Tag Archives: ،urdublogs

ایک بادشاہ تھا، جس کے دربار میں ایک دن چند ایسے لوگ حاضر ہوئے جنہوں نے برسوں تک ریاست کے لیے محنت کی تھی۔ بادشاہ ان کی خدمات سے خوش ہوا تو مسکرا کر بولا، “آج جو مانگنا ہے مانگو، تمہاری خواہش پوری کی جائے گی۔” کسی نے زمین مانگی، کسی نے باغ، کسی نے عہدہ، کسی نے وزارت اور کسی نے اپنے خاندان کے لیے جاگیر۔ ہر شخص نے اپنی نظر آج کی آسائش پر رکھی ہوئی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک کسان کا بیٹا بھی کھڑا تھا۔ اس کی باری آئی تو اس نے نہ زمین مانگی، نہ سونا، نہ منصب۔ اس نے نہایت سادگی سے عرض کیا، “حضور! مجھے صرف ایک دانۂ گندم چاہیے۔” دربار میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر ہر طرف ہنسی پھیل گئی۔ بادشاہ بھی مسکرا دیا۔ کسی نے کہا، “اتنے بڑے بادشاہ کے سامنے اتنی بڑی خواہش!” کسان کے بیٹے نے…

Read more

ایک شخص ماہرِ نفسیات کے پاس گیا اور بولا: “میں مسلسل اداسی اور افسردگی کا شکار رہتا ہوں۔ زندگی کی ہر خوشی جیسے مجھ سے روٹھ گئی ہے۔ براہِ کرم، میری مدد کیجیے۔” ڈاکٹر نے اسے دوائیں دیں، مگر ایک ہفتے بعد وہ شخص دوبارہ لوٹ آیا۔ اس نے کہا: “جناب! ان دواؤں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ میرے دل کا بوجھ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔” ڈاکٹر نے مزید دوائیں تجویز کیں، لیکن دو ہفتے بعد بھی حالات نہ بدلے۔ اب ڈاکٹر خود پریشان ہو گیا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ مسکرایا اور بولا: “شہر میں ایک بہت مشہور جوکر کا روزانہ شو ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہر غم زدہ انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔ آپ آج ہی اس کا شو دیکھیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے سارے غم دور ہو جائیں گے۔” یہ سن کر اس شخص کی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر کے پاس دو جانور تھے: ایک مضبوط بیل اور ایک محنتی گدھا۔ بیل دن بھر کھیت میں ہل چلاتا، جبکہ گدھا صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان اٹھا کر لے جاتا۔ دونوں کی زندگی مسلسل محنت میں گزرتی تھی۔ صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلنے کے بعد کہیں جا کر انہیں آرام نصیب ہوتا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کی زندگی کو اپنے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان سمجھتے تھے۔ جب بیل ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل میں سوچتا: “یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہے۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہوتا ہے۔” اور جب گدھا بھاری بوجھ اٹھا کر پسینے میں شرابور ہوتا تو سوچتا: “بیل تو کھلے کھیتوں میں آرام سے گھومتا ہوگا۔ اصل مشکل تو میری زندگی میں ہے۔”…

Read more

“وزیر کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا امتحان ایک بادشاہ کا مزاج اس روز بہت خوشگوار تھا۔ اس نے اپنے نوجوان وزیر کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا: “تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟” وزیر کچھ جھجکا، نظریں جھکا لیں.اور عاجزی سے عرض کیا “حضور! آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں۔ جب میں اس سلطنت کو دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر اس کا صرف دسواں حصہ بھی میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہوتا۔” بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور پوچھا: “اگر میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟” وزیر حیرت سے بادشاہ کو دیکھنے لگا اور بولا: “بادشاہ سلامت! یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں؟” بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور دو فرمان لکھنے کا حکم دیا۔ پہلے فرمان میں اپنی آدھی سلطنت وزیر…

Read more

ایک مرتبہ خلیفہ مامون الرشید اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گئے۔ سفر کے دوران ایک قبیلے کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ ایک کم سن لڑکا مشکیزہ بھر رہا ہے اور اپنے والد کو آواز دے رہا ہے: “ابا جان! جلدی آئیے، مشکیزے کا منہ بند کر دیجیے، مجھ سے بند نہیں ہو رہا!” مامون الرشید اس بچے کی فصاحت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا: “بیٹے! تم کون ہو؟” لڑکے نے اپنا نام بتایا اور فوراً پوچھ لیا: “اور آپ کون ہیں؟” مامون نے جواب دیا: “اولادِ آدم میں سے ہوں۔” لڑکا بولا: “یہ تو سب ہیں، مگر اولادِ آدم میں آپ کا تعلق کس قوم سے ہے؟” انہوں نے کہا: “سب سے بہتر قوم سے۔” لڑکا بولا: “تو عرب سے ہیں۔ عرب کے کس قبیلے سے؟” مامون نے کہا: “سب سے بہتر قبیلے سے۔” لڑکے نے کہا: “پھر تو قبیلہ مضر سے ہوں گے۔ مگر اس کی…

Read more

ایک عقل مند گھڑ سوار کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک شخص درخت کے نیچے سو رہا ہے اور ایک زہریلا سانپ اس کے کھلے منہ میں گھسنے والا ہے۔گھڑ سوار نے بھانپ لیا کہ اگر یہ سانپ اندر چلا گیا تو اس شخص کی جان چلی جائے گی۔ اس کے پاس اس وقت تلوار یا کوئی اور ہتھیار نہیں تھا جس سے وہ سانپ کو مار سکتا۔ لہٰذا، اس نے حکمت عملی کے تحت سوئے ہوئے شخص کو کوڑے مارنا شروع کر دیے۔وہ شخص درد سے اٹھ بیٹھا۔ گھڑ سوار نے اسے مارتے ہوئے ایک سیب کے باغ کی طرف بھگایا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسے زبردستی بہت سارے سیب کھلائے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر گیا اور سیب منہ کے راستے باہر آنے لگے۔ وہ شخص ڈر اور تکلیف کی وجہ سے چیختا رہا اور سمجھتا رہا کہ گھڑ سوار…

Read more

“دتے” کے گھر کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ چپ چاپ پنڈ سے غائب ہو گیا۔ پنڈ سے نکل کر وہ ایک مدرسے جا پہنچا۔ مدرسے کے مولوی صاحب سے اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہے۔ انگوٹھا چھاپ دتے نے مولوی صاحب کی کچھ اس طرح منت سماجت کی کہ مولوی صاحب کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے دتے کو قرآن پاک حفظ کروانا شروع کر دیا۔ دن رات محنت کر کے دتے نے ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد دتہ اسی طرح خاموشی سے پنڈ واپس آ گیا۔ پنڈ کے لوگوں نے نہ اس کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تھا اور نہ ہی واپس آنے کا، میرے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی ہیں۔ دتہ سارا دن خاموشی سے پنڈ میں مٹر گشت کرتا…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں، قاسم اور ایان، کے ساتھ رہتا تھا۔ قاسم بہت چالاک تھا، جبکہ ایان سادہ دل اور بھولا بھالا تھا۔ کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک گرم کمبل تھا۔ کچھ عرصے بعد کسان کا انتقال ہوگیا۔ جائیداد تقسیم کرنے کا وقت آیا تو قاسم نے فوراً اپنی چالاکی دکھائی۔ وہ بولا:“بھائی! ہم سب کچھ برابر بانٹ لیتے ہیں۔ گائے کا اگلا حصہ تمہارا، پچھلا حصہ میرا۔” ایان نے سادگی سے کہا:“ٹھیک ہے بھائی۔” قاسم نے فوراً دودھ کا فائدہ سوچ لیا تھا۔ پھر درخت کی باری آئی۔ قاسم بولا:“درخت کا نچلا حصہ تم رکھ لو اور اوپر والا حصہ میرا۔” ایان نے پھر کوئی اعتراض نہ کیا۔ آخر میں کمبل آیا تو قاسم نے کہا:“کمبل کو کاٹنا مناسب نہیں، اس لیے دن میں تم استعمال کر لینا اور رات کو میں اوڑھ لیا کروں گا۔” ایان نے یہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ آم کا ایک بہت بڑا اور گھنا درخت تھا۔ ایک چھوٹا بچہ روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے آیا کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ بچہ بڑا ہو گیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس نے درخت کے پاس آنا چھوڑ دیا۔کافی عرصے بعد، جب وہ ایک بار پھر اس درخت کے پاس آیا، تو اس نے درخت کو بہت اداس پایا۔ درخت نے اسے دیکھ کر خوشی سے پوچھا، “کیا تم میرے ساتھ کھیلو گے؟”لڑکے نے جواب دیا، “اب میں بچہ نہیں رہا۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، کھیل کی نہیں۔”درخت نے محبت سے کہا، “میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں، لیکن تم میرے سارے آم توڑ کر لے جاؤ اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو۔”لڑکے نے تمام آم توڑے اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد درخت ایک بار پھر اداس اور تنہا رہ…

Read more

ڈورین، گرے، اپنی، غیر، معمولی، خوبصورتی، پر، نازاں، ایک، نوجوان، تھا۔ اسے، سب، سے، زیادہ، خوف، اپنی، جوانی، کے، ختم، ہونے، کا، تھا۔ ایک، دن، ایک، مصور، نے، اس، کی، ایسی، خوبصورت، تصویر، بنائی، کہ، ڈورین، خود، بھی، اسے، دیکھ، کر، حیران، رہ، گیا۔ وہ، تصویر، کو، دیر، تک، دیکھتا، رہا، پھر، اچانک، اس، کے، دل، میں، ایک، خوفناک، خواہش، پیدا، ہوئی: “اگر، میری، جوانی، ہمیشہ، قائم، رہے، اور، یہ، تصویر، میری، جگہ، بوڑھی، ہوتی، جائے، تو؟” کسی، نے، سوچا، بھی، نہ، تھا، کہ، یہ، خواہش، حقیقت، بن، جائے، گی۔ دن، گزرتے، گئے۔ ڈورین، کی، خوبصورتی، پہلے، سے، بھی، زیادہ، نکھرتی، گئی، مگر، تصویر، میں، ایک، عجیب، تبدیلی، شروع، ہو، گئی۔ اس، کی، آنکھوں، میں، تکبر، نمودار، ہوا، پھر، چہرے، پر، ظلم، کی، سختی، نظر، آنے، لگی۔ ہر، غلط، فیصلہ، تصویر، کو، مزید، بدصورت، کرتا، گیا۔ ڈورین، نے، تصویر، کو، ایک، خفیہ، کمرے، میں، بند، کر، دیا۔ دنیا، اسے، آج،…

Read more

دریائے سویان کے کنارے ایک بہت بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں قسم قسم کے درخت بیلیں اور بے شمار پودے اور جھاڑیاں تھیں ۔ جنگل میں ہر قسم کے جانور بھی رہتے تھے۔ ان میں چرندے بھی تھے اور درندے بھی ۔ اڑنے والے یعنی پرندے بھی تھے اور رینگنے والے بھی چرندوں میں نیل گائے، جنگلی بھینسے ، سانبھر، ہرن ، چیتے ، چکارے ، جنگلی بکریاں وغیرہ شامل تھے۔ ، ، ان کے علاوہ یہاں پانچ بیل بھی رہتے تھے۔ پانچوں کے رنگ الگ تھے، لیکن تھے پانچوں آپس میں بھائی بھائی۔ یہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا، کیوں کہ جنگل کے تمام درندوں کی ان پر نظر تھی۔ یہ جب بھی ان پر حملے کی نیت کرتے پانچوں ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور اپنے تیز نکیلے سینگوں سے انھیں مار بھگاتے۔ جنگل میں قسم قسم کے پودے ،…

