بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن جحا بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بھوکا مسافر ایک کباب فروش کی دکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس مسافر کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکالا اور اسے کبابوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے اوپر رکھ کر سینکنے لگا تاکہ روٹی میں کبابوں کی خوشبو بس جائے اور وہ اسے کھا سکے۔دکاندار بڑا کنجوس اور جھگڑالو تھا۔ اس نے مسافر کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچانے لگا: “تم نے میرے کبابوں کے دھوئیں سے فائدہ اٹھایا ہے، اب اس کی قیمت ادا کرو!”مسافر بے چارہ پریشان ہو گیا کہ دھوئیں کے پیسے کیسے دے؟ اتنے میں جحا وہاں پہنچ گئے اور سارا معاملہ سمجھنے کے بعد بولے: “فکر نہ کرو، اس مسافر کے بدلے میں قیمت میں ادا کروں گا۔”جحا نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے اور انہیں مٹھی میں…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
لندن کے مضافات میں ایک پرسکون دوپہر تھی، لیکن برٹی ووسٹر کے دل میں طوفان بپا تھا۔ اس کے سامنے میز پر ایک ایسی چیز پڑی تھی جسے دیکھ کر اچھے بھلوں کے پسینے چھوٹ جائیں: آنٹی اگاتھا کی تیار کردہ “خصوصی” فروٹ پڈنگ۔برٹی نے اپنے وفادار نوکر، جِیوز (Jeeves) کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔“جیوز! کیا تمہیں لگتا ہے کہ اگر میں اسے کھڑکی سے باہر پھینک دوں، تو یہ زمین سے ٹکرا کر واپس اچھلے گی؟” برٹی نے کراہتے ہوئے پوچھا۔“جناب، میرا خیال ہے کہ اس کی کثافت اتنی زیادہ ہے کہ یہ شاید زمین میں سوراخ کر کے سیدھی آسٹریلیا جا نکلے،” جیوز نے اپنی مخصوص سنجیدگی سے جواب دیا۔مسئلہ یہ تھا کہ آنٹی اگاتھا—جو برٹی کے مطابق ایک ایسی خاتون تھیں جو شارک مچھلیوں کے ساتھ ناشتہ کر سکتی تھیں—کمرے میں داخل ہونے والی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ برٹی کو “صحت مند” غذا…
urdu blog urdustory urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔❤️!
حضرت علی علیہ السلام نے پتھر اٹھایا تو چشمہ اُبل پڑا مقام صفین کو جاتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نایاب تھا،پورا لشکر پیاس کی شدت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں کے گرجا گھر میں ایک راہب رہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے دو کوس کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے جاکر پانی پئیں ،یہ سنکر آپ اپنے خچر پر سوار ہوگئے اورایک جگہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ تم لوگ زمین کو کھودو۔ چنانچہ لوگوں نے زمین کی کھدائی شروع کردی تو ایک پتھر ظاہر ہوا ۔ لوگوں نے اس پتھر کو نکالنے کی انتہائی کوشش کی لیکن تمام آلات بے کار ہوگئے اوروہ پتھر نہ نکل سکا۔ یہ دیکھ کر آپ کو جلال آگیا اور آپ نے اپنی سواری سے اتر کر آستین چڑھائی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ ایک بادشاہ شاہی کھانے کے ساتھ ایک فقیر کے پاس آیا اور کھانے کی اجازت چاہی۔ فقیر نے ایک آئینہ منگوایا اور شاہی کھانے میں سے ایک لقمہ آئینے پر مَل دیا۔ پورا آئینہ دھندلا ہو گیا۔ پھر فقیر نے جو کی روٹی لی اور اسے آئینے پر پھیرا، تو آئینہ دوبارہ شفاف ہو گیا۔ فقیر نے کہا:“آپ کا کھانا دل کے آئینے کو سیاہ کر دیتا ہے، جبکہ نانِ جوئیں اسے جِلا بخشتا ہے۔ اس لیے مجھے معاف کیجیے۔” بادشاہ نے کہا:“اگر میرے لیے کوئی خدمت کرنی ہو تو بتائیں۔” فقیر نے جواب دیا:“مکھیاں اور مچھر مجھے بہت تنگ کرتے ہیں، انہیں حکم دے دیجیے کہ مجھے نہ ستائیں۔” بادشاہ نے کہا:“یہ تو میرے حکم سے بھی ممکن نہیں۔” فقیر نے مسکرا کر کہا:“جب ایسے حقیر جانور بھی آپ کی اطاعت سے باہر ہیں اور آپ کو ان کے ختم کرنے کی قدرت نہیں، تو پھر میں…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مولانا رومیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہرات کا ایک نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام، مسافر، تاجر—سبھی اس سے خوش تھے۔ وہ بادشاہ وقت کا وفادار ساتھی بھی تھا اور بادشاہ کو اس پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نواب کے پاس بہت سے غلام تھے جنہیں وہ بیٹوں کی طرح رکھتا، آرام و آسائش، زیب و زینت اور بہترین لباس ان کا نصیب تھا۔ اقلس و کمخواب کی قبائیں اور گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان کو دوبالا کرتی تھیں۔ ایک بار یہ غلام بڑی شان سے بازار میں گشت کر رہے تھے۔ وہیں ایک مفلس، بھوکا اور ننگا شخص کھڑا انہیں دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا:“یہ رئیس زادے کون ہیں؟” کسی نے جواب دیا:“یہ ہمارے علاقے کے نواب کے نوکر چاکر ہیں۔” یہ سن کر وہ حیران رہ گیا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا:“اے اللہ!…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک زمیندار کو اپنے مالوں کی رکھوالی کیلیئے ایسے ملازم کی تلاش تھی جو جانثاری سے اس کے فارم کی رکھوالی کر سکے۔ اُسے ہمیشہ اپنے ملازمین سے شکایت رہتی تھی کہ اُسے کوئی حلالی ملازم ملا ہی نہیں۔ زمیندار کے پاس کام کرنے کیلیئے، زمیندار کی سخت شرطوں سے زچ ہو کر کوئی ملازم باآسانی کام کے لیے تیار بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار جب اس زمیندار کو ملازم کی شدت سے تلاش تھی تو ایک مجبور آدمی کام کے لیے پہنچا۔ زمیندار نے اس سے پوچھا: اپنی کسی خوبی کا بتاؤ۔ کام کے متلاشی نے کہا: میں جب بارش یا طوفان ہو تو سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار کو اس شخص کی بات کی کوئی خاص سمجھ تو نہ آئی مگر آنے والی سردیوں اور بارش و آندھی طوفان کے موسم کے خدشے کے مارے، بمشکل دستیاب اس شخص کو کام پر رکھ ہی لیا۔ دن گزرتے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے: “کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!” بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا: “کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟” چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے: “کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!” بوڑھا کسان پھر مسکرایا: “کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟” اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گاؤں والے پھر آئے: “کتنی بدقسمتی ہے!” کسان نے پھر وہی جواب دیا: “کیا معلوم؟” کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار سردار جی ایک الیکٹرانکس کی دکان پر گئے اور ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے دکاندار سے پوچھا:“یار! ذرا بتانا یہ ‘ٹی وی’ (TV) کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں غور سے دیکھا اور غصے سے بولا:“ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے! جاؤ یہاں سے۔” سردار جی کو بڑی بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ گھر گئے، انہوں نے سوچا کہ دکاندار نے پگڑی کی وجہ سے مجھے پہچان لیا تھا۔اگلے دن سردار جی نے پگڑی اتاری، کلین شیو کی، پینٹ کوٹ پہنا، ہیٹ لگائی اور پورے “انگریز” بن کر دوبارہ اسی دکان پر گئے۔ سٹائل مارتے ہوئے بولے:“ایکسکیوز می! (Excuse me!) ذرا بتائیں گے کہ یہ ‘ٹی وی’ کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا:“بھائی صاحب! میں نے کل بھی کہا تھا، ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!” سردار جی حیران رہ گئے کہ اس نے پھر پہچان…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
قدیم ہند کی گھنی وادیوں میں، جہاں جانور انسانوں کی طرح بولتے سمجھے جاتے تھے، ایک بستی تھی جس کے کنارے دوستی کا تالاب تھا۔ اس تالاب کے پاس ایک کوّا اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی پرانی تھی، مگر مزاج الگ کوّا تیز، کچھوا ٹھہرا ہوا۔ ایک سال سخت قحط پڑا۔ تالاب سوکھنے لگا۔ کوّا اڑ کر دور سے دانہ لا سکتا تھا، مگر کچھوا نہیں۔ کوّے نے چال سوچی: اس نے ایک مضبوط لکڑی منگوائی، دونوں سروں کو چونچوں میں تھامنے کے لیے دو پرندے بلائے، اور کچھوے سے کہا کہ بیچ میں لکڑی دانتوں سے پکڑ لے بس خاموش رہنا۔ سفر شروع ہوا۔ نیچے لوگ حیران ہو کر بولے، ہنسے، آوازیں لگائیں۔ کچھوا خود کو روک نہ سکا۔ جیسے ہی بولا، لکڑی چھوٹی کچھوا گرا۔ مگر قسمت نے پلٹا کھایا: وہ ایک نرم جھاڑی پر گرا، جان بچ گئی۔ کچھوا لوٹا۔ کوّا خاموش تھا۔ کچھ…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
سبق آموز ۔۔۔🙂!
شہر کے پرانے حصے میں ایک وسیع قبرستان تھا۔ دن میں وہاں فاتحہ پڑھنے والے آتے، مگر رات کو سناٹا اتر آتا۔ ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر عجیب سی سرگوشی پیدا کرتی۔ اسی قبرستان میں ایک رات ایسا واقعہ ہوا جسے سن کر لوگ کانپ اٹھے۔کہتے ہیں ایک شخص، جس کا نام فرید تھا، اپنی خواہشات کا غلام بن چکا تھا۔ اس کے دل میں نہ خوفِ خدا رہا تھا نہ حیا کی رمق۔ شیطان نے اسے اس حد تک بہکایا کہ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان پہنچا اور ایک تازہ قبر کے قریب ایسا گناہ کیا جسے زبان بیان کرتے ہوئے بھی شرمائے۔رات گزر گئی، مگر زمین و آسمان اس گناہ کے گواہ بن گئے۔اُسی شہر کا بادشاہ نہایت نیک سیرت تھا۔ عدل و انصاف اس کی پہچان تھا۔ اسی رات اسے خواب آیا کہ ایک سفید پوش بزرگ اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ چہرہ نور…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے، ایک طاقتور بادشاہ رہتا تھا جسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے ذہین انسان ہے۔ اس کے پاس ہزاروں کتابیں اور سینکڑوں استاد تھے۔ لیکن اتنی معلومات کے باوجود، وہ زندگی کے بارے میں الجھن کا شکار رہتا تھا۔اس نے صحرا میں رہنے والی ایک دانشمند عورت کے بارے میں سنا اور اس سے ملنے گیا۔ بادشاہ نے کہا، “میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو جاننا ممکن ہے، پھر بھی میں خود کو دانشمند کیوں محسوس نہیں کرتا؟”اس عورت نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے، اس نے چائے کی کیتلی اٹھائی اور بادشاہ کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کر دی۔ پیالہ بھر جانے کے بعد بھی وہ چائے ڈالتی رہی۔ چائے پیالے سے چھلک کر میز اور بادشاہ کے کپڑوں پر گرنے لگی۔بادشاہ چلایا، “رک جائیں! کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ پیالہ بھر…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک عظیم الشان بادشاہ کے محل میں ایک قابلِ اعتماد ساقی رہتا تھا۔ اس کی ذمہ داری سادہ مگر بہت اہم تھی: بادشاہ کے لیے جام بھرنا اور شراب کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا۔ ہر جشن، ہر معاہدہ اور ہر تقریب اسی کے ہاتھوں سے گزرتی تھی۔ شروع میں وہ بہت وفادار تھا۔ مے خالص اور بھرپور ہوتی تھی، اور بادشاہ کے مہمان اس کی طاقت اور مٹھاس کی تعریف کرتے تھے۔مگر لالچ ایک خاموش سرگوشی ہے۔ایک رات ساقی نے مٹکوں کی طرف دیکھا اور سوچا، “اگر میں اس میں تھوڑا سا پانی ملا دوں تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ میں فالتو شراب بیچ کر امیر ہو سکتا ہوں۔” اس نے بڑی احتیاط سے شاہی مشروب میں پانی ملا دیا۔ رنگ گہرا ہی رہا، خوشبو اب بھی میٹھی تھی۔ وہ اپنی اس “ہوشیاری” پر مسکرایا۔اگلی ضیافت میں اس نے پھر ایسا ہی کیا۔ اور پھر بار بار۔ہر ملاوٹ…
بلاعنوان۔۔۔😂!
چوہدری صاحب کو اصیل مرغے پالنے کا جنون تھا، اسی چکر میں وہ ایک ایسا ‘لال بجھکڑ’ مرغہ لے آئے جو دکھنے میں جتنا رعب دار تھا، دماغی طور پر اتنا ہی ‘شارٹ سرکٹ’ کا شکار تھا۔ اس مرغے کا فلسفہ یہ تھا کہ جب اسے نیند نہ آئے، تو پورا علاقہ جاگنا چاہیے۔ایک رات جب پورا گاؤں سکون کی نیند سو رہا تھا، اچانک بادل گرجا۔ مرغے نے سمجھا شاید اس کے اعزاز میں تالیاں بج رہی ہیں، اس نے جوشِ خطابت میں آ کر رات کے پونے تین بجے ایسی ‘انقلابی’ اذان دی کہ گاؤں کے نمبردار، سائیں بخش، بستر سے اچھل کر سیدھے فرش پر جا گرے۔ سائیں بخش نے گھڑی دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور کالی گھٹاؤں کو صبح کی سفیدی سمجھ کر شور مچا دیا کہ “اوئے دوڑو! فجر نکل رہی ہے اور تم اب تک غفلت میں پڑے ہو!”سائیں بخش کی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے۔ وہ مکڑا جس نے رازوں کے ذریعے حکومت کیایک وسیع و عریض جنگل کے بیچوں بیچ “اروکُو” کا ایک قدیم درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی شاخوں میں زارتھ نامی ایک مکڑا رہتا تھا۔ وہ قد میں چھوٹا تھا، لیکن اس کے دل میں پورے جنگل پر حکومت کرنے کی خواہش تھی۔زارتھ کے پاس نہ تو شیر جیسی طاقت تھی اور نہ ہی ہرن جیسی رفتار۔ اس کے پاس نہ مینڈھے جیسے سینگ تھے اور نہ عقاب جیسے تیز ناخن۔ لیکن اس کے پاس کچھ اور تھا— راز۔ہر رات، وہ ان شاخوں کے درمیان بڑی احتیاط سے جالا بنتا جہاں دوسرے اسے صاف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کے دھاگے باریک اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن وہ بہت مضبوط تھے۔ زارتھ بولنے سے زیادہ سننے پر توجہ دیتا تھا۔ اس نے بندر کو کچھوے کی شکایت کرتے سنا، اس نے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
پتھر میں چھپا عقاب
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا خوبصورت فن پارے بنانا سیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک مشہور فنکار (سنگ تراش) کے پاس گیا جو سفید پتھر کے ایک بہت بڑے اور بے ڈول ٹکڑے پر کام کر رہا تھا۔ کئی ہفتوں تک وہ لڑکا اس فنکار کو دیکھتا رہا۔ فنکار ہتھوڑے اور ایک تیز دھار اوزار (چھینی) کی مدد سے پتھر پر ضربیں لگاتا تھا۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فنکار صرف اس بڑے پتھر کو توڑ کر اس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔لڑکے نے پوچھا، “آپ اس خوبصورت پتھر کو کیوں توڑ رہے ہیں؟ جب آپ نے اسے شروع کیا تھا، تب تو یہ کتنا ہموار اور مکمل تھا۔”فنکار رکا نہیں، اس نے بس سرگوشی کی، “میں اسے توڑ نہیں رہا، بلکہ میں تو اسے آزاد کر رہا ہوں۔”مہینے گزرتے گئے۔ پتھر کے تمام کھردرے حصے غائب…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
