Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

وہ روز اپنی آدھی روٹی کسی اجنبی کے لیے رکھ دیتا تھا… پھر ایک دن سچ سامنے آ گیا! کچھ نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کوئی نہیں دیکھتا… مگر اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ کہانی ایک چھوٹے سے قصبے میں بشیر نام کا ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ صبح سویرے مزدوری پر جاتا اور شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔ اس کی کمائی اتنی ہی ہوتی کہ گھر کا چولہا جل سکے۔ مگر اس کی ایک عجیب عادت تھی۔ وہ روز اپنے کھانے میں سے آدھی روٹی الگ رکھ دیتا۔ پھر رات کے وقت قصبے کے کنارے ایک پرانے درخت کے نیچے رکھ آتا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ لوگ ہنستے تھے۔ “خود کے پاس کچھ نہیں، اور خیرات کرنے نکل پڑا ہے!” مگر بشیر خاموش رہتا۔ ایک رات اُس کا بیٹا پوچھ بیٹھا: “ابا، آپ یہ روٹی کس کے لیے رکھتے…

Read more

آج سے صدیوں پہلے مصر کے ایک قدیم اور مصروف بازار میں ایک بوڑھا درویش روزانہ مٹی کی چٹائی بچھائے بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ جاہ و منصب، لیکن اس کے سامنے ایک پرانا لکڑی کا ترازو رکھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے، کیونکہ مشہور تھا کہ وہ ترازو انصاف اور سچائی کا فیصلہ کرتا ہے۔ درویش خاموش مزاج تھا، مگر جب کوئی شخص تول میں کمی یا ناانصافی کی شکایت لے کر آتا تو وہ اپنے عجیب ترازو سے حقیقت واضح کر دیتا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کے پاس کوئی لوہے کے باٹ نہیں تھے۔ وہ صرف مٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ترازو میں رکھتا، اور ترازو درست وزن بتا دیتا۔ ایک دن دوپہر کی شدید گرمی میں بازار کا سب سے دولت مند مگر انتہائی لالچی تاجر وہاں آیا۔ وہ غریبوں کا حق مار…

Read more

نہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر، نہ کسی سنسان غار میں، نہ کسی کرامت کے ہنگامے میں۔وہ خدا سے ملا تھا ایک ٹوٹے ہوئے لمحے میں۔جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو گئے تھے، جب امید کے آخری چراغ کی لو کانپ رہی تھی، جب آنسو دعا بن کر ہونٹوں سے نکلے تھے اور دل نے پہلی بار اپنی بے بسی کا اعتراف کیا تھا۔اس رات اسے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی ساری خاموشیاں ایک جواب میں ڈھل گئی ہوں۔ دل کے اندر ایک نور اترا، ایک سکون جاگا، ایک یقین نے جنم لیا۔اس نے سجدے میں سر رکھا اور رو پڑا۔مدتوں بعد اسے لگا کہ وہ تنہا نہیں۔پھر دن بدلنے لگے۔مشکلیں آسان ہو گئیں، دعائیں قبول ہونے لگیں، رزق کے در وا ہوئے، چہرے پر رونق لوٹ آئی۔ زندگی نے پھر سے اپنے رنگ بکھیرنے شروع کر دیے۔اور یہی وہ مقام تھا جہاں کہانی نے رخ بدلا۔جس ہستی…

Read more

جنگل کی خاموشی اپنے عروج پر تھی۔ہوا درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی، کہیں دور کسی پرندے کی آواز شام کے دامن میں گم ہو رہی تھی، اور ایک قدیم برگد کے نیچے ملا نصرالدین آنکھیں موندے مراقبے میں بیٹھے تھے۔ان کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے کسی بےقرار دریا نے آخرکار سمندر کا راستہ پا لیا ہو۔اسی اثنا میں ایک سایہ درختوں کے درمیان سے ابھرا۔وہ شیطان تھا۔اس کی آنکھوں میں تجسس بھی تھا اور شرارت بھی۔ وہ آہستہ آہستہ ملا کے قریب آیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:“ملا نصرالدین! تم یہاں تنہائی میں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟”ملا نے آنکھیں کھولے بغیر جواب دیا:“مراقبہ۔”شیطان ہنس پڑا۔“اچھا! تو پھر بتاؤ، خدا سے کیا مانگتے ہو؟ دولت؟ عزت؟ جنت؟”ملا نے سکون سے کہا:“میں کچھ نہیں مانگتا۔”شیطان کی بھنویں حیرت سے بلند ہو گئیں۔“کچھ نہیں مانگتے؟”“نہیں۔”“کیوں؟”ملا نے آہستگی سے کہا:“اس لیے کہ وہ مجھ سے بہتر جانتا…

