Tag Archives: ،urdublogs

ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتا تھا۔کھیتوں کی مکمل پہرے داری کرتا تھا،مگر جب فصل پک کر تیار ہو جاتی تو گاؤں کا سردار اس کی ساری فصل زبردستی لے لیتا اور اسے تھوڑا سا حصہ دے دیتا۔کسان اور اس کی بیوی کی بڑی مشکل سے گزر اوقات ہوتی تھی۔ایک دن کسان کھیت میں کھدائی کر رہا تھا۔بے خیالی میں وہ زیادہ زمین کھود گیا۔اچانک ہی اسے محسوس ہوا کہ زمین کے اندر کچھ ہے۔اس نے بڑی مشکل سے وہاں سے ایک صندوق نکالا۔وہ بڑا حیران ہوا۔اس نے صندوق کھولا۔اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔صندوق ہیرے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا۔اس نے سوچا کہ اس بات کا علم گاؤں کے سردار کو نہ ہونا چاہیے ورنہ وہ اس کو زبردستی چھین لے گا۔ وہ خزانے کو چھپتے چھپا کر گھر لے آگیا۔ اس نے اپنی بیوی سے پوچھا،”اس…

Read more

”بیٹا!آپ اس سکول میں کب آئے ہو؟“ چھوٹے کوے کو کلاس میں کھڑا کرکے سر اُلو نے پوچھا۔”سر جی!میں آج پہلے دن ہی سکول آیا ہوں“ چھوٹے کوے نے کائیں کائیں کرکے کہا۔”اوئے بے سُرے!یہ کائیں کائیں کلاس روم میں نہیں چلے گی۔“ بی فاختہ جو ہر طرف امن دیکھنا چاہتی تھی،کلاس روم میں بھی امن دیکھنے کی خواہاں تھی۔ ”فاختہ بہن!میری فطرت ہے،کائیں کائیں کرنا!“ چھوٹا کوا نرمی سے بولا۔”سر!یہ کالا کلوٹا تو کلاس روم کا ماحول خراب کر رہا ہے،یہ تو ایک کالا دھبہ ہے“ گورا چٹا کبوتر اپنی گوری رنگت پر غرور کرتے ہوئے بولا۔”اسے یہ کائیں کائیں اور کالی رنگت خدا نے دی ہے۔“ سر اُلو نے اُن کو سمجھاتے ہوئے کہا ”کسی کے نیک اعمال کو پرکھنا چاہئے،دیکھئے ذرا!یہ چھوٹا کوا دوسرے کوؤں کی نسبت کتنا اچھا ہے،اس میں ذرا بھی چڑچڑا پن نہیں ہے۔ “ سب پرندے سر اُلو کی باتوں سے اُکتاہٹ محسوس…

