محنت کا صلہ
ایک گاوں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام میک تھا ۔ اس کا باپ کھیتی باڑئ کرتا تھا جو کہ بہت محنت اور مشقت کا کام تھا میک سکول پڑھنے جاتا ۔ اور سکول سے واپس أکر اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ پھرتا ۔ اور کھیل کود میں وقت گزارتا ۔ اس کے باپ نے سوچا کہ سکول سے پڑھنے کے بعد میک کو کسی کام میں مصروف رکھا جاے ۔ اور کھیل کود کے ساتھ کچھ سیکھنے کو بھی مل جاے ۔ میک کے باپ میک کو مرغی خرید کر دئ ۔ اور اسے اس کی دیکھ بھال کرنے کو کہا میک نے مرغی کے لیے ایک خوبصورت ڈربہ بنایا ۔ میک سکول سے گھر أنے کے بعد مرغی کو دانہ کھلاتا اور اسے پانی پلاتا۔ وقت گزرتا گیا ۔ میک کو جو پیسے ان میں کچھ خرچ کرتا اور باقی پیسوں سے مرغی کے لیے دانہ خریدتا…
لالچ کی آزمائش
کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے قریب ایک بوڑھا چوکیدار رہتا تھا جو راتوں کو کان کے دروازے پر پہرہ دیتا۔ کہا جاتا کہ کان کی گہرائیوں میں ایک پراسرار مخلوق بستی ہے جو لالچی کان کنوں کو بھٹکا دیتی ہے۔ ایک نوجوان کان کن، جو زیادہ نمک نکال کر جلد امیر ہونا چاہتا تھا، رات کو چھپ کر بند کان میں گھس گیا۔ گہرائی میں جاتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور راستے آپس میں گڈمڈ ہونے لگے، جیسے کوئی جان بوجھ کر اسے بھٹکا رہا ہو۔نوجوان کا سانس پھولنے لگا اور خوف سے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ اسے اپنی نانی کی نصیحت یاد آئی کہ ایسی حالت میں سورۃ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھو۔ اس نے کانپتی آواز میں تلاوت شروع کی۔ آہستہ آہستہ اسے دور سے دروازے کی جانب سے ہلکی روشنی نظر آنے لگی، اور وہی راستہ جو کچھ دیر پہلے تک گم تھا، اب صاف…
حد سے زیادہ آسان اور پرکشش فائدہ اکثر کسی چھپے ہوئے نقصان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
پرانے بازار میں، ہر جمعرات کی شام، ایک عجیب سوداگر نمودار ہوتا جو نایاب اور خوبصورت اشیاء نہایت کم قیمت پر بیچتا۔ لوگ للچا کر اس سے سودا کرتے، مگر جو بھی اس سے کوئی چیز خریدتا، اگلے دن اس کے گھر میں کوئی نہ کوئی نقصان یا جھگڑا ضرور ہو جاتا۔ ایک بزرگ نے یہ بات محسوس کی اور غور کرنا شروع کیا۔ایک جمعرات، ایک بزرگ نے جان بوجھ کر اس سوداگر کے پاس گئے اور اس سے سودا کرنے سے پہلے بلند آواز سے “بسم اللہ” پڑھی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ کلمہ کہا، سوداگر کا چہرہ بگڑ گیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ بزرگ نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔ انہوں نے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوداگر اپنے اسٹال سمیت دھویں کی طرح غائب ہو گیا، اور اس کی جگہ صرف خالی زمین رہ…
بھوکا شیر اور مکار لومڑی –
ایک شیر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا۔اس نے کہا۔”فکر نہ کرو،میں اس کا بندوبست کر دوں گی۔یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لئے آنے والے جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹاتا رہتا۔ایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لئے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔اتفاقاً اس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا۔اس نے لومڑی سے کہا۔”باہر کیوں کھڑی ہو،اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔”لومڑی نے چالاکی سے جواب دیا۔”نہیں میں اندر نہیں آ سکتی۔میں یہاں…
سبق آموز۔۔۔! عقاب اور مکڑی۔۔۔! Instructive:An Eagle and a Spider 🕷
ایک عقاب بادلوں کو چیرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا اور اس کا چکر لگا کر ایک صدیوں پرانے دیودار کے درخت پر جا بیٹھا۔وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا، اس کی خوبصورتی میں وہ محو ہو گیا۔اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک تصویر کی طرح سامنے کھلی رکھی ہے۔کہیں پر دریا میدانوں میں چکر لگاتے ہوئے بہہ رہے ہیں۔کہیں پرجھیلیں اور اُن کے آس پاس درختوں کے کنج پھولوں سے لدے ہوئے بہار کی پوشاک میں رونق افروز ہیں۔عقاب نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ”اے اللہ میں تیرا کہاں تک شکر ادا کروں۔تو نے مجھے اڑنے کی ایسی طاقت دی ہے کہ دنیا میں کوئی بلندی نہیں ہے، جہاں میں پہنچ نہ سکوں، میں فطرت کے منظروں کا لطف ایسی جگہ بیٹھ کر اٹھا سکتا ہوں جہاں کسی اور کی پہنچ نہیں۔“ایک مکڑی درخت کی ایک…
عقلمند فقیر –
ایک مرتبہ ایک فقیر کسی میدان سے گزر رہا تھا۔اسے دو سوداگر نظر آئے۔اس نے سوداگروں سے پوچھا:”بھائیو!کیا تمہارا اونٹ کھو گیا ہے؟“سوداگر خوش ہوئے اور بولے،”تم نے دیکھا ہے کیا؟“فقیر نے کہا،”کانا تو نہیں تھا اور دائیں پیر سے لنگڑا تو نہیں تھا؟“ان سوداگروں کو یقین ہو گیا کہ اس نے اونٹ دیکھا ہے،لہٰذا اسی سے معلوم کیا جائے۔وہ کہنے لگے،”بھائی یہ حقیقت ہے کہ وہ کانا اور لنگڑا تھا،مگر وہ گیا کہاں؟“فقیر نے اسی لہجے میں کہا،”آگے والا دانت ٹوٹا ہوا تو نہیں تھا؟“سوداگر جلدی سے بولے،”یہی جناب یہی،اللہ کے واسطے پتا بتا دو۔کہاں دیکھا تھا؟“فقیر نے ایک مرتبہ پھر اسی انداز میں کہا،”ایک طرف شہد کے ڈبے اور دوسری طرف گندم کی بوری لدی ہوئی تھی۔“اب دونوں کو پکا یقین ہو گیا۔کہنے لگے،”فقیر بابا!اب جلدی سے ہمیں چل کر بتائیے کہ اونٹ کہاں ہے“؟“فقیر نے کہا،بھائی!اگر سچ پوچھو تو نہ میں نے تمہارے اونٹ کو دیکھا ہے…
نیکی ضائع نہیں جاتی – ۔
صدیوں پرانی بات ہے ہندوستان پر اس وقت کے راجہ مہاراجے حکومت کیا کرتے تھے ۔ ایک ہندو راجے نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا، وہ ایک ظالم بادشاہ تھا،بات بات پر وزیروں کو قتل کروادیا کرتا تھا۔ اُس کا ایک وزیر ایک عقلمند اور رحمدل شخص تھا ، وہ رعایا سے نیک سکول کرتا تھا اور اُن کی مدد بھی کرتا تھا۔وہ ایک مرتبہ دریا کی دوسری طرف جانے کیلئے دریا پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کے ایک ملاح نئی کشتی لئے اُس کے استقبال کیلئے موجود ہے۔ جب وہ دوسری طرف پہنچا تو وزیر نے دیکھا کہ بادشاہ کے ہر کارے کشتی پر قبضہ کرنے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ وزیر نے ملاح کی کشتی ان سے بچا لی تو وہ وزیر کا شکریہ کرتے ہوئے واپس لوٹ گیا۔کچھ عرصے بعد کسی نے اس مسئلہ پر وزیر کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے۔…
حاتم طائی کا ایثار
عرب میں اسلام سے پہلے جہاں ہر طرف برائیاں ہی برائیاں تھیں وہاں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔جن میں سے ایک حاتم بھی تھا۔حاتم کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے اگر مبالغہ نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ حاتم کی سخاوت ضرب المثل ہے۔اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت مثالی ہے،اُن کے بارے میں بے شمار واقعات مشہور ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت عثمان غنی کے مال وزر اور عطیات وسخاوت کی وجہ سے اسلام کے پھیلاؤ میں بڑی سہولت پیدا ہوئی۔حاتم کا تعلق”طے“نامی ایک قبیلے سے تھا۔اِسی کی نسبت سے اُسے حاتم طائی کہا جاتا ہے۔وہ یمن کا حکمران تھا۔یمن کا علاقہ عرب سے جڑا ہوا تھا۔عرب پر اُن دنوں نوفل نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ وہ حاتم کی سخاوت اور علاقے میں مقبولیت سے بہت پریشان تھا۔ اُس کی سخاوت سے محض یمن کے…
