Tag Archives: #urduquotes

کسی زمانے کی بات ہے، ایک غریب کسان اپنی محنتی بیوی کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔عورت روزانہ دودھ سے مکھن بلوتی، پھر اسے خوبصورت گول پیڑوں کی شکل دیتی۔ ہر پیڑا پورا ایک کلوگرام بنا کر تیار کیا جاتا۔ کسان وہ مکھن شہر کے ایک دکاندار کو بیچ آتا اور بدلے میں گھر کا راشن لے لیتا۔ یوں سادہ سی زندگی چل رہی تھی۔ ایک دن دکاندار کے دل میں شک پیدا ہوا۔اس نے سوچا کیوں نہ آج خود مکھن تول کر دیکھوں۔ جب اُس نے پیڑے ترازو پر رکھے تو حیران رہ گیا — ہر “ایک کلو” کا پیڑا تقریباً نو سو گرام نکلا، یعنی وزن میں کمی تھی۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔اگلے دن جب کسان حسبِ معمول مکھن لے کر آیا تو دکاندار نے اسے روک لیا اور سخت لہجے میں بولا: آج کے بعد میں تم سے سودا نہیں…

Read more

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس خونخوار جنگلی کتے پال رکھے تھے۔ جب بھی کوئی وزیر یا مشیر کوئی غلطی کرتا، بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھینکوا دیتا۔ کتے اس شخص کو نوچ نوچ کر مار ڈالتے۔ ایک دن بادشاہ کے ایک خاص وزیر سے ایک مشورے میں چُوک ہو گئی، جو بادشاہ کو بالکل پسند نہ آئی۔ غصے میں آ کر بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ اس وزیر کو بھی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے۔ وزیر نے عاجزی سے عرض کی:“بادشاہ سلامت! میں نے دس سال تک وفاداری سے آپ کی خدمت کی ہے۔ دن رات ایک کیا ہے۔ کیا میری اتنی طویل خدمت کے بدلے میں مجھے صرف ایک موقع نہیں دیا جا سکتا؟حکم تو آپ کا ہی چلے گا، مگر میری گزارش ہے کہ مجھے صرف دس دن کی مہلت دی جائے، اس کے بعد چاہے مجھے کتوں کے آگے ڈال دیں۔”…

Read more

حضرت عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ پہلے یہودی تھے، لیکن ایک واقعہ نے ان کے دل پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوگئے۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ سے ایک قافلہ گزر رہا تھا۔ اس قافلے کے پاس ایک اونٹ بھی تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ اونٹوں کی تجارت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو وہ اونٹ پسند آگیا، تو آپ ﷺ نے قافلے والوں سے اس کا سودا کر لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کے پاس قیمت موجود نہ تھی، چنانچہ آپ ﷺ اونٹ لے کر چل دیئے اور فرمایا کہ “میں تھوڑی دیر میں اس کی قیمت بھجوا دیتا ہوں۔” قافلے والوں نے نہ آپ ﷺ کا نام پوچھا اور نہ کوئی پتہ لیا۔ جب آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوگئے تو قافلے میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ لوگ کہنے لگے:“ہم نے اونٹ دے دیا مگر اس شخص کا نام تک معلوم…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ شہرِ نُوران کے تخت پر ایک عظیم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ عقل و تدبر میں بے مثال اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کی سلطنت میں خوشحالی کا راج تھا، مگر اس کی خوشیوں کا اصل مرکز اس کی معصوم اور خوبصورت بیٹی شہزادی گلنار تھی۔ شہزادی کی پیدائش کے بعد، ماں کی ممتا کی چھاؤں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ملکہ کی اچانک وفات نے بادشاہ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا، مگر وہ بیٹی کی پرورش میں کوئی کمی نہیں آنے دینا چاہتا تھا۔ چند برس بعد، اس نے دوسری شادی کرلی۔ نئی ملکہ بظاہر خوش اخلاق اور شائستہ تھی، مگر درحقیقت وہ ایک چالاک اور سنگدل عورت تھی، جو جادوگری میں مہارت رکھتی تھی۔ یہ ملکہ ایک طلسمی آئینہ رکھتی تھی، جو نہ صرف ہر سوال کا سچ بتاتا بلکہ اس کے حسن کی برتری کی تصدیق بھی…

