Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

بہت عرصہ پہلے دل کو چُھو لینے والی یہ تحریر پڑھی تھی پھر لاکھ ڈھونڈنے پر نا ملی۔۔۔ اب جو ملی تو اس “فن پارے” کو آپ کی نذر کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ پہلے پڑھ چکے ہوں لیکن حقیقت سے بھرپور یہ تحریر بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔ ایک نامعلوم ڈائری سے۔ میری وفات کے بعد۔۔۔ موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں…

Read more

‏برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا…

Read more

‏ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایااللہ کے سوا کوئی معبود نہیںعربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہےآج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہےآپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیایا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گےآپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے۔۔؟؟اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے،ان کا فساد ‏اور انجام کیسا ہو گااور اس دیوار کی کہانی کیا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایالوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دیجیے میں تمہیں…

Read more

بحری قذاقوں (pirates) کی ایک آنکھ پر کپڑا کیوں ہوتا تھا؟ بحری قذاق اپنی ایک آنکھ کو کپڑے کے ٹکڑے کے ساتھ ڈھانپ کر رکھتے تھے (eye patch) اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ایک آنکھ کو زیادہ دیر تک اندھیرے میں رکھتے ہیں تو وہ اندھیرے میں دیکھنے کیلئے ایڈجسٹ ہو چکی ہوتی ہے اس لئے جب قزاق جہاز کے نچلے اندھیرے حصے میں جاتے تو پٹی اتار کر روشنی والی آنکھ پر لگا دیتے اس سے وہ ایڈجسٹ شدہ آنکھ سے اندھیرے میں آسانی سے دیکھ سکتے تھے اور جب جہاز کے اوپر والے روشن حصے میں آتے تو پٹی دوبارہ نچلے حصے کیلئے سلیکٹ کی گئی آنکھ پر شفٹ کر دیتے اور دوسری آنکھ جو روشنی میں دیکھنے کی عادی تھی اسے اوپر والے حصے کیلئے استعمال کرتےتھے ۔

فراخ دلی اور سخاوت کا ایک دلچسپ واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیا۔ اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں( یعنی مالدار بھی ہیں) اور امیر بھی یعنی( مسلمانوں کے سربراہ بھی) ہیں۔عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق اکبر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی تھے انہیں میں سے ایک کو وزیر اعظم بنانا تھا۔ تینوں عقلمند، وفادار، ہوشیار اور خدمت گزار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی خدمت کی تھی۔ اب بادشاہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے  کس کو وزیر اعظم چنے اور کس کو چھوڑ دے۔ بادشاہ ہر وقت فکر مند رہتا حتی کہ سوچ سوچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ اس کے دماغ پر بھی اس پریشانی کا اثر ہوا۔ اسے باتیں بھولنے لگیں ۔ بھوک کم ہو گئی ۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ۔ لوگ جب کوئی بات کہتے تو لگتا جیسے یا تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یا سنائی نہیں دے رہا۔ غرض وزیر کے چناؤ…

Read more

*کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔* ان کے گھر میں ایک درخت تھا جس پر پھل آتے تھے۔ وہ ان پھلوں کو بیچ کر دو وقت کی روٹی کماتے تھے۔ ایک دن ایک بزرگ شخص ان کے ہاں مہمان بن کر آیا۔ کھانا کم تھا اس لیے بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا، جبکہ دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہیں ہوئے کہ انہیں بھوک نہیں۔ مہمان کی عزت افزائی بھی ہو گئی اور کھانے کی کمی کا راز بھی چھپ گیا۔ آدھی رات کو مہمان اٹھا، جب تینوں بھائی سو رہے تھے، اور ایک آری سے وہ درخت کاٹ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ صبح جب محلے والے جاگے، تو تینوں بھائی اس مہمان کو کوس رہے تھے، جس نے ان کے گھر کا واحد ذریعہ روزگار کاٹ ڈالا تھا۔ چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاؤں میں آیا۔ اس…

Read more

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھا لئے جانے کے بعد عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا لوگ بت پرستی کرنے لگے اور دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ”دقیانوس”تو اس قدر ظالم تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کر ڈالتا تھا۔ اصحابِ کہف شہر ”اُفسوس”کے شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے مگر یہ لوگ صاحب ایمان اور بت پرستی سے انتہائی بیزار تھے ”دقیانوس”کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے رہ گئے۔دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم…