خود پےبھروسہ
کسی باغ کے ایک گھنے درخت پر ایک فاختہ نے اپنا گھونسلہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی اور اُن کو دانہ دنکا بھی چگاتی تھی ۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اب اُن بچوں کے بال وپر بھی نکلنے لگے تھے۔ ایک روز فاختہ کو اُسکے بچوں نے بڑی پریشانی کے عالم میں یہ بتایا؛ ” ماں ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارا گھونسلہ برباد ہونے والا ہے ، آج اس باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آیا تھا او ر اُس سے کہہ رہا تھا کہ اب پھل توڑنے کا زمانہ آگیا ہے ، کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور اُن کی مدد سے اِس درخت کے پھل توڑوں گا۔میرے بازو میں تکلیف ہے اسلئے یہ کام تنہا نہیں کرسکتا، مجھے اپنے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہوگی“ یہ سُن کو فاختہ نے بچوں کو…
🔥😂 چوہدری صاحب اور پانچ ستارہ ھوٹل 🍋🍲
ایک دن گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوچا: > “آج شہر جا کے بڑے لوگوں والا کھانا کھایا جائے!” 😎سو سیدھے ایک مہنگے سے فائیو اسٹار ہوٹل جا پہنچے۔ 🏨 ویٹر نے مینیو کارڈ سامنے رکھا۔چوہدری صاحب نے مینیو کھولا۔ پہلا صفحہ انگریزی میں…دوسرا صفحہ انگریزی میں…تیسرا بھی انگریزی میں! 😵 اب چوہدری صاحب اپنی کم علمی ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے رعب سے انگلی ایک جگہ رکھی اور بولے:> “اوئے پُتر! بس ایہہ لے آؤ!” 😏 چند منٹ بعد ویٹر ایک پیالہ لے آیا، جس میں گرم پانی اور ایک لیموں کا ٹکڑا تیر رہا تھا۔ 🍋 چوہدری صاحب نے دل میں سوچا:> “واہ بھئی واہ! شہر والوں کے سوپ بھی کتنے نفیس ہوتے ھیں!” 😂 انہوں نے لیموں نچوڑا…چمچ اٹھایا…اور پورا “سوپ” مزے لے لے کر پی گئے۔ 😋 ویٹر کچھ دیر بعد آیا اور ادب سے پوچھا:> “سر! کیسا لگا؟” چوہدری صاحب نے مونچھوں…
عقلمند لڑکا
بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی شہر میں امانت نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ غلہ فروشی کا کام کرتا تھا اور شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے بازار میں اس کی غلّے کی دکان تھی۔ اس دکان میں گندم، چاول، گڑ، شکر، مکئی اور دالیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی ایمانداری، خوش اخلاقی اور غلے کے مناسب داموں کی وجہ سے لوگ دور دور سے اس سے سودا لینے آتے تھے۔ اس کی دکان میں دو نو عمر لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ ایک کا نام احسان تھا اور دوسرے کا مقصود۔ دونوں تقریباً ہم عمر ہی تھے اور کوئی بارہ سال کے ہونگے۔ ان لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور دونوں کے باپ اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ امانت کے محلے میں ہی رہتے تھے۔ اسے ان کے گھر کے حالات کا علم تھا اس لیے اس نے انہیں اپنی دکان میں کام کرنے…
عیب پوشی
کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اور عوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ اور ایک آنکھ سے محروم تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم ۔ اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی معزور تھا۔ لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک نہایت ہی ہوشیار مصور نے کہا:بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔ وہ کیسے؟؟تصویر میں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی…
Intitulado
En el denso y misterioso bosque de Siberia, donde la noche reinaba incluso durante el día, vivía un búho hermoso y malvado llamado Noor. Todo el bosque lo consideraba sabio y sabio. Todos los animales acudían a él en momentos difíciles; siempre les daba consejos que aliviaban sus preocupaciones. Noor vivía en la guarida de un viejo pino. Pero al envejecer, los más jóvenes comenzaron a burlarse de él en voz baja, diciendo que le gustaba la soledad y que siempre estaba callado; solo se hablaba de su sabiduría y que no hacía nada. La zorrita joven era aún más insolente; a menudo decía: «El tío Noor es tan sabio, que nos diga cómo protegernos de los depredadores para que no nos ataquen». El tío Noor escuchaba todo lo que decían, pero no decía nada, pues sabía que algunas verdades solo se comprenden con el tiempo.La voluntad de Dios era…
El rey, el príncipe y la oveja traviesa
Érase una vez un rey y su hijo Salomón. Salomón podía entender la conversación entre los animales. Entendía la conversación entre peces, ovejas e insectos. El rey viajaba por todo el mundo y llevaba a su hijo Salomón consigo porque quería que aprendiera sabiduría de ellos. La gente acudía al rey constantemente con sus problemas. Si tenían algún problema, acudían al rey. Y el rey siempre escuchaba con mucha atención. Y Salomón también. Un día, cuando Salomón tenía once años, llegaron unos hombres con un problema. Un pastor, un granjero y un rebaño de ovejas. Salomón amaba mucho a las ovejas. Tenían hermosos pelajes de lana. Las ovejas balaban y él las entendía. El primer hombre estaba enojado. La ira se reflejaba en su rostro, y gritó con voz muy fuerte: «¡Ese hombre! Sus animales entraron en mi huerto. ¡Se comieron toda mi fruta… todas mis plantas! Zanahorias… cilantro…». El…
¡El burro no está en venta! 😂
Un día, la esposa de un hombre fue pateada tan fuerte por su burro que falleció. 🫏 Unos meses después, se casó por segunda vez. La recién casada apenas tenía unos días cuando el burro también la convirtió en blanco de su “amoroso” dominio. 😳 Ahora el pobre hombre recibía de nuevo el pésame. La gente venía, recitaba oraciones y hacía preguntas. Un hombre observó: – Cuando las mujeres preguntan algo, él asiente con la cabeza y dice “sí”. 😊 – Y cuando los hombres preguntan algo, responde inmediatamente “no”. 😐 Finalmente, le preguntaron: “¡Hermano! ¿Cuál es este secreto?” Él respondió: “Las mujeres preguntan: ‘¿Te vas a casar de nuevo ahora?’ Entonces yo digo: ‘¡Sí!’ 😌 Y los hombres preguntan: ‘¡Oye! ¿Venderás el burro?’ Así que lo digo claramente: “¡No, hermano! ¡El burro no se venderá!” 🤣🤣
Siempre debes esforzarte por tu futuro.
