Tag Archives: ،urdublogs

کہتے ہیں، ایک دفعہ ایک سمندر کا مینڈک کنویں میں گر گیا تھا۔ وہاں اسکی ملاقات کنویں کے مینڈکوں سے ہوئی اور وہ ان سے کافی گھل مل گئی اور محض کچھ لمحوں میں انکی دوستی ہو گئی۔۔۔ کنویں کا مینڈک اس سے پوچھتا ہے کہ یار یہ “سمندر” آخر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ سمندر بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے….. یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک کنویں کا ایک لمبا چکر لگاتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی بڑا اور بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اس پر وہ کنویں کا مینڈک کنویں میں پہلے سے “بہت بڑا” چکر لگا دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے…. یہ سن کر وہ کنویں…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا: “! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔” مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: “اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی…

Read more

میں نے ایک بار اپنے دادا سے پوچھا، جن کی شادی کو 60 سال سے زیادہ ہو چکے تھے:“پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت کرتے رہنے کا راز کیا ہے؟”مجھے امید تھی کہ وہ بات چیت، بھروسے یا معاف کرنے جیسی کوئی بات کہیں گے۔اس کے بجائے، انہوں نے کمرے میں دوسری طرف بیٹھی میری دادی کی طرف دیکھا اور کہا:“تم پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت نہیں کرتے۔”اس جواب نے مجھے دنگ کر دیا۔پھر انہوں نے بات جاری رکھی:“وہ ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے۔ اور اگر تم یہ نہیں سیکھتے کہ جو انسان وہ بن رہی ہے اس سے محبت کیسے کی جائے، تو تم بالآخر اسے کھو دو گے۔”“جس عورت سے میں نے اپنے بیس کی دہائی کے شروع میں شادی کی تھی، وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ تیس کی عمر میں بنی۔ ماں بننے نے اسے بدل دیا۔ مشکل ادوار نے…

Read more

ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گانے گاتا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا۔ سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے بولنے کی آوازیں سڑک تک آ رہی تھیں۔تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اس پنجرے میں ایک شیر بند ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آ گیا۔ اندر بند شیر نے جب اس کو دیکھا تو رونی صورت بنا کر بولا۔’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ دیہاتی آدمی ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کر اور قریب آ گیا۔ تب شیر نے اس کی اور تعریف کر نا شروع کر دی۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے اور…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک لائق، تجربہ کار اور جنگ میں بہادری کے لیے مشہور فوجی کمانڈر تھا۔ اپنی ایک شاندار فتح کے بعد، بادشاہ نے محل میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں کھانے پینے کی فراوانی تھی اور جشن دیر رات تک جاری رہا.جشن ختم ہونے کے کافی دیر بعد، کمانڈر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ اندھیرا تھا اور تقریباً سنسان تھا۔ جب وہ ایک موڑ کے قریب پہنچا تو اس نے اچانک دیکھا کہ جھاڑیوں میں ایک چیتا گھات لگائے بیٹھا ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ جانور ابھی چھلانگ لگانے ہی والا ہے۔شراب کے نشے میں دھت ہونے کے باوجود، اس کی برسوں کی تربیت کام آئی۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، کمانڈر نے اپنا کمان نکالا، ترکش سے ایک تیر نکالا، پوری طاقت سے ڈور کھینچی اور تیر چلا دیا۔تیر اپنے نشانے پر جا لگا۔یہ یقین کرتے ہوئے کہ اس نے چیتے کو مار…

Read more

ایک بادشاہ اپنے عقل مند وزیر کے ساتھ اکثر سفر پر جایا کرتا تھا۔ وزیر ہر معاملے میں دانائی سے مشورہ دیتا اور آخر میں ایک جملہ ضرور کہتا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ کو کبھی کبھی یہ بات بہت ناگوار گزرتی۔ ایک دن دونوں شکار کے لیے جنگل گئے۔ اچانک جنگلی جانوروں نے حملہ کر دیا۔ کئی محافظ مارے گئے اور بادشاہ بھی شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک انگلی کٹ گئی۔ وزیر نے بادشاہ کو دیکھا اور حسبِ معمول کہا: “بادشاہ سلامت، جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔ “میری انگلی کٹ گئی، میں درد سے تڑپ رہا ہوں، اور تم کہتے ہو یہ بہتر ہے؟!” غصے میں بادشاہ نے وزیر کو ایک گہرے کنویں میں دھکا دے دیا اور اکیلا آگے بڑھ گیا۔ وزیر کنویں سے بھی یہی کہتا رہا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” کچھ…