Read more

ایک بادشاہ تھا وہ جو بھی بات کرتا تو وزیر کہتا اسی میں کوی بہتری ھو گی۔.ایک دفعہ بادشاہ کی انگلی کٹ گئی وزیر نے کہا اس میں اللہ کی کوی بہتری ھوگی بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ میری انگلی کٹ گئی ھےاور تم کہہ رھے ھو کہ اسمیں بھی اللہ کی کوی بہتری ھوگی۔.بادشاہ نے وزیر کو جیل میں ڈال دیا تو پھر بھی وزیر نے کہا کہ اس میں بھی اللہ کی کوئی بہتری ھوگی بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔.ایک روز بادشاہ شکار کے لئے اپنے علاقے سے دور نکل گیا اور جنگل میں ایسی علاقے میں چلا گیاجہاں پر ایسے لوگ رھتے تھے کہ وہ لوگ سال میں ایک آدمی کی قربانی دیتے تھے انہوں نے باشاہ کو پکڑلیا جب اس کو زبح کرنے لگے تو انہوں نے دیکھا بادشاہ کی انگلی کٹی ھوی ھے انہوں نے بادشاہ کو چھوڑ دیا کہ ھم ایسے شخص کو…

Read more

ایک نکھٹو کو بیوی نے کام کاج کے لیے کہا۔ سست الوجود کے پاس اور تو کوئی کام نہیں تھا۔ بس ایک مرغی تھی، اٹھائی اور بازار کو چل دیا کہ بیچ کے کاروبار کا آغاز کرے۔ راستے میں مرغی ہاتھ سے نکل بھاگی اور ایک گھر میں گھس گئی۔ وہ مرغی کے پیچھے گھر کے اندر گھس گیا… مرغی کو پکڑ کر سیدھا ہوا ہی تھا کہ خوش رو خاتون خانہ پر نظر پڑی۔ابھی نظر چار ہوئی تھی کہ باہر سے آہٹ سنائی دی۔ خاتون گھبرائی اور بولی کہ اس کا خاوند آ گیا ہے اور بہت شکی مزاج ہے اور ظالم بھی،خاتون نے جلدی سے اسے ایک الماری میں گھسا دیا…لیکن وہاں ایک صاحب پہلے سے ”تشریف فرما“ تھے۔اب اندر دبکے نکھٹو کو اچانک کاروبار سوجھا… آئیڈیا تو کسی جگہ بھی آ سکتا ہے۔ سو اس نے دوسرے صاحب کو کہا کہ،”مرغی خریدو گے ؟“ اس نے بھنا…

Read more

👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﻮﮞ؟؟؟👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😋👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﮯ کیے تھے … 👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻝ ﻓﯿﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻟﻤﺒﮯ ﺑﺎﻝ ﺁﭘﮑﻮ ﺗﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﯿﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﯿﮟ …😝👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﮕﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﭨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﻮﮞ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ گئے ﺗﻮ …؟؟؟👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﻮﮞ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺍﮔﺮ ﺍﭼﮭﮯ نہ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ…

Read more

ایک میراثی خاندان نے بڑی خوشی خوشی ایک بھینس خرید لی۔ سارا ٹبّر خوش تھا۔ کسی نے سوچا اب دودھ پئیں گے، کسی نے کہا دیسی گھی کھائیں گے، اور کوئی لسی کے خواب دیکھنے لگا۔مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی رات بھینس بیمار ہو کر بیٹھ گئی۔ میراثیوں نے ہر ٹوٹکا آزما لیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک بزرگ نے مشورہ دیا: “چلو چودھری صاحب کے پاس چلتے ہیں، انہاں نوں ضرور کوئی علاج پتا ہووے گا۔” چند لوگ چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا: “مرچ، پیاز اور لہسن کا پیسٹ بنا لو، اس میں لسی ملا کر نال میں ڈال دو اور بھینس کے منہ میں انڈیل دو، ان شاء اللہ بھینس کھڑی ہو جائے گی۔” اگلے دن میراثی واپس آئے اور بولے: “چودھری صاحب! مجھ دوا نئی کھاندی، سب باہر سٹ دی اے۔” چودھری نے کہا: “نال کے پیچھے سوراخ کر…

