سوتے ہوئے پہریدار
اڈو نامی گاؤں کے لوگوں نے پہاڑی پر ایک بہت بڑا غلہ خانہ (گودام) بنایا۔ یہ ان کی محنت کی علامت تھا—ہر کسان نے اپنی فصل کا ایک حصہ اس میں شامل کیا تھا۔ وہاں باجرا، چاول اور مکئی ذخیرہ کی گئی تھی تاکہ طویل خشک سالی کے دوران کوئی بھی بھوکا نہ رہے۔دیہاتی جانتے تھے کہ یہ غلہ خانہ بہت قیمتی ہے، اس لیے انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے پہریدار مقرر کیے۔ ان آدمیوں نے چمکدار وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں لمبی لاٹھیاں تھیں۔ ہر شام دیہاتی انہیں فخر سے پہاڑی پر چڑھتے ہوئے دیکھتے، اور وہ سب سے وعدہ کرتے کہ وہ اس اناج کی حفاظت کریں گے جو سب کا مشترکہ مال ہے۔شروع میں پہریدار رات بھر اونچی آواز میں نعرے لگاتے۔وہ پکارتے، “ڈرو مت! کوئی چور اناج کے ایک دانے کو بھی ہاتھ نہیں لگائے گا!”دیہاتی سکون کی نیند سوتے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سرسبز جنگل میں چار عجیب مگر سچے دوست رہتے تھے: ایک کوا، ایک چوہا، ایک ہرن اور ایک کچھوا۔اگرچہ ان کی شکلیں اور عادتیں مختلف تھیں، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے محبت اور اعتماد سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اکثر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے جمع ہوتے، باتیں کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ ان کی دوستی پورے جنگل میں مثال بن چکی تھی۔ ایک دن صبح کے وقت ہرن گھاس کی تلاش میں جنگل کے ایک دوسرے حصے میں چلا گیا۔ بدقسمتی سے وہاں ایک شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔ ہرن تیزی سے دوڑتے ہوئے اس جال میں پھنس گیا۔ وہ جتنا زیادہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، جال اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوتا جاتا۔ آخرکار وہ تھک کر زمین پر گر گیا۔ ادھر درخت کے نیچے باقی تین دوست اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کوا کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdupoetry urdu blog urdustory
شرافت کا لبادہ۔۔۔🙂!
ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اڑ جاتے ہیں یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ دیکھو ذرا اسکی دستار پہناوا شکل سے شرافت ٹپک رہی ھے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا……..چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہوگئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جائے کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔ _حکایت مولانا رومی
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بیس پنس کی آزمائش
ایک امام صاحب روزگار کی غرض سے برطانیہ کے شہر لندن جا پہنچے۔ روزانہ گھر سے مسجد تک بس پر جانا اُن کا معمول بن گیا۔ چند ہفتوں میں ایک ہی روٹ اور ایک ہی ڈرائیور سے اکثر سامنا ہونے لگا۔ ایک دن وہ حسبِ معمول بس میں سوار ہوئے، کرایہ ادا کیا اور باقی رقم لے کر نشست پر بیٹھ گئے۔ جیب میں رکھنے سے پہلے نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ اترتے وقت واپس کر دوں گا، یہ میرا حق نہیں۔ مگر فوراً ایک اور وسوسہ سر اُٹھانے لگا: “اتنی معمولی رقم… کون سا کسی کو فرق پڑے گا؟ کمپنی تو لاکھوں کماتی ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر رکھ لو!” اسی کشمکش میں سفر کٹ گیا۔ جب اُن کا اسٹاپ آیا تو اترتے ہوئے ڈرائیور کے پاس جا کر بیس پنس واپس کرتے ہوئے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
ادھار کا بادشاہ
نامارا کی وادی میں ایک شاندار محل تھا، جو سفید پتھروں سے بنا تھا اور صبح کی روشنی کی طرح چمکتا تھا۔ اس کے عین بیچ میں بادشاہ کا فخر موجود تھا: سنہری شیروں اور چاندی کے پرندوں سے تراشا ہوا ایک بلند و بالا فوارہ۔ پانی دن رات اس کے دہانے سے اچھلتا اور وسیع سنگِ مرمر کے حوضوں میں گرتا رہتا۔محل کے پاس سے گزرنے والے مسافر رکتے اور دنگ رہ جاتے۔ وہ سرگوشیوں میں کہتے، “دیکھو، یہ سلطنت کتنی خوشحال ہوگی، جن کے فوارے تک کبھی نہیں سوکھتے۔”لیکن اگر وہی مسافر محل کی دیواروں سے ذرا آگے نکل جاتے، تو نامارا کی کہانی بدل جاتی۔گاؤں والے سورج نکلنے سے پہلے اٹھتے، مٹی کے ٹوٹے پھوٹے گھڑے اپنے کندھوں پر اٹھاتے۔ مائیں، کسان اور بچے قریبی ندی تک پہنچنے کے لیے دھول بھرا طویل راستہ طے کرتے۔ اکثر وہ خالی گھڑے یا بمشکل آدھے بھرے ہوئے واپس لوٹتے۔ایک…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
بغداد کی ایک پُرسکون رات تھی۔ ایک گلی سے اللہ کے ایک نیک بندے اپنے چند عقیدت مندوں کے ساتھ گزر رہے تھے۔ ایک تنگ موڑ سے گزرتے ہوئے اُن کی نظر ایک شخص پر پڑی جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ وہ نشے میں تھا۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے میلے، آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور گہری بے بسی بھی۔ عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو ناگواری سے رخ پھیر لیا۔ اچانک اُس شخص نے سر اٹھایا اور اس کی نظر سیدھی اس نیک بندے پر جا ٹھہری۔ چہرہ دیکھتے ہی اونچی آواز میں پکارا: اے اللہ کے ولی 💚قادر اَم غیر قادر؟کیا میرا رب میری حالت بدلنے پر قادر ہے یا نہیں؟ نیک بندے کے قدم فوراً رک گئے۔ وہ اس کے قریب زمین پر بیٹھ گئے اور نرمی سے فرمایا: قادر… اور قدرت صرف اسی کی ہے۔ وہ شخص دوبارہ بولا:اے اللہ کے ولی 💚قادر اَم…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory