Author Archives: NZ's Collection

بہت عرصہ گزرا۔ایک خرگوش ایک جزیرے پر رہتا تھا۔اُس کی دلی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح سے سمندر کا پانی عبور کر کے جائے اور وہاں بنی ہوئی تاریخی عمارتیں دیکھے۔وہ سوچتا رہتا تھا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا اسی بارے میں سوچ رہا تھا اور اُس کی لمبی اور گھنی دُم اِدھر اُدھر ہل رہی تھی۔یہ تب کی بات ہے جب خرگوشوں کی دُمیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔مگرمچھوں کا بادشاہ وہاں نزدیک ہی تیر رہا تھا۔اس کی نظر خرگوش پر پڑی تو اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا:”اوں! کس قدر مزے کی شے اتنی نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔“ پھر وہ تیرتا ہوا ساحل کے پاس پہنچا اور خرگوش سے بولا:”صبح بخیر ننھے خرگوش!“خرگوش نے اُسے دیکھا اور اہمیت نہ دیتے ہوئے بولا:”میں صرف ننھا خرگوش نہیں ہوں اور مجھے مخاطب کرنا ہے تو بادشاہ سلامت کہو۔“ مگرمچھ کی ہنسی…

Read more

عدالت میں ایک عجیب مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔ ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ خبر پھیلی تو عدالت میں میڈیا اور تماشائیوں کا رش لگ گیا۔ 😳👀 جج نے حیران ھو کر پوچھا: “تم نے واقعی توپ کے لائسنس کی درخواست دی ھے؟” 😕😯 دیہاتی بولا: “جی ہاں، پورے ھوش و حواس میں!” 😤💯 جج نے پوچھا: “آخر توپ کا کیا کرو گے؟ کسی جنگ کی تیاری ھے؟” 🤔🙄 دیہاتی مُسکرایا اور بولا: “جج صاحب! پچھلے سال میں نے 1 لاکھ روپے کے قرض کی درخواست دی تھی، منظور ھوئے صرف 10 ہزار۔” “بہن کی شادی کے لیے 100 کلو چینی مانگی، ملی صرف 10 کلو۔” “سیلاب میں فصل تباہ ھوئی تو 50 ہزار معاوضے کا وعدہ ھوا، اکاؤنٹ میں آئے صرف 5 ہزار۔” پھر دیہاتی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “اب سرکاری نظام اچھی طرح سمجھ چکا ھوں!” 😕😒 “اصل میں مُجھے تو…

Read more

ایک دیہاتی ابا پہلی بار اپنے بیٹے کے ساتھ شہر کے ایک بڑے شاپنگ مال گئے۔ گھومتے گھومتے دونوں ایک عجیب سی چیز کے سامنے جا کھڑے ھوئے۔ 😳 بیٹا بولا: “ابا جی! یہ کیا ھے؟” 🤔 ابا نے غور سے دیکھا، پھر کھنکار کر بولے: “پُتر! میں نے اپنی ساری زندگی میں یہ چیز پہلی بار دیکھی ھے مجھے بھی نہیں پتا!” 😅 دونوں کھڑے ھو کر تماشا دیکھنے لگے۔ 👀 اتنے میں ایک کمزور سی بڑھیا ویل چیئر پر آئی۔ 👩‍🦼 اس نے ایک بٹن دبایا… سامنے چمکتی ھوئی دیواریں کھل گئیں اور ایک چھوٹا سا کمرہ نظر آیا۔ بڑھیا اندر چلی گئی اور دروازہ بند ھو گیا۔ 😳 ابا اور بیٹا حیرت سے دیکھتے رھے۔ 😮 اوپر نمبر چلنے لگے: 1️⃣…2️⃣…3️⃣…4️⃣…5️⃣…6️⃣ چند لمحوں بعد نمبر واپس الٹے چلنے لگے: 6️⃣…5️⃣…4️⃣…3️⃣…2️⃣…1️⃣ پھر دروازہ کھلا… اور باہر ایک خوبصورت نوجوان لڑکی اسٹائل سے چلتی ھوئی نکلی۔ 😍✨ ابا جی…

