بلاعنوان۔۔۔😁!
بشیر صاحب کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب پپو میاں نے اعلان کیا کہ وہ اب دنیا داری چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ وجہ کوئی خاص نہیں تھی، بس پپو میاں لگاتار تین نوکریوں کے انٹرویو میں فیل ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دنیا انہیں سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔پپو میاں نے راتوں رات اپنے بال بڑھائے، گلے میں چار پانچ رنگ برنگے موتیوں والے دھاگے ڈالے اور ابا کی ایک پرانی ریشمی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر پیر پپو شاہ سرکار رکھ لیا۔محلے میں خبر پھیل گئی کہ بشیر صاحب کا بیٹا پہنچا ہوا بزرگ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے محلے کی ماسی برکتے آئی، جس کا بیٹا پڑھائی میں کمزور تھا۔ پپو میاں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور بولے:مائی! تیرے بیٹے پر کالے کواڈراٹک فارمولے…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بھیڑیوں کے ایک غول اور بھیڑوں کے ایک ریوڑ کے درمیان دشمنی طویل ہوتی چلی گئی۔ بھیڑیے مسلسل کسی موقع کی تلاش میں تھے، لیکن بھیڑوں کی حفاظت وفادار اور بہادر رکھوالے کتے (Sheepdogs) کر رہے تھے۔ جب بھی بھیڑیے حملہ کرتے، کتے شور مچا کر سب کو خبردار کر دیتے اور ان کا راستہ روک لیتے۔ اسی وجہ سے بھیڑیوں کے تمام منصوبے ناکام ہو رہے تھے۔ 🐺چنانچہ بھیڑیوں نے ایک میٹنگ کی اور اپنا ایک “سفیر” بھیڑوں کے پاس بھیجا، جس نے بڑے معصومانہ اور نرم انداز میں کہا:“پیاری بھیڑو! ہم ہر وقت اس تناؤ میں کیوں رہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اصل فسادی تو یہ رکھوالے کتے ہیں۔ یہ شور مچاتے ہیں، غصہ دکھاتے ہیں اور ہمیشہ بیچ میں مداخلت کرتے ہیں—اسی وجہ سے ہم ‘جوابی کارروائی’ پر مجبور ہو جاتے ہیں اور…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک ریاست تھی جس کا بادشاہ عقل، فہم اور تدبر میں مشہور تھا۔اس کے دربار میں خوشامد کی اجازت نہ تھی، چاپلوسی وہاں جرم سمجھی جاتی تھی۔بادشاہ کا یقین تھا کہ خوشامدی دیمک کی طرح ہوتے ہیں، جو ایک بار اقتدار کے گرد بس جائیں تو سچ، ضمیر اور حقیقت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اس کے گرد صرف وہ لوگ ہوتے تھے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے۔وزیر، مشیر اور اہلِ دربار جانتے تھے کہ یہاں تعریف نہیں، دلیل کام آتی ہے۔ بادشاہ کا ایک اصول تھا:اگر کوئی شخص عقل، ذمہ داری یا فہم میں غیر معمولی سمجھا جاتا، تو بادشاہ پہلے اس کا امتحان لیتا۔جو اس امتحان میں پورا اترتا، اسے ریاست کا اہم عہدہ سونپ دیا جاتا، تاکہ اس کی صلاحیتیں ریاست کے کام آ سکیں۔ ایک دن بادشاہ نے وزیروں سے سوال کیا:“کیا اس ریاست میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو عقل…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ ملا نصر الدین کو شہر کے ایک بہت بڑے امیر آدمی نے کھانے کی دعوت دی۔ ملا اس وقت اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اسی پرانے اور پیوند لگے ہوئے لباس میں سیدھے دعوت پر چلے گئے۔جب وہ امیر آدمی کے دروازے پر پہنچے، تو دربان نے ان کے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور بڑی بدتمیزی سے دھکے دے کر باہر نکال دیا کہ “تم جیسے فقیروں کا یہاں کیا کام؟”ملا خاموشی سے وہاں سے چلے گئے، گھر پہنچے، غسل کیا اور اپنا بہترین زرق برق ریشمی جبہ پہنا، سر پر بڑی سی پگڑی سجائی اور دوبارہ اسی محفل میں پہنچے۔ اس بار دربانوں نے انہیں جھک کر سلام کیا اور بڑی عزت کے ساتھ اندر لے گئے۔جب ملا نے کھانے کو مخاطب کیامیزبان نے ملا کو سب سے اونچی نشست پر بٹھایا اور ان کے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مکّہ کی پرانی گلیوں میں، جہاں صحرائی ریت عہدِ جاہلیت کے قصّے سنایا کرتی تھی، ایک شخص رہتا تھا جس کا نام عبد اللہ بن جدعان تھا۔ وہ بنو تیم کا سردار اور ابو بکر صدیق کے والد کا چچازاد تھا۔ عبد اللہ اپنی زندگی کے آغاز میں ایک نہایت غریب اور بے سہارا آدمی تھا۔ وہ بدحالی، برائیوں اور جرائم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، یہاں تک کہ اس کی قوم اور قبیلہ اس سے متنفر ہوگئے؛ بلکہ اس کے اپنے باپ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔ عبد اللہ تنہا، بھٹکتا ہوا، مایوسی سے بوجھل دل کے ساتھ مکّہ کی گھاٹیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ ایک دن جب وہ مکّہ کے گرد و نواح کے پہاڑوں میں چل رہا تھا تو اسے ایک پہاڑ میں ایک پراسرار دراڑ نظر آئی۔ تجسس کے باعث—یا شاید اپنی تکلیفوں کے خاتمے کی خواہش میں—وہ اس کے قریب گیا۔ اچانک…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
دُلا بھٹی۔۔۔⚔️!
سلطان سارنگ خان گکھڑ کے بعد، اب باری ہے پنجاب کے اس “باغی” ہیرو کی جس کا نام پنجاب کے لوک گیتوں، واروں اور داستانوں کا لازمی حصہ ہے پنجاب کے سورمے سیریز کی پانچویں قسط کے لیے سب سے موزوں اور مقبول ترین شخصیت دُلاَ بھٹی ہیں عبداللہ بھٹی پنجاب کا وہ رابن ہڈ ہے جس نے شہنشاہِ وقت کو للکارا اور اگر سارنگ خان نے شیر شاہ سوری کی مخالفت کی تھی، تو دُلا بھٹی نے مغل سلطنت کے سب سے طاقتور دور (شہنشاہ اکبر کے عہد) میں بغاوت کا علم بلند کیا دُلا بھٹی حقیقتاً عوامی ہیرو تھا سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ کسانوں اور مظلوموں کا مسیحا بھی تھا مغل شہنشاہ اکبر کے لگائے گئے نئے زرعی ٹیکسوں کے خلاف اس کی مزاحمت نے تختِ اکبر کو ہلا کر رکھ دیا تھا آج بھی پنجاب میں “لوہڑی” کا تہوار…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جعلی پیر صاحب کا معمول تھا کہ وہ صرف جمعرات کے دن اپنے مریدوں یا دیگر حاجت مندوں کو تعویذ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ جب فاؤنٹین پین نئے نئے ایجاد ہوئے تو پیر صاحب نے اسے بھی اپنی جملہ کرامات میں شامل کر لیا۔ وہ اس طرح کہ جمعرات کو وہ اپنے قلمدان کی روشنائی پھنکوا کر خالی دوات اپنے سامنے رکھ لیتے تھے۔ البتہ فاؤنٹین پین کو سیاہی سے بھر کر قلمد ان میں سجا لیتے تھے۔ غرض مند لوگ دور دور سے پاپیادہ تعویذ لینے آتے تھے۔ پیر صاحب کی خدمت میں نذرانہ پیش کر کے اپنی حاجت بیان کرتے تھے۔ پیر صاحب تعویذ لکھنے کے لیے فاؤنٹین چین کو دوات میں ڈبوتے تھے۔ اسے خالی پا کر قلم واپس رکھ دیتے تھے اور سرد آہ بھر کر افسوس کرتے تھے۔ ”او ہو آج تو سیاہی ختم ہے۔ خیر اگلی جمعرات کو آنا۔ تعویذ لکھ دوں…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر تنہا صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک انسان پر پڑی جو ریت میں دھنسا ہوا تھا۔ سردار فوراً گھوڑا روکا، نیچے اترا اور اس شخص سے ریت ہٹائی۔ وہ بے ہوش تھا، مگر جب سردار نے اسے ہلایا، تو وہ نیم ہوش میں بولا: “میری پیاس اتنی شدید ہے کہ میری زبان اور حلق خشک چمڑے کی طرح اکڑ چکے ہیں۔ اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا۔” سردار نے جلدی سے اپنی زین سے لٹکی ہوئی چھاگل نکالی اور اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر اس کی پیاس بجھائی۔ اجنبی نے سیر ہو کر پانی پیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “اے مہربان انسان، میرا گھوڑا کہیں بھاگ گیا ہے۔ کیا آپ مجھے کسی قریبی جگہ لے جا سکتے ہیں تاکہ میں اپنی سواری کا بندوبست کر سکوں؟” سردار نے خوش دلی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ رات جب حجاج بن یوسف نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تو پہلی بار آنکھوں سے آنسو نہیں، ہنسی نکل رہی تھی۔ کوفہ کی راتیں گرم تھیں۔ فرات کی نمی فضا میں پھیلی ہوئی تھی، اور حجاج بن یوسف اپنے محل کی چھت پر کھڑے دریائے فرات کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی عمر اب ساٹھ کے قریب تھی۔ داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، لیکن آنکھوں میں وہی تیزی تھی، وہی چمک جو لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دیتی تھی۔ آج وہ عجیب بے چین تھے۔ ان کے سامنے فرات کا پانی بہہ رہا تھا، اور اس پانی میں انہیں ابن اشعث کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ چہرہ جو سولی پر بھی مسکراتا رہا تھا۔ وہ آنکھیں جو موت کے وقت بھی نہیں جھکی تھیں۔ حجاج نے آہ بھری۔ پھر پیچھے مڑے تو شبیب بن عامر کھڑے تھے۔ شبیب نے کہا: “حجاج، تم پریشان ہو؟”…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک صحابیِ رسول رضیَ اللہُ عنہ ایک رات قرآنِ پاک کی تلاوت کررہے تھے۔قریب ہی گھوڑا بندھا ہوا تھا اورگھوڑے کے قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ سورہا تھا۔ قراءت جاری تھی کہ اچانک گھوڑا بِدکنے لگا صحابیِ رسول نے پڑھنابند کیا تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر کُودنے لگا ، دوبارہ چپ ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا تیسری مرتبہ پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اُچھلنےلگا، کہیں گھوڑا بچے کو کُچَل نہ دے اس لئے بچے کے قریب آکر اسے اٹھایاتو نظر آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھا کہ سائبان کی مانند کوئی چیز ہےجس میں بہت سے چراغ روشن ہیں۔ پھر صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تمہاری قراءت (سننے) کی وجہ سے قریب آگئی تھی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن ملا نصر الدین اپنے گھر کے باہر دھوپ سینک رہے تھے کہ ان کا ایک پڑوسی ہانپتا کانپتا آیا اور کہنے لگا:“ملا صاحب! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ آج کے لیے اپنا گدھا مجھے ادھار دے دیں، مجھے شہر سے کچھ ضروری سامان لانا ہے۔”ملا نصر الدین کا اس دن گدھا دینے کا بالکل موڈ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:“بھائی، میں تو خوشی سے دے دیتا لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں، میرا بیٹا اسے لے کر دوسرے گاؤں گیا ہوا ہے۔”پول کھل گیاابھی ملا کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ گھر کے پچھواڑے سے گدھے کے زور زور سے ہینگنے (ریں ریں) کی آواز آنے لگی۔ پڑوسی حیرت سے ملا کی طرف دیکھنے لگا اور بولا:“ملا صاحب! آپ تو کہہ رہے تھے کہ گدھا گھر پر نہیں ہے، لیکن یہ آواز تو صاف بتا رہی ہے کہ گدھا اندر…
احسان فراموشی اور طاقت کا توازن