Read more

بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، تاجکستان کے خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس صرف ایک چھوٹا سا باغ تھا جس میں وہ اخروٹ کے درخت اگاتا تھا۔ کسان بہت صابر اور شکر گزار انسان تھا۔ایک سال فصل بہت اچھی ہوئی، تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ اخروٹ شہر جا کر فروخت کرے اور اس سے ملنے والے پیسوں سے اپنی بیمار بیوی کا علاج کروائے۔سفر اور ملاقاتراستے میں اسے ایک امیر تاجر ملا جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ کسان کی پوٹلی دیکھ کر تاجر سمجھ گیا کہ اس میں قیمتی اخروٹ ہیں۔ اس نے کسان سے پوچھا:“اے بوڑھے میاں! تمہاری اس پوٹلی میں کیا ہے؟”کسان نے سادگی سے جواب دیا: “بیٹے! اس میں میرے سال بھر کی محنت کا پھل ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس بار اخروٹ بہت میٹھے اور وزنی ہیں۔”لالچ کا انجامتاجر کے دل میں…

Read more

ایک کسان کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا۔ کسان نے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جو اس قدر وفادار تھا کہ کسان جب بھی کھیتوں میں کام کرنے جاتا، تو اپنے معصوم بچے کو اسی کی نگرانی میں چھوڑ جاتا۔ایک دن ایک نہایت المناک واقعہ پیش آیا۔ حسبِ معمول کسان اپنے بچے کو اس وفادار کتے کے پاس چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا۔جب وہ واپس لوٹا تو اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ بچہ اپنے پالنے میں موجود نہیں تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور پورے کمرے میں ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ خوف اور صدمے کے مارے کسان نے بدحواسی میں اپنے بچے کو ادھر ادھر تلاش کرنا شروع کر دیا۔اچانک اس کی نظر چارپائی کے نیچے سے نکلتے ہوئے اپنے کتے پر پڑی، جو خون میں لت پت تھا اور…

Read more

جون کی تپتی ہوئی رات تھی، حبس اتنا کہ پنکھا بھی گرم ہوا کے تھپڑے مار رہا تھا۔ اچانک ٹھاہ کی آواز آئی اور پورے محلے کی بجلی ایسے غائب ہوئی جیسے امتحان کے بعد طالب علم کے دماغ سے کتابی باتیں غائب ہو جاتی ہیں۔گھروں کے اندر دم گھٹنے لگا تو باری باری پورا محلہ اپنی اپنی چھتوں پر منتقل ہو گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں چھتیں آباد ہو گئیں اور اندھیرے میں صرف سگریٹ کی روشنیاں اور موبائلوں کی ٹارچیں نظر آنے لگیں۔سب سے پہلے آواز چوہدری صاحب کی چھت سے آئی: اوئے شیدے! تیرے گھر کی بھی گئی ہے کیا؟دوسری طرف سے آواز آئی: نہیں چوہدری صاحب! میں نے تو گھر میں سورج پال رکھا ہے، بس ویسے ہی اندھیرے میں تارے گن رہا ہوں!محلے کے لڑکوں نے موقع غنیمت جانا اور چھتوں پر ہی کرکٹ شروع کر دی۔ تایا جی جو نیچے گرمی سے بے حال…

Read more

ہندوستان کا عیاش، شرابی اور زانی بادشاہ محمد شاہ رنگیلا!یہ وہ مغل بادشاہ تھا جس کی رنگینیوں اور بداعمالیوں نے نہ صرف اس کی شخصیت بلکہ پوری سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ بادشاہ، جو شاہ جہاں ثانی کے بیٹے اور روشن اختر ناصر الدین شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1719 سے 1748 تک تقریباً 29 سال حکومت کرتا رہا۔ مگر اس کی حکمرانی نظم و ضبط، انصاف اور سنجیدگی کے بجائے عیش و عشرت، شراب نوشی اور بے حیائی سے بھرپور تھی۔ محمد شاہ رنگیلا مغلوں کے ان 19 بادشاہوں میں سے ایک تھا جس کی بری عادات اور کمزور حکمرانی نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ اس کی رنگینیوں، ناچ گانے، عریانیت اور شراب نوشی نے ریاستی نظام کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوئے اور سلطنت زوال کی طرف بڑھتی چلی گئی۔…

Read more

بہت عرصہ پہلے قازقستان کے ایک طاقتور خان (بادشاہ) نے محسوس کیا کہ اس کا آخری وقت قریب ہے۔ اس کے تین بیٹے تھے، اور وہ چاہتا تھا کہ تخت اس کو ملے جو سب سے زیادہ سمجھدار ہو۔ اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا:“میرے بیٹوں! اس وسیع میدان میں جاؤ اور میرے لیے سب سے قیمتی چیز لے کر آؤ۔ جو سب سے نایاب تحفہ لائے گا، وہی میرا جانشین ہوگا۔”شہزادوں کا سفربڑا شہزادہ: ایک دور دراز شہر گیا اور وہاں سے سونے اور ہیروں سے جڑا ایک خنجر لے آیا۔ اس کا خیال تھا کہ طاقت اور دولت سے بڑی کوئی چیز نہیں۔دربانی شہزادہ: ریشم کے تاجروں کے پاس گیا اور دنیا کا نفیس ترین لباس اور قالین لے آیا۔ اس کا ماننا تھا کہ شان و شوکت ہی بادشاہی کی علامت ہے۔سب سے چھوٹا شہزادہ: وہ گھوڑے پر سوار ہو کر دور دراز کے دیہاتوں…

Read more

قدیم زمانے کی بات ہے جب عظیم جرنیل اور عادل حکمران سلطان صلاح الدین ایوبی اسلامی دنیا کے بڑے سلطان تھے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر سپاہی تھے بلکہ علم و حکمت کے بھی قدر دان تھے۔ دور دور سے لوگ ان کے دربار میں سوالات اور مسائل لے کر آتے اور وہ ہمیشہ دلیل اور دانائی سے جواب دیتے۔ایک دن چار مشہور یہودی عالم سلطان کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ بڑے پڑھے لکھے اور بحث و مباحثے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ دربار میں آنے کے بعد انہوں نے سلطان سے کہا:“اے سلطان! ہم نے اسلام کے بہت سے احکام سنے ہیں۔ ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔”سلطان نے مسکرا کر کہا،“پوچھو، علم سوال کرنے سے ہی بڑھتا ہے۔”ان میں سے ایک عالم بولا:“آپ لوگ بکرے اور دنبے کو حلال کہتے ہیں مگر خنزیر کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اگر خنزیر اتنا ہی ناپاک اور غلیظ ہے…

Read more

ایک شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک اندھا آدمی رہتا تھا۔ وہ سادہ دل اور نرم مزاج تھا۔ لوگ اسے جانتے تھے اور اس کی مدد بھی کرتے تھے، مگر وہ اپنی زندگی خود گزارنے کا عادی تھا۔ ایک رات وہ کسی کام سے باہر نکلا۔ جاتے وقت اس کے ایک دوست نے اسے ایک جلتا ہوا چراغ دے دیا۔ اندھے آدمی نے حیران ہو کر پوچھا:“میں تو دیکھ نہیں سکتا، یہ چراغ میرے کس کام کا؟” دوست نے مسکرا کر کہا:“یہ چراغ تمہارے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے ہے… تاکہ وہ تمہیں دیکھ سکیں اور تم سے ٹکرائیں نہیں۔” اندھا آدمی چراغ لے کر چل پڑا۔ وہ آہستہ آہستہ گلیوں میں چل رہا تھا۔ چراغ کی روشنی اس کے اردگرد پھیل رہی تھی۔ لوگ دور سے اسے دیکھ لیتے اور راستہ بدل لیتے۔ کچھ دیر بعد اچانک ایک آدمی اس سے آ کر ٹکرا گیا۔ اندھا…

Read more

مصر کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک غریب لوہار رہتا تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ دن بھر بھٹی کے سامنے پسینہ بہاتا، لوہا پیٹتا اور بمشکل اپنے گھر کا خرچ چلاتا۔ مگر وقت بدل گیا۔ شہر میں کام کم ہونے لگا، لوگ نئے ہنر سیکھنے لگے، اور یوسف کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ کئی کئی دن ایسے گزرتے کہ اس کے گھر میں چولہا بھی نہ جلتا۔ایک دن وہ انتہائی پریشان ہو کر بیٹھا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ اس نے سوچا، “لوگ بیماریوں سے بہت پریشان رہتے ہیں، کیوں نہ میں حکمت سیکھ کر دواخانہ کھول لوں؟” حالانکہ اسے حکمت کا کوئی تجربہ نہ تھا، مگر حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا۔اگلے ہی دن اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا اور اس پر لکھ دیا:“حکیم یوسف — ہر بیماری کا علاج”شروع میں لوگ ہچکچاتے رہے، مگر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں سخت خشک سالی رہی   وادی کے خشک اور بے چین ہونے سے بہت پہلے، زمین کے تمام  جانوروں نے ایک عظیم باؤباب (Baobab) درخت کے نیچے جمع ہو کر اپنے مشترکہ سرمایے کے لیے محافظوں کا انتخاب کیا۔ندیاں سب کی تھیں۔سبزہ زار سب کے تھے۔اناج کے گودام اور پھلوں کے باغات سب کے تھے۔لیکن جانوروں کا خیال تھا کہ ایسے خزانوں کو محافظوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان کی نگرانی کے لیے ایک کونسل کا انتخاب کیا—ایسے چالاک جاندار جنہوں نے دانائی، نظم و ضبط اور خوشحالی کا وعدہ کیا۔لکڑ بگھوں نے جوش و خروش سے اپنی خدمات پیش کیں۔“ہم طاقتور ہیں،” انہوں نے کہا۔“ہم ذہین ہیں۔”اور سب سے اہم بات، انہوں نے پراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ اضافہ کیا، “ہم ‘مستقبل’ کی حفاظت کریں گے۔”جانوروں نے تالیاں بجائیں۔بکریاں، جو وادی کا سب سے بڑا حصہ تھیں، سب سے زیادہ شور…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

