Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…

Read more

جب طوفان حد سے بڑھ جائے، تو تجربہ ہی کام آتا ہے۔ یان نے پیٹر کو تو بچا لیا، مگر خود سمندر کی ایک ابدی کہانی بن گیا۔ ⚓️✨ضرور پڑھیں ہالینڈ کے پس منظر میں لکھی گئی یہ دل چھو لینے والی تحریر۔ ہالینڈ کے ایک دور افتادہ ساحلی گاؤں میں، جہاں ہوا کے دوش پر چلتی پرانی چکیاں آج بھی وقت کا پہیہ تھامے ہوئے محسوس ہوتی تھیں، “یان” نامی ایک معمر ملاح اپنی زندگی کی شامیں گزار رہا تھا۔ اس کے چہرے کی گہری لکیریں شمالی سمندر کی تند و تیز لہروں اور نمکین ہواؤں کے ساتھ عشروں کی رفاقت کا پتہ دیتی تھیں۔ یان کے پاس ایک چھوٹی سی لکڑی کی کشتی تھی جس کا نام اس نے ‘ایلسا’ رکھا تھا۔ گاؤں کے نوجوان ملاح اب جدید انجنوں اور مشینی جالوں کی مدد سے مچھلیاں پکڑتے تھے اور اکثر یان کی پرانی کشتی دیکھ کر مسکراتے، لیکن…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک انگریز، ایک ہندو اور ایک مسلمان چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ معاملہ چونکہ شاہی دربار کا تھا، اس لیے بادشاہ سلامت نے فیصلہ کیا کہ مثال قائم کی جائے۔ وزیروں کو حکم ملا کہ تینوں کو میدان میں لایا جائے اور شہر کے سب لوگوں کو بھی بلایا جائے تاکہ سب دیکھ لیں کہ دربار میں چوری کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔اعلان ہوا:“تینوں کو ڈیڑھ سو ڈیڑھ سو کوڑے مارے جائیں گے، اور سزا سے پہلے ہر ایک کی ایک خواہش بھی پوری کی جائے گی!” سب سے پہلے انگریز کو بلایا گیا۔ جلاد نے کوڑے سنبھالے تو بادشاہ نے پوچھا:“تمہاری خواہش؟”انگریز فوراً بولا:“میرے جسم پر نرم روئی باندھ دی جائے۔”بادشاہ نے اجازت دی۔ روئی باندھی گئی، کوڑے پڑے… مگر پھر بھی انگریز چیخنے چلانے لگا۔ اب باری آئی ہندو کی۔ اس نے انگریز کا حال دیکھ رکھا تھا، فوراً بولا:“میرے اوپر ڈبل…

Read more

عربی کی ایک مشہور حکایت ہے کہ کسی بستی کے لوگ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے بدنام تھے۔ اسی بستی کے ایک مرد اور عورت نے خفیہ طور پر، مگر شرعی تقاضوں کے مطابق قاضی اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیا۔کچھ عرصے بعد میاں بیوی میں ناچاقی ہوگئی۔ شوہر نے نہ صرف بیوی کو گھر سے نکال دیا، بلکہ اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کر دیا۔ خاتون انصاف کے لیے شہر کے قاضی کی عدالت میں پہنچی اور اپنی فریاد پیش کی۔قاضی نے کہا: “تمہارے اس نکاح کی تو کسی کو خبر ہی نہیں۔”خاتون نے اصرار کیا: “جناب! ہمارا نکاح عین شریعت کے مطابق ہوا تھا۔”قاضی نے پوچھا: “کیا کوئی گواہ ہے؟”خاتون نے جواب دیا: “جی قاضی صاحب! دو گواہ تھے، جن کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھایا گیا تھا۔”قاضی نے شوہر اور گواہوں کو طلب کر لیا، مگر انہوں نے بھری عدالت…

Read more

پنجاب کے ایک مشہور تاجر کی آخری وصیت تھی کہ اس کی قبر صرف رات کے وقت بنائی جائے۔ قبر تیار ہوئی تو قبر کنے سے ایک عجیب آواز آئی، جس نے سارے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔یہ واقعہ فیصل آباد شہر کے نواحی علاقے، جھنگ روڈ پر واقع “غازی آباد” نامی چھوٹے سے قصبے کا ہے۔ غازی آباد اپنی کپڑے کی ملیں اور دیہاتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس قصبے کے دل میں آباد تھے حاجی اللہ وسایا۔ حاجی صاحب کوئی عام آدمی نہیں تھے۔ ان کا شمار ضلع بھر کے بڑے کپڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ان کی “اللہ وسایا ٹیکسٹائلز” کی دکان اتنی بڑی تھی کہ اس میں ایک ہی بار میں بیس گاہک آسانی سے کپڑے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن حاجی صاحب کی شہرت ان کی دولت سے نہیں، بلکہ ان کی بے پناہ سخاوت اور عجیب و غریب عادات سے تھی۔حاجی صاحب…

Read more

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ، اسے توحید کی دعوت دو اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرو، تو وہ بے خوف ہو کر فرعون کے دربار میں پہنچے۔ حضرت موسیٰؑ نے فرمایا:“میں رب العالمین کا رسول ہوں، بنی اسرائیل کو میرے ساتھ آزاد کر دو۔” فرعون نے غرور سے کہا:“تمہارا رب کون ہے؟ اور تم اپنی سچائی کی کیا نشانی لائے ہو؟” اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰؑ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا، اور وہ ایک زندہ اور خوفناک سانپ بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو وہ روشن اور چمکتا ہوا سفید تھا۔ مگر تکبر میں ڈوبا ہوا فرعون ان واضح معجزات کو بھی جادو کہہ کر ٹال گیا۔ اس نے پورے مصر سے بڑے بڑے جادوگر جمع کر لیے۔ ایک عظیم تہوار کے دن، جب ہزاروں لوگ میدان میں جمع تھے، مقابلہ…

Read more

سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایاشام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان نے…

Read more

وہ جوان شیر جس نے بزرگوں کی بات نہ مانیبہت عرصہ پہلے کی بات ہے، جب تپتے سورج تلے گھاس کے میدانوں میں لمبی اور سنہری گھاس اگی ہوئی تھی، وہاں کیرون نامی ایک جوان شیر رہتا تھا۔ اس کی گردن کے بال ابھی گھنے ہونا شروع ہوئے تھے اور اس کا سینہ فخر سے چوڑا رہتا تھا۔کیرون طاقتور تھا—اپنی عمر کے بہت سے دوسرے شیروں سے زیادہ طاقتور—اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ہر شام، بوڑھے شیر ببول کے چوڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور پرانے طریقوں کی باتیں کرتے: شکار کب کرنا ہے، آرام کب کرنا ہے، اور کون سے راستے خطرناک ہیں۔ تمام چھوٹے شیر بڑے غور سے سنتے تھے۔مگر کیرون نہیں سنتا تھا۔وہ اپنی دم ہلاتا اور کہتا: “میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنوں؟ میری ٹانگیں تیز ہیں، میرے دانت نوکیلے ہیں۔ میں اپنا راستہ خود بناؤں گا۔”بزرگ شیروں نے خاموشی سے ایک دوسرے…

Read more

یہ ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ جب بنی اسرائیل کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ بخت نصر نامی ایک ظالم بادشاہ نے بیت المقدس پر حملہ کیا، بے شمار لوگوں کو قتل کیا، بہت سوں کو جلا وطن کیا اور ہزاروں کو قید کر لیا۔ شہر کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اور وہ ویران ہو کر رہ گیا۔ حضرت عزیر علیہ السلام بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب آپ قید سے آزاد ہوئے تو ایک دن اپنے گدھے پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے۔ شہر کی بربادی اور سنسانی دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا۔ ویرانی کا یہ عالم تھا کہ درختوں پر پکے پھل موجود تھے مگر توڑنے والا کوئی نہ تھا۔ اسی…

Read more

خشک سالی کی ماری ہوئی ایک وادی میں، جانوروں نے ایک بکرے کو قحط سے بچاؤ کی امداد کا نگران مقرر کیا۔ وہ بہت محنتی نظر آتا تھا، ہمیشہ سوچ سمجھ کر جگالی کرتا اور اس نے وعدہ کیا کہ جب تک بارشیں نہیں ہوتیں، وہ خوراک کے ذخیرے کی حفاظت کرے گا۔جانوروں نے اس پر بھروسہ کیا۔ گدھے نے اناج کی بوریاں گودام تک پہنچائیں، مرغیوں نے انڈے دیے اور گایوں نے دودھ فراہم کیا۔ بکرے کی ذمہ داری تھی کہ وہ یہ سامان بھوکے جانوروں میں برابری سے تقسیم کرے۔لیکن بکرے کی اپنی بھوک مٹتی نہیں تھی۔ ہر رات وہ دبے پاؤں گودام میں جاتا، اناج کھاتا، دودھ پیتا اور انڈے ہڑپ کر جاتا۔ جلد ہی اس کا پیٹ پھول کر بڑا ہو گیا جبکہ باقی جانور دبلے ہوتے گئے۔جب جانور اپنا حصہ لینے آئے تو بکرے نے بہانے بنانا شروع کر دیے:“چوہے چرا کر لے گئے۔”“ہوا اسے…

Read more

ایک ریاست تھی جس کا بادشاہ عقل، فہم اور تدبر میں مشہور تھا۔اس کے دربار میں خوشامد کی اجازت نہ تھی، چاپلوسی وہاں جرم سمجھی جاتی تھی۔بادشاہ کا یقین تھا کہ خوشامدی دیمک کی طرح ہوتے ہیں، جو ایک بار اقتدار کے گرد بس جائیں تو سچ، ضمیر اور حقیقت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اس کے گرد صرف وہ لوگ ہوتے تھے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے۔وزیر، مشیر اور اہلِ دربار جانتے تھے کہ یہاں تعریف نہیں، دلیل کام آتی ہے۔ بادشاہ کا ایک اصول تھا:اگر کوئی شخص عقل، ذمہ داری یا فہم میں غیر معمولی سمجھا جاتا، تو بادشاہ پہلے اس کا امتحان لیتا۔جو اس امتحان میں پورا اترتا، اسے ریاست کا اہم عہدہ سونپ دیا جاتا، تاکہ اس کی صلاحیتیں ریاست کے کام آ سکیں۔ ایک دن بادشاہ نے وزیروں سے سوال کیا:“کیا اس ریاست میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو عقل…

Read more

ایک دفعہ ملا نصر الدین کو شہر کے ایک بہت بڑے امیر آدمی نے کھانے کی دعوت دی۔ ملا اس وقت اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اسی پرانے اور پیوند لگے ہوئے لباس میں سیدھے دعوت پر چلے گئے۔جب وہ امیر آدمی کے دروازے پر پہنچے، تو دربان نے ان کے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور بڑی بدتمیزی سے دھکے دے کر باہر نکال دیا کہ “تم جیسے فقیروں کا یہاں کیا کام؟”ملا خاموشی سے وہاں سے چلے گئے، گھر پہنچے، غسل کیا اور اپنا بہترین زرق برق ریشمی جبہ پہنا، سر پر بڑی سی پگڑی سجائی اور دوبارہ اسی محفل میں پہنچے۔ اس بار دربانوں نے انہیں جھک کر سلام کیا اور بڑی عزت کے ساتھ اندر لے گئے۔جب ملا نے کھانے کو مخاطب کیامیزبان نے ملا کو سب سے اونچی نشست پر بٹھایا اور ان کے…

Read more

ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔”یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا کہ: “جی ہاں، طلاق ہو چکی ہے اور اب ملکہ آپ کی زوجہ نہیں رہیں۔”لیکن اس مجلس میں ایک نوجوان مفتی بھی موجود تھا، جو ایک طرف خاموش بیٹھا رہا۔ بادشاہ نے…

Read more

مکّہ کی پرانی گلیوں میں، جہاں صحرائی ریت عہدِ جاہلیت کے قصّے سنایا کرتی تھی، ایک شخص رہتا تھا جس کا نام عبد اللہ بن جدعان تھا۔ وہ بنو تیم کا سردار اور ابو بکر صدیق کے والد کا چچازاد تھا۔ عبد اللہ اپنی زندگی کے آغاز میں ایک نہایت غریب اور بے سہارا آدمی تھا۔ وہ بدحالی، برائیوں اور جرائم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، یہاں تک کہ اس کی قوم اور قبیلہ اس سے متنفر ہوگئے؛ بلکہ اس کے اپنے باپ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔ عبد اللہ تنہا، بھٹکتا ہوا، مایوسی سے بوجھل دل کے ساتھ مکّہ کی گھاٹیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ ایک دن جب وہ مکّہ کے گرد و نواح کے پہاڑوں میں چل رہا تھا تو اسے ایک پہاڑ میں ایک پراسرار دراڑ نظر آئی۔ تجسس کے باعث—یا شاید اپنی تکلیفوں کے خاتمے کی خواہش میں—وہ اس کے قریب گیا۔ اچانک…

Read more

ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…

Read more

  کچھ لوگ آپ کو اپنی جان بچانے کا موقع دیں گے… اور پھر پلٹ کر آپ ہی کو سبق سکھانے کی کوشش کریں گے۔ ایک دن ایک شیر جلدی جلدی اپنا کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک اس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی۔ وہ گھبرا گیا، سانس لینا مشکل ہو گیا اور دھاڑا:“جو بھی اس ہڈی کو نکالنے میں میری مدد کرے گا، میں اسے بہت بڑا انعام دوں گا!” اسی دوران ایک بگلا آگے بڑھا۔ نہ کوئی ڈرامہ کیا، نہ تقریر۔اپنی لمبی چونچ سے اس نے احتیاط کے ساتھ شیر کے حلق میں ہاتھ ڈالا اور سکون سے ہڈی باہر نکال دی۔ شیر دوبارہ سانس لینے کے قابل ہو گیا۔بگلے نے انعام کا تقاضا کیا جس کا وعدہ ہوا تھا۔شیر مسکرا کر بولا:“تم نے خطرے کے اتنے قریب آ کر اپنا کام کیا اور صحیح سلامت واپس چلے گئے۔کیا یہ تمہاری زندگی کا سب سے بڑا انعام…

Read more

بہت عرصہ پہلے، ایک چھوٹا لڑکا اپنے دوست سے بہت ناراض تھا کیونکہ اس نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ وہ اپنے دادا کے پاس گیا، جو اپنے سکون اور دانائی کے لیے مشہور تھے۔ لڑکے نے کہا،“دادا جان، میرے اندر ایک جنگ چل رہی ہے۔ میرا ایک حصہ مہربان بننا چاہتا ہے، لیکن دوسرا حصہ بدلہ لینے اور لڑائی کرنے پر تلا ہوا ہے۔” دادا نے دھیرے سے سر ہلایا اور کہا،“میں سمجھ سکتا ہوں۔ ہر انسان کے دل میں یہی جنگ چلتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے ہمارے اندر دو بھیڑیے رہتے ہوں۔” انہوں نے وضاحت کی: ایک بھیڑیا برا ہے، وہ غصے، حسد، لالچ اور جھوٹ سے بھرا ہوتا ہے۔ دوسرا بھیڑیا نیک ہے، وہ خوشی، امن، محبت اور ہمدردی سے لبریز ہوتا ہے۔ لڑکے نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر پوچھا،“لیکن دادا جان، جیت کس بھیڑیے کی ہوتی ہے؟” بوڑھے شخص نے مسکرا…