کچھ لوگ آپ کو اپنی جان بچانے کا موقع دیں گے… اور پھر پلٹ کر آپ ہی کو سبق سکھانے کی کوشش کریں گے۔ ایک دن ایک شیر جلدی جلدی اپنا کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک اس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی۔ وہ گھبرا گیا، سانس لینا مشکل ہو گیا اور دھاڑا:“جو بھی اس ہڈی کو نکالنے میں میری مدد کرے گا، میں اسے بہت بڑا انعام دوں گا!” اسی دوران ایک بگلا آگے بڑھا۔ نہ کوئی ڈرامہ کیا، نہ تقریر۔اپنی لمبی چونچ سے اس نے احتیاط کے ساتھ شیر کے حلق میں ہاتھ ڈالا اور سکون سے ہڈی باہر نکال دی۔ شیر دوبارہ سانس لینے کے قابل ہو گیا۔بگلے نے انعام کا تقاضا کیا جس کا وعدہ ہوا تھا۔شیر مسکرا کر بولا:“تم نے خطرے کے اتنے قریب آ کر اپنا کام کیا اور صحیح سلامت واپس چلے گئے۔کیا یہ تمہاری زندگی کا سب سے بڑا انعام…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
بہت عرصہ پہلے، ایک چھوٹا لڑکا اپنے دوست سے بہت ناراض تھا کیونکہ اس نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ وہ اپنے دادا کے پاس گیا، جو اپنے سکون اور دانائی کے لیے مشہور تھے۔ لڑکے نے کہا،“دادا جان، میرے اندر ایک جنگ چل رہی ہے۔ میرا ایک حصہ مہربان بننا چاہتا ہے، لیکن دوسرا حصہ بدلہ لینے اور لڑائی کرنے پر تلا ہوا ہے۔” دادا نے دھیرے سے سر ہلایا اور کہا،“میں سمجھ سکتا ہوں۔ ہر انسان کے دل میں یہی جنگ چلتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے ہمارے اندر دو بھیڑیے رہتے ہوں۔” انہوں نے وضاحت کی: ایک بھیڑیا برا ہے، وہ غصے، حسد، لالچ اور جھوٹ سے بھرا ہوتا ہے۔ دوسرا بھیڑیا نیک ہے، وہ خوشی، امن، محبت اور ہمدردی سے لبریز ہوتا ہے۔ لڑکے نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر پوچھا،“لیکن دادا جان، جیت کس بھیڑیے کی ہوتی ہے؟” بوڑھے شخص نے مسکرا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ کے دور میں ایک شخص نے اپنی دیوار کے نیچے خزانہ چھپا ہوا پایا۔جب بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے اسے بلا کر کہا:“میں نے سنا ہے کہ تمہیں خزانہ ملا ہے! مجھے کیوں نہ بتایا؟”اس شخص نے جواب دیا:“یہ مکان اور اس کا مال میری ملکیت اور میراث ہے، اور آپ عادل ہیں، زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔”بادشاہ نے کہا:“اچھا، اسے ہمارے سامنے لے آؤ، دیکھیں کس قدر ہے۔”وہ شخص تھوڑا سا خزانہ لے آیا، بادشاہ نے دیکھا اور اسے بخش دیا۔کچھ درباریوں نے کہا:“حضور، یہ تو اس کا چند حصہ بھی نہیں لایا، باقی سب چھپا رکھا ہے!”بادشاہ نے فرمایا:“خاموش رہو! مال اس کا ہے، چاہے چھپائے یا ظاہر کرے۔”اسی بادشاہ کے دور میں ایک اور شخص نے حویلی خریدی، اور مرمت کے دوران وہاں خزانہ ملا۔اس نے اسے مالکِ حویلی کے پاس واپس کرنے کی کوشش کی، لیکن مالک نے کہا:“میں نے حویلی بیچی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
گیارھواں گدھا۔۔۔😄!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ صاحب اپنے دس گدھوں کو لے کر شہر کے بازار میں بیچنے جا رہے تھے۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ تیز تھی، اس لیے شیخ صاحب تھک گئے اور اپنے ایک گدھے پر سوار ہو گئے۔ باقی نو (9) گدھے ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔چلتے چلتے شیخ صاحب کو خیال آیا کہ کہیں کوئی گدھا ادھر ادھر نہ ہو گیا ہو، تو انہوں نے گدھے گننے کا فیصلہ کیا۔گدھے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین، چار… آٹھ، نو۔”شیخ صاحب پریشان ہو گئے! “ارے! یہ کیا؟ میرے تو دس گدھے تھے، یہ نو کیسے رہ گئے؟”وہ گھبرا کر فوراً گدھے سے نیچے اترے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، جھاڑیوں کے پیچھے جھانکا، مگر کوئی گدھا نظر نہیں آیا۔ پھر انہوں نے اطمینان کے لیے کھڑے ہو کر دوبارہ گنتی کی:…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
This is a very emotional and instructive story. A father’s dignity and a son’s sense of regret.
