Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک بادشاہ تھا جس کے فیصلوں کے چرچے دور دراز ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ وہ جو فیصلہ کرتا، وقت خود اس کی گواہی دیتا۔ نہ کوئی فیصلہ پلٹتا اور نہ ہی کسی فیصلے پر پچھتاوا ہوتا۔ اس کی دانائی اور بصیرت مثال بن چکی تھی۔ قریب ہی ایک اور ریاست تھی جہاں کا بادشاہ اختیار میں کسی سے کم نہ تھا، مگر اس کے فیصلے اکثر الٹ پڑ جاتے تھے۔ حکم اصلاح کے لیے جاری ہوتا مگر نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا، اور نیک نیتی کے باوجود بغاوت جنم لے لیتی۔ وہ اس الجھن کا سبب سمجھ نہ پاتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنے بیٹے، شہزادے، کو بلایا اور کہا کہ وہ دوسرے بادشاہ کے دربار میں جا کر رہے، دیکھے، سیکھے اور سمجھے کہ آخر وہ کون سا عمل ہے جو اس کے فیصلوں کو درست بنا دیتا ہے جبکہ یہاں ہر…

Read more

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب عبدالمطلب نے بیان کیا کہ میں حطیم والی جگہ پر سویا ہوا تھا کہ خواب میں کسی نے آکر مجھ سے کہا کہ ’’طیبہ‘‘ کی کھدائی کرو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’طیبہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔ دوسرے دن پھر میں اسی جگہ سویا ہوا تھا کہ خواب میں آنے والے نے مجھ سے کہا کہ ’’برہ‘‘ کو کھودو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’برہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ وہ مجھے کوئی جواب دیے بغیر چلا گیا۔ اس سے اگلے دن پھر میں اسی جگہ سویا ہوا تھا کہ خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ ’’مضنونہ‘‘ کی کھدائی کرو۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ’’مضنونہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا اور چلا گیا۔ اس سے اگلے دن پھر میں…

Read more

کسی گاؤں میں‌ ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ ‌دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھّی قسم کا بیل اور عربی گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں‌ ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔ زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں ‌اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ…

Read more

یہ پرانے زمانے کے ایک قصبے کا ذکر ہے جہاں کے قاضی صاحب (جج) اپنی عقل سے زیادہ اپنی کرسی اور رعب کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن عدالت لگی ہوئی تھی اور دو پڑوسیوں، بشیر اور نذیر کے درمیان ایک گدھے کی ملکیت پر جھگڑا چل رہا تھا۔ بشیر کہتا تھا: “حضور! یہ گدھا میرا ہے، بچپن سے اسے پال پوس کر جوان کیا ہے۔”نذیر کہتا تھا: “نہیں سرکار! یہ گدھا میرا ہے، اس کی شرافت بتاتی ہے کہ یہ میرے گھر پلا ہے۔” قاضی صاحب نے دونوں کی باتیں سنیں، کچھ دیر گہری سوچ میں رہے (یا شاید اونگھ رہے تھے)۔ پھر اچانک غصے میں میز پر ہاتھ مارا اور بولے:“خاموش! تم دونوں جھوٹ بول رہے ہو۔ اس کیس کا فیصلہ اب یہ گدھا خود کرے گا!” عدالت میں موجود لوگ حیران رہ گئے کہ گدھا کیسے فیصلہ کرے گا؟ قاضی صاحب نے حکم دیا کہ گدھے…

Read more

ایک وسیع اور پیاسے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا، جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ چھوٹے سے ہرن سے لے کر قد آور زرافے تک، سب اپنی بقا کے لیے اسی کے ٹھنڈے پانی پر منحصر تھے۔ خشک سالی کے موسم میں، جب تالاب سوکھ جاتے اور گھاس مرجھا جاتی، تو یہی دریا زندگی کی واحد امید بن جاتا۔ ایک سال، ایک بڑے سے بھینسے نے دریا کے ایک تنگ موڑ کو ڈھونڈ نکالا، جہاں سے تمام جانوروں کو پانی پینے کے لیے گزرنا پڑتا تھا۔ وہ جگہ اتنی کم گہری تھی کہ وہاں پہرہ دینا آسان تھا۔ اپنی اس برتری کو دیکھتے ہوئے، بھینسے نے ندی کے عین درمیان ڈیرے ڈال دیے۔ اس کے بھاری بھرکم جسم نے راستہ روک لیا اور اس کے نوکیلے سینگ ہر آنے والے کے لیے خوف کی علامت بن گئے۔ جب بھی کوئی پیاسا جانور قریب آتا،…

Read more

💯 فاتح کبھی نہیں بھاگتا دو لڑکے گاؤں کی سڑک پر جا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ شہر میں دودھ کی ترسیل کے لیے بڑے بڑے ڈبے لوڈ کیے جا رہے ہیں۔ قریب کوئی نہ تھا تو انہیں شرارت سوجھی، انہوں نے دو بڑے مینڈک پکڑے اور الگ الگ ڈبوں میں ڈال دیے، پھر وہ ڈبے شہر کے لیے روانہ ہو گئے۔ سفر کے دوران پہلے ڈبے والے مینڈک نے سوچا:“یہ کیا مصیبت آ گئی! میں اس ڈبے کا ڈھکن نہیں ہٹا سکتا، یہ بہت بھاری ہے۔ میں نے کبھی دودھ میں نہایا بھی نہیں، یہ کیسی آزمائش ہے۔ میں نیچے تک بھی نہیں جا سکتا کہ پوری طاقت سے اچھل کر ڈھکن ہٹا سکوں۔” آخرکار وہ مایوس ہو گیا، اس نے جدوجہد چھوڑ دی اور ہمت ہار دی۔ جب شہر پہنچ کر ڈبے کا ڈھکن کھولا گیا تو وہ مینڈک مردہ حالت میں دودھ کی سطح پر تیر…

Read more

ایک صوفی بحالتِ سفر کسی خانقاہ میں پہنچا اور اپنے گدھے کو اصطبل میں باندھ کر ڈول میں پانی بھر کر پلایا اور گھاس اپنے ہاتھ سے ڈالی۔ یہ صوفی ویسا غافل صوفی نہ تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے گدھے کی دیکھ بھال میں کچھ کمی نہیں کی لیکن جب امرشدنی ہو تو احتیاط سے کیا ہوتا ہے۔ اس خانقاہ کے صوفی سب مفلس قلاش تھے اور جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بعض دفعہ محتاجی کفر تک پہنچادیتی ہے۔ اے تونگر تو پیٹ بھرا ہے کسی درد مند فقیر کی کج روی کا مذاق نہ اڑا۔ غرض وہ گروہِ صوفیا گدھے کو بیچ ڈالنے کے در پے ہوا اور تاویل اپنے گناہ کی یہ کی کہ ضرورت پر مردار بھی حلال ہوجاتا ہے۔ پھر سب نے مل کر وہ گدھا بیچ دیا اور مزے مزے کے کھانے لائے اور خوب…

Read more

ایک دفعہ نصیر کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا۔ اس کے پاس پانچ لاکھ روپے نقد (Cash) تھے، اور اسے ڈر تھا کہ کہیں ٹرین میں کوئی چور اسے لوٹ نہ لے۔ اس نے بڑی عقل لڑائی اور ایک لفافے میں پیسے ڈال کر اس کے اوپر ایک پرچی چپکا دی جس پر لکھا تھا: “اس میں صرف ‘پرانے اخبارات’ ہیں، اپنا وقت ضائع نہ کریں۔” نصیر بڑا خوش ہوا کہ اب تو کوئی چور اسے ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ ٹرین میں اسے نیند آ گئی اور وہ خراٹے لینے لگا۔ جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو لفافہ غائب تھا اور اس کی جگہ ایک دوسری پرچی پڑی تھی جس پر لکھا تھا: “بھائی صاحب! میں چور نہیں ہوں، ‘ردی’ بیچنے والا ہوں۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میرا کام آسان کر دیا!”🤣😂🤣🤣 #منقول

⏱️ خاموشی کی طاقت — ایک سبق آموز کہانی ایک دن ایک کسان کو احساس ہوا کہ اس کی گھڑی گھاس کے گودام میں کہیں کھو گئی ہے۔ مالی لحاظ سے وہ گھڑی زیادہ قیمتی نہیں تھی، مگر اس کے لیے بے حد انمول تھی کیونکہ وہ اسے کسی بہت پیارے شخص کی طرف سے تحفے میں ملی تھی۔ اس نے ہر ممکن جگہ تلاش کی—گھاس کے ڈھیروں کو الٹا، گودام کے فرش پر جھکا اور رینگتا رہا—لیکن گھنٹوں کی محنت کے باوجود اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار تھک کر اس نے ہار مان لی۔ اتنے میں اس کی نظر قریب کھیلتے ہوئے چند لڑکوں پر پڑی، اس نے ان سے مدد مانگی اور وعدہ کیا کہ جو گھڑی ڈھونڈ لے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ بچے فوراً گودام میں گھس گئے اور ہر طرف گھاس کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا، لیکن اتنی بھاگ دوڑ اور شور شرابے…

