نیکی کا بدلہ –
کہتے ہیں کہ عرب کے کسی علاقے میں چوروں کے ایک گروہ نے کسی پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا ۔اُن چوروں سے اُس پہاڑی کا قبضہ چھڑانے کیلئے اُس وقت کے بادشاہ کا لشکر عاجز رہا ۔وہ چور ایک محفوظ ترین غار میں پناہ گزین تھے ،بادشاہ کو اُس کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ اگر ان لوگوں کے شرپر قابو نہ پایا گیا تو اُن کا شراسی طرح بڑھتا جائے گا جو درخت ابھی جڑ پکڑ رہا ہے ،اُسے اُکھیڑ نا زیادہ آسنا ہے ،بہ نسبت اس کے کہ وہ جڑ پکڑ جائے ۔ وہ مکمل درخت بن گیا تو پھر جڑ سے اُکھیڑنا مشکل ہو گا چنانچہ بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ ان ڈاکوؤں کی جاسوسی کروائی جائے ۔جس وقت وہ ڈاکو لوٹ مار کرنے کیلئے چلے تو اُن کی قیام گاہ خالی ہو گئی۔بادشاہ نے تجربہ کار اور لڑائی کے ماہر سپاہیوں کو اُس غار…
احساس –
عمر اور ہادی کو سیر کرنے کا بہت شوق تھا۔اتوار کی چھٹی تھی۔دونوں نے جنگل جا کر گھومنے کا منصوبہ بنایا۔اس سے پہلے وہ کبھی جنگل میں نہیں گئے تھے۔جنگل کی پُرسکون خاموشی میں درختوں کے درمیان چلتے چلتے ان کی نظر ایک ننھے سے خرگوش پر پڑی جو ان کی طرف معصومانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔عمر نے اپنے بیگ سے بسکٹ نکال کر خرگوش کو دیا، جسے وہ منہ میں دبا کر ایک طرف بھاگ گیا۔ دونوں نے جنگل میں خوب مزے کیے، تتلیوں کے پیچھے بھاگے۔گھاس میں لوٹ پوٹ ہوئے، درختوں پر چڑھے اور اُترے۔کھانا کھا کر دونوں نے واپس گھر جانے کا ارادہ کیا، مگر یہ کیا؟ وہ دونوں چاروں طرف سے گھنے درختوں میں گھرے ہوئے تھے اور فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ واپسی کے لئے کس طرف جائیں! عمر کا خیال تھا کہ دائیں طرف سے واپسی کا سفر شروع کرنا چاہیے،…
بڑھیا اور لومڑی –
پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔ اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو بُرا کیا ہے؟…
ذہانت –
صدیوں پرانی بات ہے ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ رحمدل اور انصاف پسند تھا۔اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا پڑوسی ملکوں سے اچھے تعلقات تھے وہ جنگ و جدل سے بھی پرہیز کرتا تھا۔بادشاہ کی طرح شہزادے بھی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دن ملکہ کا ہیرے جواہرات اور قیمتی موتیوں والا ہار گم ہو گیا محل کے داروغے نے بہت کوشش کی ہار مل جائے مگر ہار نہ ملا اس نے انعام کا اعلان بھی کیا مگر کسی نے بھی اتنا قیمتی ہار واپس نہ کیا آخرکار معاملہ بادشاہ تک پہنچا اس نے دربار میں اعلان کیا کہ ہمیں اپنے نوکروں،خدمتگاروں پر بھروسہ ہے مگر افسوس ان میں سے کسی نے نمک حرامی کی ہے اور ہار واپس کرنے پر تیار نہیں کوئی ایسا ذہین آدمی چاہئے جو ہمیں ہار ڈھونڈ کر دے ہم اسے مالا مال کر دیں گے بہت سے لوگ آئے…
کنویں کا سودا