I found my 87-year-old father in the kitchen, his hands shaking as he tried to scrape the frozen porridge straight from the pan. He hadn’t turned on the stove. He was afraid he’d forget to turn off the gas—and I’d have another excuse to move him to some old home in “the city.”I took the pan from his hand.I said, more forcefully than necessary, “Abu, why didn’t you heat it up? I bought you a microwave!”The drive from the city had been four hours long because of traffic, and my patience had already paid off.He didn’t look at me. He just stared at the old linoleum floor he had laid when I was in elementary school.“Son, the buttons on it… they’re so small. The numbers are blurred now.”Something inside me snapped.In the past few months, I hadn’t seen them much. I kept telling myself that I was too busy with…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے۔ باپ کا وقار اور بیٹے کا احساسِ ندامت.
میں نے اپنے 87 سالہ والد کو کچن میں پایا، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ پتیلی سے براہِ راست جما ہوا دلیا کھرچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے چولہا نہیں جلایا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ گیس بند کرنا نہ بھول جائیں—اور مجھے انہیں “شہر” کے کسی اولڈ ہوم میں منتقل کرنے کا ایک اور بہانہ مل جائے۔میں نے ان کے ہاتھ سے پتیلی لے لی۔میں نے ضرورت سے زیادہ سختی سے کہا، “ابو، آپ نے اسے گرم کیوں نہیں کر لیا؟ میں نے آپ کو مائیکرو ویو خرید کر دیا تھا!”شہر سے یہاں تک کا سفر ٹریفک کی وجہ سے چار گھنٹے طویل ہو گیا تھا، اور میرا صبر پہلے ہی جواب دے چکا تھا۔انہوں نے میری طرف نہیں دیکھا۔ وہ بس فرش کی اس پرانی لینولیم (شیٹ) کو گھورتے رہے جو انہوں نے اس وقت خود بچھائی تھی جب میں پرائمری…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔😊!
جب آپ کو کنویں کی تہہ میں “پنیر کا ٹکڑا” نظر آئے تو فوراً خوشی نہ منائیں۔ آپ کو اس ‘سودے’ پر نہیں، بلکہ اس پلّی (چرخی) کے جال پر نظر رکھنی چاہیے جو کسی کے اس “خالی جگہ” کو بھرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ 🧀ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لومڑی پھسل کر گہرے کنویں میں گر گئی۔ خوش قسمتی سے اس کنویں میں دو بالٹیوں والا پلّی کا نظام تھا: جب ایک بالٹی نیچے جاتی تو دوسری اوپر آتی۔لومڑی اس بالٹی میں بیٹھ گئی جو اوپر کے قریب تھی۔ اس کے وزن نے بالٹی کو سیدھا نیچے تہہ میں پہنچا دیا۔ جب وہ گھبراہٹ میں وہاں سے نکلنے کا راستہ سوچ رہی تھی، تو وہاں سے ایک بھیڑیے کا گزر ہوا۔ بھیڑیے نے کنویں کے کنارے سے جھانکا اور پوچھا:“اے لومڑی! تم وہاں نیچے کیا کر رہی ہو؟”لومڑی نے تیزی سے سوچا اور کہا:“اوہ میرے دوست!…
بلاعنوان۔۔۔😁!
شیخ چلی کا شمار گاؤں کے سب سے زیادہ خواب دیکھنے والے انسانوں میں ہوتا تھا۔ وہ دن رات کچھ نہ کچھ انوکھا سوچتے رہتے، اور اُس سوچ کی بنیاد پر بڑے بڑے منصوبے بناتے۔ گاؤں والوں کو اُن کے خوابوں پر ہنسی آتی، لیکن شیخ چلی کو اپنے ہر خواب پر کامل یقین ہوتا۔ ایک دن وہ منڈی سے آٹے کی بوری خرید کر گدھے پر لاد کر گھر واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ان کے ذہن میں ایک زبردست خیال آیا۔ “اگر میں یہ آٹا بیچ دوں، تو اس سے جو پیسے آئیں گے اُن سے دو بکریاں خرید لوں گا۔ پھر ان بکریوں کے بچے ہوں گے۔ بچے بڑے ہوں گے، دودھ دیں گے، اور میں دودھ بیچ کر گائے خرید لوں گا۔ پھر گائے سے دودھ، دہی، مکھن، گھی۔۔۔ واہ واہ! میں تو امیر ہو جاؤں گا!” وہ خود کلامی کر رہے تھے۔اسی خواب میں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory