Tag Archives: #urduquotes

ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت لالچی تھا۔ اس کے پاس اتنا سونا تھا کہ اس کے محل کے تہہ خانے بھرے ہوئے تھے۔ اتنا چاندی تھا کہ اس کے گوداموں میں جگہ نہیں بچی تھی۔ اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ اس کے خزانوں کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “اور چاہیے۔ مجھے اور چاہیے۔” اس نے اپنے وزیر سے کہا: “دنیا کا سب سے امیر آدمی کون ہے؟” وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ ہی دنیا کے سب سے امیر آدمی ہیں۔” بادشاہ نے کہا: “پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں؟” وزیر چپ رہا۔ اسے جواب نہیں معلوم تھا۔ ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک درویش آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ کپڑے۔ اس کے پاس صرف ایک ٹوٹی ہوئی چادر تھی اور ایک مٹی کا کٹورا۔ بادشاہ نے کہا: “تم بہت…

Read more

قدیم عرب کے ایک قصے کے مطابق، ایک طاقتور بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک ایسا عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا اور وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ عقاب ہمیشہ بادشاہ کے کندھے پر بیٹھتا اور شکار میں اس کا بہترین ساتھی ثابت ہوتا۔تلاشِ آبایک دن بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ تپش اتنی شدید تھی کہ مشکیزوں کا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر تنہا رہ گیا۔ پیاس کے مارے اس کا برا حال تھا اور وہ سائے اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔کافی دیر بعد اسے ایک پہاڑی کے دامن میں چٹان سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے خوشی سے اپنا پیالہ نکالا اور بڑی محنت اور صبر سے ان قطروں کو پیالے میں جمع…

Read more

ایک نوجوان تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ بہت ذہین تھا، بہت ہوشیار تھا۔ لوگ اس کی عقل کی تعریف کرتے تھے، اس کی چالاکی کی داد دیتے تھے۔ وہ ہر مسئلہ حل کر لیتا، ہر مشکل سے نکل جاتا، ہر جگہ کامیاب ہو جاتا۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ رات کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن اس کے دل میں خلاء تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، لیکن اس کی روح میں اندھیرا تھا۔ ایک دن وہ شہر سے باہر جنگل میں چلا گیا۔ وہاں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ یوسف اس کے پاس بیٹھ گیا اور بولا: “مجھے سکون چاہیے۔ میں نے سب کچھ پا لیا، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔” درویش نے کہا: “بیٹا! تیرے دماغ میں کون سی آواز ہے جو تجھے سکون نہیں لینے دیتی؟” یوسف نے کہا: “آواز؟ کون سی آواز؟” درویش نے…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے: حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔” شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔ اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟” لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ تین سوالوں کے جواب جان لے تو کبھی کامیابی سے محروم نہ ہوگا۔ وہ تین سوال تھے: 1. ہر کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟2. سب سے ضروری لوگ کون ہیں؟3. سب سے اہم کام کیا ہے؟ اس نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا کہ جو ان تین سوالوں کا جواب دے گا، اسے بہت بڑا انعام ملے گا۔ بہت سے عقلمند آئے۔ ان کے جوابات مختلف تھے۔ کسی نے کہا: “ہر کام کا وقت پہلے سے طے کر لو۔ ایک وقت نامہ بنا لو اور اس پر چلو۔”کسی نے کہا: “صحیح وقت کو پہچاننا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر وقت تیار رہو۔”کسی نے کہا: “اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھو۔ جو ہو رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرو۔” دوسرے سوال پر کسی نے کہا: “سب سے ضروری لوگ مشیر ہیں۔”کسی نے کہا: “پادری۔”کسی نے کہا: “ڈاکٹر۔”کسی…

Read more

حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں حماد بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ عجیب و غریب سوالات کے جوابات دریافت کیے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے نہایت حکمت سے یوں رہنمائی فرمائی: سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ بولتی ہے؟جواب: وہ جہنم ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا:هَلِ امْتَلَأْتِ“کیا تو بھر گئی؟”تو وہ کہے گی:هَلْ مِنْ مَزِيدٍ“کیا کچھ اور بھی ہے؟” سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ دوڑتی ہے؟جواب: وہ عصائے موسیٰ ہے، جو سانپ بن کر دوڑنے لگتا تھا۔ سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ سانس لیتی ہے؟جواب: وہ صبح ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ“قسم ہے…

Read more

ہر آنسو ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا ، کچھ جال ہوتے ہیںجنگل میں وہ چاندی کا واحد پیالہ بندر کی ملکیت تھا۔وہ ہر شام بلا ناغہ ندی پر جاتا اور اپنے بوڑھے والدین کے لیے پانی لاتا، جن کے ہاتھ اب اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ ایک لوٹا تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ وہ پیالہ کوئی دکھاوا یا غرور کی چیز نہیں تھی، بلکہ وہ ایک خاموش روزمرہ کی خدمت تھی جس نے دو ضعیف زندگیوں کو سہارا دے رکھا تھا۔وہ پیالہ دراصل زندگی کی بقا تھا۔ایک دوپہر لنگور (ببون) بھاگتا ہوا آیا۔ اس کے بال گرد آلود تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور آواز اس قدر کانپ رہی تھی کہ الفاظ بمشکل ادا ہو رہے تھے۔“میرا اکلوتا بیٹا پیاس سے مر رہا ہے،” وہ چلایا۔ “مجھے اپنا پیالہ ادھار دے دو۔ میں اپنے باپ کی قبر کی قسم کھاتا ہوں، سورج ڈھلنے سے پہلے واپس کر دوں گا۔”بندر…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی چار بیویاں تھیں۔ وہ ان سے مختلف انداز میں محبت کرتا تھا۔ پہلی بیوی سب سے زیادہ قریب تھی۔ اس کے ساتھ وہ ہر وقت رہتا، ہر بات کرتا، ہر خوشی بانٹتا۔ وہ اس کے لیے سب کچھ تھی۔ دوسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا، لیکن اتنی نہیں جتنی پہلی سے۔ وہ اس کے ساتھ بھی وقت گزارتا، لیکن کبھی کبھار۔ تیسری بیوی کو وہ کبھی کبھی یاد کرتا۔ اس سے اس کی ملاقات کم ہوتی تھی، لیکن وہ اس کی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا۔ چوتھی بیوی سب سے زیادہ دور تھی۔ وہ اس پر توجہ نہیں دیتا تھا۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا بھی کم تھا۔ لیکن وہ بیوی بہت وفادار تھی۔ وہ ہر کام کرتی، ہر تکلیف سہتی، اور کبھی شکایت نہیں کرتی۔ ایک دن بادشاہ بیمار ہو گیا۔ وہ مرنے لگا۔ اس نے اپنی سب سے پیاری بیوی …

Read more

سچائی اور محدود بصیرت: الو کی کہانی کچھ لوگ سچائی کو اس لیے رد نہیں کرتے کہ وہ غلط ہے، بلکہ وہ اسے اس لیے ٹھکراتے ہیں کیونکہ وہ ان کے محدود مشاہدے میں نہیں آتی۔ایک قدیم جنگل میں، الو کو سب سے دانا مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اس کی عنبر جیسی آنکھیں گہرے اندھیرے کو چیر سکتی تھیں۔ رات کے سائے میں کوئی چوہا اس سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ الو کے لیے اندھیرا خوفناک نہیں بلکہ جانا پہچانا اور یقینی تھا؛ یہی وہ دنیا تھی جسے وہ سمجھتا تھا۔لیکن جیسے ہی صبح ہوتی، سب کچھ بدل جاتا۔ 🌿جیسے ہی روشنی کی پہلی کرن پتوں سے چھن کر آتی، الو درخت کے کھوکھلے تنے میں چھپ جاتا اور درد کی وجہ سے آنکھیں بند کر لیتا۔ الو کے لیے دن کی روشنی خوبصورتی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا اندھیر کرنے والا خلا تھا جو ان تمام چیزوں کو مٹا…

Read more

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔ وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔” کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!” وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔ کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”…

Read more

ایک پتھر کا تراشہ تھا۔ وہ پہاڑ سے پتھر کاٹتا تھا، بڑے بڑے بلاک بناتا تھا، اور ان سے لوگوں کے گھر بناتا تھا۔ وہ اپنے کام سے مطمئن تھا۔ صبح اٹھتا، پہاڑ پر جاتا، پتھر کاٹتا، شام کو گھر آتا۔ اسے اپنے ہاتھوں کی طاقت پر بھروسہ تھا، اپنی محنت پر فخر تھا۔ ایک دن وہ کسی امیر آدمی کے گھر پتھر لگا رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امیر آدمی بڑے آرام سے بیٹھا ہے، اس کے پاس نوکر ہیں، کھانا ہے، پینا ہے، اسے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ پتھر کے تراشے نے سوچا: “کتنا اچھا ہوتا اگر میں بھی امیر ہوتا۔ مجھے بھی کوئی کام نہ کرنا پڑتا۔” اسی وقت ایک فرشتہ آسمان سے اترا۔ اس نے کہا: “تمہاری خواہش سن لی گئی۔ اب تم امیر ہو۔” اور پتھر کا تراشہ امیر بن گیا۔ اس کے پاس دولت تھی، محل تھا، نوکر تھے، باغ تھے۔…

Read more

‏یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو ‏محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔ حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے ‏جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی…

Read more

افریقہ کے گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ذہین تھا، کم از کم وہ خود کو ذہین سمجھتا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھنے میں ماہر تھا، پھل توڑنے میں ماہر تھا، شاخ سے شاخ چھلانگ لگانے میں ماہر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا حل اسے معلوم ہے۔ وہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ جب کوئی جانور کسی مشکل میں پھنستا، بندر فوراً دوڑ کر آتا اور اپنی رائے دیتا۔ کبھی وہ چیونٹی کو بتاتا کہ دانہ کیسے اٹھانا ہے، کبھی پرندے کو بتاتا کہ گھونسلا کیسے بنانا ہے۔ سب اس کی مدد کی تعریف کرتے تھے۔ ایک دن بندر دریا کے کنارے گیا۔ وہ ایک درخت پر بیٹھا پھل کھا رہا تھا کہ اس کی نظر دریا میں گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی پانی میں تیر رہی ہے۔ مچھلی خوش تھی، چھلانگیں لگا رہی تھی، پانی…

Read more

ہر چمکتی چیز اٹھانا محفوظ نہیں ہوتاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو خچر ایک ہی تنگ راستے پر سفر کر رہے تھے۔پہلے خچر پر سونے کے سکوں کے بھاری تھیلے لدے ہوئے تھے۔ اسے اپنے اس بوجھ پر بڑا فخر تھا۔ وہ اپنا سر اونچا کر کے چل رہا تھا اور جان بوجھ کر سکوں کو آپس میں ٹکراتا تاکہ ان کی جھنکار سنائی دے۔ اس کا ہر قدم گویا یہ کہہ رہا تھا، “مجھے دیکھو، دیکھو میں کتنا اہم ہوں۔”دوسرے خچر کے پاس اناج کے عام سے تھیلے تھے۔ وہ خاموشی سے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، پُرسکون اور ہر نظر سے اوجھل۔ نہ کوئی شور، نہ کوئی دکھاوا، اور نہ ہی کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت۔اچانک جھاڑیوں سے ڈاکوؤں کا ایک گروہ نکل آیا۔انہیں اناج میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کی نظریں سیدھی سونے والے خچر پر گئیں۔ انہوں نے اسے گھیر لیا، اسے بے…

Read more

کبوتروں کا ایک جوڑا فضا میں اڑ رہا تھا- نر نے اپنی مادہ سے کہا: “مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ اگر میں چاہوں تو اپنے پروں کے ایک ہی وار سے سمنےکھڑی عمارت کو گرا دوں-“ عمارت کی چھت پر ایک آدمی کھڑا تھا- اس نے کبوتر کو پاس بلایا اور کہا: “کیوں میاں! یہ شیخی کیوں بگھار رہے ہو؟” کبوتر نے فوراً کہا: “معاف کیجئے گا جناب! میں تو صرف کبوتری پر رعب جما رہا تھا- ورنہ میں کیا اور میری طاقت کیا؟” آدمی نے کہا: “خبردار! ایسا رعب آئندہ نہ جمانا- یہ اچھی بات نہیں ہے-“ کبوتر واپس آیا تو کبوتری نے پوچھا: “وہ آدمی کیا کہہ رہا تھا؟” کبوتر: “وہ آدمی میری منتیں کر رہا تھا کہ خدا کے واسطے میری عمارت نہ گرانا-“کیا انسانوں میں ایسے لوگ آپ نے دیکھے ہیں؟منقول

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک رعب دار شیر سنہری دھوپ میں آرام کر رہا تھا۔ اس کی نظر قریب ہی ایک گوبرہیلے (گندگی کے کیڑے) پر پڑی جو مٹی کے ایک گولے پر محنت کر رہا تھا۔شیر نے حقارت سے منہ بنایا: “بھاگ جا یہاں سے، اے حقیر مخلوق! تمہاری ہمت کیسے ہوئی بادشاہ کے قریب ایسی بو لانے کی؟ تم میرے پنجوں کے نیچے ایک معمولی ذرے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو۔”کیڑا خاموش رہا۔ اس نے بس انتظار کیا۔ جب چاند نکلا اور شیر گہری نیند سو گیا، تو کیڑے کو موقع مل گیا۔ وہ خاموشی سے رینگتا ہوا شیر کے کان میں داخل ہو گیا اور اپنے پر پھڑپھڑانے لگا، اور اپنے تیز پیروں سے کان کی حساس اندرونی دیواروں کو چھیڑنے لگا۔جنگل کا بادشاہ گھبرا کر جاگ اٹھا! وہ تکلیف سے دھاڑا اور بے بسی میں اپنے ہی سر پر پنجے مارنے لگا، لیکن…

Read more

مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر اپنی کتاب تزک بابری میں لکھتے ہیں کہ دریائے سوات کے قریب ہم نے یوسفزئی اور محمد زئی قبائل پر حملہ کیا.اس جگہ تیس چالیس سال پہلے شہباز نامی ملحد نے یہاں کے بہت سے لوگوں کو الحاد کے دام میں پھنسا دیا تھا اس ملحد کی قبر اسی جگہ پہاڑ کی چوٹی پر تھی.میں نے حکم دیا کہ اس ملحد کی قبر کو ڈھا دیا جائے یہاں سے دریائے سندھ کے قریب بھیرہ نامی جگہ پر حملہ کیا گیا.دریائے نیلاب کے دوسری طرف آباد لوگوں نے حاضری دی اور گھوڑے اور تین سو شاہ رخیاں نزر کیں. یہاں سے کچھ کوٹ نامی جگہ پہنچے دریائے کچھ کوٹ کو عبور کیا اور سنکدا پہنچ گئے.یہ راستہ بہت کٹھن تھا اور ہم کوہ جودا نامی پہاڑ پر پہنچے یہاں دو قومیں بستی ہیں جودہ اور جنجوعہ.جنجوعہ قوم یہاں کی حکمران ہے.یہاں کا ہر خاندان ہر…

Read more

ایک گاؤں میں نئی نئی بجلی لگی تو جیسے پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر گھر کے باہر بلب لگ گئے، بچوں نے تالیاں بجائیں، بوڑھوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور عورتوں نے سوچا اب رات کے کام آسان ہو جائیں گے۔ گاؤں کے لوگ سادہ دل تھے، مگر خوشی سے بھرپور۔مہینہ گزرا تو بجلی کا پہلا بل آیا۔ بجلی کمپنی کے دفتر میں جب پورے گاؤں کا ریکارڈ نکالا گیا تو سب حیران رہ گئے۔ پورے گاؤں میں ایک یونٹ بھی بجلی استعمال نہیں ہوئی تھی! افسران کو یقین نہ آیا، انہوں نے سمجھا شاید میٹر خراب ہیں یا کوئی تکنیکی خرابی ہے۔کمپنی نے فوراً ایک نمائندہ گاؤں بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے۔اگلے دن ایک پڑھا لکھا نوجوان نمائندہ گاؤں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ واقعی ہر گھر کے باہر بلب لگے ہوئے ہیں، تاریں کھینچی گئی ہیں اور…

Read more

80/104
NZ's Corner