Read more

ایک زمانے میں ایک بوڑھی عورت تھی اس کے گھر کے مچان کو صفائی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا وہ اوپر گئی اور فرش پر جھاڑو دینے لگی۔ اس کو وہاں دس سونے کے سکے ملے!وہ بہت حیران اور خوش ہوئی۔ مجھے جاکر اپنے تمام پڑوسیوں کو بتانا چاہیے۔ اس نے کہا۔ لہٰذا اس نے سونے کے سکے باورچی خانے میں رکھے اور اپنی سہیلیوں کو بتانے کے لئے باہر بھاگی۔وہ کنوئیں کے پاس گئی جہاں گاؤں کی خواتین پانی بھر رہی تھیں اور باتیں کر رہی تھیں۔ میری بات سنو!وہ چلائی مجھے اپنے مچان میں سے خزانہ ملا ہے!تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔ اچھا اچھا ہر لڑکی نے کہا یہ تمہاری خوش قسمتی ہے۔ تمہیں ان کو حفاظت سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اس خزانے کی چوری ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ویسے تم نے ان کو کہاں رکھا ہے؟اوہ ان کو تو میں باورچی خانے میں چھوڑ آئی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک غریب گدھا رہتا تھا۔ صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا، ڈانٹ کھاتا، کبھی سوکھی گھاس ملتی تو کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔“بس! اب نہیں، ایسی زندگی سے تو جنگل اچھا ہے۔”رات کے اندھیرے میں وہ رسی تڑوا کر بھاگا اور کئی میل چلنے کے بعد ایک بڑے جنگل میں پہنچ گیا۔ بھوک سے اس کا برا حال تھا۔چلتے چلتے اسے ایک خوبصورت دکان جنگل میں نظر آئی۔دکان پر ایک بندر بیٹھا تھا۔ گدھا ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔بندر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا، “فرمائیے، کیا چاہیے؟”گدھا تو کئی دن کا بھوکا تھا۔وہ ایک ایک کر کے بولنے لگا،“گاجریں دے دو، کچھ گھاس بھی، تھوڑے سیب، وہ سامنے والی مولیاں بھی اور اگر ممکن ہو تو وہ گنے بھی رکھ دو” دکاندار بندر خاموشی سے سب چیزیں تھیلے میں بھرتا گیا۔جب تھیلا بھر گیا تو اس…

Read more

کسی گاؤں میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔اس کے تین بچے، ایک بیوی اور دو بوڑھے ماں باپ تھے۔مچھیرا بہت غریب تھا۔وہ دن بھر سمندر میں مچھلی پکڑنے جاتا۔کبھی اسے شکار ملتا، کبھی نہیں اور جب شکار ملتا تو سب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور جب شکار نہ ملتا تو صبر کر کے سو جاتے۔گھر کے سب لوگ صبر و شکر والے تھے۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بات پسند آئی۔ایک دن وہ مچھیرا معمول کے مطابق سمندر میں مچھلیاں پکڑنے گیا کہ اچانک سمندر میں ایک طوفان سا آ گیا۔مچھیرا طوفان دیکھ کر ڈر گیا۔طوفان ختم ہوا تو اچانک سمندر سے ایک جل پری نکل آئی۔مچھیرا اسے دیکھ کر گھبرا گیا۔جل پری نے کہا:”ڈرو مت! مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی صبر و شکر کرنے والی عادت بہت پسند آئی ہے، اسی لئے مجھے تمہاری…

Read more

میں اور حمزہ ضلع ایبٹ آباد کے ”روپڑ“ نامی علاقے کے ایک مدرسے کے طالب علم تھے۔ہمارے لئے یہ علاقہ بالکل نیا تھا۔میرپور سے صرف میں اور حمزہ ہی یہاں اجنبی تھے۔باقی تمام طلبہ مقامی تھے۔قاری صاحب نے مدرسے کے ایک گوشے میں ہمیں ایک کمرے کی جگہ دے دی تھی۔یہ پہاڑی علاقہ تھا۔پہاڑوں پر اونچے نیچے اور گھنے گھنے درخت تھے۔قریب ہی ایک گھنا جنگل بھی تھا۔ہم نے سن رکھا تھا کہ یہاں راتوں کو اکثر ریچھ اور ببر شیر جنگل سے نکل کر آبادی کا رُخ کرتے ہیں۔اس لئے میں اور حمزہ زیادہ باہر نہیں نکلتے تھے،رات کو تو بالکل بھی نہیں۔ایک دن رات گیارہ بجے کا وقت تھا۔میں اور حمزہ کمرے میں بیٹھے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے۔”دو آدم خوروں کی علاقائی قبرستان میں ایک قبر کھودنے کی کوشش۔“حمزہ نے سرخی پڑھ کر اخبار میں سے نظریں ہٹا کر حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھا۔اس سے…

Read more

مُلّا کی جب شادی ہورہی تھی اُنہیں بڑے اہتمام سے دُولہا بنا کر جب گھوڑے پر بٹھایا تو وہ فرار ہو گئے ،سب براتی پریشان ہو گئے کوئی دو گھنٹے بعد مُلّا واپس تشریف لائے براتیوں نے پوچھا کہ وہ فرار کیوں ہوگئے تھے ؟اس پر مُلّا نے معصومیت سے کہا یہ دو لہا کیلئے آخری موقعہ ہوتا ہے مگر میں اس خیال سے آگیا کہ آپ کو کھانا نہیں ملے گا اور آپ بھوکے رہو گے سبھی براتی مُسکرانے لگے۔ ایک بار مُلّا اپنے سسرال گئے ۔اُن کی ساس محترمہ خود کو بہت چالاک سمجھتی تھیں ،اُس نے مُلّا سے کہا بیٹا آپ کدو شرف کھاؤگے یا بھنڈی مبارک پکالوں یا پالک پاک پکالوں ؟اِس پر مُلّا نے مسکین سی صورت بنا کر کہا میں گناہگار بند ہ ہوں اور میرا وضو بھی نہیں جو اِن مقدس سبزیوں کے نام بھی لوں ۔ آپ کو ئی بد معاش‘نافرمان اور…

Read more

بہت ہی دور ایک جنگل میں ایک بہت بے وقوف اور سُستی کا مارا راجہ رہتا تھا۔دنیا میں شاید ہی کوئی جانتا تھا کہ اُس کی سلطنت کہاں واقع ہے۔وہ سارا دن اپنے تخت پر لیٹا رہتا اور اُس کے ملازم مور کے پروں سے بنے پنکھوں سے اُسے ہوا کرتے رہتے۔ایک دن اُس نے فیصلہ کیا کہ اُسے بھی شادی کر لینی چاہئے۔ اُس نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو دنیا کے ہر کونے میں بھیجا۔اُس کے وزیر اور مشیر بھی اُسی کی طرح کے عقل مند تھے۔اُس نے وزیروں کو کہہ کر بھیجا تھا کہ اُس کی بیوی ایسی ہو جو زمین پر بھی چل سکے اور ہوا میں بھی اُڑ سکے۔جس کی شکل انسانوں جیسی ہو لیکن وہ انسان نہ لگتی ہو۔اُس کے چار بازو اور چار ٹانگیں ہوں بے چارے وزیر اور مشیر سخت پریشانی کے عالم میں دنیا بھر میں مارے مارے پھر رہے تھے۔…

Read more

Érase una vez un jefe de aldea sumamente codicioso. La codicia había nublado su juicio y su carácter y moral se habían deteriorado enormemente. Si veía algo valioso en posesión de algún habitante de la aldea, lo arrebataba por cualquier medio. Los aldeanos estaban hartos de su comportamiento. Se quejaron repetidamente ante el juez de la aldea y el imán principal de la mezquita, a quienes el jefe escuchaba con gran atención, pero se negaba rotundamente a aceptar sus quejas y actuar en consecuencia. Si se enteraba de que alguien poseía una vaca, un búfalo, una cabra o incluso una gallina de buena raza, se sentía impotente y la perdía. Los aldeanos buscaban algún defecto incluso en los mejores animales y lo divulgaban por toda la aldea para protegerlos del codicioso Chaudhry. Pero a pesar de todo esto, los aldeanos, movidos por la envidia mutua, informaban al Chaudhry, quien, mediante…

Read more

La vida humana es un viaje hermoso y continuo, pero en cada recodo nos encontramos con diferentes actitudes. Algunas personas nos animan, mientras que otras intentan desviarnos del camino con su negatividad e incompetencia. Ante esta situación, surge la pregunta: ¿es necesario responder a cada desafío? Según la psicología, la ira y el ego suelen empujar a la persona a peleas inútiles. Las personas sabias y exitosas no son las que se lanzan a cualquier terreno, sino las que comprenden dónde está su lugar y dónde el silencio es la mejor arma.Para entender esto, la historia del rey de la selva, el león, y el jabalí es un ejemplo perfecto.Un día, un poderoso león caminaba tranquilamente cuando un jabalí, cubierto de barro de pies a cabeza, se interpuso en su camino. No solo le arrojó barro, del que él mismo estaba cubierto, sino que también lo desafió arrogantemente a una…

Read more

En el denso y frondoso bosque de Siberia, vivía un hermoso conejo con su familia. Vivían en una casa hecha de tierra blanda. Aunque el conejo era muy inteligente, también era un poco cobarde. Una tarde, el conejo y sus crías intentaban dormir después de comer pastel de zanahoria, pero las crías querían jugar entre ellas. De repente, se oyó una fuerte explosión que hizo que el conejo erizara las orejas. Sintió que la tierra temblaba, salió corriendo de la casa aterrorizado y echó a correr sin mirar a su alrededor. Mientras corría, se alejó mucho de su casa. En ese momento, se encontró con un ciervo. El ciervo le preguntó por qué corría. “Oí un fuerte estruendo, como si la tierra hubiera explotado”, dijo el conejo presa del pánico, y el ciervo también echó a correr. Ambos corrían aterrorizados cuando, en el camino, se encontraron con un mono, que…

Read more

Un granjero arrojó un lobo viejo, indefenso y aparentemente enfermo en medio de un rebaño de ovejas. El lobo estaba tan débil que ni siquiera podía mantenerse en pie. A pesar de esto, todo el rebaño entró en pánico por el miedo. El carnero más pesado del rebaño, que siempre permanecía en el centro para estar a salvo, se encontró de repente justo delante del lobo. Antes de que pudiera reaccionar, las mismas ovejas que estaban detrás de él, que solían estar cerca de él todos los días, lo empujaron para abrirse paso. La pata del carnero se rompió, pero no por la mordedura del lobo, sino al ser aplastado bajo las patas de sus propias compañeras, y se convirtió en la presa fácil para un lobo viejo y hambriento.Esta historia revela un hecho psicológico muy importante: cuando surge una crisis, los grupos y sociedades humanas comienzan a operar bajo…