Read more

ایک لڑکے کو ڈاکٹر پسند آ گئی… اب جناب کیا کرتے…؟ وہ اپنے بزرگ والد کو روز کسی نہ کسی بہانے ہسپتال لے جانے لگا۔والد بیچارے سمجھتے رہے کہ بیٹا کتنا خیال رکھتا ہے… اصل میں معاملہ کچھ اور ہی تھا! جس ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ انتہائی خوش اخلاق بھی تھی۔ہر مریض سے پیار سے بات کرتی، خاص طور پر اس لڑکے کے والد کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ ایک دن ڈاکٹر نے والد صاحب کو تھوڑا ڈانٹتے ہوئے کہا:“آپ دوائیاں وقت پر نہیں لیتے، اپنا خیال نہیں رکھتے!” یہ سن کر لڑکے کے دل میں لڈو پھوٹے…اس نے آہستہ سے اپنے والد کے کان میں کہا: “ابا… اگر یہ ڈاکٹر ہمارے گھر آ جائے نا… تو آپ کا کتنا خیال رکھے گی!” والد صاحب نے ایک لمحہ سوچا… پھر بولے: “بیٹا بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے…ابھی میری عمر ہی کیا ہے،…

Read more

ایک چینی بزنس مین کی کمپنی ایک عرصے تک سعودی عرب میں کام کرتی رہی تھی۔ بعد ازاں اس نے کمپنی کا انتظام اپنے بیٹے کے سپرد کیا اور خود چین واپس آ گیا۔اس کی خواہش تھی کہ زندگی کے آخری حصے میں اپنے وطن کے پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کا سہارا بنے۔ایک روز وہ چین کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی۔ وہ ایک معذور بزرگ خاتون کو ویل چیئر پر بٹھا کر لے جا رہی تھی۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے باوجود دونوں نے اپنے سروں اور جسم کو پلاسٹک کی بوریوں سے ڈھانپ رکھا تھا۔یہ منظر دیکھ کر بزنس مین رک گیا۔اس نے قریب جا کر ان کا حال پوچھا اور حیرت سے پوچھا:“اتنی شدید گرمی میں آپ دونوں نے پلاسٹک کی بوریاں…

Read more

ایک سلطنت کا بادشاہ بہت عقل مند مشہور تھا۔وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں سے ایسے سوال پوچھتا جن کا جواب صرف کتابوں میں نہیں، عقل میں چھپا ہوتا تھا۔ایک دن بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا:“جو شخص مجھے یہ بتا دے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔”دربار میں خاموشی چھا گئی۔کسی نے کہا، “لالچ۔”کسی نے کہا، “غصہ۔”کسی نے کہا، “غرور۔”بادشاہ کسی جواب سے مطمئن نہ ہوا۔اگلے دن ایک بوڑھا شخص دربار میں حاضر ہوا۔اس نے کہا:“بادشاہ سلامت! انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ سمجھنا ہے کہ وہ ہمیشہ درست ہے۔”بادشاہ نے پوچھا،“تم ایسا کیوں کہتے ہو؟”بوڑھے نے جواب دیا:“کیونکہ جو شخص اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے، وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں غلط فیصلے کر سکتا ہے۔”بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے اپنے وزیروں کی طرف دیکھا اور کہا:“آج سے میرے…

Read more

ایک مالدار تاجر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اسے چند ایسے لڑکوں کی صحبت مل گئی جو سارا دن آوارہ گردی، عیش و عشرت اور دوسروں کے پیسوں پر موج اڑانے میں مصروف رہتے تھے۔ وہ روز اسے اپنے ساتھ لے جاتے اور اس کی جیب سے اچھی خاصی رقم خرچ کروا دیتے۔ تاجر کئی دن خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر ایک دن اس نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور نرمی سے کہا: “بیٹا! انسان کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ اچھی صحبت انسان کو سنوار دیتی ہے اور بری صحبت اسے برباد کر دیتی ہے۔” بیٹا مسکرا کر بولا: “ابا جان! آپ میرے دوستوں کو نہیں جانتے۔ وہ میرے سچے دوست ہیں۔ اگر کبھی مجھ پر مشکل وقت آیا تو وہ سب سے پہلے میرے ساتھ کھڑے ہوں گے۔” تاجر نے کچھ دیر بیٹے کو دیکھا، پھر کہا:…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت پر ایک نیک دل، بہادر اور انصاف پسند راجا حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اپنے راجا سے بہت خوش تھی، کیونکہ اس کے دور میں ہر طرف امن، خوشحالی اور انصاف کا بول بالا تھا۔ راجا کے چار بیٹے تھے۔ وہ عمر رسیدہ ہو چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بعد تخت پر وہی بیٹا بیٹھے جو واقعی ایک اچھا حکمران بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک دن راجا نے چاروں راجکماروں کو دربار میں بلایا اور کہا: “میرے بچو! میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے جانشین کا انتخاب کروں۔ لیکن میں یہ فیصلہ عمر یا پیدائش کی بنیاد پر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو سب سے زیادہ سمجھدار، سچا اور قابل ثابت ہوگا، وہی اس سلطنت کا اگلا راجا بنے گا۔” چاروں راجکمار حیرت سے اپنے…

Read more

ایک بادشاہ کے دو خاص مصاحب تھے، مگر دونوں ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایک دن موقع پا کر ایک مصاحب نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے: “حضور! آپ کا دوسرا مصاحب بہت منحوس ہے۔ اگر کوئی شخص صبح اٹھ کر اس کا چہرہ دیکھ لے تو اسے پورا دن کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ میں نے خود کئی بار یہ بات آزمائی ہے۔ ایسا شخص آپ کی قربت کے قابل نہیں۔” بادشاہ نے مسکرا کر کہا: “اگر تم نے اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد کسی دن کھانا نہیں کھایا تو اس میں اس بے چارے کا کیا قصور؟ ممکن ہے اس دن تم کام میں ایسے مصروف رہے ہو کہ کھانے کا وقت ہی نہ ملا ہو۔” چغل خور نے فوراً کہا: “حضور! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اگر آپ کو یقین نہیں…

Read more

واٹسن نامی ایک لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک بھوکے بوڑھے نے آکر سوال کیا۔ سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں۔ کچھ کھانا ہو تو خُدا کی راہ میں دلوا دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دوزخ کو بھر لوں۔ “ واٹسن نے نہایت کراہت سے کہا۔ ”احمق بوڑھے ! یہ نانبائی کی دکان نہیں۔“ بوڑھے نے کہا۔ ”کچھ پیسے ہی دے دیجیے کہ بازار سے روٹی خرید لوں۔“ واٹسن بولا۔ بس اب تقریر بازی ختم کر کے فوراً دفع ہو جاؤ۔ ورنہ ابھی کتا مزاج پرسی کرے گا۔“ غریب خاموش ہو کر نہایت بے دلی کے ساتھ چلا گیا۔ لیکن واٹسن جوں ہی میز پر بیٹھا اُسے معلوم ہوا کہ کسی بے احتیاطی سے چائے مکھن اور میوے کو مٹی کا تیل لگ گیا ہے اور سب چیزوں…

Read more

کرائے کے مکان میں رہتے ہیں تو اوپر کے پورشن میں ایک اور فیملی رہتی ہے۔۔ پتا چلا کہ وہ دوسری کالونی میں شفٹ ہو رہے ہیں اور یہ مکان چھوڑ دیں گے۔۔کافی اچھے اور معقول لوگ ہیں۔۔ لیکن کچھ دنوں سے میں دیکھ رہا تھا کہ بندے کا انداز کافی سیریس سیریس سا تھا۔۔ آج اتوار ہونے کی وجہ سے میں دن میں کپڑے دھو کر تار پر ڈال رہا تھا تو وہ بندہ اوپر سے سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔۔ میں نے سلام کیا تو وہ رک گیا اور روکھے سے انداز میں جواب دیا۔۔ میں نے مکان کی شفٹنگ کا پوچھا تو بولا۔۔ “ہاں جا رہے ہیں ایک آدھ دن میں”۔۔ میں نے اس کے خشک لہجے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کچھ ناراض ناراض سے لگتے ہیں، کوئی ایشو ہے کیا۔۔؟ کہنے لگا۔۔”ہاں جی ایشو ہے”۔۔ میں نے کہا۔۔ “آپ مجھے بتانا پسند کریں گے”..…

Read more

بشار بن برد کا ایک گدھا مر گیا تو اس نے کہا:’’میرا گدھا قاضیوں سے بھی زیادہ سمجھ دار تھا؛ نہ اس سے کبھی کوئی لغزش ہوئی اور نہ کوئی خطا۔ اچانک، جب کہ کسی کو اس کے بیمار ہونے کا گمان بھی نہ تھا، وہ بیمار پڑا اور مر گیا۔پھر میں نے اسے خواب میں دیکھا تو اس سے کہا: کیا میں تیرے لیے جو صاف نہ کیا کرتا تھا؟ اور تیرے لیے پانی ٹھنڈا نہیں کرتا تھا؟ پھر تیری موت کا سبب کیا ہوا؟ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب تم مجھے دوا فروش، یعنی عطار، کے پاس لے کر کھڑے ہوئے تھے؟میں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: اسی وقت ایک گدھی وہاں سے گزری، تو میں اس پر فریفتہ ہوگیا اور اس کی محبت میں مر گیا۔بشار نے کہا: میں نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس بارے میں کچھ شعر بھی کہے تھے؟اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جس کے پاس دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی نعمت تھی جو خریدی نہ جا سکتی ہو۔ محل سنگِ مرمر سے بنا تھا، فرشوں پر ریشم بچھا تھا، خواب گاہ میں نرم ترین بستر، خوشبودار عطر، قیمتی پردے اور ہر وہ آسائش موجود تھی جسے انسان سکون کا نام دے سکتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اسی محل میں ایک ایسی چیز نہیں تھی جس کے لیے بادشاہ ترس رہا تھا: نیند۔ رات آتی تو محل کی روشنیاں بجھ جاتیں، پہرے دار اپنی جگہ سنبھال لیتے، خادم خاموشی سے دروازے بند کر دیتے، مگر بادشاہ کی آنکھوں سے نیند کو جیسے کوئی پرانی دشمنی تھی۔ وہ کروٹ بدلتا، پھر دوسری کروٹ، کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی کھول دیتا۔ کبھی نرم تکیے پر سر رکھتا، کبھی بستر بدلوا دیتا۔ کبھی طبیب بلاتا، کبھی حکیم، کبھی دور دراز کے ملکوں سے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…

Read more

ایک انگریز کو بچپن سے ہی عجیب سا خوف تھا کہ جب بھی وہ سوتا ہے، اس کے بیڈ کے نیچے کوئی نہ کوئی ضرور چھپا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، وہ بڑا ہوگیا، مگر اس کا خوف ختم نہ ہوا۔ آخرکار تنگ آ کر وہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس پہنچا اور بولا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی علاج کریں، ورنہ میں اس خوف سے پاگل ہو جاؤں گا!” ماہرِ نفسیات نے کہا:“بالکل علاج ہو سکتا ہے۔ ہفتے میں تین دن میرے پاس آنا ہوگا، ایک سال میں آپ کا مسئلہ گارنٹی کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔” انگریز نے پوچھا:“فیس کتنی ہوگی؟” ڈاکٹر نے کہا:“200 ڈالر فی وزٹ۔” انگریز بولا:“ٹھیک ہے، میں سوچ کر بتاتا ہوں۔” تقریباً ایک سال بعد ایک تقریب میں دونوں کی ملاقات ہوگئی۔ ماہرِ نفسیات نے حیرت سے پوچھا:“ارے! تم میرے پاس علاج کے لیے آئے ہی نہیں؟” انگریز مسکرا کر بولا:“میرا مسئلہ تو میرے ایک…

Read more

ایک غریب آدمی کو کسی ضروری کام سے کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔ غریب نے ساہوکار پر بھروسہ کیا، اس لیے نہ کوئی رسید لی اور نہ کسی کو گواہ بنایا۔ چھ ماہ بعد جب وہ واپس آیا تو سیدھا ساہوکار کی دکان پر پہنچا۔ اس نے کہا:“سیٹھ جی! میری امانت واپس کر دیں۔” ساہوکار نے حیرت کا ڈرامہ کرتے ہوئے کہا:“کون سی امانت؟ میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!” غریب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ منت سماجت کرتا رہا:“سیٹھ جی! اللہ کے واسطے، میرے ایک ہزار روپے واپس کر دیں۔ میں نے آپ ہی کے پاس رکھوائے تھے۔” مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔ غریب کئی دن تک اس کی دکان کے چکر لگاتا رہا، مگر ہر بار…

Read more

300/839
NZ's Corner