ایک بادشاہ تھا جس کا بچپن کا ایک دوست تھا۔ وہ دوست ہمیشہ یہ کہتا تھا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” بادشاہ کو یہ بات کبھی اچھی نہ لگتی، لیکن دوست اپنی بات پر ڈٹا رہتا۔ ایک دن دونوں شکار کو گئے۔ دوست نے بادشاہ کے لیے بندوق میں گولی بھری۔ لیکن غلطی سے بندوق میں کوئی خرابی ہو گئی۔ جب بادشاہ نے گولی چلائی تو اس کا انگوٹھا اُڑ گیا۔ بادشاہ درد سے چِلایا۔ دوست نے فوراً کہا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” یہ سن کر بادشاہ کو شدید غصہ آیا۔ اس نے حکم دے دیا کہ اس دوست کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔ ایک سال گزر گیا۔ بادشاہ پھر شکار کو نکلا۔ اس بار وہ بہت دور نکل گیا اور ایک ایسے جنگل میں جا پہنچا جہاں آدم خور جنگلی قبیلہ رہتا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو پکڑ لیا اور…