Read more

ایک بار ایک دیہاتی شہر گیا وہ اس شہر کے بازار میں آیا اور زور زور سے پکارا”نوے اور پانچ سو“․․․․․نوے اور پنچ سو․․․․نوے اور پانچ سو․․․․․جو بھی دیہاتی کا یہ حساب سنتا وہ ہنس دیتا ایک شہری دیہاتی کے پاس آیا اور بولا”بھائی نوے اور پانچ سو نہیں ہوتے بلکہ نوے اور دس سو ہوتے ہیں مگر دیہاتی الٹا شہری کو غلط کہتے ہر بہ ضد تھا ادھر شہری کو اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا دونوں کی آپس میں نوے اور پانچ سو کی تکرار ہو رہی تھی۔ جب دونوں ہی اپنی اپنی ضد پر قائم رہے تو بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے کہ دیکھیں نوے اور پانچ سو والا کیا معاملہ ہے آخر وہ شہری ہار مانتے ہوئے بولا”اچھا پانچ تمہیں معاف کیے لاؤ پچانوے روپے ہی دے دو،دیہاتی یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا جس پر لوگ اسے طعنے دینے لگے…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کسی گاؤں کا چودھری بڑا لالچی تھا۔لالچ نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا اور کردار و اخلاق انتہائی پست ہو گیا تھا۔وہ گاؤں کے کسی بھی شخص کے پاس کوئی بھی قیمتی چیز دیکھتا تو اسے کسی بھی طریقے ہتھیا لیتا۔گاؤں والے اس کے رویے سے تنگ آ چکے تھے۔انھوں نے کئی بار گاؤں کے قاضی اور مسجد کے پیش امام سے بھی شکایتیں کیں جن کی باتیں چودھری بڑے غور سے سنتا تھا، لیکن ان کو ماننے اور عمل کرنے پر بالکل تیار نہ ہوتا تھا۔اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ کسی کے پاس اچھی نسل کی گائیں، بھینس یا بکری، یہاں تک کہ مرغی ہی کیوں نہ ہو، وہ بے چارہ اس سے محروم ہو جاتا۔گاؤں والے اپنے اچھے سے اچھے جانور میں بھی کوئی نہ کوئی عیب نکالتے اور اسے سارے گاؤں میں مشہور کر دیتے تھے، تاکہ ان…

Read more

کسی گاؤں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز تھے۔ان کے گاؤں میں کوئی مہمان آجائے تو بہت آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کے گاؤں میں ایک مہمان آیا۔گاؤں والوں نے اس کے آگے طرح طرح کے کھانے دسترخوان پر چُن دیے۔ساتھ ہی ایک بڑا سا ڈنڈا رکھ دیا۔مہمان کھانے دیکھ کر بہت خوش ہوا،لیکن ڈنڈا دیکھ کر ڈر گیا۔میزبانوں سے پوچھا:یہ ڈنڈا کیوں رکھا ہے؟“انھوں نے کہا:”یہ ہماری روایت ہے۔آپ ڈریں نہیں اور کھانا شروع کریں۔“مہمان اَڑ گیا کہ پہلے مجھے ڈنڈے کی حقیقت سے آگاہ کریں۔میزبان لاکھ قسمیں کھائیں کہ اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا،لیکن مہمان نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔دل ہی دل میں وہ ڈر رہا تھا کہ کھانا کھلانے کے بعد یہ لوگ میری درگت بنائیں گے۔ مہمان کا کھانا کھانے سے انکار سن کر پورے گاؤں میں کھلبلی مچ گئی۔ایک بزرگ کو مہمان کے پاس لایا گیا کہ…

Read more

عربوں کے دلچسپ واقعات میں سے :   “عورتوں کا کہنا نہ مانو “ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کوئی جرم کیا تو قاضی نے اسے تین سزاؤں میں سے ایک چننے کو کہا:پہلی سزا: سو پیاز کھانادوسری سزا: سو کوڑے کھاناتیسری سزا: سو دینار ادا کرنا اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “پیاز کھا لو، یہ تو شہد کے برابر ہے۔”آدمی نے پیاز چن لیا، مگر پینسٹھویں پیاز کے بعد اس کی آنکھیں باہر آ گئیں اور اس نے اعلان کیا کہ وہ مزید نہیں کھا سکتا۔اس نے دوبارہ اپنی بیوی سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: “اگر پیاز نہیں کھا سکتے تو ایک گھنٹے کا درد بہتر ہے روز روز کے درد سے۔”آدمی نے کوڑے چن لئے ۔جب کوڑے کی تعداد 72 تک پہنچی تو اس کے گھٹنے کانپنے لگے اور وہ چیخنے لگا: “بس کرو، میں مزید برداشت نہیں کر…

