میسیج آف دی ڈے۔۔۔! Message of the day
A snake was chasing a firefly that lives only to shine. Firefly stopped and said to the snake:“Can I ask you three questions?”said the snake.Yes, askFirefly said 1- Do I belong to the creature that is your food?The snake said no. 2. Did I say something to you?The snake said no. 3 Then why do you want to devour me?” The snake replied, “Because I can not bear to see you shining.” Moral of the story.Some people can’t see you shine That is why they act like snakesThey remain silent and ready to destroy you! The bitter truth is that many snakes do not let others shine for their own sake. ایک سانپ ایک جگنو کا پیچھا کر رہا تھا جگنو جو صرف چمکنے کے لئے جیتا ہے۔جگنو رک گیا اور سانپ سے کہا:“کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟” سانپ نے کہا۔۔ہاں پوچھوجگنو نے کہا1- کیا میں…
ماضی کے دریچے سے۔۔۔!
بچپن کے زمانے 50 & 60 کی دہائی میں ٹینٹ سروس نہیں ہوتی تھی۔ لیکن جب بھی کوئی غمی یا خوشی ہوتی تو ہر گھر سے ایک چارپائی مہمانوں کے لئے آ جاتی۔جانے کہاں گئے وہ دن جب سادگی تھی لیکن بھائی چارہ بھی تھا۔ مل کر کام کرنے والے لوگ خاک ہو گئے ۔اب نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ہر ایک کو جلدی ہے۔ پتہ نہیں یہ دوڑ کب تک ہے۔ زندگی تو مختصر ہے۔ پھر بھی لوگ دوڑ رہے ہیں۔ پتہ نہیں کہاں جانا ہے ان کو۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور اس دوڑ سے بچائے۔ آمین
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔!
پرانی عمارتیں، پرانی گاڑیاں، پرانی موسیقی، پرانے دوست، بوڑھے درخت، باذوق لوگوں کواپنی جانب کھینچتے ہیں..!!
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔!
پہلے لوگ مرجاتے تھےروح بھٹکتی رہتی تھی اب روح مر جاتی ھےاورلوگ بھٹکتے رہتے ہیں
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔!
چل کسی پرسکون سی جگہ پہ بیٹھ کے چائے پیتے ہیں ویسے بھی اتوار ہے آپ کو بھی فرصت ہو گی۔۔
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔!
تیرے واسطے فلک سے میں چاند لاؤں گا۔۔۔🌛 ہور کج ساڈے لائق ۔۔۔ 🤔😁😀
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے۔۔۔!
بھلے دنوں کی بات ہے….. بھلی سی ایک شکل تھینہ یہ کہ حُسن تام ہو نہ دیکھنے میں……… عام سی نہ یہ کہ وہ چلے تو………… کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر………………. بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رُت ہو اُس کی چھب فضا کا رنگ و روپ تھیوہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ ایسی خوش لباسیاں………… کہ سادگی گلہ کرےنہ اتنی بے تکلّفی………… کہ آئینہ………… حیا کرے نہ عاشقی جنون کی……………… کہ زندگی عذاب ہونہ اس قدر کٹھور پن………………. کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی…… کبھی سکوت بھی سُخنکبھی تو کشتِ زعفراں ………….کبھی اُداسیوں کا بن سنا ہے……………. ایک عمر ہے معاملاتِ دل کی بھیوصالِ جاں فزا تو کیا…………. فراقِ جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا……………….. وفا پہ بحث چھڑ گئیمیں عشق کو امر کہوں…… وہ میری ضد سے چڑ گئی میں عشق کا…