Tag Archives: ،urdublogs

کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا: “بیٹا! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔” مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: “اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی شخص ملازمت کی درخواست لے کر حاضر ہوا۔ بادشاہ نے پوچھا: “تم کیا کام جانتے ہو؟” اجنبی نے جواب دیا: “میں لوگوں اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔” اتفاق سے شاہی اصطبل کا نگران حال ہی میں فوت ہوا تھا، لہٰذا بادشاہ نے اسے اصطبل کی ذمہ داری سونپ دی۔ چند دن بعد بادشاہ نے اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کے بارے میں پوچھا۔ اجنبی نے کہا: “یہ گھوڑا نسلی تو ہے، لیکن اس کی پرورش گھوڑوں کی طرح نہیں ہوئی۔” تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ گھوڑے کی ماں پیدائش کے وقت مر گئی تھی اور اسے ایک گائے نے دودھ پلا کر پالا تھا۔ اسی لیے اس کی کچھ عادتیں گائے جیسی تھیں۔ بادشاہ اس کی ذہانت سے متاثر ہوا۔ کچھ عرصے بعد بادشاہ نے اپنی ملکہ کے بارے میں رائے پوچھی۔ اجنبی نے جواب دیا: “اس کے آداب…

Read more

ایک قدیم ساحلی شہر میں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی کل پونجی ایک پرانی کشتی، ایک جال اور محنت کرنے والے دو ہاتھ تھے۔ ایک دن جال کھینچا تو اس میں ایک نہایت نایاب اور خوبصورت مچھلی پھنس گئی۔ مچھیرے نے سوچا: “آج یہ مچھلی اپنی بیوی کے لیے لے جاؤں گا، وہ بہت خوش ہوگی۔” مگر بیوی نے مچھلی دیکھ کر کہا: “یہ عام مچھلی نہیں۔ اسے بادشاہ کو تحفے میں دے آؤ، شاید وہ بڑا انعام دے دیں۔” مچھیرا مچھلی لے کر محل پہنچ گیا۔ بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا اور پوچھا: “یہ تمہیں کہاں سے ملی؟” مچھیرا بولا: “حضور! اللہ نے میرے جال میں ڈال دی۔” بادشاہ اس کی سچائی سے متاثر ہوا اور بولا: “مانگو، جو چاہو مانگو۔” مچھیرا کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا: “حضور! ایک مضبوط کشتی عطا…

Read more

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…

Read more

ایک دور دراز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا جو اپنی زمین کو سرسبز بنانے کے لیے دن رات محنت کرتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی مشکل پانی کی کمی تھی۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کے پڑوسی کے پاس ایک گہرا اور پانی سے بھرا کنواں ہے۔ کسان نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور امید کے ساتھ پڑوسی کے پاس جا کر کنواں خرید لیا۔ شروع میں وہ بہت خوش تھا کہ اب اس کے کھیت ہرے بھرے ہو جائیں گے۔ مگر اس کی خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ جب وہ پانی نکالنے کے لیے کنویں پر گیا تو پڑوسی نے اسے روک دیا اور سخت لہجے میں کہا،“میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر کا پانی نہیں!” یہ سن کر کسان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ پریشان اور دکھی ہو کر انصاف کی تلاش میں…

Read more

ایک عرب شیخ بے حد دولت مند تھا، مگر دولت کے ساتھ وہ بہت زیادہ لالچی اور کنجوس بھی تھا ۔ وہ اپنے ملازمین کو کم اجرت دیتا، کسی ضرورت مند کی مدد نہ کرتا اور ہر وقت دولت بڑھانے کی فکر میں رہتا۔ ایک دن اس کے سونے کے سکوں سے بھرا تھیلا کہیں گم ہوگیا۔ شیخ نے پورا گھر، باغ اور آس پاس کی سڑکیں چھان ماریں، مگر تھیلا نہ ملا۔ دو دن بعد ایک چھوٹی بچی کو وہ تھیلا سڑک کے کنارے پڑا ملا۔ اس نے فوراً اپنے والد کو بتایا۔ والد اسی شیخ کے ہاں ملازم تھا۔ وہ ایماندار شخص تھیلا اٹھا کر شیخ کے پاس پہنچا اور بولا: “حضور! یہ تھیلا مجھے سڑک پر ملا تھا۔ میرا خیال ہے یہ آپ کا ہے۔” شیخ نے تھیلا کھولا تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کے ذہن میں ایک چال…

