شیخ چلی کا غیبی مٹکا اور حویلی کا راز
پرانے زمانے کی بات ہے، جب پکے مکانوں کی جگہ مٹی کے بنے ہوئے کچے اور خوبصورت گھر ہوا کرتے تھے، جہاں سانجھی دیواریں اور دل کھلے ہوتے تھے۔ اسی دور کے ایک خوبصورت، ہرے بھرے گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا جسے دنیا “شیخ چلی” کے نام سے جانتی تھی۔ شیخ چلی دل کا برا نہیں تھا، نہ ہی وہ چور اچکا تھا، بس اس میں ایک ہی سب سے بڑی خامی تھی، اور وہ تھی “جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا”۔وہ سارا دن گاؤں کی گلیوں میں گھومتا، کبھی کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاتا تو کبھی کسی کچی دیوار کا سہارا لے کر آسمان کی طرف گھورنے لگتا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت ایسی کھچڑی پکتی رہتی جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ ہوتا۔ گاؤں کے بچے، بوڑھے اور جوان سبھی اس کی اس عادت سے واقف تھے اور اکثر اس کا مذاق…
بلاعنوان
ایک بار دو خچر ایک تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔ایک خچر پر سونے کے سکوں سے بھرے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے بوجھ پر بڑا ناز تھا۔ وہ سر اٹھا کر چلتا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار ہر طرف سنائی دے۔ گویا وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہو کہ وہ کتنا قیمتی اور اہم ہے۔دوسرا خچر اناج کے سادہ تھیلے اٹھائے خاموشی سے اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ نہ کوئی شور، نہ نمائش، نہ کسی کو متاثر کرنے کی خواہش۔راستے میں اچانک جھاڑیوں سے چند ڈاکو نکل آئے۔ان کی نظریں فوراً سونے سے لدے خچر پر جا ٹھہریں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، بری طرح مارا پیٹا اور اس کے تھیلے پھاڑ کر سارا سونا لوٹ لیا۔ وہ زخمی اور بے بس سڑک کنارے پڑا درد سے کراہ رہا تھا۔جبکہ اناج والا خچر محفوظ رہا۔ کسی نے…
بلاعنوان
استاد جی کلاس میں داخل ھوئے اور بولے: “آج ذہانت کا ٹیسٹ ھو گا جو صحیح جواب دے گا، اسے آدھی چھٹی پہلے مل جائے گی!” پوری کلاس خوش ھو گئی۔ 🎉 پہلا سوال: “دنیا کا پہلا انسان کون تھا؟” ایک بچے نے فوراً جواب دیا: “حضرت آدمؑ!” “شاباش… تم جا سکتے ھو۔” 👏 دوسرا سوال: “وہ کون سی چیز ھے جو گرمی ھو یا سردی ھمیشہ ٹھنڈی رہتی ھے؟” دوسرا بچہ بولا: “برف!” “بہت خوب… تم بھی جا سکتے ھو۔” ❄️ اب کلاس میں صرف بھولا رہ گیا۔ استاد نے سوچا: “اب اس سے ایسا سوال پوچھتا ھوں جس کا جواب نہ دے سکے!” 😏 انہوں نے پوچھا: “بھولے! بتاؤ… بجلی کہاں سے آتی ھے؟” بھولا بغیر سوچے بولا: “سر! ہمارے ماموں کے گھر سے!” استاد غصے سے بولے: “یہ کیسا جواب ھے؟ بجلی تمہارے ماموں کے گھر سے کیسے آ سکتی ھے؟” بھولا معصومیت سے بولا: “سر! جب…
بلاعنوان
بہت پرانی بات ہے، دنیا کے آغاز میں، پانچ خاندان رہتے تھے جو ایک پرامن اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔خدا نے انہیں وہ سب کچھ دے رکھا تھا جس کی انہیں واقعی ضرورت تھی۔ان کے پاس کھانے کے لیے کھانا تھا۔رہنے کے لیے گھر تھا۔محبت تھی۔اور تحفظ تھا۔وہ نہ تو کسی تنگی سے واقف تھے اور نہ ہی کسی محتاجی سے۔لیکن ایک دن، وہ خدا کے حضور حاضر ہوئے اور کہنے لگے:“اے مالک! تو نے ہمیں ہر اس چیز سے نوازا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے، اور ہم تیرے شکر گزار ہیں۔ لیکن نہ جانے کیوں… زندگی کچھ عام سی لگتی ہے۔ ہم کچھ اور چاہتے ہیں۔”خدا مسکرایا۔“تم لوگ کیا ڈھونڈ رہے ہو؟”ان میں سے ایک نے جواب دیا:“ہماری خواہش ہے کہ ہر خاندان کے پاس کوئی انوکھی چیز ہو—کچھ ایسا خاص جو کسی دوسرے کے پاس نہ ہو۔ تب زندگی زیادہ پرجوش ہو جائے گی۔”خدا نے فرمایا:“بہت…
سبق آموز۔۔۔! عقاب اور مکڑی۔۔۔! Instructive:An Eagle and a Spider 🕷
ایک عقاب بادلوں کو چیرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا اور اس کا چکر لگا کر ایک صدیوں پرانے دیودار کے درخت پر جا بیٹھا۔وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا، اس کی خوبصورتی میں وہ محو ہو گیا۔اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک تصویر […] سبق آموز۔۔۔! عقاب اور مکڑی۔۔۔! Instructive:An Eagle and a Spider 🕷
بلاعنوان
🔥😂 نصیر بھائی نے چور کو بے وقوف بنانے کی کوشش 🤣💁♂️ ایک دن نصیر بھائی کو کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا۔ ان کے پاس 5 لاکھ روپے نقد تھے۔ پورا راستہ ایک ھی فکر: “کہیں ٹرین میں کوئی چور پیسے نہ لے اُڑے!” 😰 کافی سوچ بچار کے بعد ایک زبردست ترکیب سوجھی۔ انہوں نے سارے پیسے ایک لفافے میں رکھے، اوپر ایک پرچی چپکائی جس پر لکھا تھا: “⚠️ اس میں صرف پرانے اخبارات ھیں، اپنا وقت ضائع نہ کریں۔” 📰 نصیر بھائی دل ھی دل میں مسکرائے: “اب کوئی چور اتنا بیوقوف تو ھو گا نہیں!” 😎 تھوڑی دیر بعد وہ آرام سے سو گئے اور ایسے خراٹے مارنے لگے جیسے ٹرین انہی کی ھع۔ 😴💤 صبح آنکھ کھلی تو… 😳 لفافہ غائب تھا! صرف ایک پرچی پڑی تھی… کانپتے ہاتھوں سے پرچی کھولی تو اس پر لکھا تھا: «”بھائی صاحب! میں چور نہیں،…
بلاعنوان
ایک لڑکی کافی دیر سے میڈیکل اسٹور کے باہر کھڑی تھی۔ 🙂💁♂️ ہاتھ میں پرس… چہرے پر شرمندگی… اور بار بار اندر جھانک رھی تھی کہ شاید رش کم ہو جائے۔ 👀 کافی دیر بعد جب اسٹور خالی ھوا تو وہ آہستہ آہستہ اندر گئی۔ کانپتے ہاتھوں سے پرس کھولا… ایک تہہ کی ہوئی پرچی نکالی… کاؤنٹر پر رکھی… اور نظریں جھکاتے ھوئے بولی: “بھائی صاحب! میں ایک اسکول ٹیچر ھوں، میری منگنی ایک ڈاکٹر سے ھوئی ھے…” 😊 میڈیکل اسٹور والا بھی پوری توجہ سے سننے لگا۔ لڑکی نے شرماتے ہوئے بات مکمل کی: “آج اُن کا پہلا خط آیا ہھے…” دکاندار مسکرایا: “ماشاءاللہ… پھر؟” لڑکی نے وہ پرچی اس کی طرف بڑھائی اور آہستہ سے بولی: “ذرا یہ پڑھ کر بتا دیں، اِس میں لکھا کیا ھے؟” 😅 کیونکہ… ڈاکٹر صاحب کی لکھائی آج بھی صرف میڈیکل اسٹور والوں کی سمجھ میں آتی ھے! 😁🤣🤣 😂 اگر یہ…
ظلم کا انجام — ایک لرزا دینے والا سچا واقعہ
