Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے۔کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا:“تم نے اُس شخص کو کیسے بیچ دیا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟” چرواہا بس اتنا بولا: اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا۔ برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔نپولین نے انہیں بلا کر کہا: مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہےجس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کےطور پر یاد رکھے،جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونےکے…

Read more

حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب”نوح” اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔…

Read more

جنگل کے شیروں نے ایک گدھے کو یقین دلایا تم ہم میں سے ہو. جیسے ہم جنگل کے بادشاہ ہیں ایسے ہی تم بھی بادشاہ ہو. گدھا واپس اپنی برادری میں آیا اور اعلان کیا وہ گدھوں کا بادشاہ ہے. شیروں کے ڈر سے گدھوں نے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا. لیکن اب ہر چند دن بعد شیر اس گدھے کے مہمان بنتے اور بادشاہ سلامت صحت مند گدھے ان کی ضیافت میں پیش کر دیتے. کچھ عرصے میں ہی گدھے پریشان ہو گئے. بادشاہ سلامت سے دور دور رہنے لگے. اگلی دفعہ جب شیر آئے تو بادشاہ سلامت تو موجود تھے گدھوں کا ریوڑ لیکن غائب تھا. شیروں نے پوچھا دوست یہ کیا ماجرا ہے.؟ شیر نے اپنی قوم کی جہالت اور بغاوت کا قصہ سنایا. شیروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا اب یہ بادشاہ ہمارے کسی کام کا نہیں. ہمیں دوسرا بادشاہ دیکھنا ہوگا جس پر…

Read more

ایک یہودی کا گزر مسلمانوں کی ایک بستی سے ہوااس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیںان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک و شبہاتپیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کر دوں بستی میں داخل ہو نے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئییہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کیابتدا کی جائے اور اس چرواہے کے دل و دماغ میںاسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جائے یہودینے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمانمسافر ہوںباتوں ہی باتوں میں یہودی کہنا لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کےلیے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہقرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہےلیکن قرآن میں بےشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں بار بار دہرانے کی کیا ضرورت ہےاگر متشابہات جو نکال دیا جائے تو قرآن…

Read more

#شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔ اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔ آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔ یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار تنہا صحرا میں جارہا تھا، سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے، سردار نے گھوڑا روکا، نیچے اترا، اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی، تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا ، سردار نے اسے ہلایا جلایا تو، وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا، پیاس سے میرا حلق اور میری زبان کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے، اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا، سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے اجنبی دکھائی دینے والا شخص ، جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ، پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے، اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکی ہوئی چھاگل…

Read more

یورپی ادب سے ماخوذ  کہانیایک زمین دار تھا، بہت امیر۔ گاؤں کی ساری اچھّی اور زرخیز زمینیں اس کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے سرے پر ایک ٹکڑا ایسی بنجر زمین کا تھا جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ زمیں دار نے سوچا، اس زمین سے کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں، کیوں نہ اسے کسی غریب کسان کو دے کر اس پر احسان جتایا جائے۔ اگر اس کی محنت سے زمین اچھّی ہو گئی اور فصل دینے لگی تو پھر واپس لے لوں گا۔ زمین دار کے پاس بہت سے کسان کام کرتے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسا کسان چنا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اگر کبھی زمین واپس لینی پڑے تو چپ چاپ واپس کر دے گا۔ زمیں دار نے کسان کو بلایا اور کہا ”میں اپنی زمین کا وہ ٹکڑا جو ٹیلے کے پاس ہے، تمہیں دیتا ہوں۔ میرا اس سے اب…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے جمعہ کا دن تھا خطیب صاحب ذرا لیٹ ہو گئے تو ایک دیوانہ ممبر پر خطبہ دینے پہنچ گیا۔لوگوں نے اسے نیچے اتارنے کی کوشش کی مگر ایک ذمہ دار شخص نے انہیں منع کر دیا۔مجنون ممبر پرچڑھا اور خطبہ دینے لگا:“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سب کو دو (ماں اور باپ) سے پیدا کیا اور دو (جنسوں مرد و عورت) میں تقسیم کیا۔ پھر ان میں سے کچھ کو مالدار بنایا تاکہ خدا کا شکر بجا لائیں اور کچھ کو فقیر چھوڑا تاکہ صبر کریں،مگر نہ تو امیر لوگ شکر کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی فقیر صبر کرتے دکھائی دیتے ہیں،سب پر خدا کی لعنت ہو…نماز جمعہ کے لیے صفیں سیدھی کر لو منافقو…! منقول دیوانہ انجانے میں ایسی بات کر گیا کہ روح تک جھنجھوڑ کر رکھ گیا۔ ہم ہیں وہ مسلمان جو بات تو اللہ پر ایمان…