Read more

ایک آدمی پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا کہ ایک غریب اس کے پیچھے آ گیا۔ 🚶‍♂️🤔 غریب نے کہا:“حضور! کچھ عنایت فرمائیں۔” 😄🙏 آدمی نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی 👆✨ پہاڑ سونے کا ھو گیا! 😲 غریب خوش ھوا، مگر چند قدم بعد پھر پیچھے آ گیا۔ 😕 آدمی نے غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟” 😡 کہنے لگا:“تھوڑا اور…” 😅🙏 دوسرا پہاڑ بھی سونے کا،پھر تیسراپھر چوتھاچاروں طرف سونے ھی سونے کے پہاڑ! 😳💰 چند قدم بعد دیکھا 👁️وھی آدمی پھر پیچھے! 😱 غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟!” 😠🤬 غریب نے مُسکرا کر کہا: “حضور، اب وہ انگلی بھی دے دیں!” 😂🤣 سبق:دُنیا میں اِتنی دولت یا طاقت ھے ھی نہیں جو کسی اِنسان کی لالچ کو پورا کر سکے۔ 🙄💯

ایک، بادشاہ، کو، اپنی، طاقت، اور، دولت، پر، بہت، ناز، تھا۔ ایک، دن، اس، نے، اپنے، دربار، میں، ایک، بوڑھے، درویش، کو، بلایا، اور، غرور، سے، پوچھا: “بتاؤ، دنیا، میں، مجھ، سے، زیادہ، طاقتور، کون، ہے؟” درویش، نے، مسکرا، کر، کہا: “وہ، شخص، جو، تمہیں، تمہاری، حقیقت، یاد، دلا، سکے۔” بادشاہ، ہنس، پڑا، اور، بولا: “میری، سلطنت، میں، ایسا، کون، ہے، جو، میرے، سامنے، یہ، جرات، کرے؟” درویش، نے، آسمان، کی، طرف، دیکھا، اور، کہا: “وقت۔” بادشاہ، نے، حیران، ہو، کر، پوچھا: “وقت؟” درویش، بولا: “ہاں، وقت۔ یہ، نہ، تمہاری، اجازت، لیتا، ہے، نہ، تمہاری، دولت، سے، ڈرتا، ہے۔ آج، تم، تخت، پر، بیٹھے، ہو، کل، کوئی، اور، بیٹھا، ہوگا۔ آج، لوگ، تمہارے، سامنے، سر، جھکاتے، ہیں، کل، شاید، تمہارا، نام، بھی، کسی، کو، یاد، نہ، رہے۔” بادشاہ، کچھ، دیر، خاموش، رہا، مگر، پھر، غرور، سے، بولا: “لیکن، میں، اپنی، یاد، ہمیشہ، زندہ، رکھ، سکتا، ہوں۔” درویش، نے، جواب، دیا:…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک حافظ صاحب نے بڑے بھاؤ تاؤ کے بعد ایک بکرا خریدا۔ راستے میں تین ٹھگوں کی ان پر نظر پڑ گئی۔ تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ بکرا کسی طریقے سے ہتھیا لیا جائے۔ یہ طے پایا کہ اگر کسی طرح حافظ جی کو یقین دلا دیا جائے کہ یہ بکرا نہیں بلکہ کتا ہے، تو وہ خود ہی اسے لات مار کر بھگا دیں گے۔چنانچہ منصوبے کے مطابق، راستے میں پہلا ٹھگ بڑی مطمئن شکل بنا کر ان سے ملتا ہے اور نہایت ادب سے سلام و دعا کے بعد پوچھتا ہے: “محترم حافظ جی! خیر تو ہے، یہ کتا کہاں اٹھا کر لے جا رہے ہیں؟”حافظ جی چونک اٹھے اور گرج کر بولے: “ناہنجار کہیں کے! کیا یہ تمہیں کتا دکھائی دیتا ہے؟ یہ بکرا ہے، جسے میں نے ابھی بکرا منڈی سے خریدا ہے۔”ٹھگ نے حیران ہونے کی…

Read more

لڑکا:میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ھوں۔ 😍🥀 لڑکی کا والد:اچھا! پہلے یہ بتاؤ، تم مہینے میں کتنا کماتے ھو؟ 🤔💵 لڑکا:جی، تقریباً 30 ہزار روپے۔ 😎💁‍♂️ لڑکی کے والد:واہ! یعنی گزارا ھو جاتا ھے؟ 😕😒 لڑکا:جی بالکل، بس کبھی مہینہ لمبا ھو جاتا ھے اور تنخواہ چھوٹی پڑ جاتی ھے۔ 😂🤏 لڑکی کے والد:کیا تُمہیں پتہ ھے میں اپنی بیٹی کو 25 ہزار ماہانہ جیب خرچ دیتا ھوں؟ 😏🤔 لڑکا:جی، وہ ملا کر ھی 30 ہزار بتایا ھے۔ 😁🤣

