Tag Archives: ،urdublogs

عدید جتنا عقل مند اور ذہین تھا اتنا ہی شریر اور من چلا بھی تھا وہ پن اور فن میں بہت ماہر تھا ۔بچے تو بچے بڑے بھی اس کے منہ لگنے سے گھبراتے تھے محلے والے اسے شیطان کا باپ کہا کرتے تھے بہت زیادہ بولتا تھا۔عدید جب بچوں اور بڑوں کو چھیڑتے چھیڑتے اکتا جاتا تو غلیل لے کر کسی باغ میں نکل جاتا اور ننھی منی چڑیوں کا شکار کھیل کر دل بہلاتا کہیں کسی بھی پرندے کا گھونسلہ نظر آجاتا تو جب تک اسے توڑ پھوڑ کر نیچے نہ پھینک دیتا تب تک اسے چین نہ آتا۔گھر میں چڑیاں یا کبوتر گھونسلہ بنا لیتے تو بیچاروں کی شامت آجاتی ۔اس کی والدہ اور دادا مجید اکثر اس کی چھترول کرتے لیکن وہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا سب محلے والے اس سے تنگ تھے اس کے دادا جی نے زمینوں پر مرغیاں رکھی…

Read more

نتھوایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے ماں باپ دوسرے خانہ بدوش قبیلے سے اس کی دلہن بیاہ کرلائے تھے۔ ان کادستور تھاکہ وہ دلہن کے بدلے جتنا پیسہ اس کے ماں باپ کواداکرتے دلہن کواتنا پیسہ کماکر سسرال والوں کوواپس کرتا ہوتا۔ نتھوکی دلہن کامنی کوسسرال آئے دس بارہ دن ہوگئے توساس نے اس سے کہا بس ری چھوری بہت ہوچکا دلہناپا،آج سے میرے ساتھ دھندے پرچلاکر۔ حکم کی دیرتھی کہ دلہن تیارہوگئی اور چھماچھم کرتی ساس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ان لوگوں کاپیشہ تھا کہ گلی محلوں میں ناچ گانا کرکے بھیک مانگتے تھے۔یہ دونوں جب قریب کی آبادی کے ایک محلے میں پہنچیں توساس نے دفلی کی تھاپ پرزور سے ہانک لگائی۔دف پرگھنگھروں کی آواز سن کربچے جمع ہوگئے۔ عورتیں دروازوں پر آکر جھانکنے لگیں۔نئی نویلی دلہن کولال رنگ کے گھاگرے اور چولی پرشیشوں کی کڑھائی والا چم چم کرتا دوپٹہ اوڑھے دیکھ کرایک گھر…

Read more

ایک مرتبہ ایک امیر شخص کسی مقدمے میں پھنس گیا۔اس کا مقدمہ ایک رشوت خور قاضی کی عدالت میں تھا۔وہ سوچنے لگا کہ قاضی کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے پر کیسے مجبور کروں؟ سوچتے سوچتے اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ترکی کی مٹھائی بہت منفرد انداز کی ہوتی ہے۔اس مٹھائی کے رنگ برنگے ٹکڑے دیکھنے والوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔ان کا ذائقہ بھی پاکستانی مٹھائی سے بہت مختلف ہوتا ہے۔اس امیر آدمی نے چاندی کے ایک تھال میں بڑی خوبصورتی سے اس رنگ برنگی مٹھائی کے چالیس ٹکڑے سجائے اور ہر ٹکڑے کے نیچے سونے کی ایک اشرفی رکھ دی اور تھال قاضی کی خدمت میں بھیج دیا۔امیر آدمی کا ملازم جب یہ تھال لے کر قاضی کے دفتر پہنچا تو قاضی کے منشی نے وہ تھال وصول کیا۔ تھال میں رکھی مٹھائی دیکھ کر منشی کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے…