🦄** ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے*مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہآمدنی نہ تھا، گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا *اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا*اس جاگیردار نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کردیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتے ہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ھو،* مولوی صاحب نے اس زمین پر گندم کاشت کرلی۔ جب فصل ہری بھری ھوگئی تو مولوی بہت خوش ہوا* اسلیئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ھی بیٹھا رہتا اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا * لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے ان کو آن گھیرا گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا*مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیں…

Read more

بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟ کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔ بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔ شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔ بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔ جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ اپنے محل سے نکل کر اکثر شہر اور دیہات کا دورہ کیا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی رعایا کے حالات کو خود دیکھے اور سمجھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں اور وزیر کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر دیہات کی طرف جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک کمہار اپنے گدھوں کو ایک لمبی قطار میں لے جا رہا تھا۔ سب گدھے نہایت ترتیب سے، سیدھی لائن میں چل رہے تھے۔ نہ کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور نہ ہی کوئی ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔بادشاہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے اپنے گھوڑے کو روکا اور کمہار کو آواز دی۔“اے کمہار! ذرا ٹھہرو۔”کمہار فوراً رک گیا اور ادب سے جھک کر سلام کیا۔بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا“مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان…

Read more

تاریخ میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو صرف جنگی کامیابیاں نہیں بلکہ انسانی ذہانت، عزم اور غیر معمولی قیادت کی مثال بن جاتے ہیں۔ 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کی دیواریں ایک نوجوان سلطان کی غیر معمولی سوچ کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ قسطنطنیہ، جو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا، جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی مضبوط شہر تھا۔ اس کے ایک طرف بحیرہ مرمرہ، دوسری طرف باسفورس کی آبنائے اور تیسری جانب گولڈن ہورن کی قدرتی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے گرد مضبوط فصیلیں تھیں جو کئی صدیوں تک دشمنوں کے حملوں کو ناکام بناتی رہی تھیں۔ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو بازنطینیوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک خاص انتظام کیا۔ انہوں نے گولڈن ہورن کے داخلی راستے پر ایک بہت…

Read more

پانچویں صدی عیسوی میں جب یورپ مختلف سلطنتوں اور قبائل میں تقسیم تھا، ایک ایسا نام ابھرا جس نے پورے براعظم میں خوف اور دہشت کی علامت بن کر تاریخ میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ نام تھا اٹیلا دی ہن (Attila the Hun)۔ اسے اکثر “خدا کا عذاب” کہا جاتا تھا کیونکہ جہاں اس کی فوجیں پہنچتی تھیں وہاں تباہی اور خوف کی کہانیاں جنم لیتی تھیں۔ اٹیلا تقریباً 406 عیسوی کے قریب پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ہن (Huns) نامی ایک خانہ بدوش جنگجو قوم سے تھا جو وسطی ایشیا کے میدانوں سے نکل کر یورپ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہن گھڑ سواری اور تیر اندازی میں بے مثال مہارت رکھتے تھے۔ وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر حملہ کرتے اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیتے۔ اٹیلا کے چچا روگا (Rugila) ہن قبائل کے حکمران تھے۔ ان کی وفات کے بعد 434…

Read more

پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائےدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائےطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینواشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!(شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ) اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی راستہ ہے جس کے ذریعے تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور جب بھی خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید ایران اس راستے کو بند کر دے گا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک تک تیل نہیں پہنچ سکے گا۔ مگر اگر ہم اس معاملے کو صرف سیاسی یا معاشی زاویے سے دیکھیں تو شاید ہم اس کی اصل حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔…

Read more

100/104
NZ's Corner