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ایک عبرتناک واقعہ نقل کرتے ہیں: انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا پورا بازو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ وہ راستے میں لوگوں کو روک روک کر کہہ رہا تھا: “مجھے دیکھو اور عبرت حاصل کرو… کبھی کسی پر ظلم مت کرنا!” علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے قریب گئے اور پوچھا: “بھائی! تمہارے ساتھ یہ سب کیسے ہوا؟” یہ سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں، اور لرزتی آواز میں اس نے اپنی داستان سنانی شروع کی: “میری کہانی بہت عجیب ہے… میں خود شاید بڑا ظالم نہ تھا، لیکن ظالموں کا ساتھ ضرور دیتا تھا۔” ایک دن میں نے ایک غریب مچھیرے کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑی خوبصورت مچھلی تھی۔ مچھلی دیکھتے ہی میرے دل میں لالچ آ گیا۔ میں نے کہا: “یہ مچھلی مجھے دے دو!” مچھیرے نے عاجزی سے جواب دیا: “یہ میرے بچوں کا…
بدبخت شخص
اصمعی ایک اعرابی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے یہ واقعہ سنایا:میں اپنی بستی سے یہ سوچ کر نکلا کہ سب لوگوں سے زیادہ بدبخت اور نیک بخت فرد کے بارے میں معلومات حاصل کروں اور اسے تلاش کروں۔ میں بستی بستی، نگر نگر بدبخت اور نیک بخت ڈھونڈتا رہا۔ ایک بستی سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھے شخص کی گردن میں ایک رسی بندھی ہوئی ہے اور اس رسی کے ساتھ ایک بڑی سی بالٹی لٹک رہی ہے، اس کے پیچھے ایک نوجوان تھا جو اس رسی کو کھینچ رہا تھا جو بوڑھے کی گردن سے بندھی ہوئی تھی، ساتھ ساتھ وہ اسے چابک سے مارتا بھی جا رہا تھا۔میں نے نوجوان سے کہا: “اس بوڑھے اور کمزور شخص کے بارے میں تجھے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے؟ اس کی گردن میں پہلے ہی ایک رسی اور بڑی بالٹی لٹک…
بیل اور گدھا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر تھا جس کے پاس دو جانور تھے۔ ایک مضبوط بیل، جو دن بھر کھیت جوتتا تھا، اور ایک گدھا، جو صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان ڈھوتا رہتا تھا۔ دونوں کی زندگی مسلسل مشقت میں گزرتی تھی۔صبح سورج نکلنے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلے جا کر ختم ہوتا۔ لیکن ایک بات دونوں میں مشترک تھی۔ بیل جب ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل ہی دل میں سوچتا: “یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہوگا۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہی تو ہوتا ہے۔” ادھر گدھا جب بھاری بوجھ کے نیچے پسینہ بہاتا تو اس کے دل میں خیال آتا:“بیل تو کھیت میں کھلی ہوا میں گھومتا رہتا ہوگا۔ اصل مصیبت تو میری ہے۔” یوں دونوں اپنی اپنی آزمائش کو سب سے بڑی اور دوسرے کی زندگی کو سب سے آسان…
سہارا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم بادشاہ تھا جس کی بہادری کے چرچے دور دور تک تھے۔ اس کی سلطنت روز بروز پھیلتی جا رہی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی ریاست سے ملحق ایک نہایت خوبصورت، سرسبز اور خوشحال علاقہ فتح کیا۔ وہ علاقہ اتنا قیمتی تھا کہ بادشاہ نے سوچا، “یہ میرے بڑے شہزادے کے لیے بہترین تحفہ ہوگا۔” چنانچہ اس نے وہ علاقہ اپنے شہزادے کے سپرد کر دیا اور اسے وہاں کا حاکم مقرر کر دیا۔مگر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ ہمسایہ ریاست نے حملہ کر دیا۔ شہزادہ میدانِ جنگ میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ اس نے جان بچانے ہی میں عافیت سمجھی اور دارالحکومت واپس آ گیا۔ بادشاہ نے خود لشکر لے کر دوبارہ وہ علاقہ فتح کر لیا۔کچھ عرصے بعد اس نے پھر وہی علاقہ شہزادے کے حوالے کر دیا۔لیکن تاریخ خود کو دہرا گئی۔دوبارہ حملہ ہوا، اور شہزادہ پھر…