ایک قصبے میں ایک شخص نے اپنا پرانا کنواں اپنے پڑوسی کو فروخت کر دیا۔ سودا طے ہو گیا، رقم بھی ادا کر دی گئی اور نیا مالک خوشی خوشی کنویں سے پانی نکالنے آیا۔ مگر اچانک پرانا مالک وہاں پہنچا اور بولا: “میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر موجود پانی نہیں۔ اگر پانی استعمال کرنا ہے تو الگ قیمت ادا کرو!” یہ سن کر آس پاس کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔ نیا مالک خاموش رہا، مگر اسے یقین تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ 🤲 وہ سیدھا علاقے کے قاضی کے پاس گیا اور پورا واقعہ سنا دیا۔ قاضی نے دونوں فریقوں کو عدالت میں طلب کر لیا تاکہ انصاف کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔ قاضی نے پہلے پرانے مالک سے پوچھا: “کیا واقعی تم نے کنواں بیچا ہے؟” اس نے فخر سے جواب دیا: “جی ہاں، کنواں بیچا ہے،…
شہد کی ایک بوند
ایک قدیم سلطنت میں ایک بہت بڑا بازار لگتا تھا۔ دور دور سے تاجر اپنا سامان بیچنے آتے، ہر طرف رونق ہوتی، بچے کھیلتے، لوگ خریداری کرتے اور بازار زندگی سے بھرپور دکھائی دیتا تھا۔ ایک دن ایک شہد فروش اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ گاہکوں کی بھیڑ میں اس کے برتن سے شہد کی صرف ایک بوند زمین پر گر گئی۔ اس نے سوچا: “صرف ایک قطرہ ہی تو ہے، کون اس کی پروا کرے گا!” اور وہ اسے صاف کیے بغیر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ چند ہی لمحوں بعد ایک مکھی آ کر اس شہد پر بیٹھ گئی۔ پھر دوسری، تیسری اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی مکھیاں وہاں جمع ہو گئیں۔ قریب ہی ایک مکڑی نے موقع دیکھ کر ایک مکھی پر حملہ کر دیا۔ چند لمحوں بعد ایک چھپکلی آئی اور مکڑی کو پکڑنے لگی۔ لوگ یہ منظر دلچسپی سے دیکھنے لگے، مگر کسی نے…
گدھے کا مقام
ایک دن ملا نصیرالدین نہ جانے کیا سوچ کر اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے۔ جب واپس نیچے اتارنے لگے تو گدھے نے ضد پکڑ لی۔ وہ ایک قدم بھی نیچے اترنے کو تیار نہ تھا۔ ملا نے کبھی اسے پیار سے سمجھایا، کبھی ڈانٹا، کبھی کھینچا، کبھی دھکا دیا، مگر گدھا اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آخرکار ملا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور سوچا کہ شاید کچھ دیر بعد گدھا خود ہی نیچے اتر آئے۔ کچھ وقت گزرا تو ملا نے اوپر دیکھا۔ گدھا آرام سے کھڑا نہیں تھا، بلکہ پوری طاقت سے چھت پر لاتیں مار رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ملا گھبرا گئے۔ وہ جانتے تھے کہ چھت زیادہ مضبوط نہیں، اگر گدھا یونہی لاتیں مارتا رہا تو پوری چھت گر سکتی ہے۔ ملا فوراً دوبارہ چھت پر پہنچے اور ہر ممکن کوشش کی کہ…
کوّا بنا مور –