Read more

مسجد کے سامنے ایک کونے پر کوئی بھکاری بابا بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا۔بابا اندھا تھا،اس لئے لوگ اس پر ترس کھا کر کچھ نہ کچھ بھیک دیتے جا رہے تھے۔بابا کے کشکول میں کچھ پیسے جمع ہو گئے تھے۔اتنے میں وہاں کچھ نوجوان امیر زادے آئے اور بابا کو حقارت سے دیکھنے لگے۔”بابا!کیوں اندھے ہونے کا ناٹک کر رہے ہو؟یہ لو پانچ روپے کا سکہ۔“ بے ادب حارث نے سکہ اُچھالتے ہوئے کہا۔بابا کو لڑکے کی بات ناگوار گزری اور اس نے کہا:”میں ناٹک نہیں کرتا۔میں تو صرف بھیک مانگ رہا ہوں۔بوڑھا ہوں اندھا بھی ہوں۔دنیا میں میرا کوئی نہیں ہے۔پر تُو ناٹک کرتا ہے،اپنے مہذب ہونے کا۔تیرے ابا تیرے پیار میں جھوٹی تعریف کرتا ہے۔تیرا باپ ایک کاروباری آدمی ہے۔ تم لوگوں کا کپڑے کا کاروبار ہے اور تم چار بہن بھائی ہو۔ “بابا کی باتیں سن کر لڑکے کو پہلے تو غصہ آیا،مگر نہ جانے بابا…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب لکڑہارے کو جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے درختوں کے جھنڈ میں کوئی چیز نظر آئی۔اُسکے قریب جا کر دیکھا تو وہ پتھر کا ایک بت تھا۔لکڑہارے نے اُس پتھر کو ہٹایا تو وہاں ایک چھوٹا ساسوراخ نظر آیا۔لکڑہارے نے سوراخ کے ارد گرد سے مٹی ہٹائی تو اُسے ایک بہت بڑا خزانہ نظر آیا۔لکڑہارا اتنے بڑے خزانے کو تنہا نہیں اٹھا سکتا تھا،چنانچہ اُس کو ڈھانپ کر واپس اپنے گھر کی طرف چل دیا۔راستے میں اُسکی ملاقات ایک سوداگر سے ہوئی جو کہیں سے اپنا مال فروخت کرکے آرہا تھا اُسکے ہمراہ چھ اونٹ تھے۔لکڑہارے نے سوداگر سے کہا: مجھے جنگل میں بہت بڑا خزانہ ملا ہے اور میں تمہیں صرف ایک شرط پر اُس جگہ لے جاؤں گا۔سوداگر نے بڑی بے صبری سے کہا:”جلدی بتاؤ،میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں“۔ لکڑہارے نے کہا؛ جتنے اونٹ اُس خزانے میں سے…

Read more

ایک ہرئ بھری اور خوبصورت  چراگاہ میں بہت سے جانور رہتے تھے وہ سب آپس میں مل جل کر رہتے ۔ ایک دن سب جانور اکھٹے ہوے اور وہ اپنے چراگاہ کے لیے بہت فکر مند تھے کیونکہ گرمی اور بہار کے موسم میں ہر طرف خوب ہری بھری گھاس ہوتی لیکن سردی  اور بارش کے موسم میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو جاتا جس کی وجہ جانوروں کھانے کے لیے کچھ بھی نا ملتا ۔ وہ بہت پریشان رہتے ۔ خرگوش ہمیشہ اپنے لیے ہر قسم کی سبزیاں اگاتا اور اپنے گھر میں جمع کر لیتا تاکہ بارش کے موسم میں وہ آرام سے وقت گزار سکے ۔ خرگوش نے سب جانوروں سے کہا کہ ہمیں اپنے لیے مظبوط گھر بنانے تا کہ ہم سردی کے موسم میں اپنے گھروں میں محفوظ رہ سکیں ۔ سب جانوروں نے خرگوش کی بات مان لی اور بکری نے ہنس کر…

Read more

کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں عربوں کی شادیوں میں مہمانوں کو روٹی میں گوشت لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا۔اگر کبھی گوشت کم پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو میزبان اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف روٹی دے دیتا، تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں تک گوشت والی روٹی پہنچ سکے اور کسی کو کمی کا احساس نہ ہو۔ایک بار ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے روٹی کھولی تو اس میں گوشت نہیں تھا۔ اس نے فوراً بلند آواز میں کہا:“ارے فلاں! میری روٹی میں تو گوشت ہی نہیں ہے!”میزبان نے مسکرا کر جواب دیا:“بھائی، معاف کرنا… میں نے غلطی سے تمہیں اپنا سمجھ لیا تھا۔” زندگی میں ہر وہ شخص جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے راز، کمزوریاں یا عزتِ نفس کی حفاظت بھی کرے۔کچھ لوگ ہماری پردہ پوشی کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ موقع ملتے ہی ہماری کمزوری دوسروں کے سامنے…

