Tag Archives: urdustory

ایک سادہ دل اور ذرا سی وہمی تائی ایک دن شہر جانے کا ارادہ کرتی ہے۔ صبح سویرے دوپٹہ سنبھالتی، تھیلا اٹھاتی اور بس میں بیٹھ کر شہر روانہ ہو جاتی ہے۔ دل مضبوط کر کے بازار میں داخل ہوتی ہے۔ کافی دکانیں دیکھنے کے بعد اُسے ایک مضبوط سی لکڑی کی چارپائی پسند آ جاتی ہے۔ دکاندار بڑی تعریفیں کرتا ہے:“تائی جی! ایسی چارپائی پورے شہر میں نہیں ملے گی، خالص لکڑی، مضبوط بُنائی!” تائی بھی تھوڑا بھاؤ تاؤ کرتی ہے، مگر آخرکار پانچ سو روپے میں سودا طے ہو جاتا ہے۔ وہ خوش خوش چارپائی رکشے پر رکھوا کر گاؤں واپس آ جاتی ہے۔ جیسے ہی محلے میں داخل ہوتی ہے، لوگ حیرت سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ایک پڑوسی نے پوچھ ہی لیا:“او تائی! یہ چارپائی کتنے کی لی ہے؟” تائی نے فخر سے جواب دیا:“پانچ سو روپے کی لی ہے!” یہ سن کر پڑوسی نے آنکھیں بڑی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے شہر میں ایک بہت بڑا تالاب تعمیر کروایا اور پورے شہر میں یہ منادی (اعلان) کروا دی کہ ہر شہری اس تالاب میں روزانہ ایک گلاس دودھ ڈالے گا، تاکہ بعد میں اسے غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جا سکے۔جب رات ہوئی تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا:“یہ شہر اتنا بڑا ہے اور اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر شخص ایک ایک گلاس دودھ ڈالے گا تو تالاب تو بھر ہی جائے گا۔ ایسے میں اگر صرف میں ایک گلاس نہیں ڈالوں گا، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔”حیرت انگیز طور پر، اس رات شہر کے ہر فرد نے بالکل یہی سوچا اور اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی۔اگلی صبح جب بادشاہ تالاب کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران…

Read more

شادی کے پہلے مہینے کے اختتام پر ماں نے اپنی بہو سے نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر کہا:“بیٹی! تم نے میرے بیٹے کو مسجد میں نماز کا پابند بنا دیا۔ تم نے تیس دنوں میں وہ کر دکھایا جس میں میں تیس سال کامیاب نہ ہو سکی۔” بہو نے ادب سے جواب دیا:“ماں جی! کیا آپ نے پتھر اور خزانے کی کہانی سنی ہے؟” کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا پتھر لوگوں کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ ایک شخص آیا اور اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ اس نے پتھر پر 99 وار کیے، مگر وہ نہ ٹوٹا اور وہ تھک کر چلا گیا۔کچھ دیر بعد دوسرا شخص آیا۔ اس نے کلہاڑی اٹھائی اور ایک ہی ضرب میں پتھر ٹوٹ گیا۔ حیرت انگیز طور پر پتھر کے نیچے سونے سے بھری تھیلی موجود تھی۔ دوسرے شخص نے کہا: “یہ خزانہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا ہے!”پہلا شخص…

Read more

ایک لڑکے کا اپنی کلاس فیلو لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا تھا جس کا اس لڑکے کے گھر والوں کو بھی پتہ چل گیا۔ گھر والوں نے اسے سمجھایا کہ اس کام سے باز آجاؤ کل کلاں اگر لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو تمھارے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔گھر والے لڑکے کو بار بار سمجھاتے رہے مگر چونکہ لڑکی بھی لڑکے کیساتھ ملی ہوئی تھی اس لیے وہ ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا عشق کا بھوت سوار تھا قصہ مختصر لڑکی کےگھر والوں کو بھی پتہ چل گیا اور ایک دن انھوں نے لڑکے کو پکڑکر خوب درگت بنائی ٹانگیں بازو توڑ دئیے اور اس کے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ اپنے لاڈلے کو اٹھا لے جاؤ۔ گھر والوں نے اسے وہاں سے اٹھایا اور ہسپتال لے گئے اور علاج شروع کرایا۔ کئی دن ٹکوریں…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک شخص ریلوے میں ملازمت کے لیے انٹرویو دے رہا تھا۔افسر نے سوال کیا: “فرض کرو، دو ٹرینیں ایک ہی پٹری پر آمنے سامنے سے آ رہی ہوں، تو تم کیا کرو گے؟”امیدوار نے جواب دیا: “جناب! میں فوراً کانٹا بدل دوں گا۔”افسر بولا: “اگر کانٹا خراب ہو، تب کیا کرو گے؟”امیدوار: “میں پٹری پر کھڑا ہو کر لال کپڑا ہلاؤں گا۔”افسر: “اور اگر ڈرائیور نہ دیکھ رہا ہو، تو؟”امیدوار: “میں مسافروں پر چیخوں گا کہ زنجیر کھینچ کر گاڑی روک دیں۔”افسر نے مسکراتے ہوئے کہا: “اگر مسافر بہرے ہوں، تب کیا ہو گا؟”امیدوار (اطمینان سے): “پھر میں اپنی پھوپھو کو بلا لاؤں گا۔”افسر حیران ہو کر بولا: “پھوپھو؟ وہ کیوں؟ کیا تمہاری پھوپھی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ٹرین روک لیں گی؟”امیدوار نے جواب دیا: “نہیں جناب! انہیں ٹرینوں کی ٹکر دیکھنے کا بہت شوق ہے۔” 😅😅😅 #photographychallengechallengeraphychallengechallenge #viralchallenge #photographychallengeraphychallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #motivation…