Read more

بہت پرانی بات ہے۔ ایک جگہ شجاع اور فیاض نام کے دو بھائی رہتے تھے۔ دونوں کے مزاج بالکل مختلف تھے۔ بڑا بھائی شجاع بڑا لالچی اور چالاک تھا۔ باپ کی موت کے بعد اس نے پوری جائداد پر قبضہ کر لیا اور چھوٹے بھائی کو کچھ نہ دیا۔ چھوٹا بھائی فیاض سیدھا سادہ اور ایماندار تھا۔ باپ کی جائداد سے کچھ نہ ملنے پر اس نے کوئی شکایت نہ کی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرتا تھا اور اس طرح محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتا رہا۔ایک مرتبہ چھوٹا بھائی فیاض ایک شہد بیچنے والے کے ہاں مزدوری کر رہا تھا۔ ایک دن اسے دو بالٹی شیرہ پہاڑ کے اس پار ایک دکاندار کو پہنچانا تھا۔ چنانچہ وہ بالٹیاں لے کر چل پڑا۔ ابھی اس نے پہاڑ پر آدھا راستہ بھی طے نہیں کیا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی، ذرا سی دیر میں راستے میں کیچڑ…

Read more

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب دیہات کے زیادہ تر ماسٹر حضرات دھوتی پہنتے تھے۔ 🙂 لیکن سرکار کا حکم تھا: 📢 “ڈیوٹی کے وقت شلوار لازمی!” 👖 اب نوکری بھی بچانی تھی اور دھوتی بھی نہیں چھوڑنی تھی۔ 😅 سو ماسٹر صاحب نے کمال کا حل نکالا۔ 🤓👇 ایک سفید شلوار کلاس کے اندر کیل پر لٹکا دی۔ جیسے ھی خبر ملتی، 😳 “افسر آ رہا ھے!” بس… دھوتی اُتری 💨 شلوار چڑھی 👖 اور ماسٹر صاحب لمحوں میں سرکاری ملازم بن جاتے۔ 🤣 مگر ایک مسئلہ ھو گیا 😬👇 مہینوں تک کوئی افسر آیا ھی نہیں۔ شلوار بےچاری کیل پر لٹکی لٹکی دھول کھاتی رھی 😆 پھر ایک دن… ⚡ اچانک افسر معائنہ کرنے آ پہنچا! 🤯💁 ماسٹر صاحب بھاگتے ھوئے کمرے میں گئے 😰🏃 اور جلدی سے شلوار پہنی! 👖💨 ایک ٹانگ… پھر دوسری ٹانگ… اور جیسے ھی ناڑا باندھنے لگے… 🐝 بھڑرررررر…!! 😱 پتا چلا……

Read more

🌙 آدھی رات 🌃 ایک چور دبے پاؤں ایک گھر میں گھس گیا۔ 🕵️‍♂️😲 کمرے میں دیکھا تو ایک بوڑھی عورت آرام سے سو رھی تھی۔ 😴💁 ہلکی سی آواز ھوئی 🗣️👣 بوڑھی عورت جاگ گئی۔ 👀 چور گھبرا گیا! 😶‍🌫️😶 مگر دادی اماں مسکرا کر بولیں: “بیٹا! لگتا ھے حالات نے تمہیں چور بنا دیا ھے۔” 🙂🥀 “الماری میں جو ھے لے جانا مگر پہلے میرے خواب کی تعبیر بتا دو!” 😌🌠 چور حیران رہ گیا 😳✨ سوچا: “آج تو قسمت مہربان ھے!” 😎😊 وہ پاس جا کر بیٹھ گیا۔ دادی اماں بولیں: “میں نے خواب میں دیکھا، ایک چیل آئی اور تین بار زور سے بولی: 📢 “ماجد… ماجد… ماجد!” بس اتنا سننا تھا کہ: ساتھ والے کمرے سے دادی اماں کا جوان بیٹا ماجد ڈنڈا لے کر باہر آ گیا! 😡🏏 پھر جو چور کی خاطر تواضع ھوئی 😰👊 وہ اپنی زندگی میں کبھی نہ بھولا! 🤕😂…