Read more

رات کی تاریکی میں، جب ہوا تھم جاتی ہے اور فضا میں ایک انجانی سنسنی پھیل جاتی ہے، تب کچھ آوازیں انسانی کانوں تک پہنچتی ہیں—ایسی آوازیں جو بظاہر کیڑوں کی لگتی ہیں، مگر جن کے بارے میں قدیم لوگ کہتے تھے کہ یہ جنّات کی سانسیں ہیں۔انہی سرگوشیوں سے جنم لیتی ہے وہ بدنامِ زمانہ کتاب، جسے دنیا سب سے خطرناک کتاب کہہ کر یاد کرتی ہے…“کتاب العزيف۔” یہ کتاب تعویزات، نامعلوم زبانوں، پراسرار علامتوں اور خوفناک تصاویر سے بھری ہوئی ہے—ایسی تصاویر جن کے بارے میں اس کے مصنف نے دعویٰ کیا کہ یہ “جنّات” اور ان مخلوقات کی اصلی صورتیں ہیں جو انسانوں سے بہت پہلے زمین پر گھومتی پھرتی تھیں۔ صنعا کی دھول بھری گلیوں سے تعلق رکھنے والا ایک عرب شاعر،ایک شخص جسے لوگ “العربی المجنون” کہتے تھے،ایک ایسا انسان جو ایسی دنیا دیکھتا تھا جسے دوسرے صرف خواب سمجھتے تھے۔یہ تھا عبداللہ الحظرد۔ کہا…

Read more

ایک بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت سنا دی۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا…!!!! چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے… ایک عالم دوسرا وکیل اور تیسرا فلسفیسب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین…

Read more

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہگدھیگدھے کو ہی جنم دیتی ہے ہمارے ہی اجداد،جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اورانگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا.. ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی. انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.بنگال رجمنٹ،پنجاب رجمنٹ،بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔برصغیر کے بُھوکے ننگے،دو چار…

Read more

یہودی اور چرواہا:ایک یہودی کا گزر مسلمانوں کی ایک بستی سے ہوا ۔ اس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیں ان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کردوں۔ بستی میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی ۔ یہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کی ابتداء کی جائے اور اس چرواہے کے دل و دماغ میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جائے۔ یہودی نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمان مسافر ہوں۔ باتوں ہی باتوں میں یہودی کہنے لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کے لئے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہ قرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہے۔ لیکن قرآن میں بیشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں۔…

Read more

ہارپی ایگل (Harpy Eagle) دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور عقابوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا تعلق جنوبی اور وسطی امریکا کے گھنے بارانی جنگلات سے ہے۔ یہ شکاری پرندہ اپنی جسامت، طاقت اور خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ خصوصیات قد و قامت: اس کی لمبائی تقریباً 86 تا 107 سینٹی میٹر اور پروں کا پھیلاؤ 2 میٹر سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ وزن: مادہ نر سے بڑی اور وزنی ہوتی ہے، وزن 6 سے 10 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے۔ ظاہری شکل: اس کے سر پر خوبصورت پر ہوتے ہیں جو کھڑے ہو کر تاج جیسی شکل بنا لیتے ہیں۔ آنکھیں بڑی اور گہری سیاہ ہوتی ہیں۔ پنجے: اس کے پنجے شیر کے پنجوں جتنے مضبوط سمجھے جاتے ہیں، جن سے یہ بندر اور سست جانور (sloth) تک پکڑ لیتا ہے۔ خوراک ہارپی ایگل درختوں پر رہنے والے جانوروں کا شکار کرتا ہے جیسے: بندر…

Read more

ولی عہد شہزادہ محمد سلیم(جہانگیر) نے 1599ء میں اپنے والد اکبر اعظم کے خلاف بغاوت کر دی، اکبر اعظم اس ایشو میں درست اور جہانگیر غلط تھا، دونوں میں مقابلہ ہوا، آخر میں بغاوت ہار گئی اور ریاست جیت گئی، شہزادہ سلیم جنگ کے بعد اکبر اعظم کے دربار میں پیش ہوا، بادشاہ نے تخت سے اتر کراستقبال کیا اور اسے معاف کر دیا۔اکبر اعظم ضدی اور قانون کا انتہائی پابند تھا، شہزادے کو معافی کی توقع نہیں تھی، وہ حیران ہوا اور اس نے بادشاہ سے اس فراخ دلی کی وجہ پوچھ لی، بادشاہ نے جواب دیا “شہزادہ حضور آپ کی بغاوت آپ کا قصور نہیں تھا، یہ میری غلطی تھی” شہزادہ خاموشی سے سنتا رہا، بادشاہ بولا” میں ہندوستان کا بادشاہ ہوں، مجھے اپنے اور آپ کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو بغاوت تک نہیں پہنچنے دینا چاہیے تھا چنانچہ میں خود کو حالات کی خرابی کا ذمے…

Read more

کہتے ہیں کہجب سکندرِ اعظم نوجوان تھا اورارسطو سے تعلیم حاصل کر رہا تھا، تو ارسطو اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا:“مجھ سے سوال کیا کرو، سوال سوچنا علم کی پہلی سیڑھی ہے۔”مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جب شاگرد سوال کرتے، تو ارسطو کبھی مکمل جواب نہیں دیتا، یا بات کو کسی اور طرف موڑ دیتا۔یہ رویہ سکندر کو کھٹکتا رہا، حتیٰ کہ ایک رات اس نے ضبط کھو دیا۔وہ غصے میں ارسطو کے خیمے میں آیا، جو مطالعے میں مصروف تھا، اور بلند آواز میں کہا:“یہ کیسا طریقہ ہے؟ آپ سوال کرنے کا کہتے ہیں، لیکن جواب دینے سے کتراتے ہیں!”ارسطو نے نہایت بردباری سے جواب دیا:“میرا مقصد تمہیں معلومات دینا نہیں، سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر میں تمہیں ہر سوال کا حتمی جواب دے دوں، تو تم میری بات کو آخری سچ سمجھ کر اپنی تلاش روک دو گے۔میرے جواب تمہارے تجسس کا دروازہ کھولنے…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک شخص بیری کے درخت کی چھاؤں میں لیٹا ہوا آرام کررہا تھا، پکے ہوئے بیر اس کے ارد گرد گر رہے تھے، دوپہر کے بعد وہاں سے ایک مسافر  کا گزر ہوا، جس کے ساتھ اناج اور لکڑیوں سے لدے ہوئے اونٹ 🐫 تھے، اس مسافر نے تھوڑی دیر سستانے کے لیے اسی بیری کے درخت کا رخ کیا جہاں پہلے سے ایک شخص لیٹا ہوا تھا،، اونٹ والا مسافر جیسے ہی وہاں پہنچا تو پہلے سے لیٹا شخص کہنے لگا، اچھا ہوا تم یہاں آگئے، میں صبح سے یہاں بھوکا لیٹا ہوا کسی کا انتظار کررہا تھا، اب تم ایسا کرو چند پکے ہوئے بیر اٹھا کر انہیں صاف کرکے میرے منہ میں ڈال دو تاکہ میں اپنی بھوک مٹا سکوں..اونٹ 🐫 والا شخص بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا، او بھائی صاحب کچھ عقل کو ہاتھ مارو، تم ہٹے کٹے صحتمند ہو…

Read more

شوہر کی ستائی ہوئی ایک عورت پر جن عاشق ہوگیا اور اسے اپنے ساتھ پرستان لے گیا۔جہاں ایک دیوار پر بے شمار گھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ عورت نے پوچھا یہ گھڑیاں کس لیے ہیں؟جن بولا زمین پر بسنے والے ہر انسان کے نام کی ایک گھڑی یہاں پر موجود ہے۔جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو یہ گھڑیاں ایک نمبر آگے چلی جاتی ہیں۔ عورت نے پوچھا ان میں سے کچھ گھڑیاں رکی ہوئی کیوں ہیں؟جن نے کہا یہ پرہیز گار اور متقی لوگوں کی گھڑیاں چونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اسی لیے رکی ہوئی ہیں۔عورت نے پوچھا شادی شدہ مردوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ جن نے کہا ان کو ہم نے گھروں اور دفتروں میں چھت پر لٹکایا ہوا ھے۔ ہم ان سے پنکھوں کا کام لیتے ہیں۔😉😊😂 عورت نے پوچھا اور شادی شدہ عورتوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ جن بولا ہم نے انہیں پاور ہاؤس میں رکھا ہوا ہے۔…

Read more

20/39
NZ's Corner