Read more

ایک دن جام صاحب نے غیر معمولی بہادری دکھاتے ہوئے روزہ رکھ لیا۔دن کیا تھا، لگتا تھا سورج نے بھی قسم کھا لی ہوکہ آج جام صاحب کا ایمان چیک کر کے ہی ڈوبنا ہے۔ پہلے پہر تو جام صاحب بڑے ثابت قدم رہے۔پیاس آئی تو کہا:“صبر عبادت ہے۔” دوسرے پہر پیاس نے کہا:“میں بھی عبادت ہوں، برداشت کرو!” تیسرے پہر جام صاحب نے محسوس کیاکہ عبادتیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔ گھر میں پانی پینا ممکن نہیں تھا،کیونکہ گھر میں دو خطرناک چیزیں ہوتی ہیں:ایک بیگم،اور دوسرا ان کی نظریں۔ جام صاحب نے فوراً ایک شرعی، سماجی اور گھریلو حل سوچا۔نہر پر جا کر “نہانے” کا۔ نہر پر پہنچے،ادھر ادھر نظر دوڑائی:“کوئی بھی نہیں تھا”دل کو کچھ تسلی ہوئی۔ اور فوراً پانی پینے کی غرض سے نہانے کے بہانےایک ٹبی لگانے کا ارادہ کیا۔ پہلے اوپر دیکھا،پھر دائیں،پھر بائیںسب ٹھیک تھا۔ اب ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نیچے جھکے ہی…

Read more

چوہدری صاحب کا “تربیت یافتہ” گھوڑاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک میراسی (جو اپنی حاضر جوابی کے لیے مشہور تھا) چوہدری صاحب کے پاس گیا اور بولا: “چوہدری صاحب! سنا ہے آپ نے ایک ایسا گھوڑا خریدا ہے جو صرف مذہبی کلمات پر چلتا ہے؟”چوہدری صاحب نے فخر سے مونچھوں کو تاؤ دیا اور بولے: “ہاں بھئی! اسے میں نے خود تربیت دی ہے۔ جب کہو ‘الحمدللہ’ تو یہ گولی کی طرح بھاگتا ہے، اور جب کہو ‘سبحان اللہ’ تو فوراً رک جاتا ہے۔”میراسی کو یقین نہ آیا، تو چوہدری صاحب نے اسے گھوڑے پر بیٹھ کر تجربہ کرنے کی دعوت دی۔ میراسی گھوڑے پر سوار ہوا اور ڈرتے ڈرتے بولا: “الحمدللہ!”گھوڑا تو جیسے اسی لفظ کا انتظار کر رہا تھا، وہ ایسی رفتار سے بھاگا کہ میراسی کی سٹی گم ہو گئی۔ سامنے ایک بہت بڑی کھائی تھی اور گھوڑا سیدھا اسی طرف جا رہا تھا۔ میراسی گھبراہٹ…

Read more

بچپن میں اکثر سنتے تھے کہ زیادہ علم انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔ تب یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن اب میں یہ دعویٰ پورے یقین سے کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے۔ایک روز میرے مالی ‘جیرے’ نے مجھے بتایا کہ اس کے گاؤں میں ایک شخص زیادہ پڑھ لکھ کر پاگل ہو گیا ہے۔ وہ شہر میں ہیڈ ماسٹر تھا، مگر اب وہ گاؤں میں ہاتھ میں اینٹ اٹھائے “غاؤں غاؤں” کرتا پھرتا ہے۔ تجسس کے مارے میں نے رختِ سفر باندھا اور دشوار گزار راستوں سے ہوتا ہوا اس دور افتادہ گاؤں جا پہنچا۔وہاں میری ملاقات جیرے کے بہنوئی ‘نہلے’ سے ہوئی، جو گاؤں کا ایک بااثر شخص تھا۔ اس نے ہنستے ہوئے بتایا: “صاحب! وہ واقعی پاگل ہے، ویسے تو ٹھیک رہتا ہے مگر بحث لمبی ہو جائے تو اینٹ اٹھا لیتا ہے۔” اگلے دن پورا گاؤں کسی میلے…