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کوے کو جنگل کی سیر کا شوق پیدا ہوا تو وہ کوا اُڑتا اُڑتا ایک جنگل میں چلا گیا۔جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے مور جمع تھے اور سب پروں کو پھیلا کر اپنے خوبصورت پَر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔کوا بھی ان موروں کا تماشا دیکھنے لگا۔ان کے نیلے ہرے اور سنہرے پَر اسے بہت اچھے لگے۔کوے نے دل میں سوچا کہ ان کے پَر کتنے خوبصورت ہیں،یہ دُم پھیلا کر ناچتے ہیں تو اتنے بھلے لگتے ہیں۔میں اگر ان موروں کے پَر جو اِدھر اُدھر گر جاتے ہیں جمع کرکے اپنے پروں پر لگا لوں تو میں بھی مور بن جاؤں گا۔کوے نے یہ سوچ کر اِدھر اُدھر سے مور کے پَر جمع کئے،پروں میں لگائے اور پھر موروں میں جا کر انہی کی طرح رقص کرنے کی…
بطخ کے انڈے –
ایک دن رمضو نے سب گھروالوں کو ناشتا دے دیا تھا ،لیکن سیٹھ صاحب ابھی تیار نہیں تھے۔ رمضو نے ان کے لیے ناشتے کی تیاری شروع کی۔اس نے انڈا توڑا تو خراب نکلا۔”اوہ!یہ کیا ہوا۔“رمضو کے منہ سے بے اختیار نکلا،کیوں کہ انڈوں کی ٹوکری خالی ہو گئی تھی ۔وہ پورے کچن میں انڈا تلاش کرنے لگا،مگر انڈا نہ ملا۔گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔اتنا وقت نہیں کہ بازار جا کر انڈے لائے جاسکیں ۔اس نے اپنی لمبی ٹوپی اُتاری اور اس مسئلے کا حل سوچنے لگا۔ پھر وہ کھڑ کی میں آیا اور باہر جھانکا۔وہ بنگلے کا پچھلا حصہ تھا۔وہاں ایک بڑا تالاب تھا،جس کے گرد درخت اور جھاڑیوں اُگی تھیں۔اسے تالاب میں بطخیں تیرتی نظر آئیں ،اچانک اس کے دماغ میں ایک انوکھا خیال آیا۔اس نے خود ہی اپنی پیٹھ ٹھوکنے کی کوشش کی اور بڑ بڑایا:”واہ رمضو! تم نے کیا دماغ پایا ہے۔بس اب…
انتقام –
کسی جنگل میں ایک گھوڑا اور ہرن دو دوست رہتے تھے۔ایک دفعہ کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ہرن کافی پھُرتیلا تھا،لڑائی مار پیٹ تک پہنچ گئی۔گھوڑے کو زیادہ چوٹیں آئی تھیں۔دونوں ایک دوسرے سے دور بیگانوں کی طرح رہنے لگے۔ایک دن گھوڑے نے جنگل میں ایک شکاری کو دیکھا تو اس نے سوچا کہ ہرن سے انتقام لیا جائے۔وہ شکاری کے پاس گیا اور پوچھا:”کیا تم کسی ہرن کو شکار کرنے آئے ہو؟“شکاری:”ہاں!“گھوڑے نے کہا:”میں تمہیں ایک ہرن کا ٹھکانہ بتا سکتا ہوں۔“شکاری دل ہی دل میں خوش ہوا،یعنی ایک تیر سے دو شکار۔اس نے گھوڑے سے کہا:”اگر تم میری مدد کرو تو کیا ہی بات ہے!کیا میں تمہاری پیٹھ پر بیٹھ جاؤں؟“گھوڑا فوراً راضی ہو گیا۔ شکاری نے پھر کہا:”اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میں تمہارے منہ میں لگام ڈال دوں؟“گھوڑے نے پوچھا:”اس سے کیا ہو گا؟“شکاری نے کہا:”جیسے ہی مجھے ہرن نظر آئے گا میں…
ایمانداری کا انعام –