Read more

قدیم زمانے میں، پہاڑوں اور نمکین ہواؤں کے درمیان ایک خاموش بستی تھی جسے لوگ خاموش در کہتے تھے۔ اس بستی میں ایک جوان کمہار رہتا تھا، نام تھا نَویر۔ وہ مٹی کو برتن بناتے وقت گھنٹوں خاموش رہتا، جیسے مٹی اس سے کوئی راز کہہ رہی ہو۔ لوگ کہتے تھے کہ نَویر کی خاموشی عام نہیں، وہ سن سکتا ہے ہوا کی باتیں، آگ کی سرگوشیاں، اور مٹی کے دل کی دھڑکن۔ ایک سال قحط آیا۔ کنویں خشک ہونے لگے۔ بزرگوں نے کہا کہ پہاڑ کے پیچھے ایک پرانا چشمہ ہے، مگر اس تک جانے والا راستہ “بولتی رات” سے گزرتا ہے، وہ رات جس میں ہر سایہ سوال کرتا ہے، اور ہر سوال کا جواب دل سے دینا پڑتا ہے۔ جو جھوٹ بولے، راستہ گم ہو جائے۔ نَویر نے برتنوں کا پہیہ روکا اور تنہا روانہ ہوا۔ رات اتری تو سائے قریب آئے۔ پہلا سایہ بولا:“تم پانی کیوں…

Read more

دو سادہ لوح دیہاتی دوست شہر گھومنے آئے۔ رات کو وہ ایک “مسافر خانے” (سرائے) میں ٹھہرے۔جیسے ہی انہوں نے بتی بجھائی اور سونے کے لیے لیٹے، مچھروں نے حملہ کر دیا۔مچھروں نے کاٹ کاٹ کر ان کا برا حال کر دیا۔ پہلا دوست تنگ آ کر اٹھ بیٹھا اور بولا:“یار! یہ مچھر تو بہت ظالم ہیں، یہ تو ہمیں سونے نہیں دیں گے۔ کوئی ترکیب نکالو۔” دوسرے دوست نے دماغ لڑایا اور بولا:“بھائی! ایسا کرتے ہیں کہ کمرے کا ‘چراغ’ (بتی) بجھا دیتے ہیں۔ جب اندھیرا ہو جائے گا تو مچھروں کو ہم نظر ہی نہیں آئیں گے اور وہ ہمیں کاٹ نہیں سکیں گے۔” پہلے دوست کو بات پسند آئی۔ اس نے پھونک مار کر چراغ بجھا دیا۔کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا۔ دونوں اطمینان سے لیٹ گئے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کھلی کھڑکی سے ایک “جگنو” (وہ کیڑا جس کی دم میں روشنی ہوتی…

Read more

ایک نوجوان نہایت بدکار تھا لیکن جب وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا اسکو کاپی میں نوٹ کر لیتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک عورت نہایت غریب اس کے بچے تین دن سے بھوکے تھے وہ اپنے بچوں کی پریشانی برداشت نہ کر سکی تو اس نے اپنے پڑوسی سے ایک عمدہ ریشم کا جوڑا ادھار لے لیا وہ اسے پہن کر نکلی تو اس نوجوان نے اسے دیکھ کر اپنے پاس بلایا جب اسکے ساتھ بدکاری کا ارادہ کیا تو وہ عورت روتے ہوئے تڑپنے لگی اور کہا میں فاحشہ یا زانیہ نہیں ہوں میں بچوں کی پریشانی کی وجہ سے اس طرح نکلی ہوں۔ جب تم نے مجھے بلایا تو خیر کی امید ہوئی۔اس نوجوان نے اسے کافی درہم دئے اور رونے لگا اور گھر آ کر اپنی والدہ کو پورا واقعہ سنایا۔ اسکی والدہ اسکو ہمیشہ معصیت “برائی” سے روکتی منع کرتی تھی آج یہ…

Read more

سردار جی سو رہے تھے کہ ایک مچھر نے انہیں کاٹ لیا۔سردار جی غصے میں اٹھے، مچھر کو پکڑا اور مارنے کی بجائے پیار سے سہلا کر چھوڑ دیا۔ مچھر حیران ہو کر بولا: “سردار جی! میں نے آپ کا خون پیا اور آپ نے مجھے چھوڑ دیا؟” سردار جی نے مسکرا کر کہا:“جا بیٹا عیش کر! آخر تیری رگوں میں اب میرا خون دوڑ رہا ہے!” سردار جی اور چوہے ایک بار سردار جی کے گھر میں بہت زیادہ چوہے (Rats) ہو گئے۔وہ تنگ آ کر میڈیکل سٹور پر گئے اور دکاندار سے کہا:“یار! چوہے مارنے والی دوائی دے دو، بہت پریشان ہوں۔” دکاندار نے دوائی کا پیکٹ نکالا اور پوچھا:“سردار جی! یہ دوائی گھر لے کر جانی ہے؟” سردار جی نے حیرت سے دکاندار کو دیکھا، تھوڑا سا غصہ کیا اور بولے: “نہیں اوئے بھائی!۔۔۔ میں سارے ‘چوہے’ ساتھ لے کر آیا ہوں، ادھر کرسی پر بٹھا کر…

Read more

قدیم فارس کے ایک شہر میں ایک آئینہ ساز رہتا تھا۔ اس کا نام کسی کو یاد نہیں رہا، مگر اس کے آئینے مشہور تھے۔ وہ آئینہ ایسا بناتا تھا کہ دیکھنے والا صرف چہرہ نہیں، اپنی نیت بھی دیکھ لیتا تھا۔ اسی لیے امیر لوگ اس کی دکان سے گزرتے تو نظریں چرا لیتے، اور حکمران اس کے شہر آنے پر دکان بند کرواتے۔ ایک دن شہر کا گورنر آیا۔ اس نے حکم دیا:“میرے لیے ایسا آئینہ بناؤ جس میں میں خود کو عظیم دیکھوں۔” آئینہ ساز نے کہا:“آئینہ عظمت نہیں بناتا، دکھاتا ہے۔” گورنر نے سونا پھینکا اور کہا:“یہ دکھائے گا وہی جو میں چاہوں۔” آئینہ بنا۔ گورنر نے دیکھا تو مسکرا دیا وہ خود کو فاتح، عادل اور محبوب حکمران دیکھ رہا تھا۔ خوش ہو کر اس نے آئینہ محل میں رکھ لیا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ جو بھی درباری اس آئینے میں خود کو…

Read more

ایک دیہاتی نوجوان نے اپنی برادری کی ایک شریف پردہ دار بااخلاق اور دین دار لڑکی سے شادی کیشادی کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ اُس کا اپنے قریبی رشتہ دار سے سخت جھگڑا ہو گیابات اتنی بڑھی کہ اُس نے غصے میں آ کر اسے قتل کر دیااور برادری کے رواج کے مطابق وہ اپنی بیوی کو لے کر علاقے سے دور کسی اور ضلع کی طرف نکل گیاجہاں وہ ایک دوسری برادری کے گاؤں میں جا کر بس گیا وہ اکثر گاؤں کے چودھری کے ڈیرے پر بیٹھتا تھا جیسے دوسرے مرد بیٹھتے ہیں، بات چیت مشورے گپ شپ سب چلتاایک دن چودھری کا گزر اس کے گھر کے سامنے سے ہوااور اُس نے اُس کی بیوی کو دیکھانہایت باحیا، خوبصورت اور باوقار عورتچودھری کے دل میں فتنہ جاگ اٹھادل و دماغ پر ایسا چھا گئی کہ ایک شیطانی خیال آ گیاکہ کسی طرح خاوند کو گھر…

Read more

کسی گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ کسان سارا دن اپنے کھیت میں محنت کرتا۔ کسان کے پڑوس میں ایک سنار کا گھر تھا۔ یہ سنار امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد لالچی بھی تھا۔ ایک مرتبہ کسان نے اپنے کھیت میں کدوئوں کی فصل اگائی ۔ فصل بہت اچھی ہوئی اور کھیت بڑے بڑے کدوؤں سے بھر گیا۔ ایک کددو تو اتنا بڑا ہو گیا کہ اس جیسا کدو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ کسان بہت خوش ہوا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ غیر معمولی کدو بادشاہ سلامت کو پیش کر دوں۔ وہ اسے ایک گاڑی میں رکھ کر بادشاہ کے دربار میں لے گیا اور بادشاہ سے عرض کیا۔‘حضور! میرے خیال میں یہ دنیا کا سب سے بڑا کدو ہے۔ اسے آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔’بادشاہ اس نایاب کدو کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور وزیر کو حکم دیا کہ…

Read more

😂 جب دودھ والا پانی ملاتے پکڑا گیا 😂 ایک دن محلے کے ریٹائرڈ حوالدار شیدا صاحب نے ٹھان لی کہ آج نتھو کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے۔ انہوں نے فجر کے وقت نتھو کا پیچھا کیا اور دیکھا کہ وہ نہر کے کنارے موٹر سائیکل کھڑی کر کے بڑے اطمینان سے دودھ کے ڈرموں میں ڈونگے بھر بھر کر نہر کا پانی ڈال رہا ہے۔ حوالدار شیدا نے خاموشی سے موبائل نکال کر ویڈیو بنائی اور پھر اچانک پیچھے سے گرج کر بولے کہ اوئے نتھو، یہ نہر میں مچھلیاں پکڑ رہے ہو یا دودھ کی مقدار بڑھا رہے ہو؟نتھو ہکا بکا رہ گیا، مگر وہ بھی گھاٹی کھلاڑی تھا۔ فوراً بولا کہ حوالدار جی، توبہ کریں، میں تو دودھ کی بالٹیوں کو غسل کروا رہا تھا تاکہ برکت پڑے۔ حوالدار صاحب نے اسے گریبان سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے محلے کے چوک میں لے آئے۔ سب لوگ جمع…

Read more

یہ کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے لگا تو اس نے پیالے میں سانپ جیسی کوئی چیز دیکھی۔ لیکن شرمندگی کے مارے وہ پیتا رہا۔ گھر جا کر وہ اس بات سے پریشان رہا کہ آخر اس نے کیا پی لیا ہے۔ واقعی، رات کو اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا، جس نے اُس کی نیند اڑا دی۔ صبح ہوتے ہی وہ فلسفی کے پاس دوا کی تلاش میں پہنچا۔ مگر جب فلسفی نے اسے بتایا کہ شوربے میں کوئی سانپ نہیں تھا، بلکہ وہ تو چھت پر بنی ہوئی تصویر کا عکس تھا، اور یہ بات ثابت کرنے کے لیے اس نے دوبارہ شوربہ نکالا تو اُس میں بھی فوراً سانپ کا عکس نظر آیا، تو وہ حیران رہ گیا۔ یہ حقیقت جان کر اس کے پیٹ…

Read more

ایک صاحب نے مزاحیہ قصہ سنایا کہ😅😅😅آج سے تیس چالیس سال پہلے دیہات میں شلوار، جسے عرف عام میں ستھنڑ کہا جاتا تھا، کا رواج کم ہی ہوتا تھا۔ دھوتی چادر پہننا عام تھا، اور کسی کو ملازمت کی مجبوری سے یہ پہننا بھی پڑتی تھی تو گھر آتے ہی سب سے پہلے شلوار سے جان چھڑائی جاتی۔ بس یوں سمجھیے کہ شلوار کی وہی حیثیت تھی جو یوسفی کے بقول نکٹائی کی ہے۔ مرشد کے بقول ٹائی کا ایک ہی فائدہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب اتارو تو بہت سکون ملتا ہے۔ سب سے زیادہ اس موئی شلوار سے تنگ پرائمری سکول ماسٹر ہوا کرتے تھے کہ سرکار کی طرف سے سخت ہدایات تھیں کہ دوران ڈیوٹی شلوار پہنی جائے۔ اب سرکاری احکامات کی مجبوریاں وہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں سرکار سے پالا پڑا ہے۔ لیکن جہاں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے وہاں راستہ نکالنا بھی آنا…

Read more

ایک بہت ہی کنجوس سیٹھ اپنے ملازم پر چلا رہا تھا:“اوئے! تم لوگ بہت بجلی ضائع کرتے ہو۔ آج کے بعد اگر کوئی پنکھا یا لائٹ فضول چلتی نظر آئی تو میں تنخواہ کاٹ لوں گا!” ملازم ڈر گیا۔اگلے دن سیٹھ صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ملازم اندھیرے میں الٹا لٹکا ہوا ہے۔ سیٹھ نے حیران ہو کر پوچھا: “اوئے! یہ کیا کر رہے ہو؟ اور لائٹ کیوں بند ہے؟” ملازم نے الٹے لٹکے لٹکے جواب دیا: “سیٹھ صاحب! آپ ہی نے تو کہا تھا بجلی بچاؤ۔ میری پینٹ کی جیب سے 10 کا سکہ گر گیا تھا، اسے ڈھونڈنے کے لیے لائٹ جلانی پڑتی۔۔۔ اس لیے میں نے سوچا کہ الٹا لٹک جاؤں تاکہ وہ سکہ خود ہی جیب سے نیچے گر جائے، اور بجلی بھی نہ جلے!” سیٹھ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے (خوشی کے نہیں، صدمے کے) اور بولے: “شاباش بیٹا!۔۔۔ لیکن یہ جو…

Read more

بنی اسرائیل کی روایات کے متعلق مشہور ہے کہ نہ تو انہیں سچ مانیں (کیونکہ ہوسکتا ہے وہ جھوٹی ہوں) اور نہ ہی انہیں جھٹلائیں (کیونکہ ہوسکتا ہے وہ سچی ہوں)تاہم ایک بات ضرور ہے کہ بعض باتیں واقعی اس لائق ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھا جائے۔ ایسی ہی ایک دلچسپ روایت پیشِ خدمت ہے:کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک چرواہے کی نگرانی میں کچھ بھیڑیں تھیں۔ ایک دن اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا: “مجھے ایک بھیڑ دے دو!” چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا:“یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں، میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں!”بھیڑیا بولا:“تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟”چرواہے نے کہا:“مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔”بھیڑیا ہنسا اور بولا:“جب تک تم واپس…

Read more

ایک گاؤں میں غریب فِیقاء موچی رہتا تھا ۔جو ایک درخت کے نِیچے اپنی لکڑی کی پیٹی رکھ کر لوگوں کی جُوتئیاں مرمّت کرتا تھا ۔ بیچارے کا گُزر بٙسّر مُشکل سے ھوتا تھا ۔فِیقے کے پاس رہنے کو نا گھر تھا ،نا بیوی تھی ، نا بچے تھے ۔ صرف ایک چادر ، ایک تکیّہ اور ایک لکڑی کی پیٹی اُس کی کُل مٙلکِیّت تھی ۔ جب رات ہوتی تو فِیقا ایک بند سکُول کے باہر چادر بِچھاتا تکیّہ رکھتا اور سو جاتا ۔ ایک دِن صُبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا ۔فیقے کی آنکھ کُھلّی تو ہر طرف شور و غُل تھا ۔لوگ اپنا اپنا سامان گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے ۔فیقا یہ مٙنظر دیکھ رہا تھا ۔وہ اُٹھا اور سکُول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا ۔ چادر بچھائی دِیوار کے ساتھ تکیّہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے:“کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!”بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا:“کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟”چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے:“کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!”بوڑھا کسان پھر مسکرایا:“کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟”🤔🤔اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔گاؤں والے پھر آئے:“کتنی بدقسمتی ہے!”کسان نے پھر وہی جواب دیا:“کیا معلوم؟”🤔🤔کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج میں لے جایا گیا۔ مگر کسان کا بیٹا چونکہ زخمی تھا، اس لیے بچ…

Read more

ایک صاحب کو لمبی لمبی گپیں ہانکنے کی ایسی عادت تھی کہ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتے تو مبالغہ آرائی کی ایسی انتہا کرتے کہ ذی شعور تو کیا، نادان بھی یقین کرنے سے کتراتے۔ ایک دن ان کے ایک مخلص دوست نے سمجھایا کہ “یار! ہاتھ ذرا ہولا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپ مارتے ہو کہ لوگ مذاق بناتے ہیں۔” وہ صاحب قائل تو ہو گئے اور طے یہ پایا کہ اگلی بار جب وہ کوئی کہانی سنائیں اور دوست کو لگے کہ اب بات حد سے بڑھ رہی ہے، تو وہ ہلکا سا کھانس دے گا تاکہ صاحب سنبھل جائیں۔کچھ دن بعد ایک محفل میں ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کیا: “بھئی! ایک بار میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک دیو ہیکل سانپ ہے! میرا اندازہ ہے کہ وہ کم از کم 140 فٹ…

Read more

420/460
NZ's Corner