Tag Archives: urdustory

پپو میاں کی بارات روانہ ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ اچانک گھر میں کہرام مچ گیا۔ پتہ چلا کہ پپو کا وہ شاہی سہرا جو خاص طور پر آرڈر دے کر بنوایا گیا تھا وہ بشیر صاحب کی پالتو بکری چبا گئی ہے۔ بشیر صاحب غصے میں بکری کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور پپو کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ بغیر سہرے کے وہ دولہا کم اور ویٹر زیادہ لگ رہا تھا۔وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا اور بینڈ والے دروازے پر دھمال ڈال رہے تھے۔ بشیر صاحب نے ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور پپو کے چھوٹے بھائی کو حکم دیا کہ جاؤ جلدی سے بازار سے نیا سہرا لاؤ۔ مگر افسوس کہ اس دن شہر میں ہڑتال تھی اور تمام دکانیں بند تھیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پپو کا ماتھا اتنا چوڑا تھا کہ بغیر سہرے کے وہ کسی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر…

Read more

تاریخ اور داستانوں میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف بہادری نہیں بلکہ زندگی کا گہرا سبق بھی سکھا جاتے ہیں۔ رستم پہلوان کی موت بھی انہی میں سے ایک ہے۔ رستم، جو میدانِ جنگ کا بے مثال سورما تھا، جس کے نام سے دشمن کانپتے تھے، وہ کسی دشمن کی تلوار سے نہیں گرا… بلکہ اپنوں کے دھوکے کا شکار ہوا۔ اس کا سوتیلا بھائی شغاد، جو دل میں حسد اور کینہ چھپائے بیٹھا تھا، اس کی عظمت اور شہرت برداشت نہ کر سکا۔ اس نے دشمنوں سے ساز باز کر کے ایک مکروہ منصوبہ بنایا۔ شکار کے بہانے ایک ایسی جگہ گڑھے کھدوائے گئے جن میں نوکیلے نیزے گاڑ دیے گئے تھے اور اوپر سے زمین ہموار کر دی گئی تھی۔ رستم اپنے وفادار گھوڑے رخش کے ساتھ بے خبری میں اس جال میں جا گرا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کی بہادری متاثر نہ ہوئی…

Read more

*ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایک بادشاہ کی انگلی کٹ گئی۔وزیر نے کہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”بادشاہ بہت غصے میں آ گیا اور وزیر کو جیل میں ڈال دیا۔لیکن وزیر پھر بھی کہتا رہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”چند دن بعد، بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں گیا،جہاں ایسے لوگ رہتے تھے جو سال میں ایک آدمی کی قربانی دیتے تھے۔جب بادشاہ کو پکڑ کر قربان کرنے لگے،انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ کی انگلی کٹی ہوئی ہے،تو چھوڑ دیا کیونکہ وہ عیب دار کو قربان نہیں کرتے تھے۔بادشاہ واپس آیا، وزیر کو بلایا اور کہا:“واقعی، اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔میری انگلی کٹی، میری جان بچ گئی۔اور تم جیل میں ہو کر بھی یہی کہہ رہے تھے۔”وزیر نے جواب دیا:“اگر میں جیل میں نہ ہوتا، آپ شکار پر مجھے لے کر جاتے،اور آپ کی جگہ مجھے قربان کرتے۔اب آپ سمجھ…

Read more

ٹیپو سلطان (1751-1799)، جو میسور کے حکمران تھے، کی اولاد کے بارے میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زیادہ تر نسل آج بھی بھارت میں رہائش پذیر ہے، خاص طور پر کولکتہ (کلکتہ) میں۔ ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانویوں نے ان کی فیملی کو جلاوطن کر کے ویلور اور پھر کولکتہ منتقل کیا تھا۔ آج کل ان کی اولاد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، اور وہ مختلف پیشوں میں مصروف ہیں۔کولکتہ میں اولاد:تقریباً 45 براہ راست اولاد کولکتہ میں رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عام کاموں میں مصروف ہیں، جیسے رکشہ چلانا، سائیکل مرمت کرنا، الیکٹریشن کا کام، یا درزی کا کام کرنا۔22af2c کچھ خاندان پرنس انور شاہ روڈ اور ٹولی گنج جیسے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں ان کی مالی حالت عام ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں تقریبات منعقد کرتے ہیں۔2018 میں، انہوں نے کولکتہ…