ایک مختصر اور قیمتی اخلاقی کہانی
یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو دوستی کے اصل مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ دو پڑوسی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ہی گلی میں ایک نانبائی (روٹی بنانے والا) اور ایک درزی رہتے تھے۔ وہ آپس میں کافی دوستانہ تھے اور ہر صبح ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا کرتے تھے۔ایک دن درزی سنجیدہ چہرہ لیے نانبائی کی دکان پر آیا اور کہنے لگا: “آج میں بازار میں تھا، وہاں ایک آدمی چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری روٹی سڑی ہوئی ہوتی ہے اور تم گندا آٹا استعمال کرتے ہو۔ اس نے سب کو بتایا کہ تم دھوکے باز ہو! وہ تمہارا دشمن ہے!”نانبائی یہ سن کر اداس ہو گیا اور بولا: “میں سمجھ گیا، وہ میرا دشمن ہے۔”اگلے دن درزی پھر آیا اور کہنے لگا: “آج میں پارک میں تھا، وہاں ایک اور شخص سب کو بتا رہا تھا کہ تم…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ ایک پرانے شہر کی بات ہے جہاں گلیاں تنگ تھیں مگر دل کشادہ۔ ایک مسلمان شخص رہتا تھا جس کی سب سے نمایاں عادت یہ تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد محبت اور یقین سے کہتا:“حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔”وہ یہ جملہ دکھاوے کے لیے نہیں کہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سچائی اور دل میں کامل یقین ہوتا تھا۔ وہ دکان پر ہو، گھر میں ہو یا راستے میں چل رہا ہو — زبان پر درودِ پاک جاری رہتا۔اسی کے ساتھ والی دیوار کے پار ایک یہودی تاجر رہتا تھا۔ وہ ذہین تھا مگر دل میں حسد کی آگ رکھتا تھا۔ اسے اپنے مسلمان پڑوسی کی یہ باتیں کھٹکتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ شخص لوگوں کو سادہ لوح بنا رہا ہے۔ایک دن اس نے دل میں سوچا:“میں اس کے یقین کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
اسپارٹا۔۔۔☠️!
تصور کریں: آپ کی عمر چھبیس سال ہے۔ صرف چند دن پہلے آپ نے اپنے شوہر کو اپنے شہر کا دفاع کرتے ہوئے مرتے دیکھا۔ اب آپ اپنے جلے ہوئے گھر کی راکھ میں کھڑی ہیں، اپنے بچوں کو سینے سے لگائے، خود کو نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ مسلح آدمی بچ جانے والوں کے درمیان گھوم رہے ہیں ایک سپاہی آپ کے سامنے رک کر آپ کی عمر پوچھتا ہے۔ وہ آپ کے بچوں کو دیکھتا ہے۔ وہ تختی پر کچھ نشان لگاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ آپ کو ابھی معلوم نہیں کہ اس نشان کا کیا مطلب ہے—لیکن جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔ اسی رات آپ کے بچوں کو آپ سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ آپ کا سب سے چھوٹا بچہ آپ کا نام پکارتا ہے جب اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہوتا ہے۔ آپ اسے پکڑنے کی…
urdu blog urdustory urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge