہوا، مگر روٹی…
La estupidez del búho
Oye, ¿qué has hecho? Eran mis hijos, te comiste a los hijos de tu amigo. Al oír el ruido, los murciélagos del vecindario se reunieron en la casa del búho. Allí, el búho discutía con el águila y estaba furioso por haberse comido a sus crías. El búho lloró y les dijo a sus vecinos: «Los pájaros silvestres fueron invitados a celebrar el Año Nuevo, ¿verdad?». Me había hecho amigo de esta águila. También le había prometido que no se comería a mis hijos, ¡pero! Resultó ser infiel, no una amiga sino mi enemiga, y hoy se comió a mis hijos. El búho lloraba, sus lágrimas no podían contener por el dolor de los niños. Al ver el estado de su vecino, los murciélagos también comenzaron a maldecir al águila. El águila los hizo callar y dijo: «Todos ustedes son sus vecinos, ¿verdad? Primero escúchenme, luego decidan». El águila dijo:…
Ratón grande, conejo pequeño
¡Hombrecito! Pensaba, ¿por qué no aumentamos nuestra fuerza? —le dijo el ratón grande al conejito. Los dos teníamos una amistad muy profunda. —¡Hermano! No entiendo, ¿qué quieres decir? —dijo el conejito, moviendo las orejas. —¡Hombrecito! Anoche, cuando el mono te arrebató la zanahoria de la mano y salió corriendo, me dio mucha pena. Estuve pensando toda la noche en mi madriguera que yo también soy valiente, que tú tampoco eres un cobarde, entonces, ¿qué nos falta para que el mono te arrebatara la zanahoria y saliera corriendo, dejándonos solos mirando? —El ratón grande continuó explicando con detalle. —¿Y qué? —dijo el conejito, cerrando los ojos. —¡Entonces, hombrecito! Deberíamos hacernos amigos de un animal poderoso para aumentar nuestra fuerza, así cualquier animal lo pensará cien veces antes de arrebatarnos algo.El ratón grande pensó con mucha sabiduría.—Jajajaja… Jajajajaja. Al oír las palabras de su amigo el ratón grande, el conejito se echó…
Caza de dragones
Para pescar, nos sentamos a la orilla del río con horquillas, cuerdas en el agua y varas de bambú. Había tres árboles, apoyados en ellos, y nos sentamos los tres amigos. Al vernos llegar, mucha gente nos advirtió que no fuéramos allí, pues habían visto un dragón. Escuchamos atentamente y nos quedamos sentados. Khalid dijo: «Por eso hemos venido. Hay un dragón, porque los pescadores no vienen por miedo, y aquí hay muchos peces, además de que tenemos esta escopeta». Se la metió en la bolsa. En ese momento, la marea había cambiado y había salido la luna. Una caravana de luna y estrellas se movía en el cielo. La luna y las estrellas brillaban en el agua del río como si las luciérnagas se hubieran disuelto en olas y círculos. Nos reímos a carcajadas. «Silencio», nos advirtió Khalid, «¿Acaso pretenden invocar a un dragón?». Nos quedamos atónitos. Ahmed cargó…
Osos y abejas –
Ranga Bhalu era conocido en todo el bosque por su incompetencia e inutilidad debido a su pereza. La ley del bosque dictaba que ningún animal robaría la comida de otro, sino que todos trabajarían duro por su cuenta. Pero, ¿quién se lo explicaba a Ranga? Quienquiera que se lo explicara, se cansaba de tener que hacerlo. A veces robaba el pescado de alguien y otras veces ahuyentaba a las abejas y se comía su miel. Lo habían golpeado muchas veces por sus acciones, pero Ranga quería cambiar, aunque no lo hacía. Hay una historia sobre una ocasión. Una noche de invierno, Ranga estaba muy hambriento cuando de repente oyó un crujido en un árbol. Al alzar la vista, vio un panal. Con la boca llena de agua, Ranga saltó y trepó al árbol. Cuando las abejas vieron a Ranga, se asustaron.Había una abeja reina, y todas las abejas la obedecían.…
La codicia es algo malo.