Read more

میری دادی ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ۔کسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں دو عورتیں رہا کرتی تھی ان دونوں عورتوں کی گائے نے ایک ہی دن بچہ دیا۔ ایک عورت کی گائے نے بچھڑا دیا جب کہ دوسری کے ہاں بچھڑی کی پیدائش ہوئی۔ جس عورت کے ہاں بچھڑا پیدا ہوا اس نے اب راتوں رات اپنے بچھڑے کو دوسری عورت کی بچھڑی کے ساتھ تبدیل کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں بچھڑا بچھڑی بڑے ہوتے گئے۔ جب بچھڑی بڑی ہو کر گائے بنی تو وقت آنے پر اس نے بھی بچہ جنا۔  پہلے زمانے میں رواج ہوتا تھا کہ گاؤں میں گائے کے پہلے دودھ سے بنی “بولی” ایک دوسرے کے گھر تحفے کے طور پر بھیجی جاتی تھی۔ اس عورت نے دوسری عورت کے گھر جب وہ بولی بھیجی تو اسے کھاتے ہی دوسری عورت نے فورا کہا کہ یہ گائے تواس کی…

Read more

یہ واقعہ جب تاریخ کے اوراق میں بکھرا ہوا ملتا ہے تو سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ اور عثمانی سلطنت کے درمیان تعلقات کسی ایک سرحد یا ایک مسئلے تک محدود نہ تھے۔ بحیرہ روم سے لے کر بلقان، اناطولیہ سے لے کر ہنگری کے میدانوں تک، طاقت کا ایک خاموش مگر شدید مقابلہ جاری تھا۔ عثمانی سلطنت اس وقت محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک منظم ریاست، مضبوط معیشت، قانون، انتظامیہ اور مذہبی مرکزیت کی حامل تھی۔ سلطان سلیمان بن سلیم، جسے تاریخ نے القانونی کا لقب دیا، تخت نشین ہو چکا تھا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس کے قلم اور تلوار دونوں کو یکساں احترام حاصل تھا، جو جنگ سے پہلے قانون دیکھتا اور فتح کے بعد نظم قائم کرتا تھا۔دوسری جانب ہنگری کی سلطنت تھی جو جغرافیائی لحاظ سے یورپ اور عثمانی دنیا کے درمیان ایک دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ ہنگری صرف ایک…

Read more

ایک چیونٹیوں کے بل میں ایک ننھی سی چیونٹی رہتی تھی۔ وہ نہ سب سے طاقتور تھی، نہ سب سے تیز، نہ سب سے زیادہ عقل مند۔ لیکن اس میں ایک ایسی خوبی تھی جو اسے سب سے منفرد بناتی تھی۔ وہ کبھی کسی کے دکھ کو نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ اگر کوئی چیونٹی تھک جاتی اور دانہ نہ اٹھا پاتی تو وہ مدد کرتی۔ اگر کوئی لڑکھڑا جاتی تو اسے سہارا دیتی۔ جب بارش سرنگیں گرا دیتی تو سب سے پہلے وہی دوڑ کر انہیں دوبارہ بنانے لگتی۔ وقت کے ساتھ باقی چیونٹیاں اس کی عادی ہو گئیں۔ وہ ہمیشہ موجود ہوتی تھی۔ کوئی دانہ گر گیا؟ وہ اٹھا لیتی۔ کام پیچھے رہ گیا؟ وہ پورا کر دیتی۔ کوئی تھک گیا؟ وہ اپنا کندھا پیش کر دیتی۔ مگر کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا: “اور تم… کیا تم بھی تھک گئی ہو؟” ہر دن…