گدھا اور خرگوش
ایک گاؤں میں ایک کسان کے گھر ایک گدھا اور ایک خرگوش رہتے تھے۔ گدھا برسوں سے اس گھر کا حصہ تھا۔ کسان جب بھی کہیں جاتا، گدھے ہی پر سوار ہو کر جاتا۔ کھیتوں کا بوجھ اٹھانا ہو، منڈی جانا ہو یا دور دراز سفر، ہر مشکل کام گدھے ہی کے ذمے ہوتا۔ اسی وجہ سے گھر میں سب اس کی عزت کرتے تھے، مگر سب سے زیادہ خدمت اگر کوئی کرتا تھا تو وہ خرگوش تھا۔ شام کو گدھا تھکا ہارا واپس آتا تو خرگوش اس کے لیے پانی لاتا، اس کے گرد منڈلاتا، اس کی کمر سے گرد جھاڑتا اور خوب خاطر مدارت کرتا۔ایک دن خرگوش حسبِ معمول پڑوسی کے کھیت میں گاجریں کھانے جا پہنچا۔ ابھی چند ہی گاجریں کھائی تھیں کہ کھیت کے رکھوالے کتوں نے اسے دیکھ لیا۔ پھر کیا تھا، پورا جھنڈ اس کے پیچھے لگ گیا۔ خرگوش اپنی پھرتی کی وجہ سے…
“نیت کی سچائی اور غیب سے مدد”
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…
کچھ محبتیں طوفان میں ماند نہیں پڑتیں
1917ء کے خزاں میں، نیویارک جانے والا ایک مسافر بردار جہاز بحرِ اوقیانوس کی ہولناک طوفانی لہروں سے نبرد آزما تھا۔ جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا—سینکڑوں مہاجر ایک بہتر مستقبل کے خواب لیے اس سفر پر نکلے تھے۔ انہی میں اٹلی کا اٹھائیس سالہ بڑھئی انتونیو روسو بھی تھا، جس کی گود میں اس کی پانچ سالہ بیٹی ماریا تھی۔ انتونیو کے لیے یہ سفر محض ہجرت نہیں، آخری امید تھا۔ اس کی بیوی زچگی کے دوران وفات پا چکی تھی، غربت نے سانس لینا دشوار کر دیا تھا، اور وہ اپنی بچی کے لیے ایک محفوظ زندگی چاہتا تھا۔ رات دو بجے کے کچھ بعد، دیوقامت موجوں نے جہاز کو گھیر لیا۔ نچلے ڈیک—جہاں تیسری کیٹیگری کے مسافر سو رہے تھے—پانی سے بھرنے لگے۔ اندھیرا، چیخیں، دعائیں، اور خوف… سب ایک ساتھ ٹوٹ پڑے۔ انتونیو چیخوں سے جاگا، جہاز تیزی سے ایک طرف جھک رہا تھا۔…
سب سے بڑی طاقت
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، اتنی پرانی کہ جب درخت ابھی جوان تھے اور پہاڑ ابھی بوڑھے نہیں ہوئے تھے۔ غانا کی سرزمین پر ایک گاؤں تھا جس کا نام تھا “کوفی آنا” یعنی وہ جگہ جہاں روحیں آرام کرتی ہیں۔ اس گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام کوامے تھا۔ کوامے غریب نہیں تھا، امیر بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی جو پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہ تھی — اس کی آواز۔ جب کوامے بولتا تھا تو لگتا تھا جیسے بارش کا پہلا قطرہ خشک زمین پر گرا ہو۔ جب وہ کہانی سناتا تھا تو بوڑھے رو دیتے تھے اور بچے سانس روک لیتے تھے۔ وہ Griot تھا یعنی قبیلے کا کہانی کار، حافظہ، اور ضمیر۔ اس کی ایک بیٹی تھی آبینا۔ آبینا نام کا مطلب ہوتا ہے: “منگل کے روز پیدا ہونے والی لڑکی۔” لیکن آبینا کو لوگ اس…