Read more

ایک بوڑھے آدمی نے پہلی بیوی کے ہوتے دوسری خوبصورت جوان لڑکی سے شادی کر لیکچھ عرصے بعد جب دوسری کو پتہ چلا تو حالات کشیدہ ہوئے نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا کہ اک کو طلاق دے دی جائےکس کو دیں ، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھااک طرف عمر بھر کا ساتھ تھا تو دوسری طرف حُسن اور بڑھاپے کی پسندکسی پر ظلم نا ہو ،اس لئے امتحان لینے کا فیصلہ کیا بابا جی نے اپنی دونوں بیویوں کو دس دس ہزار روپے دیے اور دو ہفتوں کے لیے خرچ کرنے کا کہادو ہفتوں بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کی پہلی بیوی نے اپنا گزارہ کر کے بھی پیسے بچا رکھے تھےجبکہ جوان و حسین بیوی نے نا صرف دس ہزار خرچ کردیے بلکہ پانچ ہزار کا قرض بھی اُٹھا رکھا تھابابا جی نے سوچا ان کی پہلی بیوی…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک قدیم سلطنت کا بادشاہ اپنے زمانے کے دوسرے حکمرانوں سے کچھ مختلف تھا۔ اسے محل کی بلند دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر حکومت کرنا پسند نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دربار میں سچ اکثر ریشمی پردوں میں لپٹ جاتا ہے، مگر بازار میں ننگے پاؤں چلتا ہے۔اسی لیے وہ کبھی کبھی بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں نکل جاتا اور لوگوں کے دل کی آواز سننے کی کوشش کرتا۔ایک صبح اس نے سادہ لباس پہنا، تاج اتار کر عام سی پگڑی باندھی اور تنہا بازار کی طرف چل پڑا۔بازار اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔کہیں تندور کی خوشبو تھی، کہیں قہوہ خانوں کی رونق، کہیں لوہار کی ہتھوڑی بج رہی تھی اور کہیں سبزی فروش اپنے ٹھیلوں پر رنگ برنگی سبزیاں سجائے بیٹھے تھے۔بادشاہ ایک سبزی فروش کے پاس جا رکا۔سبزی فروش کے ٹھیلے پر تازہ ٹماٹر یاقوتوں کی طرح چمک رہے تھے،…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ وہ تیز دماغ تو تھی، مگر دل ہی دل میں ایک حسرت پالے بیٹھی تھی۔جب بھی جنگل کا شیر اپنی دھاڑ سے فضا کو لرزا دیتا، سب جانور دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ ہر طرف اس کی ہیبت، اس کا رعب اور اس کی بادشاہی کا چرچا ہوتا۔لومڑی یہ سب دیکھتی اور آہ بھرتی۔“کاش! لوگ مجھ سے بھی اسی طرح ڈرتے۔”ایک دن قسمت نے عجیب کھیل کھیلا۔شکاریوں کے چھوڑے ہوئے سامان میں اسے ایک مردہ شیر کی کھال مل گئی۔لومڑی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔اس نے فوراً کھال اوڑھی، اپنے آپ کو آئینے کی طرح صاف جھیل میں دیکھا اور فخر سے بولی:“اب دیکھتی ہوں کون مجھے معمولی لومڑی سمجھتا ہے!”اگلے ہی دن وہ جنگل میں نکلی۔دور سے جانوروں نے اسے دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ہرن بھاگ نکلے، خرگوش بلوں میں جا…

Read more

ایک دن ایک سوداگر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دو نہایت خوبصورت موتی پیش کیے۔ دونوں موتی سائز، رنگت اور چمک میں اس قدر یکساں تھے کہ انہیں دیکھ کر فرق کرنا ناممکن لگتا تھا۔ سوداگر نے کہا: “عالی جاہ! ان دو موتیوں میں سے ایک اصلی ہے اور دوسرا نہایت مہارت سے بنایا گیا نقلی موتی۔ اگر آپ کے درباری اصل اور نقل کی پہچان کر لیں تو یہ دونوں موتی میں بطور تحفہ پیش کر دوں گا، لیکن اگر کوئی پہچان نہ سکا تو آپ کو ان کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔” بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں، دانشوروں اور درباریوں کو بلایا۔ سب نے موتیوں کو غور سے دیکھا، الٹ پلٹ کر جانچا، مگر کوئی بھی یقین سے نہ بتا سکا کہ اصل کون سا ہے اور نقلی کون سا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ پریشان تھا کہ اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو…

Read more

😢 وہ روز اپنی دکان کے باہر ایک خالی کرسی رکھتا تھا… مرنے کے بعد لوگوں کو وجہ معلوم ہوئی! کچھ عادتیں لوگوں کو عجیب لگتی ہیں… مگر ان کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو دل ہلا دیتی ہے۔ ❤️ 📖 کہانی ایک چھوٹے شہر کے بازار میں حسن چچا کی پرانی سی چائے کی دکان تھی۔ وہ تقریباً تیس سال سے وہی دکان چلا رہے تھے۔ ان کی ایک عجیب عادت تھی۔ ہر صبح دکان کھولتے وقت ایک کرسی باہر نکالتے اور اسے خالی چھوڑ دیتے۔ کسی کو اس پر بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ اگر کوئی گاہک اس کرسی پر بیٹھنے لگتا تو وہ بڑے ادب سے کہتے: “بھائی، یہ کرسی کسی اور کے لیے ہے۔” لوگ حیران ہوتے۔ کچھ مذاق اڑاتے۔ کچھ کہتے: “شاید بوڑھے ہو گئے ہیں۔” مگر حسن چچا صرف مسکرا دیتے۔ سال گزرتے گئے۔ کرسی ویسے ہی خالی رہتی۔ پھر ایک دن خبر…

Read more

ایک شخص کی ملاقات ایک رومی فلسفی سے ہوئی۔ فلسفی نے اسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ جب وہ شوربہ پینے لگا تو اسے پیالے میں سانپ جیسی کوئی چیز دکھائی دی۔ وہ مہمان نوازی اور شرمندگی کے باعث کچھ کہہ نہ سکا اور خاموشی سے پورا شوربہ پی گیا۔گھر پہنچنے کے بعد وہ مسلسل اسی خیال میں مبتلا رہا کہ شاید اس نے واقعی سانپ ملا شوربہ پی لیا ہے۔ اسی وہم نے اس کے دل و دماغ پر ایسا اثر ڈالا کہ رات ہوتے ہوتے اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا اور وہ ساری رات بے چین رہا۔اگلی صبح وہ علاج کی غرض سے فلسفی کے پاس پہنچا۔ فلسفی نے مسکرا کر بتایا کہ شوربے میں کوئی سانپ نہیں تھا۔ دراصل چھت پر بنی ایک تصویر کا عکس پیالے میں پڑ رہا تھا، جسے اس نے سانپ سمجھ لیا تھا۔ جب دوبارہ شوربہ لا…

Read more

کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جس کے محل کی دیواریں آسمان سے باتیں کرتی تھیں۔ اس کے خزانے سونے سے بھرے تھے، اس کی فوجیں ہزاروں میں تھیں، اور اس کے دربار میں خوشامد کرنے والوں کی کبھی کمی نہ تھی۔ مگر محل کی دیواروں سے ذرا باہر نکلو… کہیں ایک ماں اپنے بچے کو بھوک سے بہلا رہی تھی، کہیں ایک بوڑھا دوا نہ ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ مر رہا تھا، کہیں نوجوان امید کھو چکے تھے، اور کہیں انصاف صرف کتابوں میں زندہ تھا۔ ایک دن ایک درویش دربار میں آیا۔ بادشاہ نے فخر سے پوچھا: “بتاؤ، میری سلطنت کتنی مضبوط ہے؟” درویش نے کھڑکی سے باہر دیکھا، پھر بادشاہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا: “جہاں محل محفوظ ہوں مگر عوام خوف میں جئیں، وہاں سلطنت نہیں، صرف خاموش چیخیں آباد ہوتی ہیں۔” بادشاہ ہنس پڑا۔ کہنے لگا: “میرے پاس خزانہ بھی ہے، فوج بھی،…

Read more

ایک دیہاتی نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر نیا اسمارٹ فون خریدا۔ چند دنوں میں وہ GPS چلانا بھی سیکھ گیا۔ اب اسے لگتا تھا کہ دنیا کا ہر راستہ اس کی جیب میں آگیا ہے۔عید سے ایک دن پہلے وہ شہر سے اپنے گاؤں واپس جا رہا تھا۔ راستے میں ایک گدھا نظر آیا، جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدا ہوا تھا۔ گدھا تھکا ہوا کھڑا تھا اور اس کا مالک کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔دیہاتی نے سینہ پھلا کر کہا: “آج ایک نیکی بھی ہو جائے۔”اس نے گدھے کی گردن کے ساتھ اپنا موبائل باندھا، GPS آن کیا اور ہنستے ہوئے بولا: “چل میرے بھائی! اب تو جدید دور کا گدھا بن گیا ہے۔ راستہ خود ہی ڈھونڈ لے گا۔”گدھا خاموشی سے چل پڑا۔موبائل سے آواز آئی: “200 میٹر بعد دائیں مڑیں۔”گدھا دائیں مڑ گیا۔پھر آواز آئی: “500 میٹر بعد بائیں مڑیں۔”گدھا بائیں مڑ گیا۔دیہاتی…

Read more

ایک قدیم شہر کی تنگ و پیچیدہ گلیوں میں ایک دانا شخص رہتا تھا۔ لوگ اس کے پاس  کا حل ڈھونڈنے آتے، مگر وہ اکثر جواب لفظوں میں نہیں بلکہ حکمت بھری مثالوں میں دیتا تھا۔ایک دن اس کا ایک دوست نہایت جوش و خروش سے اس کے گھر آیا۔ گفتگو کے دوران دانا شخص نے میز پر رکھا ہوا ایک عجیب سا آئینہ اٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا:“میں نے ایک ایسا آئینہ خریدا ہے جو انسان کی اصلی شکل دکھاتا ہے۔”دوست کی آنکھوں میں تجسس چمک اٹھا۔“واقعی؟ پھر تو مجھے فوراً دکھاؤ!”دانا شخص نے خاموشی سے آئینہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔دوست نے آئینے میں جھانکا۔ چند لمحے تک خود کو دیکھتا رہا، پھر اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔“کیا خوبصورت چہرہ ہے!” وہ فخر سے بولا۔ “یہ تو یقیناً میرا ہی عکس ہے۔”دانا شخص ہلکا سا مسکرایا اور بولا:“نہیں دوست، آئینہ ٹوٹا ہوا ہے۔…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت کا ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے نام سے کبھی دشمنوں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ وہ اپنی جوانی میں بے مثال بہادر، دانا اور دور اندیش حکمران رہا تھا۔ اس کی تلوار نے بے شمار جنگیں جیتی تھیں اور اس کی عقل نے ان گنت سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔ دشمن جانتے تھے کہ جب تک یہ بوڑھا شیر زندہ ہے، اس کی سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی آسان نہیں۔ مگر وقت کے سامنے کون ٹھہر سکا ہے؟آخر ایک دن وہ بہادر بادشاہ بوڑھا ہو گیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے نوجوان بیٹے کے ہاتھ میں دے دی۔ اگرچہ تخت اب بیٹے کے پاس تھا، مگر باپ اپنی عمر بھر کے تجربے کی روشنی میں ہر معاملے پر اسے مشورہ دیتا، اسے غلط فیصلوں سے روکتا اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا تھا۔لیکن نوجوان…

Read more

ایک شہر میں ایک فقیر روز ایک ہی ATM کے باہر بیٹھتا تھا۔لوگ آتے، کچھ سکے دیتے، کچھ نوٹ، اور کچھ صرف ترس بھری نظر ڈال کر گزر جاتے۔ایک دن ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ اس نے فقیر کو دیکھا اور جیب سے 1000 روپے نکال کر دے دیے۔فقیر مسکرایا اور بولا: “اللہ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ دے۔”تاجر ہنس پڑا۔ “بابا! تم خود مانگ رہے ہو اور مجھے دولت کی دعا دے رہے ہو؟”فقیر نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔چند دن بعد تاجر دوبارہ وہاں سے گزرا۔اس بار اس نے دیکھا کہ فقیر ATM کے پاس کھڑا ہے اور مشین میں کارڈ ڈال رہا ہے۔تاجر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔“او بابا! یہ ATM تمہارا ہے کیا؟”فقیر نے سکون سے کہا: “نہیں، بس اپنا اکاؤنٹ چیک کر رہا ہوں۔”تاجر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “فقیر کا بھی اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”فقیر بولا: “ہاں، اور کبھی کبھی دل والوں…

Read more

20/294
NZ's Corner