Read more

ایک سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جو اپنے انصاف کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے: “اس بادشاہ کے دربار میں امیر اور غریب برابر ہیں۔” ایک دن محل کے دروازے پر ایک غریب بوڑھا شخص پہنچا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر پریشانی تھی اور ہاتھ میں ایک پرانی لکڑی کی چھڑی تھی۔ دربان نے اسے روک لیا۔ بوڑھے نے کہا: “مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔” دربان ہنس کر بولا: “بادشاہ تم جیسے فقیر سے ملنے کے لیے نہیں بیٹھا۔ واپس جاؤ!” بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “میں بھیک مانگنے نہیں آیا، انصاف مانگنے آیا ہوں۔” یہ الفاظ سن کر دربان خاموش ہو گیا اور اسے اندر جانے دیا۔ بوڑھا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور بولا: “بادشاہ سلامت! میرے گاؤں کے امیر ترین تاجر نے میری زمین چھین لی ہے۔ میرے پاس کاغذات نہیں، گواہ نہیں، مگر زمین میری ہے۔” بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک جن نے ایک پاکستانی 🤠 سے سودا کیا۔ 😄🤝 بولا: “کھیت اور بیج میرے، محنت تُمہاری، فصل آدھی آدھی!” 😃💁 پاکستانی مان گیا۔ 😊🤝 جن نے شرط رکھی: “پہلی فصل میں اوپر والا حصہ میرا!” پاکستانی نے کہا: “جی، ضرور!” 😏💯 🌱 اس نے آلو لگا دیے۔ فصل آئی تو جن کو ملیں سُوکھی پتیاں اور ڈنڈیاں! 🍂 اور پاکستانی… بوریاں بھر بھر کر آلو گھر لے گیا۔ 🥔😂 — جن غصے میں بولا: “اگلی بار نیچے والا حصہ میرا ھو گا!” 😤🤟 پاکستانی مُسکرایا: “جیسا حکم!” 😊💯 اس بار اس نے گندم بو دی۔ 🌾😁 فصل تیار ھوئی 😋💁 جن کے حصے میں آئیں جڑیں! 😑🥀 اور پاکستانی گندم سمیٹ کر چل دیا۔ 😎✨ — اب جن کا پارہ ہائی ھو گیا۔ 😤😡 کہنے لگا: “اب اوپر بھی میرا، نیچے بھی میرا اور درمیان تمہارا!” پاکستانی نے کہا: “بُہت اچھا!” 😁🙄 اس بار اس نے مکئی لگا دی۔…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک وسیع صحرا کے کنارے ایک شکاری رہتا تھا۔ اس کا پیشہ جنگل سے جانور پکڑنا تھا۔ وہ مختلف جانوروں کو جال میں پھنساتا، اپنے باڑے میں لا کر باندھ دیتا اور پھر انہیں دور دراز شہروں میں مہنگے داموں فروخت کر دیتا۔ اس کے باڑے میں ہرن تھے، جنگلی گھوڑے تھے، نیل گائے تھیں، لومڑیاں تھیں، جنگلی خرگوش تھے اور کئی نایاب پرندے بھی تھے۔ ہر جانور آزادی کی یاد میں تڑپتا رہتا تھا اور ہر رات اپنی قسمت پر آہیں بھرتا تھا۔ ایک دن شکاری جنگل سے ایک بوڑھا اونٹ پکڑ لایا۔اونٹ کا جسم کمزور تھا، گردن لمبی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔ باقی جانوروں نے اسے دیکھا تو کچھ نے ہمدردی کی اور کچھ نے مذاق اڑایا۔ ایک ہرن بولا:“بیچارے! ابھی ابھی گرفتار ہوا ہے۔”جنگلی گھوڑا ہنسا:“اگر کبھی بھاگنے کا موقع ملا بھی تو یہ ہمیں کہاں پکڑ…

Read more

ایک کنجوس آدمی کو جادوئی چراغ ملا۔ رگڑا تو جن حاضر! ✨🧞‍♂️ جن بولا: “تین خواہشیں مانگو مگر جو تمہیں ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” 😄💁 کنجوس نے دانت پیسے 😅”منظور ھے!” 💰 پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” ✨👏 اچانک خبر آئی…! پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے! 😳 🚗 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” ⚡🚗 لیکن سامنے، پڑوسی کے گھر دو نئی گاڑیاں آ کھڑی ھوئیں! 🚗🚗 اب کنجوس کا خون کھولنے لگا! 🤬 😈 تیسری اور آخری خواہش پر بولا: “میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن چونک گیا: “ارے! تمہارا دماغ تو ٹھیک ھے؟” 😳😕 کنجوس مُسکرا کر بولا: 😂 “میری ایک آنکھ جائے گی مگر پڑوسی دونوں آنکھوں سے اندھا ھو جائے گا!” 🤣🤣 جن ماتھا پکڑ کر غائب ھوتے ھوئے بولا: “یہ انسان اپنی خوشی سے زیادہ، دوسروں کا نقصان دیکھ…