Read more

بہت عرصے پہلے کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں رحمت نامی ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ وہ بڑی ایمانداری سے محنت مزدوری کرتا تھا، لیکن اس کی کمائی بمشکل اس کے خاندان کا پیٹ پالنے کے قابل ہوتی تھی۔ ایک دن وہ جنگل میں لکڑیاں چن رہا تھا کہ اس کی نظر ایک پرانے، زنگ آلود لوٹے پر پڑی۔ اس نے سوچا کہ گھر لے جاؤں گا، پانی بھرنے کے کام آئے گا۔ جب وہ لوٹا اٹھانے لگا تو اس سے ایک عجیب سی آواز آئی، “مجھے رگڑو، مجھے رگڑو۔” رحمت حیران رہ گیا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے لوٹے کو رگڑا تو ایک دیو قامت جن وجود میں آ گیا۔ جن نے کہا، “اے میرے نئے آقا! آپ نے مجھے اس قید سے آزاد کرا لیا۔ اب میں آپ کی ہر خواہش پوری کروں گا۔” رحمت نے پہلے تو یقین نہیں کیا، لیکن جب اس نے کھانے کی…

Read more

پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا، جس کے افراد کو ٹھگ کہا جاتا تھا۔ انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر مختلف فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ سامنے آیا اور بولا: “بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے غصے سے جواب دیا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” وہ مزید آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ملا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی طرف چل پڑا۔ لیکن آگے تیسرا ٹھگ منتظر تھا، اس نے بھی وہی…

Read more

چودھری صاحب کا ایک گدھا تھا جو بہت ہی سست اور ضدی تھا۔ ایک دن چودھری صاحب نے تنگ آ کر اپنے منشی سے کہا: “ منشی جی! اس گدھے کا کچھ کرو، یہ نہ چلتا ہے نہ کام کرتا ہے، بس کھڑا رہتا ہے۔” منشی جی بڑے ہوشیار تھے۔ انہوں نے ایک ترکیب نکالی اور گدھے کے کان میں جا کر کچھ “سرگوشی” کی۔ گدھا یکدم ایسے بھاگا کہ جیسے اسے آگ لگ گئی ہو! وہ اتنی تیز دوڑا کہ چودھری صاحب حیران رہ گئے۔ اگلے دن چودھری صاحب نے منشی جی سے پوچھا: “منشی جی! آپ نے اس کے کان میں ایسا کیا جادو کیا کہ یہ اتنا تیز دوڑنے لگا؟” منشی جی مسکرا کر بولے: “چودھری صاحب! جادو وادو کچھ نہیں، میں نے بس اسے اتنا کہا تھا کہ ‘تیری شادی ہونے والی ہے’!”😂🤣😂😂🤣 منقول

وہ کنواں جس میں سقیلہ نامی غلام عورت نے اپنا بچہ چھپا دیا تھا—اور چالیس سال بعد وہ بچہ بغداد کا قاضی بنا وہ کنواں آج بھی موجود ہے، بصرہ کے قدیم قبرستان کے عقب میں۔ خشک پتھریلا کنواں، جس کے گرد اب صرف جنگلی جھاڑیاں ہیں اور رات کو گیدڑوں کے بولنے کی آواز۔ مگر جو شخص اس کنویں میں جھانک کر دیکھے، اسے چالیس سال پرانی خاموشی کی گونج سنائی دے گی۔ اور اس خاموشی میں ایک ماں کی سسکیاں ہیں، جس نے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے اسے موت کے حوالے کر دیا تھا۔ سنہ ۱۲۰۵ ہجری۔ بصرہ کی گلیاں عباسی خلافت کے زوال کی داستانیں سناتی تھیں۔ تجارتی قافلے کم آنے لگے تھے، بازاروں میں اجاڑ پن تھا۔ مگر بصرہ کی منڈی میں ایک چیز کی مانگ ہمیشہ رہتی تھی—غلام۔ سقیلہ حبشی نسل کی ایک غلام عورت تھی۔ اس کا رنگ سیاہ تھا جیسے کالی…