Había una vez un alfarero llamado Dino en un pueblo. Dino era muy hábil en su oficio. Sabía hacer vasijas hermosas y resistentes de arcilla. Un día, impresionado por la belleza de una vasija que había hecho, el generoso terrateniente del pueblo le regaló un pequeño terreno. Ahora Dino era alfarero. Sabía hacer vasijas, pero no tenía ni idea de agricultura. Solo sabía que si se araba el campo y se sembraban semillas, la cosecha crecería. Aró el campo, pero entonces se puso a pensar. Enseguida fue al mercado y compró las semillas que le gustaron. Fue directamente a su campo y las esparció por todas partes. Las semillas que Dino había plantado no eran de ninguna verdura ni fruta, sino de flores. Por lo tanto, al cabo de unos días, florecieron flores por todo su campo. Había flores preciosas de todos los colores y aromas. Dino el alfarero no…
El rey por cuarenta días –
Por favor, permítame gobernar el país por unos días. Espero que este mal termine. El rey con gusto se lo permitió. En la antigüedad, había un rey que gobernaba el país de Persia. Estaba muy preocupado porque el robo y el hurto eran comunes en el país. A pesar de sus esfuerzos, no podía controlarlo. Un día, el rey salió del palacio preocupado y caminó hacia el bosque. Vio a un leñador trabajando arduamente cortando leña. El leñador vio al rey y se acercó a él y le dijo: “¡Hola, rey! ¿No ha venido en ningún carruaje real?” El rey le explicó el motivo de su preocupación. Dijo: “Si me lo permite, ¿puedo pedirle algo?” El rey asintió y dijo: “Por favor, permítame gobernar el país por unos días”. Espero que este mal termine. El rey con gusto se lo permitió. El leñador se había convertido en rey e inmediatamente…
Comerciante codicioso –
Érase una vez un mercader muy codicioso. Un día cargó cincuenta camellos con mercancías y partió a comerciar. En el camino, se sentó a descansar un rato. Un derviche pasaba por allí. Al ver al mercader, se sentó a su lado y empezó a hablar con él. Los dos se hicieron amigos. El mercader preguntó: “¿Adónde vas?”. El derviche respondió: “He encontrado un túnel donde hay oro; voy a buscarlo. Ya voy”. El mercader dijo: “Espera, yo también iré contigo”. El derviche dijo: “De acuerdo”. El mercader dijo: “Si sale oro de este túnel, lo compartiremos a partes iguales”. El derviche dijo: “De acuerdo”. Cuando llegaron al túnel, el derviche recitó un conjuro. El túnel se abrió de inmediato y, en cuanto lo hizo, el mercader se sorprendió. Había mucho oro en su interior. Ambos dividieron el oro por la mitad y cada uno siguió su camino. Un poco más…
لالچی سوداگر –
کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔ کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔راستے میں کچھ دیر سستانے بیٹھ گیا۔وہاں سے ایک درویش کا گزررہا تھا۔اس نے سوداگر کو دیکھا تو ان کے برابر میں بیٹھ کرباتیں کرنے لگا۔وہ دونوں دوست بن گئے۔سوداگر نے پوچھا:”تم کہاں جارہے ہو؟“درویش نے جواب دیا:”مجھے ایک ایسی سرنگ کا پتاچلا ہے جس میں سونا بند ہے ،میں وہی سوناڈھونڈنے جارہا ہوں۔ اب میں چلتا ہوں۔“سوداگر نے کہا:”رکو،میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔“سوداگر نے کہا:”اگر اس سرنگ میں سے سونا نکلا تو ہم دونوں آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔(جاری ہے) “جب سرنگ کے قریب پہنچے تو درویش نے کوئی منتر پڑھا۔وہ سرنگ فوراً کھل گئی اور اس سرنگ کے کھلتے ہی…
چالیس دن کا بادشاہ –
آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی اجازت دی۔ پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک فارس پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ بہت پریشان رہتا تھا کیونکہ ملک میں چوری اور ڈکیتی عام تھی،باوجود کوشش کے بھی وہ اس پر قابو نہیں پا رہا تھا۔ایک دن بادشاہ پریشانی میں محل سے نکل کر جنگل کی طرف چل پڑا۔اس نے دیکھا ایک لکڑہارا بہت محنت سے لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔لکڑہارا بادشاہ کو دیکھ کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت!آپ کسی شاہی سواری میں نہیں آئے؟بادشاہ نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو اس نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟بادشاہ نے سر ہلایا تو وہ بولا آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی…