Tag Archives: ،urdublogs

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، اتنی پرانی کہ جب درخت ابھی جوان تھے اور پہاڑ ابھی بوڑھے نہیں ہوئے تھے۔ غانا کی سرزمین پر ایک گاؤں تھا جس کا نام تھا “کوفی آنا” یعنی وہ جگہ جہاں روحیں آرام کرتی ہیں۔ اس گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام کوامے تھا۔ کوامے غریب نہیں تھا، امیر بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے پاس ایک چیز تھی جو پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہ تھی — اس کی آواز۔ جب کوامے بولتا تھا تو لگتا تھا جیسے بارش کا پہلا قطرہ خشک زمین پر گرا ہو۔ جب وہ کہانی سناتا تھا تو بوڑھے رو دیتے تھے اور بچے سانس روک لیتے تھے۔ وہ Griot تھا یعنی قبیلے کا کہانی کار، حافظہ، اور ضمیر۔ اس کی ایک بیٹی تھی آبینا۔ آبینا نام کا مطلب ہوتا ہے: “منگل کے روز پیدا ہونے والی لڑکی۔” لیکن آبینا کو لوگ اس…

Read more

بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔ مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔ وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی…

Read more

ایک زمانے میں ایک عظیم بادشاہ تھا، جس کے اصطبل مں ایک نہایت شاندار، طاقتور اور خوبصورت گھوڑا تھا۔ اس کی چال میں غرور، آنکھوں میں آگ، اور جسم میں بجلی سی تیزی تھی۔ مگر ایک مسئلہ تھا… وہ گھوڑا مکمل طور پر بے قابو تھا۔ کوئی شخص اسے قابو میں نہ لا سکا۔ بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کروا دیا: “جو شخص میرے اس جنگلی گھوڑے کو رام کر لے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا!” یہ سنتے ہی بہادر سپاہی، ماہر سوار، طاقتور پہلوان اور گھڑسواری کے استاد محل میں جمع ہو گئے۔ ہر ایک کے دل میں انعام کی خواہش اور فتح کا جذبہ تھا۔ ایک ایک کر کے سب نے کوشش کی۔ کوئی لگام کھینچتا، کوئی زور آزمائی کرتا، کوئی اسے ڈرانے کی کوشش کرتا، کوئی طاقت سے جھکانا چاہتا… مگر گھوڑا ہر بار پہلے سے زیادہ بپھر جاتا۔ وہ کسی کو زمین…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بصرہ کے بازار میں ایک کپڑے کا تاجر رہتا تھا جس کا نام عبداللہ تھا، وہ اپنی دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھا۔ ایک دن بازار میں سخت قحط اور کساد بازاری کا دور تھا۔ لوگ دانے دانے کو محتاج ہو رہے تھے۔ عبداللہ کے پاس دکان میں کچھ قیمتی ریشم موجود تھا جس کو بیچ کر وہ اچھا منافع کما سکتا تھا۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی جس کے چہرے پر بھوک اور پریشانی کے آثار صاف نمایاں تھے۔ اس نے ایک معمولی سا کپڑا دکھایا اور کہا: “بیٹا! میرے گھر میں بچے بھوکے ہیں، یہ کپڑا رکھ لو اور مجھے اتنے پیسے دے دو کہ میں ان کے لیے کھانے کا سامان خرید سکوں۔”عبداللہ نے اس کپڑے کو دیکھا، وہ بہت ہی معمولی اور پرانا تھا جس کی بازار میں کوئی قیمت نہیں تھی۔ لیکن عبداللہ…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر میں حاجی کریم بخش نام کا ایک بہت بڑا تاجر رہتا تھا۔ اس کے پاس بڑی دکانیں، کئی نوکر، اور سونے چاندی سے بھرے صندوق تھے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ بے حد کنجوس تھا۔ وہ اپنے نوکروں کو اتنی کم تنخواہ دیتا کہ بیچارے آدھی روٹی کھا کر کام کرتے۔ اگر کوئی ملازم ایک منٹ دیر سے آتا تو آدھے دن کی مزدوری کاٹ لیتا۔ اس کی دکان پر ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ رحیم غریب ضرور تھا مگر بہت ذہین اور خوش مزاج تھا۔ وہ ہر مشکل میں بھی ہنسنے کا بہانہ ڈھونڈ لیتا۔ ایک دن حاجی صاحب نے دیکھا کہ دکان میں چوہے بہت بڑھ گئے ہیں۔ کبھی کپڑے کتر دیتے، کبھی خشک میوہ خراب کر دیتے۔ حاجی صاحب غصے سے چیخا:“اگر یہ چوہے ختم نہ ہوئے تو سب کی تنخواہ کاٹ…

Read more

صحرا کی رات اپنے پورے جوبن پر تھی۔سنہری ریت دن بھر سورج کی آگ سہنے کے بعد اب چاندنی کی ٹھنڈی چادر اوڑھے خاموش پڑی تھی۔ دور دور تک سکوت کا راج تھا، صرف ہوا کے نرم جھونکے ریت کے ذروں سے راز و نیاز کر رہے تھے۔ایک بدوی اپنے وفادار اونٹ کے ساتھ ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھا تھا۔ قریب ہی آگ کی ننھی سی لو جھلملا رہی تھی اور آسمان ستاروں سے اس طرح بھرا ہوا تھا جیسے کسی مصور نے سیاہ مخمل پر چاندی کے ہزاروں موتی ٹانک دیے ہوں۔بدوی نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے اپنے اونٹ سے کہا:“اے صحرا کے جہاز! کیا تم جانتے ہو کہ یہ ستارے کیا ہیں؟”اونٹ نے گردن ہلائی، ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولا:“ہاں، یہ میرے قدموں کے نشان ہیں۔”بدوی چونک گیا۔“تمہارے قدموں کے نشان؟”اونٹ نے فخر سے سر اونچا کیا۔“جی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کرم دین نام کا ایک بوڑھا بڑھئی رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لکڑی کا کام کر کے اپنے اکلوتے بیٹے ساجد کو پڑھایا لکھایا اور بڑا آدمی بنایا۔ جب بیٹا جوان ہو گیا اور اس کی اچھے گھر میں شادی ہو گئی، تو اس نے بوڑھے باپ کو ایک بوجھ سمجھنا شروع کر دیا۔ باپ کے ہاتھ کانپتے تھے، اس لیے روٹی کھاتے وقت اکثر برتن گر کر ٹوٹ جاتا۔ بہو اور بیٹے نے تنگ آ کر باپ کو مٹی کا ایک سستا سا پیالہ لا دیا اور اسے گھر کے ایک کونے میں بٹھا دیا۔بوڑھا باپ خاموشی سے اس مٹی کے پیالے میں روٹی کھاتا اور اپنی قسمت پر روتا۔ ایک دن کرم دین کا سات سال کا پوتا صحن میں بیٹھ کر لکڑی کے ایک ٹکڑے کو چھری سے چھیل رہا تھا۔ ساجد دکان…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر پر مغلوں کی حکومت تھی۔ انہی دنوں ایک شہر میں ایک ایسا دولت مند شخص رہتا تھا جس کی دولت کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے خزانوں میں اتنا سونا اور چاندی ہے کہ اگر کئی نسلیں بھی بیٹھ کر کھائیں تو ختم نہ ہو۔ اس کی تجارت دور دراز ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے قافلے شہروں اور صحراؤں سے گزرتے تھے، اور اس کی حیثیت اس قدر بلند تھی کہ مغل بادشاہ کے دربار تک اس کی رسائی تھی۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی بے پناہ دولت رکھنے کے باوجود وہ انتہا درجے کا کنجوس تھا۔ وہ قیمتی لباس خرید سکتا تھا مگر پرانے اور پیوند لگے کپڑے پہنتا تھا۔ گھوڑوں اور بگھیوں کے اصطبل بھر سکتا تھا مگر میلوں پیدل چلتا تھا تاکہ سواری پر خرچ نہ آئے۔…

Read more

ڈاکٹر کی وہ قربانی جس نے ایک باپ کو رُلا دیا…ایک دل کو چھو لینے والی کہانی ایک مشہور ڈاکٹر صبح سویرے ہسپتال پہنچا۔ آج ایک انتہائی نازک آپریشن ہونا تھا۔ مریض ایک کم عمر لڑکا تھا جس کی جان خطرے میں تھی۔ آپریشن تھیٹر کی طرف جاتے ہوئے ڈاکٹر کی نظر ایک پریشان حال شخص پر پڑی جو راہداری میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ لڑکے کا باپ تھا۔ جیسے ہی اس نے ڈاکٹر کو دیکھا، تیزی سے اس کے پاس آیا اور قدرے ناراضی سے بولا: “ڈاکٹر صاحب! آپ کو آنے میں اتنی دیر کیوں ہوئی؟ کیا آپ جانتے ہیں میرا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے؟ اگر آپ کا اپنا بیٹا اس حالت میں ہوتا تو کیا آپ اتنے پرسکون رہتے؟” ڈاکٹر نے تحمل سے اس کی بات سنی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کس…

Read more

ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گانے گاتا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا۔ سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے بولنے کی آوازیں سڑک تک آ رہی تھیں۔تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اس پنجرے میں ایک شیر بند ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آ گیا۔ اندر بند شیر نے جب اس کو دیکھا تو رونی صورت بنا کر بولا۔’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ دیہاتی آدمی ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کر اور قریب آ گیا۔ تب شیر نے اس کی اور تعریف کر نا شروع کر دی۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے اور…

Read more

ایک دن ایک نہایت امیر تاجر سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی زندگی مسلسل مصروفیت، منصوبوں، کاروباری سودوں اور دولت بڑھانے کی جدوجہد میں گزرتی تھی۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ اگلا ہدف، اگلا منافع اور اگلی کامیابی گردش کرتی رہتی تھی۔ چلتے چلتے اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی چھوٹی سی کشتی کے قریب ریت پر لیٹا ہوا سکون سے دھوپ سینک رہا تھا۔ قریب ہی چند تازہ مچھلیاں پڑی تھیں جو بظاہر ابھی ابھی پکڑی گئی تھیں۔ تاجر کو حیرت ہوئی۔ وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا: “ابھی تو دن کا آغاز ہے، تم نے مچھلیاں پکڑنا کیوں بند کر دیا؟” ماہی گیر نے اطمینان سے جواب دیا: “آج کے لیے جتنی ضرورت تھی، اتنی مچھلیاں پکڑ لی ہیں۔” تاجر نے حیرانی سے سر ہلایا اور بولا: “یہ تو بہت بڑی غلطی ہے! تم مزید مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔…

Read more

نورپور ایک ایسا گاؤں تھا جہاں کی صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے نہیں، بلکہ اکثر و بیشتر شیخ چلی کے کسی نئے اور انوکھے کارنامے کی گونج سے شروع ہوتی تھیں۔ گاؤں کے لوگ دل کے برے نہیں تھے، مگر شیخ چلی کی روز روز کی خیالی پلواؤ پکانے کی عادت سے سبھی واقف تھے۔ شیخ چلی کا ایک ہی ساتھی تھا، اس کا وفادار اور سست رفتار گدھا، جس کا نام اس نے بڑے پیار سے “چونچو” رکھا تھا۔ چونچو بھی اپنے مالک کی طرح دنیا و مافیہا سے بے خبر، بس اپنے چارے اور نیند میں مست رہتا تھا۔اس دن بھی کچھ الگ نہیں تھا۔ شیخ چلی اپنے کچے مکان کے صحن میں کھٹیا پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی نظریں آسمان پر اڑتے ہوئے عقابوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس کے دماغ میں خیالات کے گھوڑے نہیں، بلکہ گدھے دوڑ رہے تھے۔“اگر اللہ نے عقاب کو…

Read more

ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیںوزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔ سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟…سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل…

Read more

جنگل میں نعمتوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ کہیں پھلوں کے ڈھیر لگے رہتے، کہیں اناج بکھرا پڑا ہوتا اور کہیں جانور دعوتوں میں مصروف نظر آتے۔ ہر جانور اپنی جسامت اور ضرورت کے مطابق کھاتا پیتا اور خوش رہتا، مگر ایک چونٹی تھی جس کے دل میں ہمیشہ ایک حسرت مچلتی رہتی تھی۔وہ جب ہاتھی کو ڈھیروں گھاس کھاتے دیکھتی، بھینس کو گھنٹوں جگالی کرتے دیکھتی یا ریچھ کو شہد کے چھتے صاف کرتے دیکھتی تو دل ہی دل میں سوچتی، “کاش میں بھی اتنا کھا سکتی”۔ اسی حسرت نے اسے ایک عجیب عادت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ خود تو ایک دانہ کھا کر سیر ہو جاتی، مگر بات ہمیشہ دیگوں کی کرتی۔وہ جب بھی کسی سے ملتی، کھانے کا ذکر ضرور چھیڑ دیتی۔اگر کوئی پوچھتا، “چونٹی بہن! کہاں سے آ رہی ہو؟”تو وہ گردن اکڑا کر جواب دیتی،“ارے مت پوچھو! لومڑی کے ہاں دعوت تھی۔ ایک…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔ پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔ اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنے جنگل میں شیر بادشاہ کے محل میں ایک خاص نوکری نکلی۔ کام یہ تھا کہ بادشاہ کے تخت کے پیچھے کھڑے ہو کر شاہی چھتری سنبھالنی تھی۔ یہ ایک باعزت عہدہ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ہر وقت بادشاہ کے قریب رہنے کا موقع ملتا تھا۔ جنگل بھر سے جانور آئے۔ان میں ایک چھوٹا سا خرگوش بھی تھا۔ وہ ذہین تھا، تیز تھا، آداب جانتا تھا اور ہر لحاظ سے اس نوکری کا اہل تھا۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو اسے صرف اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ اس کا قد بہت چھوٹا تھا۔لومڑی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: “بادشاہ کی شاہی چھتری اتنی اونچی ہے کہ تم اسے سنبھال ہی نہیں سکتے۔”آخرکار یہ نوکری ایک لمبے قد والے ہرن کو مل گئی۔خرگوش کا دل ٹوٹ گیا۔جب بھی وہ محل کے قریب سے گزرتا اور ہرن کو شاہی لباس میں…

Read more

ایک بھائی صاحب بیوٹی پارلر کے ویٹنگ روم میں بیٹھے میگزین پڑھ رہے تھے۔ 😌📖 بیوی اندر میک اپ اور فیشل کروانے گئی ہوئی تھی، اور بھائی صاحب سوچ رہے تھے کہ “بس پانچ منٹ کی بات ہو گی…” 😅 لیکن ایک گھنٹہ گزر گیا… پھر دوسرا… 😂 اتنے میں ایک خوبصورت عورت آئی، آہستہ سے ان کے کندھے کو دبایا اور بولی:“آئیے… چلتے ہیں!” 😳💕 بھائی صاحب کے تو پسینے چھوٹ گئے۔ 😰جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں دیکھ رہا۔ 😂 پھر ہکلاتے ہوئے بولے: “میں شادی شدہ ہوں… اور یہاں پارلر میں بیوی بھی ساتھ ہے!” 😭🤣 عورت نے ماتھا پکڑا، ہلکا سا غصے سے بولی: “ارے جناب! 😒 اتنی دیر میں میری شکل ہی بھول گئے؟ ذرا غور سے دیکھو…” “میں ہی ہوں!” 🤣🤣 منقول

فارس کا سلطان بڑا دانا مشہور تھا۔ اسے مسئلے سلجھانے، پہیلیاں بجھانے اور معمے حل کرنے کا بھی شوق تھا۔ ایک دن اسے کسی کا بھیجا ہوا تحفہ ملا۔ بھیجنے والا سلطان کے لئے اجنبی تھا۔ سلطان نے تحفے کو کھولا اس میں سے ایک ڈبہ نکلا۔ ڈبے کے اندر لکڑی کی تین خوبصورت گڑیاں نظر آئیں جنہیں بڑے سلقیے سے تراشا گیا تھا۔ اس نے ایک ایک کر کے تینوں گڑیوں کو اٹھایا اور ہر ایک کی کاریگری کی خوب تعریف کی۔ اس کا دھیان ڈبہ پر گیا جہاں ایک جملہ تحریر تھا: ’’ان تینوں گڑیوں کے درمیان فرق بتائیے۔‘‘ ان تینوں گڑیوں کے درمیان فرق بتانا سلطان کے لئے ایک چیلنج تھا۔ اس نے پہلی گڑیا کو اٹھایا اور اس کا مشاہدہ کرنے لگا۔ گڑیا کا چہرہ خوبصورت تھا اور وہ ریشم کے چمکیلے کپڑوں میں ملبوس تھی۔ پھر اس نے دوسری گڑیا کو اٹھایا۔ وہ بھی پہلی…

Read more

قدیم عرب کا ایک طاقتور بادشاہ تھا جسے شکار کا بے حد شوق تھا۔ اس کے پاس ایک عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا۔ وہ عقاب اس کے لیے صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ ایک وفادار ساتھی تھا جو ہر شکار میں اس کے کندھے پر بیٹھا رہتا۔ ایک دن بادشاہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ شدید گرمی اور سفر کی تھکن نے قافلے کو بکھیر دیا اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ پیاس کی شدت بڑھتی گئی، حتیٰ کہ زندگی مشکل ہونے لگی۔ اسی دوران اسے ایک چٹان سے ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے صبر سے ایک پیالہ بھرنا شروع کیا۔ قطرہ قطرہ پانی جمع ہوتا رہا، اور آخرکار جب پیالہ بھر گیا تو بادشاہ نے اسے ہونٹوں سے لگایا۔ لیکن اچانک اس کے عقاب نے جھپٹا مارا اور پیالہ گرا دیا۔ بادشاہ حیران ہوا، پھر دوبارہ کوشش…

Read more

ایک بڑی کمپنی میں نوکری کے لیے انٹرویو ھو رھا تھا۔ 😎 باس نے امیدوار سے پوچھا: “تمہاری کام کرنے کی رفتار کیسی ھے؟” امیدوار فوراً بولا: “سر! میری سپیڈ اتنی تیز ھے کہ ایک گھنٹے کا کام دس منٹ میں ختم کر دیتا ھوں!” 😌 باس متاثر ھوا۔ پھر پوچھا: “یادداشت کیسی ھے؟” امیدوار بولا: “سر! جو ایک بار سن لوں، زندگی بھر نہیں بھولتا!” 😏 باس اور خوش ہوا۔ آخری سوال آیا: “کیا تم ایماندار ھو؟” امیدوار نے سینے پر ہاتھ رکھا اور بولا: “سر! سچ بولنا میری عادت نہیں…میری عبادت ھے!” 🥹 باس نے مسکرا کر کہا: “بہت خوب!لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور ھوتی ھے… تمہاری کیا خامی ھے؟” امیدوار نے شرماتے ھوئے سر جھکایا اور بولا: “سر… میری بس ایک ھی چھوٹی سی خامی ھے…” باس:“کیا؟” امیدوار: “میں گپیں بُہت لمبی چھوڑتا ھوں…” 😁😂🤗 🤣🤣🤣

160/216
NZ's Corner