Read more

کوئی تیسری چوتهی دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک کوا رہتا تها (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پورے جنگل میں ایک ہی کوا تها دراصل کہانی ایک ہی کوے کی ہے). اللہ کے حکم سے پیاسا بهی تها (کوا ہو اور پیاسا نہ ہو ممکن ہی نہیں) وہاں بهی شاید جانوروں کے گناہوں کی وجہ سے بارش کا نام و نشان بهی نہیں تها. کوے سے جب پیاس برداشت نہ ہوئی تو سوچا کہ شہر کی طرف نکلوں شاید کہیں پانی نظر آجائے سو میاں کوے نے اڑان بهری ابهی تهوڑا سا فاصلہ ہی ناپا تها کہ اسے ایک گهڑا نظر آیا، پہلے تو غیرت نے اجازت نہ دی کیونکہ اس نے بهی سن رکها تها کہ ان کے قبیلے کے ہی ایک “جی” نے سارا دن گهڑے میں کنکریاں ڈال کر پانی پیا تها. اب اکیسویں صدی تهی، کسی کے پاس اتنا ٹائم کہاں…

Read more

بھولا کلاس کا سب سے نرالا طالب علم تھا۔ ایک دن استاد جی نے کلاس میں داخل ہوتے ہی اعلان کیا: “بچو! آج میں تم سب کا ‘ذہانت’ کا امتحان لوں گا۔ جو میرے سوال کا صحیح جواب دے گا، اسے آدھی چھٹی پہلے مل جائے گی۔” سب بچے خوش ہو گئے، مگر بھولا تھوڑا پریشان تھا۔ استاد جی نے پہلا سوال کیا: “یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے پہلا انسان کون تھا؟” ایک بچے نے فوراً ہاتھ کھڑا کیا: “سر! حضرت آدم علیہ السلام۔”استاد جی: “شاباش! تم آدھی چھٹی میں گھر جا سکتے ہو۔” اب استاد جی نے دوسرا سوال کیا: “اچھا یہ بتاؤ، وہ کون سی چیز ہے جو سردی ہو یا گرمی، ہمیشہ ‘ٹھنڈی’ ہی رہتی ہے؟” دوسرے بچے نے جواب دیا: “سر! برف!”استاد جی: “بہت اچھے! تم بھی جا سکتے ہو۔” اب کلاس میں صرف بھولا اور دو تین بچے رہ گئے تھے۔ استاد جی…

Read more

ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا،“آپ کا جسم کمزور ہے، کیموتھراپی چل رہی ہے، روزہ رکھا تو جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”لیکن سلیم احمد نے مسکرا کر جواب دیا،“ڈاکٹر صاحب، جان تو ویسے بھی اللہ کی امانت ہے۔ اگر اُس کے نام پر جائے تو کیا نقصان؟”سلیم پچپن سالہ کینسر کا مریض تھا۔ پچھلے چھ ماہ سے اسپتال کے اسی کمرے میں داخل تھا۔ کبھی ڈرپ لگتی، کبھی انجکشن، کبھی ٹیسٹ۔ بال جھڑ چکے تھے، چہرہ زرد ہو چکا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ جیسے دل میں کوئی چراغ جل رہا ہو۔رمضان کا چاند نظر آیا تو اُس نے بیوی عائشہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا،“میں پہلا روزہ ضرور رکھوں گا۔”عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔“آپ کی حالت ٹھیک نہیں، ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔”سلیم نے دھیمی آواز میں کہا،“زندگی بھر نمازیں بھی قضا ہوئیں، روزے بھی چھوٹے۔ اب اگر آخری رمضان ہو تو…

Read more

قدیم یونانی فلسفی سقراط اکثر لوگوں سے ایک اشتعال انگیز سوال پوچھا کرتا تھا: “اگر آگ لگ جائے تو تم سب سے پہلے کسے بچاؤ گے— اپنی شریکِ حیات کو یا اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو؟” تقریباً ہر کسی کا جواب ایک ہی ہوتا تھا: بچہ۔یقیناً یہ ایک انتہائی نجی اور جذباتی سوال ہے۔ لیکن سقراط اس فطری ردِعمل کو چیلنج کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو بچائے گا۔ اس کی منطق اگرچہ سننے میں گراں گزرتی ہے مگر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے: اگر وہ اپنے بیٹے کو بچا لیتا ہے اور اپنی جیون ساتھی کو کھو دیتا ہے، تو وہ بچہ ماں کے بغیر پروان چڑھے گا— اور وہ خود اپنی زندگی اس انسان کی یاد میں گزارے گا جس نے اس کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ ماں کے بغیر بچہ اس محرومی کا بوجھ ہمیشہ…

Read more

500/612
NZ's Corner