کھوٹے سکوں والا نانبائی
بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔ مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔ وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی…
وحشی گھوڑا اور دانا سوار
ایک زمانے میں ایک عظیم بادشاہ تھا، جس کے اصطبل مں ایک نہایت شاندار، طاقتور اور خوبصورت گھوڑا تھا۔ اس کی چال میں غرور، آنکھوں میں آگ، اور جسم میں بجلی سی تیزی تھی۔ مگر ایک مسئلہ تھا… وہ گھوڑا مکمل طور پر بے قابو تھا۔ کوئی شخص اسے قابو میں نہ لا سکا۔ بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کروا دیا: “جو شخص میرے اس جنگلی گھوڑے کو رام کر لے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا!” یہ سنتے ہی بہادر سپاہی، ماہر سوار، طاقتور پہلوان اور گھڑسواری کے استاد محل میں جمع ہو گئے۔ ہر ایک کے دل میں انعام کی خواہش اور فتح کا جذبہ تھا۔ ایک ایک کر کے سب نے کوشش کی۔ کوئی لگام کھینچتا، کوئی زور آزمائی کرتا، کوئی اسے ڈرانے کی کوشش کرتا، کوئی طاقت سے جھکانا چاہتا… مگر گھوڑا ہر بار پہلے سے زیادہ بپھر جاتا۔ وہ کسی کو زمین…
“نیت کی سچائی اور غیب سے مدد”
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…
چالاک ملازم، کنجوس سیٹھ اور بولنے والا طوطا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں حاجی کریم بخش نام کا ایک بہت بڑا تاجر رہتا تھا۔ اس کے پاس بڑی دکانیں، کئی نوکر، اور سونے چاندی سے بھرے صندوق تھے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ بے حد کنجوس تھا۔ وہ اپنے نوکروں کو اتنی کم تنخواہ دیتا کہ بیچارے آدھی روٹی کھا کر کام کرتے۔ اگر کوئی ملازم ایک منٹ دیر سے آتا تو آدھے دن کی مزدوری کاٹ لیتا۔ اس کی دکان پر ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ رحیم غریب ضرور تھا مگر بہت ذہین اور خوش مزاج تھا۔ وہ ہر مشکل میں بھی ہنسنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا۔ ایک دن حاجی صاحب نے دیکھا کہ دکان میں چوہے بہت بڑھ گئے ہیں۔ کبھی کپڑے کتر دیتے، کبھی خشک میوہ خراب کر دیتے۔ حاجی صاحب غصے سے چیخا:“اگر یہ چوہے ختم نہ ہوئے تو سب کی تنخواہ کاٹ…
اونٹ اور ستارے
صحرا کی رات اپنے پورے جوبن پر تھی۔سنہری ریت دن بھر سورج کی آگ سہنے کے بعد اب چاندنی کی ٹھنڈی چادر اوڑھے خاموش پڑی تھی۔ دور دور تک سکوت کا راج تھا، صرف ہوا کے نرم جھونکے ریت کے ذروں سے راز و نیاز کر رہے تھے۔ایک بدوی اپنے وفادار اونٹ کے ساتھ ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھا تھا۔ قریب ہی آگ کی ننھی سی لو جھلملا رہی تھی اور آسمان ستاروں سے اس طرح بھرا ہوا تھا جیسے کسی مصور نے سیاہ مخمل پر چاندی کے ہزاروں موتی ٹانک دیے ہوں۔بدوی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے اپنے اونٹ سے کہا:“اے صحرا کے جہاز! کیا تم جانتے ہو کہ یہ ستارے کیا ہیں؟”اونٹ نے گردن ہلائی، ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولا:“ہاں، یہ میرے قدموں کے نشان ہیں۔”بدوی چونک گیا۔“تمہارے قدموں کے نشان؟”اونٹ نے فخر سے سر اونچا کیا۔“جی…