Read more

یہ واقعہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے کا ہے۔ یورپ کے ایک پُرانے اور تاریخی شہر کے مضافات میں ایک تین منزلہ پتھروں کا بنا گھر تھا۔ اُس گھر کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، اور باہر سے دیکھنے پر وہ کسی عام عمارت جیسا ہی لگتا تھا۔ لیکن مقامی لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔ وجہ کوئی واضح نہیں بتاتا تھا، بس اتنا کہتے تھے کہ “وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”اُس گھر میں ایک خاندان رہنے آیا تھا۔ شوہر، بیوی اور اُن کی دس سالہ بیٹی۔ شوہر ایک انجینئر تھا اور بیوی مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ سب کچھ عام تھا، جب تک کہ انہوں نے گھر کی تیسری منزل کا دروازہ نہ کھولا۔گھر خریدتے وقت ایجنٹ نے بتایا تھا کہ اوپر والا فلور اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے کافی عرصے سے بند ہے۔ لیکن نئی جگہ پر آ کر انسان…

Read more

قدیم یونان کے ساحلوں کے قریب، پہاڑوں کے دامن میں ایک شہر تھا جہاں سوال کا درخت اُگا ہوا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ درخت ہر اس شخص سے ایک سوال پوچھتا ہے جو اس کے سائے میں رکتا، اور جو جواب دے دیتا، وہ آگے بڑھ جاتاجو جواب نہ دے پاتا، وہ وہیں ٹھہر جاتا۔ ایک نوجوان فلسفی، لیون، شہر میں آیا۔ اس نے بہت کتابیں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے اسے یقین تھا کہ درخت اسے روک نہیں سکے گا۔ وہ سائے میں آیا تو پتے سرسرائے اور سوال گونجا:“تو کیا جانتا ہے؟” لیون نے لمبا جواب دیا تعریفیں، دلیلیں، مثالیں۔ درخت خاموش رہا۔وہ اگلے دن پھر آیا۔ اس بار اس نے مختصر بات کی، مگر پھر بھی جواب ہی تھا۔ درخت پھر خاموش۔ تیسرے دن لیون خالی ہاتھ آیا۔ اس نے کہا:“میں نہیں جانتا۔” درخت کی شاخیں ہلیں، راستہ کھل گیا۔ آگے ایک تنگ گزرگاہ تھی…

Read more

   خلیفہ ہارون الرشید بڑے حاضر دماغ تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا ۔۔۔۔ “آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔”انہوں نے کہا؛” تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں لاجواب ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں ۔” اس نے کہا؛“اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسوں بہاوں ، جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا ۔”“دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے موسیء ہونے کا دعوی کیا ۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیء کے پاس تو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے معجزات تھے اگر تو موسیء ہے تو کوئی معجزہ دکھا ۔” اس نے جواب دیا؛“موسیء نے تو اس وقت معجزہ دکھایا تھا، جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا، تو بھی…

Read more

ایک شیر شکار پر نکلا اور اپنے ساتھ ریچھ اور لومڑی کو لے گیا۔ تین شکار ہوئے ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔ واپسی پر ریچھ اپنے حصے پر فخر کرنے لگا۔ شیر نے کہا بتاؤ کیسے تقسیم کرو گے؟ریچھ بولا گائے آپ کی کیونکہ آپ بادشاہ ہیں، ہرن میرا کیونکہ میں درمیانہ ہوں اور خرگوش لومڑی کا۔ شیر نے فوراً پنجہ مار کر ریچھ کو ختم کر دیا۔ اب شیر نے لومڑی سے پوچھا تم کیسے حصہ کرو گی؟لومڑی نے کہا حضور خرگوش صبح کے ناشتے میں، گائے دوپہر کے کھانے میں اور ہرن رات کے کھانے میں تناول فرمائیں۔ شیر خوش ہوا اور پوچھا یہ تقسیم کہاں سے سیکھی؟لومڑی نے جواب دیا ریچھ کی موت سے۔ سبقعقلمند وہ نہیں جو صرف بولنا جانتا ہوعقلمند وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق سیکھ لے ہم روز جنازے دیکھتے ہیںقبرستان جاتے ہیںاپنوں کو مٹی میں اترتے دیکھتے ہیںلیکن…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

2 جولائی 1839 کو ہسپانوی کالونی کیوبا کے ساحل پر ایک تاریک رات میں، سینگبے نامی ایک سیاہ فام شخص نے ہسپانوی بحری جہاز، لا امسٹاد پر سوار اپنی زنجیروں پر لگے تالے کو کھولنے کے لیے ایک ڈھیلے کیل کا استعمال کیا۔ اس نے اور 52 دیگر غیر قانونی طور پر پکڑے گئے افریقیوں نے پھر جہاز پر قبضہ کر لیا، انہوں نے کپتان اور باورچی کو قتل کر دیا، لیکن عملے کے دو اہم افراد کو کچھ نہ کہا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سیرا لیون (افریقی ملک) کے لیے اپنے گھر روانہ ہو سکتے ہیں۔ عملے کے دونوں ہسپانوی افراد نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چپکے سے جہاز کو شمال کی طرف موڑ دیا دو مہینوں تک، بحری جہاز امریکی ساحلوں پر گھومتا رہا آخرکار اسے لانگ آئی لینڈ، نیویارک سے دریافت کر لیا گیا جہاں افریقیوں کو حراست میں لے…

Read more

ایک شخص ایک ہوٹل میں داخل ہوا اور طرح طرح کے لذیذ کھانوں کا آرڈر دیا۔ بیرا فوراً حکم کی تعمیل میں جت گیا۔ جب وہ شخص سیر ہو کر کھانا کھا چکا، تو پانی پی کر اور ڈکاریں لیتا ہوا اطمینان سے باہر نکلنے لگا۔ اچانک دو بیروں نے اسے روک لیا اور کہا: “جناب! بل تو ادا کرتے جائیے!”“بل…؟ کیسا بل؟ میرے پاس تو ایک ٹکا بھی نہیں ہے، میں بل کہاں سے ادا کروں؟” اس نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔آخرکار بیرے اسے پکڑ کر مینیجر کے پاس لے گئے۔ مینیجر نے غصہ کرنے کے بجائے ایک عجیب شرط رکھی: “دیکھو، میں تمہیں ایک صورت میں چھوڑ سکتا ہوں؛ اگر تم سامنے والے ہوٹل جا کر بھی یہی حرکت کرو۔ ہمارا بل ایک ہزار روپے بنا ہے، اگر تم وہاں جا کر دو ہزار روپے کا کھانا کھاؤ گے، تب ہی تمہاری جان بخشی ہوگی۔”“نہیں… نہیں… ہرگز…

Read more

جب طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اسپین فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو وہ سو گئے اور انہیں خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے طارق! ہمت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، تم وہی حاصل کرو گے جس کے لیے تمہیں مقدر کیا گیا ہے!” پھر انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اندلس میں داخل ہو رہے ہیں۔ وہ نہایت خوشی اور سرور کی حالت میں بیدار ہوئے، کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ انہیں اس ہستی کی طرف سے بشارت دی گئی ہے جسے اللہ نے بشارت دینے کے لیے بھیجا تھا ﷺ۔ پھر وہ اپنی فوج کے ساتھ جبل الطارق میں داخل ہوئے، مگر انہوں نے انہیں کیا حکم دیا؟ انہوں نے حکم دیا کہ اپنی کشتیاں جلا دو اور فرمایا: “دشمن…

Read more

ہلدی، تیل اور مرچیں بیچنے والے ایک پنساری کے پاس نہایت خوبصورت اور طرح طرح کی بولیاں بولنے والا ایک طوطا تھا۔ سارا دن وہ پنساری کی دکان پر بیٹھا رہتا اور گاہکوں سے مزے مزے کی باتیں کرتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پنساری کسی کام سے اپنے گھر گیا اور طوطے کو دکان کی نگہبانی کے لیے چھوڑ گیا۔ اچانک ایک بلی چوہے پر جھپٹی تو طوطا اپنی جان بچانے کے لیے ایک طرف اڑا، جس سے تیل کی کپیاں گر گئیں اور دکان میں ہر طرف تیل ہی تیل پھیل گیا۔ جب پنساری واپس آیا تو دیکھا کہ فرش پر تیل کی کپیاں گری ہوئی ہیں اور بہت سا تیل ضائع ہو چکا ہے۔ وہ غصے میں آگیا اور طوطے کی کھوپڑی پر ایسا ہاتھ مارا کہ اس کے سر کے سارے بال جھڑ گئے اور وہ گنجا ہو گیا۔ اپنے بال جھڑ جانے کا طوطے کو…