Read more

ریگستان کا وعدہ پرانے عرب کے ریگستان میں، جہاں دن آگ برساتا اور راتیں خاموشی اوڑھ لیتی تھیں، ایک قبیلہ آباد تھا جسے بنو سالم کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا نعمان۔ وہ بہادر تھا، تلوار چلانا جانتا تھا، مگر اس کی اصل پہچان اس کی امانت داری تھی۔ایک دن قبیلے کے سردار نے نعمان کو بلا کر کہا۔“اے نعمان، یہ سونے کے سکے ہیں۔ انہیں دوسرے قبیلے کے سردار تک پہنچانا ہے۔ راستہ طویل ہے، اور خطرات سے بھرا۔” نعمان نے سکوں کی تھیلی تھامی، آنکھیں جھکائیں اور کہا۔“اے سردار، جان چلی جائے تو جائے، مگر امانت میں خیانت نہیں ہوگی۔” نعمان اپنے اونٹ پر روانہ ہوا۔ دن ڈھلنے لگا تو ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے ایک زخمی مسافر ملا۔ وہ پیاس سے نڈھال تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ “اے مسافر، اگر پانی نہ ملا تو جان چلی جائے گی۔”نعمان…

Read more

بادشاہ سکندر لودھی کے زمانے میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ایک دن قسمت نے یاوری کی اور کہیں سے انہیں دو قیمتی لعل ہاتھ لگ گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک ایک لعل آپس میں بانٹ لیا۔ لعل ملنے پر چھوٹے بھائی نے خوشی سے کہا:“اب میں نوکری نہیں کروں گا۔ اس لعل کو بیچ کر تجارت شروع کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔” یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا:“بھیا! میرے حصے کا لعل بھی لیتے جاؤ۔ اپنی بھاوج کو دے دینا۔ میں ابھی نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔” چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے بھائی والا لعل بھاوج کو دینے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنا کام دھندا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا۔ اس نے…

Read more

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام “طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں “چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد “ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی “چلیپا” اور “تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی دور افتادہ علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ فگن رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن، ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور للکار کر یہی سوال دہراتا:“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور پھر حسبِ روایت، وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں اتر چکا تھا۔خوف کا دنآج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے لرز رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر…

Read more

ایک حکیم نے اپنے جوان بیٹے کو فجر کی نماز کے لیے جگایا۔ جب وہ دونوں مسجد کی طرف نکلے تو پورے شہر میں ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دونوں نے مسجد پہنچ کر باجماعت نماز ادا کی۔جماعت میں نمازیوں کی تعداد تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ نماز کے بعد وہ دونوں اشراق تک عبادت اور ذکرِ الٰہی میں وقت گزارتے رہے۔جب اشراق کی نماز کے بعد باپ اور بیٹا مسجد سے باہر نکلے تو دیکھتے ہیں کہ دنیا جاگ رہی ہے اور ہر طرف لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔یہ منظر دیکھ کر جوان شخص کو بہت دکھ ہوا اور بولا،“ابو جان، دیکھیں کتنے بدنصیب لوگ ہیں! یہ سب دنیا کی فکر میں مشغول ہیں، لیکن آخرت کی کوئی فکر نہیں۔ نماز کے وقت نیند نہیں چھوڑ سکتے، مگر ایک گھنٹے بعد دنیا کے حصول کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے ہیں۔” یہ سن کر…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ کا سب سے بہادر جاسوس کون تھا؟ وہ جس نے 40 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج میں گھس کر سپہ سالار کے خیمے تک رسائی حاصل کی… یہ ہے ان کی کہانی:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سات افراد کو فارسیوں (ایران) کی خبریں لانے کے لیے روانہ کیا اور حکم دیا کہ اگر ہو سکے تو ان کا ایک آدمی قید کر کے لائیں۔ابھی یہ سات افراد نکلے ہی تھے کہ اچانک انہوں نے فارسی لشکر کو اپنے بالکل سامنے پایا (حالانکہ ان کا خیال تھا کہ دشمن ابھی دور ہے)۔ ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے، لیکن ان میں سے ایک مردِ مجاہد نے واپسی سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنا مشن پورا کیے بغیر نہیں جائیں گے۔چنانچہ چھ ساتھی واپس لشکرِ اسلام کی طرف لوٹ گئے، جبکہ ہمارے ہیرو تنِ تنہا ایرانی فوج…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک عالمِ دین بغاوت کے الزام میں جیل چلے گئے۔ جب جمعے کا دن آتا تو وہ نہا دھو کر، تیل کنگھی کر کے تیار ہو جاتے اور بےچینی سے انتظار کرتے۔ جونہی جمعے کی اذان ہوتی، وہ تیز قدموں سے جیل کے مین گیٹ کی طرف بڑھتے۔ پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں تھام کر سنتے، پھر بوجھل قدموں اور افسردہ چہرے کے ساتھ، آنسو پونچھتے ہوئے واپس اپنی بیرک میں آ جاتے۔ گیٹ پر مامور جیلر، جو غیر مسلم تھا، کافی عرصے سے اس عالمِ دین کا یہ معمول دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ ضبط نہ کر سکا۔ اس نے عالمِ دین کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا: “تم ہر جمعے یہ کیا کرتے ہو؟ تیار ہو کر گیٹ تک آتے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ جیل کا دروازہ تمہارے لیے بند ہے اور تم باہر نہیں جا سکتے۔…

Read more

بڑھتی سردی میں ایک بار پھر پیشِ خدمت ہے…چکن سوپ عرف مُرغی کا جُوس😅😅😅دنیا میں جتنی بھی چیزوں سے جُوس نکالا جاتا ھے اُن میں سب سے زیادہ جوس پاکستان میں ”مُرغی“سے نکالا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک مُرغی سے تقریباً 450 بیرل یا 2500 گیلن یعنی دس ہزار لیٹر تک جوس کشید کیا جا سکتا ہے۔امکان غالب ہے کہ مستقبل قریب میں اس کو برآمد کر کے اچھا خاصا زرِمبادلہ کمایا جا سکتا ھے. یہ دنیا کا واحد جُوس ہے جو گرم کر کے پیا جاتا ہے۔ مگر اب تو لوگ ماڈرن ہو گئے ہیں اور اب اسے یخنی یا سُوپ کے نام سے پکارتے ہیں۔البتہ پرانے زمانے میں ریڑھی والے بڑے فخر سے لکھواتے تھے”طاقت کا خزانہ ٠٠٠٠مرغی کا جوس“دراصل یہ وہ پانی ہوتا ہے جس سے مُرغی کی میت کو مسلسل تین دن تک غسل دیا جاتا ہے اور ہمارے ملک کے…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، جب فریج عام نہیں تھے۔ایک دیہاتی دوسرے دیہاتی کے ہاں گیابرآمدے میں ہی فریج پڑی تھی۔ مہمان چھوٹتے ہی بولا:“ایسی الماری ہمارے گھر بھی ہے، میرے بیٹے نے دوبئی سے بھیجی تھی۔”میزبان نے جواب دیا :“ہمیں بھی ہمارے بیٹے نے سعودی عرب سے بھیجی ہے۔”میزبان نے اسے فریج میں سے ٹھنڈا پانی نکال کر پلایا۔ ‏مہمان حیران ہوکر کہنے لگا:“یہ پانی کو ٹھنڈا… آپ کی یہ الماری کرتی ہے؟“ میزبان نے جواب دیا:“ہاں جی” مہمان بولا:“میں بھی کہوں میرے جوتے اتنے ٹھنڈے کیوں ہوتے ہیں؟” ایک وقت تھا جب ہمارے آباؤاجداد بہت ہی سادہ مزاج ہوا کرتے تھے۔ بات ہماری نسل تک پہنچی تو ہم بگڑ گئے اور اب اگلی نسل تو اللہ معاف کرے… پتا نہیں کیا چن چڑھائے گی۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

160/236
NZ's Corner