Read more

ایک ہتھنی اور ایک کتیا ایک ہی وقت میں حاملہ ہو گئیں۔تین مہینے بعد کتیا نے چھ بچے جنے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ چھ مہینے بعد، کتیا دوبارہ حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد اس نے درجنوں بچے جنے، لیکن ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور کتیا کے بارہ بچے ہو گئے جبکہ ہتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ اٹھارہ مہینے بعد، کتیا نے ہاتھنی کے قریب جا کر اس سے پوچھا،“کیا تمہیں یقین ہے کہ تم حاملہ ہو؟ ہم دونوں ایک ہی وقت میں حاملہ ہوئیں تھیں، میں تین بار دس دس بچے جن چکی ہوں اور وہ اب بڑے کتے بن گئے ہیں جبکہ تم ابھی تک حاملہ ہو، یہ کیا ماجرا ہے؟” ہتھنی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “ایک بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔جو کچھ میں اپنے اندر پال رہی ہوں وہ کوئی کتا نہیں بلکہ ہاتھی ہے۔…

Read more

کہتے ہیں ایک استاد کے پاس ایک شادی شدہ شاگرد پڑھتا تھا۔ 🙂💁‍♂️ استاد کی دو شادیاں تھیں، شاگرد کی ایک۔ استاد روز فخر سے کہتا:“ایک شادی میں کیا رکھا ھے؟ اصل مزہ تو دوسری شادی میں ھے!” 😏✌️ آخر شاگرد بھی استاد کی باتوں میں آ گیا اور دوسری شادی کر لی۔ 😄🙄 شادی کی پہلی رات دوستوں میں بیٹھا ذرا دیر سے گھر پہنچا۔ نئی دلہن نے دروازہ ھی نہ کھولا:“جاؤ! جہاں اتنی دیر بیٹھے تھے وھیں جاؤ!” 😒🙎 بیچارہ پہلی بیوی کے پاس گیا۔ وہاں سے جواب آیا:“جو نئی دلہن لائے ھو، اسی کے پاس جاؤ!” 😏😒 اب دونوں گھروں سے نکالا ھوا شاگرد سرد رات میں مسجد جا پہنچا۔ اندھیرے میں ایک صف پر کسی کے لیٹے ھونے کا احساس ھوا۔ 😳🤔 شاگرد نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:“کون ھے؟” آواز آئی: “اوئے شیدیا… میں تیرا استاد آں!” 😄 شاگرد حیران:“استاد جی! تسی ایتھے؟” استاد نے لمبی آہ…

Read more

پرانے زمانے میں بخارا شہر میں ایک نہایت دانا اور انصاف پسند قاضی رہتے تھے، جنہیں لوگ محبت سے “قاضی فہیم” کہتے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شور، سختی یا ظلم کے بغیر صرف اپنی عقل و حکمت سے بڑے بڑے معاملات حل کر لیتے تھے۔ اسی لیے دور دراز سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اُن کے پاس آتے اور مطمئن ہو کر واپس جاتے۔اُسی زمانے میں بخارا کا بازار تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ دور دراز سے تاجر اپنی قیمتی اشیاء لے کر آتے، لیکن کچھ عرصے سے بازار میں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔کسی نہ کسی تاجر کی رقم، زیورات یا قیمتی سامان غائب ہو جاتا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔لوگ خوفزدہ تھے، ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا تھا، اور بازار کی رونق…

Read more

540/3963
NZ's Corner