Read more

یہ گئے وقتوں کی بات ہے کسی شہر کا قاضی مرغی لینے بازار گیا دکان دار دکان بند کرچکا تھا وہ ایک گاہک کے لیے مرغی ذبح کرکے اس کا انتظار کررہا تھا قاضی صاحب نے کہا یہی مرغی دے دو۔“دکان دار نے کہا ،میں مرغی کے مالک کو کیا جواب دوں گا؟ قاضی صاحب نے کہا گاہک سے کہہ دینا مرغی اُڑ گئی بات بڑھے گی تو معاملہ میرے پاس ہی آئے گا،دکان دار نے مرغی قاضی کو دے دی کچھ ہی دیر میں وہ گاہک آن پہنچا جس کی مرغی تھی مرغی طلب کرنے پر دکان دار نے بتایا کہ مرغی اُرگئی ہے وہ نہ مانا اور دکان دار کو پکڑ کر قاضی کے پاس چل دیا راستے میں دو افراد جھگڑرہے تھے دکان دار بیچ بچاﺅ کرانے لگا تو اس کی انگلی لڑنے والوں میں سے ایک شخص کی آنکھ میں لگ گئی جس سے اس کی…

Read more

سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…

Read more

میاں کرم دین بزرگ آدمی تھے اور طویل عرصے سے چودھری نواز کے اصطبل میں ملازم تھے،جہاں جانوروں کی رکھوالی،ان کے کھانے پینے اور صفائی ستھرائی کا بے حد خیال رکھتے تھے۔چودھری صاحب بہت رحم دل انسان تھے۔گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے جانوروں سے بھی بہت محبت کرتے تھے اور ان کو کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔جانور بھی ان کی بات سمجھتے تھے۔ایک دن کرم دین نے آ کر چودھری صاحب کو بتایا کہ ان کی پسندیدہ گائے بھوری چارا نہیں کھا رہی ہے۔چودھری صاحب تڑپ کر اُٹھے اور حکم دیا کہ جا کر حکیم صاحب کو لے آئے۔وہ خود بڑی دیر تک بھوری کو پچکارتے رہے،مگر اس نے چارے کی طرف دیکھا تک نہیں۔اس دوران حکیم صاحب بھی پہنچ گئے۔ انھوں نے بھوری کا مکمل معائنہ کیا اور بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے،نہ جانے کیا وجہ ہے۔ حکیم صاحب نے کرم دین سے…

Read more

بہت عرصہ پہلے بحیرہ عرب کے کنارے واقع ناریل کے درختوں کی جھنڈ میں ایک پیارا سا سفید خرگوش رہتا تھا،جو بہت وہمی تھا۔ایک دن اپنا کھانا بل میں رکھتے ہوئے اس نے سوچا کہ اگر زلزلہ آ جائے تو میرا کیا ہو گا؟پھر تو میں دراڑوں میں دب کر مر جاؤں گا۔یہ سوچ کر وہ بڑا فکرمند ہوا۔اتفاق سے اسی لمحے ایک پکا ہوا ناریل درخت سے ٹوٹ کر نیچے گرا۔ناریل کے گرنے کی آواز سن کر وہمی خرگوش نے ہوا میں چھلانگ لگا دی۔اسے یقین ہو گیا کہ زلزلہ آ گیا ہے اور زمین پھٹ رہی ہے۔اس لئے وہ پیچھے دیکھے بغیر بھاگتا چلا گیا۔راستے میں اسے ایک اور خرگوش ملا،جس نے اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی۔”بھئی!تم اتنی تیزی سے کہاں بھاگے جا رہے ہو؟خیر تو ہے؟“”مت پوچھو بس یوں سمجھو،غضب ہو گیا ہے۔ “اس نے بھاگتے ہوئے کہا۔”مگر ہوا کیا؟کچھ تو پتا چلے!“دوسرے خرگوش نے اس…

Read more

کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رُخ کرتا ہے،مگر جب میاں کنجوس کی شامت آئی تو ان کی بیوی نے ان سے آموں کی فرمائش کر دی۔میاں کنجوس کا اصل نام حامد خاں تھا،مگر محلے کا ہر چھوٹا بڑا کنجوسی کی وجہ سے ان کو ’میاں کنجوس‘ کہتا تھا۔خیر،میاں کنجوس نے فرمائش سن تو لی،پھر بہت ہمت کرکے اپنے صندوق میں سے کچھ پیسے نکالے اور بہت شان سے اپنی جیب میں رکھ کر بازار کا رُخ کیا۔ سب سے پہلے ایک آم والے کے پاس پہنچے اور دام معلوم کیا تو پتا چلا ڈیڑھ سو روپے کلو․․․․یہ سنتے ہی میاں کنجوس کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولے:”ارے بھئی،اتنے مہنگے!کچھ تو کم کرو۔“یہ سن کر آم والے نے جواب دیا:”اس سے سستے لینے ہیں تو آگے جاؤ۔ “میاں کنجوس فوراً آگے ہو لیے۔آگے چل کر دام دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آم ڈیڑھ…

Read more

بھالو میاں اکثر بی لومڑی کی چالاکیوں کا شکار رہتے تھے۔آج بھی ایسا ہی ہوا بی لومڑی نے اطلاع دی کہ ادھر جھونپڑی میں نئے سیاح آئے ہیں ان کے پاس شہد کے جار ہیں تمہارے تو مزے ہو جائیں گے۔وہ بیچارہ لالچ میں اس طرف نکل گیا جس طرف کا لومڑی نے بتایا تھا لیکن کچھ دور جا کر اسے اندازہ ہوا وہ پھر اس کی چال میں آ گیا ہے کیونکہ دور دور تک کسی جھونپڑی کا نام و نشان تک نہ تھا اس کے پاؤں بھی زخمی ہوئے کیونکہ راستے میں کانٹے تھے۔آج اس کو لومڑی پر بہت غصہ آیا اور اس نے ارادہ کیا اب وہ اس سے ضرور بدلہ لے گا۔شام کو وہ اپنے دوست ہاتھی کے پاس گیا اور تمام ماجرا سنایا اس نے بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور مل کر لومڑی کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا۔ جنگل میں ہر روز…

Read more

کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی جس کا ایک ہی بیٹا تھا،جس کا نام چلی تھا۔وہ بہت کام چور،بے وقوف،سست اور کاہل تھا۔اسے بس ایک ہی کام آتا تھا،شیخی بگھارنے کا۔جہاں چند لوگوں کو اکٹھے بیٹھے دیکھتا،ان کے قریب جا کر خود بھی بیٹھ جاتا اور انہیں گفتگو کا موقع دیئے بغیر اپنے جھوٹے سچے کارنامے بیان کرنے لگتا۔گاؤں کے لوگ اس کی اس عادت سے بہت تنگ تھے اور اس کا نام ہی”شیخ چلی“ رکھ دیا تھا۔وہ اپنے نام کی طرح بڑے بڑے خیالی منصوبے بناتا لیکن کسی پر عمل نہیں کرتا۔ایک دن اس کے ”خیالی پلاؤ“ پکانے کی عادت سے چڑ کر ایک شخص نے اس سے کہا:”شیخ صاحب!آپ اتنے بڑے منصوبے کیوں بناتے ہیں؟آپ نے ایک ہفتے بعد اس دنیا سے کوچ کر جانا ہے،اپنی موت کا خیال کریں“۔ یہ سننا تھا کہ بے وقوف شیخ چلی کو ایک ہفتے بعد اپنی موت کا یقین ہو…

Read more

مزاج بخیر سہیل بھائی جان کو بہت اچھی ملازمت مل گئی تھی، جس کی خوشی میں امی نے خاندان بھر میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔ ابو جی کے کہنے پر ہم شاہدہ خالہ کے ہاں بھی مٹھائی لے کر گئے۔ امی کے ساتھ چند دن پہلے ہی ان کی کسی بات پرنوک جھونک ہو گئی بلکہ بات بڑھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ دونوں ہی نے جینا مرناختم کرنے کی قسم کھا لی تھی۔ خاندان کے کچھ لوگ امی کی طرف داری میں اور کچھ شا ہد ہ خا لہ کی حمایت میں تھے۔جب ہم دونوں بھائی میٹھائی لے کر گئے تو نہ صرف انھوں نے مٹھائی لینے سے انکار کر دیا ، بلکہ غصے میں باتیں بھی سنائیں :” لے جاوٴ یہ مٹھائی۔ اس سے بہتر ہے کہ میں زہر کھالوں۔“ وہ غصے سے بولیں اور ہم سر جھکائے باہر نکل آئے۔ منے ! اگر یہ…

Read more

حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں“ مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص تھوڑا سا علم حاصل کر کے خود کو بہت قابل سمجھے اور جب اس علم پر عمل کرنے بیٹھے تو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھائے، مگر نقصان کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئے۔اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک صاحب زادے نے حساب کا علم سیکھنا شروع کیا۔ایک روز استاد نے اوسط کا قاعدہ بتایا۔انہوں نے اسے رٹ لیا۔شام کو گھر گئے تو گھر والے دریا پار جانے کو تیار بیٹھے تھے۔یہ بھی ساتھ ہو لیے۔جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ دریا کناروں سے دو دو فٹ گہرا ہے اور درمیان میں آٹھ فٹ تو فوراً دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو…