ایک زمانہ گزرا کسی شہر میں ایک قاضی تھا جو بے حد انصاف پسند تھا-ایک دفعہ ایک آدمی روتا پیٹتا اس کے پاس آیا اور بولا-“قاضی صاحب! میرے پڑوس میں ایک انعام نامی نوجوان رہتا ہے- دو ماہ گزرے اس نے مجھ سے پانچ سو روپے ادھار لیے تھے- مگر اب وہ انہیں واپس کرنے کا نام ہی نہیں لیتا- میں غریب آدمی ہوں- میں نے پائی پائی جوڑ کر وہ روپے جمع کیے تھے- خدا کے لیے میرے ساتھ انصاف کیجیے”-قاضی نے اسے تسلی دی اور اس کے پڑوسی انعام کو عدالت میں بلوایا اور کہا-“نوجوان تم نے اس شخص سے جو پانچ سو روپے ادھار لیے تھے- تم اسے واپس کیوں نہیں دیتے؟”-انعام کے چہرے پر حیرت کے آثار پیدا ہوگئے- اس نے کہا-“جناب! وہ پانچ سو روپے تو میں نے ہی اسے ادھار دیے تھے- فرید نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ یہ روپے اپنے کاروبار…
سات دمو ں والا چو ہا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چوہا تھا جسکی سات دمیں تھیں چوہا اکثر پوچھا کرتا امی امی آپ مجھے اسکول کب بھیجیں گی(اُسکی ماں ہر مرتبہ مسکراتی اور کہتی) تم ابھی بہت چھوٹے ہو،جب تم تین سال کے ہو جاوٴ گے تو پھر میں تمہیں اسکول بھیجونگی۔آخر کار چوہا تین سال کا ہو گیا۔اسکی سالگرہ کے چنددن بعد چوہے کی ماں نے اُسے اسکول کا بستہ اور ایک لنچ بکس دیا جس میں آملیٹ اور پراٹھا سینڈوچ رکھا ہوا تھا۔وہ چوہے کا ہاتھ پکڑکر لے گئی اور اپنے گھر کے باہر اسکول کی بس کا انتظار کرنے لگی۔ جب اسکول کی بس آ گئی تو چوہا خوشی کے مارے پھدکنے لگا اور اُسکی خوبصورت دُمیں دائرے کی شکل میں ایک مرغے کی دُم کی طرح لگنے لگیں۔چوہے کی ماں اپنا ہاتھ ہلاتی رہی جب تک بس سڑک کے ایک موٹر پر جا کر نظروں اُوجھل نہ ہو گئی۔لیکن…
نیت بخیر –
اُف،میرے خدایا!سفید پوشی کا بھرم تک رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔“نور احمد پائینچوں سے گھسی اور پھٹی ہوئی اپنی اکلوتی پتلون کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے آپ سے کہہ رہا تھا۔وہ پتلون کو اپنی ماں کی طرف اُچھالتے ہوئے بولا:امی!آپ ہی اسے ٹھیک کر سکتی ہیں۔“ماں نور احمد کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔اس نے پتلون کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا:”اچھا بھئی ابھی سی دیتی ہوں۔پہلے تم ناشتہ کر لو۔ کہیں تمہیں انٹرویو کے لئے پہنچنے میں دیر نہ ہو جائے۔“”ہاں ماں!ناشتہ لے آؤ۔اچھا ناشتہ تو کبھی کبھار ملتا ہے اور انٹرویو․․․انٹرویو تو اب روز روز کی بات ہے۔نور احمد نے ایک پرانے کپڑے سے اپنے بوسیدہ بوٹ صاف کرتے ہوئے کہا۔ ماں نے ناشتہ لا کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ نور احمد ناشتہ کرتے ہوئے ناشتے اور انٹرویو کی کڑیاں آپس میں ملانے لگے۔اس نے جلدی جلدی ناشتہ زہر مار کیا۔جنرل نالج کی کتاب اُٹھائی،ماں کی…
سفید کبوتری –
اس بڑی سی دنیا کے کسی حصے میں ایک سر سبز اور شاداب جنگل تھا۔جس کے بیچوں بیچ ایک نہر بہتی تھی۔یہیں ایک سفید کبوتری اپنے ایک بچے کے ساتھ بڑے چین وآرام سے رہتی تھی۔ایک دن کبوتری اپنے دانے دُنکے کی تلاش میں اپنے گھونسلے سے نکلی۔تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کا بچہ گھونسلے میں نہیں ہے۔اس نے اپنے بچے کو گھونسلے کے آس پاس بہت ڈھونڈا لیکن اس کا کہیں پتا نہ چلا۔کبوتری کا ننھا سا دل غم سے بھر گیا اور وہ یہ طے کرکے گھونسلے سے نکلی کہ جب تک بچہ نہیں ملے گا وہ اسے ڈھونڈتی رہے گی۔وہ اڑتی رہی۔ہر طرف اپنے بچے کو تلاش کرتی رہی۔وہ کہیں نہ ملا۔آخر تھک ہار کر وہ نہر کے کنارے آبیٹھی اور رنج اور غم کے مارے رونے لگی۔ وہیں ایک مچھلی پانی میں تیر رہی تھی۔ اس نے جو…