Read more

ایک بہروپیا ایک مزار کے باہر لمبی سفید داڑھی، سبز عمامہ اور کندھے پر تولیہ ڈالے بزرگ بنا بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک تختی رکھی تھی: “صرف 100 روپے میں جنت کی ٹکٹ!” لوگ اس کی شکل و صورت اور بناوٹی بزرگی سے اتنے متاثر تھے کہ جوق در جوق ٹکٹیں خرید رہے تھے۔ اتنے میں بہروپیے نے دور سے ایک پولیس والے کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ فوراً بلند آواز میں بولا: “بس بھائیو! آج کا وقت ختم ہوا۔ جو خوش نصیب تھے، وہ اپنی ٹکٹ لے گئے۔ فقیر کے پاس جو کچھ تھا، فقیر سب لٹا چکا!” یہ کہہ کر اس نے جلدی سے اپنا تھیلا سمیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچ کر دروازہ بند کیا، تھیلا کھولا اور نوٹ نکال کر خوشی خوشی گننے لگا۔ اچانک کھڑکی سے ایک مسلح ڈاکو اندر کود آیا۔ اس نے پستول سیدھی بہروپیے کی طرف تان…

Read more

مالک کو اتنے ماہر کارگر کو کھونا بہت برا لگ رہا تھا، اس لیے بڑھئی کے ریٹائر ہونے سے پہلے اس نے اس سے ایک آخری احسان مانگا: ایک آخری گھر بنا دو۔بڑھئی راضی تو ہو گیا، مگر اب اس کا دل کام میں نہیں تھا۔ وہ پہلے ہی اپنی زندگی کے اگلے باب کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس نے جلدی جلدی کام نمٹایا، کام میں کوتاہی کی (شارٹ کٹس لیے)، اور معیار پر پورا اترنے والے اچھے مواد کی بجائے وہی چیزیں استعمال کیں جو آسانی سے مل سکیں۔بالآخر، گھر تیار ہو گیا۔جب مالک اس کا معائنہ کرنے آیا، تو اس نے کاریگری پر کوئی تنقید کی اور نہ ہی کسی کمی یا کوتاہی کی نشاندہی کی۔ اس کے بجائے، وہ بڑھئی کے پاس آیا اور اسے سامنے والے دروازے کی چابیاں تھما دیں۔اس نے کہا، “یہ گھر تمہارا ہے،” “میرے ساتھ اتنے سال کام کرنے کی…

Read more

جاپان کے دارالحکومت کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دانا اور بوڑھا سمورائی رہتا تھا۔ ایک دوپہر، جب وہ اپنے شاگردوں کو پڑھا رہا تھا، تو ایک نوجوان اور بدنام زمانہ مغرور فائٹر وہاں آ گیا۔ وہ شخص انتہائی سنگدل اور ظالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کا خاص طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے حریفوں کو ذہنی طور پر بہت زیادہ تنگ کرتا اور برا بھلا کہتا تھا، یہاں تک کہ وہ غصے سے آپے سے باہر ہو جاتے۔ غصے میں اندھے ہو کر وہ اس کا چیلنج قبول کر لیتے، بڑی غلطیاں کرتے اور ناگزیر طور پر لڑائی ہار جاتے۔وہ نوجوان فائٹر فوراً بوڑھے شخص پر چڑھ دوڑا۔ اس نے اس پر پتھر پھینکے، اس کی سمت تھوکا، اور غصے میں پاگل ہو کر ہر طرح کی گندی گالیاں دینے لگا۔ لیکن بوڑھے سمورائی نے ذرا سا بھی دھیان نہ دیا۔ وہ بالکل پرسکون،…