Read more

انسان کی زندگی ایک خوبصورت اور مسلسل سفر ہے، لیکن اس سفر میں ہر موڑ پر ہمارا سامنا مختلف رویوں سے ہوتا ہے۰  بعض لوگ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ بعض اپنی منفی سوچ اور کم ظرفی سے ہمیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۰ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے؟ نفسیات کے مطابق، انسان کا غصہ اور انا (ego) اکثر اسے ان لڑائیوں میں دھکیل دیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۰ عقلمند اور کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو ہر میدان میں کود پڑیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کون سی جگہ ان کےلیے بہتر ہےاور کہاں خاموشی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۰ اس بات کو سمجھنے کے لیے جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ ایک بہترین مثال ہے۰ ایک بار ایک طاقتور شیر نہایت سکون کے ساتھ…

Read more

سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…

Read more

ایک کسان نے ایک بوڑھے، بے بس اور بظاہر بیمار بھیڑیے کو بھیڑوں کے ریوڑ کے عین درمیان میں پھینک دیا، بھیڑیا اتنا کمزور تھا کہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۰ اس کے باوجود پورے ریوڑ میں ڈر کی وجہ سےشدید افرا تفری پھیل گئی۰ ریوڑ میں سب سے وزنی مینڈھا، جو ہمیشہ محفوظ رہنے کے لیے ریوڑ کے مرکز میں رہتا تھا، اچانک خود کو بھیڑیے کے بالکل سامنے کھڑا پاتا ہے۰ اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اس کے پیچھے موجود وہی بھیڑیں، جو روزانہ اس کے ساتھ چمٹ کر کھڑی ہوتی تھیں، اپنے لیے راستہ بنانے کی خاطر بھیڑیے کی طرف دھکیل دیتی ہیں۰ مینڈھے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، لیکن بھیڑیے کے کاٹنے سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے ساتھیوں کے سموں تلے کچلے جانے کی وجہ سے اور وہ ایک بوڑھے ییمار بھیڑیے کی آسان ترین خوراک بن جاتا ہے۰ یہ کہانی ایک…

Read more

ایک صاحب بیگم کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو دو تین نوالے کھانے کے بعد بولے: “یہ آج کیا پکا دیا ھے؟ نہ گوشت گلا ھے، نہ سبزی! مجھ سے تو یہ کھانا کھایا ھی نہیں جا رہا!” 🤔😒 بیگم فوراً بولیں: “غلطی اپنی اور غصہ مُجھ پر؟ یہ کھانا تو میرے گلے سے بھی نہیں اتر رہا!” 😕😡 شوہر حیران ھو کر بولا: “میری غلطی؟ کیا کھانا میں نے پکایا ھے؟” بیگم نے جواب دیا: “کھانا پکانے کی کتاب آپ ھی تو لائے تھے! میں نے اسی میں لکھی ترکیب سے یہ ڈش بنائی ھے۔” پھر فخر سے بولیں: “ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، لیکن ھم دو تھے، اس لیے میں نے ہر چیز آدھی کر دی…” شوہر نے کہا: “اچھا، پھر؟” بیگم بولیں: “میں نے احتیاط کی انتہا کر دی، مصالحے آدھے، تیل آدھا، پانی آدھا…” تھوڑی دیر رک کر فاتحانہ انداز میں بولیں: “اور پکانے کا…

Read more

شیدا ایک بھولا بھالا سا انسان تھا۔آج وہ اپنی بیوی کو لینے اس کے گاؤں جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے دیکھا۔خیر وہ اپنے سسرال پہنچا۔بیوی کے بھائی نے اسے بیٹھک میں بیٹھا دیا۔اتنے میں ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ بھائی! میرے گدھے گم ہو گئے ہیں۔اگر آپ نے دیکھے ہوں تو بتائیے۔ شیدے نے فوراً کہا کہ ہاں میں نے فلاں جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے ہوئے دیکھا ہے۔وہ آدمی دوڑتا ہوا چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ آدمی دوبارہ آیا اور کہا کہ آپ تو عظیم آدمی ہیں۔آپ نے جس جگہ بتایا تھا، ٹھیک اسی جگہ گدھے موجود ہیں، پھر وہ چلا گیا۔اب روٹیاں پکنی شروع ہوئیں۔چونکہ وہ باورچی خانے کے قریب ہی کمرے میں بیٹھا تھا، اس لئے اسے روٹیوں کے تھپ تھپ کی آواز سنائی دی۔ اس آواز سے وہ روٹیاں گننے لگا۔جب اسے کھانا پیش کیا…

Read more

مرزا انور بڑے سرکاری افسر تھے،لیکن نیکی کے کاموں میں حصہ لینا اور سخاوت ان کی خصوصیت تھی۔ایک دن وہ گھر والوں کے ساتھ شادی کی تقریب میں شریک تھے۔شادی ہال میں ان کی بیوی کو یاد آیا کہ وہ تو جلدی جلدی میں سونے کا ہار سنگھار میز پر ہی بھول آئی ہیں۔انھوں نے فوراً مرزا صاحب سے کہا تو انھوں نے بے فکری کے انداز میں جواب دیا۔سارے کمروں کو اپنے ہاتھ سے بند کرکے آیا ہوں اور بڑے گیٹ پر چوکیدار موجود ہے۔بے فکر ہو جاؤ،تمہارا ہار میز پر ہی ہو گا۔وہاں سے کہیں نہیں جائے گا۔شادی کی تقریب کے بعد جب گھر پہنچے تو سنگھار میز پر ہار موجود نہیں تھا۔یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئے اور سارا کمرہ چھان مارا،لیکن ہار نہیں ملا۔ چوکیدار سے معلوم کیا کہ ہمارے بعد کوئی آیا تو نہیں تھا۔ چوکیدار نے جواب دیا:”کوئی نہیں آیا تھا صاحب․․․!“انور صاحب…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا اُس کتے سے بہت پیار کرتا تھا وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلاتا کتا بھی ہر وقت اسکے پیچھے پیچھے دم ہلاتا پھرتا اور جہاں وہ جاتا ساتھ ہو لیتا آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا جو دن بھر بوجھ اُٹھاتا اور رات کو اکیلا جگہ پر پڑارہتا ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر مالک کے کمرے میں جھانکا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کتا مزے سے کھاناکھارہا تھا اور مالک پاس بیٹھا اسے چمکا رہا تھا گدھا اسے دیکھ کر جل گیا اور دل میں کہنے لگا آخر میرا مالک اس کتے کو اتنا پیار کیوں کرتا ہے میں دن بھر سخت محنت کرتا ہوں اور کتاصرف دم ہلاتا ادھر اُدھر اُچھلتا کودتا ہے اس نے سوچا کہ اگر میں بھی کتے کی طرح اُچھلنے کودنے اور…

Read more

مستانہ اپنے علاقے کا ایک مشہور حجام تھا۔بے تکی شاعری کرتا تھا۔قافیہ اور ردیف سے ناواقف یہ خود ساختہ شاعر اپنے آپ کو غالب اور مومن کے برابر کا شاعر سمجھتا تھا۔فیس بک پر اپنے اُلٹے سیدھے اشعار لگاتا اور انھیں اقبال کا ہم پلہ بتاتا۔کبھی دکان پر اپنی کسی بے وزن غزل کو مرزا غالب کے معیار کا سمجھ کر سناتا اور ملازموں اور ادب سے ناواقف گاہکوں سے خوب داد سمیٹتا۔اس علاقے میں مسافر دہلوی نام کے ایک شاعر بہت مشہور تھے۔مسافر دہلوی تنہائی پسند آدمی تھے۔انھیں لوگوں میں گھلنا ملنا پسند نہیں تھا،اس لئے اکثر لوگ اُن کے صرف نام اور کلام ہی سے واقف تھے۔”چھوٹے!تین کپ چائے لا!“”ابھی لایا استاد۔“مستانے نے ابھی ابھی دکان کھولی تھی۔”اجو!ٹی وی کھول،دیکھوں تو ذرا امریکا میں کورونا کی اب کیا حالت ہے؟“”کیوں استاد جی!امریکا جانے کا ارادہ ہے کیا؟“اجو نے کچو کا لگاتے ہوئے کہا۔”ارے احمق!وہاں میرا فیس بک فرینڈ…

Read more

Read more

160/573
NZ's Corner