لالچ کا انجام
تین گہرے دوست ایک لمبے سفر پر نکلے۔ راستے میں، ایک ویران جنگل سے گزرتے ہوئے، ان کی نظر زمین میں دبی ایک چمکتی چیز پر پڑی۔ کھود کر دیکھا تو وہ خالص سونے کی ایک بھاری اینٹ تھی۔ تینوں کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے برابر برابر تقسیم کریں گے، مگر رات ہو چکی تھی، سو وہیں جنگل میں پڑاؤ ڈالنے کا فیصلہ ہوا۔ بھوک لگی تو طے پایا کہ ایک دوست گاؤں جا کر کھانا لے آئے، جبکہ باقی دو سونے کی اینٹ کی نگرانی کریں۔ جو دوست کھانا لینے گیا، راستے میں اس کے دل میں لالچ نے سر اٹھایا: “اگر میں کھانے میں زہر ملا دوں اور واپس جا کر دونوں کو کھلا دوں، تو یہ سونا صرف میرا ہو جائے گا۔” اس نے یہی کیا اور کھانے میں زہر ملا کر واپس چل پڑا۔ دوسری طرف، جنگل میں رکے ہوئے دونوں…
آستین کا سانپ ۔
بہت دن پہلے کی بات ہے ملک یونان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ اپنے سب ہی وزیروں پر بھروسہ کرتا لیکن ان میں ایک وزیر جس کا نام فیصل تھا اسے بادشاہ بہت پسند کرتا اور حکومتی معاملے میں فیصل سے اکثر مشورے لیا کرتا۔فیصل کی نیت کا بادشاہ کو ہرگز علم نہیں تھا۔وہ اس پر بہت اعتماد کرتا جبکہ فیصل کسی نہ کسی طرح بادشاہ کی حکومت کا تختہ گر ا کر خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔ دن یوں ہی گزرتے گئے۔وزیر فیصل نے اپنے ساتھ کچھ اور وزیروں کو بھی ملا لیا اور انہیں ساتھ دینے پر انعام کا لالچ بھی دیا۔بہت سے وزیر انعام و اکرام کے لالچ میں فیصل سے مل گئے اور پھر ایک دن فیصل نے بادشاہ کوختم کرنے کا ایک منصوبہ بھی بنا لیا۔ہوایوں کہ بادشاہ اپنی رعایا کا حال معلوم کرنے کے لئے اپنے وزیروں کے ساتھ ایک قافلے کی صورت…
پریشان چڑیا –
کسی جنگل میں ایک چڑیا رہتی تھی۔اس نے اپنا گھونسلا ایک درخت کی گھنی شاخوں کے درمیان بنا یا تھا۔اس کے ساتھ اس کے دو بچے اور ایک بوڑھی ماں بھی رہا کرتی تھی ۔اس نے رات دن ایک کرکے اپنے بچوں کی پرورش کی تھی۔ننھی چڑیا دور دور سے اپنے بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں لایا کرتی تھی۔چڑیا کو اپنے بچوں سے بہت ہی محبت تھی۔وہ دن کے وقت اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتی تھی اور رات کو اپنے پروں میں چھپا کر سویاکرتی تھی۔ اب بچے بھی کچھ بڑے ہو گئے اور اپنی زبان سے ”چوں ،چوں ،چیں چیں“کرنے لگے ۔جب چڑیا کھانے کی تلاش میں گھر سے باہر جاتی تھی تو بچوں کے لیے بہت فکر مند رہتی تھی۔چڑیا کا یہ معمول تھا کہ صبح سویرے حمد وثناء کرتی ۔پھر دانے دُنکے کی تلاش میں نکل جاتی اور جو کچھ مل جاتا…