ایک کسان گدھا گاڑی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کی عدالت آیا۔  اس نے کہا: “سلطانِ وقت! کل شام میں گدھا گاڑی پر اناج لاد کر غلہ منڈی گیا۔ رات ہو چکی تھی، دکانیں بند تھیں لیکن ایک بیوپاری بیٹھا تھا۔ میں نے اناج اسے دے دیا تو اس نے کہا ‘کل رقم لے جانا’۔  آج میں رقم لینے گیا تو یہ صاف مکر گیا۔” سلطان نے بیوپاری کو بلوایا۔  بیوپاری بولا: “یہ کسان جھوٹ بول رہا ہے۔ نہ میں نے اناج لیا، نہ کوئی گواہ ہے۔” دونوں کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا۔ سلطان نے تھوڑی دیر سوچا۔  پھر حقیقت جاننے کے لیے سلطان نے *گدھے کی آنکھیں بند کر دیں* اور کسان سے کہا: “اس گدھے کو چلاؤ اور اسی جگہ لے جاؤ جہاں تم نے اناج اتارا تھا۔” کسان گدھے کو لے کر چلا۔ گدھا سیدھا اسی بیوپاری کی دکان کے سامنے جا کر رک گیا۔ سلطان…

Read more

کہتے ہیں خراسان کے ایک مضافاتی علاقے میں صابر نام کا ایک نہایت غریب، مگر انتہائی نیک اور پرہیزگار کسان رہتا تھا۔ صابر سارا دن دوسروں کے کھیتوں میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو جو تھوڑی بہت اجرت ملتی، اسی سے اپنے گھر والوں کے لیے حلال رزق کا انتظام کرتا۔ اس کا اصول بہت واضح تھا: “جتنی محنت کی ہے، اتنی ہی اجرت لوں گا۔” اگر کبھی کوئی مالک خوش ہو کر طے شدہ اجرت سے ایک پیسہ بھی زیادہ دینے کی کوشش کرتا تو صابر وہ اضافی رقم لینے سے انکار کر دیتا اور کہتا: “میں نے جتنی محنت کی ہے، میں صرف اتنی ہی اجرت کا حق دار ہوں۔” پھر ایک رات بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا… اس نے دیکھا کہ اس کے محل کے تمام خزانے مٹی میں تبدیل ہو گئے ہیں، لیکن شہر کے ایک کونے سے ایک نورانی لکیر آسمان کی طرف…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاہد تھا۔وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاہد نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاہد کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاہد خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے بھرے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے، لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیں اور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے … میرے پیارو! یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئے، پر پھر بھی شرط منظور کر لی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانے سے منع کیا گیا ہے۔ دولہےکے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔ دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشان ہو رہے تھے کہ آیا…

Read more

ایک میاں بیوی کی شادی کو 30 سال ہو چکے تھے۔ ان کی سالگرہ کی صبح، بیوی نے حسبِ معمول ایک تازہ ناشتے کا رول (bread roll) بیک کیا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ اس سے پہلے اننت بار کر چکی تھی۔ یہ ان چھوٹی چھوٹی روایتوں میں سے ایک بن گیا تھا جو سالوں کے دوران چپکے سے کسی رشتے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ناشتے کے وقت، اس نے رول کو درمیان سے کاٹا اور دونوں ٹکڑوں پر مکھن لگایا۔ ہمیشہ کی طرح، اس نے اپنے شوہر کو گرم، سنہری اوپر والا حصہ (top half) دینا چاہا۔پھر اس کا ہاتھ رک گیا۔اس نے سوچا، “یہ ہماری 30ویں سالگرہ ہے، اور بس ایک بار میں اوپر والا حصہ اپنے لیے چاہتی ہوں۔ میں سالوں سے یہی چاہتی رہی ہوں۔ میں نے اس خاندان کی دیکھ بھال، اپنے بیٹوں کی پرورش، گھر چلانے اور اپنی مشترکہ زندگی میں خود کو جھونکنے…

Read more

160/723
NZ's Corner