Tag Archives: bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt

Faltaban solo unos días para el Eid. Un Sardarji pensó que esta vez luciría un traje tan magnífico que asombraría a todo el pueblo. Fue a la ciudad, compró la tela más cara y se dirigió directamente al sastre más famoso. El sastre le tomó las medidas con gran seguridad y le dijo: “¡Sardarji! No se preocupe, en la noche de luna le haré un traje que dejará a todos boquiabiertos”. Al oír esto, el Sardarji regresó feliz a casa y comenzó a esperar con ansias el día del Eid. Finalmente, llegó la noche de luna. El Sardarji llegó a la sastrería con zapatos nuevos y arreglándose el bigote. Pero en cuanto sacó el traje y lo vio, quedó atónito. Un pantalón era tan largo que arrastraba por el suelo, mientras que el otro era tan corto que ni siquiera le cubría los tobillos. El rostro del Sardarji se puso…

Read more

En una ciudad, un mendigo solía sentarse frente al mismo cajero automático todos los días. La gente se acercaba, le daba algunas monedas, algunos billetes, y otros simplemente pasaban de largo con una mirada de lástima. Un día, un empresario adinerado pasó por allí. Vio al mendigo, sacó 1000 rupias de su bolsillo y se las dio. El mendigo sonrió y dijo: «Que Alá te dé diez veces más». El empresario se rió. «¡Baba! ¿Lo estás pidiendo tú mismo y rezando por mí para que sea rico?». El mendigo solo sonrió y negó con la cabeza. Unos días después, el empresario volvió a pasar. Esta vez, vio al mendigo de pie junto al cajero automático, insertando una tarjeta en la máquina. Los ojos del empresario se abrieron de par en par. «¡Oh, Baba! ¿Es este tu cajero automático?». El mendigo dijo con calma: «No, solo estoy revisando mi cuenta». El…

Read more

Fue hace mucho tiempo. Hubo un rey de un gran imperio cuyo nombre antaño infundía temor en los corazones de sus enemigos. En su juventud, había sido un gobernante valiente, sabio y perspicaz sin parangón. Su espada había ganado incontables guerras y su intelecto había frustrado innumerables conspiraciones. Los enemigos sabían que, mientras aquel viejo león viviera, sería difícil mirar a su imperio con malos ojos. Pero ¿quién ha podido resistir el paso del tiempo? Finalmente, un día, aquel valiente rey envejeció y cedió las riendas del imperio a su joven hijo. Aunque el trono estaba ahora en manos de su hijo, el padre, con la sabiduría de toda una vida, le aconsejaría en todo, evitaría que tomara decisiones equivocadas y lo guiaría en cada paso. Pero el joven rey consideraba esto una intromisión en su libertad. Sentía que, ahora que él mismo era un rey poderoso, no necesitaba el…

Read more

Érase una vez un barquero pobre pero alegre que vivía a la orilla de un río. La gente lo consideraba sencillo, pero poseía una gran experiencia vital. Un día, un famoso erudito subió a su barca para cruzar el río. El erudito vestía ropas de seda, llevaba libros en la mano y el orgullo se reflejaba claramente en su rostro. El viaje por el río era largo, así que el erudito empezó a charlar con el barquero para pasar el tiempo. Frunció el ceño y dijo: «¡Oh, barquero! ¿Has estudiado alguna vez química y gramática?». El barquero respondió humildemente: «Señor, soy un hombre pobre. No he tenido la oportunidad de estudiar». Al oír esto, el erudito rió sarcásticamente y dijo: «¡Ay! ¡Has desperdiciado media vida!». El barquero permaneció en silencio. Simplemente respiró hondo y continuó navegando tranquilamente. Después de un rato, el erudito volvió a preguntar: «Bueno, dime, ¿has estudiado…

Read more

En una aldea vivía un tejedor. Era de corazón puro y no guardaba rencor a nadie, pero tenía una debilidad: creía fácilmente lo que decían los demás. Un día, compró cuatro burros fuertes y sanos en la ciudad con el dinero que había ahorrado con mucho esfuerzo. Feliz, emprendió el camino hacia la aldea, con las cuerdas en la mano. En el camino, tres astutos ladrones lo vieron. Los burros eran dóciles, pero los ladrones tenían malas intenciones. Idearon un plan extraño. El primer ladrón se acercó, saludó al tejedor y le dijo sorprendido: «¡Oiga, señor! ¿Adónde lleva estos cuatro perros?» El tejedor le respondió enfadado: «¿Está usted ciego? ¡Estos no son perros, son burros!» El ladrón puso cara de inocente y dijo: «¡De acuerdo! Si usted lo dice, está bien». Y se marchó. El tejedor se rió a carcajadas, pensando que era un hombre extraño y loco. Un poco…

Read more

ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ وہ دل کا بہت صاف تھا، کسی کا برا نہیں سوچتا تھا، لیکن ایک کمزوری تھی… وہ دوسروں کی باتوں پر جلد یقین کر لیتا تھا۔ ایک دن اس نے بڑی محنت سے جمع کی ہوئی رقم سے شہر سے چار مضبوط اور تندرست گدھے خریدے۔ خوشی خوشی ان کی رسیاں ہاتھ میں پکڑے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں تین شاطر چوروں نے اسے دیکھا۔ گدھے اچھے تھے، اور چوروں کی نیت خراب۔ انہوں نے ایک عجیب منصوبہ بنایا۔ پہلا چور آگے بڑھا، جولاہے کو سلام کیا اور حیرت سے بولا: “ارے میاں! یہ چار کتے کہاں لیے جا رہے ہو؟” جولاہا غصے سے بولا: “تمہاری آنکھیں خراب ہیں کیا؟ یہ کتے نہیں، گدھے ہیں!” چور معصوم سا منہ بنا کر بولا: “اچھا! اگر تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے۔” اور چل دیا۔ جولاہا دل ہی دل میں ہنسا کہ عجیب…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت کا ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے نام سے کبھی دشمنوں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ وہ اپنی جوانی میں بے مثال بہادر، دانا اور دور اندیش حکمران رہا تھا۔ اس کی تلوار نے بے شمار جنگیں جیتی تھیں اور اس کی عقل نے ان گنت سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔ دشمن جانتے تھے کہ جب تک یہ بوڑھا شیر زندہ ہے، اس کی سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی آسان نہیں۔ مگر وقت کے سامنے کون ٹھہر سکا ہے؟آخر ایک دن وہ بہادر بادشاہ بوڑھا ہو گیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے نوجوان بیٹے کے ہاتھ میں دے دی۔ اگرچہ تخت اب بیٹے کے پاس تھا، مگر باپ اپنی عمر بھر کے تجربے کی روشنی میں ہر معاملے پر اسے مشورہ دیتا، اسے غلط فیصلوں سے روکتا اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا تھا۔لیکن نوجوان…

Read more

ایک شہر میں ایک فقیر روز ایک ہی ATM کے باہر بیٹھتا تھا۔لوگ آتے، کچھ سکے دیتے، کچھ نوٹ، اور کچھ صرف ترس بھری نظر ڈال کر گزر جاتے۔ایک دن ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ اس نے فقیر کو دیکھا اور جیب سے 1000 روپے نکال کر دے دیے۔فقیر مسکرایا اور بولا: “اللہ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ دے۔”تاجر ہنس پڑا۔ “بابا! تم خود مانگ رہے ہو اور مجھے دولت کی دعا دے رہے ہو؟”فقیر نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔چند دن بعد تاجر دوبارہ وہاں سے گزرا۔اس بار اس نے دیکھا کہ فقیر ATM کے پاس کھڑا ہے اور مشین میں کارڈ ڈال رہا ہے۔تاجر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔“او بابا! یہ ATM تمہارا ہے کیا؟”فقیر نے سکون سے کہا: “نہیں، بس اپنا اکاؤنٹ چیک کر رہا ہوں۔”تاجر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “فقیر کا بھی اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”فقیر بولا: “ہاں، اور کبھی کبھی دل والوں…

Read more

عید میں صرف چند دن باقی تھے۔ ایک سردار جی نے سوچا کہ اس بار ایسی شاندار پوشاک سلوانی ہے کہ پورا گاؤں دیکھتا رہ جائے۔ وہ شہر گئے، مہنگا ترین کپڑا خریدا اور سیدھے شہر کے مشہور درزی کے پاس پہنچ گئے۔ درزی نے بڑے اعتماد سے ناپ لیا اور کہا: “سردار جی! فکر نہ کریں، چاند رات کو ایسا سوٹ دوں گا کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں گے۔” یہ سن کر سردار جی خوشی خوشی گھر لوٹ گئے اور روز عید کا انتظار کرنے لگے۔ آخرکار چاند رات آ گئی۔ سردار جی نئے جوتے پہن کر، مونچھوں کو تاؤ دے کر درزی کی دکان پر پہنچے۔ لیکن جیسے ہی سوٹ نکال کر دیکھا، ان کے ہوش اڑ گئے۔ شلوار کا ایک پانچہ اتنا لمبا تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا، جبکہ دوسرا اتنا چھوٹا تھا کہ ٹخنے بھی نہ ڈھانپ رہا تھا۔ سردار جی کا چہرہ لال…

Read more

اایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک پرسکون تالاب تھا، جہاں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔ وہ اکثر تالاب کے کنارے کی نرم کیچڑ میں چھپ کر سکون سے وقت گزارتے تھے۔ ایک دن ایک بھوکا سانپ وہاں آ پہنچا۔ اس کی نظریں تالاب کے مینڈکوں پر تھیں اور وہ انہیں اپنا شکار بنانا چاہتا تھا۔ چالاکی سے اس نے ایک مینڈک کے قریب جا کر نرم لہجے میں کہا: “مینڈک بھائی! گھبراؤ نہیں، میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں تمہیں ایک ایسی جگہ لے جانا چاہتا ہوں جو اس تالاب سے زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔” مینڈک کو سانپ کی بات پر مکمل یقین تو نہ آیا، لیکن وہ سوچنے لگا کہ شاید سانپ سچ کہہ رہا ہو۔ وہ احتیاط سے آہستہ آہستہ کنارے کی طرف بڑھا۔ مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچا، سانپ نے جھپٹ کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ مینڈک اگرچہ کمزور تھا، لیکن بے…

Read more

ایک دن شیخ چلی بازار سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بہت بڑا تربوز دیکھا۔ اتنا بڑا تربوز اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ چلی نے دکاندار سے پوچھا: “بھائی، یہ تربوز اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟” دکاندار نے مذاق میں کہا: “یہ جادوئی تربوز ہے۔ جو اسے کھاتا ہے، اس کی ایک خواہش پوری ہو جاتی ہے!” شیخ چلی نے فوراً تربوز خرید لیا اور گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے تربوز کے سامنے بیٹھ کر کہا: “میری خواہش ہے کہ میں دنیا کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں!” پھر اس نے تربوز کاٹنے کے لیے چھری اٹھائی، لیکن چھری پھسل گئی اور تربوز زمین پر گر کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تربوز کے اندر سے صرف سرخ گودا نکلا، کوئی جادو نہیں! شیخ چلی حیران ہو کر بولا: “ارے! میری دولت کہاں گئی؟” اسی وقت اس کا دوست آ…

Read more

جیل میں پھانسی کی سزا پانے والا ٹَھگ افسردہ بیٹھا تھا۔۔دو اور قیدی اسکو دلاسہ دینے بیٹھ گئےقیدی نے کہا ۔۔۔ یار یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہےبس ایک قطار میں سب کھڑے ہیںکوئی اگے تو کوئی پیچھےاور موت سے تو کافر لوگ ڈرتے ہیںہم تو ماشااللہ مسلمان ہیںپھانسی کی سزا پانے والا مجرم نے کہا  میں موت سے نہیں ڈرتابس ایک فکر کھائے جارہاہے۔۔دوسرے قیدی نے پوچھا۔۔ کیا مطلب؟پھانسی ولا مجرم:  کچھ سال پہلے میں نے ایک بینک لوٹا تو میں نے کچھ پیسے خرچ کیۓ باقی 5 کروڑ 60 لاکھ میں نے پرانے ماڈل کے TV میں رکھ دیۓ ہیں جو ہمارے گھر کے ایک کونے میں پڑا ہیںکل مجھے پھانسی دے دی جائے گیاور میری بیوی کو پتہ تک نہیں چلیگا۔۔قیدی نے وعدہ کیا میں تمہاری بیوی کو بتا دونگا بس آپ ہمیں اپنے گھر کا پتہ دے دیجئےپھانسی والے مجرم نے…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت مشہور مصور (Painter) رہتا تھا۔ اس نے ایک دن ایک ایسی تصویر بنائی جو اس کی زندگی کا سب سے بہترین شاہکار تھی۔ اس تصویر میں زندگی کے رنگ، امید اور خوبصورتی کو اتنے شاندار طریقے سے دکھایا گیا تھا کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔مصور نے سوچا کہ کیوں نہ آج لوگوں کے ذوق کا امتحان لیا جائے۔ اس نے وہ تصویر شہر کے سب سے مصروف چوراہے پر لگا دی اور نیچے ایک بورڈ پر لکھ دیا:“جس کسی کو بھی اس تصویر میں کوئی خامی یا غلطی نظر آئے، وہ وہاں لال رنگ سے ایک نشان (Cross) لگا دے۔” شام کا منظرشام کو جب مصور چوراہے پر اپنی تصویر واپس لینے پہنچا، تو اس کا دل ٹوٹ گیا۔ پوری تصویر لال نشانات سے بھری پڑی تھی، یہاں تک کہ تصویر کا اصل چہرہ اور رنگ بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ مصور شدید…

Read more

ایک گاؤں میں ایک دھو بی رہتا تھا، جس کا ایک ہی گدھا تھا اور وہ بیچارہ بیمار ہو گیا۔ دھو بی پریشان ہو کر گاؤں کے سب سے پڑھے لکھے پنڈت جی کے پاس گیا اور بولا، “مہاراج! میرا گدھا بہت بیمار ہے، کچھ کھا پی نہیں رہا، کوئی علاج بتائیں۔”پنڈت جی نے اپنی پرانی کتابیں کھولیں، کچھ حساب لگایا اور ایک کاغذ پر دوا کا نسخہ لکھ کر دیا۔ پنڈت جی نے سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھو بھائی! یہ دوا پاؤڈر (سفوف) کی شکل میں ہے۔ تم نے ایک لمبی بانس کی نالی لینی ہے۔ اس نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں رکھنا ہے اور دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارنی ہے تاکہ دوا سیدھی اس کے پیٹ میں چلی جائے۔”دھو بی خوش ہو کر گھر آیا، دوا خریدی، ایک بانس کی نالی لی اور گدھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دوا نالی کے اندر ڈالی،…

Read more

سمندر کے کنارے ایک بڑا سا ہوٹل تھا۔ وہاں روز سیاح آتے، کھاتے پیتے اور بہت سا کھانا ضائع کر جاتے۔ اسی ہوٹل کے آس پاس ایک کوا رہتا تھا۔ مفت کے کھانے کھا کھا کر وہ خوب موٹا تازہ ہو چکا تھا۔ جسم بھاری، آواز اونچی اور غرور آسمان سے بھی بلند۔ وہ جہاں بیٹھتا، دوسرے کوؤں کو حقارت سے دیکھتا اور کہتا: “تم لوگ عام کوا ہو… میں پرندوں کا بادشاہ ہوں!” بیچارے دوسرے کوا اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، کیونکہ بحث کرنے سے زیادہ شور وہ کرتا تھا۔ ایک دن دور دراز علاقوں سے ہنسوں کا ایک خوبصورت جوڑا سمندر کے کنارے اترا۔ ان کے پر چاندی کی طرح چمک رہے تھے اور ان کے چہروں پر عجیب سا وقار تھا۔ کوا فوراً اکڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ گردن ٹیڑھی کی، سینہ پھلایا اور بولا: “سنا ہے تم لوگ بڑے اڑاکے بنتے ہو؟” بوڑھا…

Read more

ایک دن بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں سیدھا چلتے دیکھا۔ وہ حیران ہوا اور کمہار سے پوچھا: “تم انہیں کس طرح سیدھا چلنا سکھاتے ہو؟” کمہار نے جواب دیا: “حضور! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی ڈر سے یہ سب سیدھے چلتے ہیں۔” بادشاہ کو کمہار کی بات پسند آئی۔ اس نے کہا: “کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟” کمہار نے ہامی بھر لی۔ بادشاہ نے اسے بڑا عہدہ دے دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے چوری کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس نے فیصلہ سنایا کہ چور کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں چپکے سے کہا: “جناب، یہ چور وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔” کمہار نے دوبارہ حکم دیا: “چور کے دونوں ہاتھ کاٹو۔” اس کے بعد خود وزیر کمہار کے کان میں آیا اور سرگوشی کی: “جناب…

Read more

کہتے ہیں دور کہیں کسی گاؤں میں کئی لوگوں کی فصلیں چوری ہونے لگی، کسان اپنی فصل میں پہنچتے تو دیکھ کر لگتا کہ کوئی جانور گھاس کھا کر گیاہے لیکن کسی کو بھی جانور کے پیروں کے نشان نہ ملتے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بھینس فصل چر گئی، کئی مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک کہانی عام ہوگئی کہ کوئی جانور نما جن رات گئے آتا ہے، فصل چرتا ہے اور اڑ جاتا ہے۔ لیکن پھر کسی ایسے شخص نے جسے جن والی کہانی پر یقین نہیں تھا، رات گئے ایک نوجوان کو بھینس کندھے پر اٹھا کر جاتے ہوئے دیکھ لیا، پیچھا کرنے پر معاملہ یوں کھلا کہ نوجوان روز اپنی بھینس کندھے پر اٹھا کر لے جاتا ہے، فصلوں میں چھوڑتا ہے اور پھر کندھے پر اٹھا کر واپس لے آتا ہے، تھوڑی تحقیق سے معلوم ہوا بھینس اٹھانے والا نوجوان جانور کو…

Read more

تپتے ہوئے صحرا کے کنارے ایک مسافر چلا جا رہا تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا، ریت کے ذرے انگاروں کی طرح جل رہے تھے، اور اس کے ہونٹ پیاس سے پھٹنے لگے تھے۔اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، مگر منزل کی دھن اس کے سر پر سوار تھی۔کچھ دور چلنے کے بعد اسے ایک صاف و شفاف چشمہ دکھائی دیا۔ پانی دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا، جیسے کسی بانسری سے مدھر دھن نکل رہی ہو۔ اس کے کنارے سبز گھاس تھی اور ہوا میں تازگی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔پانی نے اپنی خاموش زبان میں پکارا:“اے مسافر! رک جا، ایک گھونٹ پی لے۔ تیری تھکن بھی اتر جائے گی اور پیاس بھی بجھ جائے گی۔”مسافر نے چشمے کی طرف دیکھا، مگر پھر اپنی راہ پر نظریں جما لیں۔وہ بولا:“ابھی نہیں۔ میرے پاس وقت نہیں۔ منزل بہت دور ہے، میں رک نہیں سکتا۔”پانی خاموش ہو گیا۔مسافر آگے بڑھتا رہا۔سورج مزید…

Read more

گاؤں کے کنارے ایک قدیم برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں اتری ہوئی تھیں اور شاخیں آسمان سے راز و نیاز کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ نہ جانے کتنی نسلیں اس کے سائے میں پلی تھیں، کتنے مسافر اس کے نیچے دم لے چکے تھے، اور کتنے پرندوں نے اسے اپنا گھر بنایا تھا۔گرمی کی دوپہروں میں وہ ٹھنڈی چھاؤں بانٹتا، بارشوں میں مٹی کو بہنے سے بچاتا، اور خزاں میں بھی خاموشی سے کھڑا رہتا، گویا زندگی کے ہر رنگ کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا جانتا ہو۔ایک دن ایک لکڑہارا کلہاڑی کندھے پر رکھے وہاں آ پہنچا۔اس کی نگاہ درخت کے مضبوط تنے پر پڑی تو اسے اپنی ضرورتیں یاد آگئیں؛ گھر کی تنگ دستی، بچوں کی خواہشیں اور بازار میں لکڑی کی اچھی قیمت۔اس نے کلہاڑی سنبھالی اور درخت کے قریب آیا۔ہوا نے آہستہ سے سرگوشی کی، پرندے بےچین ہو کر پھڑپھڑانے…

Read more

80/390
NZ's Corner