بلاعنوان۔۔۔🙂!
لہجوں کی پہچان 💥 ایک درویش جنگل میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھا تھا۔ایک شکاری آیا اور غصے میں بولا،“کیا یہاں سے کوئی ہرن گزرا ہے؟” درویش نے کہا:“جو آنکھ دیکھتی ہے وہ نہیں بولتی، اور جو زبان بولتی ہے وہ نہیں دیکھتی۔” شکاری اس گہرے مطلب کو نہ سمجھ سکا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بادشاہ آیا اور نرمی سے وہی سوال دہرایا۔درویش نے کہا:“عالی جاہ، آپ کا ہرن اس طرف گیا ہے۔” بادشاہ کے جانے کے بعد شاگرد نے پوچھا:“استاد، آپ نے شکاری کو نہیں بتایا، بادشاہ کو کیوں بتایا؟” درویش مسکرا کر بولا:“لہجے بتاتے ہیں کہ کس کو راستہ دکھانا ہے اور کس کو نہیں۔” 💡 آج کے دور میں خاموشی اور شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔اس لیے، لہجے کا انتخاب سامنے والے کے رویے کو دیکھ کر کرنا ہی عقل مندی ہے۔ منقول اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو…
#urduquotes #UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک مولوی صاحب تھے۔ بڑے نیک اور عبادت گزار انسان۔ ان کے گھر میں دو طوطے بھی تھے، اور کمال کی بات یہ تھی کہ دونوں طوطے بھی بڑے نیک مزاج تھے۔ ایک طوطا تو زیادہ تر وقت سجدے کی حالت میں رہتا تھا، جیسے عبادت کر رہا ہو۔اور دوسرا طوطا ہر وقت بیٹھا تسبیح پڑھتا رہتا تھا:“سبحان اللہ… سبحان اللہ…” محلے والے بھی اکثر حیران ہوتے تھے کہ مولوی صاحب کے طوطے بھی کتنے نیک ہیں۔ ایک دن مولوی صاحب کا ہمسایہ ان کے پاس آیا اور بولا: “مولوی صاحب! میرے پاس ایک طوطی ہے، مگر وہ مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ شور مچاتی رہتی ہے، سکون نہیں لینے دیتی۔ کوئی حل بتائیں۔” مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا: “ایسا کریں، آپ اپنی طوطی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ میرے پاس دو نیک طوطے ہیں۔ ان کے ساتھ رہے گی تو شاید سدھر جائے، اور اگر قسمت ہوئی تو بچے…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ رات جب ڈاکوؤں نے موڑ پر گاڑی روکی، ڈرائیور نے کہا “میاں جی کو اتار دو، میں نے ان کا کرایہ معاف کر دیا تھا” — پھر جو ڈاکوؤں کے سردار نے کہا، وہ کسی قرآن کی آیت سے کم نہ تھا۔ یہ 1985 کا زمانہ ہے۔ پاکستان کی شاہراہوں پہ راتیں لمبی ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کے بس اسٹینڈز پہ چائے کے ڈھابے اور تیل کے لیمپ جلتے تھے۔ لوگ ابھی اتنے جلدی نہیں پہنچتے تھے جتنی جلدی منزلیں تھیں۔ میاں محمد بخش لاہور سے پشاور جا رہے تھے۔ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔ سفید داڑھی اور ماتھے پہ نماز کا نشان۔ بدن پہ کرتا تھا اور کندھے پہ پرانا شال، جس میں کئی پیوند لگے تھے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ نہ بریف کیس، نہ بنڈل۔ بس ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پانی کی لوٹی تھی اور کھجوروں کا ایک پیکٹ۔ وہ نیا کھوکھر سے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
چچا فیدا اور “یادداشت” کی گولیچچا فیدا کی یادداشت اتنی کمزور تھی کہ وہ اکثر یہ بھول جاتے تھے کہ انہوں نے کھانا کھا لیا ہے یا ابھی کھانا ہے۔ ایک دن وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور بڑے سنجیدہ ہو کر بولے: چچا فیدا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دیں کہ میری یادداشت کمپیوٹر جیسی ہو جائے۔ کل میں اپنی بیگم کا نام بھول گیا تھا، اس نے بیلن سے میری یادداشت تھوڑی ‘تازہ’ تو کی ہے، پر مستقل حل چاہیے۔” ڈاکٹر صاحب نے ایک چمکدار نیلی گولی نکالی اور بولے: “چچا جی! یہ ‘سپرا سمارٹ’ گولی ہے۔ اسے روزانہ صبح نہار منہ کھائیں، آپ کو بچپن کی باتیں بھی یاد آ جائیں گی۔” چچا گولی لے کر چلے گئے۔ ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئے، مگر اس بار ان کے چہرے پر غصہ تھا۔ چچا فیدا: “اوئے ڈاکٹر! یہ کیسی گولی دی تھی تو نے؟…