Read more

سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایا شام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” 😅😅😅#منقول

خشک سالی کے دنوں میں جب پورا جنگل بھوک سے تڑپ رہا تھا، جنگلی چوہے کو گاؤں کے کنارے ایک عجیب و غریب جھونپڑی ملی۔ اس جھونپڑی کے پیچھے پتوں میں چھپا ہوا ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ ہر رات، جب چاند نکلتا، وہ دروازہ خود بخود کھل جاتا اور اس میں سے شکرقندی (yam)، تاڑ کے تیل (palm oil) اور بھنے ہوئے مکئی کی سوندھی خوشبوئیں آتی تھیں۔جنگلی چوہا بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ ایک شام، جب آس پاس کوئی نہ تھا، وہ دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ اندر ایک ایسا گودام تھا جو صبح ہوتے ہی خود بخود دوبارہ بھر جاتا تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھایا، اپنے گالوں میں خوراک بھری اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے نکل گیا۔ وہ راتوں رات وہاں اکیلا اور خاموشی سے جاتا رہا۔لیکن لالچ نے اس کی احتیاط ختم کر دی۔ایک رات، جنگلی چوہے نے چھپکلی اور گلہری…

Read more

🤣جب لفٹ میں پھنسے لوگوں نے ایک دوسرے کو بھوت           سمجھ لیا 🤣 آفس کی عمارت پرانی تھی اور لفٹ اکثر نخرے دکھاتی تھی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے جب تین لوگ لفٹ میں سوار ہوئے جن میں ایک پپو میاں، دوسرے ایک صاحب جو سفید کفن نما لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے، اور تیسری ایک خاتون تھیں جن کے سر پر بہت زیادہ ٹیلکم پاؤڈر گرا ہوا تھا کیونکہ وہ ابھی بیوٹی پارلر سے ہو کر آئی تھیں۔اچانک ایک زوردار جھٹکا لگا، لائٹ چلی گئی اور لفٹ آدھے راستے میں پھنس گئی۔ گھپ اندھیرا چھا گیا اور لفٹ کے اندر ہوا کا گزر بھی بند ہو گیا۔ خاموشی ایسی کہ دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔ پپو نے ڈر کے مارے موبائل کی ٹارچ جلائی، لیکن ٹارچ کی روشنی نیچے سے اوپر کی طرف پڑی۔ سفید کرتے والے صاحب کا چہرہ روشنی میں ایسا خوفناک لگا کہ…

Read more

جب مرغے نے آدھی رات کو اذان دے کر پورے محلے کو جگا دیاپپو کو پرندے پالنے کا بہت شوق تھا، اسی شوق میں وہ ایک ایسا مرغہ لے آیا جو شکل سے جتنا معصوم تھا، عقل سے اتنا ہی پیدل۔ اس مرغے کا بائیولوجیکل کلاک بالکل الٹا تھا۔ وہ صبح صادق کے بجائے تب اذان دیتا تھا جب اس کا موڈ ہوتا۔ایک رات محلے میں بڑی خاموشی تھی، سب گہری نیند سو رہے تھے۔ پپو کے کمرے کی کھڑکی کے پاس مرغے نے دیکھا کہ گلی کی اسٹریٹ لائٹ اچانک تیز چمکی ہے۔ مرغے نے سمجھا شاید سورج نکل آیا ہے اور ڈیوٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ اس نے سینہ تان کر ایک ایسی زوردار اور لمبی ککڑوں کڑوں ماری کہ پورے محلے کے کتے ایک ساتھ بھونکنے لگے۔مرغے کی آواز سن کر محلے کے سب سے ضعیف بزرگ، چچا شکور، ہڑبڑا کر اٹھے۔ انہوں نے گھڑی دیکھے…

Read more

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے وحشی بن حرب : حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے بنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا“تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا” یہ سن کر سب کے دل کانپ گئےوقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئےصرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہاحتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے مگر نبی…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

400/460
NZ's Corner