Read more

ایک بادشاہ کے دور میں ایک شخص نے اپنی دیوار کے نیچے خزانہ چھپا ہوا پایا۔جب بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے اسے بلا کر کہا:“میں نے سنا ہے کہ تمہیں خزانہ ملا ہے! مجھے کیوں نہ بتایا؟”اس شخص نے جواب دیا:“یہ مکان اور اس کا مال میری ملکیت اور میراث ہے، اور آپ عادل ہیں، زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔”بادشاہ نے کہا:“اچھا، اسے ہمارے سامنے لے آؤ، دیکھیں کس قدر ہے۔”وہ شخص تھوڑا سا خزانہ لے آیا، بادشاہ نے دیکھا اور اسے بخش دیا۔کچھ درباریوں نے کہا:“حضور، یہ تو اس کا چند حصہ بھی نہیں لایا، باقی سب چھپا رکھا ہے!”بادشاہ نے فرمایا:“خاموش رہو! مال اس کا ہے، چاہے چھپائے یا ظاہر کرے۔”اسی بادشاہ کے دور میں ایک اور شخص نے حویلی خریدی، اور مرمت کے دوران وہاں خزانہ ملا۔اس نے اسے مالکِ حویلی کے پاس واپس کرنے کی کوشش کی، لیکن مالک نے کہا:“میں نے حویلی بیچی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ صاحب اپنے دس گدھوں کو لے کر شہر کے بازار میں بیچنے جا رہے تھے۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ تیز تھی، اس لیے شیخ صاحب تھک گئے اور اپنے ایک گدھے پر سوار ہو گئے۔ باقی نو (9) گدھے ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔چلتے چلتے شیخ صاحب کو خیال آیا کہ کہیں کوئی گدھا ادھر ادھر نہ ہو گیا ہو، تو انہوں نے گدھے گننے کا فیصلہ کیا۔گدھے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین، چار… آٹھ، نو۔”شیخ صاحب پریشان ہو گئے! “ارے! یہ کیا؟ میرے تو دس گدھے تھے، یہ نو کیسے رہ گئے؟”وہ گھبرا کر فوراً گدھے سے نیچے اترے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، جھاڑیوں کے پیچھے جھانکا، مگر کوئی گدھا نظر نہیں آیا۔ پھر انہوں نے اطمینان کے لیے کھڑے ہو کر دوبارہ گنتی کی:…

Read more

میں نے اپنے 87 سالہ والد کو کچن میں پایا، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ پتیلی سے براہِ راست جما ہوا دلیا کھرچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے چولہا نہیں جلایا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ گیس بند کرنا نہ بھول جائیں—اور مجھے انہیں “شہر” کے کسی اولڈ ہوم  میں منتقل کرنے کا ایک اور بہانہ مل جائے۔میں نے ان کے ہاتھ سے پتیلی لے لی۔میں نے ضرورت سے زیادہ سختی سے کہا، “ابو، آپ نے اسے گرم کیوں نہیں کر لیا؟ میں نے آپ کو مائیکرو ویو خرید کر دیا تھا!”شہر سے یہاں تک کا سفر ٹریفک کی وجہ سے چار گھنٹے طویل ہو گیا تھا، اور میرا صبر پہلے ہی جواب دے چکا تھا۔انہوں نے میری طرف نہیں دیکھا۔ وہ بس فرش کی اس پرانی لینولیم (شیٹ) کو گھورتے رہے جو انہوں نے اس وقت خود بچھائی تھی جب میں پرائمری…

Read more

540/612
NZ's Corner