Muchos animales vivían en un prado verde y hermoso, todos vivían juntos. Un día, todos los animales se reunieron y estaban muy preocupados por su prado porque en verano y primavera había hierba verde por todas partes, pero en invierno y la temporada de lluvias solo había agua por todas partes, por lo que los animales no tenían nada que comer. Estaban muy preocupados. El conejo siempre cultivaba todo tipo de verduras para sí mismo y las almacenaba en su casa para poder pasar el tiempo cómodamente en la temporada de lluvias. El conejo les dijo a todos los animales que construyeran casas fuertes para que pudieran estar seguros en sus casas durante el invierno. Todos los animales escucharon al conejo y la cabra se rió y se burló del conejo. Todos los animales construyeron casas para sí mismos y recolectaron mucha comida. Así podrían vivir en paz en sus…
Intitulado
En Italia había un rey. Sus súbditos lo detestaban, pero también había quienes lo elogiaban mucho. Ese rey tenía un ministro adulador que, día y noche, elogiaba la bondad, la verdad y la justicia del rey. El rey le ordenó que le dijera la verdad sobre la situación de sus súbditos, quién estaba en qué situación y qué decían de él. De esta manera, podría conocer su opinión y la situación de cada uno con precisión. En respuesta, los demás ministros guardaban silencio, pero el adulador decía de inmediato: «La bondad y la justicia del rey son famosas en todo el país, incluso en el mundo». ¿Quién sería tonto si no estuviera contento con la administración del rey? Los súbditos de nuestro país viven en paz y con gran bienestar. Al escuchar sus palabras, el rey empezó a dudar de que tal vez aquel adulador no le estuviera hablando con…
El zorro y el conejo
Había un zorro y un conejo. Ambos eran vecinos. El zorro era muy astuto y sagaz, mientras que el conejo era sencillo. El zorro trabajaba día y noche, y el conejo solo dormía después de vender caballos. El conejo tenía un pequeño terreno, pero era estéril por falta de trabajo. Un día, el zorro fue a casa del conejo y, después de charlar un rato, sacó a colación el tema de la agricultura. Le preguntó: «Conejo, cada día te vuelves más perezoso. Tu terreno sigue estéril y ya es hora de cultivar». «Tienes razón, pero ¿qué debo hacer? Ni siquiera tengo mucho que hacer». El conejo respondió: «Para serte sincero, estoy muy preocupado por ti. Me temo que si no produces comida, morirás de hambre el próximo invierno». Al oír esto, el conejo se puso muy triste y rompió a llorar. El zorro lo consoló y le dijo: “¿Por qué…
Paquete de madera
Un padre rico tenía tres hijos. Antes de morir, los llamó a los tres y les dio a cada uno un manojo de leña con diez trozos atados. Les dijo: «Rompan todo este manojo y muéstrenmelo». Los tres lo intentaron con todas sus fuerzas, pero el manojo no se rompía. Entonces el padre abrió cada manojo y les dio un trozo de leña por separado, diciéndoles: «Ahora rómpanlos». Cada trozo se rompió fácilmente, sin ningún esfuerzo. El padre dijo con voz débil: «Hijos, esta es la mayor lección de la vida. Mientras permanezcan juntos, apoyándose mutuamente, nada podrá separarlos. Pero si se separan y cada uno sigue su propio camino, hasta la más mínima dificultad del mundo los destruirá uno por uno». Tiempo después, el padre murió. Los tres hermanos recordaron este consejo, siempre se apoyaron mutuamente y el negocio familiar prosperó durante generaciones. Moraleja: Hay una fuerza en la…
Dos lanzadores
Un alfarero cocía sus vasijas en el horno todos los días. Un día, dos vasijas, cocidas al mismo tiempo, comenzaron a hablar entre sí. Una se quejaba: «Mira qué caliente estaba el fuego, cuánto dolor tuvimos que soportar, qué cruel es». La otra escuchaba en silencio. Al cabo de un tiempo, ambas vasijas se pusieron a la venta en el mercado. Un cliente golpeó ambas para comprobar el sonido. La vasija que se había endurecido completamente por el calor del fuego emitió un sonido claro y fuerte, mientras que la que estaba medio cocida se agrietó y se rompió. La vasija resistente sirvió durante años para conservar agua fría y grano, embelleciendo los hogares, mientras que la débil pronto acabó en la basura. El alfarero, que observaba todo esto, le dijo a su aprendiz: «En la vasija que puse en el fuego más intenso, confiaba más en que resistiría y…