Read more

ایک دفعہ ایک چھوٹے لڑکے کی سب سے پسندیدہ سائیکل دیوار سے ٹکرا کر بری طرح ٹوٹ گئی۔ اس کا فریم ٹیڑھا ہو گیا، پہیہ مڑ گیا اور زنجیر بھی اتر گئی۔ لڑکا بہت دکھی ہوا اور اپنی ٹوٹی ہوئی سائیکل اٹھا کر ایک بوڑھے مکینک کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے پریشانی سے پوچھا:“کیا آپ اسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟ اور اس پر کتنا خرچ آئے گا؟ یہ پہلے بھی تین بار خراب ہو چکی ہے، مگر میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔” مکینک نے غور سے سائیکل دیکھی اور کہا: “یہ کافی خراب ہو چکی ہے۔ اسے ٹھیک کرنے پر 20 سکے لگیں گے، جبکہ 30 سکوں میں تم ایک نئی سائیکل خرید سکتے ہو۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ تم اسے چھوڑ کر آگے بڑھو۔” لڑکے نے فوراً جواب دیا: “نہیں! مجھے یہ سائیکل بہت عزیز ہے۔ براہِ کرم اسے ٹھیک کر دیں، میں 20 سکے…

Read more

سعودی عرب کے علاقے قصیم کی شرعی عدالت میں ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا جس نے نہ صرف عدالت میں موجود لوگوں کو اشکبار کر دیا بلکہ پورے ملک میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ ہم اکثر عدالتوں میں جائیداد، دولت، دشمنی اور خاندانی جھگڑوں کے مقدمات سنتے ہیں، مگر یہ مقدمہ مختلف تھا… یہ مقدمہ ماں کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تھا۔ اس شخص کا نام حیزان الفہیدی الحربی تھا، جو قصیم کے قریب ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی بوڑھی اور کمزور ماں کا بڑا بیٹا تھا۔ والدہ کی خدمت ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن چکی تھی۔ ان کی مالی حیثیت بھی معمولی تھی، مگر حیزان کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی دولت اس کی ماں تھی۔ ایک دن اس کا چھوٹا بھائی دوسرے شہر سے آیا اور کہنے لگا: “میں چاہتا ہوں کہ امی میرے ساتھ…

Read more

آج اسکول سے چھٹی تھی۔ شایان حیدر اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہا تھا۔ ایسے میں اس نے ایک آواز سنی۔ ”کائیں․․․․․ کائیں․․․․․ ۔“ شایان حیدر نے سر اٹھا کردیکھا۔ وہ ایک کوا تھا۔ جو منڈیر پر بیٹھا پھدک رہا تھا۔ پھر اس نے پرواز بھری․․․․ اور یہ جا ․․․․وہ جا۔ شایان کھیلنا بھول گیا۔ ایک وہ کوے اور اس کی پرواز پر غور کررہا تھا۔شایان عمر کے اس دور میں تھا، جہاں نظر آنے والی چیزیں سمجھ میں نہیں آتی۔ کوا اڑ سکتا ہے، میں کیوں نہیں اڑ سکتا؟“ شایان نے سوچا پھر اس نے اپنے بازوؤں کی طرف دیکھا۔ کوے کے پاس پرتھے، اس کے پاس تو پھر بھی نہیں تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ اڑ نہیں سکتا۔ مگر اب وہ اڑنا چاہتا تھا۔ یہ ننھی سی خواہش اس کے دل میں مچلنے لگی۔ وہ فوراََ ابوجی کے پاس چلا آیا۔اس کی سوچ کے مطابق ابو…

Read more

جنگل میں ایک ندی بہتی تھی اور اس ندی کے اردگرد پیپل کے ایک درخت پر کوے کا گھونسلا تھا اور دوسرے نیم کے درخت پر مینا کا گھونسلا تھا۔دونوں میں گہری دوستی تھی۔کوا بڑا چالاک اور سیانا تھا،ہر وقت چالاکی سے کام لیا کرتا تھا۔اس کے برعکس مینا سیدھی اور رحمدل جانور تھی اور وہ ہر کسی کے کام آتی تھی۔اس کے برعکس کوا سارا دن جنگل میں اِدھر سے اُدھر اُڑتا پھرتا اور جو کھانے کی چیز نظر آتی جھپٹ کر لے اُڑتا۔ ایک رات مینا کے گھر مہمان آ گئے۔مینا خوشی خوشی کھانا پکانے لگی۔مہمانوں کے بچے مینا کے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گئے۔ اتفاق سے نمک دان میں نمک ختم تھا‘مینا بڑی فکر مند ہوئی۔اب رات گئے وہ نمک کہاں سے لاتی۔ سوچا چلو کوے کے گھر سے نمک لے آتی ہوں۔مینا جلدی سے کوے کے گھر کا دروازہ بجانے لگی۔کوے کے گھر…