Read more

کل اخبار میں ایک آرٹیکل آیا: “بیوی کو قابو میں کیسے رکھیں؟” عنوان پڑھتے ہی ایسی خوشی ہوئی کہ دھڑکن تیز ہوگئی۔ میں نے پورا آرٹیکل ایک ہی سانس میں پڑھ ڈالا۔ لکھا تھا: صبح ٹہلنے جائیں،زیادہ ہری سبزیاں کھائیں،غصہ نہ کریں،کھانے پینے کا خیال رکھیں،باقاعدگی سے چیک اَپ کروائیں،وغیرہ وغیرہ… میں نے سوچا، واہ! آخرکار بیوی کو قابو میں رکھنے کا راز مل ہی گیا! پھر اچانک دوبارہ عنوان پڑھا تو دماغ ہی گھوم گیا! عنوان تھا: “بی پی (B.P) کو قابو میں کیسے رکھیں؟” 😭😂 اب کل بی پی نہیں…آنکھیں چیک کروانے جاؤں گا! 🤣

بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک تاجر تجارت کی غرض سے ایک دور دراز سلطنت میں گیا۔ وہ اپنے شہر سے بہت دور تھا، مگر تجارت کا شوق اسے ایسے علاقوں تک لے گیا تھا جہاں نہ اسے زبان پوری طرح آتی تھی اور نہ لوگوں کے مزاج کا اندازہ تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس سفر میں اسے کاروبار سے زیادہ اپنے نفس کی تجارت کا سبق ملنے والا ہے۔ وہ ابھی پہلے صوبے میں ہی تھا کہ ایک سنسان راستے پر ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا۔ اس کا مال، سامان، نقدی، حتیٰ کہ سفر کے لیے بچا کر رکھے ہوئے پیسے تک سب کچھ چھین لیا۔ تاجر لٹ پٹ کر صوبے کے گورنر کے دربار میں پہنچا اور فریاد کی۔ گورنر رحم دل آدمی تھا۔ اس نے تاجر کی پوری بات سنی، افسوس کیا اور کہا، “جو ہو گیا، اسے واپس تو نہیں لایا جا سکتا،…

Read more

شیر نے چیْتے کو دس بھیڑیوں کا نگران مقرر کیا۔ہر دن، شیر ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا۔ چیْتا خوراک کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرتا: اس نے ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھا اور باقی دس، جو سائز میں برابر تھے، بھیڑیوں کو دے دیے—ہر ایک کے لیے ایک ٹکڑا۔کچھ دن گزرے، تو بھیڑیوں کے درمیان بے چینی سے سرگوشیاں ہونے لگیں۔ایک نے کہا، “چیْتا کو ہمارے جتنا حصہ کیوں ملتا ہے؟”دوسرے نے اتفاق کیا، “وہ کچھ خاص نہیں کرتا۔ وہ بس کھانا تقسیم کرتا ہے۔”“ہم دَس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے بھاگنے پر مجبور کر دیں، تو ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس کو کتنا ملنا چاہیے۔”چیْتے نے ان کی سرگوشیاں سن لیں، لیکن اس نے اپنے اصول نہیں بدلے۔ اس کا ماننا تھا کہ جب تک وہ سب کے ساتھ انصاف کر رہا ہے، بغवत کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔لیکن ایک دن،…

Read more

ایک بادشاہ تھا، جس کے دربار میں ایک دن چند ایسے لوگ حاضر ہوئے جنہوں نے برسوں تک ریاست کے لیے محنت کی تھی۔ بادشاہ ان کی خدمات سے خوش ہوا تو مسکرا کر بولا، “آج جو مانگنا ہے مانگو، تمہاری خواہش پوری کی جائے گی۔” کسی نے زمین مانگی، کسی نے باغ، کسی نے عہدہ، کسی نے وزارت اور کسی نے اپنے خاندان کے لیے جاگیر۔ ہر شخص نے اپنی نظر آج کی آسائش پر رکھی ہوئی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک کسان کا بیٹا بھی کھڑا تھا۔ اس کی باری آئی تو اس نے نہ زمین مانگی، نہ سونا، نہ منصب۔ اس نے نہایت سادگی سے عرض کیا، “حضور! مجھے صرف ایک دانۂ گندم چاہیے۔” دربار میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر ہر طرف ہنسی پھیل گئی۔ بادشاہ بھی مسکرا دیا۔ کسی نے کہا، “اتنے بڑے بادشاہ کے سامنے اتنی بڑی خواہش!” کسان کے بیٹے نے…

Read more

140/722
NZ's Corner