بادشاہ کا ہمشکل –
شکار کے دوران ایک بادشاہ اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گیا۔البتہ سپہ سالار ان کے ساتھ تھا۔وہ جنگل میں بھٹک کر واپسی کا راستہ بھول گئے۔ پریشانی ان کے چہروں پر نظر آنے لگی۔ابھی تھوڑی سی دیر گزری تھی کہ اچانک سپہ سالار چیخا:”بادشاہ سلامت!وہ دیکھیں ایک جھونپڑی نظر آرہی ہے،وہاں چلتے ہیں۔یقینا وہاں سے ہمیں مدد ضرور ملے گی۔“وہ جھونپڑی کے قریب گئے تو سپہ سالار نے آواز لگائی:”کوئی ہے؟“تھوڑی دیر میں ایک شخص باہر آیا۔بادشاہ اور سپہ سالار نے جیسے ہی اس شخص کو دیکھا حیرت کے مارے دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔وہ شخص ہُو بہ ہُو بادشاہ کا ہم شکل تھا۔دونوں حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔پھر سپہ سالار نے اس سے کہا:”دیکھیں!ہم شکار کرتے کرتے راستہ بھٹک گئے ہیں۔ یہاں سے نکلنے میں ہماری رہنمائی کریں۔“وہ شخص بولا:”کیوں نہیں،مگر آپ لوگ کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہیں۔کچھ دیر میرے غریب خانے میں آرام کیجیے۔“”ٹھیک…
لومڑ کا ایثار –
دو دن سے جنگل میں شدید بارش ہو رہی تھی۔سب جانور اپنے اپنے گھروں میں دُبکے بیٹھے تھے۔بارش کی وجہ سے سردی میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ریچھ بارش کی وجہ سے دو دن سے شکار پر نہ جا سکا تھا۔اس کی بیوی بھی پریشان بیٹھی تھی۔ان کے بچے بھی بھوک سے نڈھال ہو رہے تھے۔لگ رہا تھا کہ بارش کا یہ سلسلہ کئی دن جاری رہے گا۔بھوک سے بچے بلک رہے تھے اور چھوٹے کو تو بخار ہو گیا تھا۔ماں سے یہ دیکھا نہ جا رہا تھا۔ریچھ دروازے کی سیڑھیوں پر سر جھکائے پریشان بیٹھا تھا۔”تم شکار پر کیوں نہیں جاتے؟“بیوی نے ریچھ سے کہا تو اس نے غصے سے بیوی کو دیکھا:”اتنے زوروں کی بارش ہو رہی ہے،میں خوراک کا بندوبست کیسے کروں؟“یہ سن کر تھوڑی دیر وہ خاموش رہی۔ پھر کچھ سوچ کر نرمی سے کہنے لگی:”کوئی گلہری،کوئی پھل،کوئی مُردار جانور،کوئی پرندہ کچھ نہ کچھ تو خوراک کے…
مغرور طوطا –
یہ گرمیوں کا ایک خوشگوار دن تھا۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔ایک کوا تالاب کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے لگا۔تالاب میں موجود راج ہنس نے کوے کو دیکھا تو کوے کے پاس آ گیا۔اس نے سلام دعا کے بعد پوچھا کہ تم آج کھوئے کھوئے سے لگ رہے ہو۔کوے نے اُداسی سے کہا کہ میرا رنگ اتنا کالا ہے اور میری آواز بھی بہت بُری ہے۔ہر کوئی مجھ سے نفرت کرتا ہے۔راج ہنس نے کوے کو سمجھایا کہ سیرت،صورت سے زیادہ اہم ہے۔راج ہنس نے کوے کو آسان طریقے سے سمجھانے کا فیصلہ کیا۔اس نے کوے کو کہانی سنانا شروع کی۔ایک جنگل میں کہیں سے طوطا آ گیا۔جنگل کے پرندوں نے اس سے پہلے کوئی طوطا نہیں دیکھا تھا۔ طوطا نہایت خوبصورت تھا اور اس کی آواز بھی بہت اچھی تھی۔تمام پرندے طوطے کے ساتھ…