Read more

ایک تھی لومڑی جو دوسری تمام لومڑیوں کی طرح چالاک اور عیار تھی اور چونکہ اتنی طاقت نہ رکھتی تھی کہ شیر اور چیتے کی طرح شکار کر سکے اس لئے ہمیشہ چکنی چپڑی باتوں اور مکر و فریب کے ساتھ پرندوں اور چھوٹے جانوروں کو اپنے جال میں پھنساتی،میٹھی میٹھی باتوں سے اُن کی قربت حاصل کرتی اور پھر اچانک انہیں دبوچ کر ہڑپ کر جاتی۔ایک روز یہ لومڑی صحرا کے وسط سے گزر رہی تھی اور اپنے دل میں سوچ رہی تھی۔آج میں نے کچھ نہیں کھایا۔کڑاکے کی بھوک لگی ہے مجھے چاہئے کہ اپنے ہوش و حواس قائم رکھوں اور اگر میرا سامنا کسی خرگوش،چکور،پرندے،مرغے یا کسی اور جاندار سے ہو جائے تو مجھے ایسا حیلہ کرنا چاہئے کہ وہ مجھ سے خوف کھا کر بھاگ نہ لے۔لومڑی یہ سوچتی ہوئی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ کسی جانور کو…

Read more

وہ ایک بہت شرارتی چوہا تھا، جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔اس گھر میں ایک بلی بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔بلی کسی کو کچھ نہ کہتی، لیکن جب کوئی اس کے بچوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا تو وہ برداشت نہ کرتی۔چوہے کے ماں باپ نے اسے سختی سے تاکید کی تھی کہ وہ بلی اور اس کے بچوں سے کوئی شرارت نہ کرے، لیکن اس نے یہ بات سنی اَن سنی کر دی، پھر اس کے ذہن میں ایک شرارت سوجھی۔بلی جب رات کو اپنے بچوں کے ساتھ سو رہی تھی تو وہ چپکے سے اُٹھ کر بلی کے پاس گیا اور اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے بلی کو زور سے کاٹ کر بھاگ گیا۔بلی کی یکدم آنکھ کھل گئی، لیکن چوہا یہ جا، وہ جا۔تب سے بلی کو تنگ کرنا چوہے کا روز کا معمول بن گیا۔بے چاری بلی اس کو پکڑنے کے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…

Read more

نصرالدین اور حیران انسپکٹر..ایک ایسا راز جو برسوں بعد کھلاایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟”  نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔”انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔”نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔”انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے…

Read more

ملا نصرالدین اور گدھے کی گواہی- ایک دلچسپ مزاحیہ کہانیایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟”ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔”پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا…

Read more

ایک صاحب کا موبائل چوری ھو گیا۔ شام کو گھر پہنچے تو دیکھا، بیگم رو رھی ھیں، ساس پریشان ھیں اور سسر صاحب غصے میں بیٹھے ھیں۔ سسر صاحب بولے: “یہ کیا حرکت ھے؟ تم نے ھماری بیٹی کو تین طلاق کا میسج بھیجا ھے!” 😡 صاحب حیران: “لیکن میرا فون تو صبح چوری ھو گیا تھا!” 😕 فوراً اپنے نمبر پر کال کی۔ چور نے فون اٹھا لیا۔ صاحب غصے سے بولے: “اوئے لعنتی ! فون تو چوری کیا، لیکن میری بیوی کو طلاق کیوں بھیجی؟” 😡 چور نے لمبی سانس لیتے ھوئے کہا: “جناب! صبح سے آپ کی بیوی کے 36 میسج آ چکے ھیں!” “کہاں ھو؟ کب آؤ گے؟ یہ لیتے آنا، وہ ختم ھو گیا ھے، راستے میں دودھ بھی لیتے آنا…” پھر چور بولا: “فون میں نے چوری کیا تھا، سکون نہیں!” 😂 اور آخر میں آہ بھر کر کہا: “جناب! میں نے طلاق نہیں…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔کسی شہر میں ایک بہت دولت مند آدمی رہتا تھا۔اس کی حویلی بادشاہوں کے محلات کی طرح عظیم الشان تھی۔ہر وقت نوکر چاکر اس کی خدمت کے لئے حاضر رہتے تھے۔وہ بہت ظالم تھا اور ذرا سی غلطی پر نوکروں کو سخت سزا دیتا۔اس کا ایک غلام آقا کے مظالم سے تنگ آ گیا۔ایک دن موقع پا کر وہ بھاگ گیا اور جنگل میں جا چھپا۔کئی دن وہ جنگل میں چھپا رہا۔ایک روز درخت پر چھپا بیٹھا تھا کہ اسے ایک شیر نظر آیا، جو لنگڑا کر چل رہا تھا۔اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔شیر اس درخت کے پاس آ بیٹھا، جس پر غلام بیٹھا تھا۔غلام نے دیکھا کہ شیر کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا ہے۔غلام کو بہت ترس آیا۔ اس نے سوچا آج نہیں تو کل آقا کے ملازم اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور وہ موت کے گھاٹ…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ جنگل میں نہیں، بلکہ دور ایک انسانی بستی کے قریب مزدوری کرتا تھا۔ اور کئی کئی مہینوں تک گھر نہ آتا۔ ایک آدھ دن کے لیے اپنی بندریا اور ننھے سے بچے سے ملنے آتا اور دوبارہ روزی کی تلاش میں چلا جاتا۔ اس کا ننھا بچہ عجیب طبیعت کا مالک تھا۔ سوال پر سوال، اور ہر جواب کے بعد ایک نیا سوال۔بندریا کئی مرتبہ اس کے سوالوں سے گھبرا جاتی تھی۔ایک دن قسمت سے بندر کئی مہینوں بعد گھر آیا۔ رات بھر پورا خاندان خوشی سے جاگتا رہا۔مگر اگلی صبح آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ننھا بندر ٹہنی سے ٹہنی اچھلتا ہوا آیا، آسمان کی طرف دیکھا اور حیرت سے بولا، “امّی! آج سورج چاچا کہاں ہیں؟ کیا وہ سو رہے ہیں؟”بندریا جانتی تھی کہ اگر…

Read more

”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔ کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر جہاں بھی کہیں جاتا بس یہی صدا لگاتا۔”تین باتیں سن لو اور ہر بات کا معاوضہ سو روپے دے دو“ کوئی بھی اُس کی اس صدا پر کان نہ دھرتا تھا۔تنگ آکر فقیر دریا کی طرف نکل گیا۔وہ کنارے کنارے چلتا جاتا اور بڑبڑاتے ہوئے لوگوں کو کوستا جاتا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ وقت کا بادشاہ بھی سیر کیلئے وہاں آیا ہوا تھا۔اُس نے فقیر کو کوستے ہوئے سنا تو اُسے بلا کر وجہ پوچھی۔فقیر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا! ”میں تھکا ہارا (چندرا) بدنصیب ہوں۔“ جس نے قیمتی سودا سستے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے بھی میری نہ سنی۔بادشاہ بولا! ”فقیر!اب کہو میں تمہاری شرط منظور کرتا ہوں۔“ فقیر خوشی خوشی تیار ہو گیا۔ اس کے بعد فقیر نے تین باتیں سنائیں۔(1)”رات دا جگن بھلا“(یعنی رات کو جاگنا مفید ہے)پہلی بات بتا کر فقیر نے